بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 20
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 20
آیت نمبر: 20 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
اُولٰٓئِکَ لَمۡ یَکُوۡنُوۡا مُعۡجِزِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا کَانَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ اَوۡلِیَآءَ ۘ یُضٰعَفُ لَہُمُ الۡعَذَابُ ؕ مَا کَانُوۡا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ السَّمۡعَ وَ مَا کَانُوۡا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۲۰﴾
وہ زمین میں اللہ کو بے بس کرنے والے نہ تھے اور نہ اللہ کے مقابلہ میں کوئی ان کا حامی تھا انہیں اب دوہرا عذاب دیا جائے گا وہ نہ کسی کی سن ہی سکتے تھے اور نہ خود ہی انہیں کچھ سوجھتا تھا
نہ یہ لوگ دنیا میں اللہ کو ہرا سکے اور نہ ان کا کوئی حمایتی اللہ کے سوا ہوا، ان کے لئے عذاب دگنا کیا جائے گا نہ یہ سننے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ یہ دیکھتے ہی تھے
وہ تھکانے والے نہیں زمین میں اور نہ اللہ سے جدا ان کے کوئی حمایتی انہیں عذاب پر عذاب ہوگا وہ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے
یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو عاجز کرنے والے نہیں تھے اور نہ خدا کے علاوہ ان کا کوئی مددگار اور کارساز تھا۔ ان کو دوگنا عذاب ہوگا۔ (کیونکہ) یہ نہ (حق بات) سن سکتے ہیں۔ اور نہ (حقیقت) دیکھ سکتے تھے۔
یہ لوگ کبھی زمین میں عاجز کرنے والے نہیں اور نہ کبھی ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار ہیں، ان کے لیے عذاب دگنا کیا جائے گا۔ وہ نہ سننے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ دیکھا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ جل شانہ پہ بہتان باندھنے والے ٭٭

جو لوگ اللہ کے ذمے بہتان باندھ لیں، ان کا انجام اور قیامت کے دن کی ساری مخلوق کے سامنے ان کی رسوائی کا بیان ہو رہا ہے۔ مسند احمد میں صفوان بن محزر کہتے ہیں کہ { میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا پھر پوچھنے لگا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے دن کی سرگوشی کی بارے میں کیا سنا ہے؟ آپ نے فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عزجل مومن کو اپنے سے قریب کرے گا یہاں تک کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور اسے لوگوں کی نگاہوں سے چھپا لے گا اور اسے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا کہ کیا تجھے اپنا فلاں گناہ یاد ہے؟ اور فلاں بھی اور فلاں بھی؟ یہ اقرار کرتا جائے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ بس اب ہلاک ہوا۔ اس وقت ارحم الراحمین فرمائے گا کہ ’ میرے بندے دنیا میں ان پر پردہ ڈالتا رہا سن آج بھی میں انہیں بخشتا ہوں ‘۔ پھر اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ اسے دے دیا جائے گا۔ اور کفار اور منافقین پر نو گواہ پیش ہوں گے جو کہیں گے کہ یہی وہ ہیں جو اللہ پر جھوٹ بولتے تھے یاد رہے کہ ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2441] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔

یہ لوگ اتباع حق، ہدایت اور جنت سے اوروں کو روکتے رہے اور اپنا طریقہ ٹیڑھا ترچھا ہی تلاش کرتے رہے ساتھ ہی قیامت اور آخرت کے دن کے بھی منکر ہی رہے اور اسے مانا ہی نہیں۔ یاد رہے کہ یہ اللہ کے ماتحت ہیں وہ ان سے ہر وقت انتقام لینے پر قادر ہے، اگر چاہے تو آخرت سے پہلے دنیا میں ہی پکڑ لے لیکن اس کی طرف سے تھوڑی سی ڈھیل انہیں مل گئی ہے۔ اور آیت میں ہے «يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:42] ‏‏‏‏ ’ وه تو انہیں اس دن تک مہلت دیے ہوئے ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی ره جائیں گی ‘۔ بخاری و مسلم میں ہے { اللہ تعالیٰ ظالموں کو مہلت دے دیتا ہے بالآخر جب پکڑتا ہے تب چھوڑتا ہی نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2583] ‏‏‏‏ ان کی سزائیں بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ اس لیے کہ اللہ کی دی ہوئی قوتوں سے انہوں نے کام نہ لیا۔ سننے سے کانوں کو بہرہ رکھا۔ حق کی تابعداری سے آنکھوں کو اندھا رکھا جہنم میں جاتے وقت خود ہی کہیں گے کہ «وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ» ۱؎ [67-الملک:10] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر سنتے ہوتے عقل رکھتے ہوتے تو آج دوزخی نہ بنتے ‘۔ یہی فرمان «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» ۱؎ [16-النحل:88] ‏‏‏‏ میں ہے کہ ’ کافروں کے لیے اللہ کی راہ سے روکنے والوں کے لیے عذاب پر عذاب بڑھتا چلا جائے گا۔ ہر ایک حکم عدولی پر، ہر ایک برائی کے کام پر سزا بھگتیں گے ‘۔ پس صحیح قول یہی ہے کہ آخرت کی نسبت کے اعتبار سے کفار بھی فروع شرع کے مکلف ہیں۔ یہی ہیں وہ جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا اور خود اپنے تئیں جہنمی بنایا۔ جہاں کا عذاب ذرا سی دیر بھی ہلکا نہیں ہوگا۔ «مَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا» ۱؎ [17-الاسراء:97] ‏‏‏‏ ’ آگ کے شعلے کم ہونے تو کہاں اور تیز تیز ہوتے جائیں گے ‘ جنہیں انہوں نے گھڑ لیا تھا یعنی بت اور اللہ کے شریک وغیرہ آج وہ ان کے کسی کام نہ آئیں گے بلکہ نظر بھی نہ پڑیں گے بلکہ اور نقصان پہنچائیں گے۔

وہ تو ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کے شرک سے صاف مکر جائیں گے۔ «وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ آلِهَةً لِّيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» ۱؎ [19-مريم:81، 82] ‏‏‏‏ ’ گو یہ انہیں باعث عزت سمجھتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ان کے لیے باعث ذلت ہیں۔ کھلے طور پر اس بات کا قیامت کے دن انکار کر دیں گے کہ ان مشرکوں نے انہیں پوجا۔ ‘ یہ ارشاد خلیل الرحمن علیہ السلام کا اپنی قوم سے تھا کہ «وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» ۱؎ [29-العنکبوت:25] ‏‏‏‏ ’ ان بتوں سے گو تم دنیوی تعلقات وابستہ رکھو لیکن قیامت کے دن ایک دوسرے کا انکار کر دیں گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگیں گے۔ اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہو گا اور کوئی کسی کو کوئی مدد نہ پہنچائے گا ‘۔ یہی مضمون آیت «اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْـبَابُ» ۱؎ [2-البقرة:166] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ اس وقت پیشوا لوگ اپنے مریدوں سے دست بردار ہو جائیں گے عذاب الٰہی آنکھوں دیکھ لیں گے اور باہمی تعلقات سب منقطع ہو جائیں گے ‘۔ اسی قسم کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں وہ بھی ان کی ہلاکت اور نقصان کی خبر دیتی ہیں۔ یقیناً یہی لوگ قیامت کے دن سب سے زیادہ نقصان اٹھائیں گے۔ جنت کے درجوں کے بدلے انہوں نے جہنم کے گڑھے لیے۔ اللہ کی نعمتوں کے بدلے جہنم کی آگ قبول کی۔ میٹھے ٹھنڈے خوشگوار جنتی پانی کے بدلے جہنم کا آگ جیسا کھولتا ہوا گرم پانی انہیں حورعین کے بدلے لہو پیپ اور بلند و بالا محلات کے بدلے دوزخ کے تنگ مقامات انہوں نے لیے، رب رحمن کی نزدیکی اور دیدار کے بدلے اس کا غضب اور سزا انہیں ملی۔ بیشک یہاں یہ سخت گھاٹے میں رہے۔

📖 احسن البیان

20۔ 1 یعنی ان کا حق سے اعراض اور بغض اس انتہا تک پہنچا ہوا تھا کہ یہ اسے سننے اور دیکھنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے تھے یا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے ان کو کان اور آنکھیں تو دی تھیں لیکن انہوں نے ان سے کوئی بات نہ سنی اور نہ دیکھی۔ گویا ' (فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَآ اَبْصَارُهُمْ وَلَآ اَفْــِٕدَتُهُمْ مِّنْ شَيْءٍ) 46۔ الاحقاف:26) نہ ان کے کانوں نے انھیں کوئی فائدہ پہنچایا، نہ ان کی آنکھوں اور دلوں نے ' کیونکہ وہ حق سننے سے بہرے اور حق دیکھنے سے اندھے بنے رہے، جس طرح کہ وہ جہنم میں داخل ہوتے ہوئے کہیں گے (لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ 10 ؀) 67۔ الملک:10) ' اگر ہم سنتے اور عقل سے کام لیتے تو آج جہنم میں نہ جاتے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 20) ➊ { اُولٰٓىِٕكَ لَمْ يَكُوْنُوْا مُعْجِزِيْنَ …:} یعنی یہ لوگ کبھی بھی اللہ کو عاجز کرکے اس کی گرفت سے بھاگ نہیں سکتے۔ وہ جب پکڑنا چاہے گا، اس زمین پر بھی پکڑ لے گا اور آخرت کا تو کہنا ہی کیا ہے۔ پھر اللہ کے سوا کبھی کوئی ان کا مددگار نہیں ہو گا جو انھیں اللہ کے عذاب اور پکڑ سے چھڑا سکے۔ ➋ { يُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ:} ایک اپنے گمراہ ہونے کا عذاب، دوسرا لوگوں کو اللہ کی راہ سے روک کر گمراہ کرنے کا عذاب۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۳۷، ۳۸) اور عنکبوت (۱۲، ۱۳)۔ ➌ { مَا كَانُوْا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا يُبْصِرُوْنَ:} یعنی کان اور آنکھیں رکھنے کے باوجود حق سنتے یا دیکھتے نہیں تھے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۷۹) اور ایک معنی یہ ہے کہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنا بغض تھا کہ وہ آپ کی بات سن سکتے تھے نہ وہ آپ کو دیکھنا گوارا کرتے تھے۔
← پچھلی آیت (19) پوری سورۃ اگلی آیت (21) →