عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ ، عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْسِمَ غَنِيمَةً أَمَرَ بِلَالًا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَنَادَى ثَلَاثًا، فَأَتَى رَجُلٌ بِزِمَامٍ مِنْ شَعَرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدَ أَنْ قَسَمَ الْغَنِيمَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ مِنْ غَنِيمَةٍ كُنْتُ أَصَبْتُهَا، قَالَ:" أَمَا سَمِعْتَ بِلَالًا يُنَادِي ثَلَاثًا؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ؟" فَاعْتَلَّ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَنْ أَقْبَلَهُ، حَتَّى تَكُونَ أَنْتَ الَّذِي تُوَافِينِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مال غنیمت تقسیم کر نے کا ارادہ فرماتے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے وہ تین مرتبہ منادی کر دیتے ایک مرتبہ مال غنیمت کی تقسیم کے بعد ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بالوں کی ایک لگام لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! یہ مال غنیمت ہے جو مجھے ملا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے بلال کی تین مرتبہ منادی کو نہیں سنا تھا؟ اس نے کہا جی ہاں سنا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت تمہیں ہمارے پاس آنے سے کس چیز نے روکا تھا؟ اس نے کوئی عذر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارا کوئی عذر قبول نہیں کر سکتا اب قیامت کے دن یہ تم میرے پاس لے کر آؤ گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6996]
الحكم: إسناده حسن.