بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 13
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 13
آیت نمبر: 13 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ؕ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِعَشۡرِ سُوَرٍ مِّثۡلِہٖ مُفۡتَرَیٰتٍ وَّ ادۡعُوۡا مَنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۳﴾
کیا یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے یہ کتاب خود گھڑ لی ہے؟ کہو، "اچھا یہ بات ہے تو اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں تم بنا لاؤ اور اللہ کے سوا اور جو جو (تمہارے معبود) ہیں اُن کو مدد کے لیے بلا سکتے ہو تو بلا لو اگر تم (انہیں معبود سمجھنے میں) سچے ہو
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو اسی نے گھڑا ہے۔ جواب دیجئے کہ پھر تم بھی اسی کی مثل دس سورتیں گھڑی ہوئی لے آؤ اور اللہ کے سوا جسے چاہو اپنے ساتھ بلا بھی لو اگر تم سچے ہو
کیا یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اسے جی سے بنالیا، تم فرماؤ کہ تم ایسی بنائی ہوئی دس سورتیں لے آؤ اور اللہ کے سوا جو مل سکیں سب کو بلالو اگر تم سچے ہو
یا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس شخص (آپ) نے یہ (قرآن) خود گھڑ لیا ہے؟ آپ فرمائیے اگر تم اس دعویٰ میں سچے ہو تو تم بھی اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں لے آؤ۔ اور بے شک اللہ کے سوا جس کو (اپنی مدد کیلئے) بلانا چاہتے ہو بلا لو۔
یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے۔ کہہ دے پھر اس جیسی دس سورتیں گھڑی ہوئی لے آئو اور اللہ کے سوا جسے بلا سکتے ہو بلا لو، اگر تم سچے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کافروں کی تنقید کی پراہ نہ کریں ٭٭

کافروں کی زبان پر جو آتا وہی طعنہ بازی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے سچے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو دلاسا اور تسلی دیتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ اس سے کام میں سستی کریں، نہ تنگ دل ہوں یہ تو ان کا شیوہ ہے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «‏‏‏‏وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:7،8] ‏‏‏‏ ’ کبھی وہ کہتے ہیں اگر یہ رسول ہے تو کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ بازاوں میں کیوں آتا جاتا ہے؟ اس کی ہم نوائی میں کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتر؟ اسے کوئی خزانہ کیوں نہیں دیا گیا؟ اس کے کھانے کو کوئی خاص باغ کیوں نہیں بنایا گیا؟ مسلمانوں کو طعنہ دیتے ہیں کہ تم تو اس کے پیچھے چل رہے ہو۔ جس پر جادو کر دیا گیا ہے ‘۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [15-الحجر:97-99] ‏‏‏‏ ’ اے پیغمبر! آپ ملول خاطر نہ ہوں، آزردہ دل نہ ہوں، اپنے کام سے نہ رکئے، انہیں حق کی پکار سنانے میں کوتاہی نہ کیجئے، دن رات اللہ کی طرف بلاتے رہیئے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ان کی تکلیف دہ باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بری لگتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم توجہ بھی نہ کیجئے۔ ایسا نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مایوس ہو جائیں یا تنگ دل ہو کر بیٹھ جائیں کہ یہ آوازے کستے، پھبتیاں اڑاتے ہیں۔ اپنے سے پہلے کے رسولوں کو دیکھئیے سب جھٹلائے گئے ستائے گئے اور صابر و ثابت قدم رہے یہاں تک اللہ کی مدد آپہنچی ‘۔

پھر قرآن کا معجزہ بیان فرمایا کہ ’ اس جیسا قرآن لانا تو کہاں؟ اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی ساری دنیا مل کر بنا کر نہیں لا سکتی اس لیے کہ یہ اللہ کا کلام ہے ‘۔ جیسی اس کی ذات مثال سے پاک، ویسے ہی اس کی صفتیں بھی بے مثال۔ اس کے کلام جیسا مخلوق کا کلام ہو یہ ناممکن ہے۔ اللہ کی ذات اس سے بلند بالا پاک اور منفرد ہے معبود اور رب صرف وہی ہے۔ جب تم سے یہی نہیں ہو سکتا اور اب تک نہیں ہو سکا تو یقین کر لو کہ تم اس کے بنانے سے عاجز ہو اور دراصل یہ اللہ کا کلام ہے اور اسی کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اس کا علم، اس کے حکم احکام اور اس کی روک ٹوک اسی کلام میں ہیں اور ساتھ ہی مان لو کہ معبود برحق صرف وہی ہے بس آؤ اسلام کے جھنڈے تلے کھڑے ہو جاؤ۔

📖 احسن البیان

13۔ 1 امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے چلینج دیا کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا بنایا ہوا قرآن ہے، تو اس کی نظیر پیش کر کے دکھا دو، اور تم جس کی چاہو، مدد حاصل کرلو، لیکن تم کبھی ایسا نہیں کرسکو گے۔ فرمایا " قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا " 17۔ الاسراء:88) (اعلان کر دیجئے کہ اگر تمام انسان اور کل جنات مل کر اس قرآن کے مثل لانا چاہیں تو ان سب سے اس کے مثل لانا مشکل ہے، گو وہ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے چلنج دیا کہ پورا قرآن بنا کر پیش نہیں کرسکتے تو دس سورتیں ہی بنا کر پیش کردو۔ جیسا کہ اس مقام پر ہے۔ پھر تیسرے نمبر پر چیلنچ دیا کہ چلو ایک سورت بنا کر پیش کرو جیسا کہ سورة یونس کی آیت نمبر 39 اور سورة بقرہ کے آغاز میں فرمایا (تفسیر ابن کثیر، زیر بحث آیت سورة یونس) اور اس بنا پر آخری چیلنچ یہ ہوسکتا ہے کہ اس جیسی ایک بات ہی بنا کر پیش کردو۔ " فَلْيَاْتُوْا بِحَدِيْثٍ مِّثْلِهٖٓ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِيْنَ 34؀ۭ" 52۔ الطور:34) مگر ترتیب نزول سے چیلنج کی اس ترتیب کی تائید نہیں ہوتی۔ واللہ اعلم با الصواب۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 13) {اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ …:} یعنی اگر تمھیں اس قرآن کے اللہ تعالیٰ کا کلام ہونے میں شک و شبہ ہے تو تم سب جمع ہو کر اس چیلنج کا جواب دینے کی کوشش کرو۔ واضح رہے کہ قرآن میں متعدد مرتبہ اہل عرب کو چیلنج کیا گیا ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل (۸۸) اور سورۂ طور (۳۴) میں پورے قرآن کی مثل لانے کا چیلنج کیا گیا ہے۔ اس کے بعد یہاں سورۂ ہود میں دس سورتوں کا چیلنج کیا گیا ہے۔ پھر سورۂ یونس اور بقرہ میں ایک سورت کا۔ لیکن اہل عرب پورا قرآن یا دس سورتیں تو کیا ایک سورت بھی بنا کر پیش نہ کر سکے۔ یہ قرآن کے کلام اللہ ہونے کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ (ابن کثیر) یاد رہے کہ قرآن مجید کا معجز ہونا، یعنی اس جیسی ایک سورت کی تصنیف بھی ناممکن ہونے کی وجہ قرآن مجید کی بے شمار خوبیاں ہیں، جو مخلوق کی بساط سے باہر ہیں۔ مسلم علماء نے اس پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں، جن کا عنوان ہی ”اعجاز القرآن“ (ازباقلانی، صالح بن عبد العزیز وغیرہ) یا اس سے ملتا جلتا ہے۔ ان خوبیوں میں اس کی فصاحت و بلاغت کے ساتھ ساتھ اس کے اندازِ بیان کا اللہ کی شان کے مطابق جلال و جمال، اس کی کسی پیش گوئی یا خبر کا غلط نہ ہونا، اس کی آیات کا ایک دوسرے سے ٹکرانے سے پاک ہونا اور اس کی جامعیت وغیرہ بھی شامل ہیں۔
← پچھلی آیت (12) پوری سورۃ اگلی آیت (14) →