بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 626
صفحہ 17 از 32
حدیث نمبر: 6797 مسند احمد
وَكِيعٌ ، خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي خُطْبَتِهِ، وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ:" الْمُسْلِمُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خانہ کعبہ سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: مسلمان اپنے علاوہ سب پر ایک ہاتھ ہیں سب کا خون برابر ہے ایک ادنیٰ مسلمان بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6797]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6798 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ الْعَامِرِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ"، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَوِيٍّ: وقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ: وَلَمْ يَرْفَعْهُ سَعْدٌ وَلَا ابْنُهُ، يَعْنِي إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی مالدار آدمی کے لئے یا کسی مضبوط اور طاقتور (ہٹے کٹے) آدمی کے لئے زکوٰۃ لیناجائز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6798]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 6799 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ: وَارْقَ، وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور درجات جنت چڑھتاجا اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جیسے دنیا میں میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا کہ تیری منزل اس آخری آیت پر ہو گی جو تو پڑھے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6799]
حکم دارالسلام
صحيح، لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6800 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَشْعُرْ، نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ؟ قَالَ:" ارْمِ وَلَا حَرَجَ"، قَالَ آخَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ؟ قَالَ:" انْحَرْ وَلَا حَرَجَ"، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ:" افْعَلْ وَلَا حَرَجَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں یہ سمجھتا تھا کہ حلق قربانی سے پہلے ہے اس لئے میں نے قربانی کر نے سے پہلے حلق کروا لیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جا کر قربانی کر لو کوئی حرج نہیں ایک دوسرا آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں یہ سمجھتا تھا کہ قربانی رمی سے پہلے ہے اس لئے میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اب جا کر رمی کر لو کوئی حرج نہیں ہے اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس نوعیت کا جو سوال بھی پوچھا گیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا جواب میں یہی فرمایا: اب کر لو کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6800]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 83، م: 1306
الحكم: إسناده صحيح، خ: 83، م: 1306
حدیث نمبر: 6801 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: هَجَّرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَإِنَّا لَجُلُوسٌ إِذْ اخْتَلَفَ رَجُلَانِ فِي آيَةٍ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، فَقَالَ:" إِنَّمَا هَلَكَتْ الْأُمَمُ قَبْلَكُمْ بِاخْتِلَافِهِمْ فِي الْكِتَابِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں دوپہر کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ دو آدمیوں کے درمیان ایک آیت کی تفسیر میں اختلاف ہو گیا اور بڑھتے بڑھتے ان کی آوازیں بلند ہونے لگیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلی امتیں اپنی کتاب میں اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6801]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2666
الحكم: إسناده صحيح، م: 2666
حدیث نمبر: 6802 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِي مَالِكٍ يَعْنِي عُبَيْدَ بْنَ الْأَخْنَسِ ، الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ يَعْنِي عُبَيْدَ بْنَ الْأَخْنَسِ ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُرِيدُ حِفْظَهُ، فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالُوا: تَكْتُبُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا؟ فَأَمْسَكْتُ، حَتَّى ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" اكْتُبْ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا خَرَجَ مِنْهُ إِلَّا حَقٌّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے جو چیزیں سن لیتا اسے لکھ لیتا تاکہ یاد کر سکوں مجھے قریش کے لوگوں نے اس سے منع کیا اور کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو کچھ بھی سنتے ہو سب لکھ لیتے ہو حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ایک انسان بعض اوقات غصہ میں بات کرتے ہیں اور بعض اوقات خوشی میں ان لوگوں کے کہنے کے بعد میں نے لکھنا چھوڑ دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات ذکر کر دی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لکھ لیا کرو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میری زبان سے حق کے سواکچھ نہیں نکلتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6802]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6803 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٌ ، هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، أَبِي يَحْيَى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ شُعْبَةُ : حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" صَلَاةُ الْجَالِسِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے ثواب سے نصف ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6803]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 735
الحكم: إسناده صحيح، م: 735
حدیث نمبر: 6804 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، التَّيْمِيِّ ، أَسْلَمَ ، أَبِي مُرَيَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي مُرَيَّةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" النَّفَّاخَانِ فِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ، رَأْسُ أَحَدِهِمَا بِالْمَشْرِقِ وَرِجْلَاهُ بِالْمَغْرِبِ"، أَوْ قَالَ:" رَأْسُ أَحَدِهِمَا بِالْمَغْرِبِ وَرِجْلَاهُ بِالْمَشْرِقِ، يَنْتَظِرَانِ مَتَى يُؤْمَرَانِ يَنْفُخَانِ فِي الصُّورِ، فَيَنْفُخَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: صور پھونکنے والے فرشتے دوسرے آسمان میں ہیں ان میں سے ایک کا سر مشرق میں اور پاؤں مغرب میں ہیں اور وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ انہیں صور پھونکنے کا حکم کب ملتا ہے کہ وہ اسے پھونکیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6804]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف للشك بين إرساله ووصله، ولجهالة أبى مرية فيما لوثبت وصله
الحكم: إسناده ضعيف للشك بين إرساله ووصله، ولجهالة أبى مرية فيما لوثبت وصله
حدیث نمبر: 6805 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، التَّيْمِيُّ ، أَسْلَمَ ، بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَسْلَمَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصُّورِ؟ فَقَالَ:" قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر سوال پوچھا یا رسول اللہ! صور کیا چیز ہے؟ فرمایا: ایک سینگ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6805]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6806 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، إِسْمَاعِيلَ ، عَامِرٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرٌ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَعِنْدَهُ الْقَوْمُ، فَتَخَطَّى إِلَيْهِ، فَمَنَعُوهُ، فَقَالَ: دَعُوهُ، فَأَتَى حَتَّى جَلَسَ عِنْدَهُ، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ حَفِظْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عامر کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ان کے پاس کچھ لوگ پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے وہ ان کی گردنیں پھلانگنے لگا لوگوں نے روکا تو سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو وہ آ کر ان کے پاس بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محفوظ کی ہو؟ انہوں نے فرمایا: کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں کو ترک کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6806]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6484
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6484
حدیث نمبر: 6807 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيَدْخُلَ الْجَنَّةَ، فَلْتُدْرِكْهُ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَيَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے جہنم کی آگ سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخلہ نصیب ہو جائے تو اسے اس حال میں موت آنی چاہئے کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کو وہ دے جو خود لینا پسند کرتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6807]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1844
الحكم: إسناده صحيح، م: 1844
حدیث نمبر: 6808 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، أَبَا مُوسَى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ شَيْخٍ يُكَنَّى أَبَا مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ سُفْيَانُ أُرَاهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے ثواب سے نصف ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6808]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 735
الحكم: إسناده صحيح، م: 735
حدیث نمبر: 6809 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٍ ، هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، أَبِي يَحْيَى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ وَأَعْقَابُهُمْ تَلُوحُ، فَقَالَ:" وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ ان کی ایڑیاں چمک رہی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے اعضاء وضو کو اچھی طرح مکمل دھویا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6809]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 241
الحكم: إسناده صحيح، م: 241
حدیث نمبر: 6810 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، يَزِيدَ ، أَبِي أَيُّوبَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ رَجُلٍ: يَزِيدَ ، أَوْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ لَمْ يَفْقَهْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص تین دن سے کم وقت میں قرآن پڑھتا ہے اس نے اسے سمجھا نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6810]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1159
الحكم: إسناده صحيح، م: 1159
حدیث نمبر: 6811 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مِسْعَرٌ ، وَسُفْيَانُ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، أَبِي الْعَبَّاسِ الْمَكِّيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحَيٌّ وَالِدَاكَ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جہاد میں شرکت کی اجازت لینے کے لئے آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے والدین حیات ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں! فرمایا: جاؤ اور ان ہی میں جہاد کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6811]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5972، م: 2549
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5972، م: 2549
حدیث نمبر: 6812 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو عَنِ الْجِهَادِ؟ فَقَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6812]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5972، م: 2549
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5972، م: 2549
حدیث نمبر: 6813 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْمَسْعُودِيُّ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُكْتِبِ ، أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُكْتِبِ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ، وَهُمَا هِجْرَتَانِ: هِجْرَةُ الْحَاضِرِ، وَهِجْرَةُ الْبَادِي، فَأَمَّا هِجْرَةُ الْبَادِي، فَيُطِيعُ إِذَا أُمِرَ، وَيُجِيبُ إِذَا دُعِيَ، وَأَمَّا هِجْرَةُ الْحَاضِرِ، فَهِيَ أَشَدُّهُمَا بَلِيَّةً، وَأَعْظَمُهُمَا أَجْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ! کون سی ہجرت افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کہ تم ان چیزوں کو چھوڑ دو جو تمہارے رب کو ناگوار گزریں اور ہجرت کی دو قسمیں ہیں شہری کی ہجرت اور دیہاتی کی ہجرت دیہاتی کی ہجرت تو یہ ہے کہ جب اسے دعوت ملے تو قبول کر لے اور جب حکم ملے تو اس کی اطاعت کرے اور شہری کی آزمائش بھی زیادہ ہوتی ہے اور اس کا اجر بھی زیادہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6813]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 6814 مسند احمد
وَكِيعٌ ، زَكَرِيَّا ، عَامِرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ الْمُهَاجِرُ؟ قَالَ:" مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ!! اصل مہاجر کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں کو ترک کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6814]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6484
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6484
حدیث نمبر: 6815 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَايَعَ إِمَامًا، فَأَعْطَاهُ ثَمَرَةَ قَلْبِهِ وَصَفْقَةَ يَدِهِ، فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی امام سے بیعت کرے اور اسے اپنے ہاتھ کا معاملہ اور دل کا ثمرہ دے دے تو جہاں تک ممکن ہو اس کی اطاعت کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6815]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1844
الحكم: إسناده صحيح، م: 1844
حدیث نمبر: 6816 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ خَالِهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أُرِيدَ مَالُهُ بِغَيْرِ حَقٍّ، فَقُتِلَ دُونَهُ، فَهُوَ شَهِيدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارآ جائے وہ شہید ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6816]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2480
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2480