بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 17
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 17
آیت نمبر: 17 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
اَفَمَنۡ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ وَ یَتۡلُوۡہُ شَاہِدٌ مِّنۡہُ وَ مِنۡ قَبۡلِہٖ کِتٰبُ مُوۡسٰۤی اِمَامًا وَّ رَحۡمَۃً ؕ اُولٰٓئِکَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِہٖ مِنَ الۡاَحۡزَابِ فَالنَّارُ مَوۡعِدُہٗ ۚ فَلَا تَکُ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡہُ ٭ اِنَّہُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۷﴾
پھر بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا، اس کے بعد ایک گواہ بھی پروردگار کی طرف سے (اس شہادت کی تائید میں) آ گیا، اور پہلے موسیٰؑ کی کتاب رہنما اور رحمت کے طور پر آئی ہوئی بھی موجود تھی (کیا وہ بھی دنیا پرستوں کی طرح اس سے انکار کرسکتا ہے؟) ایسے لوگ تو اس پر ایمان ہی لائیں گے اور انسانی گروہوں میں سے جو کوئی اس کا انکار کرے تو اس کے لیے جس جگہ کا وعدہ ہے وہ دوزخ ہے پس اے پیغمبرؐ، تم اِس چیز کی طرف سے کسی شک میں نہ پڑنا، یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے
کیا وه شخص جو اپنے رب کے پاس کی دلیل پر ہو اور اس کے ساتھ اللہ کی طرف کا گواه ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (گواه ہو) جو پیشوا اور رحمت ہے (اوروں کے برابر ہو سکتا ہے؟) یہی لوگ ہیں جو اس پر ایمان رکھتے ہیں، اور تمام فرقوں میں سے جو بھی اس کا منکر ہو اس کے آخری وعدے کی جگہ جہنم ہے، پس تو اس میں کسی قسم کے شبہ میں نہ ره، یقیناً یہ تیرے رب کی جانب سے سراسر برحق ہے، لیکن اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے نہیں ہوتے
تو کیا وہ جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اور اس پر اللہ کی طرف سے گواہ آئے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، اور جو اس کا منکر ہو سارے گروہوں میں تو آگ اس کا وعدہ ہے تو اے سننے والے! تجھے کچھ اس میں شک نہ ہو، بیشک وہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے لیکن بہت آدمی ایمان نہیں رکھتے،
کیا جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے (اپنی صداقت کی) کھلی ہوئی دلیل رکھتا ہے اور جس کے پیچھے ایک گواہ بھی ہے جو اسی کا جزء ہے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (توراۃ) بھی رحمت و راہنمائی کے طور پر آچکی ہے (اور اس کی تصدیق بھی کر رہی ہے) یہ لوگ اس پر ایمان لائیں گے اور جو مختلف گروہوں میں سے اس کا انکار کرے گا اس کی وعدہ گاہ آتشِ دوزخ ہے خبردار تم! اس کے بارے میں شک میں نہ پڑنا وہ آپ کے پروردگار کی طرف سے برحق ہے مگر اکثر لوگ (حق پر) ایمان نہیں لاتے۔
تو کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہو اور اس کی طرف سے ایک گواہ اس کی تائید کر رہا ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب بھی جو امام اور رحمت تھی، یہ لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ اور گروہوں میں سے جو اس کا انکار کرے تو آگ ہی اس کے وعدے کی جگہ ہے۔ سو تو اس کے بارے میں کسی شک میں نہ رہ، یقینا یہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے اور لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مومن کون ہیں؟ ٭٭

ان مومنوں کا وصف بیان ہو رہا ہے جو فطرت پر قائم ہیں جو اللہ کی وحدانیت کو دل سے مانتے ہیں۔ جیسے حکم الٰہی ہے کہ «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ» [30-الروم:30] ‏‏‏‏ ’ اپنا منہ دین حنیف پر قائم کر دے اللہ کی فطرت جس پر اس نے انسانی فطرت پیدا کی ہے ‘۔ بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے کہ جانوروں کے بچے صحیح سالم پیدا ہوتے ہیں پھر لوگ ان کے کان کاٹ ڈالتے ہیں } }۔ [صحیح بخاری:1381] ‏‏‏‏ مسلم شریف کی حدیث قدسی میں ہے { میں نے اپنے تمام بندوں کو موحد پیدا کیا ہے لیکن پھر شیطان آ کر انہیں ان کے دین سے بہکا دیتا ہے اور میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیتا ہے اور انہیں کہتا ہے کہ میرے ساتھ انہیں شریک کریں جن کی کوئی دلیل میں نے نہیں اتاری }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏ مسند اور سنن میں ہے کہ { ہر بچہ اسی ملت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی زبان کھلے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:402/1:صحیح] ‏‏‏‏ پس مومن فطرت رب پر ہی باقی رہا ہے۔ پس ایک تو فطرت اس کی صحیح سالم ہوتی ہے پھر اس کے پاس اللہ کا شاہد آتا ہے یعنی اللہ کی شریعت پیغمبر کے ذریعے پہنچتی ہے جو شریعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے ساتھ ختم ہوئی۔ پس شاہد سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اللہ کی رسالت اولاً جبرائیل علیہ السلام لائے اور آپ کے واسطے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم }۔ ایک قول میں کہا گیا ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ ہیں لیکن وہ قول ضعیف ہے۔ اس کا کوئی قائل ثابت ہی نہیں۔

حق بات پہلی ہی ہے۔ پس مومن کی فطرت اللہ کی وحی سے مل جاتی ہے۔ اجمالی طور پر اسے پہلے سے ہی یقین ہوتا ہے، پھر شریعت کی تفصیلات کو مان لیتا ہے۔ اس کی فطرت ایک ایک مسئلے کی تصدیق کرتی جاتی ہے۔ پس فطرت سلیم، اس کے ساتھ قرآن کی تعلیم، جسے جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو۔ پھر اس سے پہلے کی ایک اور تائید بھی موجود ہے، وہ کتاب موسیٰ علیہ السلام یعنی تورات جسے اللہ نے اس زمانے کی امت کے لیے پیشوائی کے قابل بنا کر بھیجی تھی اور جو اللہ کی طرف سے رحمت تھی اس پر جن کا پورا ایمان ہے وہ لامحالہ اس نبی علیہ السلام اور اس کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں کیونکہ اس کتاب نے اس کتاب پر ایمان لانے کی رہنمائی کی ہے۔ پس یہ لوگ اس کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ پھر پورے قرآن کو یا اس کے کسی حصے کو نہ ماننے والوں کی سزا کا بیان فرمایا کہ ’ دنیا والوں میں سے جو گروہ جو فرقہ اسے نہ مانے خواہ یہودی ہو، خواہ نصرانی کہیں کا ہو، کوئی ہو، کسی رنگت اور شکل و صورت کا ہو، قرآن پہنچا اور نہ مانا وہ جہنمی ہے ‘۔ جیسے رب العالمین نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اسی قرآن کریم میں فرمایا ہے، «لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ» ۱؎ [6-الأنعام:19] ‏‏‏‏ کہ ’ میں اس سے تمہیں بھی آگاہ کر رہا ہوں اور انہیں بھی جنہیں یہ پہنچ جائے ‘۔ اور آیت میں ہے «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّـهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [7-الأعراف:158] ‏‏‏‏ ’ لوگوں میں اعلان کر دو کہ اے انسانو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں ‘۔

صحیح مسلم میں ہے { رسول اللہ «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْلِیْماً» فرماتے ہیں ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس امت میں سے جو بھی مجھے سن لے اور پھر مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جہنمی ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:153] ‏‏‏‏ سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں جو صحیح حدیث سنتا ہوں اس کی تصدیق کتاب اللہ میں ضرور پاتا ہوں۔ مندرجہ بالا حدیث سن کر میں اس تلاش میں لگا کہ اس کی تصدیق قرآن کی کسی آیت سے ہوتی ہے تو مجھے یہ آیت ملی پس تمام دین والے اس سے مراد ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:18087:صحیح] ‏‏‏‏ پھر جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ’ اس قرآن کے اللہ کی طرف سے سراسر حق ہونے میں تجھے کوئی شک و شبہ نہ کرنا چاہیئے ‘۔ جیسے ارشاد ہے کہ «الم تَنزِيلُ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» ’ اس کتاب کے رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ‘ ۱؎ [32-السجدة:1-2] ‏‏‏‏ اور جگہ ہے «الم ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ» ۱؎ [2-البقرة:2-1] ‏‏‏‏ ’ اس کتاب میں کوئی شک نہیں ‘۔ پھر ارشاد ہے کہ ’ اکثر لوگ ایمان سے کورے ہوتے ہیں ‘، جیسے فرمان ہے «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [12-یوسف:103] ‏‏‏‏ یعنی ’ گو تیری چاہت ہو لیکن یقین کر لے کہ اکثر لوگ مومن نہیں ہونگے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:116] ‏‏‏‏ ’ اگر تو دنیا والوں کی اکثریت کی پیروی کرے گا تو وہ تو تجھے راہ حق سے بھٹکا دیں گے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ اِبْلِيْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» [34-سبأ:20] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان پر ابلیس نے اپنا گمان سچ کر دکھایا اور سوائے مومنوں کی ایک مختصر سی جماعت کے باقی سب اسی کے پیچھے لگ گئے ‘۔

📖 احسن البیان

17۔ 1 منکرین اور کافرین کے مقابلے میں اہل فطرت اور اہل ایمان کا تذکرہ کیا جا رہا ہے ' اپنے رب کی طرف سے دلیل ' سے مراد وہ فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا فرمایا اور وہ اللہ واحد کا اعتراف اور اسی کی عبادت جس طرح کہ نبی کا فرمان ہے کہ ' ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پس اس کے بعد اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں (صحیح بخاری) یتلوہ کے معنی ہیں اس کے پیچھے یعنی اس کے ساتھ اللہ کی طرف سے ایک گواہ بھی ہو گواہ سے مراد قرآن، یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جو اس فطرت صحیحہ کی طرف دعوت دیتے اور اس کی نشاندہی کرتے ہیں اور اس سے پہلے حضرت موسیٰ ؑ کی کتاب تورات بھی جو پیشوا بھی ہے اور رحمت کا سبب بھی یعنی کتاب موسیٰ ؑ بھی قرآن پر ایمان لانے کی طرف رہنمائی کرنے والی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک وہ شخص ہے جو منکر اور کافر ہے اور اس کے مقابلے میں ایک دوسرا شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل پر قائم ہے، اس پر ایک گواہ (قرآن۔ یا پیغمبر اسلام بھی ہے، اسی طرح اس سے قبل نازل ہونے والی کتاب تورات، میں بھی اس کے لئے پیشوائی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اور وہ ایمان لے آتا ہے کیا یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ ایک مومن ہے اور دوسرا کافر۔ ہر طرح کے دلائل سے لیس ہے اور دوسرا بالکل خالی ہے۔ 17۔ 2 یعنی جن کے اندر مذکورہ اوصاف پائے جائیں گے وہ قرآن کریم اور نبی پر ایمان لائیں گے۔ 17۔ 3 تمام فرقوں سے مراد روئے زمین پر پائے جانے والے مذاہب ہیں، یہودی، عیسائی، زرتشی، بدھ مت، مجوسی اور مشرکین و کفار وغیرہ، جو بھی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے گا، اس کا ٹھکانا جہنم ہے یہ وہی مضمون ہے جسے اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے " قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس امت کے جس یہودی، یا عیسائی نے بھی میری نبوت کی بابت سنا اور پھر مجھ پر ایمان نہیں لایا وہ جہنم میں جائے ہے " (صحیح مسلم کتاب الایمان، باب وجوب الایمان برسالۃ نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم الی جمیع الناس) یہ مضمون اس سے پہلے سورة بقرہ آیت 62 (خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا ھُمْ يُنْظَرُوْنَ 162۔) اور سورة نساء آیت 150، 152 (اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ ۙ وَّيُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا 150؀ۙ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا ۚ وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّهِيْنًا 151؁ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَلَمْ يُفَرِّقُوْا بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰۗىِٕكَ سَوْفَ يُؤْتِيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ ۭوَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 152؀) 4۔ النساء:150 تا 152) میں گزر چکا ہے۔ 17۔ 4 یہ وہی مضمون ہے جو قرآن مجید کے مختلف مقامات پر بیان کیا گیا (وَمَآ اَکْثَرُالنَّاسِ وَلَوْ حَرَصَتْ بِمُؤ مِنِیْنَ) (سورۃ یوسف۔ 13) (وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ 13۔) 12۔ یوسف:13) ' تیری خواہش کے باوجود اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے ' ابلیس نے اپنا گمان سچا کر دکھایا، مومنوں کے ایک گروہ کے سوا، سب اس کے پیروکار بن گئے '۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 17) ➊ {اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ …: ” يَتْلُوْهُ “ ” تَلاَ يَتْلُوْ “} کا معنی ہے پیچھے آنا، مراد اس کی تائید کرنا ہے۔ اس آیت کی مفسرین نے کئی تفسیریں کی ہیں، ان میں سے دو تفسیریں زیادہ درست معلوم ہوتی ہیں۔ سب سے واضح اور درست تفسیر تو یہ ہے کہ کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے {” بَيِّنَةٍ “} (واضح دلیل) پر ہے، اس شخص سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبع مومن ہیں۔ {” بَيِّنَةٍ “} سے مراد نبوت کی نشانیاں اور دلائل ہیں اور {” يَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ “} (اس کی طرف سے ایک گواہ اس کی تائید کر رہا ہو) میں {” شَاهِدٌ “} سے مراد قرآن مجید ہے جو آپ کے صدق کا شاہد ہے اور اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی کتاب سے مراد تورات ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی شہادت دے رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا یہ رسول اور اس کے پیروکار جو اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہیں، ان لوگوں کی طرح ہو سکتے ہیں جن کے پاس نہ رب تعالیٰ کی طرف سے کوئی دلیل ہے، نہ کوئی شاہد اور نہ کوئی اور پہلی آسمانی کتاب جو ان کی تائید کرے۔ یہ مطلب سب سے درست اس لیے کہا گیا ہے کہ اسی سورۂ ہود میں تقریباً ہر نبی نے یہ کہا کہ میں اپنے رب کی طرف سے ایک {” بَيِّنَةٍ “} پر ہوں۔ دیکھیے نوح علیہ السلام نے فرمایا: «{ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَ اٰتٰىنِيْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ }» [ ھود: ۲۸ ] ”اے میری قوم! کیا تم نے دیکھا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک (بینہ) واضح دلیل پر (قائم) ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے بڑی رحمت عطا فرمائی ہو، پھر وہ تم پر مخفی رکھی گئی ہو، تو کیا ہم زبردستی اسے تم پر چپکا دیں گے، جب کہ تم اسے ناپسند کرنے والے ہو۔“ صالح علیہ السلام نے کہا: «{ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ }» [ ھود: ۶۳ ] شعیب علیہ السلام نے کہا: «{ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ }» [ ھود: ۸۸ ] غرض ہر پیغمبر یہ کہتا رہا کہ میں اپنے رب کی طرف سے {”بَيِّنَةٍ “} پر ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر پیغمبر کو اس کی نبوت کی واضح نشانی دے کر بھیجتے تھے اور قرآن مجید کا معجزہ، جس کی ایک سورت کی مثال پیش نہ کی جا سکی، وہ اللہ کی طرف سے آپ کا شاہد ہے۔ اسی طرح تورات بھی آپ کے حق ہونے کی شاہد ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ {” بَيِّنَةٍ “} سے مراد عقل سلیم اور وہ فطرت سلیمہ ہے جس پر انسان کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ عہد {”اَلَسْتُ“} ہے جس کا ہر شخص اپنے آپ پر شاہد بنا یا گیا ہے اور وہ ہے توحید الٰہی اور اپنے رب کی پہچان، فرمایا: «{ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ[الأعراف: ۱۷۲ ] ”کیا میں واقعی تمھارا رب نہیں ہوں؟“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كُلُّ مَوْلُوْدٍ يُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ ] [ بخاری، الجنائز، باب ما قیل فی أولاد المشرکین: ۱۳۸۵ ] ”ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا نصرانی یا مجوسی۔“ یعنی کیا وہ لوگ جو فطرت سلیمہ پر قائم ہیں، عقل سلیم سے کام لیتے ہیں اور اس کے ساتھ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک گواہ بھی آ چکا ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا قرآن اور اس سے پہلے تورات بھی اس کی شہادت دے رہی ہے، جو رہنما بھی تھی اور رحمت بھی، تو کیا یہ لوگ ان کی طرح ہیں جن کے پاس نہ رب کی طرف سے کوئی {” بَيِّنَةٍ “} ہے، نہ کوئی اس کی طرف سے شاہد اور نہ گزشتہ کسی آسمانی کتاب کی شہادت۔ ہر گز نہیں، ایک مومن دوسرا کافر، دونوں ایک جیسے کبھی نہیں ہو سکتے۔ ➋ { اُولٰٓىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ:} یعنی یہ {” بَيِّنَةٍ “} پر قائم لوگ اس رسول پر ایمان لاتے ہیں۔ ➌ { وَ مَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ:} اور جو اس کے ساتھ کفر کرے، خواہ وہ کسی گروہ عیسائی، یہودی، ہندو یا بدھ وغیرہ سے تعلق رکھتا ہو، اس کا ٹھکانا آگ ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهٖ! لاَ يَسْمَعُ بِيْ أَحَدٌ مِّنْ هٰذِهِ الْأُمَّةِ يَهُوْدِيٌّ وَلاَ نَصْرَانِيٌّ ثُمَّ يَمُوْتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِيْ اُرْسِلْتُ بِهٖ إِلاَّ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ ] [ مسلم، الإیمان، باب وجوب الإیمان برسالۃ نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم …: ۱۵۳، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! میرے بارے میں اس امت (دعوت) میں سے کوئی یہودی یا نصرانی سن لے، پھر وہ فوت ہو اور اس پر ایمان نہ لایا ہو جو مجھے دے کر بھیجا گیا ہے، تو وہ اصحاب النار سے ہو گا۔“ مشرکین اور نام کے مسلمان، جو دل سے آپ کی رسالت کو نہیں مانتے، وہ بھی انھی میں شامل ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۶۲) اور نساء (۱۵۰ تا ۱۵۲)۔ ➍ { فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ:} بظاہر خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، مگر مراد ہر عاقل ہے۔ ➎ { وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ:} اکثر یت کا یہ حال قرآن میں متعدد بار بیان ہوا ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ یوسف (۱۰۳)، انعام (۱۱۶) اور سبا (۲۰) دین جمہوریت اور دین اسلام کو ایک قرار دینے والے غور فرمائیں۔
← پچھلی آیت (16) پوری سورۃ اگلی آیت (18) →