بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 33
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 33
آیت نمبر: 33 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
قَالَ اِنَّمَا یَاۡتِیۡکُمۡ بِہِ اللّٰہُ اِنۡ شَآءَ وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿۳۳﴾
نوحؑ نے جواب دیا "وہ تو اللہ ہی لائے گا، اگر چاہے گا، اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے روک دو
جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالیٰ ہی ﻻئے گا اگر وه چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو
بولا وہ تو اللہ تم پر لائے گا اگر چاہے اور تم تھکا نہ سکو گے
نوح(ع) نے کہا وہ (عذاب) تو اللہ ہی لائے گا جب چاہے گا اور تم اسے عاجز نہیں کر سکتے۔
اس نے کہا وہ تو تم پر اللہ ہی لائے گا،اگر اس نے چاہا اور تم ہرگز عاجز کرنے والے نہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قوم نوح کی عجلت پسندی کی حماقت ٭٭

قوم نوح کی عجلت بیان ہو رہی ہے کہ ’ عذاب مانگ بیٹھے۔ کہنے لگے بس حجتیں تو ہم نے بہت سی سن لیں۔ آخری فیصلہ ہمارا یہ ہے کہ ہم تو تیری تابعداری نہیں کرنے کے اب اگر تو سچا ہے تو دعا کر کے ہم پر عذاب لے آؤ ‘۔ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”یہ بھی میرے بس کی بات نہیں اللہ کے ہاتھ ہے۔ اسے کوئی عاجز کرنے والا نہیں اگر اللہ کا ارادہ ہی تمہاری گمراہی اور بربادی کا ہے تو پھر واقعی میری نصیحت بے سود ہے۔ سب کا مالک اللہ ہی ہے تمام کاموں کی تکمیل اسی کے ہاتھ ہے۔ متصرف، حاکم، عادل، غیر ظالم، فیصلوں کے امر کا مالک، ابتداء پیدا کرنے والا، پھر لوٹانے والا، دنیا و آخرت کا تنہا مالک وہی ہے۔ ساری مخلوق کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

33۔ 1 یعنی عذاب کا آنا خالص اللہ کی مشیت پر موقوف ہے، یہ نہیں ہے کہ جب میں چاہوں، تم پر عذاب آجائے۔ تاہم جب اللہ عذاب کا فیصلہ کرلے گا یا بھیج دے گا، تو پھر اس کو کوئی عاجز کرنے والا نہیں ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 34،33) نوح علیہ السلام نے جواب میں کسی تلخی کا مظاہرہ نہیں کیا، بلکہ اپنی اور اللہ تعالیٰ کی حیثیت واضح فرمائی کہ عذاب لانا یا نہ لانا میرا کام نہیں، یہ تو اللہ کا اختیار ہے۔ وہ اگر چاہے گا تو تم پر عذاب لے آئے گا، پھر تم اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نکل نہیں سکو گے اور جس طرح کائنات کا ایک ذرہ بھی اللہ کی مرضی کے بغیر حرکت یا سکون میں نہیں آ سکتا، انسان ہدایت اور گمراہی کی ایک حد تک اختیار رکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے ارادے اور اس کی توفیق کے بغیر پیغمبر کی خیر خواہی اور نصیحت سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
← پچھلی آیت (32) پوری سورۃ اگلی آیت (34) →