عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى بِهِمْ يَوْمَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ، يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُهُ، فَقَامَ بِالنَّاسِ، فَقِيلَ: لَا يَرْكَعُ، فَرَكَعَ، فَقِيلَ: لَا يَرْفَعُ، فَرَفَعَ، فَقِيلَ: لَا يَسْجُدُ، وَسَجَدَ، فَقِيلَ: لَا يَرْفَعُ، فَقَامَ فِي الثَّانِيَةِ، فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَتَجَلَّتْ الشَّمْسُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں سورج گرہن ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو ہم بھی ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اتناطویل قیام کیا کہ ہمیں خیال ہونے لگا کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع نہیں کر یں گے پھر رکوع کیا تو رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے محسوس نہ ہوئے پھر رکوع سے سر اٹھایا تو سجدے میں جاتے ہوئے نہ لگے سجدے میں چلے گئے تو ایسا لگا کہ سجدے سے سر نہیں اٹھائیں گے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا اور سورج روشن ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6868]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن