بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 32
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 32
آیت نمبر: 32 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
قَالُوۡا یٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَکۡثَرۡتَ جِدَالَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۳۲﴾
آخر کار ان لوگوں نے کہا کہ "اے نوحؑ، تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت کر لیا اب تو بس وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو اگر سچے ہو"
(قوم کے لوگوں نے) کہا اے نوح! تو نے ہم سے بحﺚ کر لی اور خوب بحﺚ کر لی۔ اب تو جس چیز سے ہمیں دھمکا رہا ہے وہی ہمارے پاس لے آ، اگر تو سچوں میں ہے
بولے اے نوح تم ہم سے جھگڑے اور بہت ہی جھگڑے تو لے ا ٓ ؤ جس کا ہمیں وعدے دے رہے ہو اگر تم سچے ہو،
ان لوگوں نے کہا اے نوح! تم نے ہم سے بحث و تکرار کی ہے اور بہت کر لی (اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے) اگر تم سچے ہو تو وہ (عذاب) ہمارے پاس لاؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو۔
انھوں نے کہا اے نوح! بے شک تونے ہم سے جھگڑا کیا، پھر ہم سے بہت جھگڑا کیا، پس لے آ ہم پر جس جس کا تو ہمیں وعدہ دیتا ہے، اگر تو سچوں سے ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قوم نوح کی عجلت پسندی کی حماقت ٭٭

قوم نوح کی عجلت بیان ہو رہی ہے کہ ’ عذاب مانگ بیٹھے۔ کہنے لگے بس حجتیں تو ہم نے بہت سی سن لیں۔ آخری فیصلہ ہمارا یہ ہے کہ ہم تو تیری تابعداری نہیں کرنے کے اب اگر تو سچا ہے تو دعا کر کے ہم پر عذاب لے آؤ ‘۔ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”یہ بھی میرے بس کی بات نہیں اللہ کے ہاتھ ہے۔ اسے کوئی عاجز کرنے والا نہیں اگر اللہ کا ارادہ ہی تمہاری گمراہی اور بربادی کا ہے تو پھر واقعی میری نصیحت بے سود ہے۔ سب کا مالک اللہ ہی ہے تمام کاموں کی تکمیل اسی کے ہاتھ ہے۔ متصرف، حاکم، عادل، غیر ظالم، فیصلوں کے امر کا مالک، ابتداء پیدا کرنے والا، پھر لوٹانے والا، دنیا و آخرت کا تنہا مالک وہی ہے۔ ساری مخلوق کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

32۔ 1 لیکن اس کے باوجود ہم ایمان نہیں لائے۔ 32۔ 2 یہ وہی حماقت ہے جس کا ارتکاب گمراہ قومیں کرتی آئی ہیں کہ وہ اپنے پیغمبر سے کہتی رہی ہیں کہ اگر تو سچا ہے تو ہم پر عذاب نازل کروا کر ہمیں تباہ کروا دے۔ حالانکہ ان میں عقل ہوتی، تو وہ کہتیں کہ اگر سچا ہے اور واقعی اللہ کا رسول ہے، تو ہمارے لئے دعا کر کہ اللہ تعالیٰ ہمارا سینہ بھی کھول دے تاکہ ہم اسے اپنا لیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 32){قَالُوْا يٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا …:} جب وہ نوح علیہ السلام کے دلائل کے سامنے بے بس ہو گئے اور نوح علیہ السلام ایک مدت دراز تک (۹۵۰ سال۔ عنکبوت: ۱۴) دن رات ایک ایک شخص کو اور پوری پوری مجلس کو (دیکھیے سورۂ نوح) اللہ کی توحید سمجھاتے رہے، نہ تھکے اور نہ ہمت ہاری تو بجائے اس کے کہ ان کی قوم ایمان لے آتی یا اللہ سے درخواست کرتی کہ اے اللہ! اگر نوح علیہ السلام کی بات سچ ہے تو اس کے لیے ہمارے سینے کھول دے، الٹا عذاب الٰہی لانے کا مطالبہ کر دیا۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ شرک انسان کو عقل اور فطرتِ الٰہی پر چلنے سے کس حد تک محروم کر دیتا ہے اور اس کی بھی کہ مشرک پرانے زمانے کا ہو یا آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا، دونوں ایک ہی طرح عقل سے خالی ہو جاتے ہیں۔ دیکھیے ابوجہل اور مشرکین مکہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا ہونے کی صورت میں اللہ تعالیٰ سے دعا جو سورۂ انفال (۳۲) میں مذکور ہے۔
← پچھلی آیت (31) پوری سورۃ اگلی آیت (33) →