بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المؤمنون — Surah Muminun
آیت نمبر 60
کل آیات: 118
قرآن کریم المؤمنون آیت 60
آیت نمبر: 60 — سورۃ المؤمنون islamicurdubooks.com ↗
وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّ قُلُوۡبُہُمۡ وَجِلَۃٌ اَنَّہُمۡ اِلٰی رَبِّہِمۡ رٰجِعُوۡنَ ﴿ۙ۶۰﴾
اور جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل اُن کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے
اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل کپکپاتے ہیں کہ وه اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں
اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیں اور ان کے دل ڈر رہے ہیں یوں کہ ان کو اپنے رب کی طرف پھرنا ہے،
اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں (پھر بھی) ان کے دل اس خیال سے ترساں رہتے یں کہ انہوں نے اپنے پروردگار کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔
اور وہ کہ انھوں نے جو کچھ دیا اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں کہ یقینا وہ اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مؤمن کی تعریف ٭٭

فرمان ہے کہ احسان اور ایمان کے ساتھ ہی ساتھ نیک اعمال اور پھر اللہ کی ہیبت سے تھرتھرانا اور کانپتے رہنا یہ ان کی صفت ہے۔ یہ ان کی صفت ہے حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مومن نیکی اور خوف الٰہی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ منافق برائی کے ساتھ نڈر اور بے خوف ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شرعی اور فطری آیات اور نشانیوں پر یقین رکھتے ہیں جیسے مریم علیہا السلام کا وصف بیان ہوا ہے کہ «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ» [ 66-التحريم: 12 ] ‏‏‏‏ وہ اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کا یقین رکھتی تھیں اللہ کی قدرت قضاء اور شرع کا انہیں کامل یقین تھا۔ اللہ کے ہر امر کو وہ محبوب رکھتے ہیں اللہ کے منع کردہ ہرکام کو وہ ناپسند رکھتے ہیں، ہرخبر کو وہ سچ مانتے ہیں وہ موحد ہوتے ہیں شرک سے بیزار رہتے ہیں، اللہ کو واحد اور بے نیاز جانتے ہیں اسے بے اولاد اور بیوی کے بغیر مانتے ہیں، بے نظیر اور بے کفو سمجھتے ہیں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اللہ کے نام پر خیراتیں کرتے ہیں لیکن خوف زدہ رہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو قبول نہ ہوئی ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضور اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا یہ وہ لوگ ہیں جن سے زنا، چوری، اور شراب خواری ہو جاتی ہے؟ لیکن ان کے دل میں خوف الٰہی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے صدیق کی لڑکی یہ نہیں بلکہ یہ وہ ہیں جو نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، صدقے کرتے ہیں، لیکن قبول نہ ہونے سے ڈرتے ہیں، یہی ہیں جو نیکیوں میں سبقت کرتے ہیں۔ [سنن ترمذي:3175،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اس آیت کی دوسری قرأت «یاتون ما اتوا» بھی ہے یعنی کرتے ہیں جو کرتے ہیں لیکن دل ان کے ڈرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ابو عاصم گئے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے مرحبا کہا اور کہا برابر آتے کیوں نہیں ہو؟ جواب دیا اس لیے کہ کہیں آپ کو تکلیف نہ ہو لیکن آج میں ایک آیت «وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 60 ] ‏‏‏‏ کے الفاظ کی تحقیق کے لیے حاضر ہوا ہوں آیت «یوتون ما اتوا» ہیں یا «یاتون مااتوا» ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا ہونا تمہارے لیے مناسب ہے میں نے کہا آخر کے الفاظ اگر ہوں تو گویا میں نے ساری دنیا پالی۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ خوشی مجھے ہو گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم خوش ہو جاؤ۔ واللہ میں نے اسی طرح انہی الفاظ کو پڑھتے ہوئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے۔ [مسند احمد:95/6:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ضعیف ہے۔ ساتوں مشہور قرأتوں اور جمہور کی قرأت میں وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے اور معنی کی رو سے بھی زیادہ ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ انہیں سابق قرار دیا ہے اور اگر دوسری قرأت کو لیں تو یہ سابق نہیں بلکہ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

📖 احسن البیان

60-1یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں لیکن اللہ سے ڈرتے ہیں کہ کسی کوتاہی کی وجہ سے ہمارا عمل یا صدقہ نامقبول قرار نہ پائے۔ حدیث میں آتا ہے۔ حضرت عائشہ نے پوچھا ' ڈرنے والے کون ہیں؟ وہ جو شراب پیتے، بدکاری کرتے اور چوریاں کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نہیں، بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھتے، روزہ رکھتے اور صدقہ و خیرات کرتے ہیں لیکن ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں یہ نامقبول نہ ٹھہریں ' (ترمذی تفسیر سورة المومنون۔ مسند احمد-6195160۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 60){وَ الَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا …: ” آتٰي يُؤْتِيْ إِيْتَاءً“} کا معنی ہے، دینا۔ عام طور پر اس سے مراد صدقہ و زکوٰۃ لیا جاتا ہے، مگر ابن عباس رضی اللہ عنھما اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس سے نیکی کے تمام اعمال مراد ہیں۔“ (طبری) عربی میں {”إِيْتَاءٌ“} (دینا) کا لفظ صرف مال یا کوئی مادی چیز دینے ہی کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا، بلکہ معنوی چیزیں دینے کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے، مثلاً کسی شخص کی اطاعت قبول کر لینے کے لیے کہتے ہیں: {”آتَيْتُهُ مِنْ نَفْسِي الْقَبُوْلَ“} اور اطاعت قبول نہ کرنے کے لیے کہتے ہیں: {”آتَيْتُهُ مِنْ نَفْسِي الْإِبَاءَ۔“} ابن عطیہ فرماتے ہیں: ”یہ معنی زیادہ خوب صورت ہے، گویا فرمایا: {”وَالَّذِيْنَ يُعْطُوْنَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فِيْ طَاعَةِ اللّٰهِ مَا بَلَغَهُ جُهْدُهُمْ“} ”یعنی وہ اپنی جانوں کی طرف سے اللہ کی اطاعت میں وہ سب کچھ پیش کر دیتے ہیں جو ان کے آخری بس میں ہوتا ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ وہ ہر نیک عمل کرتے ہوئے خود پسندی کا شکار ہونے کے بجائے سخت ڈر رہے ہوتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کے پاس جانا ہے، کیا خبر اس کی جناب میں ہمارا عمل قبول ہوتا ہے یا نہیں اور کیا خبر کہ رب تعالیٰ کے حضور جانے کے وقت ہمارے ایمان و عمل کا کیا حال ہوتا ہے، کیونکہ دار و مدار تو خاتمے پر ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ میں نے پوچھا: [ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! «{ وَ الَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌالمؤمنون: ۶۰ أَ هُوَ الَّذِيْ يَزْنِيْ وَ يَسْرِقُ وَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ؟ قَالَ لَا، يَا بِنْتَ أَبِيْ بَكْرٍ! أَوْ يَا بِنْتَ الصِّدِّيْقِ! وَلٰكِنَّهُ الرَّجُلُ يَصُوْمُ وَ يَتَصَدَّقُ وَ يُصَلِّيْ، وَ هُوَ يَخَافُ أَنْ لَا يُتَقَبَّلَ مِنْهُ ] [ ابن ماجہ، الزھد، باب التوقي علی العمل: ۴۱۹۸۔ ترمذي:۳۱۷۵۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ:۱۶۲] ”یا رسول اللہ! (اللہ کا فرمان ہے): «{ وَ الَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ }» کیا اس سے مراد وہ شخص ہے جو چوری کرتا ہے، زنا کرتا ہے اور شراب پیتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! اے ابوبکر کی بیٹی! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں اور صدقہ کرتے ہیں اور وہ ڈر رہے ہوتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان سے قبول نہ کیا جائے۔“ ترمذی کی حدیث کے آخر میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ اُولٰٓىِٕكَ يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَيْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ }» [ المؤمنون: ۶۱ ] ”یہی (مذکورہ بالا صفات والے) وہ لوگ ہیں جو بھلائیاں حاصل کرنے میں جلدی کرتے ہیں اور یہی لوگ ان کی طرف آگے نکلنے والے ہیں۔“ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ {” يُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا “} سے مراد صرف صدقہ و زکوٰۃ ہی نہیں، بلکہ تمام اعمال ہیں۔
← پچھلی آیت (59) پوری سورۃ اگلی آیت (61) →