بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 626
صفحہ 26 از 32
حدیث نمبر: 6977 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، أَنَّهُ لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّهُ كَرِهَهُ، فَطَرَحَهُ، ثُمَّ لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ:" هَذَا أَخْبَثُ وَأَخْبَثُ"، فَطَرَحَهُ، ثُمَّ لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، فَسَكَتَ عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا اس نے وہ پھینک کر لوہے کی انگوٹھی بنوا لی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو اس سے بھی بری ہے یہ تو اہل جہنم کا زیور ہے اس نے وہ پھینک کر چاندی کی انگوٹھی بنوا لی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر سکوت فرمایا: ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6977]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره.
الحكم: صحيح لغيره.
حدیث نمبر: 6978 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَأْتِي الرُّكْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مِنْ أَبِي قُبَيْسٍ، لَهُ لِسَانٌ وَشَفَتَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن حجر اسود جب آئے گا تو وہ جبل ابو قبیس سے بڑا ہو گا اور اس کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6978]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن المؤمل.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن المؤمل.
حدیث نمبر: 6979 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ ، أَبِي عِيَاضٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْتَنِبُوا مِنَ الْأَوْعِيَةِ الدُّبَّاءَ، وَالْمُزَفَّتَ، وَالْحَنْتَمَ"، قَالَ شَرِيكٌ: وَذَكَرَ أَشْيَاءَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَعْرَابِيٌّ: لَا ظُرُوفَ لَنَا؟ فَقَالَ:" اشْرَبُوا مَا حَلَّ، وَلَا تَسْكَرُوا"، أَعَدْتُهُ عَلَى شَرِيكٍ، فَقَالَ:" اشْرَبُوا، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا، أوَلَا تَسْكَرُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دباء، مزفت اور حنتم نامی برتنوں کو استعمال کر نے سے بچو ایک دیہاتی کہنے لگا کہ ہمارے پاس تو ان کے علاوہ کوئی برتن نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر اس میں صرف حلال مشروبات پیو، نشہ آور چیزیں مت پیو کہ تم پر نشہ طاری ہو جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6979]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ.
حدیث نمبر: 6980 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، لَيْثٍ ، طَاوُسٍ ، زِيَادٍ سِيمِاكُوشَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ زِيَادٍ سِيمِاكُوشَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَكُونُ فِتْنَةٌ تَسْتَنْظِفُ الْعَرَبَ، قَتْلَاهَا فِي النَّارِ، اللِّسَانُ فِيهَا أَشَدُّ مِنْ وَقْعِ السَّيْفِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب ایک ایسا فتنہ رونما ہو گا جس کی طرف اہل عرب مائل ہو جائیں گے اس فتنے میں مرنے والے جہنم میں ہوں گے اور اس میں زبان کی کاٹ تلوار کی کاٹ سے زیادہ سخت ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6980]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ليث، وجهالة حال زياد بن سيماكوش.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ليث، وجهالة حال زياد بن سيماكوش.
حدیث نمبر: 6981 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص ، يَقُولُ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا كَالْمُوَدِّعِ، فَقَالَ:" أَنَا مُحَمَّدٌ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ، أَنَا مُحَمَّدٌ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ، أَنا مُحَّمدٌ النَّبيُّ الأُمَّيُّ، ثَلَاثًا، وَلَا نَبِيَّ بَعْدِي، أُوتِيتُ فَوَاتِحَ الْكَلِمِ، وَجَوَامِعَهُ، وَخَوَاتِمَهُ وَعَلِمْتُ كَمْ خَزَنَةُ النَّارِ، وَحَمَلَةُ الْعَرْشِ، وَتُجُوِّزَ بِي، وَعُوفِيتُ، وَعُوفِيَتْ أُمَّتِي، فَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا مَا دُمْتُ فِيكُمْ، فَإِذَا ذُهِبَ بِي، فَعَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ، أَحِلُّوا حَلَالَهُ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح ہمارے پاس تشریف لائے جیسے کوئی رخصت کر نے والا ہوتا ہے اور تین مرتبہ فرمایا: میں محمد ہوں نبی امی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا مجھے ابتدائی کلمات، اختتامی کلمات اور جامع کلمات بھی دئیے گئے ہیں میں جانتا ہوں کہ جہنم کے نگران فرشتے اور عرش الہٰی کو اٹھانے والے فرشتوں کی تعداد کتنی ہے؟ مجھ سے تجاوز کیا جا چکا مجھے اور میری امت کو عافیت عطاء فرما دی گئی اس لئے جب تک میں تمہارے درمیان رہوں میری بات سنتے اور مانتے رہو اور جب مجھے لے جایا جائے تو کتاب اللہ کو اپنے اوپر لازم پکڑ لو اس کے حلال کو حلال سمجھو اور اس کے حرام کو حرام سمجھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6981]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة.
حدیث نمبر: 6982 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شُعْبَةُ ، إِسْمَاعِيلَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، الشَّعْبِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں کو ترک کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6982]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 10.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 10.
حدیث نمبر: 6983 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، زَكَرِيَّا ، الشَّعْبِيِّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں کو ترک کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6983]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6484.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6484.
حدیث نمبر: 6984 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رشوت لینے اور دینے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6984]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 6985 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، أَبِي حَازِمٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، خَيْرِهِ وَشَرِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تقدیر پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا خواہ وہ اچھی ہو یا بری۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6985]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 6986 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، الْأَعْمَشُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، بِأَبِي يَزِيدَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ أَبِي عُبَيْدَةَ، فَذَكَرُوا الرِّيَاءَ، فَقَالَ رَجُلٌ يُكْنَى: بِأَبِي يَزِيدَ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ سَامِعَ خَلْقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَحَقَّرَهُ وَصَغَّرَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے عمل کے ذریعے لوگوں میں شہرت حاصل کرنا چاہتا ہے اللہ اسے اس کے حوالے کر دیتا ہے اور اسے ذلیل و رسوا کر دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6986]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 6987 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ أَبِي الْعَلَاءِ ، عِكْرِمَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ أَبِي الْعَلَاءِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ ذَكَرُوا الْفِتْنَةَ، أَوْ ذُكِرَتْ عِنْدَهُ، قَالَ:" إِذَا رَأَيْتَ النَّاسَ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ، وَخَفَّتْ أَمَانَاتُهُمْ، وَكَانُوا هَكَذَا"، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ لَهُ: كَيْفَ أَفْعَلُ عِنْدَ ذَلِكَ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ؟ قَالَ:" الْزَمْ بَيْتَكَ، وَامْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ، وَخُذْ مَا تَعْرِفُ، وَدَعْ مَا تُنْكِرُ، وَعَلَيْكَ بِأَمْرِ خَاصَّةِ نَفْسِكَ، وَدَعْ عَنْكَ أَمْرَ الْعَامَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اردگردبیٹھے ہوئے تھے کہ فتنوں کا تذکر ہ ہونے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ اس وقت ہو گا جب وعدوں اور امانتوں میں بگاڑ پیدا ہو جائے اور لوگ اس طرح ہو جائیں (راوی نے تشبیک کر کے دکھائی) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس وقت میرے لئے کیا حکم ہے؟ فرمایا: اپنے گھر کو لازم پکڑنا اپنی زبان کو قابو میں رکھنا نیکی کے کام اختیار کرنا برائی کے کاموں سے بچنا اور خواص کے ساتھ میل جول رکھنا عوام سے اپنے آپ کو بچانا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6987]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 6988 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، حَبِيبٍ ، أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمیشہ روزہ رکھنے والا کوئی روزہ نہیں رکھتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6988]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1979 ،م: 1159.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1979 ،م: 1159.
حدیث نمبر: 6989 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نَتْفِ الشَّيْبِ، وَقَالَ:" إِنَّهُ نُورُ الْإِسْلَامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفید بالوں کو نوچنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا: ہے کہ یہ اسلام کا نور ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6989]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 6990 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ أَبُو مَالِكٍ الْأَزْدِيُّ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ أَبُو مَالِكٍ الْأَزْدِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ وَلَا يَمِينَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ، وَلَا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا قَطِيعَةِ رَحِمٍ، فَمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَدَعْهَا، وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، فَإِنَّ تَرْكَهَا كَفَّارَتُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان چیزوں میں منت یا قسم نہیں ہوتی جن کا انسان مالک نہ ہو یا وہ اللہ کی نافرمانی کے کام ہوں یا قطع رحمی ہو جو شخص کسی بات پر قسم کھالے پھر کسی اور چیز میں خیر نظر آئے تو پہلے والے کام کو چھوڑ کر خیر کو اختیار کر لے کیونکہ اس کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6990]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 6991 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبَيْعِ وَالِاشْتِرَاءِ فِي الْمَسْجِدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد میں خریدو فروخت سے منع فرمایا: ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6991]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 6992 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُفُّوا السِّلَاحَ"، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَحْيَى، وَيَزِيدَ، وَقَالَ فِيهِ:" وَأَوْفُوا بِحِلْفِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِنَّ الْإِسْلَامَ لَمْ يَزِدْهُ إِلَّا شِدَّةً، وَلَا تُحْدِثُوا حِلْفًا فِي الْإِسْلَامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بنو خزاعہ کے علاوہ سب لوگوں سے اپنے اسلحے کو روک لو پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ زمانہ جاہلیت کے معاہدوں کو پورا کرو کیونکہ اسلام نے ان کی شدت ہی میں اضافہ کیا ہے البتہ اسلام میں کوئی ایسا نیا معاہدہ نہ کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6992]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، ولبعضه شواهد يصح بها.
الحكم: إسناده حسن، ولبعضه شواهد يصح بها.
حدیث نمبر: 6993 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبَا أَيُّوبَ الْأَزْدِيَّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَزْدِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: لَمْ يَرْفَعْهُ مَرَّتَيْنِ، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَقْتُ صَلَاةِ الظُّهْرِ مَا لَمْ يَحْضُرْ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَسْقُطْ نُورُ الشَّفَقِ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعْ الشَّمْسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ظہر کا وقت اس وقت تک رہتا ہے جب تک عصر کا وقت نہ ہو جائے عصر کا وقت سورج کے پیلا ہونے سے پہلے تک ہے مغرب کا وقت غروب شفق سے پہلے تک ہے عشاء کا وقت رات کے پہلے نصف تک ہے فجر کا وقت طلوع فجر سے لے کر اس وقت تک رہتا ہے جب تک سورج طلوع نہ ہو جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6993]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 612.
الحكم: إسناده صحيح، م: 612.
حدیث نمبر: 6994 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَامِرُ بْنُ يَحْيَى ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَسْتَخْلِصُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلًّا، كُلُّ سِجِلٍّ مَدَّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَقُولُ لَهُ: أَتُنْكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا؟ أَظَلَمَتْكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ؟ قَالَ: لَا، يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: أَلَكَ عُذْرٌ، أَوْ حَسَنَةٌ؟ فَيُبْهَتُ الرَّجُلُ، فَيَقُولُ: لَا، يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: بَلَى، إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً وَاحِدَةً، لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ، فَتُخْرَجُ لَهُ بِطَاقَةٌ، فِيهَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَيَقُولُ: أَحْضِرُوهُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ؟! فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تُظْلَمُ، قَالَ: فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كَفَّةٍ، قَالَ: فَطَاشَتْ السِّجِلَّاتُ، وَثَقُلَتْ الْبِطَاقَةُ، وَلَا يَثْقُلُ شَيْءٌ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن اللہ ساری مخلوق کے سامنے میرے ایک امتی کو باہر نکالے گا اور اس کے سامنے ننانوے رجسڑ کھولے گا جن میں سے ہر رجسڑ تاحد نگاہ ہو گا اور اس سے فرمائے گا کیا تو ان میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہے؟ کیا میرے محافظ کاتبین نے تجھ پر ظلم کیا ہے۔؟ وہ کہے گا نہیں اے پروردگار اللہ فرمائے گا کیا تیرے پاس کوئی عذر یا کوئی نیکی ہے؟ وہ آدمی مبہوت ہو کر کہے گا نہیں اے پروردگار اللہ فرمائے گا کیوں نہیں ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے آج تجھ پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا چنانچہ کاغذ کا ایک ٹکڑا نکالا جائے گا جس میں یہ لکھا ہو گا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ فرمائے گا اسے میزان عمل کے پاس حاضر کرو وہ عرض کرے گا کہ پروردگار کاغذ کے اس پرزے کا اتنے بڑے رجسڑوں کے ساتھ کیا مقابلہ؟ اس سے کہا جائے گا کہ آج تجھ پر کوئی ظلم نہیں ہو گا چنانچہ ان رجسڑوں کو ایک پلڑے میں رکھا جائے گا ان کا پلڑا اوپر ہو جائے گا اور کاغذ کے اس پرزے والا پلڑا جھک جائے گا کیونکہ اللہ کے نام سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہیں جو رحمان بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6994]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 6995 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ عَلَى مُغِيبَةٍ، إِلَّا وَمَعَهُ غَيْرُهُ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: فَمَا دَخَلْتُ بَعْدَ ذَلِكَ الْمَقَامِ عَلَى مُغِيبَةٍ، إِلَّا وَمَعِي وَاحِدٌ أَوْ اثْنَانِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آج کے بعد کوئی شخص کسی ایک عورت کے پاس تنہا نہ جائے جس کا شوہر موجود نہ ہو الاّ یہ کہ اس کے ساتھ ایک اور یا دو آدمی ہوں۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں کبھی کسی عورت کے پاس تنہا نہیں گیا الاّ یہ کہ میرے ساتھ ایک دو آدمی ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6995]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2173.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2173.
حدیث نمبر: 6996 مسند احمد
عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ ، عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْسِمَ غَنِيمَةً أَمَرَ بِلَالًا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَنَادَى ثَلَاثًا، فَأَتَى رَجُلٌ بِزِمَامٍ مِنْ شَعَرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدَ أَنْ قَسَمَ الْغَنِيمَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ مِنْ غَنِيمَةٍ كُنْتُ أَصَبْتُهَا، قَالَ:" أَمَا سَمِعْتَ بِلَالًا يُنَادِي ثَلَاثًا؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ؟" فَاعْتَلَّ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَنْ أَقْبَلَهُ، حَتَّى تَكُونَ أَنْتَ الَّذِي تُوَافِينِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مال غنیمت تقسیم کر نے کا ارادہ فرماتے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے وہ تین مرتبہ منادی کر دیتے ایک مرتبہ مال غنیمت کی تقسیم کے بعد ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بالوں کی ایک لگام لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! یہ مال غنیمت ہے جو مجھے ملا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے بلال کی تین مرتبہ منادی کو نہیں سنا تھا؟ اس نے کہا جی ہاں سنا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تمہیں ہمارے پاس آنے سے کس چیز نے روکا تھا؟ اس نے کوئی عذر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارا کوئی عذر قبول نہیں کر سکتا اب قیامت کے دن یہ تم میرے پاس لے کر آؤ گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6996]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.