بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 626
صفحہ 31 از 32
حدیث نمبر: 7078 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْأَعْمَشِ ، عُثْمَانُ بْنُ قَيْسٍ ، أَبِي حَرْبٍ الدَّيْلِيِّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي حَرْبٍ الدَّيْلِيِّ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَظَلَّتْ الْخَضْرَاءُ، وَلَا أَقَلَّتْ الْغَبْرَاءُ، مِنْ رَجُلٍ أَصْدَقَ لَهْجَةً مِنْ أَبِي ذَرٍّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے روئے زمین پر اور آسمان کے سائے تلے ابوذر رضی اللہ عنہ زیادہ سچا آدمی کوئی نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7078]
حکم دارالسلام
حسن لغيره.
الحكم: حسن لغيره.
حدیث نمبر: 7079 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، زُهَيْرٌ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذُكِرَتْ الْأَعْمَالُ، فَقَالَ:" مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ فِيهِنَّ أَفْضَلُ مِنْ هَذِهِ الْعَشْرِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الْجِهَادُ؟ قَالَ: فَأَكْبَرَهُ، قَالَ:" وَلَا الْجِهَادُ، إِلَّا أَنْ يَخْرُجَ رَجُلٌ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ تَكُونَ مُهْجَةُ نَفْسِهِ فِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ اعمال کا تذکر ہ ہونے لگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان دس ایام کے علاوہ کسی اور دن میں اللہ کو نیک اعمال اتنے زیادہ پسند نہیں جتنے ان ایام میں ہیں کسی نے پوچھا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں فرمایا: ہاں! جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال لے کر نکلا اور واپس نہ آسکا یہاں تک کہ اس کا خون بہادیا گیا (راوی کہتے ہیں کہ " ان ایام " سے مرادعشرہ ذی الحجہ ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7079]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره.
الحكم: صحيح لغيره.
حدیث نمبر: 7080 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبُو بَكْرٍ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، السَّائِبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَسَفَتْ الشَّمْسُ،" فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ مِثْلَ قِيَامِهِ، ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ رُكُوعِهِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَذَلِكَ، ثُمَّ سَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو سورج کو گہن لگ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور طویل قیام کیا پھر قیام کے برابر رکوع کیا تو پھر رکوع کے برابر سجدہ کیا اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا اور سلام پھیر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7080]
حکم دارالسلام
حديث صحيح.
الحكم: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 7081 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا أُبَالِي مَا أَتَيْتُ أَوْ مَا رَكِبْتُ إِذَا أَنَا شَرِبْتُ تِرْيَاقًا، أَوْ تَعَلَّقْتُ تَمِيمَةً، أَوْ قُلْتُ الشِّعْرَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اگر میں نے زہر کو دور کر نے کا تریاق پی رکھا ہو یا گلے میں تعویذ لٹکا رکھا ہو یا ازخود کوئی شعر کہا ہو تو مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7081]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عبد الرحمن بن رافع التنوخي، قال البخاري: فى حديثه مناكير.
الحكم: إسناده ضعيف، عبد الرحمن بن رافع التنوخي، قال البخاري: فى حديثه مناكير.
حدیث نمبر: 7082 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَيْوَةُ ، رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ رَأَى فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ، فَقَالَ لَهَا:" يا فاطمة، مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتِ؟" قَالَتْ: أَقْبَلْتُ مِنْ وَرَاءِ جَنَازَةِ هَذَا الرَّجُلِ، قَالَ:" فَهَلْ بَلَغْتِ مَعَهُمْ الْكُدَى؟" قَالَتْ: لَا، وَكَيْفَ أَبْلُغُهَا وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْكَ مَا سَمِعْتُ؟ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ بَلَغْتِ مَعَهُمْ الْكُدَى مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ، حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نظر ایک خاتون پر پڑی ہم نہیں سمجھتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پہچان لیا ہو گا جب ہم راستے کی طرف متوجہ ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہیں ٹھہر گئے جب وہ خاتون وہاں پہنچی تو پتہ چلا کہ وہ سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہ تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا فاطمہ! تم اپنے گھر سے کسی کام سے نکلی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں اس گھر میں رہنے والوں کے پاس آئی تھی یہاں ایک فوتگی ہو گئی تھی تو میں نے سوچا کہ ان سے تعزیت اور مرنے والے کی دعاء رحمت کر آؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کہ پھر تم ان کے ساتھ قبر ستان بھی گئی ہو گی؟ انہوں نے عرض کیا معاذاللہ کہ میں ان کے ساتھ قبرستان جاؤں جبکہ میں نے اس کے متعلق آپ سے جو سن رکھا ہے وہ مجھے یاد بھی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ان کے ساتھ چلی جاتیں تو تم جنت کو دیکھ بھی نہ پاتیں یہاں تک کہ تمہارے باپ کا دادا اسے دیکھ لیتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7082]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ربيعة بن سبف المعافري.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ربيعة بن سبف المعافري.
حدیث نمبر: 7083 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ، أَبِي ، عِيسَى بْنَ هِلَالٍ الصَّدَفِيَّ ، وَأَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عِيسَى بْنَ هِلَالٍ الصَّدَفِيَّ ، وَأَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولَانِ: سَمِعْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" سَيَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي رِجَالٌ يَرْكَبُونَ عَلَى السُّرُوجِ، كَأَشْبَاهِ الرّحالِ يَنْزِلُونَ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، نِسَاؤُهُمْ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ، عَلَى رُءُوسِهِمْ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْعِجَافِ، الْعَنُوهُنَّ، فَإِنَّهُنَّ مَلْعُونَاتٌ، لَوْ كَانَتْ وَرَاءَكُمْ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَخَدَمْنَ نِسَاؤُكُمْ نِسَاءَهُمْ، كَمَا يَخْدِمْنَكُمْ نِسَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کے آخر میں ایسے لوگ بھی آئیں گے جو مردوں سے مشابہ زینوں پر سوار ہو کر آیاکر یں گے اور مسجدوں کے دروازوں پر اترا کر یں گے ان کی عورتیں کپڑے پہننے کے باوجود برہنہ ہوں گی ان کے سروں پر بختی اونٹوں کی طرح جھولیں ہوں گی تم ان پر لعنت بھیجنا کیونکہ ایسی عورتیں ملعون ہیں اگر تمہارے بعد کوئی اور امت ہوتی تو تمہاری عورتیں ان کی عورتوں کی اسی طرح خدمت کر تیں جیسے تم سے پہلے عورتیں تمہاری خدمت کر رہی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7083]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عبد الله بن عياش بن عباس القتباني ضعيف.
الحكم: إسناده ضعيف، عبد الله بن عياش بن عباس القتباني ضعيف.
حدیث نمبر: 7084 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، أَبُو الْأَسْوَدِ ، عِكْرِمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ مَظْلُومًا فَلَهُ الْجَنَّةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا ظلماً مارآ جائے اس کے لئے جنت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7084]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2480.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2480.
حدیث نمبر: 7085 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ سَامِعَ خَلْقِهِ، وَحَقَّرَهُ وَصَغَّرَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے عمل کے ذریعے لوگوں میں شہرت حاصل کرنا چاہتا ہے اللہ اسے اس کے حوالے کر دیتا ہے اور اسے ذلیل و رسوا کر دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7085]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7086 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، زَكَرِيَّا ، عَامِرٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے کہ جو اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں کو ترک کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7086]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ:6484.
الحكم: إسناده صحيح، خ:6484.
حدیث نمبر: 7087 مسند احمد
عَارِمٌ ، مُعْتَمِرٌ ، أَبِيهِ ، أَبُو الْعَلَاءِ ، مُطَرِّفٍ ، ابْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: ذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّوْمَ، فَقَالَ:" صُمْ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا، وَلَكَ أَجْرُ التِّسْعَةِ"، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" فَصُمْ مِنْ كُلِّ تِسْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا، وَلَكَ أَجْرُ الثَّمَانِيَةِ"، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" صُمْ مِنْ كُلِّ ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا، وَلَكَ أَجْرُ تِلْكَ السَّبْعَةِ"، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، قَالَ فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى قَالَ:" صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے روزے کے حوالے سے کوئی حکم دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھو تو نو کا ثواب ملے گا میں نے اس میں اضافے کی درخواست کی تو فرمایا: دو دن روزہ رکھو تمہیں آٹھ کا ثواب ملے گا میں نے مزید اضافے کی درخواست کی تو فرمایا: تین روزے رکھو تمہیں سات روزوں کا ثواب ملے گا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسلسل کمی کرتے رہے حتیٰ کے آخر میں فرمایا: روزہ رکھنے کا سب سے افضل طریقہ سیدنا داؤد علیہ السلام کا ہے اس لئے ایک دن ورزہ رکھا کرو اور ایک دن ناغہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7087]
حکم دارالسلام
هذا الإسناد فيه جهالة ابن أبى ربيعة، لكنه يستقيم دونه، وهو صحيح بغير هذه السياقة.
الحكم: هذا الإسناد فيه جهالة ابن أبى ربيعة، لكنه يستقيم دونه، وهو صحيح بغير هذه السياقة.
حدیث نمبر: 7088 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" عَقْلُ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظَةٌ، مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ، وَلَا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ، وَمَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا، وَلَا رَصَدَ بِطَرِيقٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قتل شبہ عمد کی دیت مغلظ ہے جیسے قتل عمد کی دیت ہوتی ہے البتہ شبہ عمد میں قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا اور جو ہم پر اسلحہ اٹھاتا ہے یا راستہ میں گھات لگاتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7088]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7089 مسند احمد
أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، الْمُثَنَّى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي مَلَائِكَتَهُ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِأَهْلِ عَرَفَةَ، فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي، أَتَوْنِي شُعْثًا غُبْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ عرفہ کی شام اہل عرفہ کے ذریعے اپنے فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے ان بندوں کو دیکھو جو میرے پاس پرا گندہ حال اور غبار آلود ہو کر آئے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7089]
حکم دارالسلام
إسناده لابأس به.
الحكم: إسناده لابأس به.
حدیث نمبر: 7090 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قُتِلَ خَطَأً، فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، ثَلَاثُونَ ابْنَةَ مَخَاضٍ، وَثَلَاثُونَ ابْنَةَ لَبُونٍ، وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً، وَعَشَرَةُ بَنِي لَبُونٍ ذُكْرَانٍ"، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُقَوِّمُهَا عَلَى أَثْمَانِ الْإِبِلِ، فَإِذَا هَانَتْ نَقَصَ مِنْ قِيمَتِهَا، وَإِذَا غَلَتْ، رَفَعَ فِي قِيمَتِهَا، عَلَى نَحْوِ الزَّمَانِ مَا كَانَتْ، فَبَلَغَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ أَرْبَعِ مِائَةِ دِينَارٍ إِلَى ثَمَانِ مِائَةِ دِينَارٍ، أَوْ عِدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ، ثَمَانِيَةَ آلَافٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خطاء قتل ہونے والے کی دیت سو اونٹ ہے جن میں ٣٠ بنت مخاض ٣٠ بنت لبون ٣٠ حقے اور دس ابن لبون مذکر اونٹ شامل ہوں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شہروالوں پر اس کی قیمت چار سو دیناریا اس کے برابر چاندی مقرر فرماتے تھے اور قیمت کا تعین اونٹوں کی قیمت کے اعتبار سے کرتے تھے جب اونٹوں کی قیمت بڑھ جاتی تو دیت کی مقدار مذکور میں اضافہ فرما دیتے اور جب کم ہوجاتی تو اس میں بھی کمی فرما دیتے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں یہ قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینارتک بھی پہنچی ہے اور اس کے برابر چاندی کی قیمت آٹھ ہزار درہم تک پہنچی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7090]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7091 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" قَضَى أَنَّ الْعَقْلَ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَةِ الْقَتِيلِ، عَلَى فَرَائِضِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا: ہے کہ دیت کا مال مقتول کے ورثاء کے درمیان ان کے حصوں کے تناسب سے تقسیم ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7091]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7092 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" قَضَى فِي الْأَنْفِ إِذَا جُدِعَ كُلُّهُ الدِّيَةَ كَامِلَةً، وَإِذَا جُدِعَتْ أَرْنَبَتُهُ نِصْفَ الدِّيَةِ، وَفِي الْعَيْنِ نِصْفَ الدِّيَةِ، وَفِي الْيَدِ نِصْفَ الدِّيَةِ، وَفِي الرِّجْلِ نِصْفَ الدِّيَةِ، وَقَضَى أَنْ يَعْقِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ عَصَبَتُهَا مَنْ كَانُوا، وَلَا يَرِثُوا مِنْهَا إِلَّا مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِهَا، وَإِنْ قُتِلَتْ، فَعَقْلُهَا بَيْنَ وَرَثَتِهَا، وَهُمْ يَقْتُلُونَ قَاتِلَهَا، وَقَضَى أَنَّ عَقْلَ أهل الكتاب نِصْفُ عَقْلِ الْمُسْلِمِينَ وَهُمْ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ناک کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا: کہ اگر اسے مکمل طور پر کاٹ دیا جائے تو پوری دیت واجب ہو گی اور اگر صرف نرم حصہ کاٹا ہو تو نصف دیت واجب ہو گی ایک آنکھ کی دیت نصف قرار دی ہے یعنی پچاس اونٹ یا اس کے برابر سونا چاندی یا سو گائے یا ہزاربکر یاں، نیز ایک پاؤں کی دیت بھی نصف اور ایک ہاتھ کی دیت بھی نصف قرار دی ہے۔ اور یہ فیصلہ فرمایا: ہے کہ عورت کی جانب سے اس کے عصبہ دیت ادا کر یں گے خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور وہ چیز کے وراث ہوں گے جو اس کی وراثت میں سے باقی بچے گی اور اگر کسی نے عورت کو قتل کر دیا ہو تو اس کی دیت اس کے ورثاء میں تقسیم کی جائے گی اور وہ اس کے قاتل کو قتل کر سکیں گے نیز یہ فیصلہ بھی فرمایا: کہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کی دیت مسلمانوں کی دیت سے نصف ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7092]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7093 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ ، أَبَا الْوَازِعِ جَابِرَ بْنَ عَمْرٍو ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ ، سَمِعْتُ أَبَا الْوَازِعِ جَابِرَ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ قَوْمٍ جَلَسُوا مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ، إِلَّا رَأَوْهُ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اس میں اللہ کا ذکر نہ کر یں قیامت کے دن وہ اس پر حسرت و افسوس کر یں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7093]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن على خطأ فى تسمية صحابيه.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن على خطأ فى تسمية صحابيه.
حدیث نمبر: 7094 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الرَّجُلِ يَدْخُلُ الْحَائِطَ؟ قَالَ:" يَأْكُلُ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص کسی باغ میں داخل ہو کر خوشوں سے توڑ کر پھل چوری کر لے تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس نے جو پھل کھا لئے اور انہیں چھپا کر نہیں رکھا ان پر کوئی چیز واجب نہیں ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7094]
حکم دارالسلام
حديث حسن.
الحكم: حديث حسن.
حدیث نمبر: 7095 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَضَّاحِ ، الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، حَنَانُ بْنُ خَارِجَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَضَّاحِ ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حَنَانُ بْنُ خَارِجَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَوِيٌّ جَرِيءٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا عَنِ الْهِجْرَةِ، إِلَيْكَ أَيْنَمَا كُنْتَ، أَوْ لِقَوْمٍ خَاصَّةً، أَمْ إِلَى أَرْضٍ مَعْلُومَةٍ، أَمْ إِذَا مُتَّ انْقَطَعَتْ؟ قَالَ: فَسَكَتَ عَنْهُ يَسِيرًا، ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ؟" قَالَ: هَا هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" الْهِجْرَةُ أَنْ تَهْجُرَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، ثُمَّ أَنْتَ مُهَاجِرٌ وَإِنْ مُتَّ بِالْحَضَرِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) ثُمَّ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، ابْتِدَاءً مِنْ نَفْسِهِ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنَا عَنْ ثِيَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، خَلْقًا تُخْلَقُ، أَمْ نَسْجًا تُنْسَجُ؟ فَضَحِكَ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِمَّ تَضْحَكُونَ؟ مِنْ جَاهِلٍ يَسْأَلُ عَالِمًا؟!"، ثُمَّ أَكَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ؟" قَالَ: هُوَ ذَا أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" لَا، بَلْ تَشَقَّقُ عَنْهَا ثَمَرُ الْجَنَّةِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں ایک سخت طبیعت کا جری دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! آپ کی ہجرت کہاں کی جائے؟ آیا جہاں کہیں بھی آپ ہوں یا کسی معین علاقے کی طرف؟ یا یہ حکم ایک خاص قوم کے لئے ہے یا یہ کہ آپ کے وصال کے بعد ہجرت منقطع ہو جائے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تھوڑی دیرتک سکوت فرمایا: پھر پوچھا کہ ہجرت کے متعلق سوال کر نے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ!! میں یہاں ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو تو تم مہاجر ہو خواہ تمہاری موت حضرمہ جو یمامہ کا ایک علاقہ ہے ہی میں آئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے خود ابتداء کرتے ہوئے فرمایا: کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ!! یہ بتائیے کہ جنتیوں کے کپڑے بنے جائیں گے یا جنت کا پھل چیر کر نکالے جائیں گے؟ لوگوں کو اس دیہاتی کے سوال پر تعجب ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس بات پر تعجب ہو رہا ہے ایک ناواقف آدمی ایک عالم سے سوال کر رہا ہے۔ پھر تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا: اہل جت کے کپڑوں کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ میں یہاں ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: کہ اہل جنت کے کپڑے جنت کے پھل سے چیر کر نکالے جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7095]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، حنان بن خارجة مجهول الحال.
الحكم: إسناده ضعيف، حنان بن خارجة مجهول الحال.
حدیث نمبر: 7096 مسند احمد
مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، الْحَجَّاجُ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ مُثِّلَ بِهِ أَوْ حُرِّقَ بِالنَّارِ، فَهُوَ حُرٌّ، وَهُوَ مَوْلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ"، قَالَ: فَأُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ خُصِيَ، يُقَالُ لَهُ: سَنْدَرٌ، فَأَعْتَقَهُ، ثُمَّ أَتَى أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَنَعَ إِلَيْهِ خَيْرًا، ثُمَّ أَتَى عُمَرَ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ، فَصَنَعَ إِلَيْهِ خَيْرًا، ثُمَّ إِنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى مِصْرَ، فَكَتَبَ لَهُ عُمَرُ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنْ اصْنَعْ بِهِ خَيْرًا، أَوْ احْفَظْ وَصِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کا مثلہ کیا جائے یا آگ میں جلا دیا جائے وہ آزاد ہے اور اللہ اور اس کے رسول کا آزاد کر دہ ہے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سندر نامی ایک آدمی کو لایا گیا جسے خصی کر دیا گیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے آزاد کر دیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہو گیا تو وہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت کا ذکر کیا انہوں نے اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا پھر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو وہ پھر آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت کا ذکر کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا فرمایا: ہاں! تم کہاں جانا چاہتے ہو؟ اس نے مصر جانا چاہا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گورنر سیدنا عمرو بن عاص کے نام اس مضمون کا خط لکھ دیا کہ اس کے ساتھ اچھاسلوک کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت یاد رکھنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7096]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحجاج.
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحجاج.
حدیث نمبر: 7097 مسند احمد
مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، الْحَجَّاجُ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يَغِيبُ لَا يَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ أَيُجَامِعُ أَهْلَهُ، قَالَ:" نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! ایک آدمی غائب رہتا ہے وہ پانی استعمال کر نے پر بھی قدرت نہیں رکھتا کیا وہ اپنی بیوی سے ہم بستری کر سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7097]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحجاج.
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحجاج.