بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 626
صفحہ 20 از 32
حدیث نمبر: 6857 مسند احمد
الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو شُجَاعٍ ، أَبِي السَّمْحِ ، عِيسَى بْنِ هِلَالٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَاه الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو شُجَاعٍ ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6857]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6858 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، أَبَا الْعَبَّاسِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ ، وَكَانَ رَجُلًا شَاعِرًا، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنَهُ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ:" أَحَيٌّ وَالِدَاكَ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ". قَالَ بَهْزٌ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جہاد میں شرکت کی اجازت لینے کے لئے آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے والدین حیات ہیں؟ اس نے کہا کہ جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور ان ہی میں جہاد کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6858]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5972، م: 2549
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5972، م: 2549
حدیث نمبر: 6859 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَظُنُّهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: شُعْبَةُ شَكَّ، قَامَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ:" فَهَلْ لَكَ وَالِدَانِ"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أُمِّي، قَالَ:" انْطَلِقْ فَبِرَّهَا"، قَالَ: فَانْطَلَقَ يَتَخَلَّلُ الرِّكَابَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں شرکت جہاد کی اجازت حاصل کے لئے حاضر ہوا اور کہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا کہ جی ہاں میری والدہ زندہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرو چنانچہ وہ سواریوں کے درمیان سے گزرتا ہوا چلا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6859]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عطاء والد يعلي مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، عطاء والد يعلي مجهول
حدیث نمبر: 6860 مسند احمد
بَهْزٌ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، رَجُلٌ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنَ الشَّامِ، وَكَانَ يَتْبَعُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَيَسْمَعُ، قَالَ كُنْتُ مَعَهُ فَلَقِيَ نَوْفًا، فَقَالَ: نَوْفٌ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِمَلَائِكَتِهِ:" ادْعُوا لِي عِبَادِي"، قَالُوا: يَا رَبِّ، كَيْفَ وَالسَّمَوَاتُ السَّبْعُ دُونَهُمْ، وَالْعَرْشُ فَوْقَ ذَلِكَ؟ قَالَ:" إِنَّهُمْ إِذَا قَالُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ اسْتَجَابُوا". (حديث قدسي) (حديث موقوف) قَالَ: قَالَ: يَقُولُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ أَوْ غَيْرَهَا، قَالَ: فَجَلَسَ قَوْمٌ أَنَا فِيهِمْ يَنْتَظِرُونَ الصَّلَاةَ الْأُخْرَى، قَالَ: فَأَقْبَلَ إِلَيْنَا يُسْرِعُ الْمَشْيَ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَفْعِهِ إِزَارَهُ، لِيَكُونَ أَحَثَّ لَهُ فِي الْمَشْيِ، فَانْتَهَى إِلَيْنَا، فَقَالَ:" أَلَا أَبْشِرُوا، هَذَاكَ رَبُّكُمْ أَمَرَ بِبَابِ السَّمَاءِ الْوُسْطَى أَوْ قَالَ: بِبَابِ السَّمَاءِ فَفُتِحَ، فَفَاخَرَ بِكُمْ الْمَلَائِكَةَ، قَالَ: انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي، أَدَّوْا حَقًّا مِنْ حَقِّي، ثُمَّ هُمْ يَنْتَظِرُونَ أَدَاءَ حَقٍّ آخَرَ يُؤَدُّونَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ اور نوف کسی مقام پر جمع ہوئے نوف کہنے لگے کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں سے فرمایا: میرے بندوں کو بلاؤ فرشتوں نے عرض کیا پروردگار یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ ان کے درمیان سات آسمان اور اس سے آگے عرش حائل ہے؟ اللہ نے فرمایا: جب وہ لاالہ اللہ اللہ کہہ لیں تو ان کی پکار قبول ہو گی۔ سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہم لوگوں نے ایک دن مغرب کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ادا کی کچھ لوگ " جن میں میں بھی شامل تھا " دوسری نماز کے انتظار میں بیٹھ گئے تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیزی سے ہماری طرف آتے ہوئے دیکھائی دیئے میری نگاہوں میں اب بھی وہ منظر محفوظ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا تہبند اٹھا رکھا تھا تاکہ چلنے میں آسانی ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے پاس پہنچ کر فرمایا: تمہیں خوشخبری ہو تمہارے رب نے آسمان کا ایک دروازہ کھولا ہے اور وہ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر فرما رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میرے ان بندوں نے ایک فرض ادا کر دیا ہے اور دوسرے کا انتظار کر رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6860]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6861 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، صُهَيْبٍ الْحَذَّاءِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ صُهَيْبٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ ذَبَحَ عُصْفُورًا بِغَيْرِ حَقِّهِ، سَأَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" قِيلَ: وَمَا حَقُّهُ؟ قَالَ:" يَذْبَحُهُ ذَبْحًا، وَلَا يَأْخُذُ بِعُنُقِهِ فَيَقْطَعَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ناحق کسی چڑیا کو بھی مارے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے اس کی باز پرس کرے گا کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! حق کیا ہے؟ فرمایا: اسے ذبح کرے گردن سے نہ پکڑے کہ اسے توڑ ہی دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6861]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف ، لجهالة صهيب الحذاء
الحكم: إسناده ضعيف ، لجهالة صهيب الحذاء
حدیث نمبر: 6862 مسند احمد
عَفَّانُ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَبْد اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، سَمِعْتُ عَبْد اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، بَلَغَنِي أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ، فَلَا َتَفْعَلَنَّ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، وَإِنَّ لِعَيْنَيْكَ عَلَيْكَ حَظًّا، أَفْطِرْ وَصُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَذَلِكَ صَوْمُ الدَّهْرِ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً؟ قَالَ:" صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ، صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا"، قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ: يَا لَيْتَنِي كُنْتُ أَخَذْتُ بِالرُّخْصَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم دن بھر روزہ رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو ایسا نہ کرو کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ہر مہینے صرف تین دن روزہ رکھا کرو یہ ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہو گا میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر سیدنا داؤدعلیہ السلام کا طریقہ اختیار کر کے ایک دن روزہ اور ایک دن ناغہ کر لیا کرو بعد میں سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ فرمایا: کرتے تھے کاش! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس رخصت کو قبول کر لیا ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6862]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1159
الحكم: إسناده صحيح، م: 1159
حدیث نمبر: 6863 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُغِيرَةَ ، مُجَاهِدًا ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" صُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ"، قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَمَا زَالَ حَتَّى قَالَ:" صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا"، فَقَالَ لَهُ:" اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ"، قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَمَا زَالَ حَتَّى قَالَ:" اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ ثَلَاثٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو میں نے عرض کیا کہ میں اپنے اندر اس سے زیادہ طاقت محسوس کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے مسلسل کچھ چھوٹ دیتے رہے یہاں تک کہ آخر میں فرمایا: پھر ایک دن روزہ رکھ لیا کرو اور ایک دن ناغہ کر لیا کرو اور فرمایا: مہینے میں ایک قرآن پڑھا کرو انہوں نے عرض کیا میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے مسلسل کچھ چھوٹ دیتے رہے یہاں تک کہ فرمایا: پھر تین راتوں میں مکمل کر لیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6863]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1978
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1978
حدیث نمبر: 6864 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ، أَوْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ الْأَرْبَعِ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ، حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: چار چیزیں جس شخص میں پائی جائیں وہ پکا منافق ہے اور جس میں ان چاروں میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے تو اس میں نفاق کا ایک شعبہ موجود ہے جب تک کہ اسے چھوڑ نہ دے۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے وعدہ خلافی کرے جب عہد کرے تو بدعہدی کرے جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6864]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 34، م: 58
الحكم: إسناده صحيح، خ: 34، م: 58
حدیث نمبر: 6865 مسند احمد
عَفَّانُ ، خَالِدٌ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ الطَّحَّانَ ، أَبُو سِنَانٍ ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، شَيْخٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ الطَّحَّانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، عَنْ شَيْخٍ مِنَ النَّخَعِ، قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ إِيلِيَاءَ فَصَلَّيْتُ إِلَى سَارِيَةٍ رَكْعَتَيْنِ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَصَلَّى قَرِيبًا مِنِّي، فَمَالَ إِلَيْهِ النَّاسُ، فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَجَاءَهُ رَسُولُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَنْ أَجِبْ، قَالَ: هَذَا يَنْهَانِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ كَمَا كَانَ أَبُوهُ يَنْهَانِي، وَإِنِّي سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَعُوذُ بِكَ مِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ، وَمِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک نخعی بزرگ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد ایلیاء میں داخل ہوا ایک ستون کی آڑ میں دو رکعتیں پڑھیں اسی دوران ایک آدمی آیا اور میرے قریب کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا لوگ اس کی طرف متوجہ ہو گئے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ تھے ان کے پاس یزید کا قاصد آیا کہ امیرالمؤمنین آپ کو بلاتے ہیں انہوں نے فرمایا: یہ شخص مجھے تمہارے سامنے احادیث بیان کر نے سے روکتا ہے جیسے اس کے والد مجھے روکتے تھے اور میں نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ دعاء کرتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ میں غیر نافع علم غیر مقبول دعاء خشوع و خضوع سے خالی دل اور نہ بھرنے والے نفس سے ان چاروں چیزوں سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6865]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الشيخ الذى روي عنه عبدالله بن أبى الهذيل
الحكم: مرفوعه صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الشيخ الذى روي عنه عبدالله بن أبى الهذيل
حدیث نمبر: 6866 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، عَطَاءٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:" مَنْ صَامَ الْأَبَدَ فَلَا صَامَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمیشہ روزہ رکھنے والا کوئی روزہ نہیں رکھتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6866]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1979، م: 1159، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 1979، م: 1159، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6867 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ؟ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَعَمْ، قَالَ:" فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَصَلِّ وَنَمْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ"، قَالَ: فَشَدَّدْتُ، فَشُدِّدَ عَلَيَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ:" فَصُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ"، قَالَ: فَشَدَّدْتُ، فَشُدِّدَ عَلَيَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ:" صُمْ صَوْمَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ، وَلَا تَزِدْ عَلَيْهِ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا كَانَ صِيَامُ دَاوُدَ؟ قَالَ:" كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم دن بھر روزہ رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو ایسا نہ کرو کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ہر مہینے صرف تین دن روزہ رکھا کرو یہ ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہو گا میں نے خود ہی اپنے اوپر سختی کی لہٰذا مجھ پر سختی ہو گئی میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر ہر ہفتے میں تین روزے رکھ لیا کرو میں نے سختی کی لہٰذا مجھ پر سختی ہو گئی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر سیدنا داؤد (علیہ السلام) کا طریقہ اختیار کر کے ایک دن روزہ اور ایک دن ناغہ کر لیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6867]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1975، م: 1159، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 1975، م: 1159، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6868 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى بِهِمْ يَوْمَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ، يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُهُ، فَقَامَ بِالنَّاسِ، فَقِيلَ: لَا يَرْكَعُ، فَرَكَعَ، فَقِيلَ: لَا يَرْفَعُ، فَرَفَعَ، فَقِيلَ: لَا يَسْجُدُ، وَسَجَدَ، فَقِيلَ: لَا يَرْفَعُ، فَقَامَ فِي الثَّانِيَةِ، فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَتَجَلَّتْ الشَّمْسُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں سورج گرہن ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو ہم بھی ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اتناطویل قیام کیا کہ ہمیں خیال ہونے لگا کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع نہیں کر یں گے پھر رکوع کیا تو رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے محسوس نہ ہوئے پھر رکوع سے سر اٹھایا تو سجدے میں جاتے ہوئے نہ لگے سجدے میں چلے گئے تو ایسا لگا کہ سجدے سے سر نہیں اٹھائیں گے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا اور سورج روشن ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6868]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6869 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمرو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمرو ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي جِئْتُ لِأُبَايِعَكَ على الهجرةِ وَتَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ؟ قَالَ:" فَارْجِعْ إِلَيْهِمَا، فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہجرت پر آپ سے بیعت کر نے کے لئے آیا ہوں اور (میں نے بڑی قربانی دی ہے کہ) اپنے والدین کو روتا ہوا چھوڑ کر آیا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: واپس جاؤ اور جیسے انہیں رلایا ہے اسی طرح انہیں ہنساؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6869]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6870 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُصَابُ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ، إِلَّا أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى الْحَفَظَةَ الَّذِينَ يَحْفَظُونَهُ، قَالَ: اكْتُبُوا لِعَبْدِي فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ مِثْلَ مَا كَانَ يَعْمَلُ مِنَ الْخَيْرِ، مَا دَامَ مَحْبُوسًا فِي وَثَاقِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں میں سے جس آدمی کو بھی جسمانی طور پر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ کے محافظ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ میرا بندہ خیر کے جتنے بھی کام کرتا تھا وہ ہر دن رات لکھتے رہو تا وقتیکہ یہ میری حفاظت میں رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6870]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6871 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ: لَمَّا جَاءَتْنَا بَيْعَةُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَدِمْتُ الشَّامَ، فَأُخْبِرْتُ بِمَقَامٍ يَقُومُهُ نَوْفٌ، فَجِئْتُهُ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَاشْتَدَّ النَّاسُ، عَلَيْهِ خَمِيصَةٌ، وَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَلَمَّا رَآهُ نَوْفٌ أَمْسَكَ عَنِ الْحَدِيثِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّهَا سَتَكُونُ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ، يَنْحَازُ النَّاسُ إِلَى مُهَاجَرِ إِبْرَاهِيمَ، لَا يَبْقَى فِي الْأَرْضِ إِلَّا شِرَارُ أَهْلِهَا، تَلْفِظُهُمْ أَرَضُوهُمْ، تَقْذَرُهُمْ نَفْسُ اللَّهِ، تَحْشُرُهُمْ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، تَبِيتُ مَعَهُمْ إِذَا بَاتُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ إِذَا قَالُوا، وَتَأْكُلُ مَنْ تَخَلَّفَ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" سَيَخْرُجُ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ، تَرَاقِيَهُمْ كُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ، كُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ حَتَّى عَدَّهَا زِيَادَةً عَلَى عَشْرَةِ مَرَّاتٍ كُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ، حَتَّى يَخْرُجَ الدَّجَّالُ فِي بَقِيَّتِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ جب ہمیں یزید بن معاویہ کی بیعت کی اطلاع ملی تو میں شام آیا مجھے ایک ایسی جگہ کا پتہ معلوم ہوا جہاں نوف کھڑے ہو کر بیان کرتے تھے میں ان کے پاس پہنچا اسی اثناء میں ایک آدمی کے آنے پر لوگوں میں ہلچل مچ گئی جس نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی دیکھا تو وہ سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ تھے نوف نے انہیں دیکھ کر ان کے احترام میں حدیث بیان کرنا چھوڑ دی اور سیدنا عبداللہ کہنے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب اس ہجرت کے بعد ایک اور ہجرت ہو گی جس میں لوگ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت گاہ میں جمع ہو جائیں گے زمین میں صرف بدترین لوگ رہ جائیں گے ان کی زمین انہیں پھینک دے گی اور اللہ کی ذات انہیں پسند نہیں کرے گی آگ انہیں بندروں اور خنزیروں کے ساتھ جمع کر لے گی جہاں وہ رات گزاریں گے وہ آگ بھی ان کے ساتھ وہیں رات گزارے گی اور جہاں وہ قیلولہ کر یں گے وہ بھی وہیں قیلولہ کرے گی اور جو پیچھے رہ جائے گا اسے کھا جائے گی۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب میری امت میں سے مشرقی جانب سے کچھ ایسے لوگ نکلیں گے جو قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، جب بھی ان کی کوئی نسل نکلے گی اسے ختم کر دیا جائے گا یہ جملہ دس مرتبہ دہرایا یہاں تک کہ ان کے آخری حصے میں دجال نکل آئے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6871]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب ، ثم إنه معلول
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب ، ثم إنه معلول
حدیث نمبر: 6872 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، مَطَرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبُو سَبْرَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ فِي الْحَوْضِ، فَقَالَ لَهُ أَبُو سَبْرَةَ رَجُلٌ مِنْ صَحَابَةِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ: فَإِنَّ أَبَاكَ حِينَ انْطَلَقَ وَافِدًا إِلَى مُعَاوِيَةَ انْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، فَحَدَّثَنِي مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ، حَدِيثًا سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمْلَاهُ عَلَيَّ، وَكَتَبْتُهُ، قَالَ فَإِنِّي أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَمَا أَعْرَقْتَ هَذَا الْبِرْذَوْنَ حَتَّى تَأْتِيَنِي بِالْكِتَابِ، قَالَ: فَرَكِبْتُ الْبِرْذَوْنَ، فَرَكَضْتُهُ حَتَّى عَرِقَ، فَأَتَيْتُهُ بِالْكِتَابِ، فَإِذَا فِيهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُخَوَّنَ الْأَمِينُ، وَيُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ، حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالتَّفَحُّشُ، وَقَطِيعَةُ الْأَرْحَامِ، وَسُوءُ الْجِوَارِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ لَكَمَثَلِ الْقِطْعَةِ مِنَ الذَّهَبِ، نَفَخَ عَلَيْهَا صَاحِبُهَا فَلَمْ تَغَيَّرْ، وَلَمْ تَنْقُصْ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ لَكَمَثَلِ النَّحْلَةِ، أَكَلَتْ طَيِّبًا، وَوَضَعَتْ طَيِّبًا، وَوَقَعَتْ فَلَمْ تُكْسَرْ وَلَمْ تَفْسُدْ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَقَالَ:" أَلَا إِنَّ لِي حَوْضًا مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ، أَوْ قَالَ صَنْعَاءَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَإِنَّ فِيهِ مِنَ الْأَبَارِيقِ مِثْلَ الْكَوَاكِبِ، هُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا"، قَالَ أَبُو سَبْرَةَ: فَأَخَذَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الْكِتَابَ، فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ، فَلَقِيَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَقَالَ وَاللَّهِ لَأَنَا أَحْفَظُ لَهُ مِنِّي لِسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَحَدَّثَنِي بِهِ كَمَا كَانَ فِي الْكِتَابِ، سَوَاءً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد کو حوض کوثر کے وجود میں شک تھا اس کے ہم نشینوں میں سے ابو سبرہ نے اس سے کہا کہ تمہارے والد نے ایک مرتبہ کچھ مال دے کر مجھے سیدہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا میری ملاقات سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے ہوئی انہوں نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی جو انہوں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی تھی انہوں نے وہ حدیث مجھے املاء کروائی اور میں نے اسے اپنے ہاتھ سے کسی ایک حرف کی بھی کمی پیشی کے بغیر لکھا اس نے کہا کہ میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اس گھوڑے کو پسینے میں غرق کر کے میرے پاس وہ تحریر لے آؤ چنانچہ میں اس گھوڑے پر سوار ہوا اور اسے ایڑ لگا دی میں وہ تحریر لایا تو پسینے میں ڈوبا ہوا تھا اس میں یہ لکھا تھا کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بےتکلف یا بتکلف کسی قسم کی بےحیائی کو پسند نہیں کرتا اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک ہر طرف بےحیائی عام نہ ہو جائے قطع رحمی غلط اور برا پڑوس عام نہ ہو جائے اور جب تک خائن کو امین اور امین کو خائن نہ سمجھاجانے لگے اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے مسلمان کی مثال سونے کے ٹکڑے جیسی ہے کہ اگر اس کا مالک اس پر پھونکیں مارے تو اس میں کوئی تبدیلی یا نقص واقع نہیں ہوتا اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے مسلمان کی مثال شہد کی مکھی جیسی ہے جو اچھا کھاتی ہے اور اچھا بناتی ہے اسے گرنے پر توڑا جاتا ہے اور نہ ہی وہ خراب کر تی ہے اور فرمایا: یاد رکھو! میرا ایک حوض ہے جس کی چوڑائی اور لمبائی ایک جیسی ہے یعنی ایلہ سے لے کر مکہ مکرمہ تک جو تقریبا ایک ماہ مسافت بنتی ہے اس کے آبخورے ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہو گا جو اس کا ایک گھونٹ پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا۔ عبیداللہ بن زیاد نے وہ صحیفہ لے کر اپنے پاس رکھ لیا جس پر مجھے گھبراہٹ ہوئی پھر یحییٰ بن یعمر سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے اس کا شکوہ کیا انہوں نے کہا کہ واللہ وہ مجھے قرآن کی کسی سورت سے زیادہ یاد ہے چنانچہ انہوں نے مجھے وہ حدیث اسی طرح سنا دی جیسے اس تحریر میں لکھی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6872]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى سبرة، وضعف مطر الوراق
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى سبرة، وضعف مطر الوراق
حدیث نمبر: 6873 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يَحْيَى بْنِ حَكِيمِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَكِيمِ بْنِ صَفْوَانَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: جَمَعْتُ الْقُرْآنَ، فَقَرَأْتُهُ فِي لَيْلَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَطُولَ عَلَيْكَ الزَّمَانُ، وَأَنْ تَمَلَّ، اقْرَأْ بِهِ فِي كُلِّ شَهْرٍ"، قُلْتُ: أَيْ رَسُول اللَّهِ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي، قَالَ:" اقْرَأْ بِهِ فِي عِشْرِينَ"، قُلْتُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي، قَالَ:" اقْرَأْ بِهِ فِي عَشْرٍ"، قُلْتُ: أي رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي، قَالَ:" اقْرَأْ بِهِ فِي كُلِّ سَبْعٍ"، قُلْتُ: أي رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي، فَأَبَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے قرآن کریم یاد کیا اور ایک رات میں سارا قرآن پڑھ لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پتہ چلا تو فرمایا: مجھے اندیشہ ہے کہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد تم تنگ ہو گے ہر مہینے میں ایک مرتبہ قرآن کریم پورا کیا کرو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے اپنی طاقت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئے اسی طرح تکرار ہوتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیس دس اور سات دن کہہ کر رک گئے میں نے سات دن سے کم کی اجازت بھی مانگی لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انکار کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6873]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، خ: 5052، م: 1159
الحكم: حديث صحيح لغيره، خ: 5052، م: 1159
حدیث نمبر: 6874 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَرَوْحٌ ، عَطَاءً ، أَبَا الْعَبَّاسِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَرَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يَزْعُمُ، أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ: بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ، وَأُصَلِّي اللَّيْلَ، قَالَ: فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ، وَإِمَّا لَقِيتُهُ، فَقَالَ:" أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلَا تُفْطِرُ، وَتُصَلِّي اللَّيْلَ؟ فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ لِعَيْنِكَ حَظًّا، وَلِنَفْسِكَ حَظًّا، وَلِأَهْلِكَ حَظًّا، فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَصَلِّ وَنَمْ، وَصُمْ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ"، قَالَ: إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ:" فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ"، قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ دَاوُدُ يَصُومُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ:" كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى"، قَالَ: مَنْ لِي بِهَذِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ عَطَاءٌ: فَلَا أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الْأَبَدِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ"، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَرَوْحٌ:" لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ" مَرَّتَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پتہ چلا کہ میں ہمیشہ دن کو روزہ اور رات کو قیام کرتا ہوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلوایا یا یوں ہی ملاقات ہو گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم وہی ہو جس کے متعلق مجھے بتایا گیا ہے کہ تم کہتے ہو میں روزانہ رات کو قیام اور دن کو صیام کروں گا؟ ایسا نہ کرو کیونکہ تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے تمہارے نفس اور تمہارے گھر والوں کا بھی حق ہے اس لئے قیام بھی کیا کرو اور سویا بھی کرو روزہ بھی رکھو اور ناغہ بھی کیا کرو اور ہر دس دن میں صرف ایک روزہ رکھا کرو تمہیں مزید نو روزے رکھنے کا ثواب ہو گا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھ میں اس سے زیادہ کر نے کی طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سیدنا داؤدعلیہ السلام کی طرح روزہ رکھ لیا کرو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! سیدنا داؤدعلیہ السلام کس طرح روزہ رکھتے تھے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے اور دشمن سے سامنا ہونے پر بھاگتے نہیں تھے میں نے عرض کیا کہ میں اے اللہ کے نبی! یہ کیسے کر سکتا ہوں؟ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ یہ بھی فرمایا: کہ جو شخص ہمیشہ روزہ رکھتا ہے وہ کوئی روزہ نہیں رکھتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6874]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1977، م: 1159
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1977، م: 1159
حدیث نمبر: 6875 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عُمَرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَطَاءٍ ، رَجُلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ حَوْشَبٍ رَجُلٌ صَالِحٌ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَمَنْزِلُهُ فِي الْحِلِّ، وَمَسْجِدُهُ فِي الْحَرَمِ، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ رَأَى أُمَّ سَعِيدٍ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ مُتَقَلِّدَةً قَوْسًا، وَهِيَ تَمْشِي مِشْيَةَ الرَّجُلِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَنْ هَذِهِ؟ قَالَ: الْهُذَلِيُّ فَقُلْتُ: هَذِهِ أُمُّ سَعِيدٍ بِنْتُ أَبِي جَهْلٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِالرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ، وَلَا مَنْ تَشَبَّهَ بِالنِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنوہذیل کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کو دیکھا ان کا گھر حرم سے باہر اور مسجد حرم کے اندر تھی میں ان کے پاس ہی تھا کہ ان کی نظر ابوجہل کی بیٹی ام سعیدہ پر پڑی جس نے گلے میں کمان لٹکا رکھی تھی اور وہ مردانہ چال چل رہی تھی سیدنا عبداللہ کہنے لگے یہ کون عورت ہے؟ میں نے انہیں بتایا کہ یہ ابوجہل کی بیٹی ام سعیدہ ہے اس پر انہوں نے فرمایا: کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے مردوں کی مشابہت اختیار کر نے والی عورتیں اور عورتوں کی مشابہت اختیار کر نے والے مرد ہم میں سے نہیں ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6875]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عمر بن حوشب
الحكم: مرفوعه صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عمر بن حوشب
حدیث نمبر: 6876 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَسَأَلَنِي وَهُوَ يَظُنُّ أَنِّي لِأُمِّ كُلْثُومٍ ابْنَةِ عُقْبَةَ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَنَا لِلْكَلْبِيَّةِ، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي، فَقَالَ:" أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ؟ فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ شَهْرٍ"، قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" فَاقْرَأْهُ فِي نِصْفِ كُلِّ شَهْرٍ"، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ، لَا تَزِيدَنَّ، وَبَلَغَنِي أَنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ؟" قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي لَأَصُومُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَصُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ"، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" فَصُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ يَوْمَيْنِ"، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ، صُمْ يَوْمًا، وَأَفْطِرْ يَوْمًا، فَإِنَّهُ أَعْدَلُ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ، وَكَانَ لَا يُخْلِفُ إِذَا وَعَدَ، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ سمجھے کہ میں ام کلثوم بنت عقبہ کا بیٹا ہوں چنانچہ انہوں نے مجھ سے ان کے متعلق پوچھا میں نے انہیں بتایا کہ میں کلبیہ کا بیٹا ہوں پھر انہوں نے فرمایا: کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم ایک دن رات میں پورا قرآن پڑھ لیتے ہو؟ ہر مہینے میں صرف ایک قرآن پڑھا کرو میں نے عرض کیا کہ میں اپنے اندر اس سے زیادہ طاقت محسوس کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر پندرہ دن میں مکمل کر لیا کرو میں نے عرض کیا کہ میں اپنے اندر اس سے بھی زیادہ طاقت محسوس کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر سات راتوں میں مکمل کر لیا کرو اور اس پر اضافہ نہ کرنا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو میں نے عرض کیا کہ میں اپنے اندر اس سے زیادہ طاقت محسوس کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے مسلسل کچھ چھوٹ دیتے رہے یہاں تک کہ آخر میں فرمایا: پھر سیدنا داؤدعلیہ السلام کی طرح ایک دن روزہ رکھ لیا کرو اور ایک دن ناغہ کر لیا کرو یہ بہترین روزہ ہے اور عدہ خلافی نہیں کرتے تھے اور دشمن سے سامنا ہونے پر بھاگتے نہیں تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6876]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ: 5054، م: 1159
الحكم: صحيح لغيره، خ: 5054، م: 1159