بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 626
صفحہ 1 از 32
حدیث نمبر: 6477 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمَغِيرَةَ الضَّبَّيَّ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمَغِيرَةَ الضَّبَّيَّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: زَوَّجَنِي أَبِي امْرَأَةً مَنْ قُرَيْشٍ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيَّ جَعَلْتُ لا أَنْحَاشِ لهَا، ممَّا بِي مِنَ الْقُوَّةِ عَلَى الْعِبَادَةِ مِنَ الصَّوْمِ وِالصَّلاة، فَجَاءَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِلَى كَنَّتِهِ، حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهَا: كَيْفَ وَجَدْتِ بَعْلكِ؟ قَالَتْ: خَيْرَ الرَّجَالِ، أَوْ كَخَيْرِ الْبُعُولَةِ، مِنْ رَجُلِ لَمْ يُفَتَّشْ لَنَا كَنَفاً، وَلَمْ يَعْرِفْ لَنَا فِرَاشاً! فَأَقْبَلَ عَلَيَّ، فَعَذَمَنِي وَعَضَّيِ بِلِسَانِهِ، فَقَالَ: أَنْكَحْتُكَ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ ذَاتَ حَسَبٍ، فَعَضَلْتَهَا، وَفَعَلْتَ وَفَعَلْتَ! ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَانِي، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فّأَتَيْتُهُ، فَقَالَ لِي:" أَتَصُومُ النَّهَارَ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" وتَقُومُ اللَّيْل؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" لَكَّنِي أَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأُصَلَّي وَأَنَامُ، وَأَمَسُّ النَّسَاء، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنَّي"، قَالَ:" اقرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلَ ّشَهْرٍ"، قُلْتُ: إِنَّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" فَاقْرَأْهُ فِي كُلَّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ"، قُلْتُ: إِنَّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، قَالَ أَحَدُهُمَا: إِمَّا حُصَيْنٌ وَإِمَّا مُغِيرَةُ، قَالَ:" فَاقْرَأْهُ فِي كُلَّ ثَلاَثٍ"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" صُمْ فِي كُلَّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ"، قُلْتُ: إِنَّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ يَرْفَعُنِي حَتَّى قَالَ:" صُمْ يَوْمًا وَافْطرْ يَومًا، فَإِنَّهْ أَفْضَلُ الصيَّامٍ، وَهُوَ صِيَامُ أَخِي دَاوُد صَلَّى اللهُ عَلَيَهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ حُصَيْنٌ فِي حَدِيثِهِ: ثُمَّ قال صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإنَّ لكُلَّ عَابِدٍ شِرَّةً، وَلِكُلَّ شِرَّةً فَتْرةً، فَإِمَّا إِلَى سُنَّةٍ، وَإَمَّا إِلَى بدْعَةٍ، فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّةٍ، فَقَدْ اهْتَدَى، وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ، فَقَدْ هَلَكَ"، قَالَ مُجَاهِدٌ: فَكَانَ عَبْدُ اللهِ عَمْرٍو حَيْثُ ضَعُفَ وَكَبِر، يَصُومُ الأيَّامَ كَذَلِكَ، يَصِلُ بَعْضَهَا إِلى بَعْضٍ، لِيَتَقَوَّى بَذَلِكَ، ثُمَّ يُفْطِرُ بِعَدَّ تِلْكَ الأيَّامِ، قَالَ: وَكَانَ يَقْرَأُ فِي كُلَّ حِزْبِهِ كَذَلِكَ، يزِيدُ أَحْيَانًا ويَنْقُصُ أَحْيَاناً، غَيْرَ أَنَّهُ يُوفِي الْعَدَدَ، إِمَّا فِي سَبْعٍ، وإِمَّا فِي ثَلاثَ، قَالَ: ثُمَّ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ: لان أَكُونَ قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ علَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عُدِلَ بِهِ أَوْ عَدَلَ، لَكِنَّي فَارَقْتُهُ عَلَى أَمْرٍ أَكْرَهُ أَنْ أُخَالِفَهُ إِلَى غَيْرِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میرے والد نے قریش کی ایک خاتون سے میری شادی کر دی میں جب اس کے پاس گیا تو عبادات میں مثلاً نماز، روزے کی طاقت اور شوق کی وجہ سے میں نے اس کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں کی، اگلے دن میرے والد سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنی بہو کے پاس آئے اور اس سے پوچھنے لگے کہ تم نے اپنے شوہر کو کیسا پایا؟ اس نے جواب دیا بہترین شوہر جس نے میرے سائے کی بھی جستجو نہ کی اور میرا بستر بھی نہ پہنچانا یہ سن کروہ میرے پاس آئے اور مجھے خوب ملامت کی اور زبان سے کاٹ کھانے کی باتیں کرتے ہوئے کہنے لگے کہ میں نے تیرا نکاح قریش کی ایک اچھے حسب نسب والی خاتون سے کیا اور تو نے اس لاپروائی کی اور یہ کیا اور یہ کیا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میری شکایت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلوایا میں حاضر خدمت ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کیا تم دن میں روزہ رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تم رات میں قیام کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لیکن میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں کے پاس بھی جاتا ہوں جو شخص میری سنت سے اعراض کرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کہ ہر مہینے میں صرف ایک قرآن پڑھا کرو میں نے عرض کیا کہ میں اپنے اندراس سے زیادہ طاقت محسوس کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر تین راتوں میں مکمل کر لیا کرو۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو میں نے عرض کیا میں اپنے اندراس سے زیادہ طاقت محسوس کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے مسلسل کچھ چھوٹ دیتے رہے یہاں تک کہ آخر میں فرمایا: پھر ایک دن روزہ رکھ لیا کرو اور ایک دن ناغہ کر لیا کرو۔ یہ بہترین روزہ ہے اور یہ میرے بھائی سیدنا داؤدعلیہ السلام کا طریقہ رہا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر عابد میں ایک تیزی ہوتی ہے اور ہر تیزی کا ایک انقطاع ہوتا ہے یا سنت کی طرف یا بدعت کی طرف جس کا انقطاع سنت کی طرف تو وہ ہدایت پا جاتا ہے اور جس کا انقطاع کسی اور چیز کی طرف ہو تو وہ ہلاک ہوجاتا ہے۔ مجاہدرحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بوڑھے اور کمزور ہو گئے تب بھی اسی طرح یہ روزے رکھتے رہے اور بعض اوقات کئی کئی روزے اکٹھے کر لیتے تاکہ ایک سے دوسرے کو تقویت رہے پھر اتنے دنوں کے شمار کے مطابق ناغہ کر لیتے اسی طرح قرآن کریم کی تلاوت میں بھی بعض اوقات کمی بیشی کر لیتے البتہ سات یا تین کا عددضرور پورا کرتے تھے اور بعد میں کہا کرتے تھے کہ اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رخصت کو قبول کر لیتا تو اس سے اعراض کر نے سے زیادہ مجھے پسند ہوتا لیکن اب مجھے یہ گوار انہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جس حال میں جدائی ہوئی ہو اس کی خلاف ورزی کروں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6477]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5052، م: 1159
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5052، م: 1159
حدیث نمبر: 6478 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِييدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ ، عبد اللهِ بْنِ عمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرنَيِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، عِنْ يَزِييدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عنْ عمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ عبد اللهِ بْنِ عمْرٍو ، قَالَ: سَمَعْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ الَّنار". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) ونَهَى عَنِ الْخَمْرِ، وَالْمَيَسِرِ، وَالْكُوبَةِ، والْغُبَيْرَاءِ، قَالَ:" وَكُلّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میری طرف نسبت کر کے کوئی ایسی بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئےنیز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شراب جوئے شطرنج اور چینا کی شراب کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا: ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6478]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عمرو بن الوليد مجهول
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عمرو بن الوليد مجهول
حدیث نمبر: 6479 مسند احمد
عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَاتُمِ بَنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، أبِي بَلْجٍ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَبْدِ الله بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ حَاتُمِ بَنُ أَبِي صَغِيرَةَ : عَنْ أبِي بَلْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ الله بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ علَيْهِ وِسَلَّمَ:" مَا عَلَى الأرضِ رَجُلٌ يَقُولُ: لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، إِلَّا كُفَّرَتْ عَنْهُ ذُنُوبُهُ، وَلَوْ كَانَتْ أَكْثرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: روئے زمین پر جو آدمی بھی یہ کہہ لے لاالہ الا اللہ اللہ اکبر، سبحان اللہ الحمدللہ لاحول ولاقوۃ الاباللہ، یہ جملے اس کے سارے گناہوں کا کفارہ بن جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6479]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، إلا أنه اختلف فى رفعه و وقفه، والموقوف أصح
الحكم: إسناده حسن، إلا أنه اختلف فى رفعه و وقفه، والموقوف أصح
حدیث نمبر: 6480 مسند احمد
عَارِمٌ ، مُعْتَمِرُ بْنُ سُليْمَانَ ، أَبِي ، الْحَضْرمِيُّ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّد ، عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُليْمَانَ ، قَالَ أَبِي : حَدَّثَنَا الْحَضْرمِيُّ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّد ، عنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا منْ المُسْلِمِينَ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللهِ صَلّّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلَّمَ فِي امْرَأة يُقًالُ لَهَا: أُمُّ مَهْزُولٍ، وَكَانَتْ تُسَافِحُ، وَتَشْتَرِطُ لَهُ أَنْ تُنْفِقَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَاسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيِْ وَسَلَّمَ، أَوْ ذَكَرَ لَهُ أَمْرهَا؟ قَالَ: فَقَرَأَ عَلَيْهِ نَبِي اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالزَّانِيَةُ لا يَنْكِحُهَا إِلا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ سورة النور آية 3".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ " ام مہزول " نامی ایک عورت تھی جو بدکاری کر تی تھی اور بدکاری کر نے والے سے اپنے نفقہ کی شرط کروا لیتی تھی ایک مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اس کے قریب ہونے کی اجازت لینے کے لئے آیا یا یہ کہ اس نے اس کا تذکر ہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ زانیہ عورت سے وہی نکاح کرتا ہے جو خود زانی ہو یا مشرک ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6480]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الحضرمي شيخ سليمان بن طرخان والد معتمر
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الحضرمي شيخ سليمان بن طرخان والد معتمر
حدیث نمبر: 6481 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدَ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنْ صَمَتَ نَجَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو خاموش رہا وہ نجات پا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6481]
حکم دارالسلام
حديث حسن
الحكم: حديث حسن
حدیث نمبر: 6482 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُف الْأَزْرَقُ ، سُفْيِانُ الثَّوْرِيُّ ، عَلقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، الْقَسِمِ يَعْنِي ابْنَ مُخَيْمرَةَ ، عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُف الْأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا سُفْيِانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَلقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ الْقَسِمِ يَعْنِي ابْنَ مُخَيْمرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وِسَلَّمَ، قَالَ:" مَا أَحَدٌ مِنَ النًَّاس يُصَابُ بِبِلَاء فِي جَسَدِهِ إِلَّا أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ يَحْفَظُونَهُ، فَقَالَ: اكْتُبُوا لعَبْدي كُلَّ يَوْم وَلَيْلَةٍ مَا كَانَ يَعْمَلُ مِنْ خَيْرٍ، مَا كَانَ فَي وِثَاقَي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں میں سے جس آدمی کو بھی جسمانی طور پر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اس کے محافظ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ میرا بندہ خیر کے جتنے بھی کام کرتا ہے وہ ہر دن رات لکھتے رہو تا وقتیکہ وہ میری حفاظت میں رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6482]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6483 مسند احمد
ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو ، قَالَ: كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عََهْدِ رَسُولِ اللهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ فَأَطَالَ الْقيَام، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَيْسَ بِرَاكِعٍ، ثُمَّ رَكَعَ، فَلَمْ يكَدْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَفَعَ، فَلَمْ يَكَدْ يَسْجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ، فَلَمْ يَكَدْ يَرَفَعُ رأْسَهًُ، ثُمَّ جَلَسَ، فَلَمْ يَكَدْ يَسَجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ، فَلَمْ يَكَدْ يَرَفْعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ فَعَلَ في الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ كَمَا فَعَلَ فِي الْأُولَى، وَجَعَلَ يَنْفُخُ في الْأَرْضِ، وَيَبْكِي، وَهُوَ سَاجِدٌ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانَيَةِ، وَجَعَلَ يَقُولُ:" رَبَّ لِمَ تُعَذَّبُهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ؟ رَبَّ لِمَ تُعَذَّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُكَ؟" فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ، وَقَضَى صَلَاتَهُ، فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مَنْ آيَاتِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا كَسَفَ أَحَدُهُمَا، فَافْزَعُوا إِلَى الْمَسَاجِدِ، فَوَالَّذي نَفْسَي بِيَدِهِ لَقَدْ عرضت عَلَيَّ الْجَنَّةُ، حَتَّى لَوْ أَشَاءُ لَتَعَاطَيْتُ بَعْضَ أَغْصَانِهَا، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، حَتَّى إِنَّي لَأُطْفئُهَا خَشْيَةَ أَنْ تَغْشَاكُمْ، وَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً مِنْ حَمْيَر، سَوْدَاءَ طُوَالَةً، تُعَذَّبُ بِهِرَّةً لَهَا تَرْبِطُهَا، فَلمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقْهَا، وَلَا تَدَعُهَا تَأْكُلُ مَنْ خَشَاشِ الْأرْضِ، كُلَّمَا أَقْبَلَتْ نَهَشَتْهَا، وَرَأَيْتُ فِيهَا أَخَا بَنِي دَعْدَعٍ، وَرَأَيْتُ صَاحبَ الْمحْجَنِ مُتَّكئاً فِي النَّارِ عَلَى مِحْجَنِهِ، كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بَمَحْجَنِهِ، فَإِذ عَلِمُوا بِهِ قَالَ: لَسْتُ أَسْرِقُكُمْ، إِنَّما تَعَلَّقّ بِمِحًجَنِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں سورج گرہن ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو ہم بھی ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اتنا طویل قیام کیا کہ ہمیں خیال ہونے لگا کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع نہیں کر یں گے پھر رکوع کیا تو رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے محسوس نہ ہوئے پھر رکوع سے سر اٹھایا تو سجدے میں جاتے ہوئے نہ لگے سجدے میں چلے گئے تو ایسا لگا کہ سجدے سے سر نہیں اٹھائیں گے پھر بیٹھے تو یوں محسوس ہوا کہ اب سجدہ نہیں کر یں گے پھر دوسرا سجدہ کیا تو اس سے سر اٹھاتے ہوئے محسوس نہ ہوئے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زمین پر پھونکتے جاتے تھے اور دوسری رکعت کے سجدے میں یہ کہتے جاتے تھے کہ پروردگار تو میری موجودگی میں انہیں عذاب دے گا؟ پروردگار ہماری طلب بخشش کے باوجود تو ہمیں عذاب دے گا؟ اس کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سر اٹھایا تو سورج گرہن ختم ہوچکا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی نماز مکمل فرمائی اور اللہ کی حمد وثناء کر نے کے بعد فرمایا: ۔ لوگو! سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں اگر ان میں سے کسی ایک کو گہن لگ جائے تو مسجدوں کی طرف ڈورو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا اور اسے میرے اتناقریب کر دیا گیا کہ اگر میں اس کی کسی ٹہنی کو پکڑنا چاہتا تو پکڑ لیتا اسی طرح جہنم کو بھی میرے سامنے پیش کیا گیا اور اسے میرے اتنا قریب کر دیا گیا کہ میں اسے بجھانے لگا اس خوف سے کہ کہیں وہ تم پر نہ آپڑے اور میں نے جہنم میں قبیلہ حمیر کی ایک عورت کو دیکھاجو سیاہ رنگت اور لمبے قد کی تھی اسے اس کی ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا جارہا تھا جسے اس نے باندھ رکھا تھا نہ خودا سے کھلایا پلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی وہ عورت جب بھی آگے بڑھتی تو جہنم میں وہی بلی اسے ڈستی اور اگر پیچھے ہٹتی تو اسے پیچھے سے ڈستی نیز میں نے وہاں بنو دعدع کے ایک آدمی کو بھی دیکھا اور میں نے لاٹھی والے کو بھی دیکھاجو جہنم میں اپنی لاٹھی سے ٹیک لگائے ہوئے تھا یہ شخص اپنی لاٹھی کے ذریعے حاجیوں کی چیزیں چرایا کرتا تھا اور جب حاجیوں کو پتہ چلتا تو کہہ دیتا کہ میں نے اسے چرایا تھوڑی ہے یہ چیز تو میری لاٹھی کے ساتھ چپک کر آگئی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6483]
حکم دارالسلام
حديث حسن
الحكم: حديث حسن
حدیث نمبر: 6484 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مَعْمَرٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى رَاحِلَتِهِ بِمِنًى، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أُرَى أَنَّ الْحَلْقَ قَبْلَ الذَّبْحِ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ؟ قَالَ:" اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ"، ثُمَّ جَاءَهُ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أُرَى أَنَّ الذَّبْحَ قَبْلَ الرَّمْيِ، فَذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ؟ فَقَالَ:" ارْمِ وَلَا حَرَجَ"، قَالَ: فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ قَدَّمَهُ رَجُلٌ قَبْلَ شَيْءٍ، إِلَّا قَالَ:" افْعَلْ وَلَا حَرَجَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے میدان منٰی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی سواری پر کھڑے ہوئے دیکھا اسی اثنا میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں یہ سمجھتا تھا کہ حلق قربانی سے پہلے ہے اس لئے میں نے قربانی کر نے سے پہلے حلق کروالیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جاکر قربانی کر لو کوئی حرج نہیں ایک دوسرا آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں یہ سمجھتا تھا کہ قربانی رمی سے پہلے ہے اس لئے میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اب جا کر رمی کر لو کوئی حرج نہیں ہے اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس نوعیت کا جو سوال بھی پوچھا گیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا جواب میں یہی فرمایا: اب کر لو کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6484]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 124، م: 1306
الحكم: إسناده صحيح، خ: 124، م: 1306
حدیث نمبر: 6485 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْمُقْسِطِينَ فِي الدُّنْيَا عَلَى مَنَابِرَ مِنْ لُؤْلُؤٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْنَ يَدَيْ الرَّحْمَنِ، بِمَا أَقْسَطُوا فِي الدُّنْيَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دنیا میں عدل و انصاف کر نے والے قیامت کے دن اپنے اس عدل و انصاف کی برکت سے رحمان کے سامنے موتیوں کے منبر پر جلوہ افروز ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6485]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1827
الحكم: إسناده صحيح، م: 1827
حدیث نمبر: 6486 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ ، أَنُّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي يَقُولُ:" بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً، وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میری طرف سے آگے پہنچادیا کرو خواہ ایک آیت ہی ہو بنی اسرائیل کی باتیں بھی ذکر کر سکتے ہو کوئی حرج نہیں اور جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں تیار کر لینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6486]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3461
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3461
حدیث نمبر: 6487 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، شُعْبَةَ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ، وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ، فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، أَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ، فَقَطَعُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ، فَبَخِلُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ، فَفَجَرُوا". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ"، فَقَامَ ذَاكَ أَوْ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَال:" أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ وَالْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ: هِجْرَةُ الْحَاضِرِ وَالْبَادِي، فَهِجْرَةُ الْبَادِي أَنْ يُجِيبَ إِذَا دُعِيَ، وَيُطِيعَ إِذَا أُمِرَ، وَالْحَاضِرِ أَعْظَمُهُمَا بَلِيَّةً، وَأَفْضَلُهُمَا أَجْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن ظلم اندھیوں کی صورت میں ہو گا۔ بےحیائی سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اللہ کو بےتکلف یا بتکلف کسی نوعیت کی بےحیائی پسند نہیں بخل سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو بھی ہلاک کر دیا تھا اسی بخل نے انہیں قطع رحمی کا راستہ دکھایا سو انہوں نے رشتے ناطے توڑ دئیے اسی بخل نے انہیں اپنی دولت اور چیزیں اپنے پاس سمیٹ کر رکھنے کا حکم دیا سوا نہوں نے ایساہی کیا اسی بخل نے انہیں گناہوں کا راستہ دکھایا سو وہ گناہ کر نے لگے۔ اسی دوران ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ! کون سا اسلام افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ دوسرے مسلمان تمہاری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں ایک اور آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ! کون سی ہجرت افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کہ تم ان چیزوں کو چھوڑ دو جو تمہارے رب کو ناگوار گزریں اور ہجرت کی دو قسمیں ہیں شہری کی ہجرت اور دیہاتی کی ہجرت دیہاتی کی ہجرت تو یہ ہے کہ جب اسے دعوت ملے تو قبول کر لے اور جب حکم ملے تو اس کی اطاعت کرے اور شہری کی آزمائش بھی زیادہ ہوتی ہے اور اس کا اجر بھی زیادہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6487]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6484
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6484
حدیث نمبر: 6488 مسند احمد
الْوَلِيدُ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَرْبَعُونَ حَسَنَةً، أَعْلَاهَا مِنْحَةُ الْعَنْزِ، لَا يَعْمَلُ عَبْدٌ، أَوْ قَالَ: رَجُلٌ بِخَصْلَةٍ مِنْهَا، رَجَاءَ ثَوَابِهَا وتَصْدِيقَ مَوْعُودِهَا، إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چالیس نیکیاں جن میں سے سب سے اعلیٰ نیکی بکر ی کا تحفہ ہے ایسی ہیں کہ جو شخص ان میں سے کسی ایک نیکی پر اس کے ثواب کی امید اور اللہ کے وعدے کو سچا سمجھتے ہوئے عمل کر لے اللہ اسے جنت میں داخلہ عطا فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6488]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2631
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2631
حدیث نمبر: 6489 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ؟ قَالَ:" ارْمِ وَلَا حَرَجَ"، وَقَالَ: مَرَّةً قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ؟ فَقَالَ:" اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ"، قَالَ: ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ؟ قَالَ:" ارْمِ وَلَا حَرَجَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (میں نے میدان منٰی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی سواری پر کھڑے ہوئے دیکھا اسی اثناء میں) ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ!! میں نے رمی کر نے سے پہلے حلق کرو الیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جا کر رمی کر لو کوئی حرج نہیں ایک دوسرا آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں یہ سمجھتا تھا کہ قربانی رمی سے پہلے ہے اس لئے میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اب جا کر رمی کر لو کوئی حرج نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6489]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 124، م: 1306
الحكم: إسناده صحيح، خ: 124، م: 1306
حدیث نمبر: 6490 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُهُ، قَالَ: جِئْتُ لِأُبَايِعَكَ عَلَى الْهِجْرَةِ، وَتَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ، قَالَ:" فَارْجِعْ إِلَيْهِمَا، فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہجرت پر آپ سے بیعت کر نے کے لئے آیاہوں اور (میں نے بڑی قربانی دی ہے کہ) اپنے والدین کو روتا ہوا چھوڑ کر آیا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: واپس جاؤ اور جیسے انہیں رلایا ہے اسی طرح انہیں ہنساؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6490]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6491 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرًا ، عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعْتُ عَمْرًا ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ ، سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَهُ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کے نزدیک روزہ رکھنے کا سب سے زیادہ پسندیدہ طریقہ سیدنا داؤدعلیہ السلام کا ہے اسی طرح ان کی نماز ہی اللہ سب سے زیادہ پسند ہے وہ آدھی رات تک سوتے تھے تہائی رات تک قیام کرتے تھے اور چھٹاحصہ پھر آرام کرتے تھے اسی طرح ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6491]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1131، م: 1159
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1131، م: 1159
حدیث نمبر: 6492 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُقْسِطُونَ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دنیا میں عدل و انصاف کر نے والے قیامت کے دن اپنے اس عدل و انصاف کی برکت سے رحمان کے دائیں ہاتھ موتیوں کے منبر پر جلوہ افروز ہوں گے اور رحمان کے دونوں ہاتھ ہی سیدھے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6492]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1827
الحكم: إسناده صحيح، م: 1827
حدیث نمبر: 6493 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَكَانَ عَلَى رَحْلِ وَقَالَ مَرَّةً: عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: كِرْكِرَةُ، فَمَاتَ، فَقَالَ:" هُوَ فِي النَّارِ"، فَنَظَرُوا فَإِذَا عَلَيْهِ عَبَاءَةٌ قَدْ غَلَّهَا، وَقَالَ مَرَّةً: أَوْ كِسَاءٌ قَدْ غَلَّهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سازو سامان کی حفاظت پر " کر کر ہ " نامی ایک آدمی مامور تھا اس کا انتقال ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنم میں ہے صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے تلاش کیا تو اس کے پاس سے ایک عباء نکلی جو اس نے مال غنیمت سے چرائی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6493]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3074
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3074
حدیث نمبر: 6494 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، أَبِي قَابُوسَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي قَابُوسَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمْ الرَّحْمَنُ، ارْحَمُوا أَهْلَ الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ أَهْلُ السَّمَاءِ، وَالرَّحِمُ شُجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ، مَنْ وَصَلَهَا، وَصَلَتْهُ، وَمَنْ قَطَعَهَا، بَتَّتْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رحم کر نے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے تم اہل زمین پر رحم کرو تم پر اہل سماء رحم کر یں گے رحم رحمان کی ایک شاخ ہے جو اسے جوڑتا ہے یہ اسے جوڑتا ہے اور جو اسے توڑتا ہے یہ اسے پاش پاش کر دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6494]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره
الحكم: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 6495 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان کے گناہگار ہونے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو ضائع کر دے جن کی روزی کا وہ ذمہ دارہو۔ (مثلاً ضعیف والدین اور بیوی بچے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6495]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6496 مسند احمد
سُفْيَانُ ، دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ شَابُورَ ، وَبَشِيرٍ أبي إسماعيل ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ شَابُورَ ، وَبَشِيرٍ أبي إسماعيل ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پڑوسی کے متعلق سیدنا جبرائیل (علیہ السلام) مجھے مسلسل وصیت کرتے رہے حتیٰ کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وارث قرار دے دیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6496]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح