بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 626
صفحہ 4 از 32
حدیث نمبر: 6537 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامٌ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی احسان جتانے والا اور کوئی عادی شرابی جنت میں داخل نہ ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6537]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، علته جابان، فهو مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، علته جابان، فهو مجهول
حدیث نمبر: 6538 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْعَوَّامُ ، أَسْوَدُ بْنُ مَسْعُودٍ ، حَنْظَلَةَ بْنِ خُوَيْلِدٍ الْعَنْزِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، حَدَّثَنِي أَسْوَدُ بْنُ مَسْعُودٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ خُوَيْلِدٍ الْعَنْزِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي رَأْسِ عَمَّارٍ، يَقُولُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: أَنَا قَتَلْتُهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : لِيَطِبْ بِهِ أَحَدُكُمَا نَفْسًا لِصَاحِبِهِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ"، قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا بَالُكَ مَعَنَا؟! قَالَ: إِنَّ أَبِي شَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَطِعْ أَبَاكَ مَا دَامَ حَيًّا وَلَا تَعْصِهِ"، فَأَنَا مَعَكُمْ، وَلَسْتُ أُقَاتِلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حنظلہ بن خولید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا دو آدمی ان کے پاس ایک جھگڑا لے کر آئے ان میں سے ہر ایک کا دعوی یہ تھا کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو اس نے شہید کیا ہے سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ تمہیں چاہئے ایک دوسرے کو مبارکباد دو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا سیدہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے پھر آپ ہمارے ساتھ کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے فرمایا: کہ ایک مرتبہ میرے والد صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے میری شکایت کی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تھا زندگی بھر اپنے باپ کی اطاعت کرنا اس کی نافرمانی نہ کرنا اس لے میں آپ کے ساتھ تو ہوں لیکن لڑائی میں شریک نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6538]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6539 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ مَوْلَى بَنِي الدِّيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ يَجْتَهِدُونَ فِي الْعِبَادَةِ اجْتِهَادًا شَدِيدًا، فَقَالَ" تِلْكَ ضَرَاوَةُ السلام وَشِرَّتُهُ، وَلِكُلِّ ضَرَاوَةٍ شِرَّةٌ، وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ، فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى اقْتِصَادٍ وَسُنَّةٍ فَلِأُمٍّ مَا هُوَ، وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى الْمَعَاصِي، فَذَلِكَ الْهَالِكُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے چند کا تذکر ہ کیا گیا جو عبادت میں خوب محنت کیا کرتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ اسلام کا جھاگ ہے اور ہر جھاگ کی تیزی ہوتی ہے اور ہر تیزی کا انقطاع ہوجاتا ہے جس تیزی کا اختتام اور انقطاع میانہ روی اور سنت پر ہو تو مقصد پورا ہو گیا اور جس کا اختتام معاصی اور گناہوں کی طرف ہو تو وہ شخص ہلاک ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6539]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6540 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ ، أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ مَوْلَى بَنِي الدِّيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ يَنْصَبُونَ فِي الْعِبَادَةِ مِنْ أَصْحَابِهِ نَصَبًا شَدِيدًا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تِلْكَ ضَرَاوَةُ الْإِسْلَامِ وَشِرَّتُهُ، وَلِكُلِّ ضَرَاوَةٍ شِرَّةٌ، وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ، فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ فَلِأُمٍّ مَا هُوَ، وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى مَعَاصِي اللَّهِ، فَذَلِكَ الْهَالِكُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چند لوگوں کا تذکر ہ کیا جو عبادت میں خوب محنت کیا کرتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ اسلام کا جھاگ ہے اور ہر جھاگ کی تیزی ہوتی ہے اور ہر تیزی کا انقطاع ہوجاتا ہے جس تیزی کا اختتام اور انقطاع میانہ روی اور سنت پر ہو تو مقصد پورا ہو گیا اور جس کا اختتام معاصی اور گناہوں کی طرف ہو تو وہ شخص ہلاک ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6540]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6541 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَرِيزٌ ، حِبَّانُ الشَّرْعَبِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَرِيزٌ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ الشَّرْعَبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ:" ارْحَمُوا تُرْحَمُوا، وَاغْفِرُوا يَغْفِرْ اللَّهُ لَكُمْ، وَيْلٌ لِأَقْمَاعِ الْقَوْلِ، وَيْلٌ لِلْمُصِرِّينَ الَّذِينَ يُصِرُّونَ عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے برسرمنبریہ بات ارشاد فرمائی تم رحم کرو تم پر رحم کیا جائے گا معاف کرو تمہیں معاف کر دیا جائے ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو صرف باتوں کا ہتھیار رکھتے ہیں ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو اپنے گناہوں پر جانتے بوجھتے اصرار کرتے اور ڈٹے رہتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6541]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6542 مسند احمد
هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ ، حَرِيزٌ ، حِبَّانُ بْنُ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6542]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6543 مسند احمد
يَزِيدُ ، نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، بِشْرِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا يَعْلَمُ نَافِعٌ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ الْبَلِيغَ مِنَ الرِّجَالِ، الَّذِي يَتَخَلَّلُ بِلِسَانِهِ، كَمَا تَخَلَّلَ الْبَاقِرَةُ بِلِسَانِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کو وہ شخص انتہائی ناپسند ہے جو اپنی زبان کو اس طرح ہلاتارہتا ہے جیسے گائے جگالی کر تی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6543]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6544 مسند احمد
يَزِيدُ ، مِسْعَرٌ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ" أَحَيٌّ وَالِدَاكَ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جہاد میں شرکت کی اجازت لینے کے لئے آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے والدین حیات ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں فرمایا: جاؤ اور ان ہی میں جہاد کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6544]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2549
الحكم: إسناده صحيح، م: 2549
حدیث نمبر: 6545 مسند احمد
يَزِيدُ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَعَفَّانُ ، قَالَ يَزِيدُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عَفَّانُ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صُمْ يَوْمًا وَلَكَ عَشَرَةٌ"، قُلْتُ: زِدْنِي، قَالَ:" صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ تِسْعَةٌ"، قُلْتُ: زِدْنِي، قَالَ:" صُمْ ثَلَاثَةً وَلَكَ ثَمَانِيَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ایک دن روزہ رکھو تو دس کا ثواب ملے گا میں نے اس میں اضافے کی درخواست کی تو فرمایا: دو دن روزہ رکھو تمہیں نو کا ثواب ملے گا میں نے مزید اضافے کی درخواست کی تو فرمایا: تین روزے رکھو تمہیں آٹھ کا ثواب ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6545]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6546 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ:" اقْرَأْهُ فِي كُلِّ شَهْرٍ"، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" اقْرَأْهُ فِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ"، قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" اقْرَأْهُ فِي عِشْرِينَ"، قَال: قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" اقْرَأْهُ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ"، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" اقْرَأْهُ فِي عَشْرَةَ"، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ"، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" لَا يَفْقَهُهُ مَنْ يَقْرَؤُهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! میں کتنے دن میں ایک قرآن پڑھا کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک مہینے میں میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پچیس دن میں پڑھالیا کرو میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیس دن میں پڑھ لیا کرو میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پندرہ دن میں پڑھ لیا کرو میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دس دن میں پڑھ لیا کرو میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سات دن میں پڑھ لیا کرو میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص تین دن سے کم وقت میں قرآن پڑھتا ہے اس نے اسے سمجھا نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6546]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1159
الحكم: إسناده صحيح، م: 1159
حدیث نمبر: 6547 مسند احمد
يَزِيدُ ، فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى أُمَّتِي الْخَمْرَ، وَالْمَيْسِرَ، وَالْمِزْرَ، وَالْكُوبَةَ، وَالْقِنِّينَ، وَزَادَنِي صَلَاةَ الْوَتْرِ". قَالَ يَزِيدُ: الْقِنِّينُ: الْبَرَابِطُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ نے میری امت پر شراب جوا جو کی شراب شطرنج اور باجے حرام قرار دیئے ہیں اور مجھ میں پر نماز وتر کا اضافہ فرمایا: ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6547]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف فرج بن فضالة
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف فرج بن فضالة
حدیث نمبر: 6548 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ:" ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ"، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ، فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ:" ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ"، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ، فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ:" ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ"، قَالَ: قُلْتُ: فَأَيْنَ أَنَا؟ قَالَ:" أَنْتَ مَعَ أَبِيكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور اجازت طلب کی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اجازت بھی دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور اجازت طلب کی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اجازت بھی دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو میں نے عرض کیا کہ میں کہاں گیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے والد صاحب کے ساتھ ہو گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6548]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3674، م: 2403 عن أبى موسي الأشعري
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3674، م: 2403 عن أبى موسي الأشعري
حدیث نمبر: 6549 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مُتَّكِئًا قَطُّ، وَلَا يَطَأُ عَقِبَهُ رَجُلَانِ"، قَالَ عَفَّانُ: عَقِبَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی ٹیک لگا کر کھانا کھاتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے پیچھے دو آدمی چل رہے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6549]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6550 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، صُهَيْبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَامِرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ ذَبَحَ عُصْفُورًا أَوْ قَتَلَهُ فِي غَيْرِ شَيْءٍ"، قَالَ عَمْرٌو: أَحْسِبُهُ قَالَ:" إِلَّا بِحَقِّهِ، سَأَلَهُ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ناحق کسی چڑیا کو بھی مارے گا قیام کے دن اللہ تعالیٰ اس سے اس کی باز پرس کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6550]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة صهيب مولي ابن عامر
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة صهيب مولي ابن عامر
حدیث نمبر: 6551 مسند احمد
حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، صُهَيْبٍ الْحَذَّاءِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ عَفَّانُ: قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ صُهَيْبٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا سَأَلَهُ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا حَقُّهُ؟ قَالَ:" يَذْبَحُهُ ذَبْحًا، وَلَا يَأْخُذُ بِعُنُقِهِ فَيَقْطَعُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ناحق کسی چڑیا کو بھی مارے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے اس کی باز پرس کرے گا۔ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ!! حق کیا ہے؟ فرمایا: اسے ذبح کرے گردن سے نہ پکڑے کہ اسے توڑ ہی دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6551]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة صهيب الحذاء
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة صهيب الحذاء
حدیث نمبر: 6552 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَيُّوبَ ، الْقَاسِمَ بْنَ رَبِيعَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ رَبِيعَةَ حَدَّثَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ، قَتِيلَ السَّوْطِ أَوْ الْعَصَا، فِيهِ مِائَةٌ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: خطاء کی کوڑے یا لاٹھی سے مارے جانے والے کی دیت سو اونٹ ہے جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں بھی ہوں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6552]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6553 مسند احمد
مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ . وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْخَمْرُ إِذَا شَرِبُوهَا فَاجْلِدُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا شَرِبُوهَا، فَاجْلِدُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا شَرِبُوهَا، فَاجْلِدُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا شَرِبُوهَا، فَاقْتُلُوهُمْ، عِنْدَ الرَّابِعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے مارو دوبارہ پیئے تو پھر مارو سہ بارہ پیئے تو پھر مارو اور چوتھی مرتبہ فرمایا: کہ اسے قتل کر دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6553]
حکم دارالسلام
صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 6554 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ:" أَمَرَ فَاطِمَةَ، وَعَلِيًّا، إِذَا أَخَذَا مَضَاجِعَهُمَا، فِي التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ وَالتَّكْبِيرِ، لَا يَدْرِي عَطَاءٌ أَيُّهَا أَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَمَامُ الْمِائَةِ، قَالَ: فَقَالَ عَلَي: فَمَا تَرَكْتُهُنَّ بَعْدُ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ ابْنُ الْكَوَّاءِ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ؟ قَالَ عَلِيٌّ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا تھا کہ جب وہ اپنے بستر پر لیٹ جائیں تو سبحان للہ، الحمدللہ اور اللہ اکبر سو مرتبہ کہہ لیا کرو (راوی یہ بھول گئے کہ ان میں سے کون ساکلمہ ٣٤ مرتبہ کہنا ہے) سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس وقت سے یہ معمول اب تک کبھی ترک نہیں کیا ابن کوّاء نے پوچھا کہ جنگ صفین کی رات بھی نہیں فرمایا: ہاں! جنگ صفین کی رات کو بھی نہیں چھوڑا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6554]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6555 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، سَمِعْتُ رَجُلًا، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: إِنَّكَ تَقُولُ: إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَكُمْ شَيْئًا، إِنَّمَا قُلْتُ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا، كَانَ تَحْرِيقَ الْبَيْتِ، قَالَ شُعْبَةُ: هَذَا أَوْ نَحْوَهُ، ثُمّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي، فَيَلْبَث ُ فِيهِمْ أَرْبَعِينَ" لَا أَدْرِي، أَرْبَعِينَ يَوْمًا، أَوْ أَرْبَعِينَ سَنَةً، أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا؟" فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ، فَيَظْهَرُ، فَيطلُبَه، فَيُهْلِكُهُ، ثُمَّ يَلْبَثُ النَّاسُ بَعْدَهُ سِنِينَ سَبْعًا، لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ، فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ، حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ كَانَ فِي كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْ عَلَيْهِ"، قَالَ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ، فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ، وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا، وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا"، قَالَ:" فَيَتَمَثَّلُ لَهُمْ الشَّيْطَانُ، فَيَقُولُ: أَلَا تَسْتَجِيبُونَ؟ فَيَأْمُرُهُمْ بِالْأَوْثَانِ فَيَعْبُدُونَهَا، وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارَّةٌ أَرْزَاقُهُمْ، حَسَنٌ عَيْشُهُمْ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ، فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لَهُ، وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ رَجُلٌ يَلُوطُ، حَوْضَهُ فَيَصْعَقُ، ثُمَّ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا صَعِقَ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ أَوْ يُنْزِلُ اللَّهُ، مطْرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ، أَوْ الظِّلُّ، نُعْمَانُ الشَّاكُّ فَتَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى، فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ، قَالَ: ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ، وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ، قَالَ: ثُمَّ يُقَالُ: أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ، قَالَ: فَيُقَالُ: كَمْ؟ فَيُقَالُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ، فَيَوْمَئِذٍ يُبْعَثُ الْوِلْدَانُ شِيبًا، وَيَوْمَئِذٍ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ"، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ شُعْبَةُ مَرَّاتٍ، وَعَرَضْتُ عَلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یعقوب بن عاصم کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ یہ کہتے ہیں کہ قیامت اس طرح قائم ہو گی؟ انہوں نے فرمایا: میرا دل چاہتا ہے کہ تم کچھ بیان نہ کیا کرو میں نے یہ کہا تھا کہ کچھ عرصے بعد تم ایک بہت بڑا واقعہ بیت اللہ میں آگ لگنا دیکھو گے پھر فرمایا: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں دجال کا خروج ہو گا جوان میں چالیس رہے گا (راوی کو دن، سال یا مہینے کا لفظ یاد نہیں رہا) پھر اللہ تعالیٰ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجے گا جو سیدنا عمروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ کے مشابہہ ہوں گے وہ اسے تلاش کر کے قتل کر دیں گے۔ اس کے بعد سات سال تک لوگ اس طرح رہیں گے کہ کسی دو کے درمیان دشمنی نہ رہے گی پھر اللہ تعالیٰ شام کی جانب سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا اور وہ ہوا ہر اس شخص کی روح قبض کر لے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا حتی کہ اگر ان میں سے کوئی شخص کسی پہاڑ کے جگر میں جا کر چھپ جائے تو وہ ہوا وہاں بھی پہنچ جائے گی۔ اس کے بعد زمین پر بدترین لوگ رہ جائیں گے جو پرندوں اور چوپاؤں سے بھی زیادہ ہوں گے جو نیکی کو نیکی اور گناہ کو گناہ نہیں سمجھیں گے ان کے پاس شیطان انسانی صورت میں آئے گا اور انہیں کہے گا کہ میری دعوت کو کیوں قبول نہیں کرتے؟ اور انہیں بتوں کی پوجا کر نے کا حکم دے گا چنانچہ وہ ان کی عبادت کر نے لگیں گے اس دوران ان کا رزق خوب بڑھ جائے گا اور ان کی زندگی بہترین گزر رہی ہو گی کہ اچانک صور پھونک دیا جائے گا اس کی آواز جس کے کان میں بھی پہنچے گی وہ ایک طرف کو جھک جائے گا سب سے پہلے اس کی آوازوہ شخص سنے گا جو اپنے حوض کے کنارے صحیح کر رہا ہو گا اور بیہوش ہو کر گرپڑے گا پھر ہر شخص بیہوش ہو جائے گا اس کے بعد اللہ تعالیٰ آسمان سے موسلادھاربارش برسائے گا جس سے لوگوں کے جسم اگ آئیں گے پھر دوبارہ صور پھونک دیا جائے گا اور لوگ کھڑے ہو جائیں گے اور وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے۔ اس کے بعد کہا جائے گا کہ اے لوگو! اپنے رب کی طرف چلو اور وہاں پہنچ کر رک جاؤ تم سے باز پرس ہو گی پھر حکم ہو گا کہ جہنمی لشکر ان میں سے نکال لیا جائے پوچھا جائے گا کتنے لوگ؟ حکم ہو گا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے یہ وہ دن ہو گا جب بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور جب پنڈلی کو کھولآ جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6555]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2940
الحكم: إسناده صحيح، م: 2940
حدیث نمبر: 6556 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، مَيْمُونِ بْنِ أَسْتَاذَ الْهِزَّانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَسْتَاذَ الْهِزَّانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ لَبِسَ الذَّهَبَ مِنْ أُمَّتِي، فَمَاتَ وَهُوَ يَلْبَسُهُ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ ذَهَبَ الْجَنَّةِ، وَمَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ مِنْ أُمَّتِي، فَمَاتَ وَهُوَ يَلْبَسُهُ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ حَرِيرَ الْجَنَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں سے جو شخص سونا پہنتا ہے اور اسی حال میں مرجاتا ہے اللہ اس پر جنت کا سونا حرام قرار دے دیتا ہے اور میری امت میں سے جو شخص ریشم پہنتا ہے اور اسی حال میں مرجاتا ہے اللہ اس پر جنت کا ریشم حرام قرار دے دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6556]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح