مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَسْمَعُ مِنْكَ أَشْيَاءَ، أَفَأَكْتُبُهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قُلْتُ: فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا؟ قَالَ:" نَعَمْ، فَإِنِّي لَا أَقُولُ فِيهِمَا إِلَّا حَقًّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! میں آپ سے جو باتیں سنتا ہوں انہیں لکھ لیا کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! میں نے پوچھا رضامندی اور ناراضگی دونوں حالتوں میں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں کیونکہ میری زبان سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7020]
الحكم: صحيح لغيره.