حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُغَرْبَلُونَ فِيهِ غَرْبَلَةً، يَبْقَى مِنْهُمْ حُثَالَةٌ، قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ، وَاخْتَلَفُوا فَكَانُوا هَكَذَا،" وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الْمَخْرَجُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ:" تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ، وَتَدَعُونَ مَا تُنْكِرُونَ، وَتُقْبِلُونَ عَلَى أَمْرِ خَاصَّتِكُمْ، وَتَدَعُونَ أَمْرَ عَامَّتِكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں ان کی چھانٹی ہو جائے گی اور صرف جھاگ رہ جائے گی ایسا اس وقت ہو گا جب وعدوں اور امانتوں میں بگاڑ پیدا ہو جائے اور لوگ اس طرح ہو جائیں (راوی نے تشبیک کر کے دکھائی) لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس سے بچاؤ کا راستہ کیا ہو گیا؟ فرمایا: ”نیکی کے کام اختیار کرنا برائی کے کاموں سے بچنا اور خواص کے ساتھ میل جول رکھنا عوام سے اپنے آپ کو بچانا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7049]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 478، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح، خ: 478، وهذا إسناد حسن.