وَكِيعٌ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَدَ تَحْتَ جَنْبِهِ تَمْرَةً مِنَ اللَّيْلِ، فَأَكَلَهَا، فَلَمْ يَنَمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَقَالَ بَعْضُ نِسَائِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرِقْتَ الْبَارِحَةَ؟ قَالَ:" إِنِّي وَجَدْتُ تَحْتَ جَنْبِي تَمْرَةً، فَأَكَلْتُهَا، وَكَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے پہلو کے نیچے ایک کھجور پائی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کھالیا پھر رات کے آخری حصے میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بےچین ہونے لگے، جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ گھبرا گئیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا: ”کہ مجھے اپنے پہلو کے نیچے ایک کھجور ملی تھی جسے میں نے کھالیا تھا اب مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ صدقہ کی کھجور نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6820]
الحكم: إسناده حسن