بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 626
صفحہ 18 از 32
حدیث نمبر: 6817 مسند احمد
وَكِيعٌ ، فِطْرٌ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ . وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا فِطْرٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّحِمَ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ، وَلَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ مَنْ إِذَا قَطَعَتْهُ رَحِمُهُ وَصَلَهَا"، قَالَ يَزِيدُ: الْمُوَاصِلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رحم عرش کے ساتھ معلق ہے بدلہ دینے والا صلہ رحمی کر نے والے کے زمرے میں نہیں آتا اصل میں صلہ رحمی کر نے والا تو وہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی اس سے رشتہ توڑے تو وہ اس سے رشتہ جوڑے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6817]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6029، م: 2321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6029، م: 2321
حدیث نمبر: 6818 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ . وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَكَانَ، يَقُولُ:" مِنْ خِيَارِكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا"، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ:" إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بےتکلف یا بتکلف بےحیائی کر نے والے نہ تھے اور وہ فرمایا: کرتے تھے کہ تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6818]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6029، م: 2331
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6029، م: 2331
حدیث نمبر: 6819 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَفَى لِلْمَرْءِ مِنَ الْإِثْمِ أَنْ يُضِيعَ مَنْ يَقُوتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انسان کے گناہگار ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو ضائع کر دے جن کی روزی کا وہ ذمہ دار ہو (مثلاً ضعیف والدین اور بیوی بچے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6819]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6820 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَدَ تَحْتَ جَنْبِهِ تَمْرَةً مِنَ اللَّيْلِ، فَأَكَلَهَا، فَلَمْ يَنَمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَقَالَ بَعْضُ نِسَائِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرِقْتَ الْبَارِحَةَ؟ قَالَ:" إِنِّي وَجَدْتُ تَحْتَ جَنْبِي تَمْرَةً، فَأَكَلْتُهَا، وَكَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے پہلو کے نیچے ایک کھجور پائی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کھالیا پھر رات کے آخری حصے میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بےچین ہونے لگے، جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ گھبرا گئیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا: کہ مجھے اپنے پہلو کے نیچے ایک کھجور ملی تھی جسے میں نے کھالیا تھا اب مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ صدقہ کی کھجور نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6820]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6821 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ ثِيَابٌ مُعَصْفَرَةٌ، فَقَالَ:" أَلْقِهَا، فَإِنَّهَا ثِيَابُ الْكُفَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عصفر سے رنگے ہوئے دو کپڑے میرے جسم پر دیکھے تو فرمایا: یہ کافروں کا لباس ہے اسے اتار دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6821]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2077
الحكم: إسناده صحيح، م: 2077
حدیث نمبر: 6822 مسند احمد
وَكِيعٌ ، دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ؟ فَقَالَ:" لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ، وَمَنْ وُلِدَ لَهُ مَوْلُودٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَفْعَلْ، عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے " عقیقہ " کے متعلق سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں عقوق (نافرمانی) کو پسند نہیں کرتا جو شخص اپنی اولاد کی طرف سے قربانی کرنا چاہے وہ لڑکے کی طرف دو برابر کی بکر یاں ذبح کر دے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکر ی ذبح کر لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6822]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2077
الحكم: إسناده صحيح، م: 2077
حدیث نمبر: 6823 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنٍ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنٍ ، عَنْ خَالِهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أُرِيدَ مَالُهُ بِغَيْرِ حَقٍّ، فَقُتِلَ دُونَهُ، فَهُوَ شَهِيدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارآ جائے وہ شہید ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6823]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2480
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2480
حدیث نمبر: 6824 مسند احمد
وَكِيعٌ ، خَلِيفَةَ بْنِ خَيَّاطٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ خَيَّاطٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" خَطَبَ وَأَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ"، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا: اور اپنی پشت خانہ کعبہ سے لگا لی۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6824]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6825 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وإسحاق يعنى الأزرق ، سُفْيَانُ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وإسحاق يعنى الأزرق ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُبْتَلَى بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ، إِلَّا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحَفَظَةَ الَّذِينَ يَحْفَظُونَهُ: اكْتُبُوا لِعَبْدِي مِثْلَ مَا كَانَ يَعْمَلُ وَهُوَ صَحِيحٌ، مَا دَامَ مَحْبُوسًا فِي وَثَاقِي"، قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أبي: وَقَالَ إِسْحَاقُ: اكْتُبُوا لِعَبْدِي فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں میں سے جس آدمی کو بھی جسمانی طور پر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اس کے محافظ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ میرا بندہ خیر کے جتنے بھی کام کرتا تھا وہ ہر دن رات لکھتے رہو تا وقتیکہ یہ میری حفاظت میں رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6825]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6826 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مِسْعَرٌ ، أَبِي حَصِينٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6826]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6827 مسند احمد
وَكِيعٌ ، خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے میں یا کسی ذمی کو اس کے معاہدے کی مدت میں قتل نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6827]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6828 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضِيعَ مَنْ يَقُوتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انسان کے گناہگار ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو ضائع کر دے جن کی روزی کا وہ ذمہ دار ہو (مثلاً ضعیف والدین اور بیوی بچے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6828]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6829 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أُرِيدَ مَالُهُ بِغَيْرِ حَقٍّ، فَقَاتَلَ فَقُتِلَ، فَهُوَ شَهِيدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے وہ شہید ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6829]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2480، م: 141
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2480، م: 141
حدیث نمبر: 6830 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْحَارِثِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رشوت لینے اور دینے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6830]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 6831 مسند احمد
رَوْحٌ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَرْبَعُونَ حَسَنَةً أَعْلَاهُنَّ مَنِيحَةُ الْعَنْزِ، لَا يَعْمَلُ الْعَبْدُ بِحَسَنَةٍ مِنْهَا رَجَاءَ ثَوَابِهَا وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِهَا، إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: چالیس نیکیاں " جن میں سے سب سے اعلیٰ نیکی بکر ی کا تحفہ ہے ایسی ہیں کہ جو شخص ان میں سے کسی ایک نیکی پر اس کے ثواب کی امید اور اللہ کے وعدے کو سچا سمجھتے ہوئے " عمل کر لے اللہ اسے جنت میں داخلہ عطاء فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6831]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2631
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2631
حدیث نمبر: 6832 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سَلِيمٌ يَعْنِي ابْنَ حَيَّانَ ، سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، عَفَّانُ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سَلِيمٌ يَعْنِي ابْنَ حَيَّانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلَغَنِي أَنَّكَ"، وحَدَّثَنَاه عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلَغَنِي أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ، فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، وَلِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، وَلِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، فَذَلِكَ صَوْمُ الدَّهْرِ"، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ بِي قُوَّةً، قَالَ:" صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ، صُمْ يَوْمًا، وَأَفْطِرْ يَوْمًا"، قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عَمْرٍو، يَقُولُ، يَا لَيْتَنِي كُنْتُ أَخَذْتُ بِالرُّخْصَةِ، وقَالَ عَفَّانُ، وَبَهْزٌ: إِنِّي أَجِدُ بِي قُوَّةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم دن بھر روزہ رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو ایسا نہ کرو کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ہر مہینے صرف تین دن روزہ رکھا کرو یہ ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہو گا میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر سیدنا داؤدعلیہ السلام کا طریقہ اختیار کر کے ایک دن روزہ اور ایک دن ناغہ کر لیا کرو بعد میں سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ فرمایا: کرتے تھے کاش! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس رخصت کو قبول کر لیا ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6832]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1159
الحكم: إسناده صحيح، م: 1159
حدیث نمبر: 6833 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: جِئْتُ لِأُبَايِعَكَ، وَتَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ، قَالَ:" فَارْجِعْ إِلَيْهِمَا فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا"، وَأَبَى أَنْ يُبَايِعَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہجرت پر آپ سے بیعت کر نے کے لئے آیا ہوں اور (میں نے بڑی قربانی دی ہے کہ) اپنے والدین کو روتا ہوا چھوڑ کر آیا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: واپس جاؤ اور جیسے انہیں رلایا ہے اسی طرح انہیں ہنساؤ۔ اور اسے بیعت کر نے سے انکار کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6833]
حکم دارالسلام
حديث حسن
الحكم: حديث حسن
حدیث نمبر: 6834 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ فَلَنْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَرِيحُهَا يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرتا ہے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گا حالانکہ جنت کی خوشبو تو ستر سال کی مسافت سے آتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6834]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6835 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، سَيْفًا ، رُشَيْدٍ الْهَجَرِيِّ ، أَبِيهِ ، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، سَمِعْتُ سَيْفًا يُحَدِّثُ، عَنْ رُشَيْدٍ الْهَجَرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَعْنِي وَمَا وَجَدْتَ فِي وَسْقِكَ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
رشید ہجیری کے والد سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ عرض کیا کہ جنگ یرموک کے دن آپ کو مجھ سے جو ایذاء پہنچی اس سے درگزر کیجئے اور مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہو انہوں نے فرمایا: کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان وہ ہوتا ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6835]
حکم دارالسلام
إسناده غاية فى الضعف، سيف مجهول، ورشيد الهجري ضعيف، وأبوه مبهم غير معروف، وقد سلف متن الحديث بأسانيد صحيحة برقم: 6487 ، و 6515
الحكم: إسناده غاية فى الضعف، سيف مجهول، ورشيد الهجري ضعيف، وأبوه مبهم غير معروف، وقد سلف متن الحديث بأسانيد صحيحة برقم: 6487 ، و 6515
حدیث نمبر: 6836 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمَ ، سَيْفًا ، رُشَيْدٍ الْهَجَرِيِّ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ الْحَكَمَ ، سَمِعْتُ سَيْفًا يُحَدِّثُ، عَنْ رُشَيْدٍ الْهَجَرِيِّ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَدَعْنَا وَمِمَّا وَجَدْتَ فِي وَسْقَيْكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6836]
حکم دارالسلام
هذا الحديث مكرر سابقه
الحكم: هذا الحديث مكرر سابقه