بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 626
صفحہ 29 از 32
حدیث نمبر: 7037 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ وَفْدَ هَوَازِنَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعِرَّانَةِ، وَقَدْ أَسْلَمُوا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَصْلٌ وَعَشِيرَةٌ، وَقَدْ أَصَابَنَا مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَا يَخْفَى عَلَيْكَ، فَامْنُنْ عَلَيْنَا، مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" أَبْنَاؤُكُمْ وَنِسَاؤُكُمْ أَحَبُّ إِلَيْكُمْ، أَمْ أَمْوَالُكُمْ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَيَّرْتَنَا بَيْنَ أَحْسَابِنَا وَبَيْنَ أَمْوَالِنَا، بَلْ تُرَدُّ عَلَيْنَا نِسَاؤُنَا وَأَبْنَاؤُنَا، فَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْنَا، فَقَالَ لَهُمْ:" أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ، فَإِذَا صَلَّيْتُ لِلنَّاسِ الظُّهْرَ، فَقُومُوا، فَقُولُوا: إِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ، وَبِالْمُسْلِمِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي أَبْنَائِنَا وَنِسَائِنَا، فَسَأُعْطِيكُمْ عِنْدَ ذَلِكَ وَأَسْأَلُ لَكُمْ"، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ الظُّهْرَ قَامُوا، فَتَكَلَّمُوا بِالَّذِي أَمَرَهُمْ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا مَا كَانَ لِي ولِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ"، قَالَ الْمُهَاجِرُونَ: وَمَا كَانَ لَنَا، فَهُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتْ الْأَنْصَارُ: وَمَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو تَمِيمٍ فَلَا! وَقَالَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ بَدْرٍ أَمَّا أَنَا وَبَنُو فَزَارَةَ، فَلَا! قَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو سُلَيْمٍ فَلَا! قَالَتْ بَنُو سُلَيْمٍ: لَا، مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَقُولُ عَبَّاسٌ: يَا بَنِي سُلَيْمٍ، وَهَّنْتُمُونِي! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا مَنْ تَمَسَّكَ مِنْكُمْ بِحَقِّهِ مِنْ هَذَا السَّبْيِ فَلَهُ بِكُلِّ إِنْسَانٍ سِتُّ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ شَيْءٍ نُصِيبُهُ، فَرَدُّوا عَلَى النَّاسِ أَبْنَاءَهُمْ وَنِسَاءَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر جب بنوہوازن کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں بھی وہاں موجود تھا وفد کے لوگ کہنے لگے اے محمد! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم اصل میں نسل اور خاندانی لوگ ہیں آپ ہم پر مہربانی کیجئے اللہ آپ پر مہربانی کرے گا اور ہم پر جو مصیبت آئی ہے وہ آپ پر مخفی نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنی عورتوں اور بچوں اور مال میں سے کسی ایک کو اختیار کر لو وہ کہنے لگے کہ آپ نے ہمیں ہمارے حسب اور مال کے بارے میں اختیار دیا ہے ہم اپنی اولاد کو مال پر ترجیح دیتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو میرے لئے اور بنو عبدالمطلب کے لئے ہو گا وہی تمہارے لئے ہو گا جب میں ظہر کی نماز پڑھ چکوں تو اس وقت اٹھ کر تم لوگ یوں کہنا کہ ہم اپنی عورتوں اور بچوں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مسلمانوں کے سامنے اور مسلمانوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سفارش کی درخواست کرتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے ایساہی کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو میرے لئے اور بنوعبدالمطلب کے لئے ہے وہی تمہارے لئے ہے، مہاجرین کہنے لگے کہ جو ہمارے لئے ہے وہی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے ہے انصارنے بھی یہی کہا عیینہ بن بدر کہنے لگا کہ جو میرے لئے اور بنوفزارہ کے لئے ہے وہ نہیں، اقرع بن حابس نے کہا کہ میں اور بنوتمیم بھی اس میں شامل نہیں عباس بن مرداس نے کہا کہ میں اور بنوسلیم بھی اس میں شامل نہیں ان دونوں قبیلوں کے لوگ بولے تم غلط کہتے ہو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! انہیں ان کی عورتیں اور بچے واپس کر دو جو شخص مال غنیمت کی کوئی چیز اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے تو ہمارے پاس سے پہلا جو مال غنیمت آئے گا اس میں سے اس کے چھ حصے ہمارے ذمے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7037]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7038 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَتَلِيدُ بْنُ كِلَابٍ اللَّيْثِيُّ، حَتَّى أَتَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، مُعَلِّقًا نَعْلَيْهِ بِيَدِهِ، فَقُلْنَا لَهُ: هَلْ حَضَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُكَلِّمُهُ التَّمِيمِيُّ يَوْمَ حُنَيْنٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، يُقَالُ لَهُ: ذُو الْخُوَيْصِرَةِ، فَوَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُعْطِي النَّاسَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قَدْ رَأَيْتَ مَا صَنَعْتَ فِي هَذَا الْيَوْمِ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَجَلْ، فَكَيْفَ رَأَيْتَ؟"، قَالَ: لَمْ أَرَكَ عَدَلْتَ! قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" وَيْحَكَ، إِنْ لَمْ يَكُنْ الْعَدْلُ عِنْدِي فَعِنْدَ مَنْ يَكُونُ؟" فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَقْتُلُهُ؟ قَالَ:" لَا، دَعُوهُ، فَإِنَّهُ سَيَكُونُ لَهُ شِيعَةٌ يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ، حَتَّى يَخْرُجُوا مِنْهُ، كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يُنْظَرُ فِي النَّصْلِ، فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ، ثُمَّ فِي الْقِدْحِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ، ثُمَّ فِي الْفُوقِ، فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ، سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هو عَبْدُ اللهَ بن احمد: أَبُو عُبَيْدَةَ هَذَا اسْمُهُ مُحَمَّدٌ، ثِقَةٌ وَأَخُوهُ سَلَمَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ، لَمْ يَرْوِ عَنْهُ إِلَّا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَلَا نَعْلَمُ خَبَرَهُ، وَمِقْسَمٌ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي هَذَا الْمَعْنَى، وَطُرُقٌ أُخَرُ فِي هَذَا الْمَعْنَى صِحَاحٌ، وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مقسم کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ تلید بن کلاب لیثی کے ساتھ نکلاہم لوگ سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے وہ اس وقت ہاتھوں میں جوتے لٹکائے بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے ہم نے ان سے پوچھا کہ غزوہ حنین کے موقع پر جس وقت بنوتمیم کے ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بات کی تھی کیا آپ وہاں موجود تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں بنوتمیم کا ایک آدمی جسے ذوالخولصیرہ کہا جاتا ہے آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں میں مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے وہ کہنے لگا کہ اے محمد! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آج میں نے آپ کو مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اچھا تمہیں کیسا لگا؟ اس نے کہا کہ میں نے آپ کو عدل سے کام لیتے ہوئے نہیں دیکھا یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو غصہ آگیا اور فرمایا: تجھ پر افسوس! اگر میرے پاس ہی عدل نہ ہو گا تو اور کس کے پاس ہو گا؟ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ!! کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں اسے چھوڑ دو عنقریب اس کے گروہ کے کچھ لوگ ہوں گے جو تعمق فی الدین کی راہ اختیار کر یں گے، وہ لوگ دین سے سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے تیر کے پھل کو دیکھا جائے تو اس پر کچھ نظر نہ آئے دستے پر دیکھآ جائے تو وہاں کچھ نظر نہ آئے اور سوار پر دیکھا جائے تو وہاں کچھ نظر نہ آئے بلکہ وہ تیر لید اور خون پر سبقت لے جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7038]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7039 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، وُهَيْبٌ ، ابْنُ طَاوُسٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَعَنِ الْجَلَّالَةِ، وَعَنْ رُكُوبِهَا، وَأَكْلِ لُحُومِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پالتو گدھوں کے گوشت اور گند کھانے والے جانور سے منع فرمایا: ہے اس پر سوار ہونے سے بھی اور اس کا گوشت کھانے سے بھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7039]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل بن إسماعيل سيئ الحفظ، وقد توبع.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل بن إسماعيل سيئ الحفظ، وقد توبع.
حدیث نمبر: 7040 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، خَالِدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْآيَاتُ خَرَزَاتٌ مَنْظُومَاتٌ فِي سِلْكٍ، فَإِنْ يُقْطَعْ السِّلْكُ يَتْبَعْ بَعْضُهَا بَعْضًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: علامات قیامت لڑی کے دانوں کی طرح جڑی ہوئی ہیں جوں ہی لڑی ٹوٹے گی تو ایک کے بعد دوسری علامت قیامت آ جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7040]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، مؤمل بن إسماعيل سيئ الحفظ، وعلي بن زيد ضعيف، وقد توبعا، وتبقى علته خالد بن الحويرث المخزومي، وهو مجهول.
الحكم: إسناده ضعيف، مؤمل بن إسماعيل سيئ الحفظ، وعلي بن زيد ضعيف، وقد توبعا، وتبقى علته خالد بن الحويرث المخزومي، وهو مجهول.
حدیث نمبر: 7041 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ ، حَرِيزٌ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ الرَّحَبِيَّ ، حِبَّانَ بْنِ زَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ الرَّحَبِيَّ ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِنْبَرِهِ، يَقُولُ:" ارْحَمُوا تُرْحَمُوا، وَاغْفِرُوا يَغْفِرْ اللَّهُ لَكُمْ، وَيْلٌ لِأَقْمَاعِ الْقَوْلِ، وَيْلٌ لِلْمُصِرِّينَ الَّذِينَ يُصِرُّونَ عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بر سر منبریہ بات ارشاد فرمائی تم رحم کرو تم پر رحم کیا جائے گا معاف کرو اللہ تمہیں معاف کر دے گا ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو صرف باتوں کا ہتھیار رکھتے ہیں ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو اپنے گناہوں پر جانتے بوجھتے اصرار کرتے اور ڈٹے رہتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7041]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7042 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى، أَنَّ كُلَّ مُسْتَلْحَقٍ يُسْتَلْحَقُ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى لَهُ، ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ مِنْ بَعْدِهِ،" فَقَضَى إِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ أَصَابَهَا فَقَدْ لَحِقَ بِمَنْ اسْتَلْحَقَهُ، وَلَيْسَ لَهُ فِيمَا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ، وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ، فَلَهُ نَصِيبُهُ، وَلَا يُلْحَقُ إِذَا كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ لَا يَمْلِكُهَا، أَوْ مِنْ حُرَّةٍ عَاهَرَ، بِهَا فَإِنَّهُ لَا يُلْحَقُ وَلَا يَرِثُ، وَإِنْ كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ الَّذِي ادَّعَاهُ، وَهُوَ وَلَدُ زِنًا لِأَهْلِ أُمِّهِ، مَنْ كَانُوا، حُرَّةً أَوْ أَمَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو بچہ اپنے باپ کے مرنے کے بعد اس کے نسب میں شامل کیا جائے جس کا دعویٰ مرحوم کے ورثاء نے کیا ہو اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا: کہ اگر وہ آزاد عورت سے ہو جس سے مرنے والے نے نکاح کیا ہو یا اس کی مملوکہ باندی سے ہو تو اس کا نسب مرنے والے سے ثابت ہو جائے گا اور اگر وہ کسی آزاد عورت یا باندی سے گناہ کا نتیجہ ہم تو اس کا نسب مرنے والے سے ثابت نہ ہو گا اگرچہ خود اس کا باپ ہی اس کا دعویٰ کرے وہ زنا کی پیداوار اور اپنی ماں کا بیٹا ہے اور اس کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے خواہ وہ کوئی بھی لوگ ہوں آزاد ہوں یا غلام۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7042]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7043 مسند احمد
هَاشِمٌ ، إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ابْنَ الزُّبَيْرِ، وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْحِجْرِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ، إِيَّاكَ وَالْإِلْحَادَ فِي حَرَمِ اللَّهِ، فَإِنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يُحِلُّهَا وَيَحُلُّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، لَوْ وُزِنَتْ ذُنُوبُهُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَيْنِ لَوَزَنَتْهَا"، قَالَ: فَانْظُرْ أَنْ لَا تَكُونَ هُوَ يَا ابْنَ عَمْرٍو، فَإِنَّكَ قَدْ قَرَأْتَ الْكُتُبَ، وَصَحِبْتَ الرَّسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ هَذَا وَجْهِي إِلَى الشَّأْمِ مُجَاهِدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اس وقت وہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ اے ابن زبیر حرم میں الحاد کا سبب بننے سے اپنے آپ کو بچانا میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قریش کا ایک آدمی حرم مکہ کو حل بنا لے گا اگر اس کے گناہوں کا جن وانس کے گناہوں سے وزن کیا جائے تو اس کے گناہوں کا پلڑا جھک جائے گا سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عبداللہ بن عمرو! دیکھو تم وہ آدمی نہ بننا کیونکہ تم نے سابقہ آسمانی کتابیں بھی پڑھ رکھی ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہمنشینی کا شرف بھی حاصل ہے انہوں نے فرمایا: میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں جہاد کے لئے شام جا رہا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7043]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح وهو مكرر 6847.
الحكم: إسناده صحيح وهو مكرر 6847.
حدیث نمبر: 7044 مسند احمد
حَسَنٌ يَعْنِي الْأَشْيَبَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، دَرَّاجٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ يَعْنِي الْأَشْيَبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة يونس آية 64 قَالَ:" الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ، يُبَشَّرُهَا الْمُؤْمِنُ، هِيَ جُزْءٌ مِنْ تِسْعَةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، فَمَنْ رَأَى ذَلِكَ فَلْيُخْبِرْ بِهَا، وَمَنْ رَأَى سِوَى ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ لِيُحْزِنَهُ، فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَسْكُتْ، وَلَا يُخْبِرْ بِهَا أَحَدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لہم البشری فی الحیاۃ الدنیا کا مطلب یہ ہے کہ مومن جو نیک خواب دیکھتا ہے وہ اس کے لئے خوشخبری ہوتا ہے اور اچھے خواب اجزاء نبوت میں سے انچاسواں جزو ہوتے ہیں جو شخص اچھا خواب دیکھے اسے بیان کر دے اور اگر کوئی برا خواب دیکھے تو وہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے تاکہ اسے غمگین کر دے۔ اس لئے اسے اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھوک دینا چاہئے اور اس پر سکوت اختیار کرنا چاہئے کہ کسی سے وہ خواب بیان نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7044]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره.
الحكم: صحيح لغيره.
حدیث نمبر: 7045 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، ابْنُ هُبَيْرَةَ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ رَدَّتْهُ الطِّيَرَةُ مِنْ حَاجَةٍ، فَقَدْ أَشْرَكَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَفَّارَةُ ذَلِكَ؟ قَالَ:" أَنْ يَقُولَ أَحَدُهُمْ اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ، وَلَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو بدشگونی نے کسی کام سے روک دیا وہ سمجھ لے کہ اس نے شرک کیا صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! اس کا کفارہ کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یوں کہہ لیا کرے اے اللہ ہر خیر آپ ہی کی ہے ہر شگون آپ ہی کا ہے اور آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7045]
حکم دارالسلام
حديث حسن.
الحكم: حديث حسن.
حدیث نمبر: 7046 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ خَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ لَمَّا كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُودِيَ أَنْ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ،" فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ، ثُمَّ جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ: مَا سَجَدْتُ سُجُودًا قَطُّ أَطْوَلَ مِنْهُ، وَلَا رَكَعْتُ رُكُوعًا قَطُّ أَطْوَلَ مِنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں سورج گرہن ہوا تو نماز تیار ہے کا اعلان کر دیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع کئے پھر سورج روشن ہو گیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس دن سے طویل رکوع سجدہ کبھی نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7046]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1045، م: 910.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1045، م: 910.
حدیث نمبر: 7047 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ خَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ لَمَّا كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُودِيَ أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ" فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ، ثُمَّ جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ: مَا سَجَدْتُ سُجُودًا قَطُّ أَطْوَلَ مِنْهُ وَلَا رَكَعْتُ رُكُوعًا قَطُّ كَانَ أَطْوَلَ مِنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور با سعادت میں سورج گرہن ہوا تو نماز تیار ہے کا اعلان کر دیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع کئے پھر سورج روشن ہو گیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس دن سے طویل رکوع سجدہ کبھی نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7047]
حدیث نمبر: 7048 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ ، عِيسَى بْنِ هِلَالٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ لَتَلْتَقِيَانِ عَلَى مَسِيرَةِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، وَمَا رَأَى وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مومنین کی روحیں ایک دن کی مسافت پر ملاقات کر لیتی ہیں ابھی ان میں سے کسی نے دوسرے کو دیکھا نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7048]
حکم دارالسلام
حديث حسن.
الحكم: حديث حسن.
حدیث نمبر: 7049 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُغَرْبَلُونَ فِيهِ غَرْبَلَةً، يَبْقَى مِنْهُمْ حُثَالَةٌ، قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ، وَاخْتَلَفُوا فَكَانُوا هَكَذَا،" وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الْمَخْرَجُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ:" تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ، وَتَدَعُونَ مَا تُنْكِرُونَ، وَتُقْبِلُونَ عَلَى أَمْرِ خَاصَّتِكُمْ، وَتَدَعُونَ أَمْرَ عَامَّتِكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں ان کی چھانٹی ہو جائے گی اور صرف جھاگ رہ جائے گی ایسا اس وقت ہو گا جب وعدوں اور امانتوں میں بگاڑ پیدا ہو جائے اور لوگ اس طرح ہو جائیں (راوی نے تشبیک کر کے دکھائی) لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس سے بچاؤ کا راستہ کیا ہو گیا؟ فرمایا: نیکی کے کام اختیار کرنا برائی کے کاموں سے بچنا اور خواص کے ساتھ میل جول رکھنا عوام سے اپنے آپ کو بچانا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7049]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 478، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح، خ: 478، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7050 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، بَقِيَّةُ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ سَعِيدٍ التُّجِيبِيُّ ، أَبَا قَبِيلٍ الْمِصْرِيَّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سَعِيدٍ التُّجِيبِيُّ ، سَمِعْتُ أَبَا قَبِيلٍ الْمِصْرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَاتَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں فوت ہو جائے اللہ اسے قبر کی آزمائش سے بچا لیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7050]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف وهو مكرر 6646.
الحكم: إسناده ضعيف وهو مكرر 6646.
حدیث نمبر: 7051 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، الْمُفَضَّلُ ، عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنِي الْمُفَضَّلُ ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ كُلُّ ذَنْبٍ إِلَّا الدَّيْنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قرض کے علاوہ شہید کا ہر گناہ معاف ہو جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7051]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م:1886.
الحكم: إسناده صحيح ، م:1886.
حدیث نمبر: 7052 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، ابْنِ حُجَيْرَةَ الْأَكْبَرِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ الْأَكْبَرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ الْمُسْلِمَ الْمُسَدِّدَ لَيُدْرِكُ دَرَجَةَ الصَّوَّامِ الْقَوَّامِ بِآيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، لِكَرَمِ ضَرِيبَتِهِ، وَحُسْنِ خُلُقِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک سیدھا مسلمان اپنے حسن اخلاق اور اپنی شرافت و مہربانی کی وجہ سے ان لوگوں کے درجے تک جا پہنچتا ہے جو روزہ دار اور شب زندہ دار ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7052]
حکم دارالسلام
حسن.
الحكم: حسن.
حدیث نمبر: 7053 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ الْحَرَّانِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ، وَيَسْلُبُهَا حِلْيَتَهَا، وَيُجَرِّدُهَا مِنْ كِسْوَتِهَا، وَلَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ أُصَيْلِعَ أُفَيْدِعَ، يَضْرِبُ عَلَيْهَا بِمِسْحَاتِهِ وَمِعْوَلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چھوٹی چھوٹی پنڈلیوں والا ایک حبشی خانہ کعبہ کو ویران کر دے گا اس کا زیور چھین لے گا اور اس کا غلاف اتار لے گا اس حبشی کو گویا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ اس کے سر کے اگلے بال گرے ہوئے ہیں اور وہ ٹیڑھے جوڑوں والا ہے اور چھینی اور کدال سے خانہ کعبہ پر ضربیں لگا رہا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7053]
حکم دارالسلام
بعضه مرفوع صحيح، وبعضه يروى مرفوعا وموقوفا، والموقوف أصح، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن، لكنه توبع.
الحكم: بعضه مرفوع صحيح، وبعضه يروى مرفوعا وموقوفا، والموقوف أصح، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن، لكنه توبع.
حدیث نمبر: 7054 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، قَيْصَرَ التُّجِيبِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ قَيْصَرَ التُّجِيبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ شَابٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ؟ فَقَالَ:" لَا"، فَجَاءَ شَيْخٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، فَنَظَرَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ عَلِمْتُ نَظَرَ بَعْضِكُمْ إِلَى بَعْضٍ، إِنَّ الشَّيْخَ يَمْلِكُ نَفْسَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ایک نوجوان آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ!! روزے کی حالت میں میں اپنی بیوی کو بوسہ دے سکتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں تھوڑی دیر بعد ایک بڑی عمر کا آدمی آیا اور اس نے بھی وہی سوال پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اس پر ہم لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم ہے کہ تم ایک دوسرے کو کیوں دیکھ رہے ہو؟ دراصل عمر رسیدہ آدمی اپنے اوپر قابو رکھ سکتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7054]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وهو مكرر : 6739، سندا ومتنا .
الحكم: إسناده ضعيف، وهو مكرر : 6739، سندا ومتنا .
حدیث نمبر: 7055 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ مَظْلُومًا فَهُوَ شَهِيدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا ظلماً مارآ جائے وہ شہید ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7055]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2480، م:141.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2480، م:141.
حدیث نمبر: 7056 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، الْحَجَّاجِ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا، بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ أَوْسَعُ مِنْهُ فِي الْجَنَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی رضا کے لئے مسجد تعمیر کرتا ہے اس کے لئے جنت میں اس سے کشادہ گھر تعمیر کر دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7056]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله «أوسع» ، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج بن أرطاة كثير الخطأ والتدليس.
الحكم: صحيح دون قوله «أوسع» ، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج بن أرطاة كثير الخطأ والتدليس.