بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 626
صفحہ 21 از 32
حدیث نمبر: 6877 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي الْعَلَاءِ ، مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُرْنِي بِصِيَامٍ، قَالَ:" صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، فَزِدْنِي، قَالَ:" صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، فَزِدْنِي، قَالَ:" فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ سَبْعَةِ أَيَّامٍ"، قَالَ: فَمَا زَالَ يَحُطُّ لِي، حَتَّى قَالَ:" إِنَّ أَفْضَلَ الصَّوْمِ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ، أَوْ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ" شَكَّ الْجُرَيْرِيُّ" صُمْ يَوْمًا، وَأَفْطِرْ يَوْمًا"، فَقَالَ: عَبْدُ اللَّهِ لَمَّا ضَعُفَ لَيْتَنِي كُنْتُ قَنَعْتُ بِمَا أَمَرَنِي بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے روزے کے حوالے سے کوئی حکم دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھو تو نو کا ثواب ملے گا میں نے اس میں اضافے کی درخواست کی تو فرمایا: دو دن روزہ رکھو تمہیں آٹھ کا ثواب ملے گا میں نے مزید اضافے کی درخواست کی تو فرمایا: تین روزے رکھو تمہیں سات روزوں کا ثواب ملے گا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسلسل کمی کرتے رہے حتیٰ کے آخر میں فرمایا: روزہ رکھنے کا سب سے افضل طریقہ سیدنا داؤد (علیہ السلام) کا ہے اس لئے ایک دن ورزہ رکھا کرو اور ایک دن ناغہ کیا کرو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ جب بوڑھے ہو گئے تو کہنے لگے اے کاش میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر قناعت کر لی ہوتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6877]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، الجريري اختلط قبل موته بثلاث سنين، وسماع عبدالوهاب الخفاف منه لم يتحرر لنا أهو قبل الاختلاط أم بعده، وهو حديث صحيح بغير هذه السياقة كما سلف برقم: 6545
الحكم: رجاله ثقات، الجريري اختلط قبل موته بثلاث سنين، وسماع عبدالوهاب الخفاف منه لم يتحرر لنا أهو قبل الاختلاط أم بعده، وهو حديث صحيح بغير هذه السياقة كما سلف برقم: 6545
حدیث نمبر: 6878 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ بَيْتَهُ، فَقَالَ:" يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَكَلَّفُ قِيَامَ اللَّيْلِ وَصِيَامَ النَّهَارِ؟"، قَالَ: إِنِّي لَأَفْعَلُ، فَقَالَ:" إِنَّ حَسْبَكَ، وَلَا أَقُولُ افْعَلْ، أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا، فَكَأَنَّكَ قَدْ صُمْتَ الدَّهْرَ كُلَّهُ"، قَالَ: فَغَلَّظْتُ فَغُلِّظَ عَلَيَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي لَأَجِدُ قُوَّةً مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" إِنَّ مِنْ حَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ كُلَّ جُمُعَةٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ"، قَالَ: فَغَلَّظْتُ فَغُلِّظَ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: إِنِّي لَأَجِدُ بِي قُوَّةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْدَلُ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، نِصْفُ الدَّهْرِ"، ثُمَّ قَالَ:" لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ، وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ"، قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَصُومُ ذَلِكَ الصِّيَامَ، حَتَّى إذا أَدْرَكَهُ السِّنُّ وَالضَّعْفُ، كَانَ يَقُولُ: لَأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ہی ہو جس کے متعلق مجھے بتایا گیا ہے کہ تم کہتے ہو میں روزانہ رات کو قیام اور دن کو صیام کروں گا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ!! میں نے ہی کہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لئے یہی کافی ہے کہ ہر مہینے صرف تین دن روزہ رکھا کرو یہ ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہو گا میں نے خود ہی اپنے اوپر سختی کی لہٰذا مجھ پر سختی ہو گئی میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر ہر ہفتے میں تین روزے رکھ لیا کرو میں نے سختی کی لہٰذا مجھ پر سختی ہو گئی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھ میں اس سے زیادہ افضل کی طاقت رکھتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر ایک دن روزہ اور ایک دن ناغہ کر لیا کرو یہ روزہ کا معتدل ترین طریقہ ہے اور یہی سیدنا داؤدعلیہ السلام کا طریقہ صیام ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم پر تمہارے نفس اور تمہارے نفس اور تمہارے گھر والوں کا بھی حق ہے راوی کہتے ہیں کہ پھر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اس طریقے کے مطابق روزے رکھتے رہے حتیٰ کہ وہ بوڑھے اور کمزور ہو گئے اس وقت وہ کہا کرتے تھے کہ اب مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رخصت قبول کرنا اپنے اہل خانہ اور مال و دولت سے بھی زیادہ پسند ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6878]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 1976، م: 1159 ، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، خ: 1976، م: 1159 ، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6879 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ ، أَبِي ، أَبِي الْحَجَّاجِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ ، سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُهُ، عَنْ أَبِي الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثٌ إِذَا كُنَّ فِي الرَّجُلِ فَهُوَ الْمُنَافِقُ الْخَالِصُ: إِنْ حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِنْ وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِنْ اؤْتُمِنَ خَانَ، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ، لَمْ يَزَلْ يَعْنِي، فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ، حَتَّى يَدَعَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں جس شخص میں پائی جائیں وہ پکا منافق ہے اور جس میں ان تینوں میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے تو اس میں نفاق کا ایک شعبہ موجود ہے جب تک کہ اسے چھوڑ نہ دے۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے وعدہ خلافی کرے جب امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6879]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، روي مرفوعا وموقوفا، والمرفوع أصح
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، روي مرفوعا وموقوفا، والمرفوع أصح
حدیث نمبر: 6880 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إسحاق ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إسحاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ دَارَهُ، فَسَأَلَنِي، وَهُوَ يَظُنُّ أَنِّي مِنْ بَنِي أُمِّ كُلْثُومٍ ابْنَةِ عُقْبَةَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّمَا أَنَا لِلْكَلْبِيَّةِ ابْنَةِ الْأَصْبَغِ، وَقَدْ جِئْتُكَ لِأَسْأَلَكَ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيْكَ أَوْ قَالَ لَكَ؟ قَالَ: كُنْتُ أَقُولُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، وَلَأَصُومَنَّ الدَّهْرَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِّي، فَجَاءَنِي، فَدَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي، فَقَالَ:" أَلَمْ يَبْلُغْنِي يَا عَبْدَ اللَّهِ أَنَّكَ تَقُولُ: لَأَصُومَنَّ الدَّهْرَ، وَلَأَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ؟"، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى قُلْتُ ذَاكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلْ، صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ"، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" فَصُمْ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ"، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ:" فَصُمْ يَوْمًا، وَأَفْطِرْ يَوْمًا، فَإِنَّهُ أَعْدَلُ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ، وَهُوَ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، وَكَانَ لَا يُخْلِفُ إِذَا وَعَدَ، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى، وَاقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً"، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي لَأَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ:" فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ نِصْفِ شَهْرٍ مَرَّةً"، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ:" فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ، لَا تَزِيدَنَّ عَلَى ذَلِكَ"، ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ سمجھے کہ میں ام کلثوم بنت عقبہ کا بیٹا ہوں چنانچہ انہوں نے مجھ سے ان کے متعلق پوچھا میں نے انہیں بتایا کہ میں کلبیہ کا بیٹا ہوں اور آپ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے حاضر ہوا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو کیا نصیحت فرمائی تھی؟ انہوں نے فرمایا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں کہا کرتا تھا کہ میں ایک دن رات میں پورا قرآن مکمل کر لیا کروں گا اور ہمیشہ روزہ رکھا کروں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات پتہ چلی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم ایک دن میں پورا قرآن پڑھ لیتے ہو؟ ہر مہینے میں صرف ایک قرآن پڑھا کرو میں نے عرض کیا کہ میں اپنے اندر اس سے زیادہ طاقت محسوس کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر سات راتوں میں مکمل کر لیا کرو اور اس پر اضافہ نہ کرنا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو میں نے عرض کیا کہ میں اپنے اندر اس سے زیادہ طاقت محسوس کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پیر اور جمعرات کا روزہ رکھ لیا کرو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی میں اپنے اندر اس سے زیادہ طاقت محسوس کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر سیدنا داؤدعلیہ السلام کی طرح ایک دن روزہ رکھ لیا کرو اور ایک دن ناغہ کر لیا کرو یہ بہترین روزہ ہے اور وہ وعدہ خلافی نہیں کرتے تھے اور دشمن سے سامنا ہونے پر بھاگتے نہیں تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چلے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6880]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ: 5054، م: 1159
الحكم: صحيح لغيره، خ: 5054، م: 1159
حدیث نمبر: 6881 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، أَبُو حَيَّانَ ، أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، قَالَ: جَلَسَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى مَرْوَانَ بِالْمَدِينَةِ، فَسَمِعُوهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ فِي الْآيَاتِ، أَنَّ أَوَّلَهَا خُرُوجُ الدَّجَّالِ، قَالَ: فَانْصَرَفَ النَّفَرُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَحَدَّثُوهُ بِالَّذِي سَمِعُوهُ مِنْ مَرْوَانَ فِي الْآيَاتِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَمْ يَقُلْ مَرْوَانُ شَيْئًا، قَدْ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِثْلِ ذَلِكَ حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ أَوَّلَ الْآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ ضُحًى، فَأَيَّتُهُمَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا فَالْأُخْرَى عَلَى إِثَرِهَا"، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَكَانَ يَقْرَأُ الْكُتُبَ: وَأَظُنُّ أُولَاهَا خُرُوجًا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَذَلِكَ أَنَّهَا كُلَّمَا غَرَبَتْ أَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ، وَاسْتَأْذَنَتْ فِي الرُّجُوعِ، فَأُذِنَ لَهَا فِي الرُّجُوعِ، حَتَّى إِذَا بَدَا لِلَّهِ أَنْ تَطْلُعَ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَعَلَتْ كَمَا كَانَتْ تَفْعَلُ أَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ، فَاسْتَأْذَنَتْ فِي الرُّجُوعِ، فَلَمْ يُرَدَّ عَلَيْهَا شَيْءٌ، ثُمَّ تَسْتَأْذِنُ فِي الرُّجُوعِ، فَلَا يُرَدُّ عَلَيْهَا شَيْءٌ، ثُمَّ تَسْتَأْذِنُ فَلَا يُرَدُّ عَلَيْهَا شَيْءٌ، حَتَّى إِذَا ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَذْهَبَ، وَعَرَفَتْ أَنَّهُ إِنْ أُذِنَ لَهَا فِي الرُّجُوعِ لَمْ تُدْرِكْ الْمَشْرِقَ، قَالَتْ: رَبِّ، مَا أَبْعَدَ الْمَشْرِقَ، مَنْ لِي بِالنَّاسِ؟ حَتَّى إِذَا صَارَ الْأُفُقُ كَأَنَّهُ طَوْقٌ، اسْتَأْذَنَتْ فِي الرُّجُوعِ، فَيُقَالُ لَهَا: مِنْ مَكَانِكِ فَاطْلُعِي، فَطَلَعَتْ عَلَى النَّاسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، ثُمَّ تَلَا عَبْدُ اللَّهِ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا سورة الأنعام آية 158.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوزرعہ بن عمرورحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں تین مسلمان مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے اسے علامات قیامت کے حوالے سے یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ سب سے پہلی علامت دجال کا خروج ہے وہ لوگ واپسی پر سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مروان سے سنی ہوئی حدیث بیان کر دی انہوں نے فرمایا: اس نے کوئی مضبوط بات نہیں کہی میں نے اس حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک ایسی حدیث سنی ہے جو میں اب تک نہیں بھولا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی سب سے پہلی علامت سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے پھر چاشت کے وقت دابۃ الارض کا خروج ہونا ہے ان دونوں میں سے جو بھی علامت پہلے ظاہر ہو جائے گی دوسری اس کے فورا بعد رونما ہو جائے گی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ جو کہ گزشتہ آسمانی کتابیں بھی پڑھے ہوئے تھے کہتے تھے کہ میرا خیال ہے کہ سب سے پہلے سورج مغرب سے طلوع ہو گا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ روزانہ سورج جب غروب ہوجاتا ہے تو عرش الہٰی کے نیچے آ کر سجدہ ریز ہوجاتا ہے پھر واپس جانے کی اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت مل جاتی ہے جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا کہ وہ مغرب سے طلوع ہو تو وہ حسب معمول عرش کے نیچے سجدہ ریز ہو کر جب واپسی کی اجازت مانگے گا تو اسے کوئی جواب نہ دیا جائے گا تین مرتبہ اسی طرح ہو گا جب رات کا اتناحصہ بیت جائے گا جو اللہ کو منظور ہو گا اور سورج کو اندازہ ہو جائے گا کہ اب اگر اسے اجازت مل بھی گئی تو وہ مشرق تک نہیں پہنچ سکے گا کہ پروردگار! مشرق کتنا دور ہے؟ مجھے لوگوں تک کون پہنچائے گا؟ جب افق ایک طوق کی طرح ہو جائے گا تو اسے واپس جانے کی اجازت مل جائے گی اور اس سے کہا جائے گا کہ اسی جگہ سے طلوع کرو چنانچہ وہ لوگوں پر مغرب کی جانب سے طلوع ہو گا پھر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس دن آپ کے رب کی کچھ نشانیاں ظاہر ہو گئیں تو اس شخص کو " جو اب تک ایمان نہیں لایا اس وقت ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے سکے گا " [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6881]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2941، من طريق عبدالله بن نمير بالمرفوع منه فحسب
الحكم: إسناده صحيح، م: 2941، من طريق عبدالله بن نمير بالمرفوع منه فحسب
حدیث نمبر: 6882 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ ، جَابَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ ، قَالَ غُنْدَرٌ: نُبَيْطِ بْنِ سُمَيْطٍ، قَالَ حَجَّاجٌ: نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ، عَنْ جَابَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ، وَلَا عَاقٌّ وَالِدَيْهِ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی احسان جتانے والا اور کوئی والدین کا نافرمان اور کوئی عادی شرابی جنت میں داخل نہ ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6882]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة جابان
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة جابان
حدیث نمبر: 6883 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا؟ فَقَالَ:" عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِهِ قَائِمًا". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: قَالَ: وَأَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ لَمْ يُتِمُّوا الْوُضُوءَ، فَقَالَ:" أَسْبِغُوا" يَعْنِي الْوُضُوءَ" وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنَ النَّارِ"، أَوْ" الْأَعْقَابِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیٹھ کر نوافل پڑھنے کا حکم پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ وہ اچھی طرح وضو نہیں کر رہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے اعضاء وضو کو اچھی طرح مکمل دھویا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6883]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، والحديث قسمان: أما قسم صلاة القاعد: فأخرجه مسلم: 735، وأما قسم إسباغ الوضوء... أخرجه مسلم : 241 أيضاً
الحكم: إسناده صحيح، والحديث قسمان: أما قسم صلاة القاعد: فأخرجه مسلم: 735، وأما قسم إسباغ الوضوء... أخرجه مسلم : 241 أيضاً
حدیث نمبر: 6884 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، فِرَاسٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" الْكَبَائِرُ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، أَوْ قَتْلُ النَّفْسِ شُعْبَةُ الشَّاكُّ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کبیرہ گناہ یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا (کسی کو قتل کرنا) اور جھوٹی قسم کھانا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6884]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6870
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6870
حدیث نمبر: 6885 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَّاءُ ، صَدَقَةُ بْنُ طَيْسَلَةَ ، مَعْنُ بْنُ ثَعْلَبَةَ الْمَازِنِيُّ ، الْأَعْشَى الْمَازِنِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بن أحمد، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَّاءُ ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ طَيْسَلَةَ ، حَدَّثَنِي مَعْنُ بْنُ ثَعْلَبَةَ الْمَازِنِيُّ ، وَالْحَيُّ بَعْدُ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَعْشَى الْمَازِنِيُّ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْشَدْتُهُ: يَا مَالِكَ النَّاسِ وَدَيَّانَ الْعَرَبْ إِنِّي لَقِيتُ ذِرْبَةً مِنَ الذِّرَبْ غَدَوْتُ أَبْغِيهَا الطَّعَامَ فِي رَجَبْ فَخَلَّفَتْنِي بِنِزَاعٍ وَهَرَبْ أَخْلَفَتْ الْعَهْدَ وَلَطَّتْ بِالذَّنَبْ وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ قَالَ": فَجَعَلَ يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ:" وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا اعشی مازنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ اشعار پیش کئے جن کا ترجمہ یہ ہے اے لوگوں کے بادشاہ اور عرب کو دینے والے میں ایک بدزبان عورت سے ملا، میں رجب کے مہینے میں اس کے لئے کھانے کی تلاش میں نکلا پیچھے سے اس نے جھگڑے اور راہ فرار کا منظر دکھایا، اس نے وعدہ خلافی کی اور دم سے مارا یہ عورتیں غالب آنے والا شر ہیں اس شخص کے لئے بھی جو ہمیشہ دوسروں پر غالب رہے یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کا آخری جملہ دہرانے لگے کہ یہ عورتیں غالب آنے والا شر ہیں اس شخص کے لئے بھی جو ہمیشہ دوسروں پر غالب رہے۔ فائدہ۔ اس کی مکمل وضاحت اگلی روایت میں آرہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6885]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال صدقة بن طيسلة ومعن بن ثعلبة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال صدقة بن طيسلة ومعن بن ثعلبة
حدیث نمبر: 6886 مسند احمد
الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبُو سَلَمَةَ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَنَفِيُّ ، الْجُنَيْدُ بْنُ أَمِينِ بْنِ ذِرْوَةَ بْنِ نَضْلَةَ بْنِ طَرِيفِ بْنِ بُهْصُلٍ الْحِرْمَازِيُّ ، أَبِي أَمِيْنُ بْنُ ذِرْوَةَ ، ذِرْوَةَ بْنِ نَضْلَةَ ، نَضْلَةَ بْنِ طَرِيفٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بن أحمد، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنِي الْجُنَيْدُ بْنُ أَمِينِ بْنِ ذِرْوَةَ بْنِ نَضْلَةَ بْنِ طَرِيفِ بْنِ بُهْصُلٍ الْحِرْمَازِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي أَمِيْنُ بْنُ ذِرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ذِرْوَةَ بْنِ نَضْلَةَ ، عَنْ أَبِيهِ نَضْلَةَ بْنِ طَرِيفٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ، يُقَالُ لَهُ: الْأَعْشَى، وَاسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَعْوَرِ، كَانَتْ عِنْدَهُ امْرَأَةٌ يُقَالُ لَهَا: مُعَاذَةُ، خَرَجَ فِي رَجَبٍ يَمِيرُ أَهْلَهُ مِنْ هَجَرَ، فَهَرَبَتْ امْرَأَتُهُ بَعْدَهُ، نَاشِزًا عَلَيْهِ، فَعَاذَتْ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ، يُقَالُ لَهُ: مُطَرِّفُ بْنُ بُهْصُلِ بْنِ كَعْبِ بْنِ قَمَيْشَعِ بْنِ دُلَفَ بْنِ أَهْضَمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بَنْ بُهْصُل، فَجَعَلَهَا خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَلَمَّا قَدِمَ وَلَمْ يَجِدْهَا فِي بَيْتِهِ، وَأُخْبِرَ أَنَّهَا نَشَزَتْ عَلَيْهِ، وَأَنَّهَا عَاذَتْ بِمُطَرِّفِ بْنِ بُهْصُلٍ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَمِّ، أَعِنْدَكَ امْرَأَتِي مُعَاذَةُ؟ فَادْفَعْهَا إِلَيَّ، قَالَ: لَيْسَتْ عِنْدِي، وَلَوْ كَانَتْ عِنْدِي لَمْ أَدْفَعْهَا إِلَيْكَ، قَالَ: وَكَانَ مُطَرِّفٌ أَعَزَّ مِنْهُ، فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَاذَ بِهِ، وَأَنْشَأَ يَقُولُ: يَا سَيِّدَ النَّاسِ وَدَيَّانَ الْعَرَبْ إِلَيْكَ أَشْكُو ذِرْبَةً مِنَ الذِّرَبْ كَالذِّئْبَةِ الْغَبْشَاءِ فِي ظِلِّ السَّرَبْ خَرَجْتُ أَبْغِيهَا الطَّعَامَ فِي رَجَبْ فَخَلَّفَتْنِي بِنِزَاعٍ وَهَرَبْ أَخْلَفَتْ الْعَهْدَ وَلَطَّتْ بِالذَّنَبْ وَقَذَفَتْنِي بَيْنَ عِيصٍ مُؤْتَشَبْ وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ:" وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ"، فَشَكَا إِلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَمَا صَنَعَتْ بِهِ، وَأَنَّهَا عِنْدَ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ: مُطَرِّفُ بْنُ بُهْصُلٍ، فَكَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِلَى مُطَرِّفٍ، انْظُرْ امْرَأَةَ هَذَا مُعَاذَةَ، فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ"، فَأَتَاهُ كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُرِئَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهَا: يَا مُعَاذَةُ، هَذَا كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكِ، فَأَنَا دَافِعُكِ إِلَيْهِ، قَالَتْ: خُذْ لِي عَلَيْهِ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ لَا يُعَاقِبُنِي فِيمَا صَنَعْتُ، فَأَخَذَ لَهَا ذَاكَ عَلَيْهِ، وَدَفَعَهَا مُطَرِّفٌ إِلَيْهِ، فَأَنْشَأَ يَقُولُ: لَعَمْرُكَ مَا حُبِّي مُعَاذَةَ بِالَّذِي يُغَيِّرُهُ الْوَاشِي وَلَا قِدَمُ الْعَهْدِ وَلَا سُوءُ مَا جَاءَتْ بِهِ إِذْ أَزَالَهَا غُوَاةُ الرِّجَالِ إِذْ يُنَاجُونَهَا بَعْدِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نظلہ بن طریف کہتے ہیں کہ ان کے قبیلے کا ایک آدمی تھا جسے اعشی کہا جاتا تھا اس کا اصل نام عبداللہ بن اعور تھا اس کے نکاح میں جو عورت تھی اس کا نام معاذہ تھا ایک مرتبہ اعشی رجب کے مہینے میں ہجر نامی علاقے سے اپنے اہل خانہ کے لئے غلہ لانے کے لئے روانہ ہوا پیچھے سے اس کی بیوی اس سے ناراض ہو کر گھر سے بھاگ گئی اور اپنے قبیلے کے ایک آدمی کے یہاں پناہ لی جس کا نام مطرف بن بہصل۔۔۔۔۔۔ تھا اس نے اسے اپنی پناہ فراہم کر دی۔ جب اعشی واپس آیا تو گھر میں بیوی نہ ملی پتہ چلا کہ وہ ناراض ہو کر گھربھاگ گئی ہے اور اب مطرف بن بہصل کی پناہ میں ہے اعشی یہ سن کر مطرف کے پاس آیا اور کہنے لگا اے میرے چچازادبھائی! کیا میری بیوی معاذہ آپ کے پاس ہے؟ اسے میرے حوالے کر دیں اس نے نے کہا کہ وہ میرے پاس نہیں ہے اگر ہوتی بھی تو میں اسے تیرے حوالے نہ کرتا مطرف دراصل اس کی نسبت زیادہ طاقتور تھا چنانچہ اعشی وہاں سے نکل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ اشعار کہتے ہوئے ان کی پناہ چاہی اے لوگوں کے سردار اور عرب کو دینے والے! میں آپ کے پاس ایک بدزبان عورت کی شکایت لے کر آیا ہوں وہ اس مادہ بھیڑیے کی طرح ہے جو سراب کے سائے میں دھوکہ دے دیتی ہے ماہ رجب میں اس کے لئے غلہ کی تلاش میں نکلا تھا اس نے پیچھے سے مجھے جھگڑے اور راہ فرار کا منظر دکھایا اس نے وعدہ خلافی کی اور اپنی دم ماری اور اس نے مجھے سخت مشکل میں مبتلا کر دیا اور یہ عورتیں غالب آنے والا شر ہیں اس شخص کے لئے بھی جو ہمیشہ غالب رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کا یہ آخری جملہ دہرانے لگے کہ یہ عورتیں غالب آنے والا شر ہیں اس شخص کے لئے بھی جو ہمیشہ دوسروں پر غالب رہے اس کے بعد اعشی نے اپنی بیوی کی شکایت کی اور اس کا سارا کارنامہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا اور یہ بھی کہ اب وہ انہی کے قبیلے کے ایک آدمی کے پاس ہے جس کا نام مطرف بن بہصل ہے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مطرف کو یہ خط لکھا کہ دیکھو اس شخص کی بیوی معاذہ کو اس کے حوالے کر دو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خط جب اس کے پاس پہنچا اور اسے پڑھ کر سنایا گیا تو اس نے اس عورت سے کہا کہ معاذہ یہ تمہارے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خط ہے اس لئے میں تمہیں اس کے حوالے کر رہا ہوں اس نے کہا کہ اس سے میرے لئے عہد و پیمان لے لئے اور اسے اس کے حوالے کر دیا اس پر اعشی نے یہ اشعار کہے تیری عمر کی قسم معاذہ تجھ سے میری محبت ایسی نہیں ہے جسے کوئی رنگ بدل سکے یا زمانہ کا بعد اسے متغیر کر سکے اور نہ ہی اس حرکت کی برائی جو اس سے صادر ہوئی جبکہ اسے بہکے ہوئے لوگوں نے پھسلا لیا اور میرے پیچھے اس سے سرگوشیاں کرتے رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6886]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أكثر رواته
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أكثر رواته
حدیث نمبر: 6887 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مَعْمَرٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ . وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى رَاحِلَتِهِ بِمِنًى، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَرَى أَنَّ الْحَلْقَ قَبْلَ الذَّبْحِ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، فَقَالَ:" اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ"، قَالَ: ثُمَّ جَاءَهُ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَرَى أَنَّ الذَّبْحَ قَبْلَ الرَّمْيِ، فَذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ:" فَارْمِ وَلَا حَرَجَ"، قَالَ: فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ قَدَّمَهُ رَجُلٌ قَبْلَ شَيْءٍ، إِلَّا قَالَ:" افْعَلْ وَلَا حَرَجَ"، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَجَاءَهُ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ الْحَلْقَ قَبْلَ الرَّمْيِ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ:" رْمِ وَلَا حَرَجَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے میدان منٰی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی سواری پر کھڑے ہوئے دیکھا اسی اثنا میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں یہ سمجھتا تھا کہ حلق قربانی سے پہلے ہے اس لئے میں نے قربانی کر نے سے پہلے حلق کروا لیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جا کر قربانی کر لو کوئی حرج نہیں ایک دوسرا آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں یہ سمجھتا تھا کہ قربانی رمی سے پہلے ہے اس لئے میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اب جا کر رمی کر لو کوئی حرج نہیں ہے اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس نوعیت کا جو سوال بھی پوچھا گیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے جواب میں یہی فرمایا: اب کر لو کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6887]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 124، م: 1306
الحكم: إسناده صحيح، خ: 124، م: 1306
حدیث نمبر: 6888 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، أَبِي كَبْشَةَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ . وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً، وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میری طرف سے آگے پہنچادیا کرو خواہ ایک آیت ہی ہو بنی اسرائیل کی باتیں بھی ذکر کر سکتے ہو کوئی حرج نہیں اور جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں تیار کر لینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6888]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3461
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3461
حدیث نمبر: 6889 مسند احمد
يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سَعْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَمَّا سَمِعْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَسْأَلُكَ عَنِ التَّوْرَاةِ! فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سعد کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں آپ سے وہ حدیث پوچھتا ہوں جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خود سنی ہے وہ نہیں پوچھتاجو تورات میں ہے انہوں نے فرمایا: کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6889]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
الحكم: مرفوعه صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 6890 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ الْقَاضِي أَبُو سَهْلٍ ، الْعَلَاءُ بْنُ رَافِعٍ ، الْفَرَزْدَقِ بْنِ حَنَانٍ الْقَاصِّ ، بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ الْقَاضِي أَبُو سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنِ الْفَرَزْدَقِ بْنِ حَنَانٍ الْقَاصِّ ، قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي، لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ؟ خَرَجْتُ أَنَا وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ حَيْدَةَ فِي طَرِيقِ الشَّامِ، فَمَرَرْنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِكُمَا، أَعْرَابِيٌّ جَافٍ جَرِيءٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ الْهِجْرَةُ، إِلَيْكَ حَيْثُمَا كُنْتَ، أَمْ إِلَى أَرْضٍ مَعْلُومَةٍ، أَوْ لِقَوْمٍ خَاصَّةً، أَمْ إِذَا مُتَّ انْقَطَعَتْ؟ قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْهِجْرَةِ؟"، قَالَ: هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ وَآتَيْتَ الزَّكَاةَ فَأَنْتَ مُهَاجِرٌ، وَإِنْ مُتَّ بِالْحَضْرَمَةِ"، قَالَ: يَعْنِي أَرْضًا بِالْيَمَامَةِ، قَالَ: ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ ثِيَابَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، أَتُنْسَجُ نَسْجًا، أَمْ تُشَقَّقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: فَكَأَنَّ الْقَوْمَ تَعَجَّبُوا مِنْ مَسْأَلَةِ الْأَعْرَابِيِّ! فَقَالَ:" مَا تَعْجَبُونَ مِنْ جَاهِلٍ يَسْأَلُ عَالِمًا؟"، قَالَ: فَسَكَتَ هُنَيَّةً، ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ ثِيَابِ الْجَنَّةِ؟"، قَالَ: أَنَا، قَالَ:" لَا، بَلْ تُشَقَّقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
فرزدق بن حنان نے ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں سے کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی حدیث نہ سناؤں جسے میرے کانوں نے سنا میرے دل نے اسے محفوظ کیا اور میں اسے اب تک نہیں بھولا؟ میں ایک مرتبہ عبیداللہ بن حیدہ کے ساتھ شام کے راستے میں نکلا ہمارا گزر سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا اس کے بعد انہوں نے حدیث ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تم دونوں کی قوم سے ایک سخت طبیعت کا جری دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! آپ کی ہجرت کہاں کی جائے؟ آیا جہاں کہیں بھی آپ ہوں یا کسی معین علاقے کی طرف؟ یا یہ حکم ایک خاص قوم کے لئے ہے یا یہ کہ آپ کے وصال کے بعد ہجرت منقطع ہو جائے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تھوڑی دیرتک سکوت فرمایا: پھر پوچھا کہ ہجرت کے متعلق سوال کر نے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ!! میں یہاں ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو تو تم مہاجرہو خواہ تمہاری موت حضرمہ جو یمامہ کا ایک علاقہ ہے ہی میں ہو۔ پھر وہ آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ!! یہ بتائیے کہ جنتیوں کے کپڑے بنے جائیں گے یا ان سے جنت کا پھل چیر کر نکالا جائے گا؟ لوگوں کو اس دیہاتی کے سوال پر تعجب ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس بات پر تعجب ہو رہا ہے ایک ناواقف آدمی ایک عالم سے سوال کر رہا ہے۔ پھر تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا: اہل جت کے کپڑوں کے متعلق پوچھنے والاکہاں ہے؟ اس نے کہا کہ میں یہاں ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کہ اہل جنت کے کپڑے جنت کے پھل سے چیر کر نکالے جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6890]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة شيخ العلاء ابن رافع، وهو حنان بن خارجة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة شيخ العلاء ابن رافع، وهو حنان بن خارجة
حدیث نمبر: 6891 مسند احمد
ابْنُ إِدْرِيسَ ، ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، سَمِعْتُ ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ يَسْأَلُهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ؟ فَقَالَ:" مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا، تَأْكُلُ الشَّجَرَ، وَتَرِدُ الْمَاءَ، فَذَرْهَا حَتَّى يَأْتِيَ بَاغِيهَا"، قَالَ: وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ؟ فَقَالَ:" لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ، اجْمَعْهَا إِلَيْكَ حَتَّى يَأْتِيَ بَاغِيهَا"، وَسَأَلَهُ عَنِ الْحَرِيسَةِ الَّتِي تُوجَدُ فِي مَرَاتِعِهَا؟ قَالَ: فَقَالَ:" فِيهَا ثَمَنُهَا مَرَّتَيْنِ وَضَرْبُ نَكَالٍ"، قَالَ:" فَمَا أُخِذَ مِنْ أَعْطَانِهِ فَفِيهِ الْقَطْعُ، إِذَا بَلَغَ مَا يُؤْخَذُ مِنْ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ"، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اللُّقَطَةُ نَجِدُهَا فِي السَّبِيلِ الْعَامِرِ؟ قَالَ:" عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُوجَدُ فِي الْخَرَابِ الْعَادِيِّ؟ قَالَ:" فِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے قبیلہ مزینہ کے ایک آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال کرتے ہوئے سنا کہ یا رسول اللہ! میں آپ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے آیا ہوں کہ گمشدہ اونٹ کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ اس کا "" سم "" اور اس کا "" مشکیزہ "" ہوتا ہے وہ خود ہی درختوں کے پتے کھاتا اور وادیوں کا پانی پیتا اپنے مالک کے پاس پہنچ جائے گا اس لئے تم اسے چھوڑ دو تاکہ وہ اپنی منزل پر خود ہی پہنچ جائے اس نے پوچھا کہ گمشدہ بکر ی کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یا تم اسے لے جاؤ گے یا تمہارا کوئی بھائی لے جائے گا یا کوئی بھیڑیا لے جائے گا تم اسے اپنی بکر یوں میں شامل کرو تاکہ وہ اپنے مقصود پر پہنچ جائے اس نے پوچھا وہ محفوظ بکر ی جو اپنی، چراگاہ میں ہو اسے چوری کر نے والے کے لئے کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کی دوگنی قیمت اور سزا اور جسے باڑے سے چرایا گیا ہو تو اس میں ہاتھ کاٹ دیا جائے گا جبکہ وہ ایک ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے۔ اس نے پوچھا یا رسول اللہ!! اس گری پڑی چیز کا کیا حکم ہے جو ہمیں کسی آبادعلاقے کے راستے میں ملے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پورے ایک سال تک اس کی تشہیر کر اؤ اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ اس کے حوالے کر دو ورنہ وہ تمہاری ہے اس نے کہا کہ اگر یہی چیز کسی ویرانے میں ملے تو؟ فرمایا: اس میں اور رکاز میں خمس واجب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6891]
حکم دارالسلام
حديث حسن
الحكم: حديث حسن
حدیث نمبر: 6892 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَلَا مَنَّانٌ، وَلَا وَلَدُ زِنْيَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: والدین کا کوئی نافرمان، کوئی احسان جتانے والا اور کوئی عادی شرابی اور کوئی ولد زنا جنت میں داخل نہ ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6892]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: «ولا ولد زنية» ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة جابان
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: «ولا ولد زنية» ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة جابان
حدیث نمبر: 6893 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سَمِعْتُ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَضَى أَنَّ الْمَرْأَةَ أَحَقُّ بِوَلَدِهَا مَا لَمْ تَزَوَّجْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا: ہے کہ عورت اپنے بچے کی زیادہ حقدار ہے جب تک وہ کسی اور سے شادی نہیں کر لیتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6893]
حکم دارالسلام
حديث حسن
الحكم: حديث حسن
حدیث نمبر: 6894 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، أَبِي يَحْيَى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرو ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي قَاعِدًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حُدِّثْتُ أَنَّكَ قُلْتَ:" أَنَّ صَلَاةَ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ"، وَأَنْتَ تُصَلِّي جَالِسًا؟ قَالَ:" أَجَلْ وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بیٹھ کر نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا میں نے عرض کیا مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6894]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 735
الحكم: إسناده صحيح، م: 735
حدیث نمبر: 6895 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا كَانَ عَلَى طَرِيقَةٍ حَسَنَةٍ مِنَ الْعِبَادَةِ، ثُمَّ مَرِضَ، قِيلَ لِلْمَلَكِ الْمُوَكَّلِ بِهِ: اكْتُبْ لَهُ مِثْلَ عَمَلِهِ إِذَا كَانَ طَلِيقًا، حَتَّى أُطْلِقَهُ أَوْ أَكْفِتَهُ إِلَيَّ".
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6896 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْزِعُ الْعِلْمَ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ أَنْ يُعْطِيَهُمْ إِيَّاهُ، وَلَكِنْ يَذْهَبُ بِالْعُلَمَاءِ، كُلَّمَا ذَهَبَ عَالِمٌ ذَهَبَ بِمَا مَعَهُ مِنَ الْعِلْمِ، حَتَّى يَبْقَى مَنْ لَا يَعْلَمُ، فَيَتَّخِذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالًا، فَيُسْتَفْتَوْا، فَيُفْتُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَيَضِلُّوا، وَيُضِلُّوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے لوگوں کے درمیان سے کھینچ لے گا بلکہ علماء کو اٹھا کر علم اٹھالے گا حتٰی کہ جب ایک عالم بھی نہ رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنالیں گے اور انہیں سے مسائل معلوم کیا کر یں گے وہ علم کے بغیر انہیں فتویٰ دیں گے نتیجہ یہ ہو گا کہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کر یں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6896]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 100، م: 2673
الحكم: إسناده صحيح، خ: 100، م: 2673