بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المؤمنون — Surah Muminun
آیت نمبر 53
کل آیات: 118
قرآن کریم المؤمنون آیت 53
آیت نمبر: 53 — سورۃ المؤمنون islamicurdubooks.com ↗
فَتَقَطَّعُوۡۤا اَمۡرَہُمۡ بَیۡنَہُمۡ زُبُرًا ؕ کُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَیۡہِمۡ فَرِحُوۡنَ ﴿۵۳﴾
مگر بعد میں لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے اُسی میں وہ مگن ہے
پھر انہوں نے خود (ہی) اپنے امر (دین) کے آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیئے، ہر گروه جو کچھ اس کے پاس ہے اسی پر اترا رہا ہے
تو ان کی امتوں نے اپنا کام آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اس پر خوش ہے،
مگر ان لوگوں نے اپنے (دینی) معاملہ کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا پس ہر گروہ کے پاس جو (دین) ہے وہ اس پر خوش ہے۔
پھر وہ اپنے معاملے میں آپس میں کئی گروہ ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ ہر گروہ کے لوگ اسی پربہت خوش ہیں جو ان کے پاس ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اکل حلال کی فضیلت ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے تمام انبیاء علیہ السلام کو حکم فرتا ہے کہ وہ حلال لقمہ کھائیں اور نیک اعمال بجالایا کریں پس ثابت ہوا کہ لقمہ حلال عمل صالحہ کا مددگار ہے پس انبیاء نے سب بھلائیاں جمع کر لیں، قول، فعل، دلالت، نصیحت، سب انہوں نے سمیٹ لی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے سب بندوں کی طرف سے نیک بدلے دے۔ یہاں کوئی رنگت، مزہ بیان نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّـهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» [ 2-البقرة: 172 ] ‏‏‏‏ حلال چیزیں کھاؤ۔ عیسیٰ علیہ السلام اپنی والدہ کے بُنّنے کی اجرت میں سے کھاتے تھے صحیح حدیث میں ہے کوئی نبی ایسا نہیں جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں لوگوں نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں بھی چند قیراط پر اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا؟ [صحیح بخاری:2262] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی محنت کا کھایا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:2072] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ کو سب سے زیادہ پسند روزہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے اور سب سے زیادہ پسندیدہ قیام داؤد علیہ السلام کا قیام ہے۔ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات نماز تہجد پڑھتے تھے اور چھٹا حصے سوجاتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہ رکھتے تھے میدان جنگ میں کبھی پیٹھ نہ دکھاتے۔ [صحیح بخاری:1131] ‏‏‏‏ ام عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ شام کے وقت بھیجا تاکہ آپ اس سے اپنا روزہ افطار کریں دن کا آخری حصہ تھا اور دھوپ کی تیزی تھی تو آپ نے قاصد کو واپس کر دیا اگر تیری بکری کا ہوتا تو خیر اور بات تھی۔ انہوں نے پیغام بھیجا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے یہ دودھ اپنے مال سے خرید کیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی لیا دوسرے دن مائی صاحبہ حاضر خدمت ہو کر عرض کرتی ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گرمی میں میں نے دودھ بھیجا، بہت دیر سے بھیجا تھا آپ نے میرے قاصد کو واپس کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں مجھے یہی فرمایا گیا ہے۔“انبیاء صرف حلال کھاتے ہیں اور صرف نیک عمل کرتے ہیں“، [طبرانی کبیر:174/25:ضعیف] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو اللہ تعالیٰ پاک ہے وہ صرف پاک کو ہی قبول فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسول کو دیا ہے کہ اے رسولو! پاک چیز کھاؤ اور نیک کام کرو میں تمہارے اعمال کا عالم ہوں یہی حکم ایمان والوں کو دیا کہ اے ایماندارو! جو حلال چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ۔ پھر آپ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے پراگندہ بالوں والا غبار آلود چہرے والا ہوتا ہے لیکن کھانا پہننا حرام کا ہوتا ہے وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا کر اے رب، اے رب کہتا ہے، لیکن ناممکن ہے کہ اس کی دعا قبول فرمائی جائے۔ [صحیح مسلم:1015] ‏‏‏‏ امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو حسن غریب بتلاتے ہیں۔ پھر فرمایا اے پیغمبرو تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے ایک ہی ملت ہے یعنی اللہ واحد لاشریک لہ کی عبادت کی طرف دعوت دینا۔ اسی لیے اسی کے بعد فرمایا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ پس مجھ سے ڈرو۔ سورۃ انبیاء میں اس کی تفسیر وتشریح ہو چکی ہے آیت «وَإِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ» [ المومنون آیت 52 ] ‏‏‏‏ پر نصب حال ہونے کی وجہ ہے۔

جن امتوں کی طرف انبیاء علیہم السلام بھیجے گئے تھے انہوں نے اللہ کے دین کے ٹکڑے کر دئے اور جس گمراہی پر اڑ گئے اسی پر نازاں وفرحاں ہو گئے اس لیے کہ اپنے نزدیک اسی کو ہدایت سمجھ بیٹھے۔ پس بطور ڈانٹ کے فرمایا «فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا» [ 86-الطارق: 17 ] ‏‏‏‏ اور آیت «ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا وَيَتَمَتَّعُوا وَيُلْهِهِمُ الْأَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [ 15-الحجر: 3 ] ‏‏‏‏ انہیں ان کے بہکنے بھٹکنے میں ہی چھوڑ دیجئیے یہاں تک کہ ان کی تباہی کا وقت آ جائے۔ کھانے پینے دیجئیے، مست وبے خود ہونے دیجئیے، ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا۔ «وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ» [ 34-سبأ: 35 ] ‏‏‏‏ کیا یہ مغرور یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم جو مال و اولاد انہیں دے رہے ہیں وہ ان کی بھلائی اور نیکی کی وجہ سے ان کے ساتھ سلوک کر رہے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ یہ تو انہیں دھوکا لگا ہے یہ اس سے سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم جیسے یہاں خوش حال ہیں وہاں بھی بےسزا رہ جائیں گے یہ محض غلط ہے جو کچھ انہیں دنیا میں ہم دے رہے ہیں وہ تو صرف ذرا سی دیر کی مہلت ہے لیکن یہ بے شعور ہیں۔ یہ لوگ اصل تک پہنچے ہی نہیں۔ جیسے فرمان ہے۔ «فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» [ 9- التوبہ: 55 ] ‏‏‏‏، تجھے ان کے مال و اولاد دھوکے میں نہ ڈالیں اللہ کا ارادہ تو یہ ہے کہ اس سے انہیں دنیا میں عذاب کرے۔ اور آیت میں ہے «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِّأَنفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ» [ 3-آل عمران: 178 ] ‏‏‏‏ یہ ڈھیل صرف اس لیے دی گئی ہے کہ وہ اپنے گناہوں میں اور بڑھ جائیں۔ اور جگہ ہے۔ مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح بتدریج پکڑیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہو۔ اور آیتوں میں فرمایا ہے «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا وَبَنِينَ شُهُودًا وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيدًا ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ كَلَّا إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا» [ 74- المدثر: 16-11 ] ‏‏‏‏، یعنی مجھے اور اسے چھوڑ دے جس کو میں نے تنہا پیدا کیا ہے اور بہ کثرت مال دیا ہے اور ہمہ وقت موجود فرزند دئیے ہیں اور سب طرح کا سامان اس لیے مہیا کر دیا ہے پھر اسے ہوس ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں، ہرگز نہیں وہ ہماری باتوں کا مخالف ہے اور آیت میں ہے۔ «وَمَآ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ بالَّتِيْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰٓي اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ۡ فَاُولٰىِٕكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَهُمْ فِي الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ» [ 34- سبأ: 37 ] ‏‏‏‏، تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہیں مجھ سے قربت نہیں دے سکتیں مجھ سے قریب تو وہ ہے جو ایماندار اور نیک عمل ہو۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہی اللہ کا شکر ہے پس تم انسانوں کو مال اور اولاد سے نہ پرکھو بلکہ انسان کی کسوٹی ایمان اور نیک عمل ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے اخلاق بھی تم میں اسی طرح تقسیم کئے ہیں جس طرح روزیاں تقسیم فرمائی ہیں اللہ تعالیٰ دنیا تو اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت رکھے اور اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت نہ رکھے ہاں دین صرف اسی کو دیتا ہے جس سے پوری محبت رکھتا ہو پس جسے اللہ دین دے سمجھو کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے بندہ مسلمان نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا دل اور زبان مسلمان نہ ہو جائے اور بندہ مومن نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے پڑوسی اس کی ایذاؤں سے بے فکر نہ ہو جائیں۔ لوگوں نے پوچھا کہ ایذاؤں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا دھوکے بازی، ظلم وغیرہ۔ سنو جو بندہ حرام مال حاصل کر لے اس کے خرچ میں برکت نہیں ہوتی اس کا صدقہ قبول نہیں ہوتا جو چھوڑ کر جاتا ہے وہ اس کا جہنم کا توشہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا ہاں برائی کو بھلائی سے رفع کرتا ہے۔ خبیث خبیث کو نہیں مٹاتا۔ [مسند احمد:378/1:ضعیف] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 53) ➊ { فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُرًا:} اصل دین تمام پیغمبروں کا ایک ہے، البتہ بعض وقتی احکام میں فرق ہو سکتا ہے۔ آدم علیہ السلام سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک سب کا دین اسلام ہے اور ان کے پیروکار سب امتِ مسلمہ ہیں۔ جس کے چند بنیادی اصول یہ ہیں: (1) توحید، یعنی عبادت صرف اللہ کی ہے، اس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔ (2) قیامت، یعنی مرنے کے بعد سب کو اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور اپنے عمل کا بدلا پانا ہے۔ (3) اکل حلال، یعنی صرف حلال اور طیب کھانا کھانا ہے، حرام سے پوری طرح اجتناب کرنا ہے۔ (4) عمل صالح، یعنی ریا سے بچ کر خالص اللہ کے لیے رسول کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عمل کرنا ہے۔ ہر پیغمبر یہی اصول دین لے کر آیا، مگر لوگوں نے اصول دین ہی میں اختلاف کرکے سیکڑوں فرقے بنا لیے، مثلاً پہلے اصل توحید کو لے لیجیے، صرف ایک اللہ کی عبادت اور اسی سے استعانت کی جگہ کسی نے پیغمبر کو رب بنا لیا، کسی نے احبار و رہبان کو، کسی نے تین رب بنا لیے، کسی نے وحدت الوجود کا عقیدہ نکال لیا کہ ہر چیز میں رب ہے۔ کسی نے کہا، فلاں اللہ کا بیٹا ہے، کسی نے کہا، فلاں اللہ کے نور میں سے جدا شدہ نور ہے۔ کسی نے کہا، اللہ تعالیٰ بزرگوں اور ولیوں میں اتر آتا ہے۔ کسی نے کہا، بزرگ ترقی کرکے رب بن جاتے ہیں۔ اللہ کے سوا کئی ہستیوں کو عالم الغیب اور مختار کل تسلیم کیا گیا۔ حتیٰ کہ انسان نے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا، اپنے نفع و نقصان کو پتھروں، درختوں، مویشیوں، جن بھوتوں، قبروں اور آستانوں سے وابستہ کر دیا اور ان کے آگے سر جھکانے اور انھی سے مرادیں مانگنے لگا۔ پیغمبروں کی لائی ہوئی توحید پر بہت کم لوگ قائم رہے۔ دوسرا اصل قیامت پر ایمان ہے۔ بعض لوگوں نے دوبارہ جی اٹھنے ہی کا انکار کر دیا اور جنھوں نے اسے تسلیم کیا انھوں نے بھی اس کے تقاضوں کو نہ سمجھا۔ کسی نے کہا، ہم چونکہ انبیاء کی اولاد یا سادات ہیں، لہٰذا ہمیں عذاب کیسے ہو سکتا ہے؟ بعض لوگوں نے جبری سفارش کا عقیدہ وضع کر لیا کہ اگر فلاں مرشد کی بیعت کر لی جائے تو وہ شفاعت کرکے ہمیں چھڑا لیں گے۔ بعض نے یہی عقیدہ اپنے بتوں یا دیوتاؤں سے وابستہ کر لیا۔ نصاریٰ نے کفارے کا عقیدہ گھڑ لیا کہ مسیح علیہ السلام ہم گناہ گاروں کے کفارے کے طور پر سولی چڑھ گئے، اب ان کے نام لیواؤں کے سب گناہ معاف ہیں۔ بعض پادری حضرات اس دنیا ہی میں لوگوں سے رقمیں بٹور کر انھیں معافی نامے جاری کرنے لگے اور بعض لوگوں نے عقیدہ گھڑا کہ اگر فلاں قبر کے بہشتی دروازے کے نیچے سے عرس کے دن گزرا جائے تو یقینا نجات ہو جائے گی۔ سستی نجات کے ایسے سب عقیدے لغو اور باطل ہیں اور قرآن نے ایسے عقائد رکھنے والوں کو آخرت کے منکر یعنی کافر قرار دیا ہے۔ تیسرا اصل حلال و طیب کھانا تھا، اس میں بھی لوگوں نے افراط و تفریط کی راہ پیدا کر لی۔ راہبوں، جوگیوں اور بعض صوفیوں نے اپنے اوپر حلال اشیاء کو حرام قرار دے لیا اور بعض دوسروں نے حلال و حرام کی تمیز ہی ختم کر دی اور سود اور قوم لوط کے عمل جیسی حرام اشیاء کو، جنھیں ساری شریعتوں میں حرام قرار دیا جاتا رہا، حلال ثابت کرنے کی کوشش کی۔ بہت سے علماء و مشائخ، بتوں کے مہنتوں اور مقبروں اور مزاروں کے مجاوروں نے حلت و حرمت کے اختیارات خود سنبھال لیے۔ ایسے لوگوں کا تذکرہ قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ چوتھا اصل عمل صالح ہے، غالباً اس اصل میں شرک سے بھی زیادہ فرقہ بازی ہوئی، دین کے بعض اصولی احکام کو مسخ کرکے بدعی عقائد و اعمال شامل کر دیے گئے اور ان باتوں کی اصل بنیاد حب جاہ و مال تھی۔ چنانچہ بے شمار سیاسی اور بدعی قسم کے فرقے وجود میں آ گئے، ہر فرقے نے اپنے پیشوا کی بات انبیاء کی بات کی طرح حرف آخر قرار دے دی۔ گویا اس سادہ اور مختصر سی اصولی تعلیم سے اختلاف کر کے لوگ جو فی الحقیقت ایک ہی امت تھے، سیکڑوں ہزاروں فرقوں میں بٹتے چلے گئے اور لطف کی بات یہ ہے کہ ان میں سے ہر فرقہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے اور اپنے علاوہ دوسرے فرقوں کو دوزخ کا ایندھن سمجھتا ہے، حالانکہ یہ اصولی تعلیم آج بھی موجود ہے اور اگر کوئی شخص یا کوئی فرقہ تعصب سے بالاتر ہو کر راہِ حق کو تلاش کرنا چاہے تو راہِ حق آج بھی ایسی چھپی ہوئی چیز نہیں جس کا سراغ نہ لگایا جا سکتا ہو۔ (تیسیرالقرآن از کیلانی رحمہ اللہ بتصرف) ➋ { كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ:فَرِحُوْنَ “} بہت خوش۔ یہ ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا لازمی نتیجہ ہے کہ جب کوئی شخص ہر حال میں اپنے گروہ کو قائم رکھنے پر اڑ جاتا ہے تو اس کے دل میں حقیقت کی تلاش کا جذبہ بھی ختم ہو جاتا ہے اور اسے اپنے دھڑے ہی کی ہر بات درست معلوم ہوتی ہے اور وہ اسی پر خوش رہتا ہے، خواہ کتنی غلط ہو اور دوسرے کی بات خواہ کتنی صحیح ہو اسے غلط معلوم ہوتی ہے۔ افسوس! مسلمان بھی خیر القرون کے بعد کتاب وسنت پر ایک جماعت رہنے کے بجائے فرقوں میں بٹ گئے۔ کچھ عقائدی فرقے، کچھ فقہی فرقے اور کچھ صوفی فرقے اور ہر ایک اپنے دھڑے پر اتنی سختی سے قائم ہے کہ اس کے مسلک کے خلاف قرآن مجید کی صریح آیت، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث بھی پیش کی جائے تو وہ یہ کہہ کر اسے ماننے سے انکار کر دے گا کہ کیا ہمارے بڑوں کو اس کا علم نہ تھا؟ اور اب یہ حال ہو گیا ہے کہ شاید مسیح علیہ السلام ہی اس امت کو کتاب و سنت پر جمع فرما سکیں گے۔
← پچھلی آیت (52) پوری سورۃ اگلی آیت (54) →