بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 626
صفحہ 6 از 32
حدیث نمبر: 6577 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَيْوَةُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَيُصِيبُونَ غَنِيمَةً إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أَجْرِهِمْ مِنَ الْآخِرَةِ، وَيَبْقَى لَهُمْ الثُّلُثُ، فَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً، تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے مجاہدین کا جو دستہ بھی اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور اسے مال غنیمت حاصل ہوتا ہے اسے اس کا دوتہائی اجر تو فوری طور پردے دیا جاتا ہے اور ایک تہائی ان کے لئے رکھ لیا جاتا ہے اور اگر انہیں مال غنیمت حاصل نہ ہو تو سارا اجر وثواب رکھ لیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6577]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1906
الحكم: إسناده صحيح، م: 1906
حدیث نمبر: 6578 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَيْوَةُ ، أَبُو هَانِئٍ ، أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الْأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَإِنْ شِئْتُمْ أَعْطَيْنَاكُمْ مِمَّا عِنْدَنَا، وَإِنْ شِئْتُمْ ذَكَرْنَا أَمْرَكُمْ لِلسُّلْطَانِ، قَالُوا: فَإِنَّا نَصْبِرُ، فَلَا نَسْأَلُ شَيْئًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن فقراء مہاجرین مالداروں سے چالیس سال قبل جنت میں داخل ہوں گے سیدنا عبداللہ فرماتے تھے اگر تم چاہتے ہو تو ہم اپنے پاس سے تمہیں کچھ دے دیتے ہیں اور اگر تم چاہتے ہو تو بادشاہ سے تمہارا معاملہ ذکر کر دیتے ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ ہم صبر کر یں گے اور کسی چیز کا سوال نہیں کر یں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6578]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2979 مطولا
الحكم: إسناده صحيح، م: 2979 مطولا
حدیث نمبر: 6579 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَيْوَةُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" قَدَّرَ اللَّهُ الْمَقَادِيرَ، قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ نے مخلوقات کی تقدیر آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے رکھ دی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6579]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2653
الحكم: إسناده صحيح، م: 2653
حدیث نمبر: 6580 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، أَبِي ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عِنْدَ ذِكْرِ أَهْلِ النَّارِ:" كُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ، جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل جہنم کا تذکر ہ ہوئے فرمایا: کہ ہر بد اخلاق تندخو، متکبر جمع کر کے رکھنے والا اور نیکی سے روکنے والاجہنم میں ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6580]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ:4918، م: 2853، عن حارثة ابن وهب
الحكم: إسناده صحيح، خ:4918، م: 2853، عن حارثة ابن وهب
حدیث نمبر: 6581 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ خَيْرٌ؟ قَالَ:" أَنْ تُطْعِمَ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأَ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم کھانا کھلاؤ اور ان لوگوں کو بھی سلام کرو جن سے جان پہچان ہو اور انہیں بھی جن سے جان پہچان نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6581]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ:12، م: 39
الحكم: إسناده صحيح، خ:12، م: 39
حدیث نمبر: 6582 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، رَبِيعَةَ بْنِ سَيْفٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سَيْفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ إِلَّا وَقَاهُ اللَّهُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں فوت ہو جائے اللہ اسے قبر کی آزمائش سے بچالیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6582]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ربيعة بن سيف لم يسمع من عبد الله بن عمرو، وهو وهشام بن سعد ضعيفان
الحكم: إسناده ضعيف، ربيعة بن سيف لم يسمع من عبد الله بن عمرو، وهو وهشام بن سعد ضعيفان
حدیث نمبر: 6583 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، الصَّقْعَبِ بْنِ زُهَيْرٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الصَّقْعَبِ بْنِ زُهَيْرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ حَمَّادٌ: أَظُنُّهُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، عَلَيْهِ جُبَّةٌ سِيجَانٍ، مَزْرُورَةٌ بِالدِّيبَاجِ، فَقَالَ: أَلَا إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا قَدْ وَضَعَ كُلَّ فَارِسٍ ابْنِ فَارِسٍ! قَالَ: يُرِيدُ أَنْ يَضَعَ كُلَّ فَارِسٍ ابْنِ فَارِسٍ، وَيَرْفَعَ كُلَّ رَاعٍ ابْنِ رَاعٍ! قَالَ: فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَجَامِعِ جُبَّتِهِ، وَقَالَ:" أَلَا أَرَى عَلَيْكَ لِبَاسَ مَنْ لَا يَعْقِلُ!"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ نُوحًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لِابْنِهِ: إِنِّي قَاصٌّ عَلَيْكَ الْوَصِيَّةَ آمُرُكَ بِاثْنَتَيْنِ، وَأَنْهَاكَ عَنِ اثْنَتَيْنِ، آمُرُكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِنَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعَ، وَالْأَرْضِينَ السَّبْعَ، لَوْ وُضِعَتْ فِي كِفَّةٍ، وَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي كِفَّةٍ، رَجَحَتْ بِهِنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَلَوْ أَنَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعَ، وَالْأَرْضِينَ السَّبْعَ، كُنَّ حَلْقَةً مُبْهَمَةً، قَصَمَتْهُنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، فَإِنَّهَا صَلَاةُ كُلِّ شَيْءٍ، وَبِهَا يُرْزَقُ الْخَلْقُ، وَأَنْهَاكَ عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ"، قَالَ: قُلْتُ، أَوْ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الشِّرْكُ قَدْ عَرَفْنَاهُ، فَمَا الْكِبْرُ؟ قَالَ: أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا نَعْلَانِ حَسَنَتَانِ لَهُمَا شِرَاكَانِ حَسَنَانِ؟ قَالَ:" لَا"، قَالَ: هُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا حُلَّةٌ يَلْبَسُهَا؟، قَالَ:" لَا"، قَالَ: الْكِبْرُ هُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا دَابَّةٌ يَرْكَبُهَا؟، قَالَ:" لَا"، قَالَ: أَفَهُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا أَصْحَابٌ يَجْلِسُونَ إِلَيْهِ؟ قَالَ:" لَا"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الْكِبْرُ؟ قَالَ:" سَفَهُ الْحَقِّ وَغَمْصُ النَّاسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک دیہاتی آدمی آیا جس نے بڑا قیمتی جبہ جس پر دیباج و ریشم کے بٹن لگے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اس ساتھی نے تو مکمل طور پر فارس ابن فارس (نسلی فارسی آدمی) کی وضع اختیار کر رکھی ہے ایسالگتا ہے کہ جسے اس کے یہاں فارسی نسل کے ہی بچے پیدا ہوں گے اور چرواہوں کی نسل ختم ہو جائے گی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے جبے کو مختلف حصوں سے پکڑ کر جمع کیا اور فرمایا: کہ میں تمہارے جسم پر بیوقوفوں کالباس نہیں دیکھ رہا؟ پھر فرمایا: اللہ کے نبی سیدنا نوح (علیہ السلام) کی وفات کا وقت جب قریب آیا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے فرمایا: کہ میں تمہیں ایک وصیت کر رہا ہوں جس میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں اور دو باتوں سے روکتا ہوں حکم تو اس بات کا دیتا ہوں کہ لاالہ الا اللہ کا اقرار کرتے رہنا کیونکہ اگر ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور لاالہ الا اللہ کو دوسرے پلڑے میں تو لاالہ الا اللہ والا پلڑا جھک جائے گا اور اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمین ایک مبہم حلقہ ہوتیں تو لاالہ الا اللہ انہیں خاموش کر ا دیتا اور دوسرا یہ کہ و سبحان اللہ وبحمدہ کا ورد کرتے رہنا کہ یہ ہر چیز کی نماز ہے اور اس کے ذریعے مخلوق کو رزق ملتا ہے۔ اور روکتا شرک اور تکبر سے ہوں میں نے یا کسی اور نے پوچھا یا رسول اللہ! شرک تو ہم سمجھ گئے تکبر سے کیا مراد ہے؟ کیا تکبریہ ہے کہ کسی کے پاس دو عمدہ تسموں والے دو عمدہ جوتے ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں پھر پوچھا کیا تکبریہ ہے کہ کسی کا لباس اچھا ہو؟ فرمایا: نہیں سائل نے پھر پوچھا کیا تکبر یہ ہے کہ کسی کے پاس سواری ہو جس پر وہ سوارہو سکے؟ فرمایا: نہیں سائل نے پوچھا کیا تکبریہ ہے کہ کسی کے ساتھی ہوں جن کے پاس جا کروہ بیٹھا کرے؟ فرمایا: نہیں سائل نے پوچھا یا رسول اللہ! پھر تکبر کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حق بات کو قبول نہ کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6583]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6584 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ مُبَارَكٍ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَبْدَ اللَّهِ، لَا تَكُونَنَّ مِثْلَ فُلَانٍ، كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ، فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ اس شخص کی طرح نہ ہوجانا جو قیام اللیل کے لئے اٹھتا تھا پھر اس نے اسے ترک کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6584]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ:1152، م: 1159
الحكم: إسناده صحيح، خ:1152، م: 1159
حدیث نمبر: 6585 مسند احمد
الزُّبَيْرِيُّ يَعْنِي أَبَا أَحْمَدَ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ يَعْنِي أَبَا أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6585]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6586 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، أَبِيهِ ، رَجُلٌ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ هَذَا فِي حَدِيثِ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ، قَالَ: نَزَلَ رَجُلٌ عَلَى مَسْرُوقٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَلَمْ تَضُرَّ مَعَهُ خَطِيئَةٌ، كَمَا لَوْ لَقِيَهُ وَهُوَ مُشْرِكٌ بِهِ دَخَلَ النَّارَ، وَلَمْ تَنْفَعْهُ مَعَهُ حَسَنَةٌ"، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ فِي حَدِيثِهِ: جَاءَ رَجُلٌ أَوْ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، فَنَزَلَ عَلَى مَسْرُوقٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، لَمْ تَضُرَّهُ مَعَهُ خَطِيئَةٌ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يُشْرِكُ بِهِ، لَمْ يَنْفَعْهُ مَعَهُ حَسَنَةٌ"، قَالَ عَبْد اللَّهِ بن أحمد: وَالصَّوَابُ مَا قَالَهُ أَبُو نُعَيْمٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا اور اسے کوئی گناہ نقصان نہ پہنچاسکے گا جیسے اگر کوئی شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ مشرک ہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا اور اسے کوئی نیکی نفع نہ پہنچا سکے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6586]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6587 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ . وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ، وَأَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، تَدْخُلُونَ الْجِنَانَ"، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ:" تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رحمان کی عبادت کرو سلام کو پھیلاؤ کھانا کھلاؤ اور جنت میں داخل ہوجاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6587]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 6588 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ضَافَ ضَيْفٌ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَفِي دَارِهِ كَلْبَةٌ مُجِحٌّ، فَقَالَتْ الْكَلْبَةُ: وَاللَّهِ لَا أَنْبَحُ ضَيْفَ أَهْلِي، قَالَ: فَعَوَى جِرَاؤُهَا فِي بَطْنِهَا، قَالَ: قِيلَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ هَذَا مَثَلُ أُمَّةٍ تَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمْ، يَقْهَرُ سُفَهَاؤُهَا أَحْلماءَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کے کسی شخص کے یہاں ایک مہمان آیا میزبان کے گھر میں ایک بہت بھونکنے والی کتیا تھی وہ کتیا کہنے لگی کہ میں اپنے مالک کے مہمان کے سامنے نہیں بھونکوں گی اتنی دیر میں اس کے پیٹ میں موجود پلے نے بھونکنا شروع کسی نے کہا یہ کیا؟ اس نے اللہ نے اس زمانے کے نبی پر وحی بھیجی کہ یہ تمہارے بعد آنے والی اس امت کی مثال ہے جس کے بیوقوف لوگ عقلمندوں پر غالب آجائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6588]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو عوانة وضاح اليشكري سمع من عطاء قبل الاختلاط و بعده، وكان لا يعقل ذا من ذا
الحكم: إسناده ضعيف، أبو عوانة وضاح اليشكري سمع من عطاء قبل الاختلاط و بعده، وكان لا يعقل ذا من ذا
حدیث نمبر: 6589 مسند احمد
عبْد ُالصَّمَد ، حَمَّادٌ ، ْعَطَاء ِبْن السَّائِبِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث موقوف) حَدَّثَنًَا حَدَّثَنًَا عبْد ُالصَّمَد ، ِحَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَن ْعَطَاء ِبْن السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا يَقُولُونَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَامٌ عَلَيْكَ! ثُمَّ يَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ لَوْلا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ سورة المجادلة آية 8 فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَة وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ سورة المجادلة آية 8 إِلَى آخِرِ الْآيَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں یہودی آکر " سام علیک " کہتے تھے پھر اپنے دل میں کہتے تھے کہ ہم جو کہتے ہیں اللہ ہمیں اس پر عذاب کیوں نہیں دیتا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جب یہ آپ کے پاس آتے ہیں تو اس انداز میں آپ کو سلام کرتے ہیں جس انداز میں اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6589]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6590 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِمُحَمَّدٍ، وَلَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِكَ إِيَّانَا أَحَدًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَائِلُهَا؟" فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ حَجَبْتَهُنَّ عَنْ نَاسٍ كَثِيرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ رسالت میں آیا اور دعاء کر نے لگا کہ اے اللہ مجھے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بخش دے اور اپنی رحمت میں ہمارے ساتھ کسی کو شریک نہ فرما نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا یہ دعاء کون کر رہا ہے؟ اس آدمی نے عرض کیا کہ میں ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس دعاء کو بہت سے لوگوں سے پردے میں چھپالیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6590]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6591 مسند احمد
أَبُو عَاصِمٍ وَهُوَ النَّبِيلُ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ وَهُوَ النَّبِيلُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ الْخَمْرَ، وَالْمَيْسِرَ، وَالْكُوبَةَ، وَالْغُبَيْرَاءَ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میری طرف نسبت کر کے کوئی ایسی بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شراب، جوا، باجا اور چینا، کی شراب کو حرام قرار دیا ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6591]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عمرو بن الوليد مجهول
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عمرو بن الوليد مجهول
حدیث نمبر: 6592 مسند احمد
وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: أَرَادَ فُلَانٌ أَنْ يُدْعَى جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ قَدْرِ سَبْعِينَ عَامًا، أَوْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ:" وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مجاہدر حمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے ایک نے ایک مرتبہ ارادہ کیا کہ آئندہ اسے " جنادہ بن ابی امیہ کہہ کر پکارآ جائے (حالانکہ ابوامیہ اس کے باپ کا نام نہ تھا) سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو فرمایا: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرتا ہے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گا حالانکہ جنت کی خوشبو تو ستر سال کی مسافت سے آتی ہے۔ اور فرمایا: جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6592]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ:6755، م: 1370، عن علي
الحكم: إسناده صحيح، خ:6755، م: 1370، عن علي
حدیث نمبر: 6593 مسند احمد
حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، أَبِي سُفْيَانَ ، مُسْلِمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَرِيشِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَرِيشِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَقُلْتُ: إِنَّا بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ، وَإِنَّمَا نُبَايِعُ بِالْإِبِلِ وَالْغَنَمِ إِلَى أَجَلٍ، فَمَا تَرَى فِي ذَلِكَ؟ قَالَ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ، حَتَّى نَفِدَتْ، وَبَقِيَ نَاسٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَرِ لَنَا إِبِلًا مِنْ بقَلَائِصَ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ إِذَا جَاءَتْ، حَتَّى نُؤَدِّيَهَا إِلَيْهِمْ"، فَاشْتَرَيْتُ الْبَعِيرَ بِالِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثِ قَلَائِصَ، حَتَّى فَرَغْتُ، فَأَدَّى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن حریش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہم لوگ ایسے علاقے میں ہوتے ہیں جہاں دینار یا درہم نہیں چلتے ہم ایک وقت مقررہ تک کے لئے اونٹ اور بکر ی کے بدلے خریدو فروخت کر لیتے ہیں آپ کی اس بارے کیا رائے ہے؟ انہوں نے فرمایا: تم نے ایک باخبر آدمی سے دریافت کیا ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک لشکر تیار کیا اس امید پر کہ صدقہ کے اونٹ آجائیں گے اونٹ ختم ہو گئے اور کچھ لوگ باقی بچ گئے (جنہیں سواری نہ مل سکی) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ہمارے لئے اس شرط پر اونٹ خرید کر لاؤ کہ صدقہ کے اونٹ پہنچنے پر وہ دے دیئے جائیں گے چنانچہ میں نے دو اونٹوں کے بدلے ایک اونٹ خریدا بعض اوقات تین کے بدلے بھی خریدا یہاں تک کہ میں فارغ ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صدقہ کے اونٹوں سے اس کی ادائیگی فرما دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6593]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد فيه ضعف و اضطرب
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد فيه ضعف و اضطرب
حدیث نمبر: 6594 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو قَبِيلٍ ، مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو قَبِيلٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اسْتَعَاذَ مِنْ سَبْعِ مَوْتَاتٍ: مَوْتِ الْفَجْأَةِ، وَمِنْ لَدْغِ الْحَيَّةِ، وَمِنْ السَّبُعِ، وَمِنْ الْحَرَقِ، وَمِنْ الْغَرَقِ، وَمِنْ أَنْ يَخِرَّ عَلَى شَيْءٍ، أَوْ يَخِرَّ عَلَيْهِ شَيْءٌ، وَمِنْ الْقَتْلِ عِنْدَ فِرَارِ الزَّحْفِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سات قسم کی موت سے پناہ مانگی ہے ناگہانی موت سے سانپ کے ڈسنے سے درندے کے کھاجانے سے جل کر مرنے سے ڈوب کر مرنے سے کسی چیز پر گر کر مرنے سے یا کسی چیز کے اس پر گرنے سے اور میدان جنگ سے بھاگتے وقت قتل ہونے سے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6594]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن لهيعة سييء الحفظ، ومالك بن عبد الله مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سييء الحفظ، ومالك بن عبد الله مجهول
حدیث نمبر: 6595 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص حَدَّثَهُ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ، فَرَآهُمْ، فَكَرِهَ ذَلِكَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَمْ أَرَ إِلَّا خَيْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ"، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ:" لَا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ إِلَّا وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوْ اثْنَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ ایک مرتبہ سیدنا اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ کے یہاں آئے ہوئے تھے ان کے زوج محترم سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے چونکہ وہ ان کی بیوی تھیں اس لئے انہیں اس پر ناگواری ہوئی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا اور کہا کہ میں نے خیر ہی دیکھی (کوئی برا منظر نہیں دیکھا لیکن پھر بھی اچھا نہیں لگا) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے انہیں بچا لیا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: آج کے بعد کوئی شخص کسی ایک عورت کے پاس تنہا نہ جائے جس کا شوہر موجود نہ ہو الاّ یہ کہ اس کے ساتھ ایک اور یا دو آدمی ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6595]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2173
الحكم: إسناده صحيح، م: 2173
حدیث نمبر: 6596 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ ، أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيّ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي ذَبَحَ ضَحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُلْ لِأَبِيكَ يُصَلِّي، ثُمَّ يَذْبَحُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک آدمی آ کر کہنے لگا میرے والد صاحب نے نماز عید سے قبل ہی اپنے جانور کی قربانی کر لی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے والد صاحب سے کہو کہ پہلے نماز پڑھیں پھر قربانی کر یں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6596]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، و حيي بن عبد الله المعافري مختلف فيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، و حيي بن عبد الله المعافري مختلف فيه