عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، فِي كَمْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: فِي يَوْمِي وَلَيْلَتِي، قَالَ: فَقَالَ لِي:" ارْقُدْ وَصَلِّ، وَارْقُدْ، وَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ شَهْرٍ"، قَالَ: فَمَا زِلْتُ أُنَاقِصُهُ وَيُنَاقِصُنِي، إِلَى أَنْ قَالَ:" اقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعِ لَيَالٍ"، قَالَ أَبِي: وَلَمْ أَفْهَمْ، وَسَقَطَتْ عَلَيَّ كَلِمَةٌ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَصُومُ وَلَا أُفْطِرُ؟ قَالَ: فَقَالَ لِي:" صُمْ وَأَفْطِرْ، وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ"، فَمَا زِلْتُ أُنَاقِصُهُ وَيُنَاقِصُنِي، حَتَّى قَالَ:" صُمْ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، صِيَامَ دَاوُدَ، صُمْ يَوْمًا، وَأَفْطِرْ يَوْمًا"، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: لَأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي حُمْرُ النَّعَمِ، حَسِبْتُهُ شَكَّ عَبِيدَةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو تم کتنے عرصے میں قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے عرض کیا ایک دن رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”سویا بھی کرو نماز بھی پڑھا کرو اور ہر مہینے میں ایک قرآن پڑھا کرو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مزید کمی کرواتا رہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کمی کرتے رہے حتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر سات راتوں میں ایک قرآن پڑھا کرو (میرے والد کہتے ہیں کہ یہاں ایک کلمہ مجھ سے چھوٹ گیا ہے جسے میں سمجھ نہیں سکا) پھر میں نے عرض کیا کہ میں ہمیشہ روزہ رکھتا ہوں کبھی ناغہ نہیں کرتا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”روزہ بھی رکھا کرو اور ناغہ بھی کیا کرو اور ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مسلسل کمی کرواتا رہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کمی کرتے رہے حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس طریقے سے روزہ رکھ لیا کرو جو اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہے اور سیدنا داؤدعلیہ السلام کا طریقہ ہے یعنی ایک دن روزہ رکھ لیا کرو۔ اور ایک دن ناغہ کر لیا کرو بعد میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اب مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رخصت قبول کر لیناسرخ اونٹوں سے بھی زیادہ پسند ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7023]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عبيدة بن حميد سمع من عطاء بن السائب بعد الاختلاط، قد تابعه حماد بن زيد عند أبى داود، وهو ممن سمع منه قديما.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عبيدة بن حميد سمع من عطاء بن السائب بعد الاختلاط، قد تابعه حماد بن زيد عند أبى داود، وهو ممن سمع منه قديما.