بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 7025
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 7025
حدیث نمبر: 7025 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، أَبُو سُفْيَانَ الْحَرَشِيُّ ، مُسْلِمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَمْرِو بْنِ حُرَيْشٍ الزُّبَيْدِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ الْحَرَشِيُّ ، وَكَانَ ثِقَةً فِيمَا ذَكَرَ أَهْلُ بِلَادِهِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُبَيْرٍ مَوْلَى ثَقِيفٍ، وَكَانَ مُسْلِمٌ رَجُلًا يُؤْخَذُ عَنْهُ، وَقَدْ أَدْرَكَ، وَسَمِعَ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْشٍ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: قُلْتُ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، إِنَّا بِأَرْضٍ لَسْنَا نَجِدُ بِهَا الدِّينَارَ وَالدِّرْهَمَ، وَإِنَّمَا أَمْوَالُنَا الْمَوَاشِي، فَنَحْنُ نَتَبَايَعُهَا بَيْنَنَا، فَنَبْتَاعُ الْبَقَرَةَ بِالشَّاةِ نَظِرَةً إِلَى أَجَلٍ، وَالْبَعِيرَ بِالْبَقَرَاتِ، وَالْفَرَسَ بِالْأَبَاعِرِ، كُلُّ ذَلِكَ إِلَى أَجَلٍ، فَهَلْ عَلَيْنَا فِي ذَلِكَ مِنْ بَأْسٍ؟ فَقَالَ عَلَى الْخَبِيرِ: سَقَطْتَ، أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبْعَثَ جَيْشًا عَلَى إِبِلٍ كَانَتْ عِنْدِي، قَالَ: فَحَمَلْتُ النَّاسَ عَلَيْهَا، حَتَّى نَفِدَتْ الْإِبِل، وَبَقِيَتْ بَقِيَّةٌ مِنَ النَّاسِ، قَالَ: فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْإِبِلُ قَدْ نَفِدَتْ، وَقَدْ بَقِيَتْ بَقِيَّةٌ مِنَ النَّاسِ لَا ظَهْرَ لَهُمْ، قَالَ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْتَعْ عَلَيْنَا إِبِلًا بِقَلَائِصَ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ إِلَى مَحِلِّهَا، حَتَّى نُنَفِّذَ هَذَا الْبَعْثَ"، قَالَ: فَكُنْتُ أَبْتَاعُ الْبَعِيرَ بِالْقَلُوصَيْنِ وَالثَّلَاثِ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ إِلَى مَحِلِّهَا، حَتَّى نَفَّذْتُ ذَلِكَ الْبَعْثَ، قَالَ: فَلَمَّا حَلَّتْ الصَّدَقَةُ أَدَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن حریش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہم لوگ ایسے علاقے میں ہوتے ہیں جہاں دینار یا درہم نہیں چلتے ہم ایک وقت مقررہ تک کے لئے اونٹ اور بکر ی کے بدلے خریدو فروخت کر لیتے ہیں آپ کی اس بارے کیا رائے ہے؟ کیا اس میں کوئی حرج ہے؟ انہوں نے فرمایا: تم نے ایک باخبر آدمی سے دریافت کیا ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک لشکر تیار کیا اس امید پر کہ صدقہ کے اونٹ آجائیں گے اونٹ ختم ہو گئے اور کچھ لوگ باقی بچ گئے (جنہیں سواری نہ مل سکی) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ہمارے لئے اس شرط پر اونٹ خرید کر لاؤ کہ صدقہ کے اونٹ پہنچنے پر وہ دے دیئے جائیں گے چنانچہ میں نے دو اونٹوں کے بدلے ایک اونٹ خریدا بعض اوقات تین کے بدلے بھی خریدا یہاں تک کہ میں فارغ ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صدقہ کے اونٹوں سے اس کی ادائیگی فرما دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7025]
حکم دارالسلام
حديث حسن.
الحكم: حديث حسن.
← پچھلی حدیث (7024) باب پر واپس اگلی حدیث (7026) →