بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
هود
سورۃ هود — 123 آیات — صفحہ 1 از 3
قرآن کریم Surah 11
الٓرٰ ۟ کِتٰبٌ اُحۡکِمَتۡ اٰیٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتۡ مِنۡ لَّدُنۡ حَکِیۡمٍ خَبِیۡرٍ ۙ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ا ل ر فرمان ہے، جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوئی ہیں، ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے
مولانا محمد جوناگڑھی
الرٰ، یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں محکم کی گئی ہیں، پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکیم باخبر کی طرف سے
احمد رضا خان بریلوی
یہ ایک کتاب ہے جس کی آیتیں حکمت بھری ہیں پھر تفصیل کی گئیں حکمت والے خبردار کی طرف سے،
علامہ محمد حسین نجفی
الف، لام، را، یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم اور مضبوط بنائی گئی ہیں اور پھر تفصیل کے ساتھ کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں یہ اس کی طرف سے ہے جو بڑا حکمت والا، بڑا باخبر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
الر ۔ ایک کتاب ہے جس کی آیات محکم کی گئیں، پھر انھیں کھول کر بیان کیا گیا ایک کمال حکمت والے کی طرف سے جو پوری خبر رکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تعارف قرآن حکیم ٭٭

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جو حروف سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان کی پوری تفصیل اس تفسیر کے شروع میں سورۃ البقرہ کے ان حروف کے بیان میں گزر چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں فرمان ہے کہ ’ یہ قرآن لفظوں میں محکم اور معنی میں مفصل ہے ‘۔ پس مضمون اور معنی ہر طرح سے کامل ہے۔ یہ اس للہ کا کلام ہے جو اپنے اقوال و احکام میں حکیم ہے۔ جو کاموں کے انجام سے خبردار ہے۔ یہ قرآن اللہ کی عبادت کرانے اور دوسروں کی عبادت سے روکنے کے لیے اترا ہے۔ سب رسولوں پر پہلی وحی توحید کی آتی رہی ہے، سب سے یہی فرمایا گیا ہے کہ لوگ اللہ کی عبادت کریں۔ اس کے سوا اور کسی کی پرستش نہ کریں۔ پھر فرمایا کہ ’ اللہ کی مخالفت کی وجہ سے جو عذاب آ جاتے ہیں ان سے میں ڈرا رہا ہوں اور اس کی اطاعت کی بنا پر جو ثواب ملتے ہیں، ان کی میں بشارت سناتا ہوں ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پر چڑھ کر قریش کے خاندانوں کو آواز دیتے ہیں۔ زیادہ قریب والے پہلے، پھر ترتیب وار جب سب جمع ہو جاتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے دریافت فرماتے ہیں کہ { اگر میں تم سے کہوں کہ کوئی لشکر صبح کو تم پر دھاوا کرنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ } انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے آج تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کوئی جھوٹ سنا ہی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { سنو میں تم سے کہتا ہوں کہ قیامت کے دن تمہاری ان بد اعمالیوں کی وجہ سے سخت تر عذاب ہو گا، پس تم ان سے ہوشیار ہو جاؤ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4770] ‏‏‏‏

پھر ارشاد ہے کہ ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی کہہ دو کہ میں تمہیں اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنے اور آئندہ کے لیے اللہ کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت کرتا ہوں اگر تم بھی ایسا ہی کرتے رہے تو دنیا میں بھی اچھی زندگی بسر کرو گے اور نیک عمل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ آخرت میں بھی بڑے بلند درجے عنایت فرمائے گا ‘۔ قرآن کریم نے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً وَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:97] ‏‏‏‏ میں فرمایا ہے کہ ’ جو مرد و عورت ایماندار ہو کر نیک عمل بھی کرتا رہے، اسے ہم پاکیزہ زندگی سے زندہ رکھیں گے ‘۔ صحیح حدیث میں بھی ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ { اللہ کی رضا مندی کی تلاش میں تو جو کچھ بھی خرچ کرے گا اس کا اجر اللہ تعالیٰ سے پائے گا، یہاں تک کہ جو لقمہ تو اپنی بیوی کے منہ میں دے اس کا بھی۔ فضل والوں کو اللہ تعالیٰ فضل دے گا } }۔ [صحیح بخاری:2742] ‏‏‏‏ یعنی گناہ تو برابر لکھا جاتا ہے اور نیکی دس گناہ لکھی جاتی ہے پھر اگر گناہ کی سزا دنیا میں ہی ہوگئی تو نیکیاں جوں کی توں باقی رہیں۔ اور اگر یہاں اس کی سزا نہ ملی تو زیادہ سے زیادہ ایک نیکی اس کے مقابل جا کر بھی نو نیکیاں بچ رہیں۔ پھر جس کی اکائیاں دھائیوں پر غالب آ جائیں وہ تو واقعی خود ہی بد اور برا ہے۔ پھر انہیں دھمکایا جاتا ہے جو اللہ کے احکام کی روگردانی کر لیں اور رسولوں کی نہ مانیں کہ ایسے لوگوں کو ضرور ضرور قیامت کے دن سخت عذاب ہوگا۔ تم سب کو لوٹ کر مالک ہی کے پاس جانا ہے، اسی کے سامنے جمع ہونا ہے۔ وہ ہرچیز پر قادر ہے، اپنے دوستوں سے احسان اپنے دشمنوں سے انتقام، مخلوق کی نئی پیدائش، سب اس کے قبضے میں ہے۔ پس پہلے رغبت دلائی اور اب ڈرایا۔
الر، یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں محکم کی گئی ہیں (1) پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں (2) ایک حکیم باخبر کی طرف سے (3)
اس سورت میں توحید کی دعوت، انبیاء کی اس دعوت کے دوران میں عزیمت اور ان پر گزرنے والے حالات و واقعات، انھیں جھٹلانے والوں کا بدترین انجام اور ان پر آنے والے عذابوں کے تذکرے اور اہل ایمان کی نجات اور ان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کا ذکر ہے۔ چونکہ اس میں انذار (ڈرانے)کا پہلو غالب ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا بہت اثر ہوا، چنانچہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: [ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَدْ شِبْتَ، قَالَ شَيَّبَتْنِيْ هُوْدٌ وَالْوَاقِعَةُ وَالْمُرْسَلاَتُ وَ { عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ۠} وَ { اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ } ] [ ترمذی، التفسیر، باب ومن سورۃ الواقعۃ: ۳۲۹۷۔ السلسلۃ الصحیحۃ: ۹۵۵ ] ”یا رسول اللہ! آپ بوڑھے ہو گئے۔“ فرمایا: ”مجھے ہود، واقعہ، مرسلات، عم یتساء لون اور تکویر نے بوڑھا کر دیا۔“ (آیت 1) ➊ {الٓرٰ:} دیکھیے سورۂ بقرہ کی پہلی آیت۔ ➋ {كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ:} یہاں قرآن کریم کی چار صفات بیان ہوئی ہیں، پہلی یہ کہ یہ قرآن (پڑھا جانے والا مجموعہ) کتاب (لکھا ہوا مجموعہ) بھی ہے، دوسری یہ کہ اس کی آیات محکم یعنی خوب پختہ، مضبوط اور اٹل نازل کی گئی ہیں، جن میں کوئی عیب یا کمی نہیں اور نہ وہ (مجموعی اعتبار سے) منسوخ ہیں، نہ منسوخ ہوں گی اور نہ اس کے مقابلے میں کوئی کتاب لائی جا سکتی ہے، خواہ ساری مخلوق جمع ہو جائے، ایسی محکم آیات والی کتاب صرف یہ ہے۔ ➌ { ثُمَّ فُصِّلَتْ:} تیسری یہ کہ اس کی آیات ایسی واضح ہیں اور کھول کر بیان کی گئی ہیں کہ کسی آیت کے مفہوم میں ابہام یا پیچیدگی نہیں ہے، پھر ساری کتاب مختلف سورتوں اور آیتوں میں تقسیم ہے۔ ہر آیت جدا جدا ہے، اپنی جگہ مستقل، ایک بے حد خوبصورت ہار کی طرح جو رنگا رنگ مضامین توحید، آخرت، نبوت، قصص کے موتیوں سے پرویا ہوا ہے اور وہ نہایت مناسب فاصلے، ترتیب اور حسن سے اپنی اپنی جگہ جگمگا رہے ہیں، پھر نزول میں بھی آیات اور سورتیں ضرورت کے مطابق الگ الگ نازل کی گئی ہیں۔ {” فُصِّلَتْ “} میں یہ سب باتیں آ جاتی ہیں۔ ➍ { مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ:} چوتھی یہ کہ یہ کسی انسان، فرشتے، جن یا کسی بھی مخلوق کی تصنیف نہیں، بلکہ اس ذات پاک کا کلام ہے جو حکیم ہے۔ حکیم کا ایک معنی پختہ و محکم بنانے والا ہے، جس کی بنائی ہوئی ہر چیز نہایت محکم، پختہ اور مضبوط ہے، فرمایا: «{ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ }» [ النمل: ۸۸ ] ”اس اللہ کی کاری گری سے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔“ یعنی پہاڑ اور ان کا قیامت کو بادلوں کی طرح چلنا اس اللہ کی کاری گری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔ جب اس کی مخلوق کا یہ حال ہے تو اس کے کلام کے محکم ہونے کی کوئی حد ہو گی؟ حکیم کا دوسرا معنی حکمت، یعنی دانائی والا ہے، یعنی اس کی تمام آیات کمال حکمت اور دانائی سے پُر ہیں، خبیر یعنی ان کو اتارنے والا ہر چیز سے پوری طرح باخبر ہے۔
اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ اِنَّنِیۡ لَکُمۡ مِّنۡہُ نَذِیۡرٌ وَّ بَشِیۡرٌ ۙ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہ تم بندگی نہ کرو مگر صرف اللہ کی میں اُس کی طرف سے تم کو خبردار کرنے والا بھی ہوں اور بشارت دینے والا بھی
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو میں تم کو اللہ کی طرف سے ڈرانے واﻻ اور بشارت دینے واﻻ ہوں
احمد رضا خان بریلوی
کہ بندگی نہ کرو مگر اللہ کی بیشک میں تمہارے لیے اس کی طرف سے ڈر اور خوشی سنانے والا ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
(اس کا خلاصہ یہ ہے کہ) اللہ کے سوا کسی کی عبادت (بندگی) نہ کرو بلاشبہ میں اس کی طرف سے تمہیں ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
یہ کہ اللہ کے سواکسی کی عبادت نہ کرو، بے شک میں تمھارے لیے اس کی طرف سے ایک ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تعارف قرآن حکیم ٭٭

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جو حروف سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان کی پوری تفصیل اس تفسیر کے شروع میں سورۃ البقرہ کے ان حروف کے بیان میں گزر چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں فرمان ہے کہ ’ یہ قرآن لفظوں میں محکم اور معنی میں مفصل ہے ‘۔ پس مضمون اور معنی ہر طرح سے کامل ہے۔ یہ اس للہ کا کلام ہے جو اپنے اقوال و احکام میں حکیم ہے۔ جو کاموں کے انجام سے خبردار ہے۔ یہ قرآن اللہ کی عبادت کرانے اور دوسروں کی عبادت سے روکنے کے لیے اترا ہے۔ سب رسولوں پر پہلی وحی توحید کی آتی رہی ہے، سب سے یہی فرمایا گیا ہے کہ لوگ اللہ کی عبادت کریں۔ اس کے سوا اور کسی کی پرستش نہ کریں۔ پھر فرمایا کہ ’ اللہ کی مخالفت کی وجہ سے جو عذاب آ جاتے ہیں ان سے میں ڈرا رہا ہوں اور اس کی اطاعت کی بنا پر جو ثواب ملتے ہیں، ان کی میں بشارت سناتا ہوں ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پر چڑھ کر قریش کے خاندانوں کو آواز دیتے ہیں۔ زیادہ قریب والے پہلے، پھر ترتیب وار جب سب جمع ہو جاتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے دریافت فرماتے ہیں کہ { اگر میں تم سے کہوں کہ کوئی لشکر صبح کو تم پر دھاوا کرنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ } انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے آج تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کوئی جھوٹ سنا ہی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { سنو میں تم سے کہتا ہوں کہ قیامت کے دن تمہاری ان بد اعمالیوں کی وجہ سے سخت تر عذاب ہو گا، پس تم ان سے ہوشیار ہو جاؤ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4770] ‏‏‏‏

پھر ارشاد ہے کہ ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی کہہ دو کہ میں تمہیں اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنے اور آئندہ کے لیے اللہ کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت کرتا ہوں اگر تم بھی ایسا ہی کرتے رہے تو دنیا میں بھی اچھی زندگی بسر کرو گے اور نیک عمل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ آخرت میں بھی بڑے بلند درجے عنایت فرمائے گا ‘۔ قرآن کریم نے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً وَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:97] ‏‏‏‏ میں فرمایا ہے کہ ’ جو مرد و عورت ایماندار ہو کر نیک عمل بھی کرتا رہے، اسے ہم پاکیزہ زندگی سے زندہ رکھیں گے ‘۔ صحیح حدیث میں بھی ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ { اللہ کی رضا مندی کی تلاش میں تو جو کچھ بھی خرچ کرے گا اس کا اجر اللہ تعالیٰ سے پائے گا، یہاں تک کہ جو لقمہ تو اپنی بیوی کے منہ میں دے اس کا بھی۔ فضل والوں کو اللہ تعالیٰ فضل دے گا } }۔ [صحیح بخاری:2742] ‏‏‏‏ یعنی گناہ تو برابر لکھا جاتا ہے اور نیکی دس گناہ لکھی جاتی ہے پھر اگر گناہ کی سزا دنیا میں ہی ہوگئی تو نیکیاں جوں کی توں باقی رہیں۔ اور اگر یہاں اس کی سزا نہ ملی تو زیادہ سے زیادہ ایک نیکی اس کے مقابل جا کر بھی نو نیکیاں بچ رہیں۔ پھر جس کی اکائیاں دھائیوں پر غالب آ جائیں وہ تو واقعی خود ہی بد اور برا ہے۔ پھر انہیں دھمکایا جاتا ہے جو اللہ کے احکام کی روگردانی کر لیں اور رسولوں کی نہ مانیں کہ ایسے لوگوں کو ضرور ضرور قیامت کے دن سخت عذاب ہوگا۔ تم سب کو لوٹ کر مالک ہی کے پاس جانا ہے، اسی کے سامنے جمع ہونا ہے۔ وہ ہرچیز پر قادر ہے، اپنے دوستوں سے احسان اپنے دشمنوں سے انتقام، مخلوق کی نئی پیدائش، سب اس کے قبضے میں ہے۔ پس پہلے رغبت دلائی اور اب ڈرایا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 2) ➊ { اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ:} یعنی یہ قرآن اس لیے نازل کیا گیا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، بلکہ ہر رسول کو اللہ تعالیٰ نے اسی لیے بھیجا، فرمایا: «{ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ }» [ الأنبیاء: ۲۵ ] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ سورۂ نحل (۳۶) میں بھی ہر رسول کے بھیجنے کا مقصد ایک اللہ کی عبادت کا حکم اور طاغوت سے اجتناب کی تاکید بیان فرمایا ہے۔ ➋ {اِنَّنِيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ وَّ بَشِيْرٌ: } چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اپنے گھر والوں ام المومنین خدیجہ، زید، علی اور اپنے خاص دوست ابوبکر رضی اللہ عنھم کے سامنے اللہ کا حکم پیش کیا، وہ ایمان لے آئے، پھر جب یہ آیت اتری: «{وَ اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ }» [ الشعراء: ۲۱۴ ] ”اور اپنے سب سے قریب رشتہ داروں کو ڈرا“ تو آپ نے کوہ صفا پر چڑھ کر قریش کے قبائل کو آواز دے کر جمع کیا اور ان تک اللہ کا پیغام پہنچایا۔ [ بخاری: ۴۷۷۰ ] پھر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے تحت: «{وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا }» [ سبا: ۲۸ ] تمام دنیا کے لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے اور اس کے ثواب کی خوش خبری کا پیغام پہنچانے کا کام شروع کیا۔ چنانچہ دوسرے ملکوں سے پہلے جزیرۂ عرب کے لوگوں تک نرمی اور محبت کے ساتھ اور پھر جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے سے یہ پیغام پہنچایا اور ان سب کو اسلام کے جھنڈے تلے جمع کیا، پھر تمام دنیا کے بادشاہوں کو خطوط لکھے، جن میں بشارت بھی تھی اور نذارت بھی۔ چنانچہ روم کے فرماں روان ہرقل کو خوش خبری دی کہ تم مسلمان ہو جاؤ تو سلامت بھی رہو گے اور اللہ تعالیٰ تمھیں دوہرا اجر دے گا اور ڈرایا بھی کہ اگر تم نے اسلام سے منہ موڑا تو تمھاری رعایا کے کفر کا بوجھ بھی تمھاری گردن پر ہو گا۔ [بخاری: ۷] دوسرے تمام حکمرانوں تک بھی یہ پیغام پہنچایا، پھر آپ کے خلفاء نے مشرق سے مغرب تک یہ پیغام پہنچا دیا۔
وَّ اَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ یُمَتِّعۡکُمۡ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّ یُؤۡتِ کُلَّ ذِیۡ فَضۡلٍ فَضۡلَہٗ ؕ وَ اِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ کَبِیۡرٍ ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ ایک مدت خاص تک تم کو اچھا سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ کہ تم لوگ اپنے گناه اپنے رب سے معاف کراؤ پھر اسی کی طرف متوجہ رہو، وه تم کو وقت مقرر تک اچھا سامان (زندگی) دے گا اور ہر زیاده عمل کرنے والے کو زیاده ﺛواب دے گا۔ اور اگر تم لوگ اعراض کرتے رہے تو مجھ کو تمہارے لیے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور یہ کہ اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف توبہ کرو تمہیں بہت اچھا برتنا (فائدہ اٹھانا) دے گا ایک ٹھہرائے وعدہ تک اور ہر فضیلت والے کو اس کا فضل پہنچائے گا اور اگر منہ پھیرو تو میں تم پر بڑے دن کے عذاب کا خوف کرتا ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ کہ اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو پھر اس کی بارگاہ میں توبہ کرو (اس کی طرف رجوع کرو) وہ تمہیں مقررہ مدت (تک زندگی کے) اچھے فوائد سے بہرہ مند کرے گا۔ اور ہر صاحبِ فضل (زیادہ عمل کرنے والے) کو اس کے درجہ کے مطابق عطا فرمائے گا اور اگر تم نے روگردانی کی تو میں تمہارے بارے میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ تمھیں ایک معین مدت تک اچھا ساز وسامان دے گا اور ہر زیادہ عمل والے کو اس کا زیادہ ثواب دے گا اور اگر تم پھر گئے تو یقینا میں تم پر ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تعارف قرآن حکیم ٭٭

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جو حروف سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان کی پوری تفصیل اس تفسیر کے شروع میں سورۃ البقرہ کے ان حروف کے بیان میں گزر چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں فرمان ہے کہ ’ یہ قرآن لفظوں میں محکم اور معنی میں مفصل ہے ‘۔ پس مضمون اور معنی ہر طرح سے کامل ہے۔ یہ اس للہ کا کلام ہے جو اپنے اقوال و احکام میں حکیم ہے۔ جو کاموں کے انجام سے خبردار ہے۔ یہ قرآن اللہ کی عبادت کرانے اور دوسروں کی عبادت سے روکنے کے لیے اترا ہے۔ سب رسولوں پر پہلی وحی توحید کی آتی رہی ہے، سب سے یہی فرمایا گیا ہے کہ لوگ اللہ کی عبادت کریں۔ اس کے سوا اور کسی کی پرستش نہ کریں۔ پھر فرمایا کہ ’ اللہ کی مخالفت کی وجہ سے جو عذاب آ جاتے ہیں ان سے میں ڈرا رہا ہوں اور اس کی اطاعت کی بنا پر جو ثواب ملتے ہیں، ان کی میں بشارت سناتا ہوں ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پر چڑھ کر قریش کے خاندانوں کو آواز دیتے ہیں۔ زیادہ قریب والے پہلے، پھر ترتیب وار جب سب جمع ہو جاتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے دریافت فرماتے ہیں کہ { اگر میں تم سے کہوں کہ کوئی لشکر صبح کو تم پر دھاوا کرنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ } انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے آج تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کوئی جھوٹ سنا ہی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { سنو میں تم سے کہتا ہوں کہ قیامت کے دن تمہاری ان بد اعمالیوں کی وجہ سے سخت تر عذاب ہو گا، پس تم ان سے ہوشیار ہو جاؤ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4770] ‏‏‏‏

پھر ارشاد ہے کہ ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی کہہ دو کہ میں تمہیں اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنے اور آئندہ کے لیے اللہ کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت کرتا ہوں اگر تم بھی ایسا ہی کرتے رہے تو دنیا میں بھی اچھی زندگی بسر کرو گے اور نیک عمل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ آخرت میں بھی بڑے بلند درجے عنایت فرمائے گا ‘۔ قرآن کریم نے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً وَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:97] ‏‏‏‏ میں فرمایا ہے کہ ’ جو مرد و عورت ایماندار ہو کر نیک عمل بھی کرتا رہے، اسے ہم پاکیزہ زندگی سے زندہ رکھیں گے ‘۔ صحیح حدیث میں بھی ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ { اللہ کی رضا مندی کی تلاش میں تو جو کچھ بھی خرچ کرے گا اس کا اجر اللہ تعالیٰ سے پائے گا، یہاں تک کہ جو لقمہ تو اپنی بیوی کے منہ میں دے اس کا بھی۔ فضل والوں کو اللہ تعالیٰ فضل دے گا } }۔ [صحیح بخاری:2742] ‏‏‏‏ یعنی گناہ تو برابر لکھا جاتا ہے اور نیکی دس گناہ لکھی جاتی ہے پھر اگر گناہ کی سزا دنیا میں ہی ہوگئی تو نیکیاں جوں کی توں باقی رہیں۔ اور اگر یہاں اس کی سزا نہ ملی تو زیادہ سے زیادہ ایک نیکی اس کے مقابل جا کر بھی نو نیکیاں بچ رہیں۔ پھر جس کی اکائیاں دھائیوں پر غالب آ جائیں وہ تو واقعی خود ہی بد اور برا ہے۔ پھر انہیں دھمکایا جاتا ہے جو اللہ کے احکام کی روگردانی کر لیں اور رسولوں کی نہ مانیں کہ ایسے لوگوں کو ضرور ضرور قیامت کے دن سخت عذاب ہوگا۔ تم سب کو لوٹ کر مالک ہی کے پاس جانا ہے، اسی کے سامنے جمع ہونا ہے۔ وہ ہرچیز پر قادر ہے، اپنے دوستوں سے احسان اپنے دشمنوں سے انتقام، مخلوق کی نئی پیدائش، سب اس کے قبضے میں ہے۔ پس پہلے رغبت دلائی اور اب ڈرایا۔
3۔ 1 یہاں اس سامان دنیا کو جس کو قرآن نے عام طور پر ' متاع غرور ' دھوکے کا سامان کہا ہے، یہاں اسے ' متاع حسن ' قرار دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو آخرت سے غافل ہو کر متاع دنیا سے استفادہ کرلے گا، اس کے لئے یہ متاع غرور ہے، کیونکہ اس کے بعد اسے برے انجام سے دو چار ہونا ہے اور جو آخرت کی تیاری کے ساتھ ساتھ اس سے فائدہ اٹھائے گا، اس کے لئے یہ چند روزہ سامان زندگی متاع حسن ہے، کیونکہ اس نے اللہ کے احکام کے مطابق برتا ہے۔ 3۔ 2 بڑے دن سے مراد قیامت کا دن ہے۔
(آیت 3) ➊ {وَ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَيْهِ:} پچھلی آیت میں {” اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ “} سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں استغفار اور توبہ سے مراد غیر اللہ کی عبادت سے استغفار اور توبہ ہے، یعنی تم اللہ کے ساتھ جو بھی شرک اور اس کی نافرمانیاں کر چکے ہو ان کی معافی اور بخشش مانگو، مگر اس استغفار کا فائدہ تب ہے کہ ان گناہوں سے واپس پلٹ آؤ اور آئندہ کے لیے نہ کرنے کا خلوصِ دل سے عزم کرو، پھر اگر انسانی کمزوری سے کوئی گناہ ہو جائے تو پھر معافی مانگو اور ساتھ ہی آئندہ کے لیے خلوص دل سے پھر توبہ کرو اور یہ سلسلہ ساری زندگی ہر لغزش پر، خواہ کتنی بار بھی ہو جائے جاری رکھو۔ نہ گناہ کے بعد معافی مانگنے میں دیر کرو اور نہ معافی مانگنے کے ساتھ توبہ میں۔ تب استغفار اور توبہ کا فائدہ ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۷، ۱۸)۔ ➋ { يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى:} اس میں استغفار اور توبہ کا کمال فائدہ بیان فرمایا ہے۔ یہ دنیا جسے اللہ تعالیٰ نے متاع غرور بتایا ہے، اسے اللہ تعالیٰ استغفار اور توبہ کرنے والے مومن کے لیے موت تک متاع حسن بنا دے گا۔ وہ دنیا کی نعمتوں سے سرفراز ہو کر بھی متاع غرور کے بجائے متاع حسن سے فائدہ اٹھائے گا۔ وہ استغفار اور توبہ کے ساتھ اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں بسر کرے گا، تو اس کی نفسانی لذتیں بھی اس کے لیے ثواب بن جائیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا: [ وَلَسْتَ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِيْ بِهَا وَجْهَ اللّٰهِ إِلاَّ أُجِرْتَ بِهَا وَ فِيْ رِوَايَةِ الْبُخَارِيِّ: فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ حَتَّي اللُّقْمَةَ تَجْعَلُهَا فِيْ فِيْ امْرَأَتِكَ ] [ مسلم، الوصیۃ، باب الوصیۃ بالثلث: ۱۶۲۸۔ بخاری: ۲۷۴۲ ] ”تم جو بھی خرچ کرو گے، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا چاہو گے، اس پر تمھیں اجر دیا جائے گا (بخاری کے الفاظ ہیں کہ وہی صدقہ بن جائے گا) یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے۔“ ایسے مومن کو دنیا میں حیات طیبہ عطا ہوتی ہے (خواہ بظاہر وہ مصیبت میں گرفتار ہو) اور آخرت کا بہترین اجر عطا ہو گا۔ دیکھیے سورۂ نحل (۹۷) عمل صالح اور استغفار کی بے شمار برکات اور فوائد ہیں، چند فوائد کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۵۲، ۶۱، ۹۰)۔ ➌ { وَ يُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ: ”فَضْلٍ“ }کا معنی زائد ہے، یعنی جو اطاعت اور نیک اعمال میں جتنا زیادہ ہو گا اسے اللہ تعالیٰ دنیا یا آخرت یا دونوں میں زیادہ اجر دے گا۔ اللہ کے ہاں کسی چیز کی کمی نہیں ہے، اس کا قاعدہ ہے کہ جو کوئی برائی کرتا ہے اس کے لیے ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے اور جو نیکی کرتا ہے اس کے لیے کم از کم دس(۱۰)نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور زیادہ سے زیادہ کا کوئی حساب نہیں، فرمایا: «{ وَ اللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ }» [ النور: ۳۸ ] ”اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔“ ایک مطلب یہ بھی ہے کہ صدقہ عموماً اپنی ضرورت سے زائد چیز ہی کا کیا جاتا ہے، تو ہر شخص جو اپنی ضرورت سے زائد چیز اللہ کی راہ میں خرچ کر دے، تو اللہ تعالیٰ اسے ہر گز کمی نہیں ہونے دے گا، بلکہ اس کی زائد چیز ضرور اسے دے گا، پھر جو اپنی ضرورت کے باوجود صدقہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس پر کس قدر فضل فرمائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِّنْ مَّالٍ ] [ مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب استحباب العفو والتواضع: ۲۵۸۸، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”کوئی صدقہ کسی مال میں کمی نہیں کرتا۔“ ➍ {وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّيْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْرٍ:} بہت بڑے دن کے عذاب سے، یعنی میں تم پر دنیا کے عذاب کے علاوہ آخرت کے دن کے عذاب سے بھی ڈرتا ہوں، جو بہت بڑا، یعنی پچاس ہزار سال کا دن ہے اور جس کے بعد پھر کفار کے لیے ہمیشہ کا عذاب ہے۔
اِلَی اللّٰہِ مَرۡجِعُکُمۡ ۚ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم کو اللہ ہی کے پاس جانا ہے اور وه ہر شے پر پوری قدرت رکھتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تمہیں اللہ ہی کی طرف پھرنا ہے اور وہ ہر شے پر قادر
علامہ محمد حسین نجفی
تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ ہی کی طرف تمھارا لوٹنا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تعارف قرآن حکیم ٭٭

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جو حروف سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان کی پوری تفصیل اس تفسیر کے شروع میں سورۃ البقرہ کے ان حروف کے بیان میں گزر چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں فرمان ہے کہ ’ یہ قرآن لفظوں میں محکم اور معنی میں مفصل ہے ‘۔ پس مضمون اور معنی ہر طرح سے کامل ہے۔ یہ اس للہ کا کلام ہے جو اپنے اقوال و احکام میں حکیم ہے۔ جو کاموں کے انجام سے خبردار ہے۔ یہ قرآن اللہ کی عبادت کرانے اور دوسروں کی عبادت سے روکنے کے لیے اترا ہے۔ سب رسولوں پر پہلی وحی توحید کی آتی رہی ہے، سب سے یہی فرمایا گیا ہے کہ لوگ اللہ کی عبادت کریں۔ اس کے سوا اور کسی کی پرستش نہ کریں۔ پھر فرمایا کہ ’ اللہ کی مخالفت کی وجہ سے جو عذاب آ جاتے ہیں ان سے میں ڈرا رہا ہوں اور اس کی اطاعت کی بنا پر جو ثواب ملتے ہیں، ان کی میں بشارت سناتا ہوں ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پر چڑھ کر قریش کے خاندانوں کو آواز دیتے ہیں۔ زیادہ قریب والے پہلے، پھر ترتیب وار جب سب جمع ہو جاتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے دریافت فرماتے ہیں کہ { اگر میں تم سے کہوں کہ کوئی لشکر صبح کو تم پر دھاوا کرنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ } انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے آج تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کوئی جھوٹ سنا ہی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { سنو میں تم سے کہتا ہوں کہ قیامت کے دن تمہاری ان بد اعمالیوں کی وجہ سے سخت تر عذاب ہو گا، پس تم ان سے ہوشیار ہو جاؤ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4770] ‏‏‏‏

پھر ارشاد ہے کہ ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی کہہ دو کہ میں تمہیں اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنے اور آئندہ کے لیے اللہ کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت کرتا ہوں اگر تم بھی ایسا ہی کرتے رہے تو دنیا میں بھی اچھی زندگی بسر کرو گے اور نیک عمل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ آخرت میں بھی بڑے بلند درجے عنایت فرمائے گا ‘۔ قرآن کریم نے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً وَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:97] ‏‏‏‏ میں فرمایا ہے کہ ’ جو مرد و عورت ایماندار ہو کر نیک عمل بھی کرتا رہے، اسے ہم پاکیزہ زندگی سے زندہ رکھیں گے ‘۔ صحیح حدیث میں بھی ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ { اللہ کی رضا مندی کی تلاش میں تو جو کچھ بھی خرچ کرے گا اس کا اجر اللہ تعالیٰ سے پائے گا، یہاں تک کہ جو لقمہ تو اپنی بیوی کے منہ میں دے اس کا بھی۔ فضل والوں کو اللہ تعالیٰ فضل دے گا } }۔ [صحیح بخاری:2742] ‏‏‏‏ یعنی گناہ تو برابر لکھا جاتا ہے اور نیکی دس گناہ لکھی جاتی ہے پھر اگر گناہ کی سزا دنیا میں ہی ہوگئی تو نیکیاں جوں کی توں باقی رہیں۔ اور اگر یہاں اس کی سزا نہ ملی تو زیادہ سے زیادہ ایک نیکی اس کے مقابل جا کر بھی نو نیکیاں بچ رہیں۔ پھر جس کی اکائیاں دھائیوں پر غالب آ جائیں وہ تو واقعی خود ہی بد اور برا ہے۔ پھر انہیں دھمکایا جاتا ہے جو اللہ کے احکام کی روگردانی کر لیں اور رسولوں کی نہ مانیں کہ ایسے لوگوں کو ضرور ضرور قیامت کے دن سخت عذاب ہوگا۔ تم سب کو لوٹ کر مالک ہی کے پاس جانا ہے، اسی کے سامنے جمع ہونا ہے۔ وہ ہرچیز پر قادر ہے، اپنے دوستوں سے احسان اپنے دشمنوں سے انتقام، مخلوق کی نئی پیدائش، سب اس کے قبضے میں ہے۔ پس پہلے رغبت دلائی اور اب ڈرایا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 4) {اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ …: ” اِلَى اللّٰهِ “ } کے پہلے آنے سے حصر پیدا ہوگیا، یعنی اگر تمھیں آخرت کے عذاب کا اس لیے خوف نہیں کہ تم اس دن کے منکر ہو تو یاد رکھو کہ اللہ کے سوا تم کہیں جا ہی نہیں سکتے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھنے والا ہے۔ جب اس نے پہلی دفعہ تمھیں پیدا کیا تو دوبارہ اپنے پاس حاضر کیوں نہیں کر سکتا۔
اَلَاۤ اِنَّہُمۡ یَثۡنُوۡنَ صُدُوۡرَہُمۡ لِیَسۡتَخۡفُوۡا مِنۡہُ ؕ اَلَا حِیۡنَ یَسۡتَغۡشُوۡنَ ثِیَابَہُمۡ ۙ یَعۡلَمُ مَا یُسِرُّوۡنَ وَ مَا یُعۡلِنُوۡنَ ۚ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
دیکھو! یہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ اس سے چھپ جائیں خبردار! جب یہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں، اللہ ان کے چھپے کو بھی جانتا ہے اور کھلے کو بھی، وہ تو اُن بھیدوں سے بھی واقف ہے جو سینوں میں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یاد رکھو وه لوگ اپنے سینوں کو دہرا کیے دیتے ہیں تاکہ اپنی باتیں (اللہ) سے چھپا سکیں۔ یاد رکھو کہ وه لوگ جس وقت اپنے کپڑے لپیٹتے ہیں وه اس وقت بھی سب جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وه ﻇاہر کرتے ہیں۔ بالیقین وه دلوں کے اندر کی باتیں جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
سنو وہ اپنے سینے دوہرے کرتے (منہ چھپاتے) ہیں کہ اللہ سے پردہ کریں سنو جس وقت وہ اپنے کپڑوں سے سارا بدن ڈھانپ لیتے ہیں اس وقت بھی اللہ ان کا چھپا اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے بیشک وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
آگاہ ہو جاؤ یہ (منافق) لوگ اپنے سینوں کو دوہرا کر رہے ہیں تاکہ اس (اللہ یا رسول) سے چھپ جائیں مگر یاد رکھو جب یہ لوگ اپنے (سارے) کپڑے اپنے اوپر اوڑھ لیتے ہیں تو (تب بھی) وہ (اللہ) وہ بھی جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور وہ بھی جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں (کیونکہ) بے شک وہ تو ان رازوں سے بھی خوف واقف ہے جو سینوں کے اندر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
سن لو! بلاشبہ وہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں، تاکہ اس سے اچھی طرح چھپے رہیں، سن لو! جب وہ اپنے کپڑے اچھی طرح لپیٹ لیتے ہیں وہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ بے شک وہ سینوں والی بات کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اندھیروں کی چادروں میں موجود ہر چیز کو دیکھتا ہے ٭٭

ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرآت میں «تَـثْـنُـوْنـِیْ» ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”کچھ لوگ اس میں حیاء کرتے تھے کہ کھلی ہوئی جگہ میں حاجت کے لیے بیٹھنے میں، آسمان کی طرف ستر کھولنے میں، اس طرح صحبت کرتے وقت آسمان کی طرف کھولنے میں پروردگار سے شرماتے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4681] ‏‏‏‏ وہ اپنے سروں کو ڈھاپ لیتے اور یہ بھی مراد ہے کہ وہ اللہ کے بارے میں شک کرتے تھے اور کام برائی کے کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ ”برے کام یا برے عمل کے وقت وہ جھک جھک کر اپنے سینے دوہرے کر ڈالتے گویا کہ وہ اللہ سے شرما رہے ہیں، اور اس سے چھپ رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ راتوں کو کپڑے اوڑھے ہوئے بھی جو تم کرتے ہو اس سے بھی اللہ تو خبردار ہے۔ جو چھپاؤ جو کھولو، جو دلوں اور سینوں میں رکھو، وہ سب کو جانتا ہے، دل کے بھید سینے کے راز اور ہر ایک پوشیدگی اس پر ظاہر ہے ‘۔ زہیر بن ابوسلمہ اپنے مشہور معلقہ میں کہتا ہے کہ ”تمہارے دلوں کی کوئی بات اللہ تعالیٰ پر چھپی ہوئی نہیں، تم گو کسی خیال میں ہو لیکن یاد رکھو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ ممکن ہے کہ تمہارے بد خیالات پر وہ تمہیں یہیں سزا کرے اور ہو سکتا ہے کہ وہ نامہ اعمال میں لکھ لیے جائیں اور قیامت کے دن پیش کئے جائیں“ یہ جاہلیت کا شاعر ہے۔ اسے اللہ کا، اس کے کامل علم کا، قیامت کا اور اس دن کی جزا سزا کا، اعمال نامے کا اور قیامت کے دن اس کے پیش ہونے کا اقرار ہے۔

اس آیت کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ’ یہ لوگ جب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وعلیہ وسلم کے پاس سے گزرتے تو سینہ موڑ لیتے اور سر ڈھانپ لیتے ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17953:مرسل] ‏‏‏‏ آیت میں «لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ» ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ سے چھپنا چاہتے ہیں یہی اولیٰ ہے کیونکہ اسی کے بعد ہے کہ جب یہ لوگ سوتے وقت کپڑے اوڑھ لیتے ہیں اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کو ان کے تمام افعال کا جو وہ چھپ کر کریں اور جو ظاہر کریں علم ہوتا ہے ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «أَلَا إِنِّهُمْ تَثْنُونِي صُدُورُهُمْ» ہے۔ اس قرأت پر بھی معنی تقریباً یکساں ہیں۔
5۔ 1 اس کی شان نزول میں مفسرین کا اختلاف ہے، اس لئے اس کے مفہوم میں بھی اختلاف ہے۔ تاہم صحیح بخاری (تفسیر سورت ہود) میں بیان کردہ شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو غلبہ حیا کی وجہ سے قضائے حاجت اور بیوی سے ہم بستری کے وقت برہنہ ہونا پسند نہیں کرتے تھے کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے، اس لئے ایسے موقع پر وہ شرم گاہ کو چھپانے کے لئے اپنے سینوں کو دوہرا کرلیتے تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ رات کے اندھیرے میں جب وہ بستروں میں اپنے آپ کو کپڑوں میں ڈھانپ لیتے تھے، تو اس وقت بھی وہ ان کو دیکھتا اور ان کی چھپی اور اعلانیہ باتوں کو جانتا ہے۔ مطلب یہ کہ شرم و حیا کا جذبہ اپنی جگہ بہت اچھا ہے لیکن اس میں اتنا غلو اور افراط بھی صحیح نہیں، اس لئے کہ جس ذات کی خاطر وہ ایسا کرتے ہیں اس سے تو پھر بھی وہ نہیں چھپ سکتے، تو پھر اس طرح کے تکلف کا کیا فائدہ؟
(آیت 5){ اَلَاۤ اِنَّهُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ …: ” يَثْنُوْنَ “ ” ثَنَي يَثْنِيْ“} (ض) سے فعل مضارع جمع مذکر غائب ہے۔ اس کا معنی ہے دوہرا کرنا، موڑنا۔ دوسرے عدد کو ثانی اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ واحد کو دو بنا دیتا ہے۔{ ” لِيَسْتَخْفُوْا مِنْهُ”اِخْتَفَي يَخْتَفِيْ“} کا معنی چھپنا اور استفعال کی سین اور تاء کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہو گیا۔ اسی طرح {” يَسْتَغْشُوْنَ “} میں بھی سین اور تاء کے اضافے نے معنی میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے متعلق مشرکین کے جہل اور لاعلمی کی انتہا بیان ہوئی ہے، جیسا کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ان کا حال بیان فرمایا: «{ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ }» [ حٰمٓ السجدۃ: ۲۲ ] ”اور تم اس سے پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمھارے خلاف تمھارے کان گواہی دیں گے اور نہ تمھاری آنکھیں اور نہ تمھارے چمڑے اور لیکن تم نے گمان کیا کہ بے شک اللہ بہت سے کام جو تم کرتے ہو، نہیں جانتا۔“ گویا ان کے خیال میں اللہ تعالیٰ سے چھپ کر بھی کچھ کام ہو سکتے ہیں جن کا اسے پتا نہ چلے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا: [ اِجْتَمَعَ عِنْدَ الْبَيْتِ ثَقَفِيَّانِ وَ قُرَشِيٌّ، أَوْ قُرشِيَّانِ وَ ثَقِفِيٌّ، كَثِيْرَةٌ شَحْمُ بُطُوْنِهِمْ قَلِيْلَةٌ فِقْهُ قُلُوْبِهِمْ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: أَتَرَونَ أنَّ اللّٰهَ يَسْمَعُ مَا نَقُوْلُ؟ قَالَ الْاَخَرُ: يَسْمَعُ إِنْ جَهَرْنَا وَلاَ يَسْمَعُ إِنْ أَخْفَيْنَا، وَ قَالَ الْآخَرُ: إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذْا جَهَرْنَا فَإِنَّهٗ يَسْمَعُ إِذْا أَخْفَيْنَا، فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰی: «‏‏‏‏وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ» ‏‏‏‏ ] ”کعبہ کے پاس دو قریشی اور ایک ثقفی یا دو ثقفی اور ایک قریشی جمع ہوئے، جن کے پیٹوں کی چربی بہت تھی اور دلوں کی سمجھ بہت کم تھی، تو ان میں سے ایک نے کہا: ”کیا تم سمجھتے ہو کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اللہ تعالیٰ اسے سن رہا ہے؟“ دوسرے نے کہا: ”اگر ہم بلند آواز سے بات کریں تو سنتا ہے، اگر آہستہ کریں تو نہیں۔“ تو اگلے نے کہا: ”اگر وہ اس وقت سنتا ہے جب ہم بلند آواز سے بولتے ہیں تو یقینا وہ اس وقت بھی سنتا ہے جب ہم آہستہ بات کرتے ہیں۔“ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «{ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ[حٰمٓ السجدۃ: ۲۲] [ بخاری، التوحید، باب قول اللہ عزوجل: «‏‏‏‏وما کنتم تستترون …» : ۷۵۲۱ ] اس سے معلوم ہوا کہ کئی جاہل مشرکین یہ بھی سمجھتے تھے کہ آہستہ بات کریں تو اللہ تعالیٰ کو پتا نہیں چلتا۔ تو معلوم ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے، البتہ جب بھی اللہ کی ناراضگی والا کوئی کام کرتے تو خوب چھپ کر تاکہ اللہ تعالیٰ سے چھپے رہیں، اسے پتا نہ چل جائے، کبھی کپڑوں اور دیواروں کے پردے کے پیچھے، کبھی سینہ دوہرا کرکے حاصل ہونے والی پوشیدگی کے ذریعے سے، مثلاً ملاوٹ کرنے کے لیے، دھوکا دینے کے لیے یا کوئی اور شنیع فعل کرنے کے لیے سینہ دوہرا کرکے اپنے خیال میں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ سے چھپا لیتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یاد رکھو! خوب اچھی طرح کپڑے لپیٹ کر بھی تم جو کچھ کرتے ہو اسے بھی وہ جانتا ہے، بلکہ اس سے بھی کہیں آگے جو کچھ سینوں کے حصار میں محفوظ دل کے اندر باتیں ہیں وہ انھیں بھی خوب جانتا ہے، اس لیے تمھارے یہ خیال اور یہ حرکات لغو اور باطل ہیں، ان کا تمھیں کچھ فائدہ نہیں۔ ایک تفسیر یہ ہے کہ اوپر جو فرمایا تھا: «{ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّيْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْرٍ }» (اور اگر تم پھر جاؤ تو یقینا میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں) وہاں ظاہری اور جسمانی طور پر منہ پھیرنا مراد تھا اور یہاں دل سے اعراض مراد ہے، کیونکہ سینے سے مراد دل ہوتا ہے، جیسا کہ {” عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ “} سے بھی ظاہر ہے۔ {” يَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ “} گویا سینے کو موڑنا محاورہ ہے، مراد دل کو موڑنا، اعراض کرنا، غلط سوچنا، بے اصل شبہات سے اپنے دل کو تسلی دینا، عقائد حقہ سے اعراض کرنا وغیرہ ہے، کیونکہ یہاں صدور سے مراد علوم صدر ہیں۔ (فتح الرحمان از شاہ ولی اللہ) مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے سینوں میں جو کفر و عناد رکھتے ہیں اسے چھپا کر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے چھپے ہوئے رازوں کی اطلاع نہ ہونے پائے۔ (شوکانی) یہ دونوں حوالے ہمارے استاذ مرحوم نے اشرف الحواشی میں نقل کیے ہیں۔ صحیح بخاری میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے ایک اور ہی مطلب منقول ہے کہ ایک صاحب نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو انھوں نے فرمایا: ”کچھ لوگ اس سے حیا کرتے تھے کہ قضائے حاجت کے وقت اپنی شرم گاہوں کو آسمان کے سامنے ننگا کریں اور اپنی بیویوں سے جماع کریں تو شرم گاہوں کو آسمان کے سامنے ظاہر کریں، تو یہ آیت ان کے بارے میں اتری۔“ [ بخاری، التفسیر، باب: { ألا إنہم یثنون صدورھم… }: ۴۶۸۱، ۴۶۸۲ ] اس شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت ان مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو غلبۂ حیا کی وجہ سے قضائے حاجت اور ہم بستری کے وقت ننگا ہونے سے پرہیز کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ اس لیے وہ ایسے موقعوں پر شرم گاہ کو چھپانے کے لیے اپنے سینے کو دہرا کر لیتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رات کے اندھیرے میں جب وہ بستروں میں اپنے آپ کو ڈھانپ لیتے ہیں تو اس وقت بھی وہ ان کو دیکھتا اور ان کی چھپی اور علانیہ باتوں کو جانتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شرم و حیا کا جذبہ اپنی جگہ بہت اچھا ہے، لیکن اس میں اتنا غلو اور زیادتی بھی صحیح نہیں، اس لیے کہ جس ذات کی خاطر وہ ایسا کرتے ہیں اس سے تو وہ پھر بھی چھپ نہیں سکتے تو پھر اس طرح کے تکلف کا کیا فائدہ؟ اگرچہ یہ تفسیرحبر الامہ سے حدیث کی صحیح ترین کتاب صحیح بخاری میں آئی ہے اور بلاشبہ درست ہے، مگر اکثر مفسرین نے فرمایا کہ آیات کے سیاق کے مطابق یہ آیت کفار کے رویے ہی سے تعلق رکھتی ہے، کیونکہ پہلے اور بعد میں مسلسل انھی کا ذکر ہو رہا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی تفسیر کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیت ان مسلمانوں پر بھی صادق آتی ہے جو حیا کے جذبے سے ایسا کرتے تھے۔ اصول تفسیر میں اہل علم نے یہ بات واضح فرمائی ہے کہ صحابہ و تابعین کسی آیت کے متعلق جہاں بھی وہ منطبق ہوتی اور صادق آتی ہو کہہ دیتے ہیں{ ”نَزَلَتْ فِيْ كَذَا“} کہ یہ آیت فلاں چیز کے بارے میں اتری، اس لیے ایک ہی آیت کے کئی شان نزول صحابہ و تابعین سے مروی ہوتے ہیں اور ان میں کوئی تضاد نہیں ہوتا بلکہ سبھی مراد ہو سکتے ہیں۔ البتہ یہ عین ممکن ہے کہ آیت کے نزول کے وقت یا اس کے قریب ان میں سے کوئی ایک واقعہ یا چند واقعات ہی ظہور پذیر ہوئے ہوں اور دوسرے واقعات انطباق کی وجہ سے شان نزول قرار دے دیے گئے ہوں۔
وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزۡقُہَا وَ یَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّہَا وَ مُسۡتَوۡدَعَہَا ؕ کُلٌّ فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو اور جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہو کہ کہاں وہ رہتا ہے اور کہاں وہ سونپا جاتا ہے، سب کچھ ایک صاف دفتر میں درج ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالیٰ پر ہیں وہی ان کے رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہےاور ان کے سونپے جانے کی جگہ کو بھی، سب کچھ واضح کتاب میں موجود ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہٴ کرم پر نہ ہو اور جانتا ہے کہ کہاں ٹھہرے گا اور کہاں سپرد ہوگا سب کچھ ایک صاف بیان کرنے والی کتاب میں ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور زمین میں کوئی چلنے پھرنے والا جانور نہیں ہے مگر یہ کہ اس کا رزق خدا کے ذمے ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کا مستقل ٹھکانہ کہاں ہے اور اس کے سونپے جانے (کم رہنے) کی جگہ کہاں ہے؟ سب کچھ ایک واضح کتاب میں محفوظ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور زمین میں کوئی چلنے والا (جاندار) نہیں مگر اس کا رزق اللہ ہی پر ہے اور وہ اس کے ٹھہرنے کی جگہ اور اس کے سونپے جانے کی جگہ کو جانتا ہے، سب کچھ ایک واضح کتاب میں درج ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر مخلوق کا روزی رساں ٭٭

ہر ایک چھوٹی بڑی، خشکی، تری کی مخلوق کا روزی رساں ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی ان کے چلنے پھرنے آنے جانے، رہنے سہنے، مرنے جینے اور ماں کے رحم میں قرار پکڑنے اور باپ کی پیٹھ کی جگہ کو جانتا ہے۔ امام بن ابی حاتم نے اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کرام کے بہت سے اقوال ذکر کئے ہیں «فَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ تمام باتیں اللہ کے پاس کی واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہیں جسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا طٰىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ زمین پر چلنے والے جانور اور اپنے پروں پر اڑنے والے پرند سب کے سب تم جیسی ہی امتیں ہیں، ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر سب کے سب اپنے پروردگار کی طرف جمع کئے جائیں گے ‘۔ اور فرمان ہے «وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [6-الأنعام:59] ‏‏‏‏ یعنی ’ غیب کی کنجیاں اسی اللہ کے پاس ہیں۔ انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ خشکی تری کی تمام چیزوں کا اسے علم ہے جو پتہ جھڑتا ہے اس کے علم میں ہے کوئی دانہ زمین کے اندھیروں میں اور کوئی تر و خشک چیز ایسی نہیں جو واضح کتاب میں نہ ہو ‘۔
6۔ 1 یعنی وہ کفیل اور ذمے دار ہے۔ زمین پر چلنے والی ہر مخلوق، انسان ہو یا جن، چرند ہو یا پرند، چھوٹی ہو یا بڑی، بحری ہو یا بری۔ ہر ایک کو اس کی ضروریات کے مطابق وہ خوراک مہیا کرتا ہے۔ 6۔ 2 مستقر اور مستودع کی تعریف میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک منتہائے سیر (یعنی زمین میں چل پھر کر جہاں رک جائے) مستقر ہے اور جس کو ٹھکانا بنائے وہ مستودع ہے۔ بعض کے نزدیک رحم مادر مستقر اور باپ کی صلب مستودع ہے اور بعض کے نزدیک زندگی میں انسان یا حیوان جہاں رہائش پذیر ہو وہ اس کا مستقر ہے اور جہاں مرنے کے بعد دفن ہو وہ مستودع ہے تفسیر ابن کثیر امام شوکانی کہتے ہیں مستقر سے مراد رحم مادر اور مستودع سے وہ حصہ زمین ہے جس میں دفن ہو اور امام حاکم کی ایک روایت کی بنیاد پر اسی کو ترجیح دی ہے بہرحال جو بھی مطلب لیا جائے آیت کا مفہوم واضح ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کو ہر ایک کے مستقر ومستودع کا علم ہے اس لیے وہ ہر ایک کو روزی پہنچانے پر قادر ہے اور ذمے دار ہے اور وہ اپنی ذمے داری پوری کرتا ہے۔
(آیت 6) ➊ {وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِي الْاَرْضِ …:” دَآبَّةٍ “ ” دَبَّ يَدِبُّ دَبِيْبًا “} سے اسم فاعل ہے، جس کا معنی آہستہ چلنا ہے۔ ہر جان دار خواہ مذکر ہو یا مؤنث، عاقل ہو یا غیر عاقل، سب پر {” دَآبَّةٍ “ } کا لفظ استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ فَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰى بَطْنِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰى رِجْلَيْنِ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ }» [ النور:۴۵] ”اور اللہ نے ہر چلنے والا (جان دار) ایک قسم کے پانی سے پیدا کیا، پھر ان میں سے کوئی وہ ہے جو اپنے پیٹ پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو دو پاؤں پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو چار پر چلتا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے پیٹ پر یا دو یا چار ٹانگوں پر چلنے والے تمام جانداروں کو {” دَآبَّةٍ “} فرمایا۔ ➋ پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور احاطے کا بیان تھا کہ انسان کے ظاہر اور پوشیدہ احوال ہی نہیں، وہ تو دلوں کے خیالات تک سے واقف ہے۔ اس آیت میں اسی پر دلیل پیش کی ہے کہ ہر جان دار کو اللہ تعالیٰ کے ہاں سے روزی پہنچ رہی ہے، پھر اگر اللہ تعالیٰ کا علم وسیع نہ ہوتا تو روزی کا یہ بندوبست کیسے ممکن تھا؟ مگر اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ رزق اللہ کے ذمے ہے تو انسان اس کی کمائی اور تلاش کے لیے محنت نہ کرے، بلکہ رزق کے تمام خزانے اگرچہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، مگر انسان کو محنت کا حکم ہے اور اسے وہ اسباب اختیار کرنا لازم ہے جن سے رزق حاصل ہوتا ہے، لیکن اس محنت اور ان اسباب پر بھروسا جائز نہیں، تمام اسباب مہیا کرنے کے بعد بھی بھروسا اور توکل صرف اللہ پر لازم ہے، کیونکہ وہ نہ چاہے تو تمام اسباب کے باوجود بندہ رزق سے محروم رہتا ہے اور اگر وہ چاہے تو بندہ کوئی سبب بھی مہیا نہ کر سکے تو وہ اسباب کے بغیر بھی روزی دے سکتا ہے۔ مگر حکم یہی ہے کہ رزق کی تلاش میں نکلو۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَوَكَّلُوْنَ عَلَی اللّٰهِ حَقَّ تَوَكُّلِهٖ لَرُزِقْتُمْ كَمَا تُرْزَقُ الطَّيْرُ تَغْدُوْ خِمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا ] [ ترمذی، الزہد، باب فی التوکل علی اللّٰہ: ۲۳۴۴ ] ”اگر تم اللہ پر توکل (بھروسا) کرو جیسا اس پر توکل کا حق ہے تو یقینا تمھیں اسی طرح رزق دیا جائے جیسے پرندوں کو دیا جاتا ہے، وہ صبح نکلتے ہیں تو خالی پیٹ ہوتے ہیں، شام کو آتے ہیں تو ان کے پیٹ بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔“ اس حدیث میں صبح نکلنا کسب ہے اور یہ فکر نہ کرنا کہ کل کو کیا کھائیں گے توکل ہے۔ بہرحال اسباب اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اِعْقِلْهَا وَ تَوَكَّلْ ] [ ترمذی، صفۃ القیامۃ، باب حدیث اعقلھا و توکل…: ۲۵۱۷، عن أنس رضی اللہ عنہ ] ”اونٹنی کا گھٹنا باندھ اور توکل کر۔“ ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ رُوْحَ الْقُدْسِ نَفَثَ فِيْ رَوْعِيْ أَنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوْتَ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ أَجَلَهَا وَتَسْتَوْعِبَ رِزْقَهَا فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَأَجْمِلُوْا فِي الطَّلَبِ وَلَا يَحْمِلَنَّ أَحَدَكُمُ اسْتِبْطَاءُ الرِّزْقِ أَنْ يَّطْلُبَهُ بِمَعْصِيَةِ اللّٰهِ فَإِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰی لَا يُنَالُ مَا عِنْدَهٗ إِلاَّ بِطَاعَتِهٖ ] [ صحیح الجامع: ۲۰۸۵ ] ”بے شک روح القدس (جبریل علیہ السلام) نے میرے دل میں وحی کی کہ کوئی جان اس وقت تک فوت نہیں ہو گی جب تک اپنی مقررہ مدت پوری نہ کرلے اور اپنا پورا رزق حاصل نہ کر لے۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور (رزق کی) تلاش میں اچھا طریقہ اختیار کرو اور رزق ملنے میں دیر ہو جانا تم میں سے کسی کو اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ وہ اسے اللہ کی نافرمانی کے ذریعے تلاش کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ (نعمت اور جنت) ہے وہ اس کی اطاعت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔“ یہ ذہن بھی غلط ہے کہ تلاش اور کوشش کے بغیر رزق نہیں ملتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بہت سی مخلوق وہ ہے جسے اسباب اختیار کیے بغیر رزق مل رہا ہے۔ دیکھیے سورۂ عنکبوت (۶۰)۔ (3) {وَ يَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا:} یہ بھی اللہ تعالیٰ کے علم ہی کا مزید بیان ہے۔ {” مُسْتَقَرٌّ “} اور{” مُسْتَوْدَعٌ “ } کی تفسیر اگرچہ لوگوں نے مختلف بیان کی ہے، مگر الفاظ کے پیش نظر واضح مطلب یہی نظر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ تمام جگہیں بھی جانتا ہے جہاں انسان نے کچھ مدت کے لیے ٹھہرنا ہے، خواہ باپ کی پشت ہو یا ماں کا رحم، یا زمین کا کوئی حصہ جہاں اس نے زندگی میں ٹھہرنا ہے اور اللہ تعالیٰ وہ جگہیں بھی جانتا ہے جن کے سپرد انسان نے مرنے کے بعد ہونا ہے، خواہ وہ زمین میں کھودی ہوئی جگہ ہو یا کسی جانور کا پیٹ یا جو جگہ بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت تک اس کے سپرد ہونے کے لیے لکھی ہے اور وہ سب کچھ اس کے لیے قبر ہی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو موت اور قبر دینے کا ذکر فرمایا ہے: «‏‏‏‏{ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗ }» [ عبس: ۲۱ ] ”پھر اسے موت دی، پھر اسے قبر میں رکھوایا۔“ پھر قیامت کو زندہ ہو کر اسے دوزخ کے سپرد ہونا ہے یا جنت کے، یہ سب اس کے لیے {”مُسْتَوْدَعٌ “ } (سونپے جانے کی جگہ) ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جان دار کی زندگی کے ہر حال کو بھی جانتا ہے اور موت کے بعد کے تمام حالات کو بھی۔ {” كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ “} سے مراد لوح محفوظ ہے۔
وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّ کَانَ عَرۡشُہٗ عَلَی الۡمَآءِ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَ لَئِنۡ قُلۡتَ اِنَّکُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡمَوۡتِ لَیَقُوۡلَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا جبکہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے اب اگر اے محمدؐ، تم کہتے ہو کہ لوگو، مرنے کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے، تو منکرین فوراً بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو گری ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ ہی وه ہے جس نے چھ دن میں آسمان وزمین کو پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ وه تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل واﻻ کون ہے، اگر آپ ان سے کہیں کہ تم لوگ مرنے کے بعد اٹھا کھڑے کئے جاؤ گے تو کافر لوگ پلٹ کر جواب دیں گے کہ یہ تو نرا صاف صاف جادو ہی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور اس کا عرش پانی پر تھا کہ تمہیں آزمائے تم میں کس کا کام اچھا ہے، اور اگر تم فرماؤ کہ بیشک تم مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو کافر ضرور کہیں گے کہ یہ تو نہیں مگر کھلا جادو
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہی وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور (اس سے پہلے) اس کا عرش پانی پر تھا (یہ سب کچھ کیوں پیدا کیا؟) تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سب سے بہتر عمل کرنے والا کون ہے؟ اور (اے رسول(ص)) اگر آپ ان سے کہیں کہ تم مرنے کے بعد (دوبارہ) اٹھائے جاؤگے تو کافر لوگ ضرور کہیں گے۔ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا، تاکہ وہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے۔ اور یقینا اگر توکہے کہ بے شک تم موت کے بعد اٹھائے جانے والے ہو تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ضرور ہی کہیں گے یہ تو کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق کائنات کا تذکرہ ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ اسے ہر چیز پر قدرت ہے۔ آسمان و زمین کو اس نے صرف چھ دن میں پیدا کیا ہے۔ اس سے پہلے اس کا عرش کریم پانی کے اوپر تھا ‘۔ مسند احمد میں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو تمیم! تم خوشخبری قبول کرو۔‏‏‏‏“ انہوں نے کہا خوشخبریاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا دیں اب کچھ دلوائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اہل یمن تم قبول کرو۔‏‏‏‏“ انہوں نے کہا ہاں ہمیں قبول ہے۔ مخلوق کی ابتداء تو ہمیں سنائیے کہ کس طرح ہوئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے پہلے اللہ تھا۔ اس کا عرش پانی کے اوپر تھا۔‏‏‏‏“ اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز کا تذکرہ لکھا راوی حدیث سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا ہی فرمایا تھا جو کسی نے آن کر مجھے خبر دی کہ تیری اونٹنی زانو کھلوا کر بھاگ گئی، میں اسے ڈھونڈنے چلا گیا۔ پھر مجھے نہیں معلوم کہ کیا بات ہوئی؟ } یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3191] ‏‏‏‏

ایک روایت میں ہے { اللہ تھا اور اس سے پہلے کچھ نہ تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3191] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے { اس کے ساتھ کچھ نہ تھا۔ اس کا عرش پانی پر تھا۔ اس نے ہرچیز کا تذکرہ لکھا۔ پھر آسمان و زمین کو پیدا کیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3191] ‏‏‏‏ مسلم کی حدیث میں ہے { زمین و آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی تقدیر لکھی اس کا عرش پانی پر تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2653] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں اس آیت کی تفسیر کے موقع پر ایک قدسی حدیث لائے ہیں کہ { اے انسان! تو میری راہ میں خرچ کر میں تجھے دوں گا اور فرمایا ’ اللہ کا ہاتھ اوپر ہے ‘۔ دن رات کا خرچ اس میں کوئی کمی نہیں لاتا۔ خیال تو کرو کہ آسمان و زمین کی پیدائش سے اب تک کتنا کچھ خرچ کیا ہو گا لیکن اس کے داہنے ہاتھ میں جو تھا وہ کم نہیں ہوتا اس کا عرش پانی پر تھا۔ اس کے ہاتھ میں میزان ہے جھکاتا ہے اور اونچا کرتا ہے } ۱؎ [صحیح بخاری:4684] ‏‏‏‏ مسند میں ہے { ابورزین لقیط بن عامر بن متفق عقیلی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مخلوق پیدائش کرنے سے پہلے ہمارا پروردگار کہاں تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عما میں نیچے بھی ہوا اور اوپر بھی ہوا پھر عرش کو اس کے بعد پیدا کیا“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3109،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت ترمذی کتاب التفسیر میں بھی ہے۔ سنن ابن ماجہ میں بھی ہے۔

امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”کسی چیز کو پیدا کرنے سے پہلے عرش الٰہی پانی پر تھا۔‏‏‏‏“ وہب، ضمرہ، قتادہ، ابن جریر رحمہ اللہ علیہم وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے ابتداء مخلوق کس طرح ہوئی۔‏‏‏‏“ ربیع بن انس کہتے ہیں کہ اس کا عرش پانی پر تھا۔ جب آسمان و زمین کو پیدا کیا تو اس پانی کے دوحصے کر دیئے۔ نصف عرش کے نیچے یہی بحر مسجود ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”بوجہ بلندی کے عرش کو عرش کہا جاتا ہے۔‏‏‏‏“ سعد طائی فرماتے ہیں کہ ”عرش سرخ یاقوت کا ہے۔‏‏‏‏“ محمد بن اسحاق فرماتے ہیں اللہ اسی طرح تھا جس طرح اس نے اپنے نفس کریم کا وصف کیا۔ اس لیے کہ کچھ نہ تھا، پانی تھا، اس پر عرش تھا، عرش پر «ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، وَالْعِزَّةِ وَالسُّلْطَانِ، وَالْمُلْكِ وَالْقُدْرَةِ، وَالْحِلْمِ وَالْعِلْمِ، وَالرَّحْمَةِ وَالنِّعْمَةِ، الْفَعَّالُ لِمَا يُرِيدُ» تھا جو جو چاہے کر گزرنے والا ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں سوال ہوا کہ ”پانی کس چیز پر تھا؟“ آپ نے فرمایا ”ہوا کی پیٹھ پر۔‏‏‏‏“

پھر فرماتا ہے، ’ آسمان و زمین کی پیدائش تمہارے نفع کے لیے ہے اور تم اس لیے ہو کہ اسی ایک خالق کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ یاد رکھو تم بے کار پیدا نہیں کئے گئے۔ آسمان و زمین اور ان کے درمیان چیزیں باطل پیدا نہیں کیں یہ گمان تو کافروں کا ہے اور کافروں کے لیے آگ کا عذاب ‘۔ اور آیت میں ہے «اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ فَتَعَالَى اللَّـهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ۱؎ [23-المؤمنون:116، 115] ‏‏‏‏ ’ کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ ہم نے تمہیں عبث پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہ جاؤ گے؟ اللہ جو سچا مالک ہے وہی حق ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ» ۱؎ [51-الذاريات:56] ‏‏‏‏ ’ انسانوں اور جنوں کو میں نے صرف اپنی عبادت کے لیے ہی پیدا کیا ہے وہ تمہیں آزما رہے ہیں کہ تم میں سے اچھے عمل والے کون ہیں؟ ‘ یہ نہیں فرمایا کہ زیادہ عمل والے کون ہیں؟ اس لیے کہ عمل حسن وہ ہوتا ہے جس میں خلوص ہو اور شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری ہو۔ ان دونوں باتوں میں سے اگر ایک بھی نہ ہو تو وہ عمل بے کار اور غارت ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! اگر آپ انہیں کہیں کہ تم مرنے کے بعد زندہ کئے جاؤ گے جس اللہ نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے وہ دوبارہ بھی پیدا کرے گا تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم اسے نہیں مانتے حالانکہ قائل بھی ہیں کہ زمین آسمان کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے ‘۔ ظاہر ہے کہ شروع جس پر گراں نہ گزرا۔ اس پر دوبارہ کی پیدائش کیسے گراں گزرے گی؟ یہ توبہ نسبت اول مرتبہ کے بہت ہی آسان ہے۔

فرمان الٰہی ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ ’ اسی نے پہلی پیدائش شروع میں کی وہی دوبارہ پیدائش کرے گا اور یہ تو اس پر نہایت ہی آسان ہے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ» ۱؎ [31-لقمان:28] ‏‏‏‏ ’ تم سب کا بنانا اور مار کر زندہ کرنا مجھ پر ایسا ہی ہے جیسا ایک کا ‘۔ لیکن یہ لوگ اسے نہیں مانتے تھے اور اسے کھلے جادو سے تعبیر کرتے تھے۔ کفر و عناد سے اس قول کو جادو کا اثر خیال کرتے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر ہم عذاب و پکڑ کو ان سے کچھ مقرر مدت تک کے لیے مؤخر کر دیں تو یہ اس کو نہ آنے والا جان کر جلدی کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں کہ عذاب ہم سے مؤخر کیوں ہو گئے؟ ان کے دل میں کفر و شرک اس طرح بیٹھ گیا ہے کہ اس سے چھٹکارا ہی نہیں ملتا ‘۔ امت کا لفظ قرآن و حدیث میں کئی ایک معنی میں مستعمل ہے۔ اس سے مراد مدت بھی ہے اس آیت اور «وَقَالَ الَّذِيْ نَجَا مِنْهُمَا وَادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِيْـلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ» ۱؎ [12-یوسف:45] ‏‏‏‏ جو سورۃ یوسف میں ہے یہی معنی ہیں۔ امام و مقتدی کے معنی میں بھی یہ لفظ آیا ہے۔

جیسے ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں «اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» رضی اللہ عنہ [16-النحل:120] ‏‏‏‏ آیا ہے۔ ملت اور دین کے بارے میں بھی یہی لفظ آتا ہے جیسے «إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِمْ مُقْتَدُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:23] ‏‏‏‏ ہے جماعت کے معنی میں بھی آتا ہے «وَجَدَ عَلَيْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُوْنَ وَوَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَيْنِ» ۱؎ [28-القص:23] ‏‏‏‏ والی آیت میں اور آیت «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا» [16-النحل:36] ‏‏‏‏ میں اور آیت «وَلِكُلِّ أُمَّةٍ رَسُولٌ فَإِذَا جَاءَ رَسُولُهُمْ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ» ۱؎ [10-يونس:47] ‏‏‏‏ ان آیتوں میں امت سے مراد کافر مومن سب امتی ہیں۔ جیسے مسلم کی حدیث ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت کا جو یہودی نصرانی میرا نام سنے اور مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جہنمی ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:153] ‏‏‏‏ ہاں تابعدار امت وہ ہے جو رسولوں کو مانے۔ جیسے «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ» ۱؎ [3-آل عمران:110] ‏‏‏‏ والی آیت میں۔ صحیح حدیث میں ہے { میں کہوں گا «أُمَّتِي أُمَّتِي» }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7510] ‏‏‏‏ اسی طرح امت کا لفظ فرقے اور گروہ کے لیے بھی مستعمل ہوتا ہے جیسے «وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:159] ‏‏‏‏ اور جیسے «مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَاىِٕمَةٌ يَّتْلُوْنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَاءَ الَّيْلِ وَھُمْ يَسْجُدُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:113] ‏‏‏‏ میں۔
7۔ 1 یہی بات صحیح احادیث میں بھی بیان کی گئی ہے۔ چناچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ' اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال قبل، مخلوقات کی تقدیر لکھی ' اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا۔ صحیح مسلم 7۔ 2 یعنی یہ آسمان و زمین یوں ہی عبث اور بلا مقصد نہیں بنائے، بلکہ اس سے مقصود انسانوں (اور جنوں) کی آزمائش ہے کہ کون اچھے اعمال کرتا ہے۔ ملحوظہ: اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ نہیں فرمایا کہ کون زیادہ عمل کرتا ہے بلکہ فرمایا کون زیادہ اچھے عمل کرتا ہے۔ اس لیے کہ اچھا عمل وہ ہوتا ہے جو صرف رضائے الہی کی خاطر ہو اور دوسرا یہ کہ وہ سنت کے مطابق ہو۔ ان دو شرطوں میں سے ایک شرط بھی فوت ہوجائے گی تو وہ اچھا عمل نہیں رہے گا، پھر وہ چاہے کتنا بھی زیادہ ہو، اللہ کے ہاں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔
(آیت 7) ➊ {وَ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ:} اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ کے کمال علم کو ثابت فرمایا اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کمال کا بیان ہے۔ آسمان و زمین کی چھ دنوں میں پیدائش کے متعلق دیکھیے سورۂ اعراف(۵۴) اور حم السجدہ (۹ تا ۱۲)۔ ➋ {وَ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ:} اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ آسمان و زمین پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا، پھر سب سے پہلے کیا پیدا کیا؟ اس کے متعلق مختلف روایات آئی ہیں۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اہل یمن کے کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر (کائنات) کی ابتدا کے متعلق پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كَانَ اللّٰهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهٗ وَكَانَ عَرْشُهٗ عَلَی الْمَاءِ ثُمَّ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ وَكَتَبَ فِيْ الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ] [ بخاری، التوحید، باب: «‏‏‏‏و کان عرشہ علی الماء» ‏‏‏‏: ۷۴۱۸ ] ”اللہ تعالیٰ تھا اور اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا، پھر اس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور ذکر (لوح محفوظ) میں ہر چیز لکھ دی۔“ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كَتَبَ اللّٰهُ مَقَادِيْرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ يَّخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِيْنَ أَلْفَ سَنَةٍ قَالَ وَ عَرْشُهٗ عَلَي الْمَاءِ] [ مسلم، القدر، باب حجاج آدم و موسٰی صلی اللہ علیہما وسلم: ۲۶۵۳ ] ”اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی تقدیریں آسمان و زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ دیں اور اس کا عرش پانی پر تھا۔“ سنن ترمذی (۳۱۰۹) اور ابن ماجہ (۱۸۲) کی روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”خلق کی پیدائش سے پہلے ہمارا پروردگار کہاں تھا؟“ اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كَانَ فِيْ عَمَاءٍ مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ] { ”عَمَاءٌ“} کا معنی نہایہ میں لکھا ہے، بادل، پتلا سا بادل یا نامعلوم چیز، جس کی حقیقت سے ہم ناواقف گویا اعمیٰ ہیں۔ حدیث کا ترجمہ ہے: ”اللہ تعالیٰ ایک عماء (نامعلوم چیز) میں تھا، اس کا اوپر خالی تھا اور اس کے نیچے بھی خلا تھا۔“ مگر شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ اور ان سے پہلے رازی اور دوسرے اہل علم رحمۃ اللہ علیھم نے اسے ضعیف کہا ہے، جبکہ استدلال خصوصاً عقیدے میں اور اتنے اہم مسئلہ میں صحیح حدیث ہی سے ہو سکتا ہے۔ صحیح حدیث جس سے اس مسئلے پر روشنی پڑتی ہے، یہ ہے کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [ إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ تَعَالَی الْقَلَمُ فَقَالَ لَهُ اكْتُبْ فَقَالَ رَبِّ وَ مَاذَا أَكْتُبُ؟ قَالَ اكْتُبْ مَقَادِيْرَ كُلِّ شَيْءٍ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَةُ ] [ أبوداوٗد، السنۃ، باب في القدر: ۴۷۰۰۔ ترمذی: ۳۳۱۹ ] ”بے شک اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جو پیدا کیا قلم تھا تو اسے فرمایا: ”لکھ۔“ اس نے کہا: ”اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟“ فرمایا: ”ہر چیز کی تقدیریں لکھ، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو۔“ یہ حدیث صحیح ہے، شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔ ہمارے شیخ محمد عبدہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہی (بات) صحیح ہے، البتہ شیخ محمد عبدہ رحمہ اللہ نے قلم کی پیدائش اور تقدیر کا لکھا جانا پانی اور عرش کے بعد لکھا ہے۔ شاید ان کا استدلال اس آیت: «{ وَ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ }» سے ہو۔ (واللہ اعلم) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی قلم سے پہلے عرش اور پانی کے پیدا کیے جانے کا ذکر کیا ہے اور اس کے کچھ دلائل ذکر کیے ہیں۔ دیکھیے فتح الباری میں {” كِتَابُ بَدْءِ الْخَلْقِ “} کا پہلا باب۔ ایک روایت میں ہے کہ سب سے پہلے عقل کو پیدا کیا، مگر وہ روایت ضعیف ہے۔ ابن قیم رحمہ اللہ نے {”المنار المنيف “} میں لکھا ہے کہ عقل کے متعلق تمام احادیث باطل ہیں۔ ➋ {لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا:} اللہ تعالیٰ کو جس طرح گزشتہ اور موجودہ ہر بات کا علم ہے، اسے یہ بھی معلوم ہے کہ آئندہ کیا ہو گا، مگر آئندہ ہونے والی چیز کے متعلق یہ علم کہ وہ واقع ہو چکی ہے، اس کے واقع ہونے کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ آزمانے کا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق جو کچھ آئندہ ہونا ہے وہ وجود میں آ کر سب کے سامنے آ جائے اور نتیجہ دوسروں کے سامنے بھی ظاہر ہو جائے۔ قرآن مجید میں {” لِيَعْلَمَ “} اور {” لِيَبْلُوَكُمْ “} وغیرہ الفاظ جہاں بھی آئے ہیں ان سے مراد یہی ہے۔ ➌ {اَحْسَنُ عَمَلًا:} یعنی آزمائش یہی نہیں کہ عمل میں برا کون ہے اور اچھا کون، بلکہ اللہ تعالیٰ ایسا قدر دان ہے کہ عمل میں اچھائی کے درجات کو بھی ملحوظ رکھتا ہے کہ زیادہ اچھا کون ہے، جیسے فرمایا: «{ هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ[آل عمران: ۱۶۳ ] ”وہ لوگ (اللہ کی رضا چاہنے والے) اللہ کے ہاں کئی درجوں والے ہیں اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔“ بلکہ برے عمل میں بھی سب کو ایک جیسا نہیں رکھا، منافقین آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہیں، جبکہ ابو طالب صرف آگ کے جوتے پہنے ہوئے ہے۔ رہی یہ بات کہ کیسے پتا چلے گا کہ میں اچھا عمل کر رہا ہوں تو یہ صرف اللہ تعالیٰ کے بتانے ہی سے معلوم ہو سکتا ہے، اس لیے اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ اچھے عمل کے لیے دو شرطیں ہیں، ایک یہ کہ عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، دوسری یہ کہ کتاب و سنت کے مطابق ہو، کیونکہ اس میں جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ کا بتایا ہوا ہے۔ ➍ {وَ لَىِٕنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ …:} اللہ تعالیٰ کے علم، قدرت اور خلق (پیدا کرنے) جیسی صفات کو بادلائل ذکر کرنے کے بعد بھی اگر آپ ان مشرکوں سے کہیں کہ اتنی زبردست قوتوں والے رب نے تمھیں موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے علم، قدرت، زمین و آسمان اور خود ان کو پیدا کرنے اور عرش عظیم کا مالک ہونے کو جاننے اور ماننے کے باوجود دوبارہ زندہ کرنے کی بات کرنے پر عقل و دانش سے مکمل عاری ہو کر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں، یعنی دوبارہ زندہ ہونے کی کچھ حقیقت نہیں، جو لوگ اسے مان بیٹھے ہیں ان پر جادو ہو گیا ہے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ پھر تم اس جادو کی زد میں آنے سے کیسے بچ گئے؟
وَ لَئِنۡ اَخَّرۡنَا عَنۡہُمُ الۡعَذَابَ اِلٰۤی اُمَّۃٍ مَّعۡدُوۡدَۃٍ لَّیَقُوۡلُنَّ مَا یَحۡبِسُہٗ ؕ اَلَا یَوۡمَ یَاۡتِیۡہِمۡ لَیۡسَ مَصۡرُوۡفًا عَنۡہُمۡ وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ٪﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اگر ہم ایک خاص مدت تک ان کی سزا کو ٹالتے ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں کہ آخر کس چیز نے اُسے روک رکھا ہے؟ سنو! جس روز اُس سزا کا وقت آگیا تو وہ کسی کے پھیرے نہ پھر سکے گا اور وہی چیز ان کو آ گھیرے گی جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر ہم ان سے عذاب کو گنی چنی مدت تک کے لئے پیچھے ڈال دیں تو یہ ضرور پکار اٹھیں گے کہ عذاب کو کون سی چیز روکے ہوئے ہے، سنو! جس دن وه ان کے پاس آئے گا پھر ان سے ٹلنے واﻻ نہیں پھر تو جس چیز کی ہنسی اڑا رہے تھے وه انہیں گھیر لے گی
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر ہم ان سے عذاب کچھ گنتی کی مدت تک ہٹادیں تو ضرور کہیں گے کس چیز نے روکا ہے سن لو جس دن ان پر آئے گا ان سے پھیرا نہ جائے گا، اور انہیں گھیرے گا وہی عذاب جس کی ہنسی اڑاتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر ہم ان پر عذاب نازل کرنے میں ایک مقررہ مدت تک تاخیر بھی کر دیں تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ کون سی چیز نے اسے روک رکھا ہے؟ یاد رکھو جس دن ان پر وہ (عذاب) آئے گا تو پھر اسے پھیرا نہ جا سکے گا۔ اور انہیں وہ (عذاب) گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ اگر ہم ان سے عذاب کو ایک گنی ہوئی مدت تک مؤخر کر دیں تو یقینا ضرور کہیں گے اسے کیا چیز روک رہی ہے؟ سن لو! جس دن وہ ان پر آئے گا تو ان سے ہٹایا جانے والا نہیں اور انھیں وہ چیز گھیر لے گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق کائنات کا تذکرہ ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ اسے ہر چیز پر قدرت ہے۔ آسمان و زمین کو اس نے صرف چھ دن میں پیدا کیا ہے۔ اس سے پہلے اس کا عرش کریم پانی کے اوپر تھا ‘۔ مسند احمد میں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو تمیم! تم خوشخبری قبول کرو۔‏‏‏‏“ انہوں نے کہا خوشخبریاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا دیں اب کچھ دلوائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اہل یمن تم قبول کرو۔‏‏‏‏“ انہوں نے کہا ہاں ہمیں قبول ہے۔ مخلوق کی ابتداء تو ہمیں سنائیے کہ کس طرح ہوئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے پہلے اللہ تھا۔ اس کا عرش پانی کے اوپر تھا۔‏‏‏‏“ اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز کا تذکرہ لکھا راوی حدیث سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا ہی فرمایا تھا جو کسی نے آن کر مجھے خبر دی کہ تیری اونٹنی زانو کھلوا کر بھاگ گئی، میں اسے ڈھونڈنے چلا گیا۔ پھر مجھے نہیں معلوم کہ کیا بات ہوئی؟ } یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3191] ‏‏‏‏

ایک روایت میں ہے { اللہ تھا اور اس سے پہلے کچھ نہ تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3191] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے { اس کے ساتھ کچھ نہ تھا۔ اس کا عرش پانی پر تھا۔ اس نے ہرچیز کا تذکرہ لکھا۔ پھر آسمان و زمین کو پیدا کیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3191] ‏‏‏‏ مسلم کی حدیث میں ہے { زمین و آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی تقدیر لکھی اس کا عرش پانی پر تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2653] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں اس آیت کی تفسیر کے موقع پر ایک قدسی حدیث لائے ہیں کہ { اے انسان! تو میری راہ میں خرچ کر میں تجھے دوں گا اور فرمایا ’ اللہ کا ہاتھ اوپر ہے ‘۔ دن رات کا خرچ اس میں کوئی کمی نہیں لاتا۔ خیال تو کرو کہ آسمان و زمین کی پیدائش سے اب تک کتنا کچھ خرچ کیا ہو گا لیکن اس کے داہنے ہاتھ میں جو تھا وہ کم نہیں ہوتا اس کا عرش پانی پر تھا۔ اس کے ہاتھ میں میزان ہے جھکاتا ہے اور اونچا کرتا ہے } ۱؎ [صحیح بخاری:4684] ‏‏‏‏ مسند میں ہے { ابورزین لقیط بن عامر بن متفق عقیلی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مخلوق پیدائش کرنے سے پہلے ہمارا پروردگار کہاں تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عما میں نیچے بھی ہوا اور اوپر بھی ہوا پھر عرش کو اس کے بعد پیدا کیا“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3109،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت ترمذی کتاب التفسیر میں بھی ہے۔ سنن ابن ماجہ میں بھی ہے۔

امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”کسی چیز کو پیدا کرنے سے پہلے عرش الٰہی پانی پر تھا۔‏‏‏‏“ وہب، ضمرہ، قتادہ، ابن جریر رحمہ اللہ علیہم وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے ابتداء مخلوق کس طرح ہوئی۔‏‏‏‏“ ربیع بن انس کہتے ہیں کہ اس کا عرش پانی پر تھا۔ جب آسمان و زمین کو پیدا کیا تو اس پانی کے دوحصے کر دیئے۔ نصف عرش کے نیچے یہی بحر مسجود ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”بوجہ بلندی کے عرش کو عرش کہا جاتا ہے۔‏‏‏‏“ سعد طائی فرماتے ہیں کہ ”عرش سرخ یاقوت کا ہے۔‏‏‏‏“ محمد بن اسحاق فرماتے ہیں اللہ اسی طرح تھا جس طرح اس نے اپنے نفس کریم کا وصف کیا۔ اس لیے کہ کچھ نہ تھا، پانی تھا، اس پر عرش تھا، عرش پر «ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، وَالْعِزَّةِ وَالسُّلْطَانِ، وَالْمُلْكِ وَالْقُدْرَةِ، وَالْحِلْمِ وَالْعِلْمِ، وَالرَّحْمَةِ وَالنِّعْمَةِ، الْفَعَّالُ لِمَا يُرِيدُ» تھا جو جو چاہے کر گزرنے والا ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں سوال ہوا کہ ”پانی کس چیز پر تھا؟“ آپ نے فرمایا ”ہوا کی پیٹھ پر۔‏‏‏‏“

پھر فرماتا ہے، ’ آسمان و زمین کی پیدائش تمہارے نفع کے لیے ہے اور تم اس لیے ہو کہ اسی ایک خالق کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ یاد رکھو تم بے کار پیدا نہیں کئے گئے۔ آسمان و زمین اور ان کے درمیان چیزیں باطل پیدا نہیں کیں یہ گمان تو کافروں کا ہے اور کافروں کے لیے آگ کا عذاب ‘۔ اور آیت میں ہے «اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ فَتَعَالَى اللَّـهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ۱؎ [23-المؤمنون:116، 115] ‏‏‏‏ ’ کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ ہم نے تمہیں عبث پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہ جاؤ گے؟ اللہ جو سچا مالک ہے وہی حق ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ» ۱؎ [51-الذاريات:56] ‏‏‏‏ ’ انسانوں اور جنوں کو میں نے صرف اپنی عبادت کے لیے ہی پیدا کیا ہے وہ تمہیں آزما رہے ہیں کہ تم میں سے اچھے عمل والے کون ہیں؟ ‘ یہ نہیں فرمایا کہ زیادہ عمل والے کون ہیں؟ اس لیے کہ عمل حسن وہ ہوتا ہے جس میں خلوص ہو اور شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری ہو۔ ان دونوں باتوں میں سے اگر ایک بھی نہ ہو تو وہ عمل بے کار اور غارت ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! اگر آپ انہیں کہیں کہ تم مرنے کے بعد زندہ کئے جاؤ گے جس اللہ نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے وہ دوبارہ بھی پیدا کرے گا تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم اسے نہیں مانتے حالانکہ قائل بھی ہیں کہ زمین آسمان کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے ‘۔ ظاہر ہے کہ شروع جس پر گراں نہ گزرا۔ اس پر دوبارہ کی پیدائش کیسے گراں گزرے گی؟ یہ توبہ نسبت اول مرتبہ کے بہت ہی آسان ہے۔

فرمان الٰہی ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ ’ اسی نے پہلی پیدائش شروع میں کی وہی دوبارہ پیدائش کرے گا اور یہ تو اس پر نہایت ہی آسان ہے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ» ۱؎ [31-لقمان:28] ‏‏‏‏ ’ تم سب کا بنانا اور مار کر زندہ کرنا مجھ پر ایسا ہی ہے جیسا ایک کا ‘۔ لیکن یہ لوگ اسے نہیں مانتے تھے اور اسے کھلے جادو سے تعبیر کرتے تھے۔ کفر و عناد سے اس قول کو جادو کا اثر خیال کرتے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر ہم عذاب و پکڑ کو ان سے کچھ مقرر مدت تک کے لیے مؤخر کر دیں تو یہ اس کو نہ آنے والا جان کر جلدی کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں کہ عذاب ہم سے مؤخر کیوں ہو گئے؟ ان کے دل میں کفر و شرک اس طرح بیٹھ گیا ہے کہ اس سے چھٹکارا ہی نہیں ملتا ‘۔ امت کا لفظ قرآن و حدیث میں کئی ایک معنی میں مستعمل ہے۔ اس سے مراد مدت بھی ہے اس آیت اور «وَقَالَ الَّذِيْ نَجَا مِنْهُمَا وَادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِيْـلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ» ۱؎ [12-یوسف:45] ‏‏‏‏ جو سورۃ یوسف میں ہے یہی معنی ہیں۔ امام و مقتدی کے معنی میں بھی یہ لفظ آیا ہے۔

جیسے ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں «اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» رضی اللہ عنہ [16-النحل:120] ‏‏‏‏ آیا ہے۔ ملت اور دین کے بارے میں بھی یہی لفظ آتا ہے جیسے «إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِمْ مُقْتَدُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:23] ‏‏‏‏ ہے جماعت کے معنی میں بھی آتا ہے «وَجَدَ عَلَيْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُوْنَ وَوَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَيْنِ» ۱؎ [28-القص:23] ‏‏‏‏ والی آیت میں اور آیت «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا» [16-النحل:36] ‏‏‏‏ میں اور آیت «وَلِكُلِّ أُمَّةٍ رَسُولٌ فَإِذَا جَاءَ رَسُولُهُمْ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ» ۱؎ [10-يونس:47] ‏‏‏‏ ان آیتوں میں امت سے مراد کافر مومن سب امتی ہیں۔ جیسے مسلم کی حدیث ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت کا جو یہودی نصرانی میرا نام سنے اور مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جہنمی ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:153] ‏‏‏‏ ہاں تابعدار امت وہ ہے جو رسولوں کو مانے۔ جیسے «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ» ۱؎ [3-آل عمران:110] ‏‏‏‏ والی آیت میں۔ صحیح حدیث میں ہے { میں کہوں گا «أُمَّتِي أُمَّتِي» }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7510] ‏‏‏‏ اسی طرح امت کا لفظ فرقے اور گروہ کے لیے بھی مستعمل ہوتا ہے جیسے «وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:159] ‏‏‏‏ اور جیسے «مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَاىِٕمَةٌ يَّتْلُوْنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَاءَ الَّيْلِ وَھُمْ يَسْجُدُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:113] ‏‏‏‏ میں۔
8۔ 1 یہاں استعجال (جلد طلب کرنے) کو استہزا سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ وہ استعجال، بطور اسہزا ہی ہوتا تھا بہرحال مقصود یہ سمجھانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تاخیر پر انسان کو غفلت نہیں کرنی چاہیے اس کی گرفت کسی بھی وقت ہوسکتی ہے
(آیت 8) {وَ لَىِٕنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ …:” اُمَّةٍ “} کے بہت سے معانی ہیں، مثلاً جماعت، امام، طریقہ، مدت اور راستہ وغیرہ، یہاں مدت مراد ہے اور {” مَعْدُوْدَةٍ “} کا معنی تھوڑی سی ہے، کیونکہ زیادہ چیز کی گنتی نہیں ہوا کرتی اور جو چیز گنی جا سکے وہ آخر ختم ہو جاتی ہے۔ دنیا کے عذاب بدر، احد، خندق، فتح مکہ، قتل، قید، غلامی اور پھر مرنے کے بعد جہنم کے عذاب آنے میں گنتی ہی کے دن ہیں، مگر آ جانے کے بعد پھر وہ عذاب ہٹایا نہیں جا سکے گا اور وہی عذاب جسے وہ مذاق کیا کرتے تھے انھیں چاروں طرف سے گھیر لے گا۔
وَ لَئِنۡ اَذَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنَّا رَحۡمَۃً ثُمَّ نَزَعۡنٰہَا مِنۡہُ ۚ اِنَّہٗ لَیَـُٔوۡسٌ کَفُوۡرٌ ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر ہم انسان کو اپنی کسی نعمت کا ذائقہ چکھا کر پھر اسے اس سے لے لیں تو وه بہت ہی ناامید اور بڑا ہی ناشکرا بن جاتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر ہم آدمی کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں پھر اسے اس سے چھین لیں ضرور وہ بڑا ناامید ناشکرا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر ہم انسان کو اپنی طرف سے رحمت کا مزہ چکھائیں (کسی نعمت سے نوازیں) اور پھر اسے اس سے چھین لیں تو وہ بڑا مایوس اور بڑا ناشکرا ہو جاتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور یقینا اگر ہم انسان کو اپنی طرف سے کوئی رحمت چکھائیں، پھر اسے اس سے چھین لیں تو بے شک وہ یقینا نہایت نا امید، بے حد ناشکرا ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭

سوائے کامل ایمان والوں کے عموماً لوگوں میں جو برائیاں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ راحت کے بعد کی سختی پر مایوس اور محض نا اُمید ہو جاتے ہیں اللہ سے بدگمانی کر کے آئندہ کے لیے بھلائی کو بھول بیٹھتے ہیں گویا کہ نہ کبھی اس سے پہلے کوئی آرام اٹھایا تھا نہ اس کے بعد کسی راحت کی توقع ہے۔ یہی حال اس کے برخلاف بھی ہے اگر سختی کے بعد آسانی ہو گئی تو کہنے لگتے ہیں کہ بس اب برا وقت ٹل گیا۔ اپنی راحت اپنی تن آسانیوں پر مست و بےفکر ہو جاتے ہیں۔ دوسروں کا استہزاء کرنے لگتے ہیں۔ اکڑ میں پڑ جاتے ہیں اور آئندہ کی سختی کو بالکل فراموش کر دیتے ہیں۔ ہاں ایماندار اس بری خصلت سے محفوظ رہتے ہیں، وہ دکھ درد میں صبر و استقامت سے کام لیتے ہیں راحت و آرام میں اللہ کی فرمان برداری کرتے ہیں۔ یہ صبر پر مغفرت اور نیکی پر ثواب پاتے ہیں ‘۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے کہ مومن کو کوئی سختی کوئی مصیبت کوئی دکھ، کوئی غم ایسا نہیں پہنچتا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی خطائیں معاف نہ فرماتا ہو، یہاں تک کہ کانٹا لگنے پر بھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6541] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے { مومن کے لیے اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ سراسر بہتر ہے۔ یہ راحت پاکر شکر کرتا ہے اور بھلائی سمیٹتا ہے۔ تکلیف اٹھا کر صبر کرتا ہے، نیکی پاتا ہے اور ایسا حال مومن کے سوا اور کسی کا نہیں ہو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999] ‏‏‏‏ اسی کا بیان سورۃ والعصر میں ہے، «وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ» [ 103-سورة العصر: 1-3 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ عصر کے وقت کی قسم تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ان کے جو ایمان لائیں اور ساتھ ہی نیکیاں بھی کریں اور ایک دوسرے کو دین حق کی اور صبر کی ہدایت کرتے رہیں ‘ یہی بیان آیت «إِنَّ الْإِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا إِلَّا الْمُصَلِّينَ» ۱؎ [70-المعارج:19-22] ‏‏‏‏ میں ہے۔
9۔ 1 انسانوں میں عام طور پر جو مذموم صفات پائی جاتی ہیں اس میں اور اگلی آیت میں ان کا بیان ہے۔ ناامیدی کا تعلق مستقبل سے ہے اور ناشکری کا ماضی و حال سے۔
(آیت 9) {وَ لَىِٕنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً …:} یعنی انسان میں یہ کمزوری ہے کہ کوئی رحمت صرف چکھنے کے بعد، یعنی تھوڑی سی نعمت صرف کچھ دیر کے لیے ملنے کے بعد چھن جائے تو اللہ تعالیٰ کی ساری نعمتیں اس طرح بھولتا ہے کہ آئندہ کے لیے اس کی تمام نعمتوں سے نہایت ناامید ہو جاتا ہے اور گزشتہ اور موجودہ کوئی نعمت اسے یاد ہی نہیں رہتی۔ یہی اس کی ناشکری اور نعمت کا انکار ہے۔ شوکانی نے فرمایا کہ {” اَذَقْنَا “} کے لفظ سے ادنیٰ سے ادنیٰ نعمت تھوڑی سی مدت کے لیے ملنا واضح ہو رہا ہے۔
وَ لَئِنۡ اَذَقۡنٰہُ نَعۡمَآءَ بَعۡدَ ضَرَّآءَ مَسَّتۡہُ لَیَقُوۡلَنَّ ذَہَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیۡ ؕ اِنَّہٗ لَفَرِحٌ فَخُوۡرٌ ﴿ۙ۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اگر اُس مصیبت کے بعد جو اُس پر آئی تھی ہم اسے نعمت کا مزا چکھاتے ہیں تو کہتا ہے میرے تو سارے دلدر پار ہو گئے، پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر ہم اسے کوئی نعمت چکھائیں اس سختی کے بعد جو اسے پہنچ چکی تھی تو وه کہنے لگتا ہے کہ بس برائیاں مجھ سے جاتی رہیں، یقیناً وه بڑا ہی اترانے واﻻ شیخی خور ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر ہم اسے نعمت کا مزہ دیں اس مصیبت کے بعد جس اسے پہنچی تو ضرور کہے گا کہ برائیاں مجھ سے دور ہوئیں بیشک وہ خوش ہونے والا بڑائی مارنے والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر ہم کسی سختی و تکلیف کے پہنچنے کے بعد کسی نعمت و راحت کا مزہ چکھائیں تو (غافل ہوکر) کہہ اٹھتا ہے کہ میری تمام برائیاں چلی گئیں (دکھ درد دور ہوگئے)۔ بالیقین وہ (انسان) بڑا خوش ہونے والا، بڑا اترانے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے شک اگر ہم اسے کوئی نعمت چکھائیں کسی تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہو تو یقینا ضرور کہے گا سب تکلیفیں مجھ سے دور ہو گئیں۔ بلاشبہ وہ یقینا بہت پھولنے والا، بہت فخر کرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭

سوائے کامل ایمان والوں کے عموماً لوگوں میں جو برائیاں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ راحت کے بعد کی سختی پر مایوس اور محض نا اُمید ہو جاتے ہیں اللہ سے بدگمانی کر کے آئندہ کے لیے بھلائی کو بھول بیٹھتے ہیں گویا کہ نہ کبھی اس سے پہلے کوئی آرام اٹھایا تھا نہ اس کے بعد کسی راحت کی توقع ہے۔ یہی حال اس کے برخلاف بھی ہے اگر سختی کے بعد آسانی ہو گئی تو کہنے لگتے ہیں کہ بس اب برا وقت ٹل گیا۔ اپنی راحت اپنی تن آسانیوں پر مست و بےفکر ہو جاتے ہیں۔ دوسروں کا استہزاء کرنے لگتے ہیں۔ اکڑ میں پڑ جاتے ہیں اور آئندہ کی سختی کو بالکل فراموش کر دیتے ہیں۔ ہاں ایماندار اس بری خصلت سے محفوظ رہتے ہیں، وہ دکھ درد میں صبر و استقامت سے کام لیتے ہیں راحت و آرام میں اللہ کی فرمان برداری کرتے ہیں۔ یہ صبر پر مغفرت اور نیکی پر ثواب پاتے ہیں ‘۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے کہ مومن کو کوئی سختی کوئی مصیبت کوئی دکھ، کوئی غم ایسا نہیں پہنچتا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی خطائیں معاف نہ فرماتا ہو، یہاں تک کہ کانٹا لگنے پر بھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6541] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے { مومن کے لیے اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ سراسر بہتر ہے۔ یہ راحت پاکر شکر کرتا ہے اور بھلائی سمیٹتا ہے۔ تکلیف اٹھا کر صبر کرتا ہے، نیکی پاتا ہے اور ایسا حال مومن کے سوا اور کسی کا نہیں ہو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999] ‏‏‏‏ اسی کا بیان سورۃ والعصر میں ہے، «وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ» [ 103-سورة العصر: 1-3 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ عصر کے وقت کی قسم تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ان کے جو ایمان لائیں اور ساتھ ہی نیکیاں بھی کریں اور ایک دوسرے کو دین حق کی اور صبر کی ہدایت کرتے رہیں ‘ یہی بیان آیت «إِنَّ الْإِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا إِلَّا الْمُصَلِّينَ» ۱؎ [70-المعارج:19-22] ‏‏‏‏ میں ہے۔
10۔ 1 یعنی سمجھتا ہے کہ سختیوں کا دور گزر گیا، اب اسے کوئی تکلیف نہیں آئے گی۔ امۃ کے مختلف مفہوم: آیت نمبر 8 میں امۃ کا لفظ آیا ہے۔ یہ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مختلف مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ یہ ام سے مشتق ہے، جس کے معنی قصد کے ہیں۔ یہاں اس کے معنی اس وقت اور مدت کے ہیں جو نزول عذاب کے لیے مقصود ہے۔ (فتح القدیر) سورة یوسف کی آیت 45 (واد کر بعد امۃ) میں یہی مفہوم ہے اس کے علاوہ جن معنوں میں اس کا استعمال ہوا ہے، ان میں ایک امام و پیشوا ہے۔ جیسے (ان ابراہیم کان امۃ) ملت اور دین ہے، جیسے انا وجدنا آباءنا علی امۃ) جماعت اور طائفہ ہے۔ جیسے (ولما ورد ماء امدین وجد علیہ امۃ من الناس) ومن قوم موسیٰ امۃ وغیرہا۔ وہ مخصوص گروہ یا قوم ہے جس کی طرف کوئی رسول مبعوث ہو۔ ولکل امۃ رسول اس کو امت دعوت بھی کہتے ہیں اور اسی طرح پیغمبر پر ایمان لانے والوں کو بھی امت یا امت اتباع یا امت اجابت کہا جاتا ہے۔ (ابن کثیر) 10۔ 2 یعنی جو کچھ اس کے پاس ہے، اس پر اتراتا اور دوسروں پر فخر و غرور کا اظہار کرتا ہے۔ تاہم ان صفات مذمومہ سے اہل ایمان اور صاحب اعمال صالحہ مستشنٰی ہیں جیسا کہ اگلی آیت سے واضح ہے۔
(آیت 10) {وَ لَىِٕنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ …: ” نَعْمَآءَ “} ایسی نعمت جس کا اثر صاحبِ نعمت پر ظاہر ہو۔ اسی طرح {” ضَرَّآءَ “} ایسی مصیبت جس کا برا اثر انسان پر ظاہر ہو۔ (طنطاوی) {” اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌ “} یعنی بہت پھولنے اور اترانے لگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اب تمام مصیبتیں اور سختیاں دور ہو گئیں۔
اِلَّا الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکو کار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی
مولانا محمد جوناگڑھی
سوائے ان کے جو صبر کرتے ہیں اور نیک کاموں میں لگے رہتے ہیں۔ انہی لوگوں کے لئے بخشش بھی ہے اور بہت بڑا نیک بدلہ بھی
احمد رضا خان بریلوی
مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
مگر ہاں جو لوگ صبر کرتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں (وہ ایسے نہیں ہیں بلکہ) یہی وہ ہیں جن کے لئے بخشش ہے اور بہت بڑا اجر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
مگر وہ لوگ جنھوں نے صبر کیا اور نیک اعمال کیے، یہ لوگ ہیں جن کے لیے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭

سوائے کامل ایمان والوں کے عموماً لوگوں میں جو برائیاں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ راحت کے بعد کی سختی پر مایوس اور محض نا اُمید ہو جاتے ہیں اللہ سے بدگمانی کر کے آئندہ کے لیے بھلائی کو بھول بیٹھتے ہیں گویا کہ نہ کبھی اس سے پہلے کوئی آرام اٹھایا تھا نہ اس کے بعد کسی راحت کی توقع ہے۔ یہی حال اس کے برخلاف بھی ہے اگر سختی کے بعد آسانی ہو گئی تو کہنے لگتے ہیں کہ بس اب برا وقت ٹل گیا۔ اپنی راحت اپنی تن آسانیوں پر مست و بےفکر ہو جاتے ہیں۔ دوسروں کا استہزاء کرنے لگتے ہیں۔ اکڑ میں پڑ جاتے ہیں اور آئندہ کی سختی کو بالکل فراموش کر دیتے ہیں۔ ہاں ایماندار اس بری خصلت سے محفوظ رہتے ہیں، وہ دکھ درد میں صبر و استقامت سے کام لیتے ہیں راحت و آرام میں اللہ کی فرمان برداری کرتے ہیں۔ یہ صبر پر مغفرت اور نیکی پر ثواب پاتے ہیں ‘۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے کہ مومن کو کوئی سختی کوئی مصیبت کوئی دکھ، کوئی غم ایسا نہیں پہنچتا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی خطائیں معاف نہ فرماتا ہو، یہاں تک کہ کانٹا لگنے پر بھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6541] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے { مومن کے لیے اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ سراسر بہتر ہے۔ یہ راحت پاکر شکر کرتا ہے اور بھلائی سمیٹتا ہے۔ تکلیف اٹھا کر صبر کرتا ہے، نیکی پاتا ہے اور ایسا حال مومن کے سوا اور کسی کا نہیں ہو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999] ‏‏‏‏ اسی کا بیان سورۃ والعصر میں ہے، «وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ» [ 103-سورة العصر: 1-3 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ عصر کے وقت کی قسم تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ان کے جو ایمان لائیں اور ساتھ ہی نیکیاں بھی کریں اور ایک دوسرے کو دین حق کی اور صبر کی ہدایت کرتے رہیں ‘ یہی بیان آیت «إِنَّ الْإِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا إِلَّا الْمُصَلِّينَ» ۱؎ [70-المعارج:19-22] ‏‏‏‏ میں ہے۔
11۔ 1 اہل ایمان، راحت و فراغت ہو یا تنگی اور مصیبت، دونوں حالتوں میں اللہ کے احکام کے مطابق طرز عمل اختیار کرتے ہیں جیسا کہ حدیث میں آتا ہے نبی نے قسم کھا کر فرمایا ' قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اللہ تعالیٰ مومن کے لئے جو بھی فیصلہ فرماتا ہے، اس میں اس کے لئے بہتری کا پہلو ہوتا ہے۔ اگر اس کو کئی راحت پہنچتی ہے تو اس پر اللہ کا شکر کرتا ہے اور اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے، یہ بھی اس کے لئے بہتر (یعنی اجر وثواب کا باعث) ہے۔ یہ امتیاز ایک مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ (صحیح مسلم، کتاب الزھد، باب امومن امرہ کلہ خیر) اور ایک اور حدیث میں فرمایا کہ " مومن کو جو بھی فکر و غم اور تکلیف پہنچتی ہے حتی کہ اسے کانٹا چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کی غلطیاں معاف فرما دیتا ہے " (مسند احمد جلد 3، ص 4) سورة معاج کی آیات 19، 22 میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔
(آیت 11) {اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ:} یعنی صابر مومن کا یہ حال نہیں، وہ نہ راحت میں پھولتا ہے اور نہ مصیبت میں رب کی نعمتوں کو بھولتا ہے۔ یہی بات سورۂ معارج (۱۹ تا ۳۵) میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهٗ كُلَّهٗ لَهٗ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذٰلِكَ لِأَحَدٍ إِلاَّ لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهٗ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَّهٗ، وَ إِنْ أَصَابَتْهٗ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَّهٗ ] [ مسلم، الزہد، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر: ۲۹۹۹ ] ”مومن کا معاملہ عجیب ہے، کیونکہ اس کا ہر کام ہی خیر ہے اور یہ چیز مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں، اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے، سو وہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف اور مصیبت پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے، سو وہ بھی اس کے لیے خیر ہوتی ہے۔“
فَلَعَلَّکَ تَارِکٌۢ بَعۡضَ مَا یُوۡحٰۤی اِلَیۡکَ وَ ضَآئِقٌۢ بِہٖ صَدۡرُکَ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ کَنۡزٌ اَوۡ جَآءَ مَعَہٗ مَلَکٌ ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ نَذِیۡرٌ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ وَّکِیۡلٌ ﴿ؕ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تو اے پیغمبرؐ! کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اُن چیزوں میں سے کسی چیز کو (بیان کر نے سے) چھوڑ دو جو تمہاری طرف وحی کی جا رہی ہیں اور اِس بات پر دل تنگ ہو کہ وہ کہیں گے "اس شخص پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتارا گیا" یا یہ کہ "اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا" تم تو محض خبردار کرنے والے ہو، آگے ہر چیز کا حوالہ دار اللہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس شاید کہ آپ اس وحی کے کسی حصے کو چھوڑ دینے والے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی جاتی ہے اور اس سے آپ کا دل تنگ ہے، صرف ان کی اس بات پر کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اترا؟ یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہی آتا، سن لیجئے! آپ تو صرف ڈرانے والے ہی ہیں اور ہر چیز کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا جو وحی تمہاری طرف ہوتی ہے اس میں سے کچھ تم چھوڑ دو گے اور اس پر دل تنگ ہوگے اس بناء پر کہ وہ کہتے ہیں ان کے ساتھ کوئی خزانہ کیوں نہ اترا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ آتا، تم تو ڈر سنانے والے ہو اور اللہ ہر چیز پر محافظ ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے پیغمبر(ص)) آپ کی طرف جو وحی کی جاتی ہے تو کیا آپ (کفار کی باتوں سے متاثر ہوکر) اس کا کچھ حصہ چھوڑ دیں گے اور کیا آپ کا سینہ تنگ ہو جائے گا کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ان پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ یا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا؟ (آپ ہرگز ایسا نہیں کر سکتے اور نہ ہی کرنا چاہیئے کیونکہ) آپ تو بس (عذابِ الٰہی سے) ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر شاید تو اس کا کچھ حصہ چھوڑ دینے والا ہے جو تیری طرف وحی کی جاتی ہے اور اس کی وجہ سے تیرا سینہ تنگ ہونے والا ہے کہ وہ کہیں گے اس پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتارا گیا، یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا؟ تو توُ صرف ڈرانے والا ہے اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کی تنقید کی پراہ نہ کریں ٭٭

کافروں کی زبان پر جو آتا وہی طعنہ بازی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے سچے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو دلاسا اور تسلی دیتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ اس سے کام میں سستی کریں، نہ تنگ دل ہوں یہ تو ان کا شیوہ ہے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «‏‏‏‏وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:7،8] ‏‏‏‏ ’ کبھی وہ کہتے ہیں اگر یہ رسول ہے تو کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ بازاوں میں کیوں آتا جاتا ہے؟ اس کی ہم نوائی میں کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتر؟ اسے کوئی خزانہ کیوں نہیں دیا گیا؟ اس کے کھانے کو کوئی خاص باغ کیوں نہیں بنایا گیا؟ مسلمانوں کو طعنہ دیتے ہیں کہ تم تو اس کے پیچھے چل رہے ہو۔ جس پر جادو کر دیا گیا ہے ‘۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [15-الحجر:97-99] ‏‏‏‏ ’ اے پیغمبر! آپ ملول خاطر نہ ہوں، آزردہ دل نہ ہوں، اپنے کام سے نہ رکئے، انہیں حق کی پکار سنانے میں کوتاہی نہ کیجئے، دن رات اللہ کی طرف بلاتے رہیئے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ان کی تکلیف دہ باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بری لگتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم توجہ بھی نہ کیجئے۔ ایسا نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مایوس ہو جائیں یا تنگ دل ہو کر بیٹھ جائیں کہ یہ آوازے کستے، پھبتیاں اڑاتے ہیں۔ اپنے سے پہلے کے رسولوں کو دیکھئیے سب جھٹلائے گئے ستائے گئے اور صابر و ثابت قدم رہے یہاں تک اللہ کی مدد آپہنچی ‘۔

پھر قرآن کا معجزہ بیان فرمایا کہ ’ اس جیسا قرآن لانا تو کہاں؟ اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی ساری دنیا مل کر بنا کر نہیں لا سکتی اس لیے کہ یہ اللہ کا کلام ہے ‘۔ جیسی اس کی ذات مثال سے پاک، ویسے ہی اس کی صفتیں بھی بے مثال۔ اس کے کلام جیسا مخلوق کا کلام ہو یہ ناممکن ہے۔ اللہ کی ذات اس سے بلند بالا پاک اور منفرد ہے معبود اور رب صرف وہی ہے۔ جب تم سے یہی نہیں ہو سکتا اور اب تک نہیں ہو سکا تو یقین کر لو کہ تم اس کے بنانے سے عاجز ہو اور دراصل یہ اللہ کا کلام ہے اور اسی کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اس کا علم، اس کے حکم احکام اور اس کی روک ٹوک اسی کلام میں ہیں اور ساتھ ہی مان لو کہ معبود برحق صرف وہی ہے بس آؤ اسلام کے جھنڈے تلے کھڑے ہو جاؤ۔
12۔ 1 مشرکین نبی کی بابت کہتے رہتے تھے کہ اس کے ساتھ کوئی فرشتہ نازل کیوں نہیں ہوتا، یا اس کی طرف سے کوئی خزانہ کیوں نہیں اتار دیا جاتا، ایک دوسرے مقام پر فرمایا گیا ' ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ آپ کی بابت جو باتیں کہتے ہیں ' ان سے آپ کا سینہ تنگ ہوتا ہے۔ سورة الحجر اس آیت میں انہی باتوں کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ شاید آپ کا سینہ تنگ ہو اور کچھ باتیں جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہیں اور وہ مشرکین پر گراں گزرتی ہیں ممکن ہے آپ وہ انھیں سنانا پسند نہ کریں آپ کا کام صرف انذار و تبلیغ ہے، وہ آپ ہر صورت میں کئے جائیں۔
(آیت 12) ➊ {فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا يُوْحٰۤى اِلَيْكَ …:} کفار ہر وقت کوئی نہ کوئی معجزہ لانے کی فرمائش کرتے رہتے تھے کہ آپ پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ چلیے آپ احد پہاڑ ہی سونے کا بنا دیجیے، یا کوئی فرشتہ ہی ساتھ لے آئیے۔ ان کی عجیب و غریب فرمائشوں کا ذکر سورۂ بنی اسرائیل (۹۰ تا ۹۳) اور سورۂ فرقان (۷،۸) میں کچھ تفصیل کے ساتھ ہے۔ ان آیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ ان کے شبہات، مطالبات اور طعن و تشنیع سے تنگ آ کر آپ پریشان اور غم زدہ نہ ہو جائیں، بلکہ شرک کی مذمت کے لیے اور توحید کے اثبات کے لیے جو بھی وحی آئے آپ کسی بھی کمی بیشی کے بغیر ان تک پہنچاتے رہیں۔ یہ نہ ہو کہ وحی کا وہ حصہ حذف کر دیں جس میں بتوں کی عیب جوئی اور شرک کی مذمت ہے۔ ➋ { اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِيْرٌ:} یعنی آپ کو اللہ تعالیٰ نے محض عذاب سے ڈرانے کے لیے بھیجا ہے، لہٰذا کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا کیے بغیر آپ اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہیں۔ ➌ {وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ: } یعنی ان کے مطالبات کو پورا کرنا یا نہ کرنا اللہ کا کام ہے، ہر چیز اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ اگر چاہے گا تو آپ کو ایک خزانہ کیا روئے زمین کے تمام خزانے دے دے گا اور ایک فرشتہ کیا آپ پر سیکڑوں فرشتے اتار دے گا۔ بہرحال جیسی اس کی مصلحت اور حکمت ہو گی ویسا ہی کرے گا، آپ کو ان چیزوں سے کیا غرض؟ ہر چیز کا نگران وہ خود ہے۔ آپ تو اللہ تعالیٰ کا جو حکم آئے بے دھڑک ان کو سناتے رہیں۔
اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ؕ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِعَشۡرِ سُوَرٍ مِّثۡلِہٖ مُفۡتَرَیٰتٍ وَّ ادۡعُوۡا مَنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے یہ کتاب خود گھڑ لی ہے؟ کہو، "اچھا یہ بات ہے تو اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں تم بنا لاؤ اور اللہ کے سوا اور جو جو (تمہارے معبود) ہیں اُن کو مدد کے لیے بلا سکتے ہو تو بلا لو اگر تم (انہیں معبود سمجھنے میں) سچے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو اسی نے گھڑا ہے۔ جواب دیجئے کہ پھر تم بھی اسی کی مثل دس سورتیں گھڑی ہوئی لے آؤ اور اللہ کے سوا جسے چاہو اپنے ساتھ بلا بھی لو اگر تم سچے ہو
احمد رضا خان بریلوی
کیا یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اسے جی سے بنالیا، تم فرماؤ کہ تم ایسی بنائی ہوئی دس سورتیں لے آؤ اور اللہ کے سوا جو مل سکیں سب کو بلالو اگر تم سچے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
یا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس شخص (آپ) نے یہ (قرآن) خود گھڑ لیا ہے؟ آپ فرمائیے اگر تم اس دعویٰ میں سچے ہو تو تم بھی اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں لے آؤ۔ اور بے شک اللہ کے سوا جس کو (اپنی مدد کیلئے) بلانا چاہتے ہو بلا لو۔
عبدالسلام بن محمد
یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے۔ کہہ دے پھر اس جیسی دس سورتیں گھڑی ہوئی لے آئو اور اللہ کے سوا جسے بلا سکتے ہو بلا لو، اگر تم سچے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کی تنقید کی پراہ نہ کریں ٭٭

کافروں کی زبان پر جو آتا وہی طعنہ بازی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے سچے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو دلاسا اور تسلی دیتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ اس سے کام میں سستی کریں، نہ تنگ دل ہوں یہ تو ان کا شیوہ ہے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «‏‏‏‏وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:7،8] ‏‏‏‏ ’ کبھی وہ کہتے ہیں اگر یہ رسول ہے تو کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ بازاوں میں کیوں آتا جاتا ہے؟ اس کی ہم نوائی میں کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتر؟ اسے کوئی خزانہ کیوں نہیں دیا گیا؟ اس کے کھانے کو کوئی خاص باغ کیوں نہیں بنایا گیا؟ مسلمانوں کو طعنہ دیتے ہیں کہ تم تو اس کے پیچھے چل رہے ہو۔ جس پر جادو کر دیا گیا ہے ‘۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [15-الحجر:97-99] ‏‏‏‏ ’ اے پیغمبر! آپ ملول خاطر نہ ہوں، آزردہ دل نہ ہوں، اپنے کام سے نہ رکئے، انہیں حق کی پکار سنانے میں کوتاہی نہ کیجئے، دن رات اللہ کی طرف بلاتے رہیئے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ان کی تکلیف دہ باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بری لگتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم توجہ بھی نہ کیجئے۔ ایسا نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مایوس ہو جائیں یا تنگ دل ہو کر بیٹھ جائیں کہ یہ آوازے کستے، پھبتیاں اڑاتے ہیں۔ اپنے سے پہلے کے رسولوں کو دیکھئیے سب جھٹلائے گئے ستائے گئے اور صابر و ثابت قدم رہے یہاں تک اللہ کی مدد آپہنچی ‘۔

پھر قرآن کا معجزہ بیان فرمایا کہ ’ اس جیسا قرآن لانا تو کہاں؟ اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی ساری دنیا مل کر بنا کر نہیں لا سکتی اس لیے کہ یہ اللہ کا کلام ہے ‘۔ جیسی اس کی ذات مثال سے پاک، ویسے ہی اس کی صفتیں بھی بے مثال۔ اس کے کلام جیسا مخلوق کا کلام ہو یہ ناممکن ہے۔ اللہ کی ذات اس سے بلند بالا پاک اور منفرد ہے معبود اور رب صرف وہی ہے۔ جب تم سے یہی نہیں ہو سکتا اور اب تک نہیں ہو سکا تو یقین کر لو کہ تم اس کے بنانے سے عاجز ہو اور دراصل یہ اللہ کا کلام ہے اور اسی کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اس کا علم، اس کے حکم احکام اور اس کی روک ٹوک اسی کلام میں ہیں اور ساتھ ہی مان لو کہ معبود برحق صرف وہی ہے بس آؤ اسلام کے جھنڈے تلے کھڑے ہو جاؤ۔
13۔ 1 امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے چلینج دیا کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا بنایا ہوا قرآن ہے، تو اس کی نظیر پیش کر کے دکھا دو، اور تم جس کی چاہو، مدد حاصل کرلو، لیکن تم کبھی ایسا نہیں کرسکو گے۔ فرمایا " قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا " 17۔ الاسراء:88) (اعلان کر دیجئے کہ اگر تمام انسان اور کل جنات مل کر اس قرآن کے مثل لانا چاہیں تو ان سب سے اس کے مثل لانا مشکل ہے، گو وہ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے چلنج دیا کہ پورا قرآن بنا کر پیش نہیں کرسکتے تو دس سورتیں ہی بنا کر پیش کردو۔ جیسا کہ اس مقام پر ہے۔ پھر تیسرے نمبر پر چیلنچ دیا کہ چلو ایک سورت بنا کر پیش کرو جیسا کہ سورة یونس کی آیت نمبر 39 اور سورة بقرہ کے آغاز میں فرمایا (تفسیر ابن کثیر، زیر بحث آیت سورة یونس) اور اس بنا پر آخری چیلنچ یہ ہوسکتا ہے کہ اس جیسی ایک بات ہی بنا کر پیش کردو۔ " فَلْيَاْتُوْا بِحَدِيْثٍ مِّثْلِهٖٓ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِيْنَ 34؀ۭ" 52۔ الطور:34) مگر ترتیب نزول سے چیلنج کی اس ترتیب کی تائید نہیں ہوتی۔ واللہ اعلم با الصواب۔
(آیت 13) {اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ …:} یعنی اگر تمھیں اس قرآن کے اللہ تعالیٰ کا کلام ہونے میں شک و شبہ ہے تو تم سب جمع ہو کر اس چیلنج کا جواب دینے کی کوشش کرو۔ واضح رہے کہ قرآن میں متعدد مرتبہ اہل عرب کو چیلنج کیا گیا ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل (۸۸) اور سورۂ طور (۳۴) میں پورے قرآن کی مثل لانے کا چیلنج کیا گیا ہے۔ اس کے بعد یہاں سورۂ ہود میں دس سورتوں کا چیلنج کیا گیا ہے۔ پھر سورۂ یونس اور بقرہ میں ایک سورت کا۔ لیکن اہل عرب پورا قرآن یا دس سورتیں تو کیا ایک سورت بھی بنا کر پیش نہ کر سکے۔ یہ قرآن کے کلام اللہ ہونے کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ (ابن کثیر) یاد رہے کہ قرآن مجید کا معجز ہونا، یعنی اس جیسی ایک سورت کی تصنیف بھی ناممکن ہونے کی وجہ قرآن مجید کی بے شمار خوبیاں ہیں، جو مخلوق کی بساط سے باہر ہیں۔ مسلم علماء نے اس پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں، جن کا عنوان ہی ”اعجاز القرآن“ (ازباقلانی، صالح بن عبد العزیز وغیرہ) یا اس سے ملتا جلتا ہے۔ ان خوبیوں میں اس کی فصاحت و بلاغت کے ساتھ ساتھ اس کے اندازِ بیان کا اللہ کی شان کے مطابق جلال و جمال، اس کی کسی پیش گوئی یا خبر کا غلط نہ ہونا، اس کی آیات کا ایک دوسرے سے ٹکرانے سے پاک ہونا اور اس کی جامعیت وغیرہ بھی شامل ہیں۔
فَاِلَّمۡ یَسۡتَجِیۡبُوۡا لَکُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ بِعِلۡمِ اللّٰہِ وَ اَنۡ لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اب اگر وہ (تمہارے معبود) تمہاری مدد کو نہیں پہنچتے تو جان لو کہ یہ اللہ کے علم سے نازل ہوئی ہے اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے پھر کیا تم (اس امر حق کے آگے) سر تسلیم خم کر تے ہو؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اگر وه تمہاری اس بات کو قبول نہ کریں تو تم یقین سے جان لو کہ یہ قرآن اللہ کے علم کے ساتھ اتارا گیا ہے اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، پس کیا تم مسلمان ہوتے ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اے مسلمانو اگر وہ تمہاری اس بات کا جواب نہ دے سکیں تو سمجھ لو کہ وہ اللہکے علم ہی سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں تو کیا اب تم مانو گے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے مسلمانو) اب اگر وہ (کفار) تمہاری دعوت پر لبیک نہ کہیں تو پھر سمجھ لو کہ جو کچھ (قرآن) نازل کیا گیا ہے وہ اللہ کے علم و قدرت سے اتارا گیا ہے اور یہ بھی (سمجھ لو) کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے (اے کفار بتاؤ) کیا اب اسلام لاؤگے۔ اور یہ حقیقت تسلیم کروگے؟
عبدالسلام بن محمد
پس اگر وہ تمھاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ صرف اللہ کے علم سے اتارا گیا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم حکم ماننے والے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کی تنقید کی پراہ نہ کریں ٭٭

کافروں کی زبان پر جو آتا وہی طعنہ بازی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے سچے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو دلاسا اور تسلی دیتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ اس سے کام میں سستی کریں، نہ تنگ دل ہوں یہ تو ان کا شیوہ ہے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «‏‏‏‏وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:7،8] ‏‏‏‏ ’ کبھی وہ کہتے ہیں اگر یہ رسول ہے تو کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ بازاوں میں کیوں آتا جاتا ہے؟ اس کی ہم نوائی میں کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتر؟ اسے کوئی خزانہ کیوں نہیں دیا گیا؟ اس کے کھانے کو کوئی خاص باغ کیوں نہیں بنایا گیا؟ مسلمانوں کو طعنہ دیتے ہیں کہ تم تو اس کے پیچھے چل رہے ہو۔ جس پر جادو کر دیا گیا ہے ‘۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [15-الحجر:97-99] ‏‏‏‏ ’ اے پیغمبر! آپ ملول خاطر نہ ہوں، آزردہ دل نہ ہوں، اپنے کام سے نہ رکئے، انہیں حق کی پکار سنانے میں کوتاہی نہ کیجئے، دن رات اللہ کی طرف بلاتے رہیئے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ان کی تکلیف دہ باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بری لگتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم توجہ بھی نہ کیجئے۔ ایسا نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مایوس ہو جائیں یا تنگ دل ہو کر بیٹھ جائیں کہ یہ آوازے کستے، پھبتیاں اڑاتے ہیں۔ اپنے سے پہلے کے رسولوں کو دیکھئیے سب جھٹلائے گئے ستائے گئے اور صابر و ثابت قدم رہے یہاں تک اللہ کی مدد آپہنچی ‘۔

پھر قرآن کا معجزہ بیان فرمایا کہ ’ اس جیسا قرآن لانا تو کہاں؟ اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی ساری دنیا مل کر بنا کر نہیں لا سکتی اس لیے کہ یہ اللہ کا کلام ہے ‘۔ جیسی اس کی ذات مثال سے پاک، ویسے ہی اس کی صفتیں بھی بے مثال۔ اس کے کلام جیسا مخلوق کا کلام ہو یہ ناممکن ہے۔ اللہ کی ذات اس سے بلند بالا پاک اور منفرد ہے معبود اور رب صرف وہی ہے۔ جب تم سے یہی نہیں ہو سکتا اور اب تک نہیں ہو سکا تو یقین کر لو کہ تم اس کے بنانے سے عاجز ہو اور دراصل یہ اللہ کا کلام ہے اور اسی کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اس کا علم، اس کے حکم احکام اور اس کی روک ٹوک اسی کلام میں ہیں اور ساتھ ہی مان لو کہ معبود برحق صرف وہی ہے بس آؤ اسلام کے جھنڈے تلے کھڑے ہو جاؤ۔
14۔ 1 یعنی کیا اس کے بعد بھی کہ تم اس چیلنج کا جواب دینے سے قاصر ہو، یہ ماننے کے لئے، کہ یہ قرآن اللہ ہی کا نازل کردہ ہے، آمادہ نہیں ہوا اور نہ مسلمان ہونے کو تیار ہو؟
(آیت 14) {فَاِلَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا …:} اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ اے مسلمانو! اگر وہ کفار تمھارا یہ چیلنج قبول نہ کریں تو یقین کر لو کہ یہ صرف اللہ کے علم سے اتارا گیا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم حکم ماننے والے ہو؟ یعنی اپنی کتاب کی حقانیت اس قدر واضح اور روشن ہونے پر تمھارے ایمان و یقین اور اس پر عمل میں اضافہ ہونا لازم ہے، تو کیا تم ایسا کرو گے؟ یا ایمان لانے کے باوجود حکم ماننے میں کوتاہی کرتے رہو گے؟ دوسرا معنی یہ ہے کہ پچھلی آیت میں مشرکین کو جو فرمایا تھا: «{ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ }» کہ اللہ کے سو اجسے بلا سکتے ہو بلا لو، اس کے بعد اب فرمایا، اگر وہ تمام لوگ جنھیں تم اس کام کے لیے بلاؤ گے، مثلاً عرب کے بڑے بڑے فصحاء، بلغاء، شعراء، خطباء اور تمھارے تمام داتا اور دستگیر، اگر ان میں سے کوئی بھی تمھاری بات قبول نہ کرے اور {” اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ “} جیسی تین آیات بھی نہ بنا سکیں تو پھر تمھیں لازم ہے کہ ایک تو اس بات پر یقین کر لو کہ یہ کتاب اللہ کے علم سے نازل کی گئی ہے، اس کی مثل لانا مخلوق کے بس کی بات نہیں۔ دوسرا اس بات پر یقین کر لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تو اے جماعت کفار! پھر کیا تم اسلام قبول کرو گے یا اب بھی ضد اور عناد ہی پر اڑے رہو گے؟
مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا وَ زِیۡنَتَہَا نُوَفِّ اِلَیۡہِمۡ اَعۡمَالَہُمۡ فِیۡہَا وَ ہُمۡ فِیۡہَا لَا یُبۡخَسُوۡنَ ﴿۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو لوگ بس اِسی دنیا کی زندگی اور اس کی خو ش نمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ان کی کار گزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی
مولانا محمد جوناگڑھی
جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت پر فریفتہ ہوا چاہتا ہو ہم ایسوں کو ان کے کل اعمال (کا بدلہ) یہی بھرپور پہنچا دیتے ہیں اور یہاں انہیں کوئی کمی نہیں کی جاتی
احمد رضا خان بریلوی
جو دنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہو ہم اس میں ان کا پورا پھل دے دیں گے اور اس میں کمی نہ دیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو صرف دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت چاہتے ہیں تو ہم انہیں ان کی سعی و عمل کی پوری پوری جزا دیتے ہیں۔ اور ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی۔
عبدالسلام بن محمد
جو کوئی دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتا ہو ہم انھیں ان کے اعمال کا بدلہ اسی (دنیا) میں پورا دے دیں گے اور اس (دنیا) میں ان سے کمی نہ کی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ریا ہر نیکی کے لیے زہر ہے ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ریاکاروں کی نیکیوں کا بدلہ سب کچھ اسی دنیا میں مل جاتا ہے۔ ذرا سی بھی کمی نہیں ہوتی۔‏‏‏‏“ پس جو شخص دنیا میں دکھاوے کے لئے نماز پڑھے، روزے رکھے یا تہجد گزاری کرے، اس کا اجر اسے دنیا میں ہی مل جاتا ہے۔ آخرت میں وہ خالی ہاتھ اور محض بےعمل اُٹھتا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ وغیرہ کا بیان ہے ”یہ آیت یہود و نصاری کے حق میں اتری“، اور مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ”ریاکاروں کے بارے میں اتری ہے۔‏‏‏‏“ الغرض کس کا جو قصد ہو اسی کے مطابق اس سے معاملہ ہوتا ہے دنیا طلبی کے لیے جو اعمال ہوں وہ آخرت میں کار آمد نہیں ہو سکتے۔ مومن کی نیت اور مقصد چونکہ آخرت طلبی ہی ہوتا ہے اللہ اسے آخرت میں اس کے اعمال کا بہترین بدلہ عطا فرماتا ہے اور دنیا میں بھی اس کی نیکیاں کام آتی ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی مضمون آیا ہے۔ قرآن کریم کی آیات «مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا كُلًّا نُّمِدُّ هَـٰؤُلَاءِ وَهَـٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَلَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًا» [17-الإسراء:18-21] ‏‏‏‏ میں بھی اسی کا تفصیلی بیان ہے کہ ’ دنیا طلب لوگوں میں سے جسے ہم جس قدر چاہیں دے دیتے ہیں۔ پھر اس کا ٹھکانا جہنم ہوتا ہے جہاں وہ ذلیل و خوار ہو کر داخل ہوتا ہے۔ ہاں جس کی طلب آخرت ہو اور بالکل اسی کے مطابق اس کا عمل بھی ہو اور وہ ایماندار بھی تو ایسے لوگوں کی کوشش کی قدر دانی کی جاتی ہے۔ انہیں ہر ایک کو ہم تیرے رب کی عطا سے بڑھاتے رہتے ہیں تیرے پروردگار کا انعام کسی سے رکا ہوا نہیں۔ تو خود دیکھ لے کہ کس طرح ہم نے ایک کو ایک پر فضیلت بخشی ہے۔ آخرت کیا باعتبار درجوں کے اور کیا باعتبار فضیلت کے بہت ہی بڑی اور زبردست چیز ہے ‘۔ اور آیت میں ارشاد ہے «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِيْ حَرْثِهٖ وَمَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَمَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِيْبٍ» [42-الشورى:20] ‏‏‏‏ ’ جس کا ارادہ آخرت کی کھیتی کا ہو ہم خود اس میں اس کے لیے برکت عطا فرماتے ہیں اور جس کا ارادہ دنیا کی کھیتی کا ہو ہم گو اسے اس میں سے کچھ دے دیں لیکن آخرت میں وہ بے نصیب رہ جاتا ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 16،15) {مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَ زِيْنَتَهَا …:} یہ دو آیات کفار اور مشرکین کے بارے میں ہیں، کیونکہ دوسری آیت میں ہے: «{ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ }» ”ان کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں۔“ مطلب یہ ہے کہ جو کفار یہاں دنیا طلبی کے لیے صدقہ و خیرات وغیرہ اور نیک عمل کرتے ہیں، جن کا تعلق رفاہ عامہ سے ہے، انھیں ان کاموں کا بدلہ دنیا ہی میں پورا پورا دے دیا جاتا ہے، لیکن یہ بدلہ ملنا اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا }» [ بنی إسرائیل: ۱۸ ] ”جو شخص اس جلدی والی (دنیا) کا ارادہ رکھتا ہو ہم اس کو اس میں جلدی دے دیں گے جو چاہیں گے، جس کے لیے چاہیں گے، پھر ہم نے اس کے لیے جہنم بنا رکھی ہے، اس میں داخل ہو گا، مذمت کیا ہوا، دھتکارا ہوا۔“ اسی معنی کی ایک اور آیت سورۂ شوریٰ (۲۰) میں بھی ہے۔ کفار کو دنیا میں کسی نیکی کا فائدہ آخرت میں عذاب کم ہونے کی صورت میں تو ہو سکتا ہے، لیکن ان کا آگ سے نکلنا کسی صورت ممکن نہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش کی وجہ سے ابوطالب کے عذاب میں تخفیف ہو گی، مگر وہ آگ سے نکل نہیں سکے گا۔ اسی طرح آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر میں زیادتی اور کمی کی وجہ سے جہنم میں کفار کے عذاب میں کمی بیشی ہو گی، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ }» [ النساء: ۱۴۵ ] ”بے شک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔“ نیکی کی کمی بیشی کی وجہ سے جنت کے درجات اور بدی کی کمی بیشی کی وجہ سے جہنم کے درکات میں فرق ہو گا۔ البتہ کفار کی کوئی نیکی انھیں جہنم سے نہیں نکال سکے گی، کیونکہ آخرت میں نیک عمل کی قبولیت کے لیے ایمان شرط ہے۔ دیکھیے سورۂ حجر کی دوسری آیت کی تفسیر۔ علمائے تفسیر نے ان دو آیتوں کو عام بھی مانا ہے اور لکھا ہے کہ اس میں منافق اور ریا کار بھی شامل ہیں کہ ان کے عمل بھی آخرت میں اکارت جائیں گے۔ چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ فَأُتِيَ بِهٖ فَعَرَّفَهٗ نِعْمَتَهٗ فَعَرَفَهَا، قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيْهَا، قَالَ قَاتَلْتُ فِيْكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ قَالَ كَذَبْتَ وَلٰكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُّقَالَ جَرِيْئٌ فَقَدْ قِيْلَ ثُمَّ اُمِرَ بِهٖ فَسُحِبَ عَلٰی وَجْهِهٖ حَتّٰی أُلْقِيَ فِي النَّارِ ] [ مسلم، الإمارۃ، باب من قاتل للریاء…: ۱۹۰۵ ] ”قیامت کے دن ایک شہید کو لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا، وہ انھیں پہچان لے گا، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”تو نے ان کے لیے کیا کیا؟“ وہ کہے گا: ”یا اللہ! میں نے لڑتے لڑتے تیری راہ میں جان دے دی۔“ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: ”تو نے جھوٹ کہا، تو نے محض اس لیے جنگ کی تھی کہ لوگ تجھے بہادر کہیں، چنانچہ تجھے یہ داد مل گئی۔“ پھر حکم ہو گا اور اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریا کار قاری اور ریاکار دولت مند کے متعلق بھی یہی بیان فرمایا۔ واضح رہے کہ اگر اس آیت کو عام رکھا جائے تو {” لَيْسَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ “} (ان کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں) کی تاویل کی جائے گی کہ کفار اور منافقین کے لیے تو دائمی جہنم ہے، مگر مسلمان گناہ گار سزا کے بعد جہنم سے نکل بھی آئیں گے اور بعض کو اللہ تعالیٰ معاف بھی کر دے گا، اہل سنت کا یہی عقیدہ ہے۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَیۡسَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ اِلَّا النَّارُ ۫ۖ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوۡا فِیۡہَا وَ بٰطِلٌ مَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے (وہاں معلوم ہو جائے گا کہ) جو کچھ انہوں نے دنیا میں بنایا وہ سب ملیامیٹ ہو گیا اور اب ان کا سارا کیا دھرا محض باطل ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہاں یہی وه لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انہوں نے یہاں کیا ہوگا وہاں سب اکارت ہے اور جو کچھ ان کےاعمال تھے سب برباد ہونے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یہ ہیں وہ جن کے لیے آخرت میں کچھ نہیں مگر آ گ اور اکارت گیا جو کچھ وہاں کرتے تھے اور نابود ہوئے جو ان کے عمل تھے
علامہ محمد حسین نجفی
یہ وہ (بدنصیب) لوگ ہیں جن کیلئے آخرت (کی زندگی) میں دوزخ کی آگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اور انہوں نے اس (دنیا) میں جو کچھ کیا تھا وہ سب اکارت ہو جائے گا اور وہ جو کچھ کرتے تھے وہ سب باطل ہو جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں اور برباد ہوگیا جو کچھ انھوں نے اس میں کیا اور بے کار ہے جو کچھ وہ کرتے رہے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ریا ہر نیکی کے لیے زہر ہے ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ریاکاروں کی نیکیوں کا بدلہ سب کچھ اسی دنیا میں مل جاتا ہے۔ ذرا سی بھی کمی نہیں ہوتی۔‏‏‏‏“ پس جو شخص دنیا میں دکھاوے کے لئے نماز پڑھے، روزے رکھے یا تہجد گزاری کرے، اس کا اجر اسے دنیا میں ہی مل جاتا ہے۔ آخرت میں وہ خالی ہاتھ اور محض بےعمل اُٹھتا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ وغیرہ کا بیان ہے ”یہ آیت یہود و نصاری کے حق میں اتری“، اور مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ”ریاکاروں کے بارے میں اتری ہے۔‏‏‏‏“ الغرض کس کا جو قصد ہو اسی کے مطابق اس سے معاملہ ہوتا ہے دنیا طلبی کے لیے جو اعمال ہوں وہ آخرت میں کار آمد نہیں ہو سکتے۔ مومن کی نیت اور مقصد چونکہ آخرت طلبی ہی ہوتا ہے اللہ اسے آخرت میں اس کے اعمال کا بہترین بدلہ عطا فرماتا ہے اور دنیا میں بھی اس کی نیکیاں کام آتی ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی مضمون آیا ہے۔ قرآن کریم کی آیات «مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا كُلًّا نُّمِدُّ هَـٰؤُلَاءِ وَهَـٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَلَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًا» [17-الإسراء:18-21] ‏‏‏‏ میں بھی اسی کا تفصیلی بیان ہے کہ ’ دنیا طلب لوگوں میں سے جسے ہم جس قدر چاہیں دے دیتے ہیں۔ پھر اس کا ٹھکانا جہنم ہوتا ہے جہاں وہ ذلیل و خوار ہو کر داخل ہوتا ہے۔ ہاں جس کی طلب آخرت ہو اور بالکل اسی کے مطابق اس کا عمل بھی ہو اور وہ ایماندار بھی تو ایسے لوگوں کی کوشش کی قدر دانی کی جاتی ہے۔ انہیں ہر ایک کو ہم تیرے رب کی عطا سے بڑھاتے رہتے ہیں تیرے پروردگار کا انعام کسی سے رکا ہوا نہیں۔ تو خود دیکھ لے کہ کس طرح ہم نے ایک کو ایک پر فضیلت بخشی ہے۔ آخرت کیا باعتبار درجوں کے اور کیا باعتبار فضیلت کے بہت ہی بڑی اور زبردست چیز ہے ‘۔ اور آیت میں ارشاد ہے «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِيْ حَرْثِهٖ وَمَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَمَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِيْبٍ» [42-الشورى:20] ‏‏‏‏ ’ جس کا ارادہ آخرت کی کھیتی کا ہو ہم خود اس میں اس کے لیے برکت عطا فرماتے ہیں اور جس کا ارادہ دنیا کی کھیتی کا ہو ہم گو اسے اس میں سے کچھ دے دیں لیکن آخرت میں وہ بے نصیب رہ جاتا ہے ‘۔
16۔ 1 ان دو آیات کے بارے میں بعض کا خیال ہے اس میں اہل ریا کار کا ذکر ہے، بعض کے نزدیک اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور بعض کے نزدیک طالبان دنیا کا ذکر ہے۔ کیونکہ دنیادار بھی بعض اچھے عمل کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی جزا انھیں دنیا میں دے دیتا ہے، آخرت میں ان کے لئے سوائے عذاب کے اور کچھ نہیں ہوگا۔ اسی مضمون کو قرآن مجید سورة بنی اسرائیل آیات 18، 21 (مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا 18؀ وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَّشْكُوْرًا 19؀ كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ ۭ وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا 20؀ اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًا 21؀) 17۔ الاسراء:18 تا 21) اور سور، شوریٰ آیت 20 (مَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِيْ حَرْثِهٖ ۚ وَمَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَمَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِيْبٍ 20؀) 42۔ الشوری:20) میں بیان کیا گیا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَفَمَنۡ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ وَ یَتۡلُوۡہُ شَاہِدٌ مِّنۡہُ وَ مِنۡ قَبۡلِہٖ کِتٰبُ مُوۡسٰۤی اِمَامًا وَّ رَحۡمَۃً ؕ اُولٰٓئِکَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِہٖ مِنَ الۡاَحۡزَابِ فَالنَّارُ مَوۡعِدُہٗ ۚ فَلَا تَکُ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡہُ ٭ اِنَّہُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا، اس کے بعد ایک گواہ بھی پروردگار کی طرف سے (اس شہادت کی تائید میں) آ گیا، اور پہلے موسیٰؑ کی کتاب رہنما اور رحمت کے طور پر آئی ہوئی بھی موجود تھی (کیا وہ بھی دنیا پرستوں کی طرح اس سے انکار کرسکتا ہے؟) ایسے لوگ تو اس پر ایمان ہی لائیں گے اور انسانی گروہوں میں سے جو کوئی اس کا انکار کرے تو اس کے لیے جس جگہ کا وعدہ ہے وہ دوزخ ہے پس اے پیغمبرؐ، تم اِس چیز کی طرف سے کسی شک میں نہ پڑنا، یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا وه شخص جو اپنے رب کے پاس کی دلیل پر ہو اور اس کے ساتھ اللہ کی طرف کا گواه ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (گواه ہو) جو پیشوا اور رحمت ہے (اوروں کے برابر ہو سکتا ہے؟) یہی لوگ ہیں جو اس پر ایمان رکھتے ہیں، اور تمام فرقوں میں سے جو بھی اس کا منکر ہو اس کے آخری وعدے کی جگہ جہنم ہے، پس تو اس میں کسی قسم کے شبہ میں نہ ره، یقیناً یہ تیرے رب کی جانب سے سراسر برحق ہے، لیکن اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے نہیں ہوتے
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا وہ جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اور اس پر اللہ کی طرف سے گواہ آئے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، اور جو اس کا منکر ہو سارے گروہوں میں تو آگ اس کا وعدہ ہے تو اے سننے والے! تجھے کچھ اس میں شک نہ ہو، بیشک وہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے لیکن بہت آدمی ایمان نہیں رکھتے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے (اپنی صداقت کی) کھلی ہوئی دلیل رکھتا ہے اور جس کے پیچھے ایک گواہ بھی ہے جو اسی کا جزء ہے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (توراۃ) بھی رحمت و راہنمائی کے طور پر آچکی ہے (اور اس کی تصدیق بھی کر رہی ہے) یہ لوگ اس پر ایمان لائیں گے اور جو مختلف گروہوں میں سے اس کا انکار کرے گا اس کی وعدہ گاہ آتشِ دوزخ ہے خبردار تم! اس کے بارے میں شک میں نہ پڑنا وہ آپ کے پروردگار کی طرف سے برحق ہے مگر اکثر لوگ (حق پر) ایمان نہیں لاتے۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہو اور اس کی طرف سے ایک گواہ اس کی تائید کر رہا ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب بھی جو امام اور رحمت تھی، یہ لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ اور گروہوں میں سے جو اس کا انکار کرے تو آگ ہی اس کے وعدے کی جگہ ہے۔ سو تو اس کے بارے میں کسی شک میں نہ رہ، یقینا یہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے اور لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن کون ہیں؟ ٭٭

ان مومنوں کا وصف بیان ہو رہا ہے جو فطرت پر قائم ہیں جو اللہ کی وحدانیت کو دل سے مانتے ہیں۔ جیسے حکم الٰہی ہے کہ «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ» [30-الروم:30] ‏‏‏‏ ’ اپنا منہ دین حنیف پر قائم کر دے اللہ کی فطرت جس پر اس نے انسانی فطرت پیدا کی ہے ‘۔ بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے کہ جانوروں کے بچے صحیح سالم پیدا ہوتے ہیں پھر لوگ ان کے کان کاٹ ڈالتے ہیں } }۔ [صحیح بخاری:1381] ‏‏‏‏ مسلم شریف کی حدیث قدسی میں ہے { میں نے اپنے تمام بندوں کو موحد پیدا کیا ہے لیکن پھر شیطان آ کر انہیں ان کے دین سے بہکا دیتا ہے اور میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیتا ہے اور انہیں کہتا ہے کہ میرے ساتھ انہیں شریک کریں جن کی کوئی دلیل میں نے نہیں اتاری }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏ مسند اور سنن میں ہے کہ { ہر بچہ اسی ملت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی زبان کھلے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:402/1:صحیح] ‏‏‏‏ پس مومن فطرت رب پر ہی باقی رہا ہے۔ پس ایک تو فطرت اس کی صحیح سالم ہوتی ہے پھر اس کے پاس اللہ کا شاہد آتا ہے یعنی اللہ کی شریعت پیغمبر کے ذریعے پہنچتی ہے جو شریعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے ساتھ ختم ہوئی۔ پس شاہد سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اللہ کی رسالت اولاً جبرائیل علیہ السلام لائے اور آپ کے واسطے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم }۔ ایک قول میں کہا گیا ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ ہیں لیکن وہ قول ضعیف ہے۔ اس کا کوئی قائل ثابت ہی نہیں۔

حق بات پہلی ہی ہے۔ پس مومن کی فطرت اللہ کی وحی سے مل جاتی ہے۔ اجمالی طور پر اسے پہلے سے ہی یقین ہوتا ہے، پھر شریعت کی تفصیلات کو مان لیتا ہے۔ اس کی فطرت ایک ایک مسئلے کی تصدیق کرتی جاتی ہے۔ پس فطرت سلیم، اس کے ساتھ قرآن کی تعلیم، جسے جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو۔ پھر اس سے پہلے کی ایک اور تائید بھی موجود ہے، وہ کتاب موسیٰ علیہ السلام یعنی تورات جسے اللہ نے اس زمانے کی امت کے لیے پیشوائی کے قابل بنا کر بھیجی تھی اور جو اللہ کی طرف سے رحمت تھی اس پر جن کا پورا ایمان ہے وہ لامحالہ اس نبی علیہ السلام اور اس کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں کیونکہ اس کتاب نے اس کتاب پر ایمان لانے کی رہنمائی کی ہے۔ پس یہ لوگ اس کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ پھر پورے قرآن کو یا اس کے کسی حصے کو نہ ماننے والوں کی سزا کا بیان فرمایا کہ ’ دنیا والوں میں سے جو گروہ جو فرقہ اسے نہ مانے خواہ یہودی ہو، خواہ نصرانی کہیں کا ہو، کوئی ہو، کسی رنگت اور شکل و صورت کا ہو، قرآن پہنچا اور نہ مانا وہ جہنمی ہے ‘۔ جیسے رب العالمین نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اسی قرآن کریم میں فرمایا ہے، «لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ» ۱؎ [6-الأنعام:19] ‏‏‏‏ کہ ’ میں اس سے تمہیں بھی آگاہ کر رہا ہوں اور انہیں بھی جنہیں یہ پہنچ جائے ‘۔ اور آیت میں ہے «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّـهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [7-الأعراف:158] ‏‏‏‏ ’ لوگوں میں اعلان کر دو کہ اے انسانو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں ‘۔

صحیح مسلم میں ہے { رسول اللہ «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْلِیْماً» فرماتے ہیں ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس امت میں سے جو بھی مجھے سن لے اور پھر مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جہنمی ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:153] ‏‏‏‏ سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں جو صحیح حدیث سنتا ہوں اس کی تصدیق کتاب اللہ میں ضرور پاتا ہوں۔ مندرجہ بالا حدیث سن کر میں اس تلاش میں لگا کہ اس کی تصدیق قرآن کی کسی آیت سے ہوتی ہے تو مجھے یہ آیت ملی پس تمام دین والے اس سے مراد ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:18087:صحیح] ‏‏‏‏ پھر جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ’ اس قرآن کے اللہ کی طرف سے سراسر حق ہونے میں تجھے کوئی شک و شبہ نہ کرنا چاہیئے ‘۔ جیسے ارشاد ہے کہ «الم تَنزِيلُ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» ’ اس کتاب کے رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ‘ ۱؎ [32-السجدة:1-2] ‏‏‏‏ اور جگہ ہے «الم ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ» ۱؎ [2-البقرة:2-1] ‏‏‏‏ ’ اس کتاب میں کوئی شک نہیں ‘۔ پھر ارشاد ہے کہ ’ اکثر لوگ ایمان سے کورے ہوتے ہیں ‘، جیسے فرمان ہے «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [12-یوسف:103] ‏‏‏‏ یعنی ’ گو تیری چاہت ہو لیکن یقین کر لے کہ اکثر لوگ مومن نہیں ہونگے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:116] ‏‏‏‏ ’ اگر تو دنیا والوں کی اکثریت کی پیروی کرے گا تو وہ تو تجھے راہ حق سے بھٹکا دیں گے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ اِبْلِيْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» [34-سبأ:20] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان پر ابلیس نے اپنا گمان سچ کر دکھایا اور سوائے مومنوں کی ایک مختصر سی جماعت کے باقی سب اسی کے پیچھے لگ گئے ‘۔
17۔ 1 منکرین اور کافرین کے مقابلے میں اہل فطرت اور اہل ایمان کا تذکرہ کیا جا رہا ہے ' اپنے رب کی طرف سے دلیل ' سے مراد وہ فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا فرمایا اور وہ اللہ واحد کا اعتراف اور اسی کی عبادت جس طرح کہ نبی کا فرمان ہے کہ ' ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پس اس کے بعد اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں (صحیح بخاری) یتلوہ کے معنی ہیں اس کے پیچھے یعنی اس کے ساتھ اللہ کی طرف سے ایک گواہ بھی ہو گواہ سے مراد قرآن، یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جو اس فطرت صحیحہ کی طرف دعوت دیتے اور اس کی نشاندہی کرتے ہیں اور اس سے پہلے حضرت موسیٰ ؑ کی کتاب تورات بھی جو پیشوا بھی ہے اور رحمت کا سبب بھی یعنی کتاب موسیٰ ؑ بھی قرآن پر ایمان لانے کی طرف رہنمائی کرنے والی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک وہ شخص ہے جو منکر اور کافر ہے اور اس کے مقابلے میں ایک دوسرا شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل پر قائم ہے، اس پر ایک گواہ (قرآن۔ یا پیغمبر اسلام بھی ہے، اسی طرح اس سے قبل نازل ہونے والی کتاب تورات، میں بھی اس کے لئے پیشوائی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اور وہ ایمان لے آتا ہے کیا یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ ایک مومن ہے اور دوسرا کافر۔ ہر طرح کے دلائل سے لیس ہے اور دوسرا بالکل خالی ہے۔ 17۔ 2 یعنی جن کے اندر مذکورہ اوصاف پائے جائیں گے وہ قرآن کریم اور نبی پر ایمان لائیں گے۔ 17۔ 3 تمام فرقوں سے مراد روئے زمین پر پائے جانے والے مذاہب ہیں، یہودی، عیسائی، زرتشی، بدھ مت، مجوسی اور مشرکین و کفار وغیرہ، جو بھی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے گا، اس کا ٹھکانا جہنم ہے یہ وہی مضمون ہے جسے اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے " قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس امت کے جس یہودی، یا عیسائی نے بھی میری نبوت کی بابت سنا اور پھر مجھ پر ایمان نہیں لایا وہ جہنم میں جائے ہے " (صحیح مسلم کتاب الایمان، باب وجوب الایمان برسالۃ نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم الی جمیع الناس) یہ مضمون اس سے پہلے سورة بقرہ آیت 62 (خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا ھُمْ يُنْظَرُوْنَ 162۔) اور سورة نساء آیت 150، 152 (اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ ۙ وَّيُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا 150؀ۙ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا ۚ وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّهِيْنًا 151؁ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَلَمْ يُفَرِّقُوْا بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰۗىِٕكَ سَوْفَ يُؤْتِيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ ۭوَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 152؀) 4۔ النساء:150 تا 152) میں گزر چکا ہے۔ 17۔ 4 یہ وہی مضمون ہے جو قرآن مجید کے مختلف مقامات پر بیان کیا گیا (وَمَآ اَکْثَرُالنَّاسِ وَلَوْ حَرَصَتْ بِمُؤ مِنِیْنَ) (سورۃ یوسف۔ 13) (وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ 13۔) 12۔ یوسف:13) ' تیری خواہش کے باوجود اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے ' ابلیس نے اپنا گمان سچا کر دکھایا، مومنوں کے ایک گروہ کے سوا، سب اس کے پیروکار بن گئے '۔
(آیت 17) ➊ {اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ …: ” يَتْلُوْهُ “ ” تَلاَ يَتْلُوْ “} کا معنی ہے پیچھے آنا، مراد اس کی تائید کرنا ہے۔ اس آیت کی مفسرین نے کئی تفسیریں کی ہیں، ان میں سے دو تفسیریں زیادہ درست معلوم ہوتی ہیں۔ سب سے واضح اور درست تفسیر تو یہ ہے کہ کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے {” بَيِّنَةٍ “} (واضح دلیل) پر ہے، اس شخص سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبع مومن ہیں۔ {” بَيِّنَةٍ “} سے مراد نبوت کی نشانیاں اور دلائل ہیں اور {” يَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ “} (اس کی طرف سے ایک گواہ اس کی تائید کر رہا ہو) میں {” شَاهِدٌ “} سے مراد قرآن مجید ہے جو آپ کے صدق کا شاہد ہے اور اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی کتاب سے مراد تورات ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی شہادت دے رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا یہ رسول اور اس کے پیروکار جو اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہیں، ان لوگوں کی طرح ہو سکتے ہیں جن کے پاس نہ رب تعالیٰ کی طرف سے کوئی دلیل ہے، نہ کوئی شاہد اور نہ کوئی اور پہلی آسمانی کتاب جو ان کی تائید کرے۔ یہ مطلب سب سے درست اس لیے کہا گیا ہے کہ اسی سورۂ ہود میں تقریباً ہر نبی نے یہ کہا کہ میں اپنے رب کی طرف سے ایک {” بَيِّنَةٍ “} پر ہوں۔ دیکھیے نوح علیہ السلام نے فرمایا: «{ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَ اٰتٰىنِيْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ }» [ ھود: ۲۸ ] ”اے میری قوم! کیا تم نے دیکھا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک (بینہ) واضح دلیل پر (قائم) ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے بڑی رحمت عطا فرمائی ہو، پھر وہ تم پر مخفی رکھی گئی ہو، تو کیا ہم زبردستی اسے تم پر چپکا دیں گے، جب کہ تم اسے ناپسند کرنے والے ہو۔“ صالح علیہ السلام نے کہا: «{ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ }» [ ھود: ۶۳ ] شعیب علیہ السلام نے کہا: «{ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ }» [ ھود: ۸۸ ] غرض ہر پیغمبر یہ کہتا رہا کہ میں اپنے رب کی طرف سے {”بَيِّنَةٍ “} پر ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر پیغمبر کو اس کی نبوت کی واضح نشانی دے کر بھیجتے تھے اور قرآن مجید کا معجزہ، جس کی ایک سورت کی مثال پیش نہ کی جا سکی، وہ اللہ کی طرف سے آپ کا شاہد ہے۔ اسی طرح تورات بھی آپ کے حق ہونے کی شاہد ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ {” بَيِّنَةٍ “} سے مراد عقل سلیم اور وہ فطرت سلیمہ ہے جس پر انسان کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ عہد {”اَلَسْتُ“} ہے جس کا ہر شخص اپنے آپ پر شاہد بنا یا گیا ہے اور وہ ہے توحید الٰہی اور اپنے رب کی پہچان، فرمایا: «{ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ[الأعراف: ۱۷۲ ] ”کیا میں واقعی تمھارا رب نہیں ہوں؟“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كُلُّ مَوْلُوْدٍ يُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ ] [ بخاری، الجنائز، باب ما قیل فی أولاد المشرکین: ۱۳۸۵ ] ”ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا نصرانی یا مجوسی۔“ یعنی کیا وہ لوگ جو فطرت سلیمہ پر قائم ہیں، عقل سلیم سے کام لیتے ہیں اور اس کے ساتھ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک گواہ بھی آ چکا ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا قرآن اور اس سے پہلے تورات بھی اس کی شہادت دے رہی ہے، جو رہنما بھی تھی اور رحمت بھی، تو کیا یہ لوگ ان کی طرح ہیں جن کے پاس نہ رب کی طرف سے کوئی {” بَيِّنَةٍ “} ہے، نہ کوئی اس کی طرف سے شاہد اور نہ گزشتہ کسی آسمانی کتاب کی شہادت۔ ہر گز نہیں، ایک مومن دوسرا کافر، دونوں ایک جیسے کبھی نہیں ہو سکتے۔ ➋ { اُولٰٓىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ:} یعنی یہ {” بَيِّنَةٍ “} پر قائم لوگ اس رسول پر ایمان لاتے ہیں۔ ➌ { وَ مَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ:} اور جو اس کے ساتھ کفر کرے، خواہ وہ کسی گروہ عیسائی، یہودی، ہندو یا بدھ وغیرہ سے تعلق رکھتا ہو، اس کا ٹھکانا آگ ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهٖ! لاَ يَسْمَعُ بِيْ أَحَدٌ مِّنْ هٰذِهِ الْأُمَّةِ يَهُوْدِيٌّ وَلاَ نَصْرَانِيٌّ ثُمَّ يَمُوْتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِيْ اُرْسِلْتُ بِهٖ إِلاَّ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ ] [ مسلم، الإیمان، باب وجوب الإیمان برسالۃ نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم …: ۱۵۳، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! میرے بارے میں اس امت (دعوت) میں سے کوئی یہودی یا نصرانی سن لے، پھر وہ فوت ہو اور اس پر ایمان نہ لایا ہو جو مجھے دے کر بھیجا گیا ہے، تو وہ اصحاب النار سے ہو گا۔“ مشرکین اور نام کے مسلمان، جو دل سے آپ کی رسالت کو نہیں مانتے، وہ بھی انھی میں شامل ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۶۲) اور نساء (۱۵۰ تا ۱۵۲)۔ ➍ { فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ:} بظاہر خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، مگر مراد ہر عاقل ہے۔ ➎ { وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ:} اکثر یت کا یہ حال قرآن میں متعدد بار بیان ہوا ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ یوسف (۱۰۳)، انعام (۱۱۶) اور سبا (۲۰) دین جمہوریت اور دین اسلام کو ایک قرار دینے والے غور فرمائیں۔
وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ؕ اُولٰٓئِکَ یُعۡرَضُوۡنَ عَلٰی رَبِّہِمۡ وَ یَقُوۡلُ الۡاَشۡہَادُ ہٰۤؤُلَآءِ الَّذِیۡنَ کَذَبُوۡا عَلٰی رَبِّہِمۡ ۚ اَلَا لَعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ گھڑے؟ ایسے لوگ اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے اور گواہ شہادت دیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ گھڑا تھا سنو! خدا کی لعنت ہے ظالموں پر
مولانا محمد جوناگڑھی
اس سے بڑھ کر ﻇالم کون ہوگا جو اللہ پرجھوٹ باندھے یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور سارے گواه کہیں گے کہ یہ وه لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا، خبردار ہو کہ اللہ کی لعنت ہے ﻇالموں پر
احمد رضا خان بریلوی
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے اور گواہ کہیں گے یہ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا، ارے ظا لموں پر خدا کی لعنت
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے ایسے لوگ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پیش کئے جائیں گے۔ اور گواہ گواہی دیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹا بہتان باندھا۔ خبردار ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر کوئی جھوٹ باندھے؟ یہ لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور گواہ کہیں گے یہ ہیں وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا۔ سن لو! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ جل شانہ پہ بہتان باندھنے والے ٭٭

جو لوگ اللہ کے ذمے بہتان باندھ لیں، ان کا انجام اور قیامت کے دن کی ساری مخلوق کے سامنے ان کی رسوائی کا بیان ہو رہا ہے۔ مسند احمد میں صفوان بن محزر کہتے ہیں کہ { میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا پھر پوچھنے لگا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے دن کی سرگوشی کی بارے میں کیا سنا ہے؟ آپ نے فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عزجل مومن کو اپنے سے قریب کرے گا یہاں تک کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور اسے لوگوں کی نگاہوں سے چھپا لے گا اور اسے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا کہ کیا تجھے اپنا فلاں گناہ یاد ہے؟ اور فلاں بھی اور فلاں بھی؟ یہ اقرار کرتا جائے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ بس اب ہلاک ہوا۔ اس وقت ارحم الراحمین فرمائے گا کہ ’ میرے بندے دنیا میں ان پر پردہ ڈالتا رہا سن آج بھی میں انہیں بخشتا ہوں ‘۔ پھر اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ اسے دے دیا جائے گا۔ اور کفار اور منافقین پر نو گواہ پیش ہوں گے جو کہیں گے کہ یہی وہ ہیں جو اللہ پر جھوٹ بولتے تھے یاد رہے کہ ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2441] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔

یہ لوگ اتباع حق، ہدایت اور جنت سے اوروں کو روکتے رہے اور اپنا طریقہ ٹیڑھا ترچھا ہی تلاش کرتے رہے ساتھ ہی قیامت اور آخرت کے دن کے بھی منکر ہی رہے اور اسے مانا ہی نہیں۔ یاد رہے کہ یہ اللہ کے ماتحت ہیں وہ ان سے ہر وقت انتقام لینے پر قادر ہے، اگر چاہے تو آخرت سے پہلے دنیا میں ہی پکڑ لے لیکن اس کی طرف سے تھوڑی سی ڈھیل انہیں مل گئی ہے۔ اور آیت میں ہے «يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:42] ‏‏‏‏ ’ وه تو انہیں اس دن تک مہلت دیے ہوئے ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی ره جائیں گی ‘۔ بخاری و مسلم میں ہے { اللہ تعالیٰ ظالموں کو مہلت دے دیتا ہے بالآخر جب پکڑتا ہے تب چھوڑتا ہی نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2583] ‏‏‏‏ ان کی سزائیں بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ اس لیے کہ اللہ کی دی ہوئی قوتوں سے انہوں نے کام نہ لیا۔ سننے سے کانوں کو بہرہ رکھا۔ حق کی تابعداری سے آنکھوں کو اندھا رکھا جہنم میں جاتے وقت خود ہی کہیں گے کہ «وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ» ۱؎ [67-الملک:10] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر سنتے ہوتے عقل رکھتے ہوتے تو آج دوزخی نہ بنتے ‘۔ یہی فرمان «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» ۱؎ [16-النحل:88] ‏‏‏‏ میں ہے کہ ’ کافروں کے لیے اللہ کی راہ سے روکنے والوں کے لیے عذاب پر عذاب بڑھتا چلا جائے گا۔ ہر ایک حکم عدولی پر، ہر ایک برائی کے کام پر سزا بھگتیں گے ‘۔ پس صحیح قول یہی ہے کہ آخرت کی نسبت کے اعتبار سے کفار بھی فروع شرع کے مکلف ہیں۔ یہی ہیں وہ جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا اور خود اپنے تئیں جہنمی بنایا۔ جہاں کا عذاب ذرا سی دیر بھی ہلکا نہیں ہوگا۔ «مَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا» ۱؎ [17-الاسراء:97] ‏‏‏‏ ’ آگ کے شعلے کم ہونے تو کہاں اور تیز تیز ہوتے جائیں گے ‘ جنہیں انہوں نے گھڑ لیا تھا یعنی بت اور اللہ کے شریک وغیرہ آج وہ ان کے کسی کام نہ آئیں گے بلکہ نظر بھی نہ پڑیں گے بلکہ اور نقصان پہنچائیں گے۔

وہ تو ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کے شرک سے صاف مکر جائیں گے۔ «وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ آلِهَةً لِّيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» ۱؎ [19-مريم:81، 82] ‏‏‏‏ ’ گو یہ انہیں باعث عزت سمجھتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ان کے لیے باعث ذلت ہیں۔ کھلے طور پر اس بات کا قیامت کے دن انکار کر دیں گے کہ ان مشرکوں نے انہیں پوجا۔ ‘ یہ ارشاد خلیل الرحمن علیہ السلام کا اپنی قوم سے تھا کہ «وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» ۱؎ [29-العنکبوت:25] ‏‏‏‏ ’ ان بتوں سے گو تم دنیوی تعلقات وابستہ رکھو لیکن قیامت کے دن ایک دوسرے کا انکار کر دیں گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگیں گے۔ اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہو گا اور کوئی کسی کو کوئی مدد نہ پہنچائے گا ‘۔ یہی مضمون آیت «اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْـبَابُ» ۱؎ [2-البقرة:166] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ اس وقت پیشوا لوگ اپنے مریدوں سے دست بردار ہو جائیں گے عذاب الٰہی آنکھوں دیکھ لیں گے اور باہمی تعلقات سب منقطع ہو جائیں گے ‘۔ اسی قسم کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں وہ بھی ان کی ہلاکت اور نقصان کی خبر دیتی ہیں۔ یقیناً یہی لوگ قیامت کے دن سب سے زیادہ نقصان اٹھائیں گے۔ جنت کے درجوں کے بدلے انہوں نے جہنم کے گڑھے لیے۔ اللہ کی نعمتوں کے بدلے جہنم کی آگ قبول کی۔ میٹھے ٹھنڈے خوشگوار جنتی پانی کے بدلے جہنم کا آگ جیسا کھولتا ہوا گرم پانی انہیں حورعین کے بدلے لہو پیپ اور بلند و بالا محلات کے بدلے دوزخ کے تنگ مقامات انہوں نے لیے، رب رحمن کی نزدیکی اور دیدار کے بدلے اس کا غضب اور سزا انہیں ملی۔ بیشک یہاں یہ سخت گھاٹے میں رہے۔
18۔ 1 یعنی جن کا اللہ نے کائنات میں تصرف کرنے کا یا آخرت میں شفاعت کا اختیار نہیں دیا ہے۔ ان کی بابت یہ کہا جائے کہ اللہ نے انھیں یہ اختیار دیا ہے۔ 18۔ 2 حدیث میں اس کی تفسیر اس طرح آتی ہے کہ ' قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ایک مومن سے اس کے گناہوں کا اقرار و اعتراف کروائے گا کہ تجھے معلوم ہے کہ تو نے فلاں گناہ بھی کیا تھا، فلاں بھی کیا تھا، وہ مومن کہے گا ہاں ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ میں نے ان گناہوں پر دنیا میں بھی پردہ ڈالے رکھا تھا، جا آج بھی انھیں معاف کرتا ہوں، لیکن دوسرے لوگ یا کافروں کا معاملہ ایسا ہوگا کہ انھیں گواہوں کے سامنے پکارا جائے گا اور گواہ یہ گواہی دیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں، جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا تھا (صحیح بخاری)۔
(آیت 18) ➊ { وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا:} یعنی اپنی جان پر ظلم کرنے والے بہت ہیں، مگر اس سے بڑھ کر کوئی نہیں جو جھوٹ گھڑ کر اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دے، مثلاً مخلوق کو خالق کی صفات رکھنے والا قرار دے، بتوں، ولیوں اور دیوتاؤں کو اللہ کے حضور بلا اجازت سفارش کی جرأت رکھنے والے سمجھے، فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے اور مسیح علیہ السلام یا کسی اور کو اللہ کی اولاد یا اس کا حصہ یا ٹکڑا قرار دے۔ موضح میں ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کئی طرح سے ہے، مثلاً علم میں غلط نقل کرنا۔ (آل عمران: ۷۸) نبوت یا وحی کا جھوٹا دعویٰ کرنا۔ (انعام: ۹۳) خواب بنا لینا، ابن عمر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ مِنْ أَفْرَی الْفِرٰی أَنْ يُّرِيَ عَيْنَيْهٖ مَا لَمْ تَرَ ] [ بخاري، التعبیر، باب من کذب فی حلمہ: ۷۰۴۳ ] ”سب سے بڑے جھوٹوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی اپنی آنکھوں کو وہ چیز دکھائے جو انھوں نے نہیں دیکھی (یعنی جھوٹا خواب بیان کرے)۔“ درایت یا عقل کو دین کے معاملات میں درمیان لے آنا۔ (قصص: ۵۰) ➋ { اُولٰٓىِٕكَ يُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ:} اللہ تعالیٰ ایسے مفتری اور جھوٹے کفار و مشرکین اور منافقین کو قیامت کے دن سب کے سامنے رسوا کرے گا اور گواہ بھی سب کے سامنے ان کے رب تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کی شہادت دیں گے۔ البتہ مومن گناہ گاروں کا معاملہ اس سے مختلف ہو گا۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [ إِنَّ اللّٰهَ يُدْنِي الْمُؤْمِنَ فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهٗ وَيَسْتُرُهٗ فَيَقُوْلُ أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟ أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟ فَيَقُوْلُ نَعَمْ أَيْ رَبِّ، حَتَّی قَرَّرَهٗ بِذُنُوْبِهِ وَرَأَی فِيْ نَفْسِهِ أَنَّهٗ هَلَكَ، قَالَ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِيْ الدُّنْيَا، وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ، فَيُعْطَی كِتَابَ حَسَنَاتِهِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُوْنَ فَيَقُوْلُ الْأَشْهَادُ: «{ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيْنَ }» [هود:۱۸ ] [ بخاری، المظالم، باب قول اللہ تعالٰی: «‏‏‏‏ألا لعنۃ اللّٰہ علی الظالمین» ‏‏‏‏: ۲۴۴۱ ] ”اللہ تعالیٰ مومن کو قریب کرے گا اور اس پر اپنا دامن ڈال کر پردے میں کرے گا، پھر کہے گا کہ تو فلاں گناہ پہچانتا ہے؟ کیا فلاں گناہ پہچانتا ہے؟ وہ کہے گا، ہاں اے میرے رب! یہاں تک کہ جب اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کروا لے گا اور وہ اپنے دل میں سمجھ لے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا تو (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا، میں نے دنیا میں تجھ پر ان گناہوں پر پردہ ڈالا اور آج میں تجھے وہ بخشتا ہوں، تو اسے اس کی نیکیوں کی کتاب دے دی جائے گی۔ رہا کافر اور منافق، تو گواہ کہیں گے: «{ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيْنَ }» ”یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا۔ سن لو! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔“ ➌ { وَ يَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيْنَ …:} گواہوں سے مراد ان کے پیغمبر یا وہ فرشتے جو عمل لکھتے ہیں اور علماء جنھوں نے اللہ کے احکام کی تبلیغ کی۔ یہ سب گواہ کفار کے متعلق اعلان کریں گے کہ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے جھوٹی باتیں منسوب کرتے تھے۔
الَّذِیۡنَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ یَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا ؕ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُن ظالموں پر جو خدا کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں، اس کے راستے کو ٹیٹرھا کرنا چاہتے ہیں اور آخرت کا انکار کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو اللہ کی راه سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کر لیتے ہیں۔ یہی آخرت کے منکر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں، اور وہی آخرت کے منکر ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
جو اللہ کی راہ سے (اس کے بندوں کو) روکتے ہیں اور اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں اور آخرت کا انکار کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں اور آخرت کے ساتھ کفر کرنے والے بھی وہی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ جل شانہ پہ بہتان باندھنے والے ٭٭

جو لوگ اللہ کے ذمے بہتان باندھ لیں، ان کا انجام اور قیامت کے دن کی ساری مخلوق کے سامنے ان کی رسوائی کا بیان ہو رہا ہے۔ مسند احمد میں صفوان بن محزر کہتے ہیں کہ { میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا پھر پوچھنے لگا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے دن کی سرگوشی کی بارے میں کیا سنا ہے؟ آپ نے فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عزجل مومن کو اپنے سے قریب کرے گا یہاں تک کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور اسے لوگوں کی نگاہوں سے چھپا لے گا اور اسے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا کہ کیا تجھے اپنا فلاں گناہ یاد ہے؟ اور فلاں بھی اور فلاں بھی؟ یہ اقرار کرتا جائے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ بس اب ہلاک ہوا۔ اس وقت ارحم الراحمین فرمائے گا کہ ’ میرے بندے دنیا میں ان پر پردہ ڈالتا رہا سن آج بھی میں انہیں بخشتا ہوں ‘۔ پھر اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ اسے دے دیا جائے گا۔ اور کفار اور منافقین پر نو گواہ پیش ہوں گے جو کہیں گے کہ یہی وہ ہیں جو اللہ پر جھوٹ بولتے تھے یاد رہے کہ ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2441] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔

یہ لوگ اتباع حق، ہدایت اور جنت سے اوروں کو روکتے رہے اور اپنا طریقہ ٹیڑھا ترچھا ہی تلاش کرتے رہے ساتھ ہی قیامت اور آخرت کے دن کے بھی منکر ہی رہے اور اسے مانا ہی نہیں۔ یاد رہے کہ یہ اللہ کے ماتحت ہیں وہ ان سے ہر وقت انتقام لینے پر قادر ہے، اگر چاہے تو آخرت سے پہلے دنیا میں ہی پکڑ لے لیکن اس کی طرف سے تھوڑی سی ڈھیل انہیں مل گئی ہے۔ اور آیت میں ہے «يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:42] ‏‏‏‏ ’ وه تو انہیں اس دن تک مہلت دیے ہوئے ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی ره جائیں گی ‘۔ بخاری و مسلم میں ہے { اللہ تعالیٰ ظالموں کو مہلت دے دیتا ہے بالآخر جب پکڑتا ہے تب چھوڑتا ہی نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2583] ‏‏‏‏ ان کی سزائیں بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ اس لیے کہ اللہ کی دی ہوئی قوتوں سے انہوں نے کام نہ لیا۔ سننے سے کانوں کو بہرہ رکھا۔ حق کی تابعداری سے آنکھوں کو اندھا رکھا جہنم میں جاتے وقت خود ہی کہیں گے کہ «وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ» ۱؎ [67-الملک:10] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر سنتے ہوتے عقل رکھتے ہوتے تو آج دوزخی نہ بنتے ‘۔ یہی فرمان «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» ۱؎ [16-النحل:88] ‏‏‏‏ میں ہے کہ ’ کافروں کے لیے اللہ کی راہ سے روکنے والوں کے لیے عذاب پر عذاب بڑھتا چلا جائے گا۔ ہر ایک حکم عدولی پر، ہر ایک برائی کے کام پر سزا بھگتیں گے ‘۔ پس صحیح قول یہی ہے کہ آخرت کی نسبت کے اعتبار سے کفار بھی فروع شرع کے مکلف ہیں۔ یہی ہیں وہ جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا اور خود اپنے تئیں جہنمی بنایا۔ جہاں کا عذاب ذرا سی دیر بھی ہلکا نہیں ہوگا۔ «مَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا» ۱؎ [17-الاسراء:97] ‏‏‏‏ ’ آگ کے شعلے کم ہونے تو کہاں اور تیز تیز ہوتے جائیں گے ‘ جنہیں انہوں نے گھڑ لیا تھا یعنی بت اور اللہ کے شریک وغیرہ آج وہ ان کے کسی کام نہ آئیں گے بلکہ نظر بھی نہ پڑیں گے بلکہ اور نقصان پہنچائیں گے۔

وہ تو ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کے شرک سے صاف مکر جائیں گے۔ «وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ آلِهَةً لِّيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» ۱؎ [19-مريم:81، 82] ‏‏‏‏ ’ گو یہ انہیں باعث عزت سمجھتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ان کے لیے باعث ذلت ہیں۔ کھلے طور پر اس بات کا قیامت کے دن انکار کر دیں گے کہ ان مشرکوں نے انہیں پوجا۔ ‘ یہ ارشاد خلیل الرحمن علیہ السلام کا اپنی قوم سے تھا کہ «وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» ۱؎ [29-العنکبوت:25] ‏‏‏‏ ’ ان بتوں سے گو تم دنیوی تعلقات وابستہ رکھو لیکن قیامت کے دن ایک دوسرے کا انکار کر دیں گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگیں گے۔ اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہو گا اور کوئی کسی کو کوئی مدد نہ پہنچائے گا ‘۔ یہی مضمون آیت «اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْـبَابُ» ۱؎ [2-البقرة:166] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ اس وقت پیشوا لوگ اپنے مریدوں سے دست بردار ہو جائیں گے عذاب الٰہی آنکھوں دیکھ لیں گے اور باہمی تعلقات سب منقطع ہو جائیں گے ‘۔ اسی قسم کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں وہ بھی ان کی ہلاکت اور نقصان کی خبر دیتی ہیں۔ یقیناً یہی لوگ قیامت کے دن سب سے زیادہ نقصان اٹھائیں گے۔ جنت کے درجوں کے بدلے انہوں نے جہنم کے گڑھے لیے۔ اللہ کی نعمتوں کے بدلے جہنم کی آگ قبول کی۔ میٹھے ٹھنڈے خوشگوار جنتی پانی کے بدلے جہنم کا آگ جیسا کھولتا ہوا گرم پانی انہیں حورعین کے بدلے لہو پیپ اور بلند و بالا محلات کے بدلے دوزخ کے تنگ مقامات انہوں نے لیے، رب رحمن کی نزدیکی اور دیدار کے بدلے اس کا غضب اور سزا انہیں ملی۔ بیشک یہاں یہ سخت گھاٹے میں رہے۔
19۔ 1 یعنی لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کے لئے، اس میں کجیاں تلاش کرتے اور لوگوں کو متنفر کرتے ہیں۔
(آیت 19){الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ …:} یعنی اللہ کی سیدھی راہ (اسلام) میں کجی اور عیب ڈھونڈ کر لوگوں کو اس میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔ {” هُمْ “} کی ضمیر دو بار لانے کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کا انکار کرنے میں یہ لوگ اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ گویا آخرت کے اصل منکر یہی ہیں۔ {” يَبْغُوْنَهَا عِوَجًا “} میں لام محذوف ہے، یعنی {”يَبْغُوْنَ لَهَا عِوَجًا“} جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا }» [ الکہف:۱ ] یا {” يَبْغُوْنَهَا عِوَجًا “} میں {” فِيْ“} محذوف ہے، یعنی {” يَبْغُوْنَ فِيْهَا عِوَجًا “} جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن زمین کے متعلق فرمایا: «{ لَا تَرٰى فِيْهَا عِوَجًا }» [طٰہٰ: ۱۰۷ ]
اُولٰٓئِکَ لَمۡ یَکُوۡنُوۡا مُعۡجِزِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا کَانَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ اَوۡلِیَآءَ ۘ یُضٰعَفُ لَہُمُ الۡعَذَابُ ؕ مَا کَانُوۡا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ السَّمۡعَ وَ مَا کَانُوۡا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ زمین میں اللہ کو بے بس کرنے والے نہ تھے اور نہ اللہ کے مقابلہ میں کوئی ان کا حامی تھا انہیں اب دوہرا عذاب دیا جائے گا وہ نہ کسی کی سن ہی سکتے تھے اور نہ خود ہی انہیں کچھ سوجھتا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
نہ یہ لوگ دنیا میں اللہ کو ہرا سکے اور نہ ان کا کوئی حمایتی اللہ کے سوا ہوا، ان کے لئے عذاب دگنا کیا جائے گا نہ یہ سننے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ یہ دیکھتے ہی تھے
احمد رضا خان بریلوی
وہ تھکانے والے نہیں زمین میں اور نہ اللہ سے جدا ان کے کوئی حمایتی انہیں عذاب پر عذاب ہوگا وہ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے
علامہ محمد حسین نجفی
یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو عاجز کرنے والے نہیں تھے اور نہ خدا کے علاوہ ان کا کوئی مددگار اور کارساز تھا۔ ان کو دوگنا عذاب ہوگا۔ (کیونکہ) یہ نہ (حق بات) سن سکتے ہیں۔ اور نہ (حقیقت) دیکھ سکتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ لوگ کبھی زمین میں عاجز کرنے والے نہیں اور نہ کبھی ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار ہیں، ان کے لیے عذاب دگنا کیا جائے گا۔ وہ نہ سننے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ دیکھا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ جل شانہ پہ بہتان باندھنے والے ٭٭

جو لوگ اللہ کے ذمے بہتان باندھ لیں، ان کا انجام اور قیامت کے دن کی ساری مخلوق کے سامنے ان کی رسوائی کا بیان ہو رہا ہے۔ مسند احمد میں صفوان بن محزر کہتے ہیں کہ { میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا پھر پوچھنے لگا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے دن کی سرگوشی کی بارے میں کیا سنا ہے؟ آپ نے فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عزجل مومن کو اپنے سے قریب کرے گا یہاں تک کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور اسے لوگوں کی نگاہوں سے چھپا لے گا اور اسے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا کہ کیا تجھے اپنا فلاں گناہ یاد ہے؟ اور فلاں بھی اور فلاں بھی؟ یہ اقرار کرتا جائے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ بس اب ہلاک ہوا۔ اس وقت ارحم الراحمین فرمائے گا کہ ’ میرے بندے دنیا میں ان پر پردہ ڈالتا رہا سن آج بھی میں انہیں بخشتا ہوں ‘۔ پھر اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ اسے دے دیا جائے گا۔ اور کفار اور منافقین پر نو گواہ پیش ہوں گے جو کہیں گے کہ یہی وہ ہیں جو اللہ پر جھوٹ بولتے تھے یاد رہے کہ ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2441] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔

یہ لوگ اتباع حق، ہدایت اور جنت سے اوروں کو روکتے رہے اور اپنا طریقہ ٹیڑھا ترچھا ہی تلاش کرتے رہے ساتھ ہی قیامت اور آخرت کے دن کے بھی منکر ہی رہے اور اسے مانا ہی نہیں۔ یاد رہے کہ یہ اللہ کے ماتحت ہیں وہ ان سے ہر وقت انتقام لینے پر قادر ہے، اگر چاہے تو آخرت سے پہلے دنیا میں ہی پکڑ لے لیکن اس کی طرف سے تھوڑی سی ڈھیل انہیں مل گئی ہے۔ اور آیت میں ہے «يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:42] ‏‏‏‏ ’ وه تو انہیں اس دن تک مہلت دیے ہوئے ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی ره جائیں گی ‘۔ بخاری و مسلم میں ہے { اللہ تعالیٰ ظالموں کو مہلت دے دیتا ہے بالآخر جب پکڑتا ہے تب چھوڑتا ہی نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2583] ‏‏‏‏ ان کی سزائیں بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ اس لیے کہ اللہ کی دی ہوئی قوتوں سے انہوں نے کام نہ لیا۔ سننے سے کانوں کو بہرہ رکھا۔ حق کی تابعداری سے آنکھوں کو اندھا رکھا جہنم میں جاتے وقت خود ہی کہیں گے کہ «وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ» ۱؎ [67-الملک:10] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر سنتے ہوتے عقل رکھتے ہوتے تو آج دوزخی نہ بنتے ‘۔ یہی فرمان «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» ۱؎ [16-النحل:88] ‏‏‏‏ میں ہے کہ ’ کافروں کے لیے اللہ کی راہ سے روکنے والوں کے لیے عذاب پر عذاب بڑھتا چلا جائے گا۔ ہر ایک حکم عدولی پر، ہر ایک برائی کے کام پر سزا بھگتیں گے ‘۔ پس صحیح قول یہی ہے کہ آخرت کی نسبت کے اعتبار سے کفار بھی فروع شرع کے مکلف ہیں۔ یہی ہیں وہ جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا اور خود اپنے تئیں جہنمی بنایا۔ جہاں کا عذاب ذرا سی دیر بھی ہلکا نہیں ہوگا۔ «مَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا» ۱؎ [17-الاسراء:97] ‏‏‏‏ ’ آگ کے شعلے کم ہونے تو کہاں اور تیز تیز ہوتے جائیں گے ‘ جنہیں انہوں نے گھڑ لیا تھا یعنی بت اور اللہ کے شریک وغیرہ آج وہ ان کے کسی کام نہ آئیں گے بلکہ نظر بھی نہ پڑیں گے بلکہ اور نقصان پہنچائیں گے۔

وہ تو ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کے شرک سے صاف مکر جائیں گے۔ «وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ آلِهَةً لِّيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» ۱؎ [19-مريم:81، 82] ‏‏‏‏ ’ گو یہ انہیں باعث عزت سمجھتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ان کے لیے باعث ذلت ہیں۔ کھلے طور پر اس بات کا قیامت کے دن انکار کر دیں گے کہ ان مشرکوں نے انہیں پوجا۔ ‘ یہ ارشاد خلیل الرحمن علیہ السلام کا اپنی قوم سے تھا کہ «وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» ۱؎ [29-العنکبوت:25] ‏‏‏‏ ’ ان بتوں سے گو تم دنیوی تعلقات وابستہ رکھو لیکن قیامت کے دن ایک دوسرے کا انکار کر دیں گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگیں گے۔ اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہو گا اور کوئی کسی کو کوئی مدد نہ پہنچائے گا ‘۔ یہی مضمون آیت «اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْـبَابُ» ۱؎ [2-البقرة:166] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ اس وقت پیشوا لوگ اپنے مریدوں سے دست بردار ہو جائیں گے عذاب الٰہی آنکھوں دیکھ لیں گے اور باہمی تعلقات سب منقطع ہو جائیں گے ‘۔ اسی قسم کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں وہ بھی ان کی ہلاکت اور نقصان کی خبر دیتی ہیں۔ یقیناً یہی لوگ قیامت کے دن سب سے زیادہ نقصان اٹھائیں گے۔ جنت کے درجوں کے بدلے انہوں نے جہنم کے گڑھے لیے۔ اللہ کی نعمتوں کے بدلے جہنم کی آگ قبول کی۔ میٹھے ٹھنڈے خوشگوار جنتی پانی کے بدلے جہنم کا آگ جیسا کھولتا ہوا گرم پانی انہیں حورعین کے بدلے لہو پیپ اور بلند و بالا محلات کے بدلے دوزخ کے تنگ مقامات انہوں نے لیے، رب رحمن کی نزدیکی اور دیدار کے بدلے اس کا غضب اور سزا انہیں ملی۔ بیشک یہاں یہ سخت گھاٹے میں رہے۔
20۔ 1 یعنی ان کا حق سے اعراض اور بغض اس انتہا تک پہنچا ہوا تھا کہ یہ اسے سننے اور دیکھنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے تھے یا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے ان کو کان اور آنکھیں تو دی تھیں لیکن انہوں نے ان سے کوئی بات نہ سنی اور نہ دیکھی۔ گویا ' (فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَآ اَبْصَارُهُمْ وَلَآ اَفْــِٕدَتُهُمْ مِّنْ شَيْءٍ) 46۔ الاحقاف:26) نہ ان کے کانوں نے انھیں کوئی فائدہ پہنچایا، نہ ان کی آنکھوں اور دلوں نے ' کیونکہ وہ حق سننے سے بہرے اور حق دیکھنے سے اندھے بنے رہے، جس طرح کہ وہ جہنم میں داخل ہوتے ہوئے کہیں گے (لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ 10 ؀) 67۔ الملک:10) ' اگر ہم سنتے اور عقل سے کام لیتے تو آج جہنم میں نہ جاتے۔
(آیت 20) ➊ { اُولٰٓىِٕكَ لَمْ يَكُوْنُوْا مُعْجِزِيْنَ …:} یعنی یہ لوگ کبھی بھی اللہ کو عاجز کرکے اس کی گرفت سے بھاگ نہیں سکتے۔ وہ جب پکڑنا چاہے گا، اس زمین پر بھی پکڑ لے گا اور آخرت کا تو کہنا ہی کیا ہے۔ پھر اللہ کے سوا کبھی کوئی ان کا مددگار نہیں ہو گا جو انھیں اللہ کے عذاب اور پکڑ سے چھڑا سکے۔ ➋ { يُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ:} ایک اپنے گمراہ ہونے کا عذاب، دوسرا لوگوں کو اللہ کی راہ سے روک کر گمراہ کرنے کا عذاب۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۳۷، ۳۸) اور عنکبوت (۱۲، ۱۳)۔ ➌ { مَا كَانُوْا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا يُبْصِرُوْنَ:} یعنی کان اور آنکھیں رکھنے کے باوجود حق سنتے یا دیکھتے نہیں تھے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۷۹) اور ایک معنی یہ ہے کہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنا بغض تھا کہ وہ آپ کی بات سن سکتے تھے نہ وہ آپ کو دیکھنا گوارا کرتے تھے۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خود گھاٹے میں ڈالا اور وہ سب کچھ ان سے کھویا گیا جو انہوں نے گھڑ رکھا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
یہی ہیں جنہوں نے اپنا نقصان آپ کر لیا اور وه سب کچھ ان سے کھو گیا، جو انہوں نے گھڑ رکھا تھا
احمد رضا خان بریلوی
وہی ہیں جنہوں نے اپنی جانیں گھاٹے میں ڈالیں اور ان سے کھوئی گئیں جو باتیں جوڑتے تھے خواہ نخواہ
علامہ محمد حسین نجفی
یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کیا اور وہ (خلافِ حق) جو افترا پردازیاں کیا کرتے تھے وہ سب ان سے گم ہوگئیں۔
عبدالسلام بن محمد
یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا اور ان سے گم ہو گیا جو کچھ وہ جھوٹ گھڑا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ جل شانہ پہ بہتان باندھنے والے ٭٭

جو لوگ اللہ کے ذمے بہتان باندھ لیں، ان کا انجام اور قیامت کے دن کی ساری مخلوق کے سامنے ان کی رسوائی کا بیان ہو رہا ہے۔ مسند احمد میں صفوان بن محزر کہتے ہیں کہ { میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا پھر پوچھنے لگا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے دن کی سرگوشی کی بارے میں کیا سنا ہے؟ آپ نے فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عزجل مومن کو اپنے سے قریب کرے گا یہاں تک کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور اسے لوگوں کی نگاہوں سے چھپا لے گا اور اسے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا کہ کیا تجھے اپنا فلاں گناہ یاد ہے؟ اور فلاں بھی اور فلاں بھی؟ یہ اقرار کرتا جائے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ بس اب ہلاک ہوا۔ اس وقت ارحم الراحمین فرمائے گا کہ ’ میرے بندے دنیا میں ان پر پردہ ڈالتا رہا سن آج بھی میں انہیں بخشتا ہوں ‘۔ پھر اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ اسے دے دیا جائے گا۔ اور کفار اور منافقین پر نو گواہ پیش ہوں گے جو کہیں گے کہ یہی وہ ہیں جو اللہ پر جھوٹ بولتے تھے یاد رہے کہ ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2441] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔

یہ لوگ اتباع حق، ہدایت اور جنت سے اوروں کو روکتے رہے اور اپنا طریقہ ٹیڑھا ترچھا ہی تلاش کرتے رہے ساتھ ہی قیامت اور آخرت کے دن کے بھی منکر ہی رہے اور اسے مانا ہی نہیں۔ یاد رہے کہ یہ اللہ کے ماتحت ہیں وہ ان سے ہر وقت انتقام لینے پر قادر ہے، اگر چاہے تو آخرت سے پہلے دنیا میں ہی پکڑ لے لیکن اس کی طرف سے تھوڑی سی ڈھیل انہیں مل گئی ہے۔ اور آیت میں ہے «يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:42] ‏‏‏‏ ’ وه تو انہیں اس دن تک مہلت دیے ہوئے ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی ره جائیں گی ‘۔ بخاری و مسلم میں ہے { اللہ تعالیٰ ظالموں کو مہلت دے دیتا ہے بالآخر جب پکڑتا ہے تب چھوڑتا ہی نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2583] ‏‏‏‏ ان کی سزائیں بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ اس لیے کہ اللہ کی دی ہوئی قوتوں سے انہوں نے کام نہ لیا۔ سننے سے کانوں کو بہرہ رکھا۔ حق کی تابعداری سے آنکھوں کو اندھا رکھا جہنم میں جاتے وقت خود ہی کہیں گے کہ «وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ» ۱؎ [67-الملک:10] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر سنتے ہوتے عقل رکھتے ہوتے تو آج دوزخی نہ بنتے ‘۔ یہی فرمان «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» ۱؎ [16-النحل:88] ‏‏‏‏ میں ہے کہ ’ کافروں کے لیے اللہ کی راہ سے روکنے والوں کے لیے عذاب پر عذاب بڑھتا چلا جائے گا۔ ہر ایک حکم عدولی پر، ہر ایک برائی کے کام پر سزا بھگتیں گے ‘۔ پس صحیح قول یہی ہے کہ آخرت کی نسبت کے اعتبار سے کفار بھی فروع شرع کے مکلف ہیں۔ یہی ہیں وہ جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا اور خود اپنے تئیں جہنمی بنایا۔ جہاں کا عذاب ذرا سی دیر بھی ہلکا نہیں ہوگا۔ «مَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا» ۱؎ [17-الاسراء:97] ‏‏‏‏ ’ آگ کے شعلے کم ہونے تو کہاں اور تیز تیز ہوتے جائیں گے ‘ جنہیں انہوں نے گھڑ لیا تھا یعنی بت اور اللہ کے شریک وغیرہ آج وہ ان کے کسی کام نہ آئیں گے بلکہ نظر بھی نہ پڑیں گے بلکہ اور نقصان پہنچائیں گے۔

وہ تو ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کے شرک سے صاف مکر جائیں گے۔ «وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ آلِهَةً لِّيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» ۱؎ [19-مريم:81، 82] ‏‏‏‏ ’ گو یہ انہیں باعث عزت سمجھتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ان کے لیے باعث ذلت ہیں۔ کھلے طور پر اس بات کا قیامت کے دن انکار کر دیں گے کہ ان مشرکوں نے انہیں پوجا۔ ‘ یہ ارشاد خلیل الرحمن علیہ السلام کا اپنی قوم سے تھا کہ «وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» ۱؎ [29-العنکبوت:25] ‏‏‏‏ ’ ان بتوں سے گو تم دنیوی تعلقات وابستہ رکھو لیکن قیامت کے دن ایک دوسرے کا انکار کر دیں گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگیں گے۔ اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہو گا اور کوئی کسی کو کوئی مدد نہ پہنچائے گا ‘۔ یہی مضمون آیت «اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْـبَابُ» ۱؎ [2-البقرة:166] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ اس وقت پیشوا لوگ اپنے مریدوں سے دست بردار ہو جائیں گے عذاب الٰہی آنکھوں دیکھ لیں گے اور باہمی تعلقات سب منقطع ہو جائیں گے ‘۔ اسی قسم کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں وہ بھی ان کی ہلاکت اور نقصان کی خبر دیتی ہیں۔ یقیناً یہی لوگ قیامت کے دن سب سے زیادہ نقصان اٹھائیں گے۔ جنت کے درجوں کے بدلے انہوں نے جہنم کے گڑھے لیے۔ اللہ کی نعمتوں کے بدلے جہنم کی آگ قبول کی۔ میٹھے ٹھنڈے خوشگوار جنتی پانی کے بدلے جہنم کا آگ جیسا کھولتا ہوا گرم پانی انہیں حورعین کے بدلے لہو پیپ اور بلند و بالا محلات کے بدلے دوزخ کے تنگ مقامات انہوں نے لیے، رب رحمن کی نزدیکی اور دیدار کے بدلے اس کا غضب اور سزا انہیں ملی۔ بیشک یہاں یہ سخت گھاٹے میں رہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 22،21){ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ …:} یعنی جھوٹے دعوے سب گم ہو گئے، اللہ کی گرفت آنے پر دنیا میں کوئی داتا، کوئی دستگیران کی مدد کو نہیں پہنچا اور اس میں شک نہیں کہ آخرت میں بھی یہی سب سے زیادہ خسارے والے ہوں گے، کیونکہ جن کو یہ سمجھ کر پکارتے تھے کہ وہ ہمیں بچائیں گے انھیں اپنی پڑی ہو گی۔ وہ سب ان سے غائب ہو جائیں گے، اگر سامنے ہوئے بھی تو ان سے بری ہونے کا اعلان کریں گے، بلکہ ان کے دشمن بن جائیں گے۔ دیکھیے سورۂ احقاف (۵، ۶)۔
لَا جَرَمَ اَنَّہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ ہُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ ﴿۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نا گزیر ہے کہ وہی آخرت میں سب سے بڑھ کر گھاٹے میں رہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک یہی لوگ آخرت میں زیاں کار ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
(ضرور) وہی آخرت میں سب سے زیادہ نقصان میں ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بلاشبہ یہی لوگ آخرت میں سب سے زیادہ گھاٹا اٹھانے والے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
کوئی شک نہیں کہ وہ آخرت میں، وہی سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ جل شانہ پہ بہتان باندھنے والے ٭٭

جو لوگ اللہ کے ذمے بہتان باندھ لیں، ان کا انجام اور قیامت کے دن کی ساری مخلوق کے سامنے ان کی رسوائی کا بیان ہو رہا ہے۔ مسند احمد میں صفوان بن محزر کہتے ہیں کہ { میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا پھر پوچھنے لگا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے دن کی سرگوشی کی بارے میں کیا سنا ہے؟ آپ نے فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عزجل مومن کو اپنے سے قریب کرے گا یہاں تک کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور اسے لوگوں کی نگاہوں سے چھپا لے گا اور اسے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا کہ کیا تجھے اپنا فلاں گناہ یاد ہے؟ اور فلاں بھی اور فلاں بھی؟ یہ اقرار کرتا جائے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ بس اب ہلاک ہوا۔ اس وقت ارحم الراحمین فرمائے گا کہ ’ میرے بندے دنیا میں ان پر پردہ ڈالتا رہا سن آج بھی میں انہیں بخشتا ہوں ‘۔ پھر اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ اسے دے دیا جائے گا۔ اور کفار اور منافقین پر نو گواہ پیش ہوں گے جو کہیں گے کہ یہی وہ ہیں جو اللہ پر جھوٹ بولتے تھے یاد رہے کہ ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2441] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔

یہ لوگ اتباع حق، ہدایت اور جنت سے اوروں کو روکتے رہے اور اپنا طریقہ ٹیڑھا ترچھا ہی تلاش کرتے رہے ساتھ ہی قیامت اور آخرت کے دن کے بھی منکر ہی رہے اور اسے مانا ہی نہیں۔ یاد رہے کہ یہ اللہ کے ماتحت ہیں وہ ان سے ہر وقت انتقام لینے پر قادر ہے، اگر چاہے تو آخرت سے پہلے دنیا میں ہی پکڑ لے لیکن اس کی طرف سے تھوڑی سی ڈھیل انہیں مل گئی ہے۔ اور آیت میں ہے «يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:42] ‏‏‏‏ ’ وه تو انہیں اس دن تک مہلت دیے ہوئے ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی ره جائیں گی ‘۔ بخاری و مسلم میں ہے { اللہ تعالیٰ ظالموں کو مہلت دے دیتا ہے بالآخر جب پکڑتا ہے تب چھوڑتا ہی نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2583] ‏‏‏‏ ان کی سزائیں بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ اس لیے کہ اللہ کی دی ہوئی قوتوں سے انہوں نے کام نہ لیا۔ سننے سے کانوں کو بہرہ رکھا۔ حق کی تابعداری سے آنکھوں کو اندھا رکھا جہنم میں جاتے وقت خود ہی کہیں گے کہ «وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ» ۱؎ [67-الملک:10] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر سنتے ہوتے عقل رکھتے ہوتے تو آج دوزخی نہ بنتے ‘۔ یہی فرمان «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» ۱؎ [16-النحل:88] ‏‏‏‏ میں ہے کہ ’ کافروں کے لیے اللہ کی راہ سے روکنے والوں کے لیے عذاب پر عذاب بڑھتا چلا جائے گا۔ ہر ایک حکم عدولی پر، ہر ایک برائی کے کام پر سزا بھگتیں گے ‘۔ پس صحیح قول یہی ہے کہ آخرت کی نسبت کے اعتبار سے کفار بھی فروع شرع کے مکلف ہیں۔ یہی ہیں وہ جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا اور خود اپنے تئیں جہنمی بنایا۔ جہاں کا عذاب ذرا سی دیر بھی ہلکا نہیں ہوگا۔ «مَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا» ۱؎ [17-الاسراء:97] ‏‏‏‏ ’ آگ کے شعلے کم ہونے تو کہاں اور تیز تیز ہوتے جائیں گے ‘ جنہیں انہوں نے گھڑ لیا تھا یعنی بت اور اللہ کے شریک وغیرہ آج وہ ان کے کسی کام نہ آئیں گے بلکہ نظر بھی نہ پڑیں گے بلکہ اور نقصان پہنچائیں گے۔

وہ تو ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کے شرک سے صاف مکر جائیں گے۔ «وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ آلِهَةً لِّيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» ۱؎ [19-مريم:81، 82] ‏‏‏‏ ’ گو یہ انہیں باعث عزت سمجھتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ان کے لیے باعث ذلت ہیں۔ کھلے طور پر اس بات کا قیامت کے دن انکار کر دیں گے کہ ان مشرکوں نے انہیں پوجا۔ ‘ یہ ارشاد خلیل الرحمن علیہ السلام کا اپنی قوم سے تھا کہ «وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» ۱؎ [29-العنکبوت:25] ‏‏‏‏ ’ ان بتوں سے گو تم دنیوی تعلقات وابستہ رکھو لیکن قیامت کے دن ایک دوسرے کا انکار کر دیں گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگیں گے۔ اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہو گا اور کوئی کسی کو کوئی مدد نہ پہنچائے گا ‘۔ یہی مضمون آیت «اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْـبَابُ» ۱؎ [2-البقرة:166] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ اس وقت پیشوا لوگ اپنے مریدوں سے دست بردار ہو جائیں گے عذاب الٰہی آنکھوں دیکھ لیں گے اور باہمی تعلقات سب منقطع ہو جائیں گے ‘۔ اسی قسم کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں وہ بھی ان کی ہلاکت اور نقصان کی خبر دیتی ہیں۔ یقیناً یہی لوگ قیامت کے دن سب سے زیادہ نقصان اٹھائیں گے۔ جنت کے درجوں کے بدلے انہوں نے جہنم کے گڑھے لیے۔ اللہ کی نعمتوں کے بدلے جہنم کی آگ قبول کی۔ میٹھے ٹھنڈے خوشگوار جنتی پانی کے بدلے جہنم کا آگ جیسا کھولتا ہوا گرم پانی انہیں حورعین کے بدلے لہو پیپ اور بلند و بالا محلات کے بدلے دوزخ کے تنگ مقامات انہوں نے لیے، رب رحمن کی نزدیکی اور دیدار کے بدلے اس کا غضب اور سزا انہیں ملی۔ بیشک یہاں یہ سخت گھاٹے میں رہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخۡبَتُوۡۤا اِلٰی رَبِّہِمۡ ۙ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اپنے رب ہی کے ہو کر رہے، تو یقیناً وہ جنتی لوگ ہیں اور جنت میں وہ ہمیشہ رہیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے اور اپنے پالنے والے کی طرف جھکتے رہے، وہی جنت میں جانے والے ہیں، جہاں وه ہمیشہ ہی رہنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور اپنے رب کی طرف رجوع لائے وہ جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور عجز و نیاز کے ساتھ اپنے پروردگار کے حضور جھک گئے یہی لوگ جنتی ہیں جو ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور اپنے رب کی طرف عاجزی کی وہی جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عقل و ہوش اور ایمان والے لوگ ٭٭

بروں کے ذکر کے بعد اچھے لوگوں کا بیان ہو رہا ہے جن کے دل ایمان والے، جن کے جسمانی اعضاء فرماں برداری کرنے والے تھے، قول و فعل سے فرمان رب بجا لانے والے اور رب کی نافرمانی سے بچنے والے تھے یہ لوگ جنت کے وارث ہوں گے۔ بلند و بالا بالاخانے، بچھے بچھائے تخت، جھکے ہوئے خوشوں اور میوؤں کے درخت ابھرے ابھرے فرش، خوبصورت بیویاں، قسم قسم کے خوش ذائقہ پھل، چاہت کے لذیذ کھانے پینے اور سب سے بڑھ کر دیدار الٰہی یہ نعمتیں ہوں گی جو ان کے لیے ہمیشگی کے لیے ہوں گی۔ نہ انہیں موت آئے گی نہ بڑھاپا، نہ بیماری، نہ غفلت، نہ رفع حاجت ہو گی، نہ تھوک، نہ ناک مشک، نہ بو والا پسینہ آیا اور غذا ہضم۔ پہلے بیان کردہ کافر شقی لوگ اور یہ مومن متقی لوگ بالکل وہی نسبت رکھتے ہیں جو اندھے بہرے اور بینا اور سنتے میں ہے۔ اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ عَلِمَ اللَّـهُ فِيهِمْ خَيْرًا لَّأَسْمَعَهُمْ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا وَّهُم مُّعْرِضُونَ» ۱؎ [8-الأنفال:23] ‏‏‏‏ ’ کافر دنیا میں حق کو دیکھنے میں اندھے تھے اور آخرت کے دن بھی بھلائی کی راہ نہیں پائیں گے نہ اسے دیکھیں گے ‘۔ وہ حقانیت کی دلیلوں کی سننے سے بہرے تھے، نفع دینے والی بات سنتے ہی نہ تھے، اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ انہیں ضرور سناتا۔ اس کے برخلاف مومن سمجھ دار، ذکی، عاقل، عالم، دیکھتا، بھالتا، سوچتا، سمجھتا حق و باطل میں تمیز کرتا۔ بھلائی لے لیتا، برائی چھوڑ دیتا، دلیل اور شبہ میں فرق کر لیتا اور باطل سے بچتا، حق کو مانتا۔ بتلائیے یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں؟ تعجب ہے کہ پھر بھی تم ایسے دو مختلف شخصوں میں فرق نہیں سمجھتے۔ ارشاد ہے «لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاىِٕزُوْنَ» ۱؎ [59-الحشر:20] ‏‏‏‏ ’ دوزخی اور جنتی ایک نہیں ہوتے جنتی تو بالکل کامیاب ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ وَلَا الظُّلُمَاتُ وَلَا النُّورُ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُورُ وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ إِنَّ اللَّـهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاءُ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ إِنْ أَنتَ إِلَّا نَذِيرٌ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ» ۱؎ [35-فاطر:19-24] ‏‏‏‏ ’ اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں، اندھیرا اور اُجالا برابر نہیں، سایہ اور دھوپ برابر نہیں، زندہ اور مردہ برابر نہیں۔ اللہ تو جسے چاہے سنا سکتا ہے تو قبر والوں کو سنا نہیں سکتا۔ تو تو صرف آ گاہ کر دینے والا ہے۔ ہم نے تجھے حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، ہر ہر امت میں ڈرانے والا ہو چکا ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 23) {اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …: ” اَخْبَتُوْۤا”اِخْبَاتٌ“} کا معنی ہے جھکنا، عاجزی کرنا، مطمئن ہونا۔ جمل رحمہ اللہ نے فرمایا:{ ”اَخْبَتَ لَهُ“ } کا معنی ہے {”خَشَعَ وَ خَضَعَ لَهُ “} وہ اس کے سامنے عاجز ہو گیا اور{ ” اَخْبَتَ اِلَيْهِ “ } کا معنی ہے {”اِطْمَئَنَّ اِلَيْهِ“} کہ وہ اس کی طرف سے مطمئن ہو گیا۔ سب سے بڑے ظالموں، یعنی اللہ پر جھوٹ باندھنے والے کفار و مشرکین کے بعد اب اہل ایمان کا تذکرہ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اعمال صالحہ کیے اور اپنے رب کے سامنے عاجز اور اس کی تقدیر اور فیصلے پر مطمئن ہو گئے وہ جنت کے مالک ہوں گے۔ ”اخبات“ والوں کی کچھ صفات سورۂ حج (۳۴، ۳۵، ۵۴) میں آئی ہیں۔
مَثَلُ الۡفَرِیۡقَیۡنِ کَالۡاَعۡمٰی وَ الۡاَصَمِّ وَ الۡبَصِیۡرِ وَ السَّمِیۡعِ ؕ ہَلۡ یَسۡتَوِیٰنِ مَثَلًا ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿٪۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی تو ہو اندھا بہرا اور دوسرا ہو دیکھنے اور سننے والا، کیا یہ دونوں یکساں ہو سکتے ہیں؟ کیا تم (اِس مثال سے) کوئی سبق نہیں لیتے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
ان دونوں فرقوں کی مثال اندھے، بہرے اور دیکھنے، سننے والے جیسی ہے۔ کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہیں؟ کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟
احمد رضا خان بریلوی
دونوں فریق کا حال ایسا ہے جیسے ایک اندھا اور بہرا اور دوسرا دیکھتا اور سنتا کيا ان دونوں حال کا ايک سا ہے تو کياتم دہيان نہيں کرتے
علامہ محمد حسین نجفی
ان دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا، بہرا ہو اور دوسرا آنکھ و کان والا۔ (بتاؤ) یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ کیا تم غور و فکر نہیں کرتے (اور نصیحت حاصل نہیں کرتے؟)
عبدالسلام بن محمد
دونوں گروہوں کی مثال اندھے اور بہرے اور دیکھنے والے اور سننے والے کی طرح ہے، کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہیں، تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عقل و ہوش اور ایمان والے لوگ ٭٭

بروں کے ذکر کے بعد اچھے لوگوں کا بیان ہو رہا ہے جن کے دل ایمان والے، جن کے جسمانی اعضاء فرماں برداری کرنے والے تھے، قول و فعل سے فرمان رب بجا لانے والے اور رب کی نافرمانی سے بچنے والے تھے یہ لوگ جنت کے وارث ہوں گے۔ بلند و بالا بالاخانے، بچھے بچھائے تخت، جھکے ہوئے خوشوں اور میوؤں کے درخت ابھرے ابھرے فرش، خوبصورت بیویاں، قسم قسم کے خوش ذائقہ پھل، چاہت کے لذیذ کھانے پینے اور سب سے بڑھ کر دیدار الٰہی یہ نعمتیں ہوں گی جو ان کے لیے ہمیشگی کے لیے ہوں گی۔ نہ انہیں موت آئے گی نہ بڑھاپا، نہ بیماری، نہ غفلت، نہ رفع حاجت ہو گی، نہ تھوک، نہ ناک مشک، نہ بو والا پسینہ آیا اور غذا ہضم۔ پہلے بیان کردہ کافر شقی لوگ اور یہ مومن متقی لوگ بالکل وہی نسبت رکھتے ہیں جو اندھے بہرے اور بینا اور سنتے میں ہے۔ اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ عَلِمَ اللَّـهُ فِيهِمْ خَيْرًا لَّأَسْمَعَهُمْ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا وَّهُم مُّعْرِضُونَ» ۱؎ [8-الأنفال:23] ‏‏‏‏ ’ کافر دنیا میں حق کو دیکھنے میں اندھے تھے اور آخرت کے دن بھی بھلائی کی راہ نہیں پائیں گے نہ اسے دیکھیں گے ‘۔ وہ حقانیت کی دلیلوں کی سننے سے بہرے تھے، نفع دینے والی بات سنتے ہی نہ تھے، اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ انہیں ضرور سناتا۔ اس کے برخلاف مومن سمجھ دار، ذکی، عاقل، عالم، دیکھتا، بھالتا، سوچتا، سمجھتا حق و باطل میں تمیز کرتا۔ بھلائی لے لیتا، برائی چھوڑ دیتا، دلیل اور شبہ میں فرق کر لیتا اور باطل سے بچتا، حق کو مانتا۔ بتلائیے یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں؟ تعجب ہے کہ پھر بھی تم ایسے دو مختلف شخصوں میں فرق نہیں سمجھتے۔ ارشاد ہے «لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاىِٕزُوْنَ» ۱؎ [59-الحشر:20] ‏‏‏‏ ’ دوزخی اور جنتی ایک نہیں ہوتے جنتی تو بالکل کامیاب ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ وَلَا الظُّلُمَاتُ وَلَا النُّورُ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُورُ وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ إِنَّ اللَّـهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاءُ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ إِنْ أَنتَ إِلَّا نَذِيرٌ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ» ۱؎ [35-فاطر:19-24] ‏‏‏‏ ’ اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں، اندھیرا اور اُجالا برابر نہیں، سایہ اور دھوپ برابر نہیں، زندہ اور مردہ برابر نہیں۔ اللہ تو جسے چاہے سنا سکتا ہے تو قبر والوں کو سنا نہیں سکتا۔ تو تو صرف آ گاہ کر دینے والا ہے۔ ہم نے تجھے حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، ہر ہر امت میں ڈرانے والا ہو چکا ہے ‘۔
24۔ 1 پچھلی آیات میں مومنین اور کافرین اور سعادت مندوں اور بدبختوں، دونوں کا تذکرہ فرمایا۔ اب اس میں دونوں کی مثال بیان فرما کر دونوں کی حقیقت کو مزید واضح کیا جا رہا ہے۔ فرمایا، ایک کی مثال اندھے اور بہرے کی طرح ہے اور دوسرے کی دیکھنے اور سننے والے کی طرح۔ کافر دنیا میں حق کا روئے زیبا دیکھنے سے محروم اور آخرت میں نجات کے راستہ سے بےبہرہ، اسی طرح حق کے دلائل سننے سے بےبہرہ ہوتا ہے، اسی لئے ایسی باتوں سے محروم رہتا ہے جو اس کے لئے مفید ہوں۔ اس کے برعکس مومن سمجھ دار، حق کو دیکھنے والا اور حق اور باطل کے درمیان تمیز کرنے والا ہوتا ہے۔ چناچہ وہ حق اور خیر کی پیروی کرتا ہے، دلائل کو سنتا اور ان کے ذریعے سے شبہات کا ازالہ کرتا اور باطل سے اجتناب کرتا ہے، کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ استفہام نفی کے لیے ہے۔ یعنی دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا۔ " لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۭ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ " 59۔ الحشر:20) (جنتی دوزخی برابر نہیں ہوسکتے جنتی تو کامیاب ہونے والے ہیں) ایک اور مقام پر اسے اس طرح بیان فرمایا " اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں۔ اندھیرے اور روشنی، سایہ اور دھوپ برابر نہیں، زندے اور مردے برابر نہیں۔ (سورة فاطر۔ 19، 20) (وَمَا يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ 19؀ۙ وَلَا الظُّلُمٰتُ وَلَا النُّوْرُ 20 ؀ۙ) 35۔ فاطر:20-19)
(آیت 24) {مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِيْرِ وَ السَّمِيْعِ …:} مثال سے کسی چیز کی تصویر سامنے آجاتی ہے اور اس کا سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ مومن دیکھنے اور سننے والا ہوتا ہے اور کافر اندھا اور بہرا ہوتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی ضد اور خلاف ہیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں کہ سیدھے راستے پر اندھا بہرا شخص کیسے چل سکتا ہے، جو نہ خود راستہ دیکھے، نہ بتانے سے سنے۔ اسی لیے کفار کہیں گے: «{لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْۤ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ }» [ الملک: ۱۰ ] ”اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی آگ والوں میں نہ ہوتے۔“
وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖۤ ۫ اِنِّیۡ لَکُمۡ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اور ایسے ہی حالات تھے جب) ہم نے نوحؑ کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا تھا (اُس نے کہا) "میں تم لوگوں کو صاف صاف خبردار کرتا ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا کہ میں تمہیں صاف صاف ہوشیار کر دینے واﻻ ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھيجا کہ میں تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک ہم نے نوح(ع) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا (انہوں نے کہا لوگو!) میں تمہیں کھلا ہوا (عذابِ الٰہی سے) ڈرانے والا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا، بے شک میں تمھارے لیے صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آدم علیہ السلام کے بعد سب سے پہلا نبی؟ ٭٭

سب سے پہلے کافروں کی طرف رسول بنا کر بت پرستی سے روکنے کے لیے زمین پر نوح علیہ السلام ہی بھیجے گئے تھے۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ”میں تمہیں اللہ کے عذاب سے ڈرانے آیا ہوں اگر تم غیر اللہ کی عبادت نہ چھوڑو گے تو عذاب میں پھنسو گے۔ دیکھو تم صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرتے رہو۔ اگر تم نے خلاف ورزی کی تو قیامت کے دن کے درد ناک سخت عذابوں میں مجھے تمہارے لینے کا خوف ہے۔‏‏‏‏“ اس پر قومی کافروں کے رؤسا اور امراء بول اُٹھے کہ آپ علیہ السلام کوئی فرشتہ تو ہیں نہیں ہم جیسے ہی انسان ہیں۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم سب کو چھوڑ کر تم ایک ہی کے پاس وحی آئے۔ اور ہم اپنی آنکھوں دیکھ رہے ہیں کہ ایسے رذیل لوگ آپ علیہ السلام کے حلقے میں شامل ہو گئے ہیں کوئی شریف اور رئیس آپ علیہ السلام کا فرماں بردار نہیں ہوا اور یہ لوگ بے سوچے سمجھے بغیر غور و فکر کے آپ علیہ السلام کی مجلس میں آن بیٹھے ہیں اور ہاں میں ہاں ملائے جاتے ہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اس نئے دین نے تمہیں کوئی فائدہ بھی نہیں پہنچایا کہ تم خوش حال ہو گئے ہو تمہاری روزیاں بڑھ گئی ہوں یا خلق و خلق میں تمہیں کوئی برتری ہم پر حاصل ہو گئی ہو۔ بلکہ ہمارے خیال سے تم سب سے جھوٹے ہو۔ نیکی اور صلاحیت اور عبادت پر جو وعدے تم ہمیں آخرت ملک کے دے رہے ہو ہمارے نزدیک تو یہ سب بھی جھوٹی باتیں ہیں۔ ان کفار کی بےعقلی تو دیکھئیے اگر حق کے قبول کرنے والے نچلے طبقہ کے لوگ ہوئے تو کیا اس سے حق کی شان گھٹ گئی؟ حق حق ہی ہے خواہ اس کے ماننے والے بڑے لوگ ہوں خواہ چھوٹے لوگ ہوں۔

بلکہ حق بات یہ ہے کہ حق کی پیروی کرنے والے ہی شریف لوگ ہیں۔ چاہے وہ مسکین مفلس ہی ہوں اور حق سے روگردانی کرنے والے ہیں ذلیل اور رذیل ہیں گو وہ غنی مالدار اور امیر امراء ہوں۔ ہاں یہ واقع ہے کہ سچائی کی آواز کو پہلے پہل غریب مسکین لوگ ہی قبول کرتے ہیں اور امیر کبیر لوگ ناک بھوں چڑھانے لگتے ہیں۔ فرمان قرآن ہے کہ «وَكَذَٰلِكَ مَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِم مُّقْتَدُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:23] ‏‏‏‏ ’ تجھ سے پہلے جس جس بستی میں ہمارے انبیاء آئے وہاں کے بڑے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے آپ باپ دادوں کو جس دین پر یایا ہے ہم تو انہیں کی خوشہ چینی کرتے رہیں گے ‘۔ شاہ روم ہرقل نے جو ابوسفیان سے پوچھا تھا کہ شریف لوگوں نے اس کی تابعداری کی ہے یا ضعیف لوگوں نے؟ تو اس نے یہی جواب دیا تھا کہ ضعیفوں نے جس پر ہرقل نے کہا تھا کہ ”رسولوں کے تابعدار یہی لوگ ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:7] ‏‏‏‏ حق کی فوری قبولیت بھی کوئی عیب کی بات نہیں، حق کی وضاحت کے بعد رائے فکر کی ضرورت ہی کیا؟ بلکہ ہر عقلمند کا کام یہی ہے کہ حق کو ماننے میں سبقت اور جلدی کرے۔ اس میں تامل کرنا جہالت اور کند ذہنی ہے۔ اللہ کے تمام پیغمبر علیہم السلام بہت واضح اور صاف اور کھلی ہوئی دلیلیں لے کر آتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ { میں نے جسے بھی اسلام کی طرف بلایا اس میں کچھ نہ کچھ جھجک ضرور پائی سوائے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کہ انہوں نے کوئی تردد و تامل نہ کیا واضح چیز کو دیکھتے ہی فوراً بے جھجک قبول کر لیا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:13383:] ‏‏‏‏ ان کا تیسرا اعتراض ہم کوئی برتری تم میں نہیں دیکھتے یہ بھی ان کے اندھے پن کی وجہ سے ہے اپنی ان کی آنکھیں اور کان نہ ہوں اور ایک موجود چیز کا انکار کریں تو فی الواقع اس کا نہ ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ یہ تو نہ حق کو دیکھیں نہ حق کو سنیں بلکہ اپنے شک میں غوطے لگاتے رہتے ہیں۔ اپنی جہالت میں ڈبکیاں مارتے رہتے ہیں۔ جھوٹے مفتری خالی ہاتھ رذیل اور نقصانوں والے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 25) ➊ {وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ:} جن حالات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں توحید کی دعوت پیش کر رہے تھے، وہ چونکہ ویسے ہی حالات تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دوسرے انبیاء علیھم السلام کو پیش آ چکے تھے، اس لیے حسب موقع یہاں سے گزشتہ انبیاء کا ذکر کیا جا رہا ہے اور باقی سورت تقریباً اسی تذکرے سے بھری ہوئی ہے، تاکہ ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت بندھے، آپ کو اور مسلمانوں کو تسلی ہو کہ انجام کار اللہ کے رسولوں اور اہل حق کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یقینا مدد ہوتی ہے اور دوسری طرف پہلی قوموں کے اعتراضات اور ان کے انبیاء کے جوابات آپ کے لیے نمونہ بنیں اور آپ کی قوم کو پہلے کفار کے انجام سے ڈرایا جائے۔ ➋ آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نبی تھے، وہ اور ان کی اولاد سب موحد اور دین حق پر تھے، پھر شیطان کے بہکانے سے بزرگوں کی پوجا بت پرستی کی صورت میں شروع ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین پر سب سے پہلے رسول نوح علیہ السلام بھیجے گئے، جیسا کہ حدیث شفاعت میں ہے اور بت پرستی کے آغاز کی تفصیل سورۂ نوح میں آئے گی۔ نوح علیہ السلام کا ذکر قرآن میں ۴۳ بار آیا ہے۔ ➌ { اِنِّيْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ:} نوح علیہ السلام نے صرف ڈرانے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ ان کی قوم نے سمع و طاعت کا اظہار ہی نہیں کیا کہ انھیں خوش خبری دی جاتی۔
اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ اَلِیۡمٍ ﴿۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر ایک روز دردناک عذاب آئے گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ تم صرف اللہ ہی کی عبادت کرو، مجھے تو تم پر دردناک دن کے عذاب کا خوف ہے
احمد رضا خان بریلوی
کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو، بیشک میں تم پر ایک مصیبت والے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو (ورنہ) میں تمہارے بارے میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
کہ تم اللہ کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو۔ بے شک میں تم پر ایک درد ناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آدم علیہ السلام کے بعد سب سے پہلا نبی؟ ٭٭

سب سے پہلے کافروں کی طرف رسول بنا کر بت پرستی سے روکنے کے لیے زمین پر نوح علیہ السلام ہی بھیجے گئے تھے۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ”میں تمہیں اللہ کے عذاب سے ڈرانے آیا ہوں اگر تم غیر اللہ کی عبادت نہ چھوڑو گے تو عذاب میں پھنسو گے۔ دیکھو تم صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرتے رہو۔ اگر تم نے خلاف ورزی کی تو قیامت کے دن کے درد ناک سخت عذابوں میں مجھے تمہارے لینے کا خوف ہے۔‏‏‏‏“ اس پر قومی کافروں کے رؤسا اور امراء بول اُٹھے کہ آپ علیہ السلام کوئی فرشتہ تو ہیں نہیں ہم جیسے ہی انسان ہیں۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم سب کو چھوڑ کر تم ایک ہی کے پاس وحی آئے۔ اور ہم اپنی آنکھوں دیکھ رہے ہیں کہ ایسے رذیل لوگ آپ علیہ السلام کے حلقے میں شامل ہو گئے ہیں کوئی شریف اور رئیس آپ علیہ السلام کا فرماں بردار نہیں ہوا اور یہ لوگ بے سوچے سمجھے بغیر غور و فکر کے آپ علیہ السلام کی مجلس میں آن بیٹھے ہیں اور ہاں میں ہاں ملائے جاتے ہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اس نئے دین نے تمہیں کوئی فائدہ بھی نہیں پہنچایا کہ تم خوش حال ہو گئے ہو تمہاری روزیاں بڑھ گئی ہوں یا خلق و خلق میں تمہیں کوئی برتری ہم پر حاصل ہو گئی ہو۔ بلکہ ہمارے خیال سے تم سب سے جھوٹے ہو۔ نیکی اور صلاحیت اور عبادت پر جو وعدے تم ہمیں آخرت ملک کے دے رہے ہو ہمارے نزدیک تو یہ سب بھی جھوٹی باتیں ہیں۔ ان کفار کی بےعقلی تو دیکھئیے اگر حق کے قبول کرنے والے نچلے طبقہ کے لوگ ہوئے تو کیا اس سے حق کی شان گھٹ گئی؟ حق حق ہی ہے خواہ اس کے ماننے والے بڑے لوگ ہوں خواہ چھوٹے لوگ ہوں۔

بلکہ حق بات یہ ہے کہ حق کی پیروی کرنے والے ہی شریف لوگ ہیں۔ چاہے وہ مسکین مفلس ہی ہوں اور حق سے روگردانی کرنے والے ہیں ذلیل اور رذیل ہیں گو وہ غنی مالدار اور امیر امراء ہوں۔ ہاں یہ واقع ہے کہ سچائی کی آواز کو پہلے پہل غریب مسکین لوگ ہی قبول کرتے ہیں اور امیر کبیر لوگ ناک بھوں چڑھانے لگتے ہیں۔ فرمان قرآن ہے کہ «وَكَذَٰلِكَ مَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِم مُّقْتَدُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:23] ‏‏‏‏ ’ تجھ سے پہلے جس جس بستی میں ہمارے انبیاء آئے وہاں کے بڑے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے آپ باپ دادوں کو جس دین پر یایا ہے ہم تو انہیں کی خوشہ چینی کرتے رہیں گے ‘۔ شاہ روم ہرقل نے جو ابوسفیان سے پوچھا تھا کہ شریف لوگوں نے اس کی تابعداری کی ہے یا ضعیف لوگوں نے؟ تو اس نے یہی جواب دیا تھا کہ ضعیفوں نے جس پر ہرقل نے کہا تھا کہ ”رسولوں کے تابعدار یہی لوگ ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:7] ‏‏‏‏ حق کی فوری قبولیت بھی کوئی عیب کی بات نہیں، حق کی وضاحت کے بعد رائے فکر کی ضرورت ہی کیا؟ بلکہ ہر عقلمند کا کام یہی ہے کہ حق کو ماننے میں سبقت اور جلدی کرے۔ اس میں تامل کرنا جہالت اور کند ذہنی ہے۔ اللہ کے تمام پیغمبر علیہم السلام بہت واضح اور صاف اور کھلی ہوئی دلیلیں لے کر آتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ { میں نے جسے بھی اسلام کی طرف بلایا اس میں کچھ نہ کچھ جھجک ضرور پائی سوائے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کہ انہوں نے کوئی تردد و تامل نہ کیا واضح چیز کو دیکھتے ہی فوراً بے جھجک قبول کر لیا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:13383:] ‏‏‏‏ ان کا تیسرا اعتراض ہم کوئی برتری تم میں نہیں دیکھتے یہ بھی ان کے اندھے پن کی وجہ سے ہے اپنی ان کی آنکھیں اور کان نہ ہوں اور ایک موجود چیز کا انکار کریں تو فی الواقع اس کا نہ ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ یہ تو نہ حق کو دیکھیں نہ حق کو سنیں بلکہ اپنے شک میں غوطے لگاتے رہتے ہیں۔ اپنی جہالت میں ڈبکیاں مارتے رہتے ہیں۔ جھوٹے مفتری خالی ہاتھ رذیل اور نقصانوں والے ہیں۔
26۔ 1 یہ وہی دعوت توحید ہے جو ہر نبی نے آ کر اپنی اپنی قوم کو دی۔ جس طرح فرمایا (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ 25؀) 21۔ الانبیاء:25) جو پیغمبر ہم نے آپ سے پہلے بھیجے، ان کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری ہی عبادت کرو۔ 26۔ 2 یعنی اگر مجھ پر ایمان نہیں لائے اور اس دعوت توحید کو نہیں اپنایا تو عذاب الٰہی سے نہیں بچ سکو گے،
(آیت 26){اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ …:} یہی ہر رسول کی دعوت تھی اور یہی سب کی بعثت کا مقصد تھا، فرمایا: «{ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ }» [ الأنبیاء: ۲۵ ] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ ”میں تم پر دردناک عذاب سے ڈرتا ہوں“ کے بجائے فرمایا: ”دردناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔“ یہ زیادہ ڈرانے کے لیے فرمایا کہ وہ عذاب اتنا دردناک ہے کہ جس دن وہ آئے گا وہ دن ہی سرا سر الم والا، یعنی نہایت دردناک ہو گا۔ یہی بات اس سورت کی آیت (۳) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔
فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِہٖ مَا نَرٰىکَ اِلَّا بَشَرًا مِّثۡلَنَا وَ مَا نَرٰىکَ اتَّبَعَکَ اِلَّا الَّذِیۡنَ ہُمۡ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاۡیِ ۚ وَ مَا نَرٰی لَکُمۡ عَلَیۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭ بَلۡ نَظُنُّکُمۡ کٰذِبِیۡنَ ﴿۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جواب میں اُس کی قوم کے سردار، جنہوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کیا تھا، بولے "ہماری نظر میں تو تم اس کے سوا کچھ نہیں ہو کہ بس ایک انسان ہو ہم جیسے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری قوم میں سے بس اُن لوگوں نے جو ہمارے ہاں اراذل تھے بے سوچے سمجھے تمہاری پیروی اختیار کر لی ہے اور ہم کوئی چیز بھی ایسی نہیں پاتے جس میں تم لوگ ہم سے کچھ بڑھے ہوئے ہو، بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کی قوم کے کافروں کے سرداروں نے جواب دیا کہ ہم تو تجھے اپنے جیسا انسان ہی دیکھتے ہیں اور تیرے تابعداروں کو بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ واضح طور پر سوائے نیچ لوگوں کے اور کوئی نہیں جو بے سوچے سمجھے (تمہاری پیروی کر رہے ہیں)، ہم تو تمہاری کسی قسم کی برتری اپنے اوپر نہیں دیکھ رہے، بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھ رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو اس کی قوم کے سردار جو کافر ہوئے تھے بولے ہم تو تمہیں اپنے ہی جیسا آدمی دیکھتے ہیں اور ہم نہیں دیکھتے کہ تمہاری پیروی کسی نے کی ہو مگر ہمارے کمینوں نے سرسری نظر سے اور ہم تم میں اپنے اوپر کوئی بڑائی نہیں پاتے بلکہ ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اس پر ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ (اے نوح) ہم تو تمہیں اس کے سوا کچھ نہیں دیکھتے کہ تم ہم جیسے ایک انسان ہو۔ اور ہم تو یہی دیکھ رہے ہیں کہ جن لوگوں نے آپ کی پیروی کی ہے وہ ہم میں سے بالکل رذیل لوگ ہیں اور انہوں نے بھی بے سوچے سمجھے سرسری رائے سے کی ہے اور ہم تم میں اپنے اوپر کوئی برتری نہیں دیکھتے بلکہ تم لوگوں کو جھوٹا خیال کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
تو اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے کہا جنھوں نے کفر کیا تھا، ہم تجھے نہیں دیکھتے مگر اپنے جیسا ایک بشر اور ہم تجھے نہیں دیکھتے کہ ان لوگوں کے سوا کسی نے تیری پیروی کی ہو جو ہمارے سب سے رذیل ہیں، سطحی رائے کے ساتھ اور ہم تمھارے لیے اپنے آپ پر کوئی برتری نہیں دیکھتے، بلکہ ہم تمھیں جھوٹے گمان کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آدم علیہ السلام کے بعد سب سے پہلا نبی؟ ٭٭

سب سے پہلے کافروں کی طرف رسول بنا کر بت پرستی سے روکنے کے لیے زمین پر نوح علیہ السلام ہی بھیجے گئے تھے۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ”میں تمہیں اللہ کے عذاب سے ڈرانے آیا ہوں اگر تم غیر اللہ کی عبادت نہ چھوڑو گے تو عذاب میں پھنسو گے۔ دیکھو تم صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرتے رہو۔ اگر تم نے خلاف ورزی کی تو قیامت کے دن کے درد ناک سخت عذابوں میں مجھے تمہارے لینے کا خوف ہے۔‏‏‏‏“ اس پر قومی کافروں کے رؤسا اور امراء بول اُٹھے کہ آپ علیہ السلام کوئی فرشتہ تو ہیں نہیں ہم جیسے ہی انسان ہیں۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم سب کو چھوڑ کر تم ایک ہی کے پاس وحی آئے۔ اور ہم اپنی آنکھوں دیکھ رہے ہیں کہ ایسے رذیل لوگ آپ علیہ السلام کے حلقے میں شامل ہو گئے ہیں کوئی شریف اور رئیس آپ علیہ السلام کا فرماں بردار نہیں ہوا اور یہ لوگ بے سوچے سمجھے بغیر غور و فکر کے آپ علیہ السلام کی مجلس میں آن بیٹھے ہیں اور ہاں میں ہاں ملائے جاتے ہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اس نئے دین نے تمہیں کوئی فائدہ بھی نہیں پہنچایا کہ تم خوش حال ہو گئے ہو تمہاری روزیاں بڑھ گئی ہوں یا خلق و خلق میں تمہیں کوئی برتری ہم پر حاصل ہو گئی ہو۔ بلکہ ہمارے خیال سے تم سب سے جھوٹے ہو۔ نیکی اور صلاحیت اور عبادت پر جو وعدے تم ہمیں آخرت ملک کے دے رہے ہو ہمارے نزدیک تو یہ سب بھی جھوٹی باتیں ہیں۔ ان کفار کی بےعقلی تو دیکھئیے اگر حق کے قبول کرنے والے نچلے طبقہ کے لوگ ہوئے تو کیا اس سے حق کی شان گھٹ گئی؟ حق حق ہی ہے خواہ اس کے ماننے والے بڑے لوگ ہوں خواہ چھوٹے لوگ ہوں۔

بلکہ حق بات یہ ہے کہ حق کی پیروی کرنے والے ہی شریف لوگ ہیں۔ چاہے وہ مسکین مفلس ہی ہوں اور حق سے روگردانی کرنے والے ہیں ذلیل اور رذیل ہیں گو وہ غنی مالدار اور امیر امراء ہوں۔ ہاں یہ واقع ہے کہ سچائی کی آواز کو پہلے پہل غریب مسکین لوگ ہی قبول کرتے ہیں اور امیر کبیر لوگ ناک بھوں چڑھانے لگتے ہیں۔ فرمان قرآن ہے کہ «وَكَذَٰلِكَ مَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِم مُّقْتَدُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:23] ‏‏‏‏ ’ تجھ سے پہلے جس جس بستی میں ہمارے انبیاء آئے وہاں کے بڑے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے آپ باپ دادوں کو جس دین پر یایا ہے ہم تو انہیں کی خوشہ چینی کرتے رہیں گے ‘۔ شاہ روم ہرقل نے جو ابوسفیان سے پوچھا تھا کہ شریف لوگوں نے اس کی تابعداری کی ہے یا ضعیف لوگوں نے؟ تو اس نے یہی جواب دیا تھا کہ ضعیفوں نے جس پر ہرقل نے کہا تھا کہ ”رسولوں کے تابعدار یہی لوگ ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:7] ‏‏‏‏ حق کی فوری قبولیت بھی کوئی عیب کی بات نہیں، حق کی وضاحت کے بعد رائے فکر کی ضرورت ہی کیا؟ بلکہ ہر عقلمند کا کام یہی ہے کہ حق کو ماننے میں سبقت اور جلدی کرے۔ اس میں تامل کرنا جہالت اور کند ذہنی ہے۔ اللہ کے تمام پیغمبر علیہم السلام بہت واضح اور صاف اور کھلی ہوئی دلیلیں لے کر آتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ { میں نے جسے بھی اسلام کی طرف بلایا اس میں کچھ نہ کچھ جھجک ضرور پائی سوائے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کہ انہوں نے کوئی تردد و تامل نہ کیا واضح چیز کو دیکھتے ہی فوراً بے جھجک قبول کر لیا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:13383:] ‏‏‏‏ ان کا تیسرا اعتراض ہم کوئی برتری تم میں نہیں دیکھتے یہ بھی ان کے اندھے پن کی وجہ سے ہے اپنی ان کی آنکھیں اور کان نہ ہوں اور ایک موجود چیز کا انکار کریں تو فی الواقع اس کا نہ ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ یہ تو نہ حق کو دیکھیں نہ حق کو سنیں بلکہ اپنے شک میں غوطے لگاتے رہتے ہیں۔ اپنی جہالت میں ڈبکیاں مارتے رہتے ہیں۔ جھوٹے مفتری خالی ہاتھ رذیل اور نقصانوں والے ہیں۔
27۔ 1 یہ وہی شبہ ہے، جس کی پہلے کئی جگہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ کافروں کے نزدیک بشریت کے ساتھ نبوت و رسالت کا اجتماع بڑا عجیب تھا، جس طرح آج کے اہل بدعت کو بھی عجیب لگتا ہے اور وہ بشریت رسول کا انکار کرتے ہیں۔ 27۔ 2 حق کی تاریخ میں یہ بات بھی ہر دور میں سامنے آتی رہی ہے کہ ابتداء میں اس کو اپنانے والے ہمیشہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں معاشرے میں بےنوا کم تر سمجھا جاتا تھا اور صاحب حیثیت اور خوش حال طبقہ اس سے محروم رہتا۔ حتی کہ پیغمبروں کے پیروکاروں کی علامت بن گئی۔ چناچہ شاہ روم ہرقل نے حضرت ابو سفیان سے نبی کی بابت پوچھا تو اس میں ان سے ایک بات یہ بھی پوچھی کہ ' اس کے پیروکار معاشرے کے معزز سمجھے جانے والے لوگ ہیں یا کمزور لوگ ' حضرت ابو سفیان نے جواب میں کہا ' کمزور لوگ ' جس پر ہرقل نے کہا ' رسولوں کے پیروکار یہی لوگ ہوتے ہیں (صحیح بخاری)۔ قرآن کریم میں بھی وضاحت کی گئی ہے کہ خوش حال طبقہ ہی سب سے پہلے پیغمبروں کی تکذیب کرتا رہا ہے۔ (سورة زخرف۔ 23) (وَكَذٰلِكَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّذِيْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَآ ۙاِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَاۗءَنَا عَلٰٓي اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰٓي اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ 23؀) 43۔ الزخرف:23) اور یہ اہل ایمان کی دنیاوی حیثیت تھی اور جس کے اعتبار سے اہل کفر انھیں حقیر اور کم تر سمجھتے تھے، ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ حق کے پیروکار معزز اور اشراف ہیں چاہے وہ مال و دولت کے اعتبار سے فروتر ہی ہوں اور حق کا انکار کرنے والے حقیر اور بےحیثیت ہیں چاہے وہ دنیوں اعتبار سے مال دار ہی ہوں۔ 27۔ 3 اہل ایمان چونکہ، اللہ اور رسول کے احکام کے مقابلے میں اپنی عقل و دانش اور رائے کا استعمال نہیں کرتے، اس لئے اہل باطل یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بےسوچ سمجھ والے ہیں کہ اللہ کا رسول انھیں جس طرف موڑ دیتا ہے، یہ مڑ جاتے ہیں جس چیز سے روک دیتا ہے، رک جاتے ہیں۔ یہ بھی اہل ایمان کی ایک بڑی بلکہ ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ لیکن اہل کفر و باطل کے نزدیک یہ خوبی بھی " عیب " ہے۔
(آیت 27) ➊ {فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ: } آلوسی نے فرمایا:{ ” الْمَلَاُ “ } کا لفظ اسم جمع ہے، جیسا کہ {”رَهْطٌ“ } (گروہ) ہے۔ اس لفظ سے اس کا واحد کوئی نہیں آتا۔ {” مَلَأَ يَمْلَأُ “} کا معنی بھرنا ہے، یعنی ایک رائے پر متفق لوگوں کی جماعت، جس کے رعب و جلال اور ظاہری شکل و صورت سے آنکھیں بھر رہی ہوں۔ (راغب) ➋ {مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا:} نوح علیہ السلام اور دوسرے پیغمبروں کی امتوں کے کافروں کی طرح مکہ کے کافر بھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہی بات کہا کرتے تھے کہ جو شخص ہماری طرح کا بشر ہو، جو کھاتا پیتا، بازاروں میں چلتا پھرتا، سوتا جاگتا، بیویاں اور بال بچے رکھتا ہو، آخر وہ اللہ کا رسول کیسے ہو سکتا ہے۔ (دیکھیے فرقان: ۷) مطلب یہ ہے کہ رسالت اور بشریت میں تضاد ہے اور ان دونوں کا ایک شخص میں جمع ہونا ناممکن ہے، حالانکہ تمام انبیاء میں دونوں اوصاف جمع تھے، جیسا کہ فرمایا: «{ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا }» [ بنی إسرائیل: ۹۳ ] ”تو کہہ میرا رب پاک ہے، میں تو ایک بشر کے سو اکچھ نہیں جو رسول ہے۔“ اور دیکھیے سورۂ فرقان (۲۰) اور مومنون (۳۳، ۳۴) کفار آپ کا بشر ہونا جانتے تھے، کیونکہ آپ انھی میں پیدا ہوئے تھے، اس لیے انھوں نے آپ کو رسول ماننے سے انکار کر دیا۔ افسوس کہ کچھ جدی پشتی مسلمان باپ دادا سے سن کر آپ کو رسول مانتے ہیں، مگر آپ کے بشر ہونے سے انکار کرتے ہیں۔ درحقیقت یہ ایک ہی ذہن ہے کہ انسان رسول نہیں ہو سکتا۔ ➌ {وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ …: ”اَرَاذِلُ“ ”اَرْذَلُ“} کی جمع ہے، یعنی کم تر درجے کے لوگ۔{ ” بَادِيَ “ ” بَدَا يَبْدُوْ “} (ظاہر ہونا) سے اسم فاعل ہو تو معنی ہو گا ظاہر دیکھنے میں اور {”بَدَءَ يَبْدَءُ“} (شروع ہونا) سے ہو تو معنی ہو گا پہلی نظر میں، یعنی اس وجہ سے بھی ہم آپ کی پیروی اختیار نہیں کر سکتے کہ کچھ لوگ جو آپ کے متبع ہو گئے ہیں وہ تو دیکھنے ہی سے نظر آتے ہیں کہ ہمارے رذالے یعنی کم تر درجے کے لوگ ہیں۔ گویا ان کی نظر میں اس شخص کے تابع ہونا، جس کے پیروکار معاشرے میں نچلے درجے کے لوگ ہوں، ان کی شان کے منافی ہے۔ (دیکھیے شعراء: ۱۱۱) بعینہٖ یہی بات مکہ کے کھاتے پیتے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ ان کی پیروی ہماری قوم کے غلام اور نچلے طبقے کے لوگ کرتے ہیں۔ (دیکھیے انعام: ۵۲ تا ۵۴) حالانکہ حق کی تاریخ سے ثابت ہے کہ اس کے ابتدائی پیروکار دنیوی لحاظ سے کمزور لوگ ہی ہوئے ہیں، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہرقل اور ابوسفیان کے سوال و جواب میں مذکور ہے کہ جب ابوسفیان نے بتایا کہ اس کی پیروی ضعفاء نے کی ہے تو ہرقل نے کہا، یہی لوگ تمام رسولوں کے پیروی کرنے والے رہے ہیں۔ [ بخاری، بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی …: ۷ ] ➍ { وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ:} ”ہم تمھارے لیے اپنے آپ پر کوئی برتری نہیں دیکھتے“ قوم کا یہ خطاب نوح علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں سے ہے کہ کسی بھی چیز میں تم ہم سے بڑھ کر نہیں ہو۔ ➎ { بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِيْنَ:} یعنی اس بات میں کہ تم کہتے ہو نوح علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں۔
قَالَ یٰقَوۡمِ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ کُنۡتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّیۡ وَ اٰتٰىنِیۡ رَحۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِہٖ فَعُمِّیَتۡ عَلَیۡکُمۡ ؕ اَنُلۡزِمُکُمُوۡہَا وَ اَنۡتُمۡ لَہَا کٰرِہُوۡنَ ﴿۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس نے کہا "اے برادران قوم، ذرا سوچو تو سہی کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر قائم تھا اور پھر اس نے مجھ کو اپنی خاص رحمت سے بھی نواز دیا مگر وہ تم کو نظر نہ آئی تو آخر ہمارے پاس کیا ذریعہ ہے کہ تم ماننا نہ چاہو اور ہم زبردستی اس کو تمہارے سر چپیک دیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
نوح نے کہا، میری قوم والو! مجھے بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے کسی دلیل پر ہوا اور مجھے اس نے اپنے پاس کی کوئی رحمت عطا کی ہو، پھر وه تمہاری نگاہوں میں نہ آئی تو کیا زبردستی میں اسے تمہارے گلے منڈھ دوں، حاﻻنکہ تم اس سے بیزار ہو
احمد رضا خان بریلوی
بولا اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت بخشی تو تم اس سے اندھے رہے، کیا ہم اسے تمہارے گلے چپیٹ (چپکا) دیں اور تم بیزار ہو
علامہ محمد حسین نجفی
نوح(ع) نے کہا اے میری قوم! کیا تم نے (اس بات پر) غور کیا ہے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں؟ اور اس نے مجھے اپنی رحمت بھی عطا فرمائی ہے۔ جو تمہیں سجھائی نہیں دیتی۔ تو کہا ہم زبردستی اسے تمہارے اوپر مسلط کر سکتے ہیں۔ جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اے میری قوم! کیا تم نے دیکھا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر (قائم) ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے بڑی رحمت عطا فرمائی ہو، پھر وہ تم پر مخفی رکھی گئی ہو، تو کیا ہم اسے تم پر زبردستی چپکا دیں گے، جب کہ تم اسے ناپسند کرنے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بلااجرت خیر خواہ سے ناروا سلوک ٭٭

نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو جواب دیا کہ ”سچی نبوت یقین اور واضح چیز میرے پاس تو میرے رب کی طرف سے آ چکی ہے۔ بہت بڑی رحمت و نعمت اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی اور وہ تم سے پوشیدہ رہی تم اسے نہ دیکھ سکے نہ تم نے اس کی قدر دانی کی نہ اسے پہنچانا بلکہ بےسوچے سمجھے تم نے اسے دھکے دے دئیے اسے جھٹلانے لگ گئے اب بتاؤ کہ تمہاری اس ناپسندیدگی کی حالت میں میں کسیے یہ کر سکتا ہوں کہ تمہیں اس کا ماتحت بنا دوں؟“
28 1 بینۃ سے مراد ایمان و یقین ہے اور رحمت سے مراد نبوت۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کو سرفراز کیا تھا۔ 28۔ 2 یعنی تم اس کے دیکھنے سے اندھے ہوگئے۔ چناچہ تم نے اس کی قدر پہچانی اور نہ اسے اپنانے پر آمادہ ہوئے، بلکہ اس کو جھٹلایا اور رد کے درپے ہوگئے۔ 28۔ 3 جب یہ بات ہے تو ہدایت و رحمت تمہارے حصے میں کس طرح آسکتی ہے؟
(آیت 28) ➊ { قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ …:} نوح علیہ السلام نے ان کے تمام اعتراضات کا جامع جواب دیا، ایک تو یہ کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اپنی رسالت کے مضبوط دلائل اور پختہ یقین موجود ہے، یعنی {” وَ اٰتٰىنِيْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ “} دوسرا یہ کہ یہ نبوت کسی کی محنت کا نتیجہ یا کسی کے آبا و اجداد کی جائداد نہیں، یہ تو محض اللہ تعالیٰ کی اپنے پاس سے خاص عنایت ہے، اس کی تقسیم تمھارے ہاتھ میں نہیں۔ یہ اللہ جسے چاہے دیتا ہے، خواہ وہ غریب ہو یا امیر، جیسا کہ مکہ والوں نے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیا تھا: «وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيْمٍ» [ الزخرف: ۳۱ ] ”اور انھوں نے کہا کہ یہ قرآن ان دو بستیوں (مکہ اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟“ اللہ تعالیٰ نے ان کا جواب دیا: «{ اَهُمْ يَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيْشَتَهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا }» [ الزخرف: ۳۲ ] ”کیا وہ تیرے رب کی رحمت تقسیم کرتے ہیں؟ ہم نے خود ان کے درمیان ان کی معیشت دنیا کی زندگی میں تقسیم کی۔“ ➋ { فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ:} اس کا مادہ {”عَمْيٌ“} ہے، اندھا ہونا، یعنی یہ بتاؤ کہ اگر تمھیں اس دلیل اور رحمت سے اندھا رکھا گیا ہو اور تمھاری بے وقوفی کی وجہ سے وہ تم پر ایسی مخفی رہی ہو کہ تم دیکھ ہی نہ سکے ہو تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ ➌ {اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ:} یعنی کیا ہم زبردستی تمھیں اس دلیل کا قائل کر لیں اور اس رحمت کے سائے میں دھکے سے داخل کر لیں، جب کہ تم اس سے نفرت کرتے ہو اور دور بھاگتے ہو۔ {” اَنُلْزِمُكُمُوْهَا “} میں ایک لفظ کے اندر تین ضمیروں کو ایسے طریقے سے جمع کیا ہے کہ لفظ انتہائی خوبصورت اور واضح ہو گیا ہے۔
وَ یٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡہِ مَالًا ؕ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ اِنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّہِمۡ وَ لٰکِنِّیۡۤ اَرٰىکُمۡ قَوۡمًا تَجۡہَلُوۡنَ ﴿۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اے برادران قوم، میں اِس کام پر تم سے کوئی مال نہیں مانگتا، میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور میں اُن لوگوں کو دھکے دینے سے بھی رہا جنہوں نے میری بات مانی ہے، وہ آپ ہی اپنے رب کے حضور جانے والے ہیں مگر میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
میری قوم والو! میں تم سے اس پر کوئی مال نہیں مانگتا۔ میرا ﺛواب تو صرف اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے نہ میں ایمان والوں کو اپنے پاس سے نکال سکتا ہوں، انہیں اپنے رب سے ملنا ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت کر رہے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور اے قوم! میں تم سے کچھ اس پر مال نہیں مانگتا میرا اجر تو اللہ ہی پر ہے اور میں مسلمانوں کو دور کرنے والا نہیں بیشک وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں لیکن میں تم کو نرے جاہل لوگ پا تا ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
اے میری قوم! میں اس (تبلیغِ حق) پر تم سے کوئی مالی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ میرا معاوضہ اللہ کے ذمے ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں (وہ تمہاری نگاہ میں جس قدر پست ہوں) میں ان کو اپنے پاس سے نکال نہیں سکتا۔ بے شک وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری دینے والے ہیں البتہ میں دیکھتا ہوں کہ تم جہالت سے کام لینے والے لوگ ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور اے میری قوم! میں تم سے اس پر کسی مال کا سوال نہیں کرتا، میری مزدوری اللہ کے سوا کسی پر نہیں اور میں ان لوگوں کو دور ہٹانے والا نہیں جو ایمان لائے ہیں، یقینا وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور لیکن میں تمھیں ایسے لوگ دیکھتا ہوں جو جہالت برتتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دعوت حق سب کے لیے یکساں ہے ٭٭

آپ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”میں جو کچھ نصیحت تمہیں کر رہا ہوں جنتی خیر خواہی تمہاری کرتا ہوں اس کی کوئی اجرت تو تم سے نہیں مانگتا، میری اجرت تو اللہ کے ذمے ہے۔ تم جو مجھ سے کہتے ہو کہ ان غریب مسکین ایمان والوں کو میں دھکے دے دوں مجھ سے تو یہ کبھی نہیں ہونے کا۔‏‏‏‏“ یہی طلب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کی گئی تھی جس کے جواب میں یہ آیت اتری «وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ» ۱؎ [6-الأنعام:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ صبح شام اپنے رب کے پکارنے والوں کو اپنی مجلس سے نہ نکال ‘۔ اور آیت میں ہے «وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْ بَيْنِنَا اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:53] ‏‏‏‏ ’ اسی طرح ہم نے ایک کو دوسرے سے آزما لیا اور وہ کہنے لگے کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن پر ہم سب کو چھوڑ کر اللہ کا فضل نازل ہوا؟ کیا اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو نہیں جانتا؟ ‘
29۔ 1 تاکہ تمہارے دماغوں میں یہ شبہ نہ آجائے کہ اس دعوائے نبوت سے اس کا مقصد تو دولت دنیا اکٹھا کرنا ہے۔ میں تو یہ کام صرف اللہ کے حکم پر اسی کی رضا کے لئے کر رہا ہوں، وہی مجھے اجر دے گا۔ 29۔ 2 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم نوح ؑ کے سرداروں نے بھی معاشرے میں کمزور سمجھے جانے والے اہل ایمان کو حضرت نوح ؑ سے اپنی مجلس یا اپنے قرب سے دور رکھنے کا مطالبہ کیا ہوگا، جس طرح روسائے مکہ نے رسول اللہ سے اس قسم کا مطالبہ کیا تھا، جس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی آیت نازل فرمائیں تھیں ' اے پیغمبر ان لوگوں کو اپنے سے دور مت کرنا جو صبح شام اپنے رب کو پکارتے ہیں (سورة، الا نعام 52) (وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ ۭ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِّنْ شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 52؀) 6۔ الانعام:52) ' اپنے نفسوں کو ان لوگوں کے ساتھ جوڑے رکھئے! جو اپنے رب کو صبح شام پکارتے ہیں، اپنے رب کی رضا چاہتے ہیں، آپ کی آنکھیں ان سے گزر کر کسی اور کی طرف تجاوز نہ کریں (سورۃ الکہف۔ 28) (وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ ۚ تُرِيْدُ زِيْنَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ وَكَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا) 18۔ الکہف:28) 29۔ 3 یعنی اللہ اور رسول کے پیروکار کو حقیر سمجھنا اور پھر انھیں قرب نبوت سے دور کرنے کا مطالبہ کرنا، یہ تمہاری جہالت ہے۔ یہ لوگ تو اس لائق ہیں کہ انھیں سر آنکھوں پر بٹھایا جائے نہ کہ دور دھتکارا جائے۔
(آیت 30،29) ➊ { وَ يٰقَوْمِ لَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا …:} اور اے میری قوم! میں اللہ کا یہ پیغام تمھیں پہنچانے پر تم سے کسی اجرت کا مطالبہ نہیں کرتا، مبادا تم سمجھو کہ نوح نے مال کھینچنے کے لیے نبوت کا بہانہ کھڑا کر لیا۔ میری اجرت تو اللہ کے سوا کسی کے ذمے بھی نہیں اور نہ دنیا کی کسی چیز کا تم سے مطالبہ ہے۔ ➋ { وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا:} یعنی جس طرح اللہ کی رحمت (اسلام) کے دامن میں آنے سے جب تک تم نفرت اور کراہت کرتے رہو گے، میں تمھیں زبردستی اسلام لانے پر مجبور نہیں کر سکتا، اسی طرح جیسے تم چاہتے ہو کہ جن لوگوں نے میری پیروی اختیار کی ہے، چونکہ وہ نچلے طبقے کے لوگ ہیں، اس لیے میں انھیں دھکے دے کر نکال دوں، یہ کام میں ہر گز نہیں کر سکتا۔ یہ اسی قسم کا مطالبہ تھا جو قریش کے سردار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرما دیا۔ دیکھیے سورۂ انعام (۵۲)، کہف (۲۸) اور سورۂ عبس۔ ➌ { اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ:} یعنی اگر میں ان کو ستاؤں یا اپنی مجلس سے نکال دوں تو وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا انصاف چاہیں گے، اس کا میں کیا جواب دوں گا۔ یا یہ کہ وہ لوگ تو اللہ کے ہاں عزت پا لیں گے اور اس بارگاہِ عالی میں ان کو ایمان و عمل کے باعث مقام و مرتبہ ملے گا، پھر تمھارے ان کو ذلیل سمجھنے سے کیا ہوتا ہے؟ یہ ان کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے کہ اے نوح! آپ کے متبع ہمارے رذالے ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”کافروں نے مسلمانوں کو رذالہ ٹھہرایا اور چاہا کہ ان کو ہانک دو تو ہم تمھارے پاس بیٹھیں اور بات سنیں۔ سو فرمایا کہ دل کی بات اللہ تعالیٰ تحقیق کرے گا جب اسے ملیں گے، میں اگر مسلمانوں کو ہانکوں تو اللہ سے کون چھڑوائے مجھ کو۔ اور رذالہ ٹھہرایا اس پر کہ وہ کسب کرتے تھے۔ کسب سے بہتر کمائی نہیں، اس واسطے فرمایا کہ تم جاہل ہو۔“ (موضح) ➍ {وَ لٰكِنِّيْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ:} یعنی تم کسی بات کو بھی صحیح طرح نہیں سمجھتے، تمھاری نظر صرف ظاہر چیزوں پر ہے اور انجام پر غور نہیں کرتے۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ فلاں شخص نیچ قوم کا ہے، اس لیے اسے اپنے پاس نہ بیٹھنے دو؟ اللہ کے نزدیک اسی کو عزت ہے جو ایمان دار اور پرہیز گار ہے۔ بے ایمان اور بدکار کتنے ہی اونچے خاندان کا ہو اللہ کے نزدیک چوہڑے اور چمار سے بھی بدتر ہے۔
وَ یٰقَوۡمِ مَنۡ یَّنۡصُرُنِیۡ مِنَ اللّٰہِ اِنۡ طَرَدۡتُّہُمۡ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اے قوم، اگر میں اِن لوگوں کو دھتکار دوں تو خدا کی پکڑ سے کون مجھے بچانے آئے گا؟ تم لوگوں کی سمجھ میں کیا اتنی بات بھی نہیں آتی؟
مولانا محمد جوناگڑھی
میری قوم کے لوگو! اگر میں ان مومنوں کو اپنے پاس سے نکال دوں تو اللہ کے مقابلہ میں میری مدد کون کر سکتا ہے؟ کیا تم کچھ بھی نصیحت نہیں پکڑتے
احمد رضا خان بریلوی
اور اے قوم مجھے اللہ سے کون بچالے گا اگر میں انہیں دور کروں گا، تو کیا تمہیں دھیان نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اے میری قوم! اگر میں ان کو اپنے پاس سے نکال دوں تو اللہ کے مقابلہ میں کون میری مدد کرے گا۔ کیا تم اتنا بھی غور نہیں کرتے (اور نصیحت قبول نہیں کرتے؟)
عبدالسلام بن محمد
اوراے میری قوم! اللہ کے مقابلے میں کون میری مدد کرے گا اگر میں انھیں دور ہٹا دوں؟ تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دعوت حق سب کے لیے یکساں ہے ٭٭

آپ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”میں جو کچھ نصیحت تمہیں کر رہا ہوں جنتی خیر خواہی تمہاری کرتا ہوں اس کی کوئی اجرت تو تم سے نہیں مانگتا، میری اجرت تو اللہ کے ذمے ہے۔ تم جو مجھ سے کہتے ہو کہ ان غریب مسکین ایمان والوں کو میں دھکے دے دوں مجھ سے تو یہ کبھی نہیں ہونے کا۔‏‏‏‏“ یہی طلب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کی گئی تھی جس کے جواب میں یہ آیت اتری «وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ» ۱؎ [6-الأنعام:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ صبح شام اپنے رب کے پکارنے والوں کو اپنی مجلس سے نہ نکال ‘۔ اور آیت میں ہے «وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْ بَيْنِنَا اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:53] ‏‏‏‏ ’ اسی طرح ہم نے ایک کو دوسرے سے آزما لیا اور وہ کہنے لگے کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن پر ہم سب کو چھوڑ کر اللہ کا فضل نازل ہوا؟ کیا اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو نہیں جانتا؟ ‘
30۔ 1 گویا ایسے لوگوں کو اپنے سے دور کرنا، اللہ کے غضب اور ناراضگی کا باعث ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ لَاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ عِنۡدِیۡ خَزَآئِنُ اللّٰہِ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ وَ لَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّیۡ مَلَکٌ وَّ لَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ تَزۡدَرِیۡۤ اَعۡیُنُکُمۡ لَنۡ یُّؤۡتِیَہُمُ اللّٰہُ خَیۡرًا ؕ اَللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ ۚۖ اِنِّیۡۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں، نہ یہ میرا دعویٰ ہے کہ میں فرشتہ ہوں اور یہ بھی میں نہیں کہہ سکتا کہ جن لوگوں کو تمہاری آنکھیں حقارت سے دیکھتی ہیں انہیں اللہ نے کوئی بھلائی نہیں دی ان کے نفس کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے اگر میں ایسا کہوں تو ظالم ہوں گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، (سنو!) میں غیب کا علم بھی نہیں رکھتا، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، نہ میرا یہ قول ہے کہ جن پر تمہاری نگاہیں ذلت سے پڑ رہی ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کوئی نعمت دے گا ہی نہیں، ان کے دل میں جو ہے اسے اللہ ہی خوب جانتا ہے، اگر میں ایسی بات کہوں تو یقیناً میرا شمار ﻇالموں میں ہو جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جان جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور میں انہیں نہیں کہتا جن کو تمہاری نگاہیں حقیر سمجھتی ہیں کہ ہرگز انہیں اللہ کوئی بھلائی نہ دے گا، اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے ایسا کروں تو ضرور میں ظالموں میں سے ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
اور (دیکھو) میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں اور نہ ہی میں یہ کہتا ہوں کہ جن لوگوں کو تم حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہو کہ اللہ انہیں کوئی بھلائی عطا نہیں کرے گا اللہ ہی بہتر جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے اگر میں ایسا کہوں تو ظالموں میں سے ہو جاؤں گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ بے شک میں ایک فرشتہ ہوں اور نہ میں ان لوگوں کے بارے میں جنھیں تمھاری آنکھیں حقیر سمجھتی ہیں، یہ کہتا ہوں کہ اللہ انھیں ہرگز کوئی بھلائی نہیں دے گا،اللہ اسے زیادہ جاننے والا ہے جو ان کے دلوں میں ہے، یقینا میں تو اس وقت ظالموں سے ہوں گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
میرا پیغام اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت ہے ٭٭

آپ علیہ السلام فرماتے ہیں ”میں صرف رسول اللہ ہوں، اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت اور توحید کی طرف اس کے فرمان کے مطابق تم سب کو بلاتا ہوں۔ اس سے میری مراد تم سے مال سمیٹنا نہیں۔ ہر بڑے چھوٹے کے لیے میری دعوت عام ہے جو قبول کرے گا نجات پائے گا۔ اللہ کے خزانوں کے ہیر پھیر کی مجھ میں قدرت نہیں۔ میں غیب نہیں جانتا ہاں جو بات اللہ مجھے معلوم کرا دے معلوم ہو جاتی ہے۔ میں فرشتہ ہونے کا دعویدار نہیں ہوں۔ بلکہ ایک انسان ہوں جس کی تائید اللہ کی طرف سے معجزوں سے ہو رہی ہے۔ جنہیں تم رذیل اور ذلیل سمجھ رہے ہو۔ میں تو اس کا قائل نہیں کہ انہیں اللہ کے ہاں ان کی نیکیوں کا بدلہ نہیں ملے گا۔ ان کے باطن کا حال بھی مجھے معلوم نہیں اللہ ہی کو اس کا علم ہے۔ اگر ظاہر کی طرح باطن میں بھی ایماندار ہیں تو انہیں اللہ کے ہاں ضرور نیکیاں ملیں گی جو ان کے انجام کی برائی کو کہے اس نے ظلم کیا اور جہالت کی بات کہی۔‏‏‏‏“
31۔ 1 بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایمان کی صورت میں خیر عظیم عطا کر رکھا ہے جس کی بنیاد پر وہ آخرت میں بھی جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے اور دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ چاہے گا، تو بلند مرتبے سے ہمکنار ہوں گے۔ گویا تمہارا ان کو حقیر سمجھنا ان کے لئے نقصان کا باعث نہیں، البتہ تم ہی عند اللہ مجرم ٹھہرو گے کہ اللہ کے نیک بندوں کو، جن کا اللہ کے ہاں بڑا مقام ہے، تم حقیر اور فرومایہ سمجھتے ہو۔ 31۔ 2 کیونکہ میں ان کی بابت ایسی بات کہوں جس کا مجھے علم نہیں، صرف اللہ جانتا ہے، تو یہ ظلم ہے۔
(آیت 31) ➊ { وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ …: } یہ اس بات کا جواب ہے جو ان لوگوں نے کہی تھی کہ ہمیں تو تم اپنے جیسے ایک انسان نظر آتے ہو اور یہ کہ ہم تم کو کسی بات میں اپنے سے برتر نہیں پاتے۔ اس پر نوح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہاں میں واقعی تم ہی جیسا ایک بشر ہوں، نہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب کی باتیں جانتا ہوں اور نہ میں فرشتہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہوں، یعنی اس قسم کی کوئی فوقیت مجھ میں نہیں ہے۔ میرا جو بھی دعویٰ ہے وہ صرف اتنا ہے کہ میں اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور اس نے مجھے سیدھے راستے کی ہدایت بخشی ہے۔ میرا یہ دعویٰ ناقابل تردید ہے، اس کی تم جس طرح چاہو آزمائش کر لو۔ ➋ {وَ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ تَزْدَرِيْۤ اَعْيُنُكُمْ …: ” تَزْدَرِيْۤ “} اس کا مادہ {” زري“} ہے، {” زَرَيْتُ عَلَيْهِ “} میں نے اس پر عیب لگایا۔ باب افتعال میں جا کر افتعال کی تاء کو دال کے ساتھ بدلنے سے {”اِزْدَرَي يَزْدَرِيْ اِزْدِرَاءً“} بن گیا، جس کا معنی حقیر جاننا ہے۔ (قاموس) یعنی مجھ سے یہ امید نہ رکھو کہ محض تمھیں خوش کرنے کے لیے ان لوگوں کے بارے میں اس قسم کی جاہلانہ بات کہوں گا۔ مطلب یہ ہے کہ مذکورہ چیزیں (اللہ کے خزانوں کا مالک ہونا، عالم الغیب ہونا، فرشتہ ہونا) نبوت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتیں کہ ان کے بغیر نبوت نہیں مل سکتی اور نہ ان چیزوں کے کسی شخص کے پاس نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر خیر سے خالی ہے اور جو شخص مال دار نہ ہو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خیر بھی حاصل نہیں ہو سکتی، بلکہ اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ ناتوانوں کو عزت دیتا ہے اور عزت والوں کو دم بھر میں ذلیل کر دیتا ہے۔ اس وقت بھی یہ لوگ اپنے رب پر ایمان اور اس کے رسول کی پیروی کی بدولت تم سے زیادہ باعزت اور شریف ہیں۔ (روح المعانی) ➌ { اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ:} اگر ان کے دلوں میں ایمان اور اخلاص ہے تو اللہ کے ہاں ضرور اجر پائیں گے، تم اور میں مل کر بھی انھیں اس اجر سے محروم نہیں کر سکتے۔ ➍ { اِنِّيْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ:} یعنی اگر میں انھیں خواہ مخواہ ذلیل قرار دوں۔ یہ اشارہ ہے کہ تم انھیں رذالے کہنے میں ظالم ہو، یا یہ کہ اگر میں خزائنِ الٰہی کو جمع کرنے یا غیب کے جاننے اور فرشتہ ہونے کا دعویٰ کروں تو میں ظالموں میں سے ہوں گا۔
قَالُوۡا یٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَکۡثَرۡتَ جِدَالَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخر کار ان لوگوں نے کہا کہ "اے نوحؑ، تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت کر لیا اب تو بس وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو اگر سچے ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
(قوم کے لوگوں نے) کہا اے نوح! تو نے ہم سے بحﺚ کر لی اور خوب بحﺚ کر لی۔ اب تو جس چیز سے ہمیں دھمکا رہا ہے وہی ہمارے پاس لے آ، اگر تو سچوں میں ہے
احمد رضا خان بریلوی
بولے اے نوح تم ہم سے جھگڑے اور بہت ہی جھگڑے تو لے ا ٓ ؤ جس کا ہمیں وعدے دے رہے ہو اگر تم سچے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
ان لوگوں نے کہا اے نوح! تم نے ہم سے بحث و تکرار کی ہے اور بہت کر لی (اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے) اگر تم سچے ہو تو وہ (عذاب) ہمارے پاس لاؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا اے نوح! بے شک تونے ہم سے جھگڑا کیا، پھر ہم سے بہت جھگڑا کیا، پس لے آ ہم پر جس جس کا تو ہمیں وعدہ دیتا ہے، اگر تو سچوں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم نوح کی عجلت پسندی کی حماقت ٭٭

قوم نوح کی عجلت بیان ہو رہی ہے کہ ’ عذاب مانگ بیٹھے۔ کہنے لگے بس حجتیں تو ہم نے بہت سی سن لیں۔ آخری فیصلہ ہمارا یہ ہے کہ ہم تو تیری تابعداری نہیں کرنے کے اب اگر تو سچا ہے تو دعا کر کے ہم پر عذاب لے آؤ ‘۔ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”یہ بھی میرے بس کی بات نہیں اللہ کے ہاتھ ہے۔ اسے کوئی عاجز کرنے والا نہیں اگر اللہ کا ارادہ ہی تمہاری گمراہی اور بربادی کا ہے تو پھر واقعی میری نصیحت بے سود ہے۔ سب کا مالک اللہ ہی ہے تمام کاموں کی تکمیل اسی کے ہاتھ ہے۔ متصرف، حاکم، عادل، غیر ظالم، فیصلوں کے امر کا مالک، ابتداء پیدا کرنے والا، پھر لوٹانے والا، دنیا و آخرت کا تنہا مالک وہی ہے۔ ساری مخلوق کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔‏‏‏‏“
32۔ 1 لیکن اس کے باوجود ہم ایمان نہیں لائے۔ 32۔ 2 یہ وہی حماقت ہے جس کا ارتکاب گمراہ قومیں کرتی آئی ہیں کہ وہ اپنے پیغمبر سے کہتی رہی ہیں کہ اگر تو سچا ہے تو ہم پر عذاب نازل کروا کر ہمیں تباہ کروا دے۔ حالانکہ ان میں عقل ہوتی، تو وہ کہتیں کہ اگر سچا ہے اور واقعی اللہ کا رسول ہے، تو ہمارے لئے دعا کر کہ اللہ تعالیٰ ہمارا سینہ بھی کھول دے تاکہ ہم اسے اپنا لیں۔
(آیت 32){قَالُوْا يٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا …:} جب وہ نوح علیہ السلام کے دلائل کے سامنے بے بس ہو گئے اور نوح علیہ السلام ایک مدت دراز تک (۹۵۰ سال۔ عنکبوت: ۱۴) دن رات ایک ایک شخص کو اور پوری پوری مجلس کو (دیکھیے سورۂ نوح) اللہ کی توحید سمجھاتے رہے، نہ تھکے اور نہ ہمت ہاری تو بجائے اس کے کہ ان کی قوم ایمان لے آتی یا اللہ سے درخواست کرتی کہ اے اللہ! اگر نوح علیہ السلام کی بات سچ ہے تو اس کے لیے ہمارے سینے کھول دے، الٹا عذاب الٰہی لانے کا مطالبہ کر دیا۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ شرک انسان کو عقل اور فطرتِ الٰہی پر چلنے سے کس حد تک محروم کر دیتا ہے اور اس کی بھی کہ مشرک پرانے زمانے کا ہو یا آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا، دونوں ایک ہی طرح عقل سے خالی ہو جاتے ہیں۔ دیکھیے ابوجہل اور مشرکین مکہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا ہونے کی صورت میں اللہ تعالیٰ سے دعا جو سورۂ انفال (۳۲) میں مذکور ہے۔
قَالَ اِنَّمَا یَاۡتِیۡکُمۡ بِہِ اللّٰہُ اِنۡ شَآءَ وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نوحؑ نے جواب دیا "وہ تو اللہ ہی لائے گا، اگر چاہے گا، اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے روک دو
مولانا محمد جوناگڑھی
جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالیٰ ہی ﻻئے گا اگر وه چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو
احمد رضا خان بریلوی
بولا وہ تو اللہ تم پر لائے گا اگر چاہے اور تم تھکا نہ سکو گے
علامہ محمد حسین نجفی
نوح(ع) نے کہا وہ (عذاب) تو اللہ ہی لائے گا جب چاہے گا اور تم اسے عاجز نہیں کر سکتے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا وہ تو تم پر اللہ ہی لائے گا،اگر اس نے چاہا اور تم ہرگز عاجز کرنے والے نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم نوح کی عجلت پسندی کی حماقت ٭٭

قوم نوح کی عجلت بیان ہو رہی ہے کہ ’ عذاب مانگ بیٹھے۔ کہنے لگے بس حجتیں تو ہم نے بہت سی سن لیں۔ آخری فیصلہ ہمارا یہ ہے کہ ہم تو تیری تابعداری نہیں کرنے کے اب اگر تو سچا ہے تو دعا کر کے ہم پر عذاب لے آؤ ‘۔ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”یہ بھی میرے بس کی بات نہیں اللہ کے ہاتھ ہے۔ اسے کوئی عاجز کرنے والا نہیں اگر اللہ کا ارادہ ہی تمہاری گمراہی اور بربادی کا ہے تو پھر واقعی میری نصیحت بے سود ہے۔ سب کا مالک اللہ ہی ہے تمام کاموں کی تکمیل اسی کے ہاتھ ہے۔ متصرف، حاکم، عادل، غیر ظالم، فیصلوں کے امر کا مالک، ابتداء پیدا کرنے والا، پھر لوٹانے والا، دنیا و آخرت کا تنہا مالک وہی ہے۔ ساری مخلوق کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔‏‏‏‏“
33۔ 1 یعنی عذاب کا آنا خالص اللہ کی مشیت پر موقوف ہے، یہ نہیں ہے کہ جب میں چاہوں، تم پر عذاب آجائے۔ تاہم جب اللہ عذاب کا فیصلہ کرلے گا یا بھیج دے گا، تو پھر اس کو کوئی عاجز کرنے والا نہیں ہے۔
(آیت 34،33) نوح علیہ السلام نے جواب میں کسی تلخی کا مظاہرہ نہیں کیا، بلکہ اپنی اور اللہ تعالیٰ کی حیثیت واضح فرمائی کہ عذاب لانا یا نہ لانا میرا کام نہیں، یہ تو اللہ کا اختیار ہے۔ وہ اگر چاہے گا تو تم پر عذاب لے آئے گا، پھر تم اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نکل نہیں سکو گے اور جس طرح کائنات کا ایک ذرہ بھی اللہ کی مرضی کے بغیر حرکت یا سکون میں نہیں آ سکتا، انسان ہدایت اور گمراہی کی ایک حد تک اختیار رکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے ارادے اور اس کی توفیق کے بغیر پیغمبر کی خیر خواہی اور نصیحت سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
وَ لَا یَنۡفَعُکُمۡ نُصۡحِیۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَکُمۡ اِنۡ کَانَ اللّٰہُ یُرِیۡدُ اَنۡ یُّغۡوِیَکُمۡ ؕ ہُوَ رَبُّکُمۡ ۟ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿ؕ۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اب اگر میں تمہاری کچھ خیر خواہی کرنا بھی چاہوں تو میری خیر خواہی تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی جبکہ اللہ ہی نے تمہیں بھٹکا دینے کا ارادہ کر لیا ہو، وہی تمہارا رب ہے اور اُسی کی طرف تمہیں پلٹنا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
تمہیں میری خیر خواہی کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی، گو میں کتنی ہی تمہاری خیر خواہی کیوں نہ چاہوں، بشرطیکہ اللہ کا اراده تمہیں گمراه کرنے کا ہو، وہی تم سب کا پروردگار ہے اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہیں میری نصیحت نفع نہ دے گی اگر میں تمہارا بھلا چاہوں جبکہ اللہ تمہاری گمراہی چاہے، وہ تمہارا رب ہے، اور اسی کی طرف پھرو گے
علامہ محمد حسین نجفی
اگر اللہ تمہیں گمراہی میں چھوڑ دینا چاہے (اور اس طرح تمہیں ہلاک کرنا چاہے تو) میں جس قدر تمہیں نصیحت کرنا چاہوں میری نصیحت تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ وہی تمہارا پروردگار ہے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور میری نصیحت تمھیں نفع نہ دے گی اگر میں چاہوں کہ تمھیں نصیحت کروں، اگر اللہ یہ ارادہ رکھتا ہو کہ تمھیں گمراہ کرے، وہی تمھارا رب ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم نوح کی عجلت پسندی کی حماقت ٭٭

قوم نوح کی عجلت بیان ہو رہی ہے کہ ’ عذاب مانگ بیٹھے۔ کہنے لگے بس حجتیں تو ہم نے بہت سی سن لیں۔ آخری فیصلہ ہمارا یہ ہے کہ ہم تو تیری تابعداری نہیں کرنے کے اب اگر تو سچا ہے تو دعا کر کے ہم پر عذاب لے آؤ ‘۔ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”یہ بھی میرے بس کی بات نہیں اللہ کے ہاتھ ہے۔ اسے کوئی عاجز کرنے والا نہیں اگر اللہ کا ارادہ ہی تمہاری گمراہی اور بربادی کا ہے تو پھر واقعی میری نصیحت بے سود ہے۔ سب کا مالک اللہ ہی ہے تمام کاموں کی تکمیل اسی کے ہاتھ ہے۔ متصرف، حاکم، عادل، غیر ظالم، فیصلوں کے امر کا مالک، ابتداء پیدا کرنے والا، پھر لوٹانے والا، دنیا و آخرت کا تنہا مالک وہی ہے۔ ساری مخلوق کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔‏‏‏‏“
34۔ 1 اغواء بمعنی اضلال (گمراہ کرنا ہے)۔ یعنی تمہارا کفر وجحود اگر اس مقام پر پہنچ چکا ہے، جہاں سے کسی انسان کو پلٹ کر آنا اور ہدایت کو اپنا لینا ناممکن ہے، تو اسی کیفیت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہر لگا دینا کہا جاتا ہے، جس کے بعد ہدایت کی کوئی امید باقی نہیں رہ جاتی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم بھی اسی خطرناک موڑ تک پہنچ چکے ہو تو پھر میں تمہاری خیر خواہی بھی کرنی چاہوں یعنی ہدایت پر لانے کی اور زیادہ کوشش کروں، تو یہ کوشش اور خیر خواہی تمہارے لئے مفید نہیں، کیونکہ تم گمراہی کے آخری مقام پر پہنچ چکے ہو۔ 34۔ 2 ہدایت اور گمراہی بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے، جہاں وہ تمہیں تمہارے عملوں کی جزا دے گا۔ نیکوں کو انکے نیک عمل کی جزا اور بروں کو ان کی برائی کی سزا دے گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ؕ قُلۡ اِنِ افۡتَرَیۡتُہٗ فَعَلَیَّ اِجۡرَامِیۡ وَ اَنَا بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُجۡرِمُوۡنَ ﴿٪۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے محمدؐ، کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے یہ سب کچھ خود گھڑ لیا ہے؟ ان سے کہو "اگر میں نے یہ خود گھڑا ہے تو مجھ پر اپنے جرم کی ذمہ داری ہے، اور جو جرم تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بری ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے خود اسی نے گھڑ لیا ہے؟ تو جواب دے کہ اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہو تو میرا گناه مجھ پر ہے اور میں ان گناہوں سے بری ہوں جو تم کر رہے ہو
احمد رضا خان بریلوی
کیا یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے جی سے بنالیا تم فرماؤ اگر میں نے بنالیا ہوگا تو میرا گناہ مجھ پر ہے اور میں تمہارے گناہ سے الگ ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ (آپ) نے (یہ قرآن) خود گھڑ لیا ہے۔ تو کہیئے! اگر میں نے یہ گھڑا ہے تو اس جرم کا وبال مجھ پر ہے اور جو جرم تم کر رہے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے، کہہ دے اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہے تو میرا جرم مجھی پر ہے اور میں اس سے بری ہوں جو تم جرم کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار کا الزام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا جواب ٭٭

یہ درمیانی کلام اس قصے کے بیچ میں اس کی تائید اور تقریر کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ’ یہ کفار تجھ پر اس قرآن کے از خود گھڑ لینے کا الزام لگا رہے ہیں تو جواب دے کہ اگر ایسا ہے تو میرا گناہ مجھ پر ہے میں جانتا ہوں کہ اللہ کے عذاب کیسے کچھ ہیں؟ پھر کیسے ممکن ہے کہ میں اللہ پر جھوٹ افتراء گھڑ لوں؟ ہاں اپنے گناہوں کے ذمے دار تم آپ ہو ‘۔
35۔ 1 بعض مفسرین کے نزدیک یہ مکالمہ قوم نوح ؑ اور حضرت نوح ؑ کے درمیان ہوا اور بعض کا خیال ہے کہ یہ جملہ معترضہ کے طور پر نبی اکرم اور مشرکین مکہ کے درمیان ہونے والی گفتگو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ قرآن میرا گھڑا ہوا ہے اور میں اللہ کی طرف سے منسوب کرنے میں جھوٹا ہوں تو میرا جرم ہے، اس کی سزا میں ہی بھگتوں گا۔ لیکن تم جو کچھ کر رہے ہو، جس سے میں بری ہوں، اس کا بھی تمہیں پتہ ہے؟ اس کا وبال تو مجھ پر نہیں، تم پر ہی پڑے گا کیا اس کی بھی تمہیں کچھ فکر ہے؟
(آیت 35){ اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ …:} اس آیت کی مفسرین نے الگ الگ تفسیریں کی ہیں۔ بعض نے اسے نوح علیہ السلام کے قصے ہی سے متعلق سمجھتے ہوئے اس میں خطاب نوح علیہ السلام سے قرار دیا ہے اور بعض نے اسے نوح علیہ السلام کے قصے کے درمیان جملہ معترضہ قرار دیا ہے اور اسے مشرکین مکہ کا قول قرار دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب قرار دیا ہے، یعنی کیا (مکہ کے کافر) کہتے ہیں کہ اس (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اس (قرآن) کو اپنے دل سے گھڑ لیا ہے۔ (اے محمد!) کہہ دے اگر میں نے اسے اپنے دل سے گھڑا ہے تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر پڑے گا اور تم جو گناہ کرتے ہو میں اس کی ذمہ داری سے بری ہوں۔ علمائے تفسیر میں سے رازی اور ان کی موافقت میں شوکانی نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے اور لکھا ہے کہ یہی اکثر مفسرین کا قول ہے۔ حافظ ابن کثیر اور صاحب کشاف نے دوسری تفسیر کو راجح قرار دیا ہے، یہی رائے شاہ عبد القادر رحمہ اللہ کی ہے، امکان دونوں کا ہے۔
وَ اُوۡحِیَ اِلٰی نُوۡحٍ اَنَّہٗ لَنۡ یُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِکَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿ۚۖ۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نوحؑ پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے بس وہ لا چکے، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو
مولانا محمد جوناگڑھی
نوح کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تیری قوم میں سے جو ایمان ﻻ چکے ان کے سوا اور کوئی اب ایمان ﻻئے گا ہی نہیں، پس تو ان کے کاموں پر غمگین نہ ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور نوح کو وحی ہوئی تمہاری قوم سے مسلمان نہ ہوں گے مگر جتنے ایمان لاچکے تو غم نہ کھا اس پر جو وہ کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور نوح(ع) کی طرف وحی کی گئی کہ ان لوگوں کے سوا جو ایمان لا چکے ہیں تمہاری قوم میں سے اور کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ پس تم اس پر غمگین نہ ہو جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ تیری قوم میں سے کوئی ہرگز ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا، پس تو اس پر غمگین نہ ہو جو وہ کرتے رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم نوح کا مانگا ہوا عذاب اسے ملا ٭٭

قوم نوح نے جب عذابوں کی مانگ جلدی مچائی تو آپ نے اللہ سے دعا کی «وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» ۱؎ [71-نوح:26] ‏‏‏‏ ’ الٰہی زمین پر کسی کافر کو رہتا بستا نہ چھوڑ ‘۔ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ» ۱؎ [54-القمر:10] ‏‏‏‏ ’ پرودرگار میں عاجز آ گیا ہوں، تو میری مدد کر ‘۔ اسی وقت وحی آئی کہ ’ جو ایمان لا چکے ہیں ان کے سوا اور کوئی اب ایمان نہ لائے گا تو ان پر افسوس نہ کر نہ ان کا کوئی ایسا خاص خیال کر۔ ہمارے دیکھتے ہی ہماری تعلیم کے مطابق ایک کشتی تیار کر اور اب ظالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات چیت نہ کر، ہم ان کا ڈبو دینا مقرر کر چکے ہیں ‘۔ بعض سلف کہتے ہیں حکم ہوا کہ لکڑیاں کاٹ کر سکھا کر تختے بنا لو۔ اس میں ایک سو سال گزر گئے پھر مکمل تیاری میں سو سال اور نکل گئے ایک قول ہے چالیس سال لگے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ امام محمد بن اسحٰق رحمہ اللہ توراۃ سے نقل کرتے ہیں کہ ساگ کی لکڑی کی یہ کشتی تیار ہوئی اس کا طول اسی (‏‏‏‏۸۰) ہاتھ تھا اور عرض پچاس (‏‏‏‏۵۰) ہاتھ کا تھا۔ اندر باہر سے روغن کیا گیا تھا پانی کاٹنے کے پر پرزے بھی تھے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ لمبائی تین سو ہاتھ کی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ”طول بارہ سو ہاتھ کا تھا اور چوڑائی چھ سو ہاتھ کی تھی۔‏‏‏‏“ کہا گیا ہے کہ طول دوہزار ہاتھ اور چوڑائی ایک سو ہاتھ کی تھی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اس کی اندرونی اونچائی تیس ہاتھ کی تھی اس میں تین درجے تھے ہر درجہ دس ہاتھ اونچا تھا۔ سب سے نیچے کے حصے میں چوپائے اور جنگلی جانور تھے۔ درمیان کے حصے میں انسان تھے اور اوپر کے حصے میں پرندے تھے۔ ان میں چھوٹا دروازہ تھا، اوپر سے بالکل بند تھی۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے ایک غریب اثر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا ہے کہ ”حواریوں نے عیسیٰ بن مریم سے درخواست کی کہ اگر آپ بحکم الٰہی کسی ایسے مردہ کو جلاتے جس نے کشتی نوح علیہ السلام دیکھی ہو تو ہمیں اسے معلومات ہوتیں آپ علیہ السلام انہیں لے کر ایک ٹیلے پر پہنچ کر وہاں کی مٹی اٹھائی اور فرمایا ”جانتے ہو یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا کہ ”اللہ اور اس کے رسول علیہ السلام کو ہی علم ہے۔‏‏‏‏“

آپ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ پنڈلی ہے حام بن نوح علیہ السلام کی“، پھر آپ علیہ السلام نے ایک لکڑی اس ٹیلے پر مار کر فرمایا ”اللہ کے حکم سے اٹھ کھڑا ہو۔‏‏‏‏“ اسی وقت ایک بوڑھا سا آدمی اپنے سر سے مٹی جھاڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ آپ علیہ السلام نے اس سے پوچھا ”کیا تو بڑھاپے میں مرا تھا؟“ اس نے کہا نہیں مرا تو تھا جوانی میں لیکن اب دل پر دہشت بیٹھی کہ قیامت قائم ہوگئی اس دہشت نے بوڑھا کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”اچھا نوح علیہ السلام کی کشتی کی بابت اپنی معلومات بیان کرو۔ اس نے کہا وہ بارہ سو ہاتھ لمبی اور چھ سو ہاتھ چوڑی تھی تین درجوں کی تھی۔ ایک میں جانور اور چوپائے تھے، دوسرے میں انسان، تیسرے میں پرند، جب جانوروں کا گوبر پھیل گیا تو اللہ تعالیٰ نے نوح کی طرف وحی بھیجی کہ ہاتھی کی دم ہلاؤ۔ آپ کے ہلاتے ہی اس سے خنزیر نر مادہ نکل آئے اور وہ میل کھانے لگے۔ چوہوں نے جب اس کے تختے کترنے شروع کئے تو حکم ہوا کہ شیر کی پیشانی پر انگلی لگا۔ اس سے بلی کا جوڑا نکلا اور چوہوں کی طرف لپکا۔ عیسیٰ علیہ السلام نے سوال کیا کہ ”نوح علیہ السلام کو شہروں کے غرقاب ہونے کا علم کیسے ہوگیا؟“

آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”انہوں نے کوے کو خبر لینے کے لیے بھیجا لیکن وہ ایک لاش پر بیٹھ گیا، دیر تک وہ واپس نہ آیا تو آپ علیہ السلام نے اس کے لیے ہمیشہ ڈرتے رہنے کی بد دعا کی۔ اسی لیے وہ گھروں سے مانوس نہیں ہوتا۔ پھر آپ علیہ السلام نے کبوتر کو بھیجا وہ اپنی چونچ میں زیتون کے درخت کا پتہ لے کر آیا اور اپنے پنجوں میں خشک مٹی لایا اس سے معلوم ہو گیا کہ شہر ڈوب چکے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے اس کی گردن میں خصرہ کا طوق ڈال دیا اور اس کے لیے امن و انس کی دعا کی پس وہ گھروں میں رہتا سہتا ہے۔ حواریوں نے کہا ”اے رسول علیہ السلام! واللہ! آپ انہیں ہمارے ہاں لے چلئے کہ ہم میں بیٹھ کر اور بھی باتیں ہمیں سنائیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ تمہارے ساتھ کیسے آسکتا ہے جب کہ اس کی روزی نہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ”اللہ کے حکم سے جیسا تھا ویسا ہی ہو جا“، وہ اسی وقت مٹی ہو گیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:18151:ضعیف] ‏‏‏‏ نوح علیہ السلام تو کشتی بنانے میں لگے اور کافروں کو ایک مذاق ہاتھ لگ گیا وہ چلتے پھرتے انہیں چھیڑتے اور باتیں بناتے اور طعنہ دیتے کیونکہ انہیں جھوٹا جانتے تھے اور عذاب کے وعدے پر انہیں یقین نہ تھا۔ اس کے جواب میں نوح علیہ السلام فرماتے ”اچھا دل خوش کر لو وقت آ رہا ہے کہ اس کا پورا بدلہ لے لیا جائے۔ ابھی جان لو گے کہ کون اللہ کے عذاب سے دنیا میں رسوا ہوتا ہے اور کس پر اخروی عذاب آچمٹتا ہے جو کبھی ٹالے نہ ٹلے۔‏‏‏‏“
36۔ 1 یہ اس وقت کہا گیا کہ جب قوم نوح ؑ نے عذاب کا مطالبہ کیا اور حضرت نوح ؑ نے بارگاہ الٰہی میں دعا کی کہ یا رب! زمین پر ایک کافر بھی بسنے والا نہ رہنے دے۔ اللہ نے فرمایا، اب مزید کوئی ایمان نہیں لائے گا، تو ان پر غم نہ کھا۔
(آیت 36){وَ اُوْحِيَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ يُّؤْمِنَ …:} نوح علیہ السلام سے متعلق قرآن مجید کی تمام آیات پر مجموعی نظر ڈالیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان کے بے مثال صبر کے ساتھ مسلسل صدیوں دعوت دینے کے باوجود قوم نے ان کے انکار اور ایذا رسانی میں کوئی کمی نہ کی، بلکہ ہر نسل اپنی اولاد کو وصیت کرکے مرتی رہی کہ دیکھنا اپنے بتوں کو ہر گز نہ چھوڑنا اور نوح علیہ السلام کی بات مت ماننا۔ (سورۂ نوح) اس کے باوجود نوح علیہ السلام پُر امید رہ کر نہایت استقامت کے ساتھ انھیں دعوتِ توحید دیتے رہے، مگر جب اللہ تعالیٰ نے انھیں یہ اطلاع دی کہ اب آئندہ آپ کی قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا تو انھوں نے ان پر عذاب کے لیے بددعا کی۔ جس کا ذکر سورۂ قمر (۱۰) میں ہے، فرمایا: «{ اَنِّيْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ }» ”بے شک میں مغلوب ہوں سو تو بدلہ لے۔“ اور سورۂ نوح میں ان کی دعا کے الفاظ ہیں: «{ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا }» ”اے میرے رب! زمین پر ان کافروں میں سے کوئی رہنے والا نہ چھوڑ۔“ آیت (۲۶) سے آخر سورت تک ملاحظہ فرمائیں۔
وَ اصۡنَعِ الۡفُلۡکَ بِاَعۡیُنِنَا وَ وَحۡیِنَا وَ لَا تُخَاطِبۡنِیۡ فِی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ۚ اِنَّہُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴿۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کر دو اور دیکھو، جن لوگوں نے ظلم کیا ہے اُن کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اورایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے تیار کر اور ﻇالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات چیت نہ کر وه پانی میں ڈبو دیئے جانے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور کشتی بناؤ ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرنا وہ ضرور ڈوبائے جائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہماری نگرانی اور ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بناؤ۔ اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے کوئی بات (سفارش) نہ کرنا (کیونکہ) یقینا یہ سب لوگ غرق ہو جانے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بنا اور مجھ سے ان کے بارے میں بات نہ کرنا جنھوں نے ظلم کیا، یقینا وہ غرق کیے جانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم نوح کا مانگا ہوا عذاب اسے ملا ٭٭

قوم نوح نے جب عذابوں کی مانگ جلدی مچائی تو آپ نے اللہ سے دعا کی «وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» ۱؎ [71-نوح:26] ‏‏‏‏ ’ الٰہی زمین پر کسی کافر کو رہتا بستا نہ چھوڑ ‘۔ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ» ۱؎ [54-القمر:10] ‏‏‏‏ ’ پرودرگار میں عاجز آ گیا ہوں، تو میری مدد کر ‘۔ اسی وقت وحی آئی کہ ’ جو ایمان لا چکے ہیں ان کے سوا اور کوئی اب ایمان نہ لائے گا تو ان پر افسوس نہ کر نہ ان کا کوئی ایسا خاص خیال کر۔ ہمارے دیکھتے ہی ہماری تعلیم کے مطابق ایک کشتی تیار کر اور اب ظالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات چیت نہ کر، ہم ان کا ڈبو دینا مقرر کر چکے ہیں ‘۔ بعض سلف کہتے ہیں حکم ہوا کہ لکڑیاں کاٹ کر سکھا کر تختے بنا لو۔ اس میں ایک سو سال گزر گئے پھر مکمل تیاری میں سو سال اور نکل گئے ایک قول ہے چالیس سال لگے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ امام محمد بن اسحٰق رحمہ اللہ توراۃ سے نقل کرتے ہیں کہ ساگ کی لکڑی کی یہ کشتی تیار ہوئی اس کا طول اسی (‏‏‏‏۸۰) ہاتھ تھا اور عرض پچاس (‏‏‏‏۵۰) ہاتھ کا تھا۔ اندر باہر سے روغن کیا گیا تھا پانی کاٹنے کے پر پرزے بھی تھے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ لمبائی تین سو ہاتھ کی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ”طول بارہ سو ہاتھ کا تھا اور چوڑائی چھ سو ہاتھ کی تھی۔‏‏‏‏“ کہا گیا ہے کہ طول دوہزار ہاتھ اور چوڑائی ایک سو ہاتھ کی تھی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اس کی اندرونی اونچائی تیس ہاتھ کی تھی اس میں تین درجے تھے ہر درجہ دس ہاتھ اونچا تھا۔ سب سے نیچے کے حصے میں چوپائے اور جنگلی جانور تھے۔ درمیان کے حصے میں انسان تھے اور اوپر کے حصے میں پرندے تھے۔ ان میں چھوٹا دروازہ تھا، اوپر سے بالکل بند تھی۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے ایک غریب اثر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا ہے کہ ”حواریوں نے عیسیٰ بن مریم سے درخواست کی کہ اگر آپ بحکم الٰہی کسی ایسے مردہ کو جلاتے جس نے کشتی نوح علیہ السلام دیکھی ہو تو ہمیں اسے معلومات ہوتیں آپ علیہ السلام انہیں لے کر ایک ٹیلے پر پہنچ کر وہاں کی مٹی اٹھائی اور فرمایا ”جانتے ہو یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا کہ ”اللہ اور اس کے رسول علیہ السلام کو ہی علم ہے۔‏‏‏‏“

آپ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ پنڈلی ہے حام بن نوح علیہ السلام کی“، پھر آپ علیہ السلام نے ایک لکڑی اس ٹیلے پر مار کر فرمایا ”اللہ کے حکم سے اٹھ کھڑا ہو۔‏‏‏‏“ اسی وقت ایک بوڑھا سا آدمی اپنے سر سے مٹی جھاڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ آپ علیہ السلام نے اس سے پوچھا ”کیا تو بڑھاپے میں مرا تھا؟“ اس نے کہا نہیں مرا تو تھا جوانی میں لیکن اب دل پر دہشت بیٹھی کہ قیامت قائم ہوگئی اس دہشت نے بوڑھا کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”اچھا نوح علیہ السلام کی کشتی کی بابت اپنی معلومات بیان کرو۔ اس نے کہا وہ بارہ سو ہاتھ لمبی اور چھ سو ہاتھ چوڑی تھی تین درجوں کی تھی۔ ایک میں جانور اور چوپائے تھے، دوسرے میں انسان، تیسرے میں پرند، جب جانوروں کا گوبر پھیل گیا تو اللہ تعالیٰ نے نوح کی طرف وحی بھیجی کہ ہاتھی کی دم ہلاؤ۔ آپ کے ہلاتے ہی اس سے خنزیر نر مادہ نکل آئے اور وہ میل کھانے لگے۔ چوہوں نے جب اس کے تختے کترنے شروع کئے تو حکم ہوا کہ شیر کی پیشانی پر انگلی لگا۔ اس سے بلی کا جوڑا نکلا اور چوہوں کی طرف لپکا۔ عیسیٰ علیہ السلام نے سوال کیا کہ ”نوح علیہ السلام کو شہروں کے غرقاب ہونے کا علم کیسے ہوگیا؟“

آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”انہوں نے کوے کو خبر لینے کے لیے بھیجا لیکن وہ ایک لاش پر بیٹھ گیا، دیر تک وہ واپس نہ آیا تو آپ علیہ السلام نے اس کے لیے ہمیشہ ڈرتے رہنے کی بد دعا کی۔ اسی لیے وہ گھروں سے مانوس نہیں ہوتا۔ پھر آپ علیہ السلام نے کبوتر کو بھیجا وہ اپنی چونچ میں زیتون کے درخت کا پتہ لے کر آیا اور اپنے پنجوں میں خشک مٹی لایا اس سے معلوم ہو گیا کہ شہر ڈوب چکے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے اس کی گردن میں خصرہ کا طوق ڈال دیا اور اس کے لیے امن و انس کی دعا کی پس وہ گھروں میں رہتا سہتا ہے۔ حواریوں نے کہا ”اے رسول علیہ السلام! واللہ! آپ انہیں ہمارے ہاں لے چلئے کہ ہم میں بیٹھ کر اور بھی باتیں ہمیں سنائیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ تمہارے ساتھ کیسے آسکتا ہے جب کہ اس کی روزی نہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ”اللہ کے حکم سے جیسا تھا ویسا ہی ہو جا“، وہ اسی وقت مٹی ہو گیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:18151:ضعیف] ‏‏‏‏ نوح علیہ السلام تو کشتی بنانے میں لگے اور کافروں کو ایک مذاق ہاتھ لگ گیا وہ چلتے پھرتے انہیں چھیڑتے اور باتیں بناتے اور طعنہ دیتے کیونکہ انہیں جھوٹا جانتے تھے اور عذاب کے وعدے پر انہیں یقین نہ تھا۔ اس کے جواب میں نوح علیہ السلام فرماتے ”اچھا دل خوش کر لو وقت آ رہا ہے کہ اس کا پورا بدلہ لے لیا جائے۔ ابھی جان لو گے کہ کون اللہ کے عذاب سے دنیا میں رسوا ہوتا ہے اور کس پر اخروی عذاب آچمٹتا ہے جو کبھی ٹالے نہ ٹلے۔‏‏‏‏“
37۔ 1 یعنی ہماری آنکھوں کے سامنے ' اور ' ہماری دیکھ بھال میں ' اس آیت میں اللہ رب العزت کے لئے صفت ' عین ' کا اثبات ہے جس پر ایمان رکھنا ضروری ہے اور ' ہماری وحی سے ' کا مطلب، اس کے طول و عرض وغیرہ کی جو کیفیات ہم نے بتلائی ہیں، اس طرح اسے بنا۔ اس مقام پر بعض مفسرین نے کشتی کے طول و عرض، اس کی منزلوں اور کس قسم کی لکڑی اور دیگر سامان اس میں استعمال کیا گیا، اس کی تفصیل بیان کی ہے، جو ظاہر بات ہے کہ کسی مستند ماخذ پر مبنی نہیں ہے۔ اس کی پوری تفصیل کا صحیح علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ 37۔ 2 بعض نے اس سے مراد حضرت نوح ؑ کے بیٹے اور اہلیہ کو لیا ہے جو مومن نہیں تھے اور غرق ہونے والوں میں سے تھے۔ بعض نے اس سے غرق ہونے والی پوری قوم مراد لی ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان کے لئے کوئی مہلت طلب مت کرنا کیونکہ اب ان کے ہلاک ہونے کا وقت آگیا ہے یا یہ مطلب ہے کہ ان کی ہلاکت کے لئے جلدی نہ کریں، وقت مقرر میں یہ سب غرق ہوجائیں گے، (فتح القدیر)۔
(آیت 37) ➊ {وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا:} نوح علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے کفار پر عذاب کے وعدے کے ساتھ نوح علیہ السلام کو دو باتوں کی تاکید فرمائی، پہلی تو یہ کہ پانی کے طوفان سے بچنے کے لیے ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق ایک بحری جہاز بناؤ۔ یاد رہے کہ{” الْفُلْكَ “} کا لفظ بڑی کشتی (بحری جہاز) کے لیے استعمال ہوتا ہے اور واحد و جمع اور مذکر و مؤنث سبھی کے لیے ایک ہی لفظ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں اور اس کی ہدایت کے مطابق بننے والی کشتی کتنی شان دار ہو گی، اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ بعض لوگوں نے اس کی لمبائی، چوڑائی اور اونچائی بیان کی ہے، مگر ان تمام باتوں کی کوئی پختہ دلیل نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ جب تم نے خود ہی دعا کی ہے کہ یا اللہ! زمین پر رہنے والا ایک کافر بھی باقی نہ چھوڑ، تو اب عذاب آنے پر ظلم کرنے والوں (مشرکوں) کے بارے میں مجھ سے کوئی بات (سفارش) مت کرنا، کیونکہ ان کے غرق کیے جانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ ➋ { بِاَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا:} معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے آنکھوں کا لفظ استعمال ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے اس کی آنکھیں بھی ہیں۔ دوسری جگہ موسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «{ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَيْنِيْ }» [ طٰہٰ: ۳۹ ] ”اور تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے۔“ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے لیے آنکھیں ہونے سے انکار کرتے ہیں، ان کے خیال میں اللہ تعالیٰ کی آنکھیں ماننے سے مخلوق کے ساتھ تشبیہ لازم آتی ہے، یعنی وہ ہمارے جیسا بن جاتا ہے، کیونکہ ہماری بھی آنکھیں ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ کی مثل کوئی چیز نہیں۔ ان حضرات نے اسی بہانے سے اللہ تعالیٰ کی بے شمار صفات کا انکار کر دیا اور کئی ایک کی تاویل کر دی، مثلاً اللہ تعالیٰ کے چہرے، ہاتھ، پنڈلی، کان اور آنکھ کا، اس کے اترنے، چڑھنے، سننے، بولنے، دیکھنے، خوش ہونے اور ناراض ہونے کا انکار کر دیا، یا اپنے پاس سے کوئی اور مطلب بیان کر دیا، یا کہا کہ ہمیں معلوم ہی نہیں اس کا معنی کیا ہے۔ ان بے چاروں نے غور نہیں کیا کہ جب آپ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے لیے {”عَيْنٌ“} کا لفظ بول رہے ہیں تو اردو میں آنکھ کہنے سے آپ کو کیا پریشانی ہے۔ بعض حضرات نے اس کا ترجمہ کیا ”ہماری نگرانی میں کشتی بنا۔“ چلیے یہ بھی درست ہے، مگر اس کے لیے آنکھوں کے انکار کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ نگرانی بھی آنکھوں کے ساتھ ہی تھی۔ {” بِاَعْيُنِنَا “} کا ترجمہ نگرانی کریں، پھر بھی مشابہت والا اعتراض ختم نہیں ہوتا، کیونکہ انسان نگرانی بھی کرتا ہے، یہ بھی مشابہت ہو گئی۔ ان کو چاہیے تھا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اس پر ایمان رکھتے اور اس مشکل کا حل جو اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے، اس کو تسلیم کرتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے: «{ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ }» [ الشوریٰ: ۱۱ ] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں“ کے باوجود وہ سنتا بھی ہے، دیکھتا بھی، سمع و بصر بھی رکھتا ہے، مگر اس کا سننا، دیکھنا، ہنسنا، غصے ہونا، اترنا، چڑھنا، بولنا، اس کے کان، آنکھیں اور پنڈلی سب کچھ ہونے کے باوجود کوئی چیز مخلوق جیسی نہیں۔ اگر ہم اس حد تک چلے جائیں کہ مخلوق پر بولا جانے والا کوئی لفظ اللہ تعالیٰ پر بولا جا ہی نہیں سکتا، تو پھر ہم اپنے اللہ تعالیٰ ہی کو گم کر بیٹھیں گے۔ کیونکہ ہم زندہ ہیں، موجود ہیں، علم رکھتے ہیں، اب اللہ تعالیٰ کے حق میں اس کا انکار کرکے دیکھو تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ موجود ہی نہیں۔ ایسے خبیث عقیدے سے اللہ کی پناہ۔ یقینا ہم زندہ و موجود ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی زندہ و موجود ہے، مگر ہماری زندگی اور وجود اللہ تعالیٰ کی زندگی اور وجود سے کوئی مشابہت نہیں رکھتے۔ اس کی زندگی اور وجود اس کی شان کے لائق ہے، جو ازلی، ابدی اور لامحدود ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں اور ہمارا وجود اور زندگی فانی، محدود اور اللہ کے محتاج ہیں۔ یہ لوگ عجیب باتیں کرتے ہیں، کبھی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نہ اوپر ہے نہ نیچے، نہ عرش پر ہے نہ آسمان دنیا پر اترتا ہے اور نہ قیامت کے دن آئے گا، تو پھر وہ کہاں ہے؟ کہتے ہیں، یہ پوچھنا ہی منع ہے، وہ نہ مکان میں ہے نہ لا مکان میں۔ پھر کبھی کہتے ہیں، وہ ہر جگہ ہے، کبھی کہتے ہیں، کہیں بھی نہیں۔ اللہ کے بندو! جو کچھ تعارف اللہ تعالیٰ نے اپنا خود کروایا ہے وہ ہر صورت مانو، مگر یہ کہو کہ اس کی آنکھیں، کان، چہرہ، اترنا اور چڑھنا وغیرہ سب کچھ ہے مگر مخلوق میں سے کسی کی طرح نہیں، بلکہ وہ اسی طرح ہے جیسے اس کی شان کے لائق ہیں۔ دراصل یہ لوگ اللہ کی صفات پر ایمان لانے سے اس لیے محروم ہوئے کہ انھوں نے اس کے چہرے، آنکھوں، ہاتھوں اور سننے و دیکھنے وغیرہ کو اپنے جیسا سمجھا، اس لیے انکار کر دیا۔ اگر وہ اس حقیقت کو سمجھ لیتے اور اس پر ایمان رکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق جو جو الفاظ بولے ہیں، سب حق ہیں، مگر مخلوق میں سے کسی کے مشابہ نہیں تو وہ ایمان سے ہاتھ نہ دھوتے۔ ➌ {وَ لَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا …: ” الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا “} سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ شرک سے بڑی ناانصافی کوئی نہیں۔ نوح علیہ السلام کی بیوی اور ایک بیٹا مشرک تھے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی ان کے حق میں کسی بھی قسم کی بات کرنے سے منع فرما دیا، کیونکہ مشرک کی نجات کی کوئی صورت نہیں۔
وَ یَصۡنَعُ الۡفُلۡکَ ۟ وَ کُلَّمَا مَرَّ عَلَیۡہِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِہٖ سَخِرُوۡا مِنۡہُ ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡکُمۡ کَمَا تَسۡخَرُوۡنَ ﴿ؕ۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نوحؑ کشتی بنا رہا تھا اور اس کی قوم کے سرداروں میں سے جو کوئی اس کے پاس سے گزرتا تھا وہ اس کا مذاق اڑاتا تھا اس نے کہا "اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
وه (نوح) کشتی بنانے لگے ان کی قوم کے جو سردار ان کے پاس سے گزرتے وه ان کا مذاق اڑاتے، وه کہتے اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو ہم بھی تم پر ایک دن ہنسیں گے جیسے تم ہم پر ہنستے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور نوح کشتی بناتا ہے اور جب اس کی قوم کے سردار اس پر گزرتے اس پر ہنستے بولا اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ایک وقت ہم تم پر ہنسیں گے جیسا تم ہنستے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
چنانچہ نوح(ع) کشتی بنانے لگے اور جب بھی ان کی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو وہ ان کا مذاق اڑاتے وہ (نوح) کہتے اگر (آج) تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو (کل کلاں) ہم بھی تمہارا اسی طرح مذاق اڑائیں گے جس طرح تم اڑا رہے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ کشتی بناتا رہا اور جب کبھی اس کے پاس سے اس کی قوم کے کوئی سردار گزرتے اس سے مذاق کرتے۔ وہ کہتا اگر تم ہم سے مذاق کرتے ہو تو یقینا ہم تم سے مذاق کرتے ہیں، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم نوح کا مانگا ہوا عذاب اسے ملا ٭٭

قوم نوح نے جب عذابوں کی مانگ جلدی مچائی تو آپ نے اللہ سے دعا کی «وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» ۱؎ [71-نوح:26] ‏‏‏‏ ’ الٰہی زمین پر کسی کافر کو رہتا بستا نہ چھوڑ ‘۔ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ» ۱؎ [54-القمر:10] ‏‏‏‏ ’ پرودرگار میں عاجز آ گیا ہوں، تو میری مدد کر ‘۔ اسی وقت وحی آئی کہ ’ جو ایمان لا چکے ہیں ان کے سوا اور کوئی اب ایمان نہ لائے گا تو ان پر افسوس نہ کر نہ ان کا کوئی ایسا خاص خیال کر۔ ہمارے دیکھتے ہی ہماری تعلیم کے مطابق ایک کشتی تیار کر اور اب ظالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات چیت نہ کر، ہم ان کا ڈبو دینا مقرر کر چکے ہیں ‘۔ بعض سلف کہتے ہیں حکم ہوا کہ لکڑیاں کاٹ کر سکھا کر تختے بنا لو۔ اس میں ایک سو سال گزر گئے پھر مکمل تیاری میں سو سال اور نکل گئے ایک قول ہے چالیس سال لگے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ امام محمد بن اسحٰق رحمہ اللہ توراۃ سے نقل کرتے ہیں کہ ساگ کی لکڑی کی یہ کشتی تیار ہوئی اس کا طول اسی (‏‏‏‏۸۰) ہاتھ تھا اور عرض پچاس (‏‏‏‏۵۰) ہاتھ کا تھا۔ اندر باہر سے روغن کیا گیا تھا پانی کاٹنے کے پر پرزے بھی تھے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ لمبائی تین سو ہاتھ کی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ”طول بارہ سو ہاتھ کا تھا اور چوڑائی چھ سو ہاتھ کی تھی۔‏‏‏‏“ کہا گیا ہے کہ طول دوہزار ہاتھ اور چوڑائی ایک سو ہاتھ کی تھی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اس کی اندرونی اونچائی تیس ہاتھ کی تھی اس میں تین درجے تھے ہر درجہ دس ہاتھ اونچا تھا۔ سب سے نیچے کے حصے میں چوپائے اور جنگلی جانور تھے۔ درمیان کے حصے میں انسان تھے اور اوپر کے حصے میں پرندے تھے۔ ان میں چھوٹا دروازہ تھا، اوپر سے بالکل بند تھی۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے ایک غریب اثر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا ہے کہ ”حواریوں نے عیسیٰ بن مریم سے درخواست کی کہ اگر آپ بحکم الٰہی کسی ایسے مردہ کو جلاتے جس نے کشتی نوح علیہ السلام دیکھی ہو تو ہمیں اسے معلومات ہوتیں آپ علیہ السلام انہیں لے کر ایک ٹیلے پر پہنچ کر وہاں کی مٹی اٹھائی اور فرمایا ”جانتے ہو یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا کہ ”اللہ اور اس کے رسول علیہ السلام کو ہی علم ہے۔‏‏‏‏“

آپ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ پنڈلی ہے حام بن نوح علیہ السلام کی“، پھر آپ علیہ السلام نے ایک لکڑی اس ٹیلے پر مار کر فرمایا ”اللہ کے حکم سے اٹھ کھڑا ہو۔‏‏‏‏“ اسی وقت ایک بوڑھا سا آدمی اپنے سر سے مٹی جھاڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ آپ علیہ السلام نے اس سے پوچھا ”کیا تو بڑھاپے میں مرا تھا؟“ اس نے کہا نہیں مرا تو تھا جوانی میں لیکن اب دل پر دہشت بیٹھی کہ قیامت قائم ہوگئی اس دہشت نے بوڑھا کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”اچھا نوح علیہ السلام کی کشتی کی بابت اپنی معلومات بیان کرو۔ اس نے کہا وہ بارہ سو ہاتھ لمبی اور چھ سو ہاتھ چوڑی تھی تین درجوں کی تھی۔ ایک میں جانور اور چوپائے تھے، دوسرے میں انسان، تیسرے میں پرند، جب جانوروں کا گوبر پھیل گیا تو اللہ تعالیٰ نے نوح کی طرف وحی بھیجی کہ ہاتھی کی دم ہلاؤ۔ آپ کے ہلاتے ہی اس سے خنزیر نر مادہ نکل آئے اور وہ میل کھانے لگے۔ چوہوں نے جب اس کے تختے کترنے شروع کئے تو حکم ہوا کہ شیر کی پیشانی پر انگلی لگا۔ اس سے بلی کا جوڑا نکلا اور چوہوں کی طرف لپکا۔ عیسیٰ علیہ السلام نے سوال کیا کہ ”نوح علیہ السلام کو شہروں کے غرقاب ہونے کا علم کیسے ہوگیا؟“

آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”انہوں نے کوے کو خبر لینے کے لیے بھیجا لیکن وہ ایک لاش پر بیٹھ گیا، دیر تک وہ واپس نہ آیا تو آپ علیہ السلام نے اس کے لیے ہمیشہ ڈرتے رہنے کی بد دعا کی۔ اسی لیے وہ گھروں سے مانوس نہیں ہوتا۔ پھر آپ علیہ السلام نے کبوتر کو بھیجا وہ اپنی چونچ میں زیتون کے درخت کا پتہ لے کر آیا اور اپنے پنجوں میں خشک مٹی لایا اس سے معلوم ہو گیا کہ شہر ڈوب چکے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے اس کی گردن میں خصرہ کا طوق ڈال دیا اور اس کے لیے امن و انس کی دعا کی پس وہ گھروں میں رہتا سہتا ہے۔ حواریوں نے کہا ”اے رسول علیہ السلام! واللہ! آپ انہیں ہمارے ہاں لے چلئے کہ ہم میں بیٹھ کر اور بھی باتیں ہمیں سنائیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ تمہارے ساتھ کیسے آسکتا ہے جب کہ اس کی روزی نہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ”اللہ کے حکم سے جیسا تھا ویسا ہی ہو جا“، وہ اسی وقت مٹی ہو گیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:18151:ضعیف] ‏‏‏‏ نوح علیہ السلام تو کشتی بنانے میں لگے اور کافروں کو ایک مذاق ہاتھ لگ گیا وہ چلتے پھرتے انہیں چھیڑتے اور باتیں بناتے اور طعنہ دیتے کیونکہ انہیں جھوٹا جانتے تھے اور عذاب کے وعدے پر انہیں یقین نہ تھا۔ اس کے جواب میں نوح علیہ السلام فرماتے ”اچھا دل خوش کر لو وقت آ رہا ہے کہ اس کا پورا بدلہ لے لیا جائے۔ ابھی جان لو گے کہ کون اللہ کے عذاب سے دنیا میں رسوا ہوتا ہے اور کس پر اخروی عذاب آچمٹتا ہے جو کبھی ٹالے نہ ٹلے۔‏‏‏‏“
38۔ 1 مثلا کہتے، نوح! نبی بنتے بنتے اب بڑھئی بن گئے ہو؟ یا اے نوح! خشکی میں کشتی کس لئے تیار کر رہے ہو؟
(آیت 38) ➊ { وَ يَصْنَعُ الْفُلْكَ:} ماضی کے ایک واقعہ کو مضارع کے صیغے سے بیان فرمایا۔ اس سے ان کا مسلسل کئی دنوں تک اس بڑی کشتی کو بناتے رہنا ثابت ہوتا ہے، جیساکہ{”كَانَ“ } کا صیغہ جو ماضی ہے، مضارع پر آ جائے تو اس سے مراد ماضی میں استمرار ہوتا ہے، اس لیے ترجمہ کیا ہے ”اور وہ کشتی بناتا رہا۔“ بعض اہل علم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مضارع کا لفظ حکایت حال، یعنی وہ نقشہ سامنے لانے کے لیے استعمال فرمایا، گویا ہم دیکھ رہے ہیں کہ نوح علیہ السلام کشتی بنا رہے ہیں اور قوم کے لوگ انھیں مذاق کر رہے ہیں، یہ معنی بھی جید ہے۔ ➋ { وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ …: } وہ اس پر مذاق کرتے کہ بڑے میاں ترکھان کب سے بن گئے اور اب اس حد تک دماغ میں خلل آ گیا کہ خشک زمین پر پانی میں غرق ہونے سے بچاؤ کا بندوبست کر رہے ہیں۔ نوح علیہ السلام اس پر ہنستے کہ یہ لوگ بجائے اس کے کہ ایمان اور اطاعت کے ذریعے سے عذاب الٰہی سے بچاؤ حاصل کریں، الٹا کفر اور نافرمانی پر اصرار کرکے اور اللہ کے نشانات کا مذاق اڑا کر عذاب کو دعوت دے رہے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نوح علیہ السلام نے فرمایا ہو کہ جیسے تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو، وہ وقت بالکل قریب ہے جب تم غوطے کھا رہے ہو گے اور ہم تمھارا مذاق اڑائیں گے، جیسا کہ تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یہ (نوح علیہ السلام) ہنستے اس پر کہ موت سر پر کھڑی ہے اور یہ ہنستے ہیں۔“ (موضح)
فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ۙ مَنۡ یَّاۡتِیۡہِ عَذَابٌ یُّخۡزِیۡہِ وَ یَحِلُّ عَلَیۡہِ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ ﴿۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
عنقریب تمہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اُسے رسوا کر دے گا اور کس پر وہ بلا ٹوٹ پڑتی ہے جو ٹالے نہ ٹلے گی"
مولانا محمد جوناگڑھی
تمیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے اور اس پر ہمیشگی کی سزا اتر آئے
احمد رضا خان بریلوی
تو اب جان جاؤ گے کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے اور اترتا ہے وہ عذاب جو ہمیشہ رہے
علامہ محمد حسین نجفی
عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا اور کس پر دائمی عذاب نازل ہوتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پس تم جلد ہی جان لوگے کہ وہ کون ہے جس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا اور کس پر دائمی عذاب اترتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم نوح کا مانگا ہوا عذاب اسے ملا ٭٭

قوم نوح نے جب عذابوں کی مانگ جلدی مچائی تو آپ نے اللہ سے دعا کی «وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» ۱؎ [71-نوح:26] ‏‏‏‏ ’ الٰہی زمین پر کسی کافر کو رہتا بستا نہ چھوڑ ‘۔ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ» ۱؎ [54-القمر:10] ‏‏‏‏ ’ پرودرگار میں عاجز آ گیا ہوں، تو میری مدد کر ‘۔ اسی وقت وحی آئی کہ ’ جو ایمان لا چکے ہیں ان کے سوا اور کوئی اب ایمان نہ لائے گا تو ان پر افسوس نہ کر نہ ان کا کوئی ایسا خاص خیال کر۔ ہمارے دیکھتے ہی ہماری تعلیم کے مطابق ایک کشتی تیار کر اور اب ظالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات چیت نہ کر، ہم ان کا ڈبو دینا مقرر کر چکے ہیں ‘۔ بعض سلف کہتے ہیں حکم ہوا کہ لکڑیاں کاٹ کر سکھا کر تختے بنا لو۔ اس میں ایک سو سال گزر گئے پھر مکمل تیاری میں سو سال اور نکل گئے ایک قول ہے چالیس سال لگے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ امام محمد بن اسحٰق رحمہ اللہ توراۃ سے نقل کرتے ہیں کہ ساگ کی لکڑی کی یہ کشتی تیار ہوئی اس کا طول اسی (‏‏‏‏۸۰) ہاتھ تھا اور عرض پچاس (‏‏‏‏۵۰) ہاتھ کا تھا۔ اندر باہر سے روغن کیا گیا تھا پانی کاٹنے کے پر پرزے بھی تھے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ لمبائی تین سو ہاتھ کی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ”طول بارہ سو ہاتھ کا تھا اور چوڑائی چھ سو ہاتھ کی تھی۔‏‏‏‏“ کہا گیا ہے کہ طول دوہزار ہاتھ اور چوڑائی ایک سو ہاتھ کی تھی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اس کی اندرونی اونچائی تیس ہاتھ کی تھی اس میں تین درجے تھے ہر درجہ دس ہاتھ اونچا تھا۔ سب سے نیچے کے حصے میں چوپائے اور جنگلی جانور تھے۔ درمیان کے حصے میں انسان تھے اور اوپر کے حصے میں پرندے تھے۔ ان میں چھوٹا دروازہ تھا، اوپر سے بالکل بند تھی۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے ایک غریب اثر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا ہے کہ ”حواریوں نے عیسیٰ بن مریم سے درخواست کی کہ اگر آپ بحکم الٰہی کسی ایسے مردہ کو جلاتے جس نے کشتی نوح علیہ السلام دیکھی ہو تو ہمیں اسے معلومات ہوتیں آپ علیہ السلام انہیں لے کر ایک ٹیلے پر پہنچ کر وہاں کی مٹی اٹھائی اور فرمایا ”جانتے ہو یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا کہ ”اللہ اور اس کے رسول علیہ السلام کو ہی علم ہے۔‏‏‏‏“

آپ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ پنڈلی ہے حام بن نوح علیہ السلام کی“، پھر آپ علیہ السلام نے ایک لکڑی اس ٹیلے پر مار کر فرمایا ”اللہ کے حکم سے اٹھ کھڑا ہو۔‏‏‏‏“ اسی وقت ایک بوڑھا سا آدمی اپنے سر سے مٹی جھاڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ آپ علیہ السلام نے اس سے پوچھا ”کیا تو بڑھاپے میں مرا تھا؟“ اس نے کہا نہیں مرا تو تھا جوانی میں لیکن اب دل پر دہشت بیٹھی کہ قیامت قائم ہوگئی اس دہشت نے بوڑھا کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”اچھا نوح علیہ السلام کی کشتی کی بابت اپنی معلومات بیان کرو۔ اس نے کہا وہ بارہ سو ہاتھ لمبی اور چھ سو ہاتھ چوڑی تھی تین درجوں کی تھی۔ ایک میں جانور اور چوپائے تھے، دوسرے میں انسان، تیسرے میں پرند، جب جانوروں کا گوبر پھیل گیا تو اللہ تعالیٰ نے نوح کی طرف وحی بھیجی کہ ہاتھی کی دم ہلاؤ۔ آپ کے ہلاتے ہی اس سے خنزیر نر مادہ نکل آئے اور وہ میل کھانے لگے۔ چوہوں نے جب اس کے تختے کترنے شروع کئے تو حکم ہوا کہ شیر کی پیشانی پر انگلی لگا۔ اس سے بلی کا جوڑا نکلا اور چوہوں کی طرف لپکا۔ عیسیٰ علیہ السلام نے سوال کیا کہ ”نوح علیہ السلام کو شہروں کے غرقاب ہونے کا علم کیسے ہوگیا؟“

آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”انہوں نے کوے کو خبر لینے کے لیے بھیجا لیکن وہ ایک لاش پر بیٹھ گیا، دیر تک وہ واپس نہ آیا تو آپ علیہ السلام نے اس کے لیے ہمیشہ ڈرتے رہنے کی بد دعا کی۔ اسی لیے وہ گھروں سے مانوس نہیں ہوتا۔ پھر آپ علیہ السلام نے کبوتر کو بھیجا وہ اپنی چونچ میں زیتون کے درخت کا پتہ لے کر آیا اور اپنے پنجوں میں خشک مٹی لایا اس سے معلوم ہو گیا کہ شہر ڈوب چکے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے اس کی گردن میں خصرہ کا طوق ڈال دیا اور اس کے لیے امن و انس کی دعا کی پس وہ گھروں میں رہتا سہتا ہے۔ حواریوں نے کہا ”اے رسول علیہ السلام! واللہ! آپ انہیں ہمارے ہاں لے چلئے کہ ہم میں بیٹھ کر اور بھی باتیں ہمیں سنائیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ تمہارے ساتھ کیسے آسکتا ہے جب کہ اس کی روزی نہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ”اللہ کے حکم سے جیسا تھا ویسا ہی ہو جا“، وہ اسی وقت مٹی ہو گیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:18151:ضعیف] ‏‏‏‏ نوح علیہ السلام تو کشتی بنانے میں لگے اور کافروں کو ایک مذاق ہاتھ لگ گیا وہ چلتے پھرتے انہیں چھیڑتے اور باتیں بناتے اور طعنہ دیتے کیونکہ انہیں جھوٹا جانتے تھے اور عذاب کے وعدے پر انہیں یقین نہ تھا۔ اس کے جواب میں نوح علیہ السلام فرماتے ”اچھا دل خوش کر لو وقت آ رہا ہے کہ اس کا پورا بدلہ لے لیا جائے۔ ابھی جان لو گے کہ کون اللہ کے عذاب سے دنیا میں رسوا ہوتا ہے اور کس پر اخروی عذاب آچمٹتا ہے جو کبھی ٹالے نہ ٹلے۔‏‏‏‏“
39۔ 1 اس سے مراد جہنم کا دائمی عذاب ہے، جو اس دنیوی عذاب کے بعد ان کے لئے تیار ہے۔
(آیت 39){عَذَابٌ مُّقِيْمٌ:} یعنی آخرت میں جہنم کا عذاب جو ہمیشہ رہنے والا ہے۔
حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوۡرُ ۙ قُلۡنَا احۡمِلۡ فِیۡہَا مِنۡ کُلٍّ زَوۡجَیۡنِ اثۡنَیۡنِ وَ اَہۡلَکَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَیۡہِ الۡقَوۡلُ وَ مَنۡ اٰمَنَ ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَہٗۤ اِلَّا قَلِیۡلٌ ﴿۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنو ر ابل پڑا تو ہم نے کہا "ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو، اپنے گھر والوں کو بھی سوائے اُن اشخاص کے جن کی نشان دہی پہلے کی جا چکی ہے اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں" اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوحؑ کے ساتھ ایمان لائے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور ابلنے لگا ہم نے کہا کہ اس کشتی میں ہر قسم کے (جانداروں میں سے) جوڑے (یعنی) دو (جانور، ایک نر اور ایک ماده) سوار کرا لے اور اپنے گھر کے لوگوں کو بھی، سوائے ان کے جن پر پہلے سے بات پڑ چکی ہے اور سب ایمان والوں کو بھی، اس کے ساتھ ایمان ﻻنے والے بہت ہی کم تھے
احمد رضا خان بریلوی
یہاں تک کہ کہ جب ہمارا حکم آیا اور تنور اُبلا ہم نے فرمایا کشتی میں سوار کرلے ہر جنس میں سے ایک جوڑا نر و مادہ اور جن پر بات پڑچکی ہے ان کے سوا اپنے گھر والوں اور باقی مسلمانوں کو اور اس کے ساتھ مسلمان نہ تھے مگر تھوڑے
علامہ محمد حسین نجفی
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا۔ اور تنور نے جوش مارا (ابل پڑا) تو ہم نے (نوح(ع) سے) کہا کہ ہر قسم کے جوڑوں میں سے دو دو (نر و مادہ) کو اس (کشتی) میں سوار کر لو۔ اور اپنے گھر والوں کو بھی بجز ان کے جن کی (ہلاکت کی) بات پہلے طئے ہو چکی ہے نیز ان کو بھی (سوار کر لو) جو ایمان لا چکے ہیں اور بہت ہی تھوڑے لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آ گیا اور تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا اس میں ہر چیز میں سے دو قسمیں (نر و مادہ) دونوں کو اور اپنے گھر والوں کو سوار کر لے، سوائے اس کے جس پر پہلے بات ہوچکی اور ان کو بھی جو ایمان لے آئے اور اس کے ہمراہ تھوڑے سے لوگوں کے سوا کوئی ایمان نہیں لایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم نوح پر عذاب الٰہی کا نزول ٭٭

حسب فرمان ربی «فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَىٰ أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ» ۱؎ [54-القمر:14-11] ‏‏‏‏ ’ آسمان سے موسلا دھار لگاتار بارش برسنے لگی اور زمین سے بھی پانی ابلنے لگا اور ساری زمین پانی سے بھر گئی اور جہاں تک منظور رب تھا پانی بھر گیا اور نوح علیہ السلام کو رب العالمین نے اپنی نگاہوں کے سامنے چلنے والی کشتی پر سوار کر دیا۔ اور کافروں کو ان کے کیفر کردار کو پہنچا دیا ‘۔ تنور کے ابلنے سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ مطلب ہے کہ ”روئے زمین سے چشمے پھوٹ پڑے یہاں تک کہ آگ کی جگہ تنور میں سے بھی پانی ابل پڑا۔‏‏‏‏“ یہی قول جمہور سلف و خلف ہے کا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”تنور صبح کا نکلنا اور فجر کا روشن ہونا ہے“، یعنی صبح کی روشنی اور فجر کی چمک لیکن زیادہ غالب پہلا قول ہے۔ مجاہد اور شعبی رحمہ اللہ علیہما کہتے ہیں یہ تنور کوفے میں تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ”ہند میں ایک نہر ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جزیرہ میں ایک نہر ہے جسے «عین الوردہ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ لیکن یہ سب اقوال غریب ہیں۔ الغرض ان علامتوں کے ظاہر ہوتے ہی نوح علیہ السلام کو اللہ کا حکم ہوا کہ اپنے ساتھ کشتی میں جاندار مخلوق میں سے ہر قسم کا ایک ایک جوڑا نر مادہ سوار کر لو۔ کہا گیا ہے کہ غیر جاندار کے لیے بھی یہی حکم تھا۔ جیسا نباتات۔ کہا گیا ہے کہ پرندوں میں سب سے پہلے درہ کشتی میں آیا اور سب سے آخر میں گدھا سوار ہونے لگا۔ ابلیس اس کی دم میں لٹک گیا جب اس کے دو اگلے پاؤں کشتی میں آ گئے اس کا اپنا دھڑ اٹھانا چاہا تو نہ اٹھا سکا کیونکہ دم پر اس ملعون کا بوجھ تھا۔ نوح علیہ السلام جلدی کر رہے تھے یہ بہتیرا چاہتا تھا مگر پچھلے پاؤں چڑھ نہیں سکتے تھے۔ آخر آپ علیہ السلام نے فرمایا ”آج تیرے ساتھ ابلیس بھی ہو آیا“ تب وہ چڑھ گیا اور ابلیس بھی اس کے ساتھ ہی آیا۔ بعض سلف کہتے ہیں کہ شیر کو اپنے ساتھ لے جانا مشکل ہو گیا، آخر اسے بخار چڑھ آیا تب اسے سوار کر لیا۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { نوح علیہ السلام نے جب تمام مویشی اپنی کشتی میں سوار کر لیے تو لوگوں نے کہا شیر کی موجودگی میں یہ مویشی کیسے آرام سے رہ سکیں گے؟ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بخار ڈال دیا۔ اس سے پہلے زمین پر یہ بیماری نہ تھی۔ پھر لوگوں نے چوہے کی شکایت کی یہ ہمارا کھانا اور دیگر چیزیں خراب کر رہے ہیں تو اللہ کے حکم سے شیر کی چھینک میں سے ایک بلی نکلی جس سے چوہے دبک کر کونے کھدرے میں بیٹھ رہے } }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:18154:مرسل] ‏‏‏‏

نوح علیہ السلام کو حکم ہوا کہ ’ اپنے گھر والوں کو بھی اپنے ساتھ کشتی میں بٹھالو مگر ان میں سے جو ایمان نہیں لائے انہیں ساتھ نہ لینا ‘۔ آپ علیہ السلام کا لڑکا حام بھی انہیں کافروں میں تھا وہ الگ ہو گیا۔ یا آپ علیہ السلام کی بیوی کہ وہ بھی اللہ کے رسول علیہ السلام کی منکر تھی اور ’ اپنی قوم کے تمام مسلمانوں کو بھی اپنے ساتھ بٹھالے ‘، لیکن ان مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی۔ ساڑھے نو سو سال کے قیام کی طویل مدت میں آپ علیہ السلام پر بہت ہم کم لوگ ایمان لائے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”کل اسی (‏‏‏‏80) آدمی تھے جن میں عورتیں بھی تھیں۔‏‏‏‏“ کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سب بہتر (‏‏‏‏72) اشخاص تھے۔‏‏‏‏“ ایک قول ہے ”صرف دس (‏‏‏‏10) آدمی تھے۔‏‏‏‏“ ایک قول ہے نوح علیہ السلام تھے اور ان کے تین لڑکے تھے سام، حام، یافث اور چار عورتیں تھیں۔ تین تو ان تینوں کی بیویاں اور چوتھی حام کی بیوی اور کہا گیا ہے کہ خود نوح علیہ السلام کی بیوی۔‏‏‏‏“ لیکن اس میں نظر ہے ظاہر یہ ہے نوح علیہ السلام کی بیوی ہلاک ہونے والوں میں ہلاک ہوئی۔ اس لیے کہ وہ اپنی قوم کے دین پر ہی تھی تو جس طرح لوط علیہ السلام کی بیوی قوم کے ساتھ ہلاک ہوئی اسی طرح یہ بھی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ وَأَحْكَمُ»
40۔ 1 اس سے بعض نے روٹی پکانے والے تنور، بعض نے مخصوص جگہیں مثلا عین الوردہ اور بعض نے سطح زمین مراد لی ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اسی آخری مفہوم کو ترجیح دی ہے یعنی ساری زمین ہی چشموں کی طرح ابل پڑی، اوپر سے آسمان کی بارش نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ 40۔ 2 اس سے مراد مذکر اور مؤنث یعنی نر مادہ ہے اس طرح ہر ذی روح مخلوق کا جوڑا کشتی میں رکھ لیا گیا اور بعض کہتے ہیں کہ نباتات بھی رکھے گئے تھے۔ وللہ اعلم۔ 40۔ 3 یعنی جن کا غرق ہونا تقدیر الٰہی میں ثبت ہے اس سے مراد عام کفار ہیں، یا یہ استشناء اَھْلَکَ سے ہے یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کرا لے، سوائے ان کے جن پر اللہ کی بات سبقت کرگئی ہے یعنی ایک بیٹا (کنعان یا۔ یام) اور حضرت نوح ؑ کی اہلیہ (وَ عِلَۃ) یہ دونوں کافر تھے، ان کو کشتی میں بیٹھنے والوں سے مستشنٰی کردیا گیا۔ 40۔ 4 یعنی سب اہل ایمان کو کشتی میں سوار کرا لے۔ 40۔ 5 بعض نے ان کی کل تعداد (مرد اور عورت ملا کر) 80 اور بعض نے اس سے بھی کم بتلائی ہے۔ ان میں حضرت نوح ؑ کے تین بیٹے، جو ایمان والوں میں شامل تھے، سام، حام، یافت اور ان کی بیویاں اور چوتھی بیوی، یام کی تھی، جو کافر تھا، لیکن اس کی بیوی مسلمان ہونے کی وجہ سے کشتی میں سوار تھی۔ (ابن کثیر)
(آیت 40) ➊ {حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ:فَارَ يَفُوْرُ فَوْرًا “} جوش مار کر نکلنا۔ فوارہ بھی اسی سے ہے۔ {”التَّنُّوْرُ“} (بروزن {فَعُّوْلٌ}) کا معروف معنی تنور ہے، جس میں روٹیاں پکائی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کے گھر میں طوفان کا نشان بتا رکھا تھا کہ جب اس تنور سے پانی ابلے تب کشی میں سوار ہو جاؤ۔ (موضح) اکثر مفسرین نے تنور سے یہی عام تنور مراد لیا ہے، لیکن حسب تفسیر ابن عباس (ابن جریر) {” التَّنُّوْرُ “} سے مراد روئے زمین ہے۔ قاموس میں بھی لکھا ہے: {” وَجْهُ الْأَرْضِ وَ كُلُّ مَفْجَرِ مَاءٍ وَ مَحْفَلُ مَاءِ الْوَادِيْ “} ”روئے زمین، پانی پھوٹنے کی جگہ اور وادی کے پانی کے جمع ہونے کی جگہ۔“ اس تفسیر کی رو سے مراد یہ ہے کہ ساری زمین پانی کا چشمہ بن گئی اور پانی ابلنے لگا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے: «{ وَ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُيُوْنًا }» [القمر: ۱۲ ] ”اور ہم نے زمین کو چشموں سے پھاڑ دیا۔“ حتیٰ کہ تنور جو آگ کی جگہ ہوتے ہیں، پانی کے فوارے بن گئے۔ ویسے پہلا معنی زیادہ قرین قیاس ہے، کیونکہ علامت ظاہر ہونے کے ساتھ ہی کشتی میں سوار ہونے اور ہر جانور کا جوڑا رکھنے کا زیادہ موقع ہے، لیکن جب ساری زمین سے چشمے پھوٹ نکلیں تو یہ کام مشکل ہے اور تنور روٹیاں پکانے کے لیے عام معروف بھی ہے۔ امام طبری اور رازی نے بھی اسی معنی کو ترجیح دی ہے، کیونکہ معروف معنی چھوڑنے کی کوئی دلیل نہیں۔ ام ہشام بنت حارثہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [ كَانَ تَنُّوْرُنَا وَ تَنُّوْرُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا ] [ مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ: ۸۷۳ ] ”ہمارا تنور اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تنور ایک ہی تھا۔“ {” اَمْرُنَا “} سے مراد عذاب کا حکم ہے کہ آسمان سے موسلا دھار پانی برسنے لگا اور زمین سے چشموں کی طرح پانی ابلنا شروع ہو گیا، دونوں طبقے مل گئے اور زمین پانی میں غرق ہو گئی۔ دیکھیے سورۂ قمر (۱۱، ۱۲)۔ ➋ { قُلْنَا احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ …: ” مِنْ كُلٍّ “ } میں {” كُلٍّ “} کی تنوین مضاف الیہ محذوف کا عوض ہے: {” اَيْ مِنْ كُلِّ نَوْعٍ تَحْتَاجُ اِلَيْهِ “} جب عذاب کے آثار شروع ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جانوروں کی ہر قسم میں سے ایک ایک جوڑا کشتی میں سوار کر لو، جن کی نسل باقی رہنا مقدر تھی۔ {” وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ “} یعنی اپنی بیوی جس کا ذکر سورۂ تحریم میں ہے اور اس بیٹے جس کا ذکر زیرِ تفسیر آیات میں آ رہا ہے (جن کے کفر کی وجہ سے ان کا ڈوبنا پہلے طے ہو چکا ہے) ان کے سوا اپنے تمام گھر والوں کو اور ان لوگوں کو جو آپ پر ایمان لائے ہیں، کشتی میں سوار کر لو۔ ➌ {وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيْلٌ:} یہ وہی تھے جن کو قوم نے اپنے اراذل کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان پر بہت تھوڑے لوگ ہی ایمان لائے۔ ان کی تعداد بہت سے مفسرین (۷۹) یا (۸۰) بیان کرتے ہیں، مثلاً آلوسی وغیرہ، جن میں وہ نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں سام، حام اور یافث کا نام لیتے ہیں، کافر بیٹے کا نام کنعان تھا۔ ان چاروں کی بیویاں مسلمان تھیں اور ۷۲ مرد اور عورتیں دوسرے مسلمان تھے۔ بعض نے یہ تعداد چالیس(۴۰) بتائی ہے۔ ہمارے شیخ محمد عبدہ الفلاح رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”قرآن وحدیث میں ان کی تعداد کا کوئی ذکر نہیں۔“ اور ظاہر ہے کہ ان دونوں چیزوں کے علاوہ کوئی معتبر ذریعہ معلوم کرنے کا ہمارے پاس نہیں ہے۔ [ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِعَدَدِھِمْ ]
وَ قَالَ ارۡکَبُوۡا فِیۡہَا بِسۡمِ اللّٰہِ مَ‍‍جۡؔرٖىہَا وَ مُرۡسٰىہَا ؕ اِنَّ رَبِّیۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۴۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نوحؑ نے کہا "سوار ہو جاؤ اِس میں، اللہ ہی کے نام سے ہے اس کا چلنا بھی اور اس کا ٹھیرنا بھی، میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
نوح ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا، اس کشتی میں بیٹھ جاؤ اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے، یقیناً میرا رب بڑی بخشش اور بڑے رحم واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بولا اس میں سوار ہو اللہ کے نام پر اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا بیشک میرا رب ضرور بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
نوح(ع) نے کہا (کشتی میں) سوار ہو جاؤ اللہ کے نام کے سہارے اس کا چلنا بھی ہے اور اس کا ٹھہرنا بھی بے شک میرا پروردگار بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس نے کہا اس میں سوار ہو جائو، اللہ کے نام کے ساتھ اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا ہے۔ بے شک میرا رب یقینا بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کشتی نوح پر کون کون سوار ہوا؟ ٭٭

نوح علیہ السلام جنہیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے ان سے فرمایا کہ ”آؤ اس میں سوار ہو جاؤ اس کا پانی پر چلنا اللہ کے نام کی برکت سے ہے اور اسی طرح اس کا آخری ٹھہراؤ بھی اسی پاک نام سے ہے۔‏‏‏‏“ أبو رجاء العطاردي کی قرآت میں «بِسْمِ اللَّهِ مُجْرِيهَا وَمُرْسِيهَا» بھی ہے۔ یہی اللہ کا آپ علیہ السلام کو حکم تھا کہ ’ جب تم اور تمہارے ساتھی ٹھیک طرح بیٹھ جاؤ تو کہنا «الْـحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:28] ‏‏‏‏ اور یہ بھی دعا کرنا کہ «اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ» ‘ ۱؎ [23-المؤمنون:29] ‏‏‏‏ اس لیے مستحب ہے کہ تمام کاموں کے شروع میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ لی جائے خواہ کشتی پر سوار ہونا ہو، خواہ جانور پر سوار ہونا ہو۔ جیسے فرمان باری ہے کہ «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:12-14] ‏‏‏‏ ’ اسی اللہ نے تمہارے لیے تمام جوڑے پیدا کئے ہیں اور کشتیاں اور چوپائے تمہاری سواری کے لیے پیدا کئے ہیں کہ تم ان کی پیٹھ پر سواری کرو ‘، الخ۔ حدیث میں بھی اس کی تاکید اور رغبت آئی ہے، سورۃ الزخرف میں اس کا پورا بیان ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ طبرانی میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری امت کے لیے ڈوبنے سے بچاؤ ان کے اس قول میں ہے سوار ہوتے ہوئے کہہ لیں «بِسْمِ اللَّهِ الْمُلْكُ» ، «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ» [الزُّمَرِ: 67] ‏‏‏‏ «بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [11-ھود:41] ‏‏‏‏ } } اس دعا کے آخر میں اللہ کا وصف غفور و رحیم اس لیے لائے کہ کافروں کی سزا کے مقابلے میں مومنون پر رحمت و شفقت کا اظہار ہو۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ» ۱؎ [7-الأعراف:167] ‏‏‏‏ ’ تیرا رب جلد سزا کرنے والا اور ساتھ ہی غفور و رحیم بھی ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلَىٰ ظُلْمِهِمْ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ الْعِقَابِ» ۱؎ [13-الرعد:6] ‏‏‏‏ یعنی ’ تیرا پروردگار لوگوں کے گناہوں کو بخشنے والا بھی ہے اور سخت سزا دینے والا بھی ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [7-الاعراف:167] ‏‏‏‏ ’ بیشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے ‘، اور بھی بہت سی آیتیں ہیں جن میں رحمت و انتقام کا بیان ملا جلا ہے۔ پانی روئے زمین پر پھر گیا ہے، کسی اونچے سے اونچے پہاڑ کی بلندی سے بلند چوٹی بھی دکھائی نہیں دیتی بلکہ پہاڑوں سے اوپر پندرہ ہاتھ اور بقول اسی میل اوپر کو ہو گیا ہے باوجود اس کے کشتی نوح علیہ السلام بحکم الٰہی برابر صحیح طور پر جا رہی ہے۔

خود اللہ اس کا محافظ ہے اور وہ خاص اس کی عنایت و مہر ہے۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:11، 12] ‏‏‏‏ یعنی ’ پانی میں طغیانی کے وقت ہم نے آپ تمہیں کشتی میں چڑھا لیا کہ ہم اسے تمہارے لیے نصیحت بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھ لیں ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ وَلَقَد تَّرَكْنَاهَا آيَةً فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ» ۱؎ [54-القمر:13-15] ‏‏‏‏ ’ ہم نے تمہیں اس تختوں والی کشتی پر سوار کرایا اور اپنی حفاظت میں پار اتارا اور کافروں کو ان کے کفر کا انجام دکھا دیا اور اسے ایک نشان بنا دیا کیا اب بھی کوئی ہے جو عبرت حاصل کرے؟ ‘ اس وقت نوح علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے کو بلایا یہ آپ علیہ السلام کے چوتھے لڑکے تھے اس کا نام حام تھا یہ کافر تھا اسے آپ علیہ السلام نے کشتی میں سوار ہونے کے وقت ایمان کی اور اپنے ساتھ بیٹھ جانے کی ہدایت کی تاکہ ڈوبنے سے اور کافروں کے عذاب سے بچ جائے۔ مگر اس بد نیت نے جواب دیا کہ نہیں مجھے اس کی ضرورت نہیں میں پہاڑ پر چڑھ کر طوفان باراں سے بچ جاؤں گا۔ ایک اسرائیلی روایت میں ہے کہ اس نے شیشے کی کشتی بنائی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ قرآن میں تو یہ ہے کہ ’ اس نے یہ سمجھا کہ یہ طوفان پہاڑوں کی چوٹیوں تک نہیں پہنچنے کا میں جب جا پہنچوں گا تو یہ پانی میرا کیا بگاڑے گا؟ ‘ اس پر نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”آج عذاب الٰہی سے کہیں پناہ نہیں وہی بچے گا جس پر اللہ کا رحم ہو۔‏‏‏‏“ یہاں «عَاصِمَ» «مَعْصُومٍ» کے معنی میں ہے جیسے «طَاعِمٌ» «مَطْعُومٍ» کے معنی میں اور «وَكَاسٍ» «مَكْسُوٍ» کے معنی میں آیا ہے۔ یہ باتیں ہو ہی رہی ہیں جو ایک موج آئی اور پسر نوح علیہ السلام کو لے ڈوبی۔
41۔ 1 یعنی اللہ ہی کے نام سے اس کا پانی کی سطح پر چلنا اور اسی کے نام پر اس کا ٹھہرنا ہے۔ اس سے ایک مقصد اہل ایمان کو تسلی اور حوصلہ دینا بھی تھا کہ بلا خوف و خطر کشتی میں سوار ہوجاؤ، اللہ تعالیٰ ہی اس کشتی کا محافظ اور نگران ہے اسی کے حکم سے چلے گی اور اسی کے حکم سے ٹھہرے گی۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا کہ ' اے نوح! جب تو اور تیرے ساتھی کشتی میں آرام سے بیٹھ جائیں تو کہو (اَلْحَمْدُ لللّٰہِ الَّذِیْ نَجّٰنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ہ وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَکَا وَّ اَنْتَ خَیْرُالْمُنْزِلِیْنَ) (المومنون 28، 29) ' سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے، جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات عطا فرمائی اور کہہ کہ اے میرے رب! مجھے بابرکت اتارنا اتار اور تو ہی بہتر اتارنے والا ہے '۔ بعض علماء نے کشتی یا سواری پر بیٹھتے وقت (بِسْمِ اللّٰہِ مَجْرٖھا ومُرْسٰھِا) کا پڑھنا مستحب قرار دیا ہے، مگر حدیث سے (وَتَـقُوْلُوْاسُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّــرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِيْنَ) 43۔ الزخرف:13) پڑھنا ثابت ہے۔
(آیت 41) ➊ {وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِيْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖىهَا وَ مُرْسٰىهَا:ارْكَبُوْا فِيْهَا “} عام طور پر سوار ہونے کے لیے {”رَكِبَ عَلَيْهِ “} آتا ہے، یہاں {” اِرْكَبُوْا عَلَيْهَا “} کی جگہ{” ارْكَبُوْا فِيْهَا “} اس لیے فرمایا کہ کشتی میں کمرے کی طرح داخل ہو کر بیٹھا جاتا ہے، جب کہ گھوڑے وغیرہ کے اوپر سوار ہوتے ہیں۔ (ابن عاشور) اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کشتی صرف تختے نہیں تھے جن کے اوپر وہ سوار ہوئے تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں تیار ہونے والی وہ کشتی بہترین کمروں، آرام دہ سیٹوں اور کئی منزلوں والی تھی، جن میں وہ سوار ہوئے۔ {”مَجْرَي “ ” جَرَي يَجْرِيْ “} (ض) سے مصدر میمی ہے، یعنی چلنا۔ بعض قراء نے اس میں امالہ کیا ہے، یعنی الف کو یاء کی طرف اور فتحہ کو کسرہ کی طرف مائل کرکے پڑھتے ہیں۔ {” مُرْسَي“} یہ باب افعال {”اَرْسَي يُرْسِيْ“ } ({ر س و}) سے مصدر میمی ہے، یعنی اس کا ٹھہرنا۔ کشتی میں سوار ہوتے وقت نوح علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی، اس لیے کشتی میں سوار ہوتے وقت یہ دعا قرآن مجید سے ثابت ہے۔ سورۂ مومنون میں وہ دعا بھی مذکور ہے جو کشتی پر سوار ہو کر آرام سے بیٹھ جانے پر پڑھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا: «{ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ }» اور «{ رَبِّ اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ }» [ المؤمنون: ۲۸، ۲۹ ] سورۂ زخرف میں کشتی ہو یا کوئی بھی سواری، اس پر سوار ہوتے وقت اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی ہے: «{ سُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِيْنَ (13) وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ۠ }» [ الزخرف: ۱۳، ۱۴ ] ”پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے تابع کر دیا، حالانکہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہ تھے اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں۔“ صحیح مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ پر سوار ہو کر یہ دعا پڑھنے کی حدیث موجود ہے، اس میں مزید الفاظ بھی ہیں۔ [ دیکھیے مسلم، الحج، باب استحباب الذکر إذا رکب دابتہ متوجھا…: ۱۳۴۲، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما] ➋ {اِنَّ رَبِّيْ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ:} مطلب یہ ہے کہ ہم سب جو کشتی میں سوار ہو کر عذاب سے بچے ہیں، اس لیے نہیں بچے کہ ہم گناہوں سے یکسر پاک ہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ میرا رب غفور و رحیم ہے۔ ایمان لانے کی وجہ سے اس نے ہماری لغزشوں سے درگزر فرما کر ہمیں یہ عزت بخشی ہے۔
وَ ہِیَ تَجۡرِیۡ بِہِمۡ فِیۡ مَوۡجٍ کَالۡجِبَالِ ۟ وَ نَادٰی نُوۡحُۨ ابۡنَہٗ وَ کَانَ فِیۡ مَعۡزِلٍ یّٰـبُنَیَّ ارۡکَبۡ مَّعَنَا وَ لَا تَکُنۡ مَّعَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۴۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی نوحؑ کا بیٹا دور فاصلے پر تھا نوحؑ نے پکار کر کہا "بیٹا، ہمارے ساتھ سوار ہو جا، کافروں کے ساتھ نہ رہ"
مولانا محمد جوناگڑھی
وه کشتی انہیں پہاڑوں جیسی موجوں میں لے کر جا رہی تھی اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے لڑکے کو جو ایک کنارے پر تھا، پکار کر کہا کہ اے میرے پیارے بچے ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں میں شامل نہ ره
احمد رضا خان بریلوی
اور وہی انہیں لیے جارہی ہے ایسی موجوں میں جیسے پہاڑ اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا اور وہ اس سے کنارے تھا اے میرے بچے ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ (کشتی) انہیں ایسی موجوں (لہروں) میں سے لئے جا رہی تھی جو پہاڑوں جیسی تھیں اور نوح(ع) نے اپنے بیٹے کو آواز دی جوکہ الگ ایک گوشہ میں (کھڑا) تھا۔ اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ (کشتی میں) سوار ہو جا۔ اور کافروں کے ساتھ نہ ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ انھیں لے کر پہاڑوں جیسی موج میں چلی جاتی تھی، اور نوح نے اپنے بیٹے کو آواز دی اور وہ ایک علیحدہ جگہ میں تھا، اے میرے چھوٹے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ (شامل) نہ ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کشتی نوح پر کون کون سوار ہوا؟ ٭٭

نوح علیہ السلام جنہیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے ان سے فرمایا کہ ”آؤ اس میں سوار ہو جاؤ اس کا پانی پر چلنا اللہ کے نام کی برکت سے ہے اور اسی طرح اس کا آخری ٹھہراؤ بھی اسی پاک نام سے ہے۔‏‏‏‏“ أبو رجاء العطاردي کی قرآت میں «بِسْمِ اللَّهِ مُجْرِيهَا وَمُرْسِيهَا» بھی ہے۔ یہی اللہ کا آپ علیہ السلام کو حکم تھا کہ ’ جب تم اور تمہارے ساتھی ٹھیک طرح بیٹھ جاؤ تو کہنا «الْـحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:28] ‏‏‏‏ اور یہ بھی دعا کرنا کہ «اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ» ‘ ۱؎ [23-المؤمنون:29] ‏‏‏‏ اس لیے مستحب ہے کہ تمام کاموں کے شروع میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ لی جائے خواہ کشتی پر سوار ہونا ہو، خواہ جانور پر سوار ہونا ہو۔ جیسے فرمان باری ہے کہ «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:12-14] ‏‏‏‏ ’ اسی اللہ نے تمہارے لیے تمام جوڑے پیدا کئے ہیں اور کشتیاں اور چوپائے تمہاری سواری کے لیے پیدا کئے ہیں کہ تم ان کی پیٹھ پر سواری کرو ‘، الخ۔ حدیث میں بھی اس کی تاکید اور رغبت آئی ہے، سورۃ الزخرف میں اس کا پورا بیان ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ طبرانی میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری امت کے لیے ڈوبنے سے بچاؤ ان کے اس قول میں ہے سوار ہوتے ہوئے کہہ لیں «بِسْمِ اللَّهِ الْمُلْكُ» ، «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ» [الزُّمَرِ: 67] ‏‏‏‏ «بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [11-ھود:41] ‏‏‏‏ } } اس دعا کے آخر میں اللہ کا وصف غفور و رحیم اس لیے لائے کہ کافروں کی سزا کے مقابلے میں مومنون پر رحمت و شفقت کا اظہار ہو۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ» ۱؎ [7-الأعراف:167] ‏‏‏‏ ’ تیرا رب جلد سزا کرنے والا اور ساتھ ہی غفور و رحیم بھی ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلَىٰ ظُلْمِهِمْ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ الْعِقَابِ» ۱؎ [13-الرعد:6] ‏‏‏‏ یعنی ’ تیرا پروردگار لوگوں کے گناہوں کو بخشنے والا بھی ہے اور سخت سزا دینے والا بھی ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [7-الاعراف:167] ‏‏‏‏ ’ بیشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے ‘، اور بھی بہت سی آیتیں ہیں جن میں رحمت و انتقام کا بیان ملا جلا ہے۔ پانی روئے زمین پر پھر گیا ہے، کسی اونچے سے اونچے پہاڑ کی بلندی سے بلند چوٹی بھی دکھائی نہیں دیتی بلکہ پہاڑوں سے اوپر پندرہ ہاتھ اور بقول اسی میل اوپر کو ہو گیا ہے باوجود اس کے کشتی نوح علیہ السلام بحکم الٰہی برابر صحیح طور پر جا رہی ہے۔

خود اللہ اس کا محافظ ہے اور وہ خاص اس کی عنایت و مہر ہے۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:11، 12] ‏‏‏‏ یعنی ’ پانی میں طغیانی کے وقت ہم نے آپ تمہیں کشتی میں چڑھا لیا کہ ہم اسے تمہارے لیے نصیحت بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھ لیں ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ وَلَقَد تَّرَكْنَاهَا آيَةً فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ» ۱؎ [54-القمر:13-15] ‏‏‏‏ ’ ہم نے تمہیں اس تختوں والی کشتی پر سوار کرایا اور اپنی حفاظت میں پار اتارا اور کافروں کو ان کے کفر کا انجام دکھا دیا اور اسے ایک نشان بنا دیا کیا اب بھی کوئی ہے جو عبرت حاصل کرے؟ ‘ اس وقت نوح علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے کو بلایا یہ آپ علیہ السلام کے چوتھے لڑکے تھے اس کا نام حام تھا یہ کافر تھا اسے آپ علیہ السلام نے کشتی میں سوار ہونے کے وقت ایمان کی اور اپنے ساتھ بیٹھ جانے کی ہدایت کی تاکہ ڈوبنے سے اور کافروں کے عذاب سے بچ جائے۔ مگر اس بد نیت نے جواب دیا کہ نہیں مجھے اس کی ضرورت نہیں میں پہاڑ پر چڑھ کر طوفان باراں سے بچ جاؤں گا۔ ایک اسرائیلی روایت میں ہے کہ اس نے شیشے کی کشتی بنائی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ قرآن میں تو یہ ہے کہ ’ اس نے یہ سمجھا کہ یہ طوفان پہاڑوں کی چوٹیوں تک نہیں پہنچنے کا میں جب جا پہنچوں گا تو یہ پانی میرا کیا بگاڑے گا؟ ‘ اس پر نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”آج عذاب الٰہی سے کہیں پناہ نہیں وہی بچے گا جس پر اللہ کا رحم ہو۔‏‏‏‏“ یہاں «عَاصِمَ» «مَعْصُومٍ» کے معنی میں ہے جیسے «طَاعِمٌ» «مَطْعُومٍ» کے معنی میں اور «وَكَاسٍ» «مَكْسُوٍ» کے معنی میں آیا ہے۔ یہ باتیں ہو ہی رہی ہیں جو ایک موج آئی اور پسر نوح علیہ السلام کو لے ڈوبی۔
42۔ 1 یعنی جب زمین پر پانی تھا، حتٰی کے پہاڑ بھی پانی میں ڈوبے ہوئے تھے، یہ کشتی حضرت نوح ؑ اور ان کے ساتھیوں کو دامن میں سمیٹے، اللہ کے حکم سے اور اس کی حفاظت میں پہاڑ کی طرح رواں دواں تھی۔ ورنہ اتنے طوفانی پانی میں کشتی کی حیثیت ہی کیا ہوتی ہے؟ اسی لئے دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے اسے بطور احسان ذکر فرمایا۔ (اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاۗءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ 11 ۝ ۙ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّتَعِيَهَآ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ 12۝) 59۔ الحاقہ:12-11) جب پانی میں طغیانی آگئی تو اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا تاکہ اسے تمہارے لئے نصیحت اور یادگار بنادیں اور تاکہ یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں (وحملنہ علی ذات الواح ودسر تجری باعیننا جزاء لمن کان کفر) (القمر) اور ہم نے اسے تخنوں اور کیلوں والی کشتی میں سوار کرلیا جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی بدلہ اسکی طرف سے جس کا کفر کیا گیا تھا۔ 42۔ 2 یہ حضرت نوح ؑ کا چوتھا بیٹا تھا جس کا لقب کنعان اور نام ' یام ' تھا، اسے حضرت نوح ؑ نے دعوت دی کہ مسلمان ہوجا اور کافروں کے ساتھ شامل رہ کر غرق ہونے والوں میں سے مت ہو۔
(آیت 42) ➊ { وَ هِيَ تَجْرِيْ بِهِمْ فِيْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ:} پہاڑوں جیسی موجوں سے طوفان کے پانی کی وسعت، اس کی طغیانی اور جوش و غضب کے اندازے کے ساتھ کشتی کے مضبوط اور مستحکم ہونے کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ ➋ { وَ نَادٰى نُوْحُ اِبْنَهٗ …:} باپ کی شفقت دیکھیے کتنے پیار سے {”يٰبُنَيَّ “} (اے میرے چھوٹے سے بیٹے! یا اے میرے پیارے بیٹے!) کہہ کر کشتی میں سوار ہونے کی دعوت دے رہے ہیں۔ ➌ {وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِيْنَ:} اس سے معلوم ہوا کہ اس بیٹے کی بربادی کا باعث کافروں کی مجلس اور ان کے ساتھ رہنا تھا، اگر وہ نوح علیہ السلام کی صحبت میں رہتا تو کفار کے ہتھے نہ چڑھتا۔ اتنے بڑے سیلاب کے وقت بھی وہ غرق ہو گیا مگر اس نے نوح علیہ السلام کے پاس آنا گوارا نہیں کیا۔ شیخ سعدی لکھتے ہیں: پسر نوح بابداں بہ نشست خاندانِ نبوتش گم شدہ ”نوح علیہ السلام کا بیٹا بروں کے ساتھ بیٹھا تو اس سے نبوت کا خاندان ہی گم ہو گیا (وہ خاندان نبوت کا فرد ہی نہ رہا)۔“
قَالَ سَاٰوِیۡۤ اِلٰی جَبَلٍ یَّعۡصِمُنِیۡ مِنَ الۡمَآءِ ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الۡیَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰہِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ ۚ وَ حَالَ بَیۡنَہُمَا الۡمَوۡجُ فَکَانَ مِنَ الۡمُغۡرَقِیۡنَ ﴿۴۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس نے پلٹ کر جواب دیا "میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھا جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا" نوحؑ نے کہا، آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اِس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے" اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہو گئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہو گیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اس نے جواب دیا کہ میں تو کسی بڑے پہاڑ کی طرف پناه میں آجاؤں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا، نوح ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا آج اللہ کے امر سے بچانے واﻻ کوئی نہیں، صرف وہی بچیں گے جن پر اللہ کا رحم ہوا۔ اسی وقت ان دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی اور وه ڈوبنے والوں میں سے ہوگیا
احمد رضا خان بریلوی
بولا اب میں کسی پہاڑ کی پناہ لیتا ہوں وہ مجھے پانی سے بچالے گا، کہا آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہ رحم کرے اور ان کے بیچ میں موج آڑے آئی تو وہ ڈوبتوں میں رہ گیا
علامہ محمد حسین نجفی
اس نے کہا میں ابھی کسی پہاڑ پر پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچائے گا نوح(ع) نے کہا (بیٹا) آج اللہ کے امر (عذاب) سے کوئی بچانے والا نہیں ہے۔ سوائے اس کے جس پر وہ (اللہ) رحم فرمائے۔ اور پھر (اچانک) ان کے درمیان موج حائل ہوگئی پس وہ ڈوبنے والوں میں سے ہوگیا۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا میں عنقریب کسی پہاڑ کی طرف پناہ لے لوں گا، جو مجھے پانی سے بچالے گا۔ کہا آج اللہ کے فیصلے سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہ رحم کرے اور دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی تو وہ غرق کیے گئے لوگوں میں سے ہوگیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کشتی نوح پر کون کون سوار ہوا؟ ٭٭

نوح علیہ السلام جنہیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے ان سے فرمایا کہ ”آؤ اس میں سوار ہو جاؤ اس کا پانی پر چلنا اللہ کے نام کی برکت سے ہے اور اسی طرح اس کا آخری ٹھہراؤ بھی اسی پاک نام سے ہے۔‏‏‏‏“ أبو رجاء العطاردي کی قرآت میں «بِسْمِ اللَّهِ مُجْرِيهَا وَمُرْسِيهَا» بھی ہے۔ یہی اللہ کا آپ علیہ السلام کو حکم تھا کہ ’ جب تم اور تمہارے ساتھی ٹھیک طرح بیٹھ جاؤ تو کہنا «الْـحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:28] ‏‏‏‏ اور یہ بھی دعا کرنا کہ «اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ» ‘ ۱؎ [23-المؤمنون:29] ‏‏‏‏ اس لیے مستحب ہے کہ تمام کاموں کے شروع میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ لی جائے خواہ کشتی پر سوار ہونا ہو، خواہ جانور پر سوار ہونا ہو۔ جیسے فرمان باری ہے کہ «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:12-14] ‏‏‏‏ ’ اسی اللہ نے تمہارے لیے تمام جوڑے پیدا کئے ہیں اور کشتیاں اور چوپائے تمہاری سواری کے لیے پیدا کئے ہیں کہ تم ان کی پیٹھ پر سواری کرو ‘، الخ۔ حدیث میں بھی اس کی تاکید اور رغبت آئی ہے، سورۃ الزخرف میں اس کا پورا بیان ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ طبرانی میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری امت کے لیے ڈوبنے سے بچاؤ ان کے اس قول میں ہے سوار ہوتے ہوئے کہہ لیں «بِسْمِ اللَّهِ الْمُلْكُ» ، «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ» [الزُّمَرِ: 67] ‏‏‏‏ «بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [11-ھود:41] ‏‏‏‏ } } اس دعا کے آخر میں اللہ کا وصف غفور و رحیم اس لیے لائے کہ کافروں کی سزا کے مقابلے میں مومنون پر رحمت و شفقت کا اظہار ہو۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ» ۱؎ [7-الأعراف:167] ‏‏‏‏ ’ تیرا رب جلد سزا کرنے والا اور ساتھ ہی غفور و رحیم بھی ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلَىٰ ظُلْمِهِمْ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ الْعِقَابِ» ۱؎ [13-الرعد:6] ‏‏‏‏ یعنی ’ تیرا پروردگار لوگوں کے گناہوں کو بخشنے والا بھی ہے اور سخت سزا دینے والا بھی ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [7-الاعراف:167] ‏‏‏‏ ’ بیشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے ‘، اور بھی بہت سی آیتیں ہیں جن میں رحمت و انتقام کا بیان ملا جلا ہے۔ پانی روئے زمین پر پھر گیا ہے، کسی اونچے سے اونچے پہاڑ کی بلندی سے بلند چوٹی بھی دکھائی نہیں دیتی بلکہ پہاڑوں سے اوپر پندرہ ہاتھ اور بقول اسی میل اوپر کو ہو گیا ہے باوجود اس کے کشتی نوح علیہ السلام بحکم الٰہی برابر صحیح طور پر جا رہی ہے۔

خود اللہ اس کا محافظ ہے اور وہ خاص اس کی عنایت و مہر ہے۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:11، 12] ‏‏‏‏ یعنی ’ پانی میں طغیانی کے وقت ہم نے آپ تمہیں کشتی میں چڑھا لیا کہ ہم اسے تمہارے لیے نصیحت بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھ لیں ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ وَلَقَد تَّرَكْنَاهَا آيَةً فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ» ۱؎ [54-القمر:13-15] ‏‏‏‏ ’ ہم نے تمہیں اس تختوں والی کشتی پر سوار کرایا اور اپنی حفاظت میں پار اتارا اور کافروں کو ان کے کفر کا انجام دکھا دیا اور اسے ایک نشان بنا دیا کیا اب بھی کوئی ہے جو عبرت حاصل کرے؟ ‘ اس وقت نوح علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے کو بلایا یہ آپ علیہ السلام کے چوتھے لڑکے تھے اس کا نام حام تھا یہ کافر تھا اسے آپ علیہ السلام نے کشتی میں سوار ہونے کے وقت ایمان کی اور اپنے ساتھ بیٹھ جانے کی ہدایت کی تاکہ ڈوبنے سے اور کافروں کے عذاب سے بچ جائے۔ مگر اس بد نیت نے جواب دیا کہ نہیں مجھے اس کی ضرورت نہیں میں پہاڑ پر چڑھ کر طوفان باراں سے بچ جاؤں گا۔ ایک اسرائیلی روایت میں ہے کہ اس نے شیشے کی کشتی بنائی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ قرآن میں تو یہ ہے کہ ’ اس نے یہ سمجھا کہ یہ طوفان پہاڑوں کی چوٹیوں تک نہیں پہنچنے کا میں جب جا پہنچوں گا تو یہ پانی میرا کیا بگاڑے گا؟ ‘ اس پر نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”آج عذاب الٰہی سے کہیں پناہ نہیں وہی بچے گا جس پر اللہ کا رحم ہو۔‏‏‏‏“ یہاں «عَاصِمَ» «مَعْصُومٍ» کے معنی میں ہے جیسے «طَاعِمٌ» «مَطْعُومٍ» کے معنی میں اور «وَكَاسٍ» «مَكْسُوٍ» کے معنی میں آیا ہے۔ یہ باتیں ہو ہی رہی ہیں جو ایک موج آئی اور پسر نوح علیہ السلام کو لے ڈوبی۔
43۔ 1 اس کا خیال تھا کہ کسی بڑے پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر میں پناہ حاصل کرلوں گا، وہاں پانی کیونکر پہنچ سکے گا۔ 43۔ 2 باپ بیٹے کے درمیان یہ گفتگو ہو ہی رہی تھی کہ ایک طوفانی موج نے اسے اپنی طغیانی کی زد میں لے لیا۔
(آیت 43) ➊ {قَالَ سَاٰوِيْۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعْصِمُنِيْ مِنَ الْمَآءِ:} معلوم ہوا کہ مشرک کی نظر اسباب تک ہی رہتی ہے اور مشکل سے مشکل وقت میں بھی اسباب کے پیدا کرنے والے کی طرف نہیں جاتی۔ ”مجھے پہاڑ پانی سے بچا لے گا“ کم عقل ایک بے اختیار پہاڑ کو بچانے والا سمجھ رہا ہے۔ ➋ {قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ:} اس کا جو ترجمہ لکھا گیا ہے اس میں کچھ الفاظ محذوف شامل کیے جائیں تو مطلب درست ہوتا ہے، یعنی ”آج اللہ کے فیصلے سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہ رحم کرے (وہی بچے گا)۔“ بعض حضرات نے فرمایا کہ فاعل کا وزن بعض اوقات نسبت کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسا کہ{”لَابِنٌ“} لبن(دودھ) والا اور {” تَامِرٌ “} تمر(کھجور) والا، اسی طرح یہاں{ ” عَاصِمَ “} نسبت کے معنی میں استعمال ہوا ہے، یعنی آج بچاؤ رکھنے والا کوئی نہیں، مگر جس پر وہ (اللہ) رحم کرے۔ ہمارے استاذ شیخ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یا دوسرا ترجمہ یہ ہو سکتا ہے کہ آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہے، مگر جو رحم کرنے والا ہے (یعنی خود اللہ تعالیٰ)۔“ آیت میں یہ ایک وجہ ہے جو محققین نے ذکر کی ہے اور یہی اقویٰ (زیادہ مضبوط) ہے، کیونکہ فاعل کا صیغہ زیادہ تر صفت کے لیے آتا ہے، نسبت کے لیے کم استعمال ہوتا ہے۔ (روح المعانی) ➌ {وَ حَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ:} نوح علیہ السلام اور ان کے بیٹے کی بات جاری تھی کہ پانی کی موج دونوں کے درمیان حائل ہو گئی اور وہ اپنے ساتھیوں سے جا ملا، جو غرق کیے جا چکے تھے۔ اس سے ایک تو اس موج کی غیرت ایمانی ظاہر ہو رہی ہے کہ وہ موحد باپ کے سامنے مشرک بیٹے کی بک بک کو زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکی، دوسرا یہ کہ آخرت میں آدمی انھی کا ساتھی ہو گا جن کا وہ دنیا میں ساتھی تھا۔ {” فَغَرِقَ “} (پس وہ غرق ہو گیا) اور {” فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ “} (پس وہ غرق کیے گئے لوگوں میں سے ہو گیا) دونوں میں یہی فرق ہے، اس لیے اپنے بچوں کو جس قدر ہو سکے بری صحبت سے محفوظ رکھنا چاہیے۔
وَ قِیۡلَ یٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِیۡ مَآءَکِ وَ یٰسَمَآءُ اَقۡلِعِیۡ وَ غِیۡضَ الۡمَآءُ وَ قُضِیَ الۡاَمۡرُ وَ اسۡتَوَتۡ عَلَی الۡجُوۡدِیِّ وَ قِیۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
حکم ہوا "اے زمین، اپنا سارا پانی نگل جا اور اے آسمان، رک جا" چنانچہ پانی زمین میں بیٹھ گیا، فیصلہ چکا دیا گیا، کشتی جودی پر ٹک گئی، اور کہہ دیا گیا کہ دور ہوئی ظالموں کی قو م!
مولانا محمد جوناگڑھی
فرما دیا گیا کہ اے زمین اپنے پانی کو نگل جا اور اے آسمان بس کر تھم جا، اسی وقت پانی سکھا دیا گیا اور کام پورا کر دیا گیا اور کشتی جودی نامی پہاڑ پر جا لگی اور فرما دیا گیا کہ ﻇالم لوگوں پر لعنت نازل ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور حکم فرمایا گیا کہ اے زمین! اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان! تھم جا اور پانی خشک کردیا گیا اور کام تمام ہوا اور کشتی کوہ ِ جودی پر ٹھہری اور فرمایا گیا کہ دور ہوں بے انصاف لوگ،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ارشاد ہوا اے زمین! اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا۔ اور پانی اتر گیا اور معاملہ طئے کر دیا گیا اور کشی کوہِ جودی پر ٹھہر گئی اور کہا گیا ہلاکت ہو ظلم کرنے والوں کے لئے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کہا گیا اے زمین! تو اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان! تو تھم جا اور پانی نیچے اتار دیا گیا اور کام تمام کر دیا گیا اور وہ جودی پر جا ٹھہری اور کہا گیا ظالم لوگوں کے لیے دوری ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طوفان نوح علیہ السلام کی روداد ٭٭

روئے زمین کے سب لوگ اس طوفان میں جو درحقیقت غضب الٰہی اور مظلوم پیغمبر علیہ السلام کی بد دعا کا عذاب تھا غرق ہوگئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ عزوجل نے زمین کو اس پانی کے نگل لینے کا حکم دیا جو اس کا اگلا ہوا اور آسمان کا برسایا ہوا تھا۔ ساتھ ہی آسمان کو بھی پانی برسانے سے رک جانے کا حکم ہو گیا۔ پانی گھٹنے لگا اور کام پورا ہو گیا یعنی تمام کافر نابود ہوگئے، صرف کشتی والے مومن ہی بچے۔ کشتی بحکم ربی جودی پر رکی۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ”یہ جزیرہ میں ایک پہاڑ ہے سب پہاڑ ڈبو دیئے گئے تھے اور یہ پہاڑ بوجہ اپنی عاجزی اور تواضع کے غرق ہونے سے بچ رہا تھا یہیں کشتی نوح علیہ السلام لنگر انداز ہوئی۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مہینے بھر تک یہیں لگی رہی اور سب اتر گئے اور کشتی لوگوں کی عبرت کے لیے یہیں ثابت و سالم رکھی رہی یہاں تک کہ اس امت کے اول لوگوں نے بھی اسے دیکھ لیا۔ حالانکہ اس کے بعد کی بہترین اور مضبوط سینکڑوں کشتیاں بنیں بگڑیں بلکہ راکھ اور خاک ہو گئیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں جودی نام کا پہاڑ موصل میں ہے۔‏‏‏‏“ بعض کہتے ہیں طور پہاڑ کو ہی جودی بھی کہتے ہیں۔ زربن حبیش کو ابواب کندہ سے داخل ہو کر دائیں طرف کے زاویہ میں نماز بکثرت پڑھتے ہوئے دیکھ کر نوبہ بن سالم نے پوچھا کہ ”آپ جو جمعہ کے دن برابر یہاں اکثر نماز پڑھا کرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟“ تو آپ نے جواب دیا کہ ”کشتی نوح علیہ السلام یہیں لگی تھی۔‏‏‏‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ { ”نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں بال بچوں سمیت کل اسی (‏‏‏‏80) آدمی تھے۔ ایک سو پچاس دن تک وہ سب کشتی میں ہی رہے۔ اللہ تعالیٰ نے کشتی کا منہ مکہ شریف کی طرف کر دیا۔ یہاں وہ چالیس دن تک بیت اللہ شریف کا طواف کرتی رہی۔ پھر اسے اللہ تعالیٰ نے جودی کی طرف روانہ کر دیا، وہاں وہ ٹھہر گئی۔ نوح علیہ السلام نے کوے کو بھیجا کہ وہ خشکی کی خبر لائے۔ وہ ایک مردار کے کھانے میں لگ گیا اور دیر لگا دی۔ آپ علیہ السلام نے ایک کبوتر کو بھیجا وہ اپنی چونچ میں زیتوں کے درخت کا پتہ اور پنجوں میں مٹی لے کر واپس آیا۔ اس سے نوح علیہ السلام نے سمجھ لیا کہ پانی سوکھ گیا ہے اور زمین ظاہر ہو گئی ہے۔ پس آپ علیہ السلام جودی کے نیچے اترے اور وہیں ایک بستی کی بناء ڈال دی جسے «ثمانین» کہتے ہیں۔ ایک دن صبح کو جب لوگ جاتے تو ہر ایک کی زبان بدلی ہوئی تھی۔ ایسی زبانیں بولنے لگے جن میں سب سے اعلیٰ اور بہترین عربی زبان تھی۔ ایک کو دوسرے کا کلام سمجھنا محال ہو گیا۔ نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے سب زبانیں معلوم کرا دیں، آپ علیہ السلام ان سب کے درمیان مترجم تھے۔ ایک کا مطلب دوسرے کو سمجھا دیتے تھے۔‏‏‏‏“ کعب احبار فرماتے ہیں کہ ”کشتی نوح علیہ السلام مشرق مغرب کے درمیان چل پھر رہی تھی پھر جودی پر ٹھہر گئی۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”رجب کی دسویں تاریخ مسلمان اس میں سوار ہوئے تھے پانچ ماہ تک اسی میں رہے انہیں لے کر کشتی جودی پر مہینے بھر تک ٹھہری رہی۔ آخر محرم کے عاشورے کے دن وہ سب اس میں سے اترے۔‏‏‏‏“ اسی قسم کی ایک مرفوع حدیث بھی ابن جریر میں ہے، انہوں نے اس دن روزہ بھی رکھا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:18202:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مسند احمد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ و علیہ وسلم نے چند یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے دیکھ کر ان سے اس کا سبب دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتارا تھا اور فرعون اور اس کی قوم کو ڈبو دیا تھا۔ اور اسی دن کشتی نوح علیہ السلام جودی پر لگی تھی۔ پس ان دونوں پیغمبروں علیہما السلام نے شکر الٰہی کا روزہ اس دن رکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: ”پھر موسیٰ علیہ السلام کا سب سے زیادہ حقدار میں ہوں اور اس دن کے روزے کا میں زیادہ مستحق ہوں۔‏‏‏‏“ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کا روزہ رکھا اور اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم میں سے جو آج روزے سے ہو وہ تو اپنا روزہ پورا کرے اور جو ناشتہ کر چکا ہو وہ بھی باقی دن کچھ نہ کھائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:359/2:صحیح لغیره] ‏‏‏‏ یہ روایت اس سند سے تو غریب ہے لیکن اس کے بعض حصے کے شاہد صحیح حدیث میں بھی موجود ہیں۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ ظالموں کو خسارہ، ہلاکت اور رحمت حق سے دوری ہوئی ‘۔ وہ سب ہلاک ہوئے ان میں سے ایک بھی باقی نہ بچا۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ قوم نوح علیہ السلام میں سے کسی پر بھی رحم کرنے والا ہوتا تو اس بچے کی ماں پر رحم کرتا۔‏‏‏‏“ نوح علیہ السلام اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک ٹھہرے آپ علیہ السلام نے ایک درخت بویا تھا جو سو سال تک بڑھتا اور بڑا ہوتا رہا پھر اسے کاٹ کر تختے بنا کر کشتی بنانی شروع کی۔ کافر لوگ مذاق اڑاتے کہ یہ اس خشکی میں کشتی کیسے چلائیں گے؟ آپ علیہ السلام جواب دیتے تھے کہ ”عنقریب اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔‏‏‏‏“ جب آپ علیہ السلام بنا چکے اور پانی زمین سے ابلنے اور آسمان سے برسنے لگا اور گلیاں اور راستے پانی سے ڈوبنے لگے تو اس بچے کی ماں جسے اپنے اس بچے سے غایت درجے کی محبت کی تھی وہ اسے لے کر پہاڑ کی طرف چلی گئی اور جلدی جلدی اس پر چڑھنا شروع کیا، تہائی حصے پر چڑھ گئی لیکن جب اس نے دیکھا کہ پانی وہاں بھی پہنچا تو اور اوپر کو چڑھی۔ دو تہائی کو پہنچی جب پانی وہاں بھی پہنچا تو اس نے چوٹی پر جا کر دم لیا لیکن پانی وہاں بھی پہنچ گیا جب گردن گردن پانی چڑھ گیا تو اس نے اپنے بچے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر اونچا اٹھا لیا لیکن پانی وہاں بھی پہنچا اور ماں بچہ دنوں غرق ہو گئے۔ پس اگر اس دن کوئی کافر بھی بچنے والا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس بچے کی ماں پر رحم کرتا۔ } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:5985:منکر] ‏‏‏‏ یہ حدیث اس سند سے غریب ہے کہ کعب احبار، مجاہد اور ابن جبیر سے بھی اس بچے اور اس کی ماں کا یہی قصہ مروی ہے۔
44۔ 1 نگلنا، کا استعمال جانور کے لئے ہوتا ہے کہ وہ اپنے منہ کی خوراک کو نگل جاتا ہے۔ یہاں پانی کے خشک ہونے کو نگل جانے سے تعبیر کرنے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ پانی بتدریخ خشک نہیں ہوا تھا بلکہ اللہ کے حکم سے زمین نے سارا پانی دفعتا اس طرح اپنے اندر نگل لیا جس طرح جانور لقمہ نگل جاتا ہے۔ 44۔ 2 یعنی تمام کافروں کو غرق آب کردیا گیا۔ 44۔ 3 جودی، پہاڑ کا نام ہے جو بقول بعض موصل کے قریب ہے، حضرت نوح ؑ کی قوم بھی اسی کے قریب آباد تھی۔ 44۔ 4 بُعْدً، یہ ہلاکت اور لعنت الٰہی کے معنی میں ہے اور قرآن کریم بطور خاص غضب الٰہی کی مستحق بننے والی قوموں کے لئے اسے کئی جگہ استعمال کیا گیا ہے۔
(آیت 44) ➊ {وَ قِيْلَ يٰۤاَرْضُ ابْلَعِيْ مَآءَكِ …: ” بَلَعَ يَبْلَعُ “} (ف) نگلنے کو کہتے ہیں اور انسان یا کوئی بھی جانور عموماً پورا لقمہ اکٹھا ہی نگلتا ہے۔ یہ لفظ استعمال کرنے میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ زمین نے پانی آہستہ آہستہ نہیں بلکہ ایک ہی دفعہ لقمے کی طرح اپنے اندر نگل لیا تھا۔ ادھر آسمان کو حکم ہوا کہ تھم جا، چنانچہ بارش رک گئی۔ سارا پانی زمین کے نیچے اتار دیا گیا اور تمام مشرکوں کو نیست و نابود کرنے کا کام، جس کے لیے طوفان آیا تھا، پورا ہو گیا۔ ➋ {وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِيِّ:} جودی پہاڑ عراق اور ترکی کے درمیانی علاقے میں (جسے کردستان کہتے ہیں) موصل کی جانب واقع ہے۔ تورات میں نوح علیہ السلام کی کشتی ٹھہرنے کی جگہ ”ارارات“ بتائی گئی ہے، جو ارمینیا کے پہاڑی سلسلے کا نام ہے اور آج بھی اسی نام سے مشہور ہے۔ چند سال ہوئے مغربی سیاحوں نے اس پہاڑ پر ایک بڑی کشتی کے ٹوٹے ہوئے تختے بھی دریافت کیے ہیں، اگرچہ ان کے متعلق قطعی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ آیا یہ نوح علیہ السلام کی کشتی ہی کے تختے ہیں یا کسی اور کشتی کے۔ واضح رہے کہ نوح علیہ السلام کی قوم دجلہ اور فرات کی وادی ہی میں آباد تھی، جو بعد میں عراق کے نام سے مشہور ہوئی۔ ➌ { وَ قِيْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ:بُعْدًا “} کا لفظ دوری، ہلاکت اور لعنت کے معنی میں آتا ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ سب ظالم ہلاک کر دیے گئے۔ بائبل (پیدائش: ۱۸:۲۴) کے بیان پر عام خیال یہی ہے کہ یہ طوفان روئے زمین میں آیا تھا، مگر بعض علماء کا کہنا ہے کہ طوفان اسی علاقے میں آیا تھا جہاں نوح علیہ السلام کی قوم آباد تھی۔ گو قرآن و حدیث میں اس کی کوئی تصریح نہیں ہے، لیکن یہ عین ممکن ہے کہ طوفان کے زمانے میں دنیا میں دجلہ و فرات کی وادی کے علاوہ کسی اور جگہ آبادی ہی نہ ہو۔
وَ نَادٰی نُوۡحٌ رَّبَّہٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِیۡ مِنۡ اَہۡلِیۡ وَ اِنَّ وَعۡدَکَ الۡحَقُّ وَ اَنۡتَ اَحۡکَمُ الۡحٰکِمِیۡنَ ﴿۴۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نوحؑ نے اپنے رب کو پکارا کہا "اے رب، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
نوح ﴿علیہ السلام﴾ نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ میرے رب میرا بیٹا تو میرے گھر والوں میں سے ہے، یقیناً تیرا وعده بالکل سچا ہے اور تو تمام حاکموں سے بہتر حاکم ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور نوح نے اپنے رب کو پکارا عرض کی اے میرے رب میرا بیٹا بھی تو میرا گھر والا ہے اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بڑا حکم والا
علامہ محمد حسین نجفی
اور نوح(ع) نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا اے میرے پروردگار میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے اور یقینا تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور نوح نے اپنے رب کو پکارا، پس کہا اے میرے رب! بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں سے ہے اور بے شک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام کی اپنے بیٹے کے لیے نجات کی دعا اور جواب ٭٭

یاد رہے کہ یہ دعا نوح علیہ السلام کی محض اس غرض سے تھی کہ آپ علیہ السلام کو صحیح طور پر اپنے ڈوبے ہوئے لڑکے کا حال معلوم ہو جائے۔ کہتے ہیں کہ ”پروردگار یہ بھی ظاہر ہے کہ میرا لڑکا میرے اہل میں سے تھا۔ اور میرے اہل کو بچانے کا تیرا وعدہ تھا اور یہ بھی ناممکن ہے کہ تیرا وعدہ غلط ہو۔ پھر یہ میرا بچہ کفار کے ساتھ کیسے غرق کر دیا گیا؟“ جواب ملا کہ ’ تیری جس اہل کو نجات دینے کا میرا وعدہ تھا ان میں تیرا یہ بچہ داخل نہ تھا، میرا یہ وعدہ ایمانداروں کی نجات کا تھا۔ میں کہہ چکا تھا کہ «وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ» ۱؎ [11-ھود:40] ‏‏‏‏ یعنی ’ تیرے اہل کو بھی تو کشتی میں چڑھا لے مگر جس پر میری بات بڑھ چکی ہے، وہ بوجہ اپنے کفر کے انہیں میں سے تھا جو میرے سابق علم میں کفر والے اور ڈوبنے والے مقرر ہو چکے تھے ‘ ‘۔ یہ بھی یاد رہے کہ جن بعض لوگوں نے کہا ہے یہ دراصل نوح علیہ السلام کا لڑکا تھا ہی نہیں کیونکہ آپ علیہ السلام کے بطن سے نہ تھا۔ بلکہ بدکاری سے تھا اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آپ علیہ السلام کی بیوی کا اگلے گھر کا لڑکا تھا۔ یہ دونوں قول غلط ہیں بہت سے بزرگوں نے صاف لفظوں میں اسے غلط کہا ہے بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے سلف سے منقول ہے کہ کسی نبی علیہ السلام کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی۔ پس یہاں اس فرمان سے کہ وہ تیرے اہل میں سے نہیں یہی مطلب ہے کہ ’ تیرے جس اہل کی نجات کا میرا وعدہ ہے یہ ان میں سے نہیں ‘۔ یہی بات سچ ہے اور یہی قول اصلی ہے۔ اس کے سوا اور طرف جانا محض غلطی ہے اور ظاہر خطا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی غیرت اس بات کو قبول نہیں کر سکتی کہ اپنے کسی نبی علیہ السلام کے گھر میں زانیہ عورت دے۔ خیال فرمائیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت جنہوں نے بہتان بازی کی تھی ان پر اللہ تعالیٰ کس قدر غضبناک ہوا اس لڑکے کے اہل میں سے نکل جانے کی وجہ خود قرآن نے بیان فرما دی ہے کہ ’ اس کے عمل نیک نہ تھے ‘۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک قرأت «إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» ہے مسند کی حدیث میں ہے اسماء بنت یزید فرماتی ہیں { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ» پڑھتے سنا ہے اور آیت «يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا» ۱؎ ۱؎ [39-الزمر:53] ‏‏‏‏ پڑھتے سنا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:359/6:صحیح بالشواهد] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ «فَخَانَتَاهُمَا» ۱؎ [66-التحريم:10] ‏‏‏‏ کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا ”اس سے مراد زنا نہیں بلکہ نوح علیہ السلام کی بیوی کی خیانت تو یہ تھی کہ لوگوں سے کہتی تھی یہ مجنون ہے۔ اور لوط علیہ السلام کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ جو مہمان آپ علیہ السلام کے ہاں آتے اپنی قوم کو خبر کر دیتی۔‏‏‏‏“ پھر آپ نے یہ آیت «إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» پڑھی۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب نوح علیہ السلام کے لڑکے کے بارے میں سوال ہوا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”اللہ سچا ہے اس نے اسے نوح علیہ السلام کا لڑکا فرما دیا ہے۔ پس وہ یقیناً نوح علیہ السلام کا ثابت النسب لڑکا ہی تھا۔‏‏‏‏“ دیکھو اللہ فرماتا ہے کسی نبی کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی، اور یہ بھی یاد رہے کہ بعض علماء کا قول ہے کہ کسی نبی کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی ایسا ہی مجاہدرحمہ اللہ سے مروی ہے۔ اور یہی ابن جریررحمہ اللہ کا پسندیدہ ہے۔ اور فی الواقع ٹھیک اور صحیح بات بھی یہی ہے۔
45۔ 1 حضرت نوح ؑ نے غالبا شفقت پدری کے جذبے سے مغلوب ہو کر بارگاہ الٰہی میں یہ دعا کی اور بعض کہتے ہیں کہ انھیں یہ خیال تھا کہ شاید یہ مسلمان ہوجائے گا، اس لئے اس کے بارے میں یہ استدعا کی۔
(آیت 45){وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ …: } تمام کفار کے غرق ہونے کے بعد باپ کی شفقت نے جوش مارا تو نوح علیہ السلام نے بیٹے کے بارے میں دعا کی۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ نوح علیہ السلام کے اہل کو بچانے کا تھا، اس وعدے کے حوالے سے درخواست کی۔ وہ اہل سے نسبی اور رشتہ داری کے گھر والے سمجھ بیٹھے، جب کہ کافر اور مومن کے درمیان دوستی کا رشتہ باقی نہیں رہتا۔ ایمان لانے کے بعد سب مومن دوست اور سب کافر دشمن بن جاتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ ممتحنہ (۴) بہرحال نوح علیہ السلام نے ادب ملحوظ رکھا اور صریح الفاظ میں بیٹے کو بچانے کی بات نہیں کی۔
قَالَ یٰنُوۡحُ اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنۡ اَہۡلِکَ ۚ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیۡرُ صَالِحٍ ٭۫ۖ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِ مَا لَـیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ اِنِّیۡۤ اَعِظُکَ اَنۡ تَکُوۡنَ مِنَ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۴۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جواب میں ارشاد ہوا "اے نوحؑ، وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے، لہٰذا تو اُس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت تو نہیں جانتا، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نوح یقیناً وه تیرے گھرانے سے نہیں ہے، اس کے کام بالکل ہی ناشائستہ ہیں تجھے ہرگز وه چیز نہ مانگنی چاہئے جس کا تجھے مطلقاً علم نہ ہو میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے اپنا شمار کرانے سے باز رہے
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا اے نوح! وہ تیرے گھر والوں میں نہیں بیشک اس کے کام بڑے نالائق ہیں، تو مجھ سے وہ بات نہ مانگ جس کا تجھے علم نہیں میں تجھے نصیحت فرماتا ہوں کہ نادان نہ بن،
علامہ محمد حسین نجفی
ارشاد ہوا۔ اے نوح وہ تیرے اہل میں سے نہیں ہے وہ تو مجسم عملِ بد ہے پس جس چیز کا تمہیں علم نہیں ہے اس کے بارے میں مجھ سے سوال نہ کر میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ جاہلوں میں سے نہ ہو جانا۔
عبدالسلام بن محمد
فرمایا اے نوح! بے شک وہ تیرے گھر والوں سے نہیں، بے شک یہ ایسا کام ہے جو اچھا نہیں، پس مجھ سے اس بات کا سوال نہ کر جس کا تجھے کچھ علم نہیں،بے شک میں تجھے اس سے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے ہوجائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام کی اپنے بیٹے کے لیے نجات کی دعا اور جواب ٭٭

یاد رہے کہ یہ دعا نوح علیہ السلام کی محض اس غرض سے تھی کہ آپ علیہ السلام کو صحیح طور پر اپنے ڈوبے ہوئے لڑکے کا حال معلوم ہو جائے۔ کہتے ہیں کہ ”پروردگار یہ بھی ظاہر ہے کہ میرا لڑکا میرے اہل میں سے تھا۔ اور میرے اہل کو بچانے کا تیرا وعدہ تھا اور یہ بھی ناممکن ہے کہ تیرا وعدہ غلط ہو۔ پھر یہ میرا بچہ کفار کے ساتھ کیسے غرق کر دیا گیا؟“ جواب ملا کہ ’ تیری جس اہل کو نجات دینے کا میرا وعدہ تھا ان میں تیرا یہ بچہ داخل نہ تھا، میرا یہ وعدہ ایمانداروں کی نجات کا تھا۔ میں کہہ چکا تھا کہ «وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ» ۱؎ [11-ھود:40] ‏‏‏‏ یعنی ’ تیرے اہل کو بھی تو کشتی میں چڑھا لے مگر جس پر میری بات بڑھ چکی ہے، وہ بوجہ اپنے کفر کے انہیں میں سے تھا جو میرے سابق علم میں کفر والے اور ڈوبنے والے مقرر ہو چکے تھے ‘ ‘۔ یہ بھی یاد رہے کہ جن بعض لوگوں نے کہا ہے یہ دراصل نوح علیہ السلام کا لڑکا تھا ہی نہیں کیونکہ آپ علیہ السلام کے بطن سے نہ تھا۔ بلکہ بدکاری سے تھا اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آپ علیہ السلام کی بیوی کا اگلے گھر کا لڑکا تھا۔ یہ دونوں قول غلط ہیں بہت سے بزرگوں نے صاف لفظوں میں اسے غلط کہا ہے بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے سلف سے منقول ہے کہ کسی نبی علیہ السلام کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی۔ پس یہاں اس فرمان سے کہ وہ تیرے اہل میں سے نہیں یہی مطلب ہے کہ ’ تیرے جس اہل کی نجات کا میرا وعدہ ہے یہ ان میں سے نہیں ‘۔ یہی بات سچ ہے اور یہی قول اصلی ہے۔ اس کے سوا اور طرف جانا محض غلطی ہے اور ظاہر خطا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی غیرت اس بات کو قبول نہیں کر سکتی کہ اپنے کسی نبی علیہ السلام کے گھر میں زانیہ عورت دے۔ خیال فرمائیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت جنہوں نے بہتان بازی کی تھی ان پر اللہ تعالیٰ کس قدر غضبناک ہوا اس لڑکے کے اہل میں سے نکل جانے کی وجہ خود قرآن نے بیان فرما دی ہے کہ ’ اس کے عمل نیک نہ تھے ‘۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک قرأت «إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» ہے مسند کی حدیث میں ہے اسماء بنت یزید فرماتی ہیں { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ» پڑھتے سنا ہے اور آیت «يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا» ۱؎ ۱؎ [39-الزمر:53] ‏‏‏‏ پڑھتے سنا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:359/6:صحیح بالشواهد] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ «فَخَانَتَاهُمَا» ۱؎ [66-التحريم:10] ‏‏‏‏ کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا ”اس سے مراد زنا نہیں بلکہ نوح علیہ السلام کی بیوی کی خیانت تو یہ تھی کہ لوگوں سے کہتی تھی یہ مجنون ہے۔ اور لوط علیہ السلام کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ جو مہمان آپ علیہ السلام کے ہاں آتے اپنی قوم کو خبر کر دیتی۔‏‏‏‏“ پھر آپ نے یہ آیت «إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» پڑھی۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب نوح علیہ السلام کے لڑکے کے بارے میں سوال ہوا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”اللہ سچا ہے اس نے اسے نوح علیہ السلام کا لڑکا فرما دیا ہے۔ پس وہ یقیناً نوح علیہ السلام کا ثابت النسب لڑکا ہی تھا۔‏‏‏‏“ دیکھو اللہ فرماتا ہے کسی نبی کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی، اور یہ بھی یاد رہے کہ بعض علماء کا قول ہے کہ کسی نبی کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی ایسا ہی مجاہدرحمہ اللہ سے مروی ہے۔ اور یہی ابن جریررحمہ اللہ کا پسندیدہ ہے۔ اور فی الواقع ٹھیک اور صحیح بات بھی یہی ہے۔
46۔ 1 حضرت نوح ؑ نے قرابت نسبی کا لحاظ کرتے ہوئے اسے اپنا بیٹا قرار دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایمان کی بنیاد پر قرابت دین کے اعتبار سے اس بات کی نفی فرمائی کہ وہ تیرے گھرانے سے ہے۔ اس لئے کہ ایک نبی کا اصل گھرانہ تو وہی ہے جو اس پر ایمان لائے، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ اور اگر کوئی ایمان نہ لائے تو چاہے وہ نبی کا باپ ہو، بیٹا ہو یا بیوی، وہ نبی کے گھرانے کا فرد نہیں۔ 46۔ 2 یہ اللہ تعالیٰ نے اس کی علت بیان فرما دی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس کے پاس ایمان اور عمل صا لح نہیں ہوگا، اسے اللہ کے عذاب سے اللہ کا پیغمبر بھی بچانے پر قادر نہیں۔ آج کل لوگ پیروں، فقیروں اور سجادہ نشینوں سے وابستگی کو ہی نجات کے لیے کافی سمجھتے ہیں اور عمل صالح کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے حالانکہ جب عمل صالح کے بغیر نبی سے نسبی قرابت بھی کام نہیں آتی، تو یہ وابستگیاں کیا کام آسکتی ہیں۔ 46۔ 3 اس سے معلوم ہوا کہ نبی عالم الغیب نہیں ہوتا، اس کو اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا وحی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اسے عطا فرما دیتا ہے۔ اگر حضرت نوح ؑ کو پہلے سے علم ہوتا کہ ان کی درخواست قبول نہیں ہوگی تو یقینا وہ اس سے پرہیز فرماتے۔ 46۔ 4 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوح ؑ کو نصیحت ہے، جس کا مقصد ان کو اس مقام بلند پر فائز کرنا ہے جو علمائے عالمین کے لئے اللہ کی بارگاہ میں ہے۔
(آیت 46) ➊ { قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ:} فرمایا اے نوح! یہ تیرے اہل میں سے نہیں،بلکہ {” اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ “} کے تحت کفر کی وجہ سے تمھارا اہل ہونے کے شرف سے محروم ہے اور ان لوگوں میں شامل ہو گیا ہے جن کے غرق کیے جانے کا پہلے فیصلہ ہو چکا ہے۔ ➋ {اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ:} عام طور پر اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے ”اس کے عمل اچھے نہیں ہیں۔“ یہ معنی اس صورت میں درست ہو سکتا ہے کہ{ ” عَمَلٌ “} مصدر کو مبالغہ کے لیے اسم فاعل ({عَامِلٌ}) کے معنی میں مانا جائے، جیسے:{ ” زَيْدٌ عَدْلٌ “} کو {” زَيْدٌ عَادِلٌ “} کے معنی میں لیا جاتا ہے، یعنی یہ غیر صالح عمل کرنے والا ہے۔ مگر امام المفسرین طبری رحمہ اللہ کے مطابق{ ” اِنَّهٗ “} کی ضمیر نوح علیہ السلام کی دعا کی طر ف جاتی ہے کہ آپ نے اپنے مشرک بیٹے کے حق میں جو سفارش کی ہے، یہ کام اچھا نہیں ہے۔ ➌ { فَلَا تَسْـَٔلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ:} یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ سوال تو اسی چیز کا ہوتا ہے جس کا علم نہ ہو، جس چیز کا علم ہو اس کے سوال کی تو ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ اس کے دو جواب ہیں، دراصل عربی میں سوال کا لفظ مانگنے کے معنی میں بھی آتا ہے اور پوچھنے کے بارے میں بھی۔ سو پہلا جو اب یہ ہے کہ صرف وہی چیز مانگنی چاہیے جس کے متعلق اچھی طرح معلوم ہو کہ جس سے مانگ رہے ہیں وہ یہ چیز مانگنے پر ناراض نہیں ہو گا۔ جس کے متعلق یہ علم نہ ہو بلکہ اس کے ناراض ہونے کا بھی خطرہ ہو، وہ ہرگز نہیں مانگنی چاہیے۔ اب نوح علیہ السلام کے سامنے اللہ تعالیٰ کے وہ فرمان موجود تھے: «{ وَ لَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا }» اور «{ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ }» پھر بھی انھیں اس کا علم نہیں ہو سکا کہ اس درخواست پر اللہ تعالیٰ کس قدر ناراض ہوں گے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کی درخواست کا جواب تو {” اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ “} کہہ کر دے دیا تھا، اب اس سے آگے امکان تھا کہ نوح علیہ السلام بیٹے کے نجات نہ پانے اور کفر پر مستحکم رہنے کے متعلق سوال کرتے کہ اس میں کیا حکمت ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی اس سے روک دیا کہ میری حکمتوں تک تمھارے علم کی رسائی نہیں ہو سکتی، اس لیے مجھ سے ایسی بات مت پوچھنا۔ (الوسیط للطنطاوی) یعنی پوچھنی بھی وہی بات چاہیے جس کے متعلق علم ہو کہ جس سے پوچھ رہے ہیں وہ اس سوال پر ناراض نہیں ہو گا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”آدمی پوچھتا وہی ہے جو معلوم نہ ہو، لیکن مرضی معلوم ہونی چاہیے۔ یہ کام ہے جاہل کا کہ اگلے کی مرضی نہ دیکھے پوچھنے کی، پھر پوچھے۔“ (موضح) ➍ { اِنِّيْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ:} مطلب یہ ہے کہ اس حقیقت کو جاننے کے بعد اگر ایسا سوال کرو گے تو جاہل بن کر رہ جاؤ گے۔ (روح المعانی)
قَالَ رَبِّ اِنِّیۡۤ اَعُوۡذُ بِکَ اَنۡ اَسۡـَٔلَکَ مَا لَـیۡسَ لِیۡ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ وَ اِلَّا تَغۡفِرۡ لِیۡ وَ تَرۡحَمۡنِیۡۤ اَکُنۡ مِّنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۴۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نوحؑ نے فوراً عرض کیا "اے میرے رب، میں تیری پناہ مانگتا ہوں اِس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں اگر تو نے مجھ معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہو جاؤں گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
نوح نے کہا میرے پالنہار میں تیری ہی پناه چاہتا ہوں اس بات سے کہ تجھ سے وه مانگوں جس کا مجھے علم ہی نہ ہو اگر تو مجھے نہ بخشے گا اور تو مجھ پر رحم نہ فرمائے گا، تو میں خساره پانے والوں میں ہو جاؤں گا
احمد رضا خان بریلوی
عرض کی اے رب میرے میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں، اور اگر تو مجھے نہ بخشے اور رحم نہ کرے تو میں زیاں کار ہوجاؤں،
علامہ محمد حسین نجفی
عرض کیا اے میرے پروردگار! میں اس بات سے تیری بارگاہ میں پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہیں ہے۔ اور اگر تو نے مجھے نہ بخشا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اے میرے رب! بے شک میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ تجھ سے اس بات کا سوال کروں جس کا مجھے کچھ علم نہیں اور اگر تو نے مجھے نہ بخشا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں خسارہ پانے والوں سے ہو جاؤں گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام کی اپنے بیٹے کے لیے نجات کی دعا اور جواب ٭٭

یاد رہے کہ یہ دعا نوح علیہ السلام کی محض اس غرض سے تھی کہ آپ علیہ السلام کو صحیح طور پر اپنے ڈوبے ہوئے لڑکے کا حال معلوم ہو جائے۔ کہتے ہیں کہ ”پروردگار یہ بھی ظاہر ہے کہ میرا لڑکا میرے اہل میں سے تھا۔ اور میرے اہل کو بچانے کا تیرا وعدہ تھا اور یہ بھی ناممکن ہے کہ تیرا وعدہ غلط ہو۔ پھر یہ میرا بچہ کفار کے ساتھ کیسے غرق کر دیا گیا؟“ جواب ملا کہ ’ تیری جس اہل کو نجات دینے کا میرا وعدہ تھا ان میں تیرا یہ بچہ داخل نہ تھا، میرا یہ وعدہ ایمانداروں کی نجات کا تھا۔ میں کہہ چکا تھا کہ «وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ» ۱؎ [11-ھود:40] ‏‏‏‏ یعنی ’ تیرے اہل کو بھی تو کشتی میں چڑھا لے مگر جس پر میری بات بڑھ چکی ہے، وہ بوجہ اپنے کفر کے انہیں میں سے تھا جو میرے سابق علم میں کفر والے اور ڈوبنے والے مقرر ہو چکے تھے ‘ ‘۔ یہ بھی یاد رہے کہ جن بعض لوگوں نے کہا ہے یہ دراصل نوح علیہ السلام کا لڑکا تھا ہی نہیں کیونکہ آپ علیہ السلام کے بطن سے نہ تھا۔ بلکہ بدکاری سے تھا اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آپ علیہ السلام کی بیوی کا اگلے گھر کا لڑکا تھا۔ یہ دونوں قول غلط ہیں بہت سے بزرگوں نے صاف لفظوں میں اسے غلط کہا ہے بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے سلف سے منقول ہے کہ کسی نبی علیہ السلام کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی۔ پس یہاں اس فرمان سے کہ وہ تیرے اہل میں سے نہیں یہی مطلب ہے کہ ’ تیرے جس اہل کی نجات کا میرا وعدہ ہے یہ ان میں سے نہیں ‘۔ یہی بات سچ ہے اور یہی قول اصلی ہے۔ اس کے سوا اور طرف جانا محض غلطی ہے اور ظاہر خطا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی غیرت اس بات کو قبول نہیں کر سکتی کہ اپنے کسی نبی علیہ السلام کے گھر میں زانیہ عورت دے۔ خیال فرمائیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت جنہوں نے بہتان بازی کی تھی ان پر اللہ تعالیٰ کس قدر غضبناک ہوا اس لڑکے کے اہل میں سے نکل جانے کی وجہ خود قرآن نے بیان فرما دی ہے کہ ’ اس کے عمل نیک نہ تھے ‘۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک قرأت «إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» ہے مسند کی حدیث میں ہے اسماء بنت یزید فرماتی ہیں { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ» پڑھتے سنا ہے اور آیت «يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا» ۱؎ ۱؎ [39-الزمر:53] ‏‏‏‏ پڑھتے سنا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:359/6:صحیح بالشواهد] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ «فَخَانَتَاهُمَا» ۱؎ [66-التحريم:10] ‏‏‏‏ کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا ”اس سے مراد زنا نہیں بلکہ نوح علیہ السلام کی بیوی کی خیانت تو یہ تھی کہ لوگوں سے کہتی تھی یہ مجنون ہے۔ اور لوط علیہ السلام کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ جو مہمان آپ علیہ السلام کے ہاں آتے اپنی قوم کو خبر کر دیتی۔‏‏‏‏“ پھر آپ نے یہ آیت «إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» پڑھی۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب نوح علیہ السلام کے لڑکے کے بارے میں سوال ہوا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”اللہ سچا ہے اس نے اسے نوح علیہ السلام کا لڑکا فرما دیا ہے۔ پس وہ یقیناً نوح علیہ السلام کا ثابت النسب لڑکا ہی تھا۔‏‏‏‏“ دیکھو اللہ فرماتا ہے کسی نبی کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی، اور یہ بھی یاد رہے کہ بعض علماء کا قول ہے کہ کسی نبی کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی ایسا ہی مجاہدرحمہ اللہ سے مروی ہے۔ اور یہی ابن جریررحمہ اللہ کا پسندیدہ ہے۔ اور فی الواقع ٹھیک اور صحیح بات بھی یہی ہے۔
47۔ 1 جب حضرت نوح ؑ یہ بات جان گئے کہ ان کا سوال واقعہ کے مطابق نہیں تھا، تو فورا اس سے رجوع فرما لیا اور اللہ تعالیٰ سے اس کی رحمت و مغفرت کے طالب ہوئے۔
(آیت 47) {قَالَ رَبِّ اِنِّيْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْـَٔلَكَ مَا لَيْسَ لِيْ بِهٖ عِلْمٌ …:} نوح علیہ السلام شاید پدری محبت کی وجہ سے یہ سمجھ بیٹھے کہ بیٹا چاہے کافر ہو، گھر والوں میں شامل ہے اور اس کے لیے دعا کی جا سکتی ہے، لیکن جوں ہی اللہ تعالیٰ نے انھیں تنبیہ کی کہ ایک کافر بیٹے کو نسبی قرابت کی بنا پر اپنا اہل سمجھنا صحیح نہیں ہے تو وہ فوراً متنبہ ہوئے اور اللہ کے حضور اپنی غلطی پر معافی مانگی۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”نوح علیہ السلام نے توبہ کی، لیکن یہ نہ کہا کہ پھر ایسا نہ کروں گا کہ اس میں دعویٰ نکلتا ہے، بندے کو کیا مقدور ہے! اسی کی پناہ مانگے کہ مجھ سے پھریہ نہ ہو۔“ (موضح)
قِیۡلَ یٰنُوۡحُ اہۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَکٰتٍ عَلَیۡکَ وَ عَلٰۤی اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَکَ ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُہُمۡ ثُمَّ یَمَسُّہُمۡ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۴۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
حکم ہوا "اے نوحؑ اتر جا، ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہیں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں، اور کچھ گروہ ایسے بھی ہیں جن کو ہم کچھ مدت سامان زندگی بخشیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
فرما دیا گیا کہ اے نوح! ہماری جانب سے سلامتی اور ان برکتوں کے ساتھ اتر، جو تجھ پر ہیں اور تیرے ساتھ کی بہت سی جماعتوں پر اور بہت سی وه امتیں ہوں گی جنہیں ہم فائده تو ضرور پہنچائیں گے لیکن پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا گیا اے نوح! کشتی سے اتر ہماری طرف سے سلام اور برکتوں کےساتھ جو تجھ پر ہیں اور تیرے ساتھ کے کچھ گروہوں پر اور کچھ گروہ ہیں جنہیں ہم دنیا برتنے دیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا
علامہ محمد حسین نجفی
ارشاد ہوا۔ اے نوح(ع) اترو۔ ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہوں تم پر اور ان گروہوں پر جو تمہارے ساتھ ہیں (یا بالفاظ مناسب تمہارے ساتھ والوں سے پیدا ہونے والی نسلوں پر) اور تمہارے بعد کچھ ایسے گروہ بھی ہوں گے جنہیں ہم کچھ مدت کیلئے (دنیاوی) فائدہ اٹھانے کا موقع دیں گے پھر (انجامِ کار) انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔
عبدالسلام بن محمد
کہا گیا اے نوح! اتر جا ہماری طرف سے عظیم سلامتی اور بہت سی برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان جماعتوں پر جو ان لوگوں سے ہوں گی جو تیرے ساتھ ہیں۔ اور کئی جماعتیں ہیں جنھیں ہم عنقریب سازوسامان دیں گے، پھر انھیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طوفان نوح کا آخری منظر ٭٭

کشتی ٹھہری اور اللہ کا سلام آپ علیہ السلام پر اور آپ علیہ السلام کے تمام مومن ساتھیوں پر اور ان کی اولاد میں سے قیامت تک جو ایماندار آنے والے ہیں سب پر نازل ہوا۔ ساتھ ہی کافروں کے دنیوی فائدے سے مستفید ہونے اور پھر عذاب میں گرفتار ہونے کا بھی اعلان ہوا۔ پس یہ آیت قیامت تک کے مومنوں کی سلامتی اور برکت اور کافروں کی سزا پر مبنی ہے۔ امام ابن اسحاق کا بیان ہے کہ ”جب جناب باری جل شانہ نے طوفان بند کرنے کا ارادہ فرما لیا تو روئے زمین پر ایک ہوا بھیج دی جس نے پانی کو ساکن کر دیا اور اس کا اُبلنا بند ہو گیا ساتھ ہی آسمان کے دروازے بھی جو اب تک پانی برسا رہے تھے بند کر دئیے گئے۔ زمین کو پانی کے جذب کر لینے کا حکم ہو گیا اسی وقت پانی کم ہونا شروع ہو گیا اور بقول اہل توراۃ کے ساتویں مہینے کی سترہویں تاریخ کشتی نوح ”جودی“ پر لگی۔ دسویں مہینے کی پہلی تاریخ کو پہاڑوں کی چوٹیاں کھل گئیں۔ اس کے چالیس دن کے بعد کشتی کے روزن پانی کے اوپر دکھائی دینے لگے۔ پھر آپ علیہ السلام نے کوے کو پانی کی تحقیق کے لیے بھیجا لیکن وہ پلٹ کر نہ آیا، آپ علیہ السلام نے کبوتر کو بھیجا جو واپس آیا۔ اپنے پاؤں رکھنے کو اسے جگہ نہ ملی، آپ علیہ السلام نے اپنے ہاتھ پر لے کر اسے اندر لے لیا، پھر ساتھ دن کے بعد اسے دوبارہ بھیجا۔ شام کو وہ واپس آیا، اپنی چونچ میں زیتون کا پتہ لیے ہوئے تھا اس سے اللہ کے نبی علیہ السلام نے معلوم کر لیا کہ پانی زمین سے کچھ ہی اونچا رہ گیا ہے۔ پھر سات دن کے بعد بھیجا اب کی مرتبہ وہ نہ لوٹا تو آپ علیہ السلام نے سمجھ لیا کہ زمین بالکل خشک ہو چکی ہے۔ الغرض پورے ایک سال کے بعد نوح علیہ السلام نے کشتی کا سرپوش اٹھایا اور آواز آئی کہ اے نوح ہماری نازل کردہ سلامتی کے ساتھ اب اتر آؤ الخ۔
48۔ 1 یہ اترنا کشتی سے یا اس پہاڑ سے ہے جس پر کشتی جا کر ٹھہر گئی تھی۔ 48۔ 2 اس سے مراد یا تو وہ گروہ ہیں جو حضرت نوح ؑ کے ساتھ کشتی میں سوار تھے، یا آئندہ ہونے والے وہ گروہ ہیں جو ان کی نسل سے ہونے والے تھے، اگلے فقرے کے پیش نظر یہی دوسرا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔ 48۔ 3 یہ وہ گروہ ہیں جو کشتی میں بچ جانے والوں کی نسل سے قیامت تک ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کافروں کو دنیا کی چند روزہ زندگی گزارنے کے لئے ہم دنیا کا سازو سامان ضرور دیں گے لیکن بالآخر عذاب الیم سے دو چار ہوں گے۔
(آیت 48) ➊ { قِيْلَ يٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَيْكَ:} یعنی ہماری طرف سے اپنے آپ پر اور اپنے ساتھ والے لوگوں پر سلامتی اور بے شمار برکتیں لے کر کشتی سے زمین پر اترو۔ ➋ { وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ:} یعنی ان تمام مومنوں پر جو قیامت تک تمھاری اور تمھارے ساتھ والوں کی نسل سے پیدا ہوں گے، لیکن ان ساتھ والوں سے نسل صرف نوح علیہ السلام کے بیٹوں کی چلی، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ جَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِيْنَ[الصافآت: ۷۷ ] ”اور ہم نے اس کی اولاد ہی کو باقی رہنے والے بنا دیا۔“ ➌ { وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُمْ …:} حق تعالیٰ نے تسلی فرما دی کہ اس کے بعد ساری نوع انسانیت پر ہلاکت نہیں آئے گی، ہاں بعض فرقے ہلاک ہوں گے۔ (موضح) ہلاک ہونے والے فرقوں سے مراد وہ تمام کافر ہیں جو نوح علیہ السلام کی نسل سے پیدا ہوئے یا قیامت تک پیدا ہوں گے۔
تِلۡکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَیۡبِ نُوۡحِیۡہَاۤ اِلَیۡکَ ۚ مَا کُنۡتَ تَعۡلَمُہَاۤ اَنۡتَ وَ لَا قَوۡمُکَ مِنۡ قَبۡلِ ہٰذَا ؕۛ فَاصۡبِرۡ ؕۛ اِنَّ الۡعَاقِبَۃَ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿٪۴۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے محمدؐ، یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم، پس صبر کرو، ا نجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ خبریں غیب کی خبروں میں سے ہیں جن کی وحی ہم آپ کی طرف کرتے ہیں انہیں اس سے پہلے آپ جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم، اس لئے آپ صبر کرتے رہیئے (یقین مانیئے) کہ انجام کار پرہیزگاروں کے لئے ہی ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ غیب کی خبریں ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں انہیں نہ تم جانتے تھے نہ تمہاری قوم اس سے پہلے، تو صبر کرو بیشک بھلا انجام پرہیزگاروں کا
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول) یہ (قصہ) ان غیب کی خبروں میں سے ہے جسے ہم وحی کے ذریعہ سے آپ تک پہنچا رہے ہیں اس سے پہلے نہ آپ کو ان کا (تفصیلی) علم تھا اور نہ آپ کی قوم کو۔ آپ صبر کریں۔ بے شک (اچھا) انجام پرہیزگاروں کے لئے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ غیب کی خبروں سے ہے جنھیں ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں، اس سے پہلے نہ تو انھیں جانتا تھا اور نہ تیری قوم، پس صبر کر، بے شک اچھا انجام متقی لوگوں کے لیے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہ تاریخ ماضی وحی کے ذریعے بیان کی گئی ہے ٭٭

’ قصہ نوح اور اسی قسم کے گزشتہ واقعات وہ ہیں جو تیرے سامنے نہیں ہوئے لیکن بذریعہ وحی کے ہم تجھے ان کی خبر کر ہے ہیں اور تو لوگوں کے سامنے ان کی حقیقت اس طرح کھول رہا ہے کہ گویا ان کے ہونے کے وقت تو وہیں موجود تھا۔ اس سے پہلے نہ تو تجھے ہی ان کی کوئی خبر تھی نہ تیری قوم میں سے کوئی اور ان کا علم رکھتا تھا، کہ کسی کو بھی گمان ہو کہ شاید تو نے اس سے سیکھ لیے ہوں پاس صاف بات ہے کہ یہ اللہ کی وحی سے تجھے معلوم ہوئے اور ٹھیک اسی طرح جس طرح اگلی کتابوں میں موجود ہیں۔ پس اب تجھے ان کے ستانے جھٹلانے پر صبر و برداشت کرنا چاہیئے ‘۔ «وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ» ۱؎ [37-الصافات:171-173] ‏‏‏‏ ’ ہم تیری مدد پر ہیں تجھے اور تیرے تابعداروں کو ان پر غلبہ دیں گے، انجام کے لحاظ سے تم ہی غالب رہو گے، یہی طریقہ اور پیغمبروں کا بھی رہا ‘۔
49۔ 1 یہ نبی سے خطاب ہے اور آپ سے علم غیب کی نفی کی جا رہی ہے کہ یہ غیب کی خبریں ہیں جن سے ہم آپ کو خبردار کر رہے ہیں ورنہ آپ اور آپ کی قوم ان سے لا علم تھی۔ 49۔ 2 یعنی آپکی قوم آپ کی جو تکذیب کر رہی ہے اور آپ کو ایذائیں پہنچا رہی ہے، اس پر صبر سے کام لیجئے اس لئے کہ آپ کے مددگار ہیں اور حسن انجام آپ کے اور آپ کے پیرو کاروں کے لئے ہی ہے، جو تقویٰ کی صفت سے متصف ہیں۔ عاقبت، دنیا و آخرت کے اچھے انجام کو کہتے ہیں۔ اس میں متقین کی بڑی بشارت ہے کہ ابتدا میں چاہے انھیں کتنا بھی مشکلات سے دوچار ہونا پڑے، تاہم بالآخر اللہ کی مدد و نصرت اور حسن انجام کے وہی مستحق ہیں جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ) 40۔ المو من۔ 51) ' ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والو کی مدد، دنیا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جب گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے۔ (وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ 171؀ښ اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ 172؀۠ وَاِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ 173؁) 37۔ الصافات:171 تا 172) اور البتہ وعدہ پہلے ہی اپنے رسولوں کے لیے صدر ہوچکا ہے کہ وہ مظفر منصور ہوں گے اور ہمارا ہی لشکر غالب اور برتر رہے گا۔
(آیت 49) ➊ { تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِ …:} اس آیت سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شروع ہی سے سب کچھ نہیں جانتے تھے، نہ آپ غیب دان تھے، ورنہ وحی کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ بعض لوگ ان تمام آیات کی تاویل کرتے ہیں جن میں ہے کہ اے نبی! یہ غیب کی خبریں ہیں، ہم آپ کو سنا رہے ہیں، آپ نہ اس وقت وہاں تھے نہ آپ کو یہ باتیں معلوم تھیں، یہ ہم نے آپ کو وحی کے ذریعے بتائی ہیں۔ جو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی عالم الغیب کہتے ہیں وہ اس قسم کی آیات ”یہ غیب کی خبریں ہیں، اس سے پہلے آپ ان کو نہیں جانتے تھے“ کی تحریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ خطاب دراصل امت کے لوگوں کو ہے کہ اے امت محمد کے لوگو! تم یہ باتیں نہیں جانتے تھے، مگر ہماری اس زیر تفسیر آیت نے ان لوگوں کی اس تحریف کو واضح طور پر باطل ثابت کر دیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”یہ غیب کی خبروں سے ہے جنھیں ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں، اس سے پہلے نہ تو انھیں جانتا تھا اور نہ تیری قوم۔“ معلوم ہوا کہ ان تمام آیات سے بھی یہی مراد ہے کہ صرف قوم ہی نہیں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی غیب دان نہیں تھے۔ اگر غیب دان مانیں تو بار بار وحی کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ اسی طرح نوح علیہ السلام کا سارا واقعہ ان کے غیب دان ہونے کی نفی کرتا ہے، ورنہ اگر انھیں پہلے ہی سب کچھ معلوم تھا تو ساڑھے نو سو سال کی محنت، اس دوران میں قوم کی بدتمیزیوں پر صبر، پھر وحی کے مطابق کشتی بنانا، پھر بیٹے کے حق میں دعا کرنا، اللہ تعالیٰ کا ناراض ہونا اور نوح علیہ السلام کا معافی مانگنا، سب کچھ افسانہ ٹھہرتا ہے۔ اسی طرح اگر ابراہیم علیہ السلام کو معلوم تھا کہ آگ مجھے نہیں جلائے گی، اسماعیل علیہ السلام ذبح نہیں ہوں گے، یا سارہ علیھا السلام کا کچھ نہیں بگڑے گا تو پھر ان کی جان و مال اور اولاد و آبرو اللہ کی راہ میں قربان کر دینے کی بات بے معنی ٹھہرتی ہے۔ بدر کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آہ و زاری اور افک یعنی عائشہ رضی اللہ عنھا پر بہتان کے موقع پر پریشانی کا کچھ مطلب نہیں بنتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ رسولوں کو اتنی بات ہی معلوم ہوتی ہے جو وحی کے ذریعے سے انھیں بتائی جاتی ہے۔ ➋ { فَاصْبِرْاِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ:عَاقِبَةٌ “} ایک حالت کے بعد آنے والی حالت، اس پر الف لام آئے تو عموماً اچھا انجام مراد ہوتا ہے، یعنی جس طرح نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کا انجام بخیر رہا اور ان کے تمام مخالفین ہلاک کر دیے گئے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انجام بھی دنیا و آخرت دونوں میں بہتر رہے گا اور آپ کے مخالفین دنیا میں بھی ذلیل و برباد ہوں گے اور آخرت میں بھی انھیں دوزخ کی آگ نصیب ہو گی۔ مسلمانوں کی تعداد کا کم ہونا اور مدت دراز تک اسلام کی دعوت کا کامیاب نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ دعوت ناکام ہے، بلکہ مسلسل صبر اور دعوت کے نتیجے میں آخری کامیابی اہل اسلام ہی کو ملے گی، خواہ کچھ نسلیں گزرنے کے بعد ملے۔ کائنات میں اللہ تعالیٰ کے لاتعداد لشکر ہیں، مثلاً آگ، ہوا، پانی، پہاڑ اور بے شمار مخلوق۔ اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی کو بھی اشارہ کر دے تو کافروں کا نام و نشان باقی نہیں رہ سکتا۔ کافر یہ نہ سمجھیں کہ مسلمان ہمیشہ مغلوب و مقہور ہی رہیں گے، بلکہ مسلمان اگر صبر و استقامت سے کام لیں اور اپنی ہر مصیبت اور بے بسی کو صرف اللہ کریم کے سامنے پیش کرتے رہیں، جیسا کہ نوح علیہ السلام نے کہا: «{اَنِّيْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ}» [ القمر: ۱۰ ] ”بے شک میں مغلوب ہوں سو تو بدلہ لے۔“ تو خواہ ان کی تعداد کتنی ہی کم ہو، جیسا کہ نوح علیہ السلام کی ساڑھے نو سو سال کی دعوت کا حاصل بہت ہی کم آدمی، بارہ(۱۲) یا چالیس(۴۰) یا اسّی(۸۰) آدمی نکلے، مگر نوح علیہ السلام اور اہل ایمان کی محنت ناکام نہیں ہوئی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی غیبی قوت کے ساتھ دنیا کو تہ وبالا کرکے ان قلیل لوگوں کو ایسی کامیابی عطا فرمائی کہ ان کے دشمنوں کا نام و نشان مٹ گیا اور یہ پوری زمین کے مالک بن گئے۔ بنی اسرائیل، موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا واقعہ پڑھ لیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین سو تیرہ بے سرو سامان ساتھیوں کی ایک ہزار مسلح کفار کے مقابلے میں غیب سے فرشتے بھیج کر ایسی مدد کی کہ وہ دن فیصلہ کن دن بن گیا کہ آئندہ کسے غالب ہو کر رہنا ہے۔ غرض اللہ کا فیصلہ ہے کہ اچھا انجام متقین ہی کا ہے۔ (الوسیط) ➌ اس آیت میں {” تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِ “} سے{ ” وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا “} تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت پر احسان کا ذکر ہے، {” فَاصْبِرْ “} میں نصیحت ہے اور{ ” اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ “ } میں تسلی اور خوش خبری ہے۔ ➍ اس واقعہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا حق ہونا بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے اُمّی ہونے کے باوجود نوح علیہ السلام کا واقعہ پورا پورا صحیح سنا دیا جو وحی الٰہی کے بغیر ممکن نہ تھا۔ ➎ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اپنی پوری کوشش کے باوجود اگر کسی صالح آدمی کا بیٹا صالح نہ بن سکے تو باپ اس میں بے قصور ہے۔ نوح علیہ السلام جیسا مہربان اور کامل مربی بھی اگر بیٹے کو راہ راست پر نہ لا سکا تو ہماری تمھاری کیا حیثیت ہے؟ اب اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور مشیت پر صبر و رضا کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ (قرطبی) ➏ قرآن مجید واقعات بیان کرتے وقت ان میں سے انھی حصوں کو نمایاں کرتا ہے جن سے کوئی نصیحت اور فائدہ حاصل ہو رہا ہو۔ ان کے وہ حصے جو اس مقصد سے خاص تعلق نہیں رکھتے انھیں چھوڑ دیتا ہے۔ مثلاً نوح علیہ السلام کی وہ کشتی کتنی مدت میں بنی، اس کا طول و عرض کیا تھا، اس میں سوار ہونے والے جانور کیسے جمع کیے گئے، اس میں کتنے کمرے تھے، کشتی کتنے دن پانی میں رہی، ”جودی“ پر کشتی سے اترنے کے بعد نوح علیہ السلام نے کہاں اقامت اختیار فرمائی اور طوفان کتنے دن زمین پر برپا رہا۔ رہے وہ قصے کہانیاں جو عام مشہور ہیں، وہ اکثر اسرائیلیات ہیں، جن کی شرع یا عقل سے تائید نہیں ہوتی۔ ➐ ایک مسئلہ جس پر بہت سے علماء نے بحث کی ہے، یہ بھی ہے کہ طوفان ساری زمین پر آیا تھا یا کچھ حصے پر؟ تفسیر المنار کے مصنف نے اپنے استاد شیخ محمد عبدہ مصری کا فتویٰ نقل کیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم اور احادیث کے ظاہر الفاظ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ طوفان نوح علیہ السلام کی پوری قوم پر آیا تھا اور ان کے علاوہ اس وقت پوری زمین پر کوئی اور آباد نہ تھا، اس لیے یہ عقیدہ رکھنا ضروری ہے، مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ طوفان پوری زمین پر آیا تھا، کیونکہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ پوری زمین قوم نوح سے بھری ہوئی تھی۔ یہ تاریخی مسائل قرآن کے مقاصد میں سے نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے صریح الفاظ میں کوئی وضاحت نہیں فرمائی۔ اس لیے ہم کہتے ہیں، قرآن کے ظاہر کا تقاضا یہی ہے جو اوپر بیان ہوا، اب اگر کسی علمی تحقیق سے اس کے خلاف کوئی بات ثابت ہو جائے تو اس سے قرآن و حدیث کی کسی قطعی و صریح بات پر کوئی حرف نہیں آتا۔ (الوسیط)
وَ اِلٰی عَادٍ اَخَاہُمۡ ہُوۡدًا ؕ قَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ ﴿۵۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہودؑ کو بھیجا اُس نے کہا "اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو، تمہارا کوئی خدا اُس کے سوا نہیں ہے تم نے محض جھوٹ گھڑ رکھے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو ہم نے بھیجا، اس نے کہا میری قوم والو! اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تم تو صرف بہتان باندھ رہے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور عاد کی طرف ان کے ہم قوم ہود کو کہا اے میری قوم! اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تم تو بڑے مفتری (بالکل جھوٹے الزام عائد کرنے والے) ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے قومِ عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں ہے تم محض افترا پردازی کر رہے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا)۔ اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ تم تو محض جھوٹ باندھنے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم ہود کی تاریخ ٭٭

اللہ تعالیٰ نے ہود علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول علیہ السلام بنا کر بھیجا، انہوں نے قوم کو اللہ کی توحید کی دعوت دی، اور اس کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ سے روکا، اور بتلایا کہ جن کو تم پوجتے ہو ان کی پوجا خود تم نے گھڑ لی ہے۔ بلکہ ان کے نام اور وجود تمہارے خیالی ڈھکوسلے ہیں۔ ان سے کہا کہ میں اپنی نصیحت کا کوئی بدلہ اور معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ثواب میرا رب مجھے دے گا۔ جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ کیا تم یہ موٹی سی بات بھی عقل میں نہیں لاتے کہ یہ دنیا آخرت کی بھلائی کی تمہیں راہ دکھانے والا ہے اور تم سے کوئی اجرت طلب کرنے والا نہیں۔ تم استغفار میں لگ جاؤ، گذشہ گناہوں کی معافی اللہ تعالیٰ سے طلب کرو۔ اور توبہ کرو، آئندہ کے لیے گناہوں سے رک جاؤ۔ یہ دونوں باتیں جس میں ہوں اللہ تعالیٰ اس کی روزی اس پر آسان کرتا ہے۔ اس کا کام اس پر سہل کرتا ہے۔ اس کی نشانی کی حفاظت کرتا ہے۔ سنو ایسا کرنے سے «يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا» [71-نوح:11] ‏‏‏‏ تم پر بارشیں برابر عمدہ اور زیادہ برسیں گی اور تمہاری قوت وطاقت میں دن دونی رات چوگنی برکتیں ہوں گی۔ حدیث شریف میں ہے { جو شخص استغفار کو لازم پکڑ لے اللہ تعالیٰ اسے ہر مشکل سے نجات دیتا ہے، ہر تنگی سے کشادگی عطا فرماتا ہے اور روزی تو اسی جگہ سے پہنچاتا ہے جو خود اس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1508،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏
50۔ 1 بھائی سے مراد انہی کی قوم کا ایک فرد۔ 50۔ 2 یعنی اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرا کر تم اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو۔
(آیت 50) ➊ {وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا قَالَ يٰقَوْمِ …: ” هُوْدًا “} عطف بیان ہے{” اَخَاهُمْ “} سے۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۶۵) اے مشرکو! اے کافرو! کے بجائے {” يٰقَوْمِ “} (اے میری قوم!)سے مخاطب کرنے سے ان کے ساتھ اپنا تعلق اور خیر خواہی ظاہر کرنا مقصود ہے۔ ➋ {اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ:مُفْتَرُوْنَ “ ” فَرَي“} سے باب افتعال ({اِفْتِرَاءٌ}) کا اسم فاعل جمع مذکر کا صیغہ ہے۔ افترا یعنی جان بوجھ کر ایسا جھوٹ بولنا جس کے متعلق بولنے والے کو بھی معلوم ہو کہ یہ صاف جھوٹ ہے، یعنی اللہ کے سوا عبادت کے لائق کوئی ہے ہی نہیں، تمھارا کسی غیر کو معبود بنانا محض افترا ہے۔