بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 29
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 29
آیت نمبر: 29 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
وَ یٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡہِ مَالًا ؕ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ اِنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّہِمۡ وَ لٰکِنِّیۡۤ اَرٰىکُمۡ قَوۡمًا تَجۡہَلُوۡنَ ﴿۲۹﴾
اور اے برادران قوم، میں اِس کام پر تم سے کوئی مال نہیں مانگتا، میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور میں اُن لوگوں کو دھکے دینے سے بھی رہا جنہوں نے میری بات مانی ہے، وہ آپ ہی اپنے رب کے حضور جانے والے ہیں مگر میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو
میری قوم والو! میں تم سے اس پر کوئی مال نہیں مانگتا۔ میرا ﺛواب تو صرف اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے نہ میں ایمان والوں کو اپنے پاس سے نکال سکتا ہوں، انہیں اپنے رب سے ملنا ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت کر رہے ہو
اور اے قوم! میں تم سے کچھ اس پر مال نہیں مانگتا میرا اجر تو اللہ ہی پر ہے اور میں مسلمانوں کو دور کرنے والا نہیں بیشک وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں لیکن میں تم کو نرے جاہل لوگ پا تا ہوں
اے میری قوم! میں اس (تبلیغِ حق) پر تم سے کوئی مالی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ میرا معاوضہ اللہ کے ذمے ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں (وہ تمہاری نگاہ میں جس قدر پست ہوں) میں ان کو اپنے پاس سے نکال نہیں سکتا۔ بے شک وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری دینے والے ہیں البتہ میں دیکھتا ہوں کہ تم جہالت سے کام لینے والے لوگ ہو۔
اور اے میری قوم! میں تم سے اس پر کسی مال کا سوال نہیں کرتا، میری مزدوری اللہ کے سوا کسی پر نہیں اور میں ان لوگوں کو دور ہٹانے والا نہیں جو ایمان لائے ہیں، یقینا وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور لیکن میں تمھیں ایسے لوگ دیکھتا ہوں جو جہالت برتتے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

دعوت حق سب کے لیے یکساں ہے ٭٭

آپ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”میں جو کچھ نصیحت تمہیں کر رہا ہوں جنتی خیر خواہی تمہاری کرتا ہوں اس کی کوئی اجرت تو تم سے نہیں مانگتا، میری اجرت تو اللہ کے ذمے ہے۔ تم جو مجھ سے کہتے ہو کہ ان غریب مسکین ایمان والوں کو میں دھکے دے دوں مجھ سے تو یہ کبھی نہیں ہونے کا۔‏‏‏‏“ یہی طلب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کی گئی تھی جس کے جواب میں یہ آیت اتری «وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ» ۱؎ [6-الأنعام:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ صبح شام اپنے رب کے پکارنے والوں کو اپنی مجلس سے نہ نکال ‘۔ اور آیت میں ہے «وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْ بَيْنِنَا اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:53] ‏‏‏‏ ’ اسی طرح ہم نے ایک کو دوسرے سے آزما لیا اور وہ کہنے لگے کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن پر ہم سب کو چھوڑ کر اللہ کا فضل نازل ہوا؟ کیا اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو نہیں جانتا؟ ‘

📖 احسن البیان

29۔ 1 تاکہ تمہارے دماغوں میں یہ شبہ نہ آجائے کہ اس دعوائے نبوت سے اس کا مقصد تو دولت دنیا اکٹھا کرنا ہے۔ میں تو یہ کام صرف اللہ کے حکم پر اسی کی رضا کے لئے کر رہا ہوں، وہی مجھے اجر دے گا۔ 29۔ 2 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم نوح ؑ کے سرداروں نے بھی معاشرے میں کمزور سمجھے جانے والے اہل ایمان کو حضرت نوح ؑ سے اپنی مجلس یا اپنے قرب سے دور رکھنے کا مطالبہ کیا ہوگا، جس طرح روسائے مکہ نے رسول اللہ سے اس قسم کا مطالبہ کیا تھا، جس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی آیت نازل فرمائیں تھیں ' اے پیغمبر ان لوگوں کو اپنے سے دور مت کرنا جو صبح شام اپنے رب کو پکارتے ہیں (سورة، الا نعام 52) (وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ ۭ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِّنْ شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 52؀) 6۔ الانعام:52) ' اپنے نفسوں کو ان لوگوں کے ساتھ جوڑے رکھئے! جو اپنے رب کو صبح شام پکارتے ہیں، اپنے رب کی رضا چاہتے ہیں، آپ کی آنکھیں ان سے گزر کر کسی اور کی طرف تجاوز نہ کریں (سورۃ الکہف۔ 28) (وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ ۚ تُرِيْدُ زِيْنَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ وَكَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا) 18۔ الکہف:28) 29۔ 3 یعنی اللہ اور رسول کے پیروکار کو حقیر سمجھنا اور پھر انھیں قرب نبوت سے دور کرنے کا مطالبہ کرنا، یہ تمہاری جہالت ہے۔ یہ لوگ تو اس لائق ہیں کہ انھیں سر آنکھوں پر بٹھایا جائے نہ کہ دور دھتکارا جائے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 30،29) ➊ { وَ يٰقَوْمِ لَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا …:} اور اے میری قوم! میں اللہ کا یہ پیغام تمھیں پہنچانے پر تم سے کسی اجرت کا مطالبہ نہیں کرتا، مبادا تم سمجھو کہ نوح نے مال کھینچنے کے لیے نبوت کا بہانہ کھڑا کر لیا۔ میری اجرت تو اللہ کے سوا کسی کے ذمے بھی نہیں اور نہ دنیا کی کسی چیز کا تم سے مطالبہ ہے۔ ➋ { وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا:} یعنی جس طرح اللہ کی رحمت (اسلام) کے دامن میں آنے سے جب تک تم نفرت اور کراہت کرتے رہو گے، میں تمھیں زبردستی اسلام لانے پر مجبور نہیں کر سکتا، اسی طرح جیسے تم چاہتے ہو کہ جن لوگوں نے میری پیروی اختیار کی ہے، چونکہ وہ نچلے طبقے کے لوگ ہیں، اس لیے میں انھیں دھکے دے کر نکال دوں، یہ کام میں ہر گز نہیں کر سکتا۔ یہ اسی قسم کا مطالبہ تھا جو قریش کے سردار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرما دیا۔ دیکھیے سورۂ انعام (۵۲)، کہف (۲۸) اور سورۂ عبس۔ ➌ { اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ:} یعنی اگر میں ان کو ستاؤں یا اپنی مجلس سے نکال دوں تو وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا انصاف چاہیں گے، اس کا میں کیا جواب دوں گا۔ یا یہ کہ وہ لوگ تو اللہ کے ہاں عزت پا لیں گے اور اس بارگاہِ عالی میں ان کو ایمان و عمل کے باعث مقام و مرتبہ ملے گا، پھر تمھارے ان کو ذلیل سمجھنے سے کیا ہوتا ہے؟ یہ ان کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے کہ اے نوح! آپ کے متبع ہمارے رذالے ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”کافروں نے مسلمانوں کو رذالہ ٹھہرایا اور چاہا کہ ان کو ہانک دو تو ہم تمھارے پاس بیٹھیں اور بات سنیں۔ سو فرمایا کہ دل کی بات اللہ تعالیٰ تحقیق کرے گا جب اسے ملیں گے، میں اگر مسلمانوں کو ہانکوں تو اللہ سے کون چھڑوائے مجھ کو۔ اور رذالہ ٹھہرایا اس پر کہ وہ کسب کرتے تھے۔ کسب سے بہتر کمائی نہیں، اس واسطے فرمایا کہ تم جاہل ہو۔“ (موضح) ➍ {وَ لٰكِنِّيْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ:} یعنی تم کسی بات کو بھی صحیح طرح نہیں سمجھتے، تمھاری نظر صرف ظاہر چیزوں پر ہے اور انجام پر غور نہیں کرتے۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ فلاں شخص نیچ قوم کا ہے، اس لیے اسے اپنے پاس نہ بیٹھنے دو؟ اللہ کے نزدیک اسی کو عزت ہے جو ایمان دار اور پرہیز گار ہے۔ بے ایمان اور بدکار کتنے ہی اونچے خاندان کا ہو اللہ کے نزدیک چوہڑے اور چمار سے بھی بدتر ہے۔
← پچھلی آیت (28) پوری سورۃ اگلی آیت (30) →