بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 626
صفحہ 12 از 32
حدیث نمبر: 6697 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَجَّاجٌ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ . وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ:" وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ وَأَهْلِ تِهَامَةَ يَلَمْلَمَ، وَلِأَهْلِ الطَّائِفِ، وَهِيَ نَجْدٌ قَرَن، وَلِأَهْلِ الْعِرَاقِ ذَاتَ عِرْقٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ اہل یمن وتہامہ کے لئے یلملم اہل طائف (نجد) کے لئے قرن اور اہل عراق کے لئے ذات عرق کو میقات قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6697]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، دون ذكر ميقات أهل العراق فشاذ، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الحجاج
الحكم: حديث صحيح، دون ذكر ميقات أهل العراق فشاذ، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الحجاج
حدیث نمبر: 6698 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ"، وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ الْخَادِمِ وَالتَّابِعِ، لِأَهْلِ الْبَيْتِ، وَأَجَازَهَا لِغَيْرِهِمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کسی خائن مرد و عورت کی گواہی مقبول نہیں نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نوکر کی گواہی اس کے مالکان کے حق میں قبول نہیں فرمائی البتہ دوسرے لوگوں کے حق میں قبول فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6698]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6699 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَيُّمَا مُسْتَلْحَقٍ اسْتُلْحِقَ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى لَهُ، ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ قَضَى إِنْ كَانَ مِنْ حُرَّةٍ تَزَوَّجَهَا، أَوْ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا، فَقَدْ لَحِقَ بِمَا اسْتَلْحَقَهُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ حُرَّةٍ أَوْ أَمَةٍ عَاهَرَ بِهَا، لَمْ يَلْحَقْ بِمَا اسْتَلْحَقَهُ، وَإِنْ كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ ادَّعَاهُ، وَهُوَ ابْنُ زِنْيَةٍ، لِأَهْلِ أُمِّهِ، مَنْ كَانُوا، حُرَّةً أَوْ أَمَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو بچہ اپنے باپ کے مرنے کے بعد اس کے نسب میں شامل کیا جائے جس کا دعویٰ مرحوم کے ورثاء نے کیا ہو اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا: کہ اگر وہ آزاد عورت سے ہو جس سے مرنے والے نے نکاح کیا ہو۔ یا اس کی مملوکہ باندی سے ہو تو اس کا نسب مرنے والے سے ثابت ہو جائے گا اور اگر وہ کسی آزاد عورت یا باندی سے گناہ کا نتیجہ ہے تو اس کا نسب مرنے والے سے ثابت نہ ہو گا اگرچہ خود اس کا باپ ہی اس کا دعویٰ کرے وہ زنا کی پیداوار اور اپنی ماں کا بیٹا ہے اور اس کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے خواہ وہ کوئی بھی لوگ ہوں آزاد ہوں یا غلام۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6699]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6700 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي ذَوِي أَرْحَامٍ، أَصِلُ وَيَقْطَعُونِي، وَأَعْفُو وَيَظْلِمُونَ، وَأُحْسِنُ وَيُسِيئُونَ، أَفَأُكَافِئُهُمْ؟ قَالَ:" لَا إِذًا تُتْرَكُونَ جَمِيعًا، وَلَكِنْ خُذْ بِالْفَضْلِ وَصِلْهُمْ، فَإِنَّهُ لَنْ يَزَالَ مَعَكَ ظَهِيرٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا كُنْتَ عَلَى ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میرے کچھ رشتے دار ہیں میں ان سے رشتہ داری جوڑتا ہوں وہ توڑتے ہیں میں ان سے درگزر کرتا ہوں وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہوں وہ میرے ساتھ برا کرتے ہیں کیا میں بھی ان کا بدلہ دے سکتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ورنہ تم سب کو چھوڑ دیا جائے گا تم فضیلت والا پہلو اختیار کرو اور ان سے صلہ رحمی کرو اور جب تک تم ایسا کرتے رہو گے اللہ کی طرف سے تمہارے ساتھ مستقل ایک معاون لگا رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6700]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الحجاج بن أرطاة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الحجاج بن أرطاة
حدیث نمبر: 6701 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، يُوسُفَ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ يُوسُفَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ حَضَرَهَا بِدُعَاءٍ وَصَلَاةٍ، فَذَلِكَ رَجُلٌ دَعَا رَبَّهُ، إِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ، وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُ، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِسُكُوتٍ وَإِنْصَاتٍ، فَذَلِكَ هُوَ حَقُّهَا، وَرَجُلٌ يَحْضُرُهَا يَلْغُو، فَذَلِكَ حَظُّهُ مِنْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ میں تین قسم کے لوگ آتے ہیں ایک آدمی تو وہ ہے جو نماز اور دعاء میں شریک ہوتا ہے اس آدمی نے اپنے رب کو پکار لیا اب اس کی مرضی ہے کہ وہ اسے عطاء کرے یا نہ کرے، دوسرا آدمی وہ ہے جو خاموشی کے ساتھ آکر اس میں شریک ہو جائے یہی اس کا حق ہے اور تیسرا آدمی وہ ہے جو بیکار کاموں میں لگا رہتا ہے یہ اس کا حصہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6701]
حکم دارالسلام
حديث حسن
الحكم: حديث حسن
حدیث نمبر: 6702 مسند احمد
أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، أَبُو حَازِمٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: لَقَدْ جَلَسْتُ أَنَا وَأَخِي مَجْلِسًا مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهِ حُمْرَ النَّعَمِ، أَقْبَلْتُ أَنَا وَأَخِي، وَإِذَا مَشْيَخَةٌ مِنْ صَحَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ عِنْدَ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِهِ، فَكَرِهْنَا أَنْ نُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ، فَجَلَسْنَا حَجْرَةً، إِذْ ذَكَرُوا آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ، فَتَمَارَوْا فِيهَا، حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا، قَدْ احْمَرَّ وَجْهُهُ، يَرْمِيهِمْ بِالتُّرَابِ، وَيَقُولُ:" مَهْلًا يَا قَوْمِ، بِهَذَا أُهْلِكَتْ الْأُمَمُ مِنْ قَبْلِكُمْ، بِاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، وَضَرْبِهِمْ الْكُتُبَ بَعْضَهَا بِبَعْضٍ، إِنَّ الْقُرْآنَ لَمْ يَنْزِلْ يُكَذِّبُ بَعْضُهُ بَعْضًا، بَلْ يُصَدِّقُ بَعْضُهُ بَعْضًا، فَمَا عَرَفْتُمْ مِنْهُ، فَاعْمَلُوا بِهِ، وَمَا جَهِلْتُمْ مِنْهُ، فَرُدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اور میرا بھائی ایسی مجلس میں بیٹھے ہیں کہ اس کے بدلے میں مجھے سرخ اونٹ بھی ملنا پسند نہیں ہے ایک دفعہ میں اپنے بھائی کے ساتھ آیا تو کچھ بزرگ صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ مسجد نبوی کے کسی دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ہم نے ان کے درمیان گھس کر تفریق کر نے کو اچھا نہیں سمجھا اس لئے ایک کونے میں بیٹھ گئے اس دوران صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے قرآن کی ایک آیت کا تذکر ہ چھیڑا اور اس کی تفسیر میں ان کے درمیان اختلاف رائے ہو گیا یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہونے لگیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غضب ناک ہو کر باہر نکلے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مٹی پھینک رہے تھے اور فرما رہے تھے لوگو! رک جاؤ تم سے پہلی امتیں اسی وجہ سے ہلاک ہوئیں کہ انہوں نے اپنے انبیاء کے سامنے اختلاف کیا اور اپنی کتابوں کے ایک حصے کو دوسرے حصے پر مارا قرآن اس طرح نازل نہیں ہوا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کی تکذیب کرتا ہو بلکہ وہ ایک دوسرے کی تصدیق کرتا ہے اس لئے تمہیں جتنی بات کا علم ہو اس پر عمل کر لو اور جو معلوم نہ ہو تو اسے اس کے عالم سے معلوم کر لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6702]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6703 مسند احمد
أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، أَبُو حَازِمٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُؤْمِنُ الْمَرْءُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ"، قَالَ أَبُو حَازِمٍ: لَعَنَ اللَّهُ دِينًا أَنَا أَكْبَرُ مِنْهُ، يَعْنِي التَّكْذِيبَ بِالْقَدَرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تقدیر پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مؤمن نہیں ہو سکتا خواہ وہ اچھی ہو یا بری۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6703]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6704 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، حَجَّاجٌ ، عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَنْحَرَ مِائَةَ بَدَنَةٍ، وَأَنَّ هِشَامَ بْنَ العاص نَحَرَ حِصَّتَهُ، خَمْسِينَ بَدَنَةً، وَأَنَّ عَمْرًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ:" أَمَّا أَبُوكَ، فَلَوْ كَانَ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ، فَصُمْتَ، وَتَصَدَّقْتَ عَنْهُ، نَفَعَهُ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عاص بن وائل نے زمانہ جاہلیت میں سو اونٹ قربان کر نے کی منت مانی تھی، اس کے ایک بیٹے ہشام بن عاص نے اپنے حصے کے پچاس اونٹ قربان کر دئیے دوسرے بیٹے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے باپ نے توحید کا اقرار کر لیا ہوتا تو تم اس کی طرف سے جو بھی روزہ اور صدقہ کرتے اسے ان کا نفع ہوتا (لیکن چونکہ اس نے اسلام قبول نہیں کیا اس لئے اسے کیا فائدہ ہو گا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6704]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6705 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٍ ، عَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَرْجِعُ فِي هِبَتِهِ إِلَّا الْوَالِدُ مِنْ وَلَدِهِ، وَالْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنا ہدیہ واپس نہ مانگے سوائے باپ اپنے بیٹے سے اور ہدیہ دے کرواپس لینے والا ایسے ہے جیسے قے کر کے اسے چاٹ لینے والا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6705]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6706 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" هِيَ اللُّوطِيَّةُ الصُّغْرَى"، يَعْنِي الرَّجُلَ يَأْتِي امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی بیوی کے پچھلے سوراخ میں آتا ہے وہ لواطت صغری " کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6706]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، وقد اختلف فى رفعه ووقفه، والموقوف أصح
الحكم: إسناده حسن، وقد اختلف فى رفعه ووقفه، والموقوف أصح
حدیث نمبر: 6707 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً، وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً، وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً، وَزَعَمَ أَبُوهُ أَنَّهُ يَنْزِعُهُ مِنِّي؟ قَالَ:" أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! میرا یہ بیٹا ہے میرا پیٹ اس کا برتن تھا میری گود اس کا گہوارہ تھی اور میری چھاتی اس کے لئے سیرابی کا ذریعہ تھی لیکن اب اس کا باپ کہہ رہا ہے کہ وہ اسے مجھ سے چھین لے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تک تم کہیں اور شادی نہیں کر تیں اس پر تمہارا حق زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6707]
حکم دارالسلام
حديث حسن
الحكم: حديث حسن
حدیث نمبر: 6708 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُلُوا، وَاشْرَبُوا، وَتَصَدَّقُوا وَالْبَسُوا، فِي غَيْرِ مَخِيلَةٍ، وَلَا سَرَفٍ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُرَى نِعْمَتُهُ عَلَى عَبْدِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ پیو صدقہ کرو اور پہنو لیکن تکبر نہ کرو اور اسراف بھی نہ کرو اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی نعمتوں کا اثر اس کے بندے پر ظاہر ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6708]
حکم دارالسلام
حديث حسن
الحكم: حديث حسن
حدیث نمبر: 6709 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ : عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ عَلَى صَدَاقٍ أَوْ حِبَاءٍ أَوْ عِدَةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ، فَهُوَ لَهَا، وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ، فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ، وَأَحَقُّ مَا يُكْرَمُ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو عورت مہر، تحفہ یا ہدیہ کے بدلے نکاح کرے تو نکاح سے قبل ہونے کی صورت میں وہ اسی کی ملکیت ہو گا اور نکاح کا بندھن بندھ جانے کے بعد وہ اس کی ملکیت میں ہو گا جسے دیا گیا ہو اور کسی آدمی کا اکر ام اس وجہ سے کرنا زیادہ حق بنتا ہے کہ اس کی بیٹی یا بہن کی وجہ سے اس کا اکر ام کیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6709]
حکم دارالسلام
حديث حسن
الحكم: حديث حسن
حدیث نمبر: 6710 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنَ جُرَيْجٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، أَنَّ زِنْبَاعًا أَبَا رَوْحٍ وَجَدَ غُلَامًا لَهُ مَعَ جَارِيَةٍ لَهُ، فَجَدَعَ أَنْفَهُ وَجَبَّهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكَ؟" قَالَ: زِنْبَاعٌ، فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا؟" فَقَالَ: كَانَ مِنْ أَمْرِهِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبْدِ:" اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَوْلَى مَنْ أَنَا؟ قَالَ:" مَوْلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ"، فَأَوْصَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، نُجْرِي عَلَيْكَ النَّفَقَةَ وَعَلَى عِيَالِكَ، فَأَجْرَاهَا عَلَيْهِ، حَتَّى قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ جَاءَهُ، فَقَالَ: وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: مِصْرَ، فَكَتَبَ عُمَرُ إِلَى صَاحِبِ مِصْرَ أَنْ يُعْطِيَهُ أَرْضًا يَأْكُلُهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوروح " جس کا اصل نام زنباع تھا " نے اپنے غلام کو ایک باندی کے ساتھ " پایا اس نے اس غلام کی ناک کاٹ دی اور اسے خصی کر دیا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا تیرے ساتھ یہ سلوک کسی نے کیا؟ اس نے زنباع کا نام لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بلوایا اور اس سے پوچھا کہ تم نے یہ حرکت کیوں کی؟ اس نے ساراواقعہ ذکر کر دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غلام سے فرمایا: جا تو آزاد ہے وہ کہنے لگا یا رسول اللہ!! میرا آزاد کر نے والا کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ اور اس کے رسول کا آزاد کر دہ ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کو بھی اس کی وصیت کر دی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہو گیا تو وہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت کا ذکر کیا، انہوں نے فرمایا: ہاں! مجھے یاد ہے ہم تیرا اور تیرے اہل و عیال کا نفقہ جاری کر دیتے ہیں چنانچہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس کا نفقہ جاری کر دیا پھر جب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو وہ پھر آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت کا ذکر کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی فرمایا: ہاں! یاد ہے تم کہاں جانا چاہتے ہو؟ اس نے مصر کا نام لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گورنر مصر کے نام اس مضمون کا خط لکھ دیا کہ اسے اتنی زمین دے دی جائے کہ جس سے یہ کھا پی سکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6710]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن جريج مدلس وقد عنعن
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن جريج مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 6711 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي كُلِّ إِصْبَعٍ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي كُلِّ سِنٍّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَالْأَصَابِعُ سَوَاءٌ، وَالْأَسْنَانُ سَوَاءٌ"، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَسَمِعْتُ مَكْحُولًا يَقُولُ، وَلَا يَذْكُرُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أبِي: قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَوْرَعَ فِي الْحَدِيثِ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر انگلی میں دس اونٹ واجب ہیں ہر دانت میں پانچ اونٹ ہیں اور سب انگلیاں بھی برابر ہیں اور تمام دانت بھی برابر ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6711]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6712 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَنَدَ إِلَى بَيْتٍ، فَوَعَظَ النَّاسَ، وَذَكَّرَهُمْ، قَالَ:" لَا يُصَلِّي أَحَدٌ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى اللَّيْلِ، وَلَا بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ مَسِيرَةَ ثَلَاثٍ، وَلَا تَتَقَدَّمَنَّ امْرَأَةٌ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ سے ٹیک لگا کر لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: کوئی شخص عصر کی نماز کے بعد رات تک نوافل نہ پڑھے اور نہ فجر کے بعد طلوع آفتاب تک، نیز کوئی عورت تین دن کی مسافت کا محرم کے بغیر سفر نہ کرے اور کسی عورت سے اس کی پھوپھی یاخالہ کی موجودگی میں نکاح نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6712]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6713 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ؟ فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْعُقُوقَ"، وَكَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا نَسْأَلُكَ عَنْ أَحَدِنَا يُولَدُ لَهُ؟ قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ، عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ"، قَالَ: وَسُئِلَ عَنِ الْفَرَعِ؟ قَالَ:" وَالْفَرَعُ حَقٌّ، وَأَنْ تَتْرُكَهُ حَتَّى يَكُونَ شُغْزُبًّا، أَوْ شُغْزُوبًّا ابْنَ مَخَاضٍ أَوْ ابْنَ لَبُونٍ، فَتَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ تُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذْبَحَهُ يَلْصَقُ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ، وَتُكْفِئُ إِنَاءَكَ، وَتُولِهُ نَاقَتَكَ"، وَقَالَ وَسُئِلَ عَنِ الْعَتِيرَةِ؟ فَقَالَ" الْعَتِيرَةُ حَقٌّ"، قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ: مَا الْعَتِيرَةُ؟ قَالَ: كَانُوا يَذْبَحُونَ فِي رَجَبٍ شَاةً، فَيَطْبُخُونَ وَيَأْكُلُونَ وَيُطْعِمُونَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے " عقیقہ " کے متعلق سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ عقوق (نافرمانی) کو پسند نہیں کرتا گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لفظی مناسبت کو اچھا نہیں سمجھا صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ!! ہم آپ سے اپنی اولاد کے حوالے سے سوال کر رہے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص اپنی اولاد کی طرف سے قربانی کرنا چاہے وہ لڑکے کی طرف دو برابر کی بکر یاں ذبح کر دے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکر ی ذبح کر لے۔ پھر کسی نے اونٹ کے پہلے بچے کی قربانی کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ برحق ہے لیکن اگر تم اسے جوان ہونے تک چھوڑ دو کہ وہ دو تین سال کا ہو جائے پھر تم اسے کسی کو فی سبیل اللہ سواری کے لئے دے دو یا بیواؤں کو دے دو تو یہ زیادہ بہتر ہے اس بات سے کہ تم اسے ذبح کر کے اس کا گوشت اس کے بالوں کے ساتھ لگاؤ اپنا برتن الٹ دو اور اپنی اونٹنی کو پاگل کر دو پھر کسی نے " عتیرہ " کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عتیرہ برحق ہے۔ کسی نے عمرو بن شعیب سے عتیرہ کا معنی پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ لوگ ماہ رجب میں بکر ی ذبح کر کے اسے پکا کر خود بھی کھاتے تھے اور دوسروں کو بھی کھلاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6713]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6714 مسند احمد
الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسُرَيْجٌ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ رَجُلَيْنِ وَهُمَا مُقْتَرِنَانِ، يَمْشِيَانِ إِلَى الْبَيْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا بَالُ الْقِرَانِ؟" قَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَذَرْنَا أَنْ نَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ مُقْتَرِنَيْنِ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ هَذَا نَذْرًا"، فَقَطَعَ قِرَانَهُمَا، قَالَ سُرَيْجٌ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ چمٹ کر بیت اللہ کی طرف جاتے ہوئے دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ اس طرح چمٹ کر چلنے کا کیا مطلب؟ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ!! ہم نے یہ منت مانی تھی کہ اسی طرح بیت اللہ تک چل کر جائیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ منت نہیں ہے اور ان دونوں کی اس کیفیت کو ختم کروا دیا سریج اپنی حدیث میں یہ بھی کہتے ہیں کہ نذر اس چیز کی ہوتی ہے جس کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کی جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6714]
حکم دارالسلام
حديث حسن
الحكم: حديث حسن
حدیث نمبر: 6715 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْفَرَجُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ، أَوْ مَأْمُورٌ، أَوْ مُرَاءٍ"، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّمَا كَانَ يَبْلُغُنَا، أَوْ مُتَكَلِّفٌ، قَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وعظ صرف وہی شخص کہہ سکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کی اجازت دی گئی ہو یا ریاکار۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6715]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف الفرج و عبدالله بن عامر الأسلمي
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف الفرج و عبدالله بن عامر الأسلمي
حدیث نمبر: 6716 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، سُلَيْمَانُ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ عَقْلَ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ نِصْفُ عَقْلِ الْمُسْلِمِينَ وَهُمْ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا: ہے کہ ان کی دیت مسلمان کی دیت سے آدھی ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6716]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن