عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عُمَرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَطَاءٍ ، رَجُلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ حَوْشَبٍ رَجُلٌ صَالِحٌ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَمَنْزِلُهُ فِي الْحِلِّ، وَمَسْجِدُهُ فِي الْحَرَمِ، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ رَأَى أُمَّ سَعِيدٍ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ مُتَقَلِّدَةً قَوْسًا، وَهِيَ تَمْشِي مِشْيَةَ الرَّجُلِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَنْ هَذِهِ؟ قَالَ: الْهُذَلِيُّ فَقُلْتُ: هَذِهِ أُمُّ سَعِيدٍ بِنْتُ أَبِي جَهْلٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِالرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ، وَلَا مَنْ تَشَبَّهَ بِالنِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنوہذیل کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کو دیکھا ان کا گھر حرم سے باہر اور مسجد حرم کے اندر تھی میں ان کے پاس ہی تھا کہ ان کی نظر ابوجہل کی بیٹی ام سعیدہ پر پڑی جس نے گلے میں کمان لٹکا رکھی تھی اور وہ مردانہ چال چل رہی تھی سیدنا عبداللہ کہنے لگے یہ کون عورت ہے؟ میں نے انہیں بتایا کہ یہ ابوجہل کی بیٹی ام سعیدہ ہے اس پر انہوں نے فرمایا: ”کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے مردوں کی مشابہت اختیار کر نے والی عورتیں اور عورتوں کی مشابہت اختیار کر نے والے مرد ہم میں سے نہیں ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6875]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عمر بن حوشب
الحكم: مرفوعه صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عمر بن حوشب