ہم نے اُن پر ظلم نہیں کیا، انہوں نے آپ ہی اپنے اوپر ستم ڈھایا اور جب اللہ کا حکم آ گیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آ سکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سوا انہیں کچھ فائدہ نہ دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے ان پر کوئی ﻇلم نہیں کیا، بلکہ خود انہوں نے ہی اپنے اوپر ﻇلم کیا، اور انہیں ان کے معبودوں نے کوئی فائده نہ پہنچایا جنہیں وه اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے، جب کہ تیرے پروردگار کا حکم آپہنچا، بلکہ اور ان کا نقصان ہی انہوں نے بڑھا دیا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے ان پر ظلم نہ کیا خود انہوں نے اپنا برا کیا تو ان کے معبود جنہیں اللہ کے سوا پوجتے تھے ان کے کچھ کام نہ آئے جب تمہارے رب کا حکم آیا اور ان سے انہیں ہلاک کے سوا کچھ نہ بڑھا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ اور جب آپ کے پروردگار کا حکم (عذاب) آگیا تو انہیں ان کے ان خداؤں نے کچھ بھی فائدہ نہ پہنچایا جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے اور انہوں نے ان کی ہلاکت میں اضافہ کے سوا اور کچھ نہ کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا اور لیکن انھوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا، پھر ان کے وہ معبود ان کے کچھ کام نہ آئے جنھیں وہ اللہ کے سوا پکارتے تھے، جب تیرے رب کا حکم آگیا اور انھوں نے ہلاک کرنے کے سوا انھیں کچھ زیادہ نہ دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عبرت کدے کچھ آباد ہیں کچھ ویران ٭٭
نبیوں اور ان کی امتوں کے واقعات بیان فرما کر ارشاد باری ہوتا ہے کہ ’ یہ ان بستیوں والوں کے واقعات ہیں، جنہیں ہم تیرے سامنے بیان فرما رہے ہیں۔ ان میں سے بعض بستیاں تو اب تک آباد ہیں اور بعض مٹ چکی ہیں۔ ہم نے انہیں ظلم سے ہلاک نہیں کیا۔ بلکہ خود انہوں نے ہی اپنے کفر و تکذیب کی وجہ سے اپنے اوپر اپنے ہاتھوں ہلاکت مسلط کر لی۔ اور جن معبودان باطل کے انہیں سہارے تھے وہ بروقت انہیں کچھ کام نہ آ سکے۔ بلکہ ان کی پوجا پاٹ نے انہیں اور غارت کر دیا۔ دونوں جہاں کا وبال ان پر آپڑا ‘۔
11۔ 1 ان کو عذاب اور ہلاکت سے دو چار کر کے۔ 11۔ 2 کفر و معاصی کا ارتکاب کر کے۔ 11۔ 3 جب کہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ انھیں نقصان سے بچائیں گے اور فائدہ پہنچائیں گے۔ لیکن جب اللہ کا عذاب آیا تو واضح ہوگیا کہ ان کا یہ عقیدہ فاسد تھا، اور یہ بات ثابت ہوگئی کہ اللہ کے سوا کوئی کسی کو نفع نقصان پہنچانے پر قادر نہیں۔
(آیت 101) ➊ {وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ …:} یعنی ہم نے جو ان پر عذاب بھیجے اس میں ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اپنی جانوں پر ان کا سب سے بڑا ظلم اللہ کے ساتھ شرک اور پھر رسولوں کو جھٹلانا تھا، جس کی انھیں سزا ملی۔ ➋ { فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيْ …:} پھر اللہ کا عذاب آنے پر ان کے معبود، حاجت روا، مشکل کشا، گنج بخش اور دستگیر ان کے کسی کام نہ آ سکے، بلکہ وہ ان کے لیے ہلاک کیے جانے میں اور عذاب میں اضافے ہی کا سبب بنے، کیونکہ انھی کی وجہ سے ان پر تباہی اور بربادی آئی۔ {” تَتْبِيْبٍ “} فعل {” تَبَّ “ } (وہ ہلاک ہوا) سے باب تفعیل ہے، ہلاک کرنا۔
اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے، فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور درد ناک ہوتی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تیرے پروردگار کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے جب کہ وه بستیوں کے رہنے والے ﻇالموں کو پکڑتا ہے بیشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور نہایت سخت ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر، بیشک اس کی پکڑ دردناک کرّ ی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور آپ کا پروردگار جب ظالم بستیوں کو پکڑتا ہے (یعنی ان کے باشندوں کو ان کے ظلم و تعدی کی وجہ سے پکڑتا ہے) تو اس کی پکڑ ایسی ہوتی ہے بے شک اس کی پکڑ بڑی دردناک (اور) سخت ہوتی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کرنے والی ہوتی ہیں، بے شک اس کی پکڑ بڑی دردناک، بہت سخت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جس طرح ان ظالموں کی ہلاکت ہوئی ان جیسا جو بھی ہوگا اسی نتیجے کو وہ بھی دیکھے گا۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ المناک اور بہت سختی والی ہوتی ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ ظالموں کو ڈھیل دے کر پھر پکڑیں گے۔ وقت ناگہاں دبا لیتا ہے۔ پھر مہلت نہیں ملتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت «وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ» کی تلاوت کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4686]
12۔ 1 یعنی جس طرح گزشتہ بستیوں کو اللہ تعالیٰ نے تباہ اور برباد کیا، آئندہ بھی وہ ظالموں کی اسی طرح گرفت کرنے پر قادر ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان اللہ لیملی للظالم حتی اذا اخذہ لم یفلتہ اللہ تعالیٰ یقیناً ظالم کو مہلت دیتا ہے لیکن جب اس کی گرفت کرنے پر آتا ہے تو پھر اس طرح اچانک گرتا ہے کہ پھر مہلت نہیں دیتا۔
(آیت 102){وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ …: ”اَخَذَ“} کا معنی اچانک جلدی سے پکڑ لینا، جیسا کہ کہتے ہیں: {” فُلَانٌ اَخَذَهُ الْمَوْتُ “} فلاں کو موت نے آ دبوچا۔ یعنی جس طرح گزشتہ سات انبیاء علیھم السلام کی اقوام پر ظلم کی وجہ سے پکڑ آئی، کسی بھی ظالم بستی (والوں) پر تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ لَيُمْلِيْ لِلظَّالِمِ حَتّٰی إِذَا أَخَذَهٗ لَمْ يُفْلِتْهُ، ثُمَّ قَرَأَ: «وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِيَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ] [ بخاری، التفسیر، باب: «و کذلک أخذ ربک…» : ۴۶۸۶۔ مسلم: ۲۵۸۳ ] ”اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے، لیکن آخر کار جب اسے پکڑتا ہے تو ایسا پکڑتا ہے کہ وہ اس سے چھوٹ کر کہیں جا نہیں سکتا۔“ اس کے بعد آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔“ یہ آیت ہر زمانے میں ہر ظالم کو شامل ہے۔ سلف میں سے کسی نے کہا ہے: ”کفر کے ساتھ سلطنت قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم کے ساتھ نہیں۔“
حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو عذاب آخرت کا خوف کرے وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اُس روز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً اس میں ان لوگوں کے لئے نشان عبرت ہے جو قیامت کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ وه دن جس میں سب لوگ جمع کئے جائیں گے اور وه، وه دن ہے جس میں سب حاضر کئے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اس میں نشانی ہے اس کے لیے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے وہ دن ہے جس میں سب لوگ اکٹھے ہوں گے اور وہ دن حاضری کا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک اس بات میں (عبرت کی) نشانی ہے اس شخص کے لئے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے وہ ایسا دن ہے جس میں سب لوگ اکھٹے کئے جائیں گے اور وہ (سب کے) پیش ہونے کا دن ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اس میں اس شخص کے لیے یقینا ایک نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے، یہ وہ دن ہے جس کے لیے (سب) لوگ جمع کیے جانے والے ہیں اور یہ وہ دن ہے جس میں حاضری ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہلاکت اور نجات، ٹھوس دلائل ٭٭
’ کافروں کی اس ہلاکت اور مومنوں کی نجات میں صاف دلیل ہے ہمارے ان وعدوں کی سچائی پر جو ہم نے قیامت کے بارے میں کئے ہیں جس دن تمام اول و آخر کے لوگ جمع کئے جائیں گے۔ ایک بھی باقی نہ چھوٹے گا اور وہ بڑا بھاری دن ہو گا تمام فرشتے، تمام رسول، تمام مخلوق حاضر ہو گی۔ حاکم حقیقی عادل کافی انصاف کرے گا۔ قیامت کے قائم ہونے میں دیر کی وجہ یہ ہے کہ رب یہ بات پہلے ہی مقرر کر چکا ہے کہ اتنی مدت تک دنیا بنی آدم سے آباد رہے گی۔ اتنی مدت خاموشی پر گزرے گی پھر فلاں وقت قیامت قائم ہو گی۔ جس دن قیامت آ جائے گی۔ کوئی نہ ہو گا جو اللہ کی اجازت کے بغیر لب بھی کھول سکے۔ مگر رحمن جسے اجازت دے اور وہ بات بھی ٹھیک بولے۔ تمام آوازیں رب رحمن کے سامنے پست ہوں گی ‘۔ بخاری و مسلم کی حدیث شفاعت میں ہے { اس دن صرف رسول علیہم السلام ہی بولیں گے اور ان کا کلام بھی صرف یہی ہو گا کہ یا اللہ سلامت رکھ، یا اللہ سلامتی دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:806] مجمع محشر میں بہت سے تو برے ہوں گے اور بہت سے نیک۔ { اس آیت کے اترنے پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کہ پھر یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اعمال اس بنا پر ہیں جس سے پہلے ہی فراغت کر لی گئی ہے یا کسی نئی بناء پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں بلکہ اس حساب پر جو پہلے سے ختم ہو چکا ہے جو قلم چل چکا ہے لیکن ہر ایک کے لیے وہی آسان ہو گا۔ جس کے لیے اس کی پیدائش کی گئی ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3111،قال الشيخ الألباني:صحیح]
13۔ 1 یعنی مواخذہ الٰہی میں یا ان واقعات میں جو عبرت و موعظبت کے لئے بیان کئے گئے ہیں۔ 13۔ 2 یعنی حساب اور بدلے کے لئے۔
(آیت 103) ➊ {اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ:} یعنی ان آیات و واقعات سے وہی عبرت حاصل کرے گا جس کا آخرت پر ایمان ہے، مگر جس کا آخرت پر ایمان نہیں وہ ان تمام واقعات کی کوئی نہ کوئی سائنسی توجیہ کرے گا کہ زمین و آسمان کے تغیرات کی وجہ سے ایسا ہوا، ظلم یا عدل سے اس کا کیا تعلق؟ ➋ { ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لَّهُ النَّاسُ:} یعنی وہ قیامت کا دن ایسا ہے جس کے لیے تمام لوگ جمع کیے ہوئے ہوں گے۔ زمخشری نے فرمایا کہ فعل مجہول {”يُجْمَعُ لَهُ“} (جمع کیے جائیں گے) کے بجائے اسم مفعول {” مَّجْمُوْعٌ لَّهُ “} (جمع کیے ہوئے ہوں گے) اس لیے استعمال فرمایا کہ اسم میں دوام اور ہمیشگی پائی جاتی ہے جب کہ فعل میں یہ چیز نہیں ہوتی۔ ➌ { وَ ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ:} یعنی اس میں سب لوگ حاضر کیے ہوئے ہوں گے، کوئی چھپ سکے گا نہ ادھر ادھر ہو سکے گا۔ ایک معنی یہ ہے کہ اس دن ہر نیکی یا بدی کی شہادت موجود ہو گی اور پیش بھی کی جائے گی۔ یہ بھی مراد ہے کہ اس دن پہلے، پچھلے انسان اور جن سب حاضر ہوں گے، فرشتے بھی اور خود ذات الٰہی بھی فیصلے کے لیے تشریف لائیں گے، فرمایا: «{ وَ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا }» [ الفجر: ۲۲ ] ”اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے جو صف در صف ہوں گے۔“
ہم اس کے لانے میں کچھ بہت زیادہ تاخیر نہیں کر رہے ہیں، بس ایک گنی چنی مدت اس کے لیے مقرر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اسے ہم جو ملتوی کرتے ہیں وه صرف ایک مدت معین تک ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم اسے پیچھے نہیں ہٹاتے مگر ایک گنی ہوئی مدت کے لیئے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم اسے صرف ایک مدت (کے پورا ہونے) تک مؤخر کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم اسے مؤخر نہیں کر رہے، مگر ایک گنے ہوئے وقت کے لیے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہلاکت اور نجات، ٹھوس دلائل ٭٭
’ کافروں کی اس ہلاکت اور مومنوں کی نجات میں صاف دلیل ہے ہمارے ان وعدوں کی سچائی پر جو ہم نے قیامت کے بارے میں کئے ہیں جس دن تمام اول و آخر کے لوگ جمع کئے جائیں گے۔ ایک بھی باقی نہ چھوٹے گا اور وہ بڑا بھاری دن ہو گا تمام فرشتے، تمام رسول، تمام مخلوق حاضر ہو گی۔ حاکم حقیقی عادل کافی انصاف کرے گا۔ قیامت کے قائم ہونے میں دیر کی وجہ یہ ہے کہ رب یہ بات پہلے ہی مقرر کر چکا ہے کہ اتنی مدت تک دنیا بنی آدم سے آباد رہے گی۔ اتنی مدت خاموشی پر گزرے گی پھر فلاں وقت قیامت قائم ہو گی۔ جس دن قیامت آ جائے گی۔ کوئی نہ ہو گا جو اللہ کی اجازت کے بغیر لب بھی کھول سکے۔ مگر رحمن جسے اجازت دے اور وہ بات بھی ٹھیک بولے۔ تمام آوازیں رب رحمن کے سامنے پست ہوں گی ‘۔ بخاری و مسلم کی حدیث شفاعت میں ہے { اس دن صرف رسول علیہم السلام ہی بولیں گے اور ان کا کلام بھی صرف یہی ہو گا کہ یا اللہ سلامت رکھ، یا اللہ سلامتی دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:806] مجمع محشر میں بہت سے تو برے ہوں گے اور بہت سے نیک۔ { اس آیت کے اترنے پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کہ پھر یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اعمال اس بنا پر ہیں جس سے پہلے ہی فراغت کر لی گئی ہے یا کسی نئی بناء پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں بلکہ اس حساب پر جو پہلے سے ختم ہو چکا ہے جو قلم چل چکا ہے لیکن ہر ایک کے لیے وہی آسان ہو گا۔ جس کے لیے اس کی پیدائش کی گئی ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3111،قال الشيخ الألباني:صحیح]
14۔ 1 یعنی قیامت کے دن میں تاخیر کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے لئے ایک وقت معین کیا ہوا ہے۔ جب وہ وقت مقرر آجائے گا، تو ایک لمحے کی تاخیر نہیں ہوگی۔
(آیت 104) {وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ:” مَعْدُوْدٍ “} کا معنی ہے گنا ہوا۔ گنی ہوئی چیز آخر ختم ہو جاتی ہے، یعنی قیامت کی مہلت گنتی کے چند دن ہیں، جیسے روزوں کے متعلق فرمایا: «{ اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ }» [ البقرۃ: ۱۸۴ ] ”گنے ہوئے چند دنوں میں۔“ اور وہ گنتی صرف اللہ کے علم میں ہے، قیامت نہ اس سے پہلے آ سکتی ہے، نہ اس سے مؤخر ہو سکتی ہے۔
جب وہ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی، الا یہ کہ خدا کی اجازت سے کچھ عرض کرے پھر کچھ لوگ اس روز بد بخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن وه آجائے گی مجال نہ ہوگی کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بات بھی کر لے، سو ان میں کوئی بدبخت ہوگا اور کوئی نیک بخت
احمد رضا خان بریلوی
جب وہ دن آئے گا کوئی بے حکم خدا بات نہ کرے گا تو ان میں کوئی بدبخت ہے اور کوئی خوش نصیب
علامہ محمد حسین نجفی
تو اس (خدا) کی اجازت کے بغیر کوئی متنفس بات نہیں کر سکے گا (اس دن) کچھ لوگ بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن وہ (وقت) آئے گا، کوئی شخص اس کی اجازت کے سوا بات نہیں کرے گا، پھر ان میں سے کوئی بد بخت ہوگا اور کوئی خوش قسمت۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہلاکت اور نجات، ٹھوس دلائل ٭٭
’ کافروں کی اس ہلاکت اور مومنوں کی نجات میں صاف دلیل ہے ہمارے ان وعدوں کی سچائی پر جو ہم نے قیامت کے بارے میں کئے ہیں جس دن تمام اول و آخر کے لوگ جمع کئے جائیں گے۔ ایک بھی باقی نہ چھوٹے گا اور وہ بڑا بھاری دن ہو گا تمام فرشتے، تمام رسول، تمام مخلوق حاضر ہو گی۔ حاکم حقیقی عادل کافی انصاف کرے گا۔ قیامت کے قائم ہونے میں دیر کی وجہ یہ ہے کہ رب یہ بات پہلے ہی مقرر کر چکا ہے کہ اتنی مدت تک دنیا بنی آدم سے آباد رہے گی۔ اتنی مدت خاموشی پر گزرے گی پھر فلاں وقت قیامت قائم ہو گی۔ جس دن قیامت آ جائے گی۔ کوئی نہ ہو گا جو اللہ کی اجازت کے بغیر لب بھی کھول سکے۔ مگر رحمن جسے اجازت دے اور وہ بات بھی ٹھیک بولے۔ تمام آوازیں رب رحمن کے سامنے پست ہوں گی ‘۔ بخاری و مسلم کی حدیث شفاعت میں ہے { اس دن صرف رسول علیہم السلام ہی بولیں گے اور ان کا کلام بھی صرف یہی ہو گا کہ یا اللہ سلامت رکھ، یا اللہ سلامتی دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:806] مجمع محشر میں بہت سے تو برے ہوں گے اور بہت سے نیک۔ { اس آیت کے اترنے پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کہ پھر یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اعمال اس بنا پر ہیں جس سے پہلے ہی فراغت کر لی گئی ہے یا کسی نئی بناء پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں بلکہ اس حساب پر جو پہلے سے ختم ہو چکا ہے جو قلم چل چکا ہے لیکن ہر ایک کے لیے وہی آسان ہو گا۔ جس کے لیے اس کی پیدائش کی گئی ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3111،قال الشيخ الألباني:صحیح]
15۔ 4 گفتگو نہ کرنے سے مراد، کسی کو اللہ تعالیٰ سے کسی طرح کی بات یا شفاعت کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔ الا یہ کہ وہ اجازت دے دے۔ طویل حدیث شفاعت میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اس دن انبیاء کے علاوہ کسی کو گفتگو کی ہمت نہ ہوگی اور انبیاء کی زبان پر بھی اس دن صرف یہی ہوگا کہ یا اللہ! ہمیں بچا لے، ہمیں بچا لے '۔
(آیت 105) ➊ {يَوْمَ يَاْتِ: } یہاں چند آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس دن کا کچھ نقشہ بیان فرمایا ہے۔ {” يَاْتِ “} اصل میں {” يَأْتِيْ “} ہی ہے۔ زمخشری نے لکھا{ ” يَوْمَ يَاْتِ “} کی طرح {” لَا أَدْرِ“} بھی کہہ دیتے ہیں۔ سیبویہ اور خلیل نے یہ بیان فرمایا ہے کہ یاء کو حذف کرکے اس کی جگہ کسرہ پر اکتفا کرنا ہذیل کی لغت میں بہت ہے (یعنی دوسری لغات میں بھی ہے مگر کم ہے)۔ {” يَاْتِ “} کا فاعل وہی ہے جو اوپر گزرا {” يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لَّهُ النَّاسُ “۔ ” يَوْمٌ “} کا لفظ عربی میں وقت کے معنی میں بھی آتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے {”التحرير والتنوير لابن عاشور“} یعنی جس دن وہ وقت آئے گا، یا جس وقت وہ دن آئے گا۔ زمخشری نے ایک معنی یہ لکھا ہے کہ جس دن اللہ تعالیٰ آئے گا، یعنی {” يَاْتِ “} کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا }» [ الفجر: ۲۲] ”اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے جو صف در صف ہوں گے۔“ ➋ { لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ:} یہاں سے نصرانیوں کی اور بعض مسلمانوں کی اس سفارش کا رد ہو گیا جو ان کے خیال میں کچھ ہستیوں کے اختیار میں ہے کہ وہ اللہ کے محبوب ہونے یا بڑے زبردست ہونے کی وجہ سے جسے چاہیں گے چھڑا لیں گے، حالانکہ وہاں اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کو بات کرنے کی جرأت ہی نہیں ہو گی۔ دیکھیے سورۂ نبا (۳۸)۔ ➌ {فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّ سَعِيْدٌ: ” شَقِيٌّ “} بروزن {”فَعِيْلٌ“} مبالغہ کے لیے ہے۔ قاموس میں ہے {”اَلشَّقَا“} کو کبھی {”اَلشَّقَاءُ“} بھی کہا جاتا ہے، سختی، تنگی۔ {”شَقِيَ يَشْقٰي“} (ع) یہ {”رَضِيَ يَرْضٰي“} کی طرح ہے، یعنی ناقص واوی ہے۔ زمخشری نے فرمایا: {”اَلَّذِيْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ بِإِسَاءَتِهِ “} یعنی وہ بدبخت جس کے لیے اس کی بدعملی کی وجہ سے آگ واجب ہو گئی۔ {” سَعِيْدٌ “} وہ خوش قسمت جس کے لیے اس کے نیک اعمال کی وجہ سے جنت واجب ہو گئی۔
جو بد بخت ہوں گے وہ دوزخ میں جائیں گے (جہاں گرمی اور پیاس کی شدت سے) وہ ہانپیں گے اور پھنکارے ماریں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
لیکن جو بدبخت ہوئے وه دوزخ میں ہوں گے وہاں چیخیں گے چلائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو وہ جو بدبخت ہیں وہ تو دوزخ میں ہیں وہ اس گدھے کی طرح رینکیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
جب وہ دن آئے گا تو جو بدبخت ہیں وہ آتشِ دوزخ میں ہوں گے ان کیلئے وہاں چیخنا چلانا ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
تو وہ جو بدبخت ہوئے سو وہ آگ میں ہوں گے، ان کے لیے اس میں گدھے کی طرح آواز کھینچنا اور نکالنا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب یافتہ لوگوں کی چیخیں ٭٭
گدھے کے چیخنے میں جیسے زیر و بم ہوتا ہے ایسے ہی ان کی چیخیں ہوں گی۔ یہ یاد رہے کہ عرب کے محاوروں کے مطاق قرآن کریم نازل ہوا ہے۔ وہ ہمیشگی کے محاورے کو اسی طرح بولا کرتے ہیں کہ یہ ہمیشگی والا ہے جب تک آسمان و زمین کو قیام ہے۔ یہ بھی ان کے محاورے میں ہے کہ یہ باقی رہے گا جب تک دن رات کا چکر بندھا ہوا ہے۔ پس ان الفاظ سے ہمیشگی مراد ہے نہ کہ قید۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس زمین و آسمان کے بعد دار آخرت میں ان کے سوا اور آسمان و زمین ہو پس یہاں مراد جنس ہے۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”ہر جنت کا آسمان و زمین ہے۔“ اس کے بعد اللہ کی منشاء کا ذکر ہے جیسے «النَّارُ مَثْوَاكُمْ خَالِدِينَ فِيهَا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّـهُ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ» ۱؎ [6-الأنعام:128] میں ہے۔ اس استثناء کے بارے میں بہت سے قول ہیں جنہیں جوزی نے زاد المیسر میں نقل کیا ہے۔ ابن جریر نے خالد بن معدان، ضحاک، قتادہ اور ابن سنان رحمہ اللہ علیہم کے اس قول کو پسند فرمایا ہے کہ ”موحد گنہگاروں کی طرف استثناء عائد ہے بعض سلف سے اس کی تفسیر میں بڑے ہی غریب اقوال وارد ہوئے ہیں۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:635/3:] قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ ہی کو اس کا پورا علم ہے۔“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 106){فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا …: ” زَفِيْرٌ “} اور {” شَهِيْقٌ “} دونوں گدھے کی آوازیں ہیں۔ {” زَفِيْرٌ “} اس کے شروع کی آواز اور {” شَهِيْقٌ “} اس کے آخر کی آواز، یعنی نہایت بری چیخنے چلانے کی آوازیں نکالیں گے۔
اور اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں، الا یہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے بے شک تیرا رب پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه وہیں ہمیشہ رہنے والے ہیں جب تک آسمان وزمین برقرار رہیں۔ سوائے اس وقت کے جو تمہارا رب چاہے۔ یقیناً تیرا رب جو کچھ چاہے کر گزرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا بیشک تمہارا رب جب جو چاہے کرے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم ہیں۔ اِلا یہ کہ آپ کا پروردگار (کچھ اور) چاہے بے شک آپ کا پروردگار (قادرِ مختار ہے) جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ہمیشہ اس میں رہنے والے، جب تک سارے آسمان اور زمین قائم ہیں مگر جو تیرا رب چاہے۔ بے شک تیرا رب کر گزرنے والا ہے جو چاہتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب یافتہ لوگوں کی چیخیں ٭٭
گدھے کے چیخنے میں جیسے زیر و بم ہوتا ہے ایسے ہی ان کی چیخیں ہوں گی۔ یہ یاد رہے کہ عرب کے محاوروں کے مطاق قرآن کریم نازل ہوا ہے۔ وہ ہمیشگی کے محاورے کو اسی طرح بولا کرتے ہیں کہ یہ ہمیشگی والا ہے جب تک آسمان و زمین کو قیام ہے۔ یہ بھی ان کے محاورے میں ہے کہ یہ باقی رہے گا جب تک دن رات کا چکر بندھا ہوا ہے۔ پس ان الفاظ سے ہمیشگی مراد ہے نہ کہ قید۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس زمین و آسمان کے بعد دار آخرت میں ان کے سوا اور آسمان و زمین ہو پس یہاں مراد جنس ہے۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”ہر جنت کا آسمان و زمین ہے۔“ اس کے بعد اللہ کی منشاء کا ذکر ہے جیسے «النَّارُ مَثْوَاكُمْ خَالِدِينَ فِيهَا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّـهُ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ» ۱؎ [6-الأنعام:128] میں ہے۔ اس استثناء کے بارے میں بہت سے قول ہیں جنہیں جوزی نے زاد المیسر میں نقل کیا ہے۔ ابن جریر نے خالد بن معدان، ضحاک، قتادہ اور ابن سنان رحمہ اللہ علیہم کے اس قول کو پسند فرمایا ہے کہ ”موحد گنہگاروں کی طرف استثناء عائد ہے بعض سلف سے اس کی تفسیر میں بڑے ہی غریب اقوال وارد ہوئے ہیں۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:635/3:] قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ ہی کو اس کا پورا علم ہے۔“
17۔ 1 ان الفاظ سے بعض لوگوں کو یہ مغالطہ لگا ہے کہ کافروں کے لئے جہنم کا عذاب دائمی نہیں ہے بلکہ موقت ہے یعنی اس وقت تک رہے گا جب تک آسمان و زمین رہیں گے۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں۔ کیونکہ یہاں (مَا دَ امَتِ السِّمٰوٰ تُ وَالْاَرْضُ) اہل عرب کے روز مرہ کی گفتگو اور محاورے کے مطابق نازل ہوا ہے۔ عربوں کی عادت تھی کہ جب کسی چیز کا دوام ثابت کرنا مقصود ہوتا تو وہ کہتے تھے (یہ چیز اسی طرح ہمیشہ رہے گی۔ جس طرح آسمان و زمین کا دوام ہے) اسی محاورے کو قرآن کریم میں استعمال کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل کفر و شرک جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ جس کو قرآن نے متعدد جگہ خالدین فیھا کے الفاظ سے ذکر کیا ہے۔ ایک دوسرا مفہوم اس کا یہ بھی بیان کی گیا ہے کہ آسمان و زمین سے مراد جنس ہے۔ یعنی دنیا کے آسمان و زمین اور ہیں جو فنا ہوجائیں گے لیکن آخرت کے آسمان و زمین ان کے علاوہ اور ہوں گے، جیسا کہ قرآن کریم میں اس کی صراحت ہے، (يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ 48۔) 14۔ ابراہیم:48)، اس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی بدل دئیے جائیں گے۔ اور آخرت کے یہ آسمان وزمین، جنت اور دوزخ کی طرح ہمیشہ رہیں گے۔ اس آیت میں یہی آسمان و زمین مراد ہے نہ کہ دنیا کے آسمان و زمین جو فنا ہوجائیں گے۔ (ابن کثیر) ان دونوں مفہوموں میں سے کوئی بھی مفہوم مراد لے لیا جائے، آیت کا مفہوم واضح ہوجاتا ہے اور وہ اشکال پیدا نہیں ہوتا جو مذکور ہوا۔ امام شوکانی نے اس کے اور بھی کئی مفہوم بیان کیے ہیں جنہیں اہل علم ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ 17۔ 2 اس استثناء کے بھی کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ صحیح مفہوم یہی ہے کہ یہ استثناء ان گناہ گاروں کے لئے ہے جو اہل توحید و اہل ایمان ہوں گے۔ اس اعتبار سے اس سے ما قبل آیت میں شَقِی کا لفظ عام یعنی کافر اور عاصی دونوں کو شامل ہوگا اور (اِ لَّا مَا شَآءَ رَبُّکَ) سے عاصی مومنوں کا استثناء ہوجائے گا اور مَا شَآء میں مَا، مَنْ کے معنی میں ہے۔
(آیت 108،107) ➊ {خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ:} ”جب تک سارے آسمان و زمین قائم ہیں“ مراد ہمیشہ کا عذاب ہے، کیونکہ جب کسی چیز کی ہمیشگی ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے تو عرب {” مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ “} کا محاورہ استعمال کرتے ہیں، ورنہ تعلیق نہیں، یعنی یہ معنی نہیں کہ جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے عذاب رہے گا، پھر نہیں۔ ہاں آسمان و زمین سے مراد آخرت کے آسمان و زمین ہوں تو محاورے کے بغیر ہی ہمیشگی مراد ہے، کیونکہ دنیا کے زمین و آسمان تو اس دن بدل دیے جائیں گے، فرمایا: «{ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ }» [ إبراہیم: ۴۸ ] ”جس دن یہ زمین اور زمین سے بدل دی جائے گی اور سب آسمان بھی اور لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، جو اکیلا ہے، بڑا زبردست ہے۔“ آخرت کے آسمان و زمین میں جنت واقع ہو گی اور وہ ہمیشہ رہنے والی ہے۔ لہٰذا وہ زمین و آسمان بھی دائمی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جنتیوں کا قول ذکر فرمایا: «{ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَآءُ }» [ الزمر: ۷۴ ] ”اور وہ کہیں گے سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنا دیا کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں جگہ بنا لیں۔“ تو مطلب یہ ہو گا کہ جہنمی جہنم میں اور جنتی جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ (ابن کثیر) ➋ {اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ:} یہ لفظ {” شَقِيٌّ “} اور{ ” سَعِيْدٌ “ } دونوں کے تذکرے میں آئے ہیں، یعنی بدبخت آگ میں ہمیشہ رہیں گے، جب تک آسمان و زمین قائم ہیں، مگر جو تیرا رب چاہے۔ اسی طرح سعادت مندوں کے متعلق بھی فرمایا کہ وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے، جب تک آسمان و زمین قائم ہیں، مگر جو تیرا رب چاہے۔ دونوں آیتوں میں ”مگر جو تیرا رب چاہے“ کا تعلق اہلِ توحید سے ہے۔ پہلی آیت میں مطلب یہ ہو گا کہ مومن موحد گناہ گار جب اپنی سزا بھگت لیں گے تو انھیں جہنم سے نکال لیا جائے گا، جیسا کہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ ثُمَّ يَقُوْلُ اللّٰهُ تَعَالَی أَخْرِجُوْا مَنْ كَانَ فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيْمَانٍ، فَيُخْرَجُوْنَ مِنْهَا قَدِ اسْوَدُّوْا فَيُلْقَوْنَ فِيْ نَهْرِ الْحَيَا أَوِ الْحَيَاةِ، شَكَّ مَالِكٌ فَيَنْبُتُوْنَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِيْ جَانِبِ السَّيْلِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّهَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً؟ ] [ بخاری، الإیمان، باب تفاضل أہل الإیمان فی الأعمال: ۲۲۔ مسلم: ۱۸۴ ] ”اہل جنت، جنت میں اور اہل نار آگ میں داخل ہو جائیں گے، پھراللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”جس شخص کے دل میں ایک رائی کے دانے کے برابر ایمان ہے اسے اس سے نکال لو!“ تو وہ اس سے اس حال میں نکالے جائیں گے کہ سیاہ ہو چکے ہوں گے، پھر انھیں {”نَهْرُ الْحَيَا“} (بارش کے پانی کی نہر) یا {”نَهْرُ الْحَيَاةِ“} (زندگی کی نہر) میں ڈال دیا جائے گا (امام مالک کو شک ہے) تو وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے بوٹیوں کا بیج سیلاب کی جانب میں اگ آتا ہے۔ تم نے نہیں دیکھا کہ وہ زرد لپٹا ہوا اگتا ہے؟“ اس مفہوم کی بہت سی احادیث آئی ہیں کہ سزا پا کر یا شفاعت سے یا محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے گناہ گار مسلمان آخر کار جہنم سے نکل کر جنت میں چلے جائیں گے، اس پر اہل سنت کا اتفاق ہے۔ گو بعض نے اس سے دوزخ کے بالآخر فنا ہونے پر استدلال کیا ہے اور اس سلسلے میں ایک ضعیف حدیث اور کچھ غریب اقوال بھی نقل کیے ہیں، مگر یہ مطلب قرآن کی دوسری آیات کے خلاف ہے، جن میں جہنمیوں کے متعلق {” خٰلِدِيْنَ “} اور {” اَبَدًا “} کے الفاظ مذکور ہیں اور ان احادیث کے بھی صریح خلاف ہے، جن میں ہے: [ يُجَاءُ بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهٗ كَبْشٌ أَمْلَحُ حَتّٰي يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحُ، ثُمَّ يُنَادِيْ مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! لاَ مَوْتَ، يَا أَهْلَ النَّارِ! لاَ مَوْتَ، فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلٰى فَرَحِهِمْ، وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلٰی حُزْنِهِمْ ] [ مسلم، الجنۃ و نعیمہا، باب النار یدخلہا الجبارون:۲۸۴۹، 2850/43۔ بخاری: ۶۵۴۸ ] ”موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں جنت اور جہنم کے درمیان لا کر ذبح کر دیا جائے گا اور اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ اے اہل جنت! (اب) موت نہیں اور اے اہل نار! اب موت نہیں! تو جنتیوں کی خوشیوں کے ساتھ مزید خوشی کا اور جہنمیوں کے غم کے ساتھ مزید غم کا اضافہ ہو جائے گا۔“ اور مسلم کی ایک روایت (۴۲؍۲۸۵۰) میں ہے: [ كُلٌّ خَالِدٌ فِيْمَا هُوَ فِيْهِ ] کہ ہر ایک جس جگہ میں ہے اس میں ہمیشہ رہے گا۔ ایسی بہت سی صحیح احادیث موجود ہیں، اس لیے جہنم کے بالآخر فنا ہونے کی کوئی واضح اور پختہ دلیل موجود نہیں۔ ➌ {اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ:} یہ ان لوگوں پر رد ہے جو ہر عمل کی تاثیر ذاتی سمجھتے ہیں، جیسا کہ زہر کھانے کا لازمی نتیجہ موت ہے، چنانچہ معتزلہ اور خارجیوں کا کہنا ہے کہ جو مسلمان کبائر کا مرتکب ہو اور توبہ نہ کی ہو، وہ بھی ابدی جہنمی ہے۔ ایک دفعہ جو آگ میں چلا گیا وہ وہاں سے کبھی نہیں نکلے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل شقاوت (جو جہنم میں جائیں گے، جن میں کافر اور گناہ گار مسلمان دونوں شامل ہیں) کے متعلق فرمایا کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، مگر جو تیرا رب چاہے۔ کیونکہ بلاشبہ تیرا رب جو چاہے کر گزرنے والا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی بھی چیز کی تاثیر اللہ کے حکم ہی سے ہوتی ہے، وہ چاہے تو آگ جلاتی ہے، پانی غرق کرتا ہے، زہر موت کا باعث بنتا ہے، اگر وہ اس کے برعکس چاہے تو نہ آگ جلاتی ہے، نہ پانی غرق کرتا ہے، نہ زہر کھانا موت کا باعث ہوتا ہے، حالانکہ یہ ان کی اپنی تاثیر کے خلاف ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اہل کبائر مسلمانوں کو جہنم سے نکال لے گا، وہ جو چاہے کر گزرنے والا ہے، کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا۔ ➍ { وَ اَمَّا الَّذِيْنَ سُعِدُوْا …:} اس دوسری آیت میں اہل سعادت (اہل جنت) کے متعلق بھی ”مگر جو تیرا رب چاہے“ کے الفاظ فرمائے ہیں۔ یہاں بھی ان سے مراد گناہ گار مسلمان ہی ہیں، یعنی جنتی جنت میں ہمیشہ رہیں گے، تاہم کچھ لوگ اللہ کی مشیت کے تحت جہنم سے نکال کر جنت میں لائے جائیں گے۔ گویا وہ ہمیشہ جنت میں نہ رہے مگر جنت میں داخل ہونے کے بعد چونکہ کوئی بھی اس سے نہیں نکلے گا، اس لیے آخر میں فرمایا: «{ عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ }» یعنی جنت ایسا عطیہ ہے جو قطع کیا جانے والا نہیں۔ (روح المعانی) ➎ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ اپنے فوائد میں لکھتے ہیں کہ اس کے یعنی آیت: «{ مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ }» کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ رہیں گے آگ میں جتنی دیر رہ چکے ہیں آسمان و زمین دنیا میں، مگر جتنا اور چاہے تیرا رب، وہ اسی کو معلوم ہے۔ دوسرے یہ کہ رہیں گے آگ میں جب تک رہے آسمان و زمین اس (آخری) جہان کا، یعنی ہمیشہ مگر جو چاہے رب تو موقوف کر دے، لیکن وہ چاہ چکا کہ موقوف نہ ہو۔ اس کہنے میں فرق نکلا اللہ کے ہمیشہ رہنے میں اور بندے کے کہ بندے کے ہمیشہ رہنے پر ساتھ یہ بات لگی ہے کہ اللہ چاہے تو فنا کر دے۔“ (موضح) گویا شاہ صاحب نے اس مشہور اعتراض کا بھی جواب دے دیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات بھی ہمیشہ رہنے والی ہے، جنتی اور جہنمی بھی ہمیشہ جنت اور جہنم میں رہنے والے ہوئے تو دونوں ایک دوسرے کی مثل ابدی ہو گئے، جب کہ فرمایا: «{ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ }» [ الشوریٰ: ۱۱ ] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔“ جواب یہ ہے کہ بندے کا جہنم یا جنت میں ہمیشہ رہنا اور ابدی ہونا اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا ابدی ہونا کسی کی مشیت پر موقوف نہیں۔ وہ خود ہی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، وہ ازلی بھی ہے اور ابدی بھی۔
رہے وہ لوگ جو نیک بخت نکلیں گے، تو وہ جنت میں جائیں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں، الا یہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے ایسی بخشش ان کو ملے گی جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
لیکن جو نیک بخت کئے گئے وه جنت میں ہوں گے جہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان وزمین باقی رہے مگر جو تیرا پروردگار چاہے۔ یہ بے انتہا بخشش ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو خوش نصیب ہوئے وہ جنت میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا یہ بخشش ہے کبھی ختم نہ ہوگی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو نیک بخت ہیں وہ بہشت میں ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم ہیں۔ اِلا یہ کہ آپ کا پروردگار (کچھ اور) چاہے (یہ وہ) عطیہ ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
اور رہ گئے وہ جو خوش قسمت بنائے گئے تو وہ جنت میں ہوں گے، ہمیشہ اس میں رہنے والے، جب تک سارے آسمان اور زمین قائم ہیں مگر جو تیرا رب چاہے۔ ایسا عطیہ جو قطع کیا جانے والا نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کے فرماں بردار اور جنت ٭٭
رسولوں کے تابعدار جنت میں رہیں گے۔ جہاں سے کبھی نکلنا نہ ہو گا۔ زمین و آسمان کی بقا تک ان کی بھی جنت میں بقا رہے گی «إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ» ۱؎ [11-هود:107] یعنی ’ مگر جو اللہ چاہے ‘ یعنی یہ بات بذاتہ واجب نہیں بلکہ اللہ کی مشیت اور اس کے ارادے پر ہے۔ بقول ضحاک رحمہ اللہ و حسن رحمہ اللہ ”یہ بھی موحد گنہگاروں کے حق میں ہے وہ کچھ مدت جہنم میں گزار کر اس کے بعد وہاں سے نکالے جائیں گے یہ عطیہ ربانی ہے جو ختم نہ ہوگا، نہ گھٹے گا۔ یہ اس لیے فرمایا کہ کہیں ذکر مشیت سے یہ کھٹکا نہ گزرے کہ ہمیشگی نہیں۔“ جیسے کہ دوزخیوں کے دوام کے بعد بھی اپنی مشیت اور ارادے کی طرف رجوع کیا ہے۔ سب اس کی حکمت و عدل ہے وہ ہر اس کام کو کر گزرتا ہے جس کا ارادہ کرے۔ بخاری و مسلم میں ہے { موت کو چتکبرے مینڈھے کی صورت میں لایا جائے گا اور اسے ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر فرما دیا جائے گا کہ اہل جنت تم ہمیشہ رہو گے اور موت نہیں اور جہنم والوں تمہارے لیے ہمیشگی ہے موت نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4830]
18۔ 1 یہ استثناء بھی عصاۃ اہل ایمان کے لئے ہے۔ یعنی دیگر جنتیوں کی طرح یہ نافرمان مومن ہمیشہ سے جنت میں نہیں رہیں ہوں گے، بلکہ ابتدا میں ان کا کچھ عرصہ جہنم میں گزرے گا اور پھر انبیاء اور اہل ایمان کی سفارش سے ان کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائے گا، جیسا کہ احادیث صحیحہ سے یہ باتیں ثابت ہیں۔ 18۔ 2 غیر مجذوذ کے معنی ہیں غیر مقطوع۔ یعنی نہ ختم ہونے والی عطاء۔ اس جملے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ جن گناہ گاروں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائے گا، یہ دخول عارضی نہیں، ہمیشہ کے لئے ہوگا اور تمام جنتی ہمیشہ اللہ کی عطاء اور اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے، اور یہ ہمیشہ کیلئے جاری رہے گا۔ اس میں کبھی انقطاع نہیں ہوگا۔
پس اے نبیؐ، تو ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہ جن کی یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں یہ تو (بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے) اُسی طرح پوجا پاٹ کیے جا رہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے، اور ہم اِن کا حصہ اِنہیں بھرپور دیں گے بغیر اس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کسر ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اس لئے آپ ان چیزوں سے شک وشبہ میں نہ رہیں جنہیں یہ لوگ پوج رہے ہیں، ان کی پوجا تو اس طرح ہے جس طرح ان کے باپ دادوں کی اس سے پہلے تھی۔ ہم ان سب کو ان کا پورا پورا حصہ بغیر کسی کمی کے دینے والے ہی ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو اے سننے والے! دھوکا میں نہ پڑ اس سے جیسے یہ کافر پوجتے ہیں یہ ویسا ہی پوجتے ہیں جیسا پہلے ان کے باپ دادا پوجتے تھے اور بیشک ہم ان کا حصہ انہیں پورا پھیردیں گے جس میں کمی نہ ہوگی،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) جن کی یہ (مشرک لوگ) عبادت کرتے ہیں آپ ان کے (باطل پرست ہونے) میں کسی شک میں نہ رہیں یہ اسی طرح (کورکورانہ) عبادت کر رہے ہیں جس طرح ان سے پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے اور ہم ان کو ان (کے نتائجِ اعمال) کا پورا پورا حصہ دیں گے جس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
پس تو اس کے بارے میں جس کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں، کسی شک میں نہ رہ، یہ لوگ عبادت نہیں کرتے مگر جیسے ان سے پہلے ان کے باپ دادا عبادت کرتے تھے اور بے شک ہم یقینا انھیں ان کا حصہ پورا پورا دینے والے ہیں، جس میں کوئی کمی نہ کی گئی ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکوں کا حشر ٭٭
مشرکوں کے شرک کے باطل ہونے میں ہرگز شبہ تک نہ کرنا۔ ان کے پاس سوائے باپ دادا کی بھونڈی تقلید کے اور دلیل ہی کیا ہے؟ ان کی نیکیاں انہیں دنیا میں ہی مل جائیں گی آخرت میں عذاب ہی عذاب ہوگا۔ جو خیر و شکر کے وعدے ہیں سب پورے ہونے والے ہیں۔ ان کے عذاب کا مقررہ حصہ انہیں ضرور پہنچے گا۔ موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے کتاب دی لیکن لوگوں نے تفرقہ ڈالا۔ کسی نے اقرار کیا تو کسی نے انکار کر دیا۔ پس انہی نبیوں جیسا حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ہے کوئی مانے گا کوئی ٹالے گا۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَأَجَلٌ مُّسَمًّى فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ» ۱؎ [20-طه:129-130] ’ چونکہ ہم وقت مقرر کر چکے ہیں چونکہ ہم بغیر حجت پوری کئے عذاب نہیں کیا کرتے اس لیے یہ تاخیر ہے ورنہ ابھی انہیں ان کے گناہوں کا مزہ یاد آ جاتا ہے پس ان کی باتوں پر صبر کر اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا ره ‘۔ کافروں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں غلط ہی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا شک و شبہ زائل نہیں ہوتا۔ سب کو اللہ جمع کرے گا اور ان کے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ دے گا۔ اس قرأت کا بھی معنی اس ہمارے ذکر کردہ معنی کی طرف ہی لوٹنا ہے۔
19۔ 1 اس سے مراد وہ عذاب ہے جس کے وہ مستحق ہوں گے، اس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
(آیت 109) ➊ {فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّمَّا يَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ:} یعنی ان کے معبودوں کے باطل ہونے یا نفع نقصان کا مالک نہ ہونے میں کسی قسم کا شک نہ کر۔ {” مِمَّا يَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ “} (جن کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں) میں ”یہ لوگ“ سے مراد مشرکین قریش ہیں۔ ابن عاشور نے لکھا ہے کہ میں نے قرآن کی اس اصطلاح کی جستجو کی تو تقریباً گیارہ مقامات میں ایسا ہی پایا۔ یہ بات میرے دل میں اللہ کی طرف سے ڈالی گئی ہے اور میں نے آیت: «{ وَ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِيْدًا}» [ النساء: ۴۱ ] کی تفسیر میں اس کی وضاحت کی ہے۔ [ التحریر و التنویر ] یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قسم کا کوئی شک تھا جس سے اللہ تعالیٰ منع فرما رہا ہے؟ جو اب اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: «{ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ }» [ ہود: ۱۱۴ ] ”نماز قائم کر۔“ اسی طرح فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ وَ الْمُنٰفِقِيْنَ }» [ الأحزاب: ۱ ] ”اے نبی! اللہ سے ڈر اور کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کر۔“ تو کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے نماز قائم نہیں کرتے تھے؟ یا کیا آپ اس سے پہلے اللہ سے نہیں ڈرتے تھے؟ اور کیا آپ کفار و منافقین کی اطاعت کیا کرتے تھے؟ نہیں، ہر گز نہیں، اس قسم کے احکام جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مخلص اہل ایمان پہلے ہی کار بند ہوں، نازل کرنے سے مراد یہ ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور پہلے سے عمل کرنے والے ہمیشہ ان پر کاربند رہیں اور استقامت اختیار کریں اور دوسرے تمام انسان بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے اپنے آپ کو مخاطب سمجھ کر ان احکام پر عمل کریں کہ جب نبی کو یہ حکم ہے تو ہماری کیا اوقات ہے کہ ہم اس پر عمل نہ کریں۔ ➋ { مَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا يَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ:” اٰبَآؤُهُمْ “} سے مراد عادوثمود ہیں، کیونکہ عدنانی عربوں کی ماں بنوجرہم سے تھی جو اسماعیل علیہ السلام کی بیوی تھی۔ بنو جرہم ثمود سے تھے اور قریش کی ماں بنو خزاعہ سے تھی، جو قُصی کی بیوی تھی اور عرب میں بت پرستی عمرو بن لحی نے شروع کی تھی جو خزاعی تھا۔ (ابن عاشور) یعنی ان کی غیر اللہ کی پرستش کی بنیاد سوائے باپ دادا کی اندھی تقلید کے اور کچھ نہیں ہے۔ (ابن کثیر) آبا و اجداد کی غیر اللہ کی عبادت کیا تھی؟ یہی کہ وہ اپنے بزرگوں یا ان کے بتوں یا قبروں کو مصیبت کے وقت پکارتے تھے، انھیں اللہ کا بیٹا یا جز یا عین قرار دیتے تھے۔ اسی طرح عبادت میں ان کے نام کی نذر و نیاز ماننا، اللہ کے حصے کے ساتھ جانوروں اور کھیتیوں میں ان کا حصہ رکھنا، ان کو اللہ کی صفات، مثلاً علم غیب کا مالک، دور سے فریاد سننے اور مدد کرنے والا سمجھنا سبھی شامل ہیں۔ ہر زمانے کے مشرک ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں: «{ بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ }» [ المؤمنون: ۸۱ ] ”بلکہ انھوں نے کہا جیسے پہلوں نے کہا تھا۔“ اور ان کے پاس تقلیدِ آباء کے سوا کوئی دلیل نہیں ہوتی اور ان پر وہی محاورہ صادق آتا ہے کہ {”مَا أَشْبَهَ اللَّيْلَةَ بِالْبَارِحَةِ “} ”آج کی رات کل کی رات کے کس قدر مشابہ ہے۔“ ➌ { وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِيْبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوْصٍ:} انھیں ان کا حصہ پورا پورا دینے سے مراد ایک تو یہ ہے کہ کسی شخص کی تقدیر میں دنیا کا جو رزق اور آسائشیں لکھی گئی ہیں، وہ مسلمان ہو یا کافر اسے ملیں گی، کافروں کو بھی ان کا حصہ پورا ملے گا۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۲۰) دوسری یہ کہ ان کی نیکیاں جو انھوں نے دنیا میں کی ہیں ان کا پورا بدلہ ہم انھیں دنیا ہی میں دے دیں گے۔ دیکھیے سورۂ احقاف (۲۰) اور تیسری یہ کہ ہم ان کی غیر اللہ کی عبادت اور شرک کا پورا پورا بدلہ دنیا میں نہیں بلکہ قیامت کے دن ضرور دینے والے ہیں۔ یہاں یہ آخری معنی زیادہ مناسب ہے، کیونکہ ان لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے پہلی قوموں کی طرح دنیا میں آسمانی عذاب نہیں دیا گیا، جس سے ان کا نام و نشان مٹ جاتا۔
ہم اس سے پہلے موسیٰؑ کو بھی کتاب دے چکے ہیں اور اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا تھا (جس طرح آج اِس کتاب کے بارے میں کیا جا رہا ہے جو تمہیں دی گئی ہے) اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کر دی گئی ہوتی تو اِن اختلاف کرنے والوں کے درمیان کبھی کا فیصلہ چکا دیا گیا ہوتا یہ واقعہ ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف سے شک اور خلجان میں پڑے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی۔ پھر اس میں اختلاف کیا گیا، اگر پہلے ہی آپ کے رب کی بات صادر نہ ہوگئی ہوتی تو یقیناً ان کا فیصلہ کر دیا جاتا، انہیں تو اس میں سخت شبہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں پھوٹ پڑگئی اگر تمہارے رب کی ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو جبھی ان کا فیصلہ کردیا جاتا اور بیشک وہ اس کی طرف سے دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور بے شک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے سے طئے نہ کر دی گئی ہوتی (کہ سزا دینے میں جلدی نہیں کرنی) تو کبھی کا ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا اور وہ اس (عذاب) کے بارے میں تردد انگیز شک میں مبتلا ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، پھر اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی طرف سے پہلے ہوچکی تو ان کے درمیان ضرور فیصلہ کر دیا جاتا اور بے شک یہ لوگ یقینا اس کے بارے میں ایک بے چین رکھنے والے شک میں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکوں کا حشر ٭٭
مشرکوں کے شرک کے باطل ہونے میں ہرگز شبہ تک نہ کرنا۔ ان کے پاس سوائے باپ دادا کی بھونڈی تقلید کے اور دلیل ہی کیا ہے؟ ان کی نیکیاں انہیں دنیا میں ہی مل جائیں گی آخرت میں عذاب ہی عذاب ہوگا۔ جو خیر و شکر کے وعدے ہیں سب پورے ہونے والے ہیں۔ ان کے عذاب کا مقررہ حصہ انہیں ضرور پہنچے گا۔ موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے کتاب دی لیکن لوگوں نے تفرقہ ڈالا۔ کسی نے اقرار کیا تو کسی نے انکار کر دیا۔ پس انہی نبیوں جیسا حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ہے کوئی مانے گا کوئی ٹالے گا۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَأَجَلٌ مُّسَمًّى فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ» ۱؎ [20-طه:129-130] ’ چونکہ ہم وقت مقرر کر چکے ہیں چونکہ ہم بغیر حجت پوری کئے عذاب نہیں کیا کرتے اس لیے یہ تاخیر ہے ورنہ ابھی انہیں ان کے گناہوں کا مزہ یاد آ جاتا ہے پس ان کی باتوں پر صبر کر اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا ره ‘۔ کافروں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں غلط ہی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا شک و شبہ زائل نہیں ہوتا۔ سب کو اللہ جمع کرے گا اور ان کے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ دے گا۔ اس قرأت کا بھی معنی اس ہمارے ذکر کردہ معنی کی طرف ہی لوٹنا ہے۔
110۔ 1 یعنی کسی نے اس کتاب کو مانا اور کسی نے نہیں مانا۔ یہ نبی کو تسلی دی جا رہی ہے کہ پچھلے انبیاء کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتا آیا ہے، کچھ لوگ ان پر ایمان لانے والے ہوتے اور دوسرے تکذیب کرنے والے۔ اس لئے آپ اپنی تکذیب سے نہ گھبرائیں۔ 110۔ 2 اس سے مراد یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے ان کے لئے عذاب کا ایک وقت مقرر کیا ہوا نہ ہوتا تو وہ انھیں فورا ہلاک کر ڈالتا۔
(آیت 110) ➊ { وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِيْهِ:} سورۂ ہود واحد سورت ہے جس میں ایک ہی رسول کا ذکر دو بار ہوا ہے۔ اس سے پہلے یہ ذکر ہوا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا گیا تھا کہ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس جائیں، آیات اور سلطان مبین پیش کریں اور جیسا کہ سورۂ طٰہٰ میں ذکر ہے، اس سے مطالبہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل کو عذاب دینا چھوڑ دے اور انھیں آزادی دے کر میرے ساتھ بھیج دے۔ اگرچہ اس کے ساتھ توحید و رسالت کی دعوت بھی تھی، مگر وہ مسلمان ہی نہیں ہوا کہ اس کے لیے مفصل احکام نازل ہوتے۔ اس وقت تمام احکام زبانی تھے، تورات نازل نہیں ہوئی تھی، اس لیے ساتھ ہی اس کا انجام ذکر کر دیا: «{ يَقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ }» [ ہود: ۹۸ ] یعنی وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے چلتا ہوا انھیں جہنم میں لے جائے گا۔ موسیٰ علیہ السلام کی دوسری بعثت بنی اسرائیل کے لیے تھی۔ چنانچہ آزادی حاصل ہونے اور سمندر سے بخیریت نکل جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے طُور پر چالیس راتوں کا اعتکاف کروایا اور اس کے بعد انھیں تورات عطا فرمائی۔ اب موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ فرعون یا اس کے سردار نہیں تھے، ان کے ساتھ بنی اسرائیل تھے یا فرعون کی قوم میں سے مصر سے آنے والے چند نوجوان، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ }» کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب (تورات) عطا فرمائی، مگر موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں اور اس کے بعد اس میں اختلاف کیا گیا۔ کسی نے تسلیم کیا، کسی نے انکار کر دیا، یا کسی نے کچھ احکام مان لیے کچھ نہیں، حتیٰ کہ بنی اسرائیل کی غالب اکثریت نے موسیٰ علیہ السلام کے حکم پر ارض مقدس (شام) کے حصول کے لیے جہاد پر نکلنے سے بھی صاف انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ جا تو اور تیرا رب لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۲۴) پھر موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ان پر بہت سے دور آئے، کبھی غالب رہے، مثلاً یوشع بن نون علیہ السلام کا دور، داؤدو سلیمان علیھما السلام کا دور، کبھی مغلوب رہے، پھر آہستہ آہستہ انھوں نے اللہ کی کتاب میں ایسا اختلاف کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق بہتر (۷۲) گروہوں میں بٹ گئے۔ انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب اللہ کے معانی میں تحریف کی، غلط تاویلیں کیں، معانی بدلے، پھر الفاظ میں بھی تحریف کر دی، جیسا کہ فرمایا: «{ يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ }» [ المائدۃ: ۱۳ ] ” وہ کلام کو اس کی جگہوں سے پھیر دیتے ہیں۔“ پھر اپنے احبار و رہبان (علماء و درویش) کو اللہ تعالیٰ کی کرسی پر بٹھا دیا۔ ان کی فقہ اور ان کے اقوال و فتاویٰ کو یہ درجہ دیا کہ وہ حرام کو حلال کہتے تو حلال سمجھ لیتے، حلال کو حرام کہہ دیتے تو حرام سمجھ لیتے، فرمایا: «{ اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ}» [ التوبۃ: ۳۱ ] ”انھوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی۔“ ان کے دنیا پرست علماء اللہ کی کتاب لوگوں کو سناتے ہوئے زبانوں کو ایسا پیچ دیتے کہ لوگ سمجھیں یہ اللہ ہی کی کتاب سنا رہے ہیں، حالانکہ وہ اللہ کی کتاب نہ ہوتی، پھر صاف دعویٰ کر دیتے کہ یہ اللہ کی طرف سے شرع کا حکم ہے، حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہ ہوتا، فرمایا: «{ وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيْقًا يَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ يَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ مَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ يَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ }» [ آل عمران: ۷۸ ] ”اور بے شک ان میں سے یقینا کچھ لوگ ایسے ہیں جو کتاب (پڑھنے) کے ساتھ اپنی زبانیں مروڑتے ہیں، تاکہ تم اسے کتاب میں سے سمجھو، حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں اور اللہ پر جھوٹ کہتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں۔“ پھر کچھ ایسے بدنصیب تھے جو اپنے ہاتھوں سے فتوے لکھ کر کہتے یہ اللہ کا حکم ہے، حالانکہ وہ سب کچھ انھوں نے اپنی کسی دنیوی خواہش کو پورا کرنے کے لیے لکھا ہوتا، اللہ کا حکم ہر گز نہ ہوتا اور جانتے بوجھتے اللہ پر جھوٹ باندھ دیتے، فرمایا: «{ فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ يَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَيْدِيْهِمْ ثُمَّ يَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِيَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا فَوَيْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَيْدِيْهِمْ وَ وَيْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا يَكْسِبُوْنَ }» [ البقرۃ: ۷۹ ] ”پس ان لوگوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے ہے، تاکہ اس کے ساتھ تھوڑی قیمت حاصل کریں۔ پس ان کے لیے بڑی ہلاکت اس کی وجہ سے ہے جو ان کے ہاتھوں نے لکھا اور ان کے لیے بڑی ہلاکت اس کی وجہ سے ہے جو وہ کماتے ہیں۔“ ہاں کچھ لوگ صراط مستقیم پر قائم رہے۔ یہ وہ تھے جو موسیٰ علیہ السلام کی کتاب اور سنت پر کسی تبدیلی یا تحریف کے بغیر قائم رہے۔ یہ نجات پانے والے تھے، مگر ان کے بہت سے لوگ اللہ کے احکام کے نافرمان ہو گئے اور اوپر مذکور ہیرا پھیریاں کرنے والے بن گئے، یا ایسی ہیرا پھیریاں کرنے والوں کے پیروکار بن گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ وَ كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا يَعْمَلُوْنَ }» [ المائدۃ: ۶۶ ] ”ان میں سے ایک جماعت درمیانے راستے والی ہے اور ان میں سے بہت سے لوگ، برا ہے جو کر رہے ہیں۔“ اس وقت یہ سارا نقشہ آنکھوں سے دیکھنا چاہیں تو ہماری امت مسلمہ میں دیکھ سکتے ہیں۔ ➋ اوپر اہل سعادت اور اہل شقاوت کا حال بیان کرنے کے بعد آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ اگر آج یہ لوگ آپ پر نازل شدہ کتاب قرآن کے بارے میں طرح طرح کی باتیں بنا رہے ہیں تو آپ کبیدہ خاطر نہ ہوں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، اس سے پہلے تورات کے ساتھ بھی لوگ یہی معاملہ کر چکے ہیں۔ ➌ {وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ …:} موسیٰ علیہ السلام سے پہلے جہاد کا حکم نہ تھا، اس لیے رسول کی نافرمانی پر آسمان سے عذاب اتر آتا تھا۔ فرعون کے غرق ہونے کے بعد جہاد کا حکم ہوا، اب یا تو کفار کو مسلمانوں کے ہاتھوں عذاب دیا جائے گا، جیسے فرمایا: «{ قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ }» [ التوبۃ: ۱۴ ] ”ان سے لڑو، اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے عذاب دے گا۔“ چنانچہ یوشع بن نون، طالوت، داؤد اور سلیمان علیھم السلام وغیرہم کے جہاد اس بات کی دلیل ہیں۔ اگر مسلمانوں کے ہاتھوں عذاب نہ ہوا تو پھرآخرت کو ہو گا۔ اگر یہ بات طے نہ ہو چکی ہوتی تو ان پر پہلی قوموں کی طرح عذاب آ چکا ہوتا۔ ہاں محدود پیمانے پر اللہ تعالیٰ کی سزا کا تازیانہ اب بھی برس سکتا ہے، جیسا کہ ”اصحاب سبت“ پر برسا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ہماری امت میں بھی ایسے واقعات پیش آئیں گے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اگر یہ بات نہ ہوتی کہ دنیا میں سچ اور جھوٹ صاف نہ ہو۔“ (موضح) ➍ {وَ اِنَّهُمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ:} بعض مفسرین نے اس کی تفسیر کی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی قوم تورات کے بارے میں ایک بے چین رکھنے والے شک میں مبتلا ہے، نہ اسے اس کے سچا ہونے کا یقین ہے نہ جھوٹا ہونے کا اور حق کا انکار کرنے والوں کا یہی حال ہوتا ہے کہ ان کا دل اسے سچا مانتا ہے، مگر دنیاوی خواہشات اسے ماننے کی اجازت نہیں دیتیں، اسی تذبذب میں کفر ہی پر دنیا سے گزر جاتے ہیں۔ بعض نے یہ تفسیر کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے ایمان نہ لانے والے قرآن کے متعلق بے چین رکھنے والے شک میں مبتلا ہیں۔ مگر پہلی تفسیر زیادہ درست معلوم ہوتی ہے، کیونکہ ذکر موسیٰ علیہ السلام، تورات اور ان کی قوم کا ہو رہا ہے۔ (واللہ اعلم)
اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا، یقیناً وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناًان میں سے ہر ایک جب ان کے روبرو جائے گا تو آپ کا رب اسے اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ بیشک وه جو کر رہے ہیں ان سے وه باخبر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک جتنے ہیں ایک ایک کو تمہارا رب اس کا عمل پورا بھردے گا اسے ان کے کا موں کی خبر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور یقیناً آپ کا پروردگار ان سب کو ان کے اعمال کا (بدلہ) پورا پورا دے گا بے شک جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں خدا اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے شک ان سب کو جب (وقت آئے گا) تو یقینا تیرا رب انھیں ان کے اعمال ضرور پورے پورے دے گا، بے شک وہ اس سے جو وہ کر رہے ہیں، پوری طرح باخبر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکوں کا حشر ٭٭
مشرکوں کے شرک کے باطل ہونے میں ہرگز شبہ تک نہ کرنا۔ ان کے پاس سوائے باپ دادا کی بھونڈی تقلید کے اور دلیل ہی کیا ہے؟ ان کی نیکیاں انہیں دنیا میں ہی مل جائیں گی آخرت میں عذاب ہی عذاب ہوگا۔ جو خیر و شکر کے وعدے ہیں سب پورے ہونے والے ہیں۔ ان کے عذاب کا مقررہ حصہ انہیں ضرور پہنچے گا۔ موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے کتاب دی لیکن لوگوں نے تفرقہ ڈالا۔ کسی نے اقرار کیا تو کسی نے انکار کر دیا۔ پس انہی نبیوں جیسا حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ہے کوئی مانے گا کوئی ٹالے گا۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَأَجَلٌ مُّسَمًّى فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ» ۱؎ [20-طه:129-130] ’ چونکہ ہم وقت مقرر کر چکے ہیں چونکہ ہم بغیر حجت پوری کئے عذاب نہیں کیا کرتے اس لیے یہ تاخیر ہے ورنہ ابھی انہیں ان کے گناہوں کا مزہ یاد آ جاتا ہے پس ان کی باتوں پر صبر کر اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا ره ‘۔ کافروں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں غلط ہی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا شک و شبہ زائل نہیں ہوتا۔ سب کو اللہ جمع کرے گا اور ان کے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ دے گا۔ اس قرأت کا بھی معنی اس ہمارے ذکر کردہ معنی کی طرف ہی لوٹنا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 111) ➊ {وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ …:” كُلًّا “} میں تنوین عوض کی ہے، یعنی اس کا مضاف الیہ محذوف ہے۔ اصل میں تھا {” كُلُّهُمْ“ } یا {” كُلُّ هٰؤُلَاءِ“} (یہ سب لوگ) {” لَمَّا “} کا معنی ”جب“ ہے، یہ حرفِ شرط ہے جس کی شرط محذوف ہے۔ {”لَيُوَفِّيَنَّهُمْ “} اس کی جزا ہے۔ وہ محذوف شرط {” لَمَّا “} کے معنی کے مطابق نکالی جائے گی، یعنی {” لَمَّا جَاءَ أَجَلُهُمْ“} یعنی بے شک یہ سب لوگ (جب ان کا وقت آئے گا) تو یقینا انھیں ان کا رب ان کے اعمال کا ضرور پورا پورا بدلہ دے گا۔ چونکہ وہ لوگ قیامت کے منکر تھے، اس لیے اس جملے میں کئی طرح سے تاکید آئی ہے۔ {” اِنَّ “}، لام تاکید اور نون ثقیلہ۔ {” لَمَّا “} کا مابعد حذف کرنے سے بھی ایک ہیبت پیدا ہو رہی ہے، کیونکہ خود لفظ {” لَمَّا “} میں وقت کا مفہوم شامل ہے، یعنی جب وہ وقت آئے گا۔({” اِنَّ كُلًّا لَّمَّا “} کی یہ سب سے واضح اور آسان توجیہ ہے) دیکھیے تفسیر الشعراوی۔ تفسیر نسفی میں ہے: {” قَالَ صَاحِبُ الْإِيْجَازِ ”لَمَّا“ فِيْهِ مَعْنَي الظَّرْفِ وَقَدْ دَخَلَ فِي الْكَلاَمِ اخْتِصَارٌ كَأَنَّهُ قِيْلَ ”وَإِنَّ كُلاًّ لَّمَّا بُعِثُوْا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ“} مطلب وہی ہے جو اوپر گزرا، البتہ انھوں نے {” لَمَّا جَاءَ أَجَلُهُمْ “ } کے بجائے {” لَمَّا بُعِثُوْا “} محذوف نکالا ہے۔ ➋ {اِنَّهٗ بِمَا يَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ: } اس میں اعمال کی جزا پوری پوری دینے کی وجہ بیان کی ہے کہ وہ ان کے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے، اس لیے عمل نیک ہو یا بد اس کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔
پس اے محمدؐ، تم، اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و طاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو جو کچھ تم کر رہے ہو اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس آپ جمے رہیئے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وه لوگ بھی جو آپ کے ساتھ توبہ کر چکے ہیں، خبردار تم حد سے نہ بڑھنا، اللہ تمہارے تمام اعمال کا دیکھنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو قائم رہو جیسا تمہیں حکم ہے اور جو تمہارے ساتھ رجوع لایا ہے اور اے لوگو! سرکشی نہ کرو بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس (اے رسول(ص)) جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے آپ خود اور وہ لوگ بھی جنہوں نے (کفر و عصیان سے) توبہ کر لی ہے اور آپ کے ساتھ ہیں (راہِ راست پر) ثابت قدم رہیں اور حد سے نہ بڑھیں (یقین کرو کہ) تم جو کچھ کرتے ہو وہ (اللہ) اسے دیکھ رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پس تو خوب ثابت قدم رہ، جیسے تجھے حکم دیا گیا ہے اور وہ لوگ بھی جنھوں نے تیرے ساتھ توبہ کی ہے اور حد سے نہ بڑھو، بے شک وہ جو کچھ تم کرتے ہو، اسے خوب دیکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
استقامت کی ہدایت ٭٭
استقامت اور سیدھی راہ پر دوام، ہمیشگی اور ثابت قدمی کی ہدایت اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمانوں کو کر رہا ہے۔ یہی سب سے بڑی چیز ہے۔ ساتھ ہی سرکشی سے روکا ہے کیونکہ یہی توبہ کرنے والی چیز ہے گو کسی مشرک ہی پر کی گئی ہو۔ پرودگار بندوں کے ہر عمل سے آگاہ ہے مداہنت اور دین کے کاموں میں سستی نہ کرو۔ شرک کی طرف نہ جھکو۔ مشرکین کے اعمال پر رضا مندی کا اظہار نہ کرو۔ ظالموں کی طرف نہ جھکو۔ ورنہ آگ تمہیں پکڑ لے گی۔ ظالموں کی طرف داری ان کے ظلم پر مدد ہے یہ ہرگز نہ کرو۔ اگر ایسا کیا تو کون ہے جو تم سے عذاب اللہ ہٹائے؟ اور کون ہے جو تمہیں اس سے بچائے۔
112۔ 1 اس آیت میں نبی اور اہل ایمان کو ایک تو استقامت کی تلقین کی جا رہی ہے، جو دشمن کے مقابلے کے لئے ایک بہت بڑا ہتھیار ہے۔ دوسرے حد سے بڑھ جانے سے روکا گیا ہے، جو اہل ایمان کی اخلاقی قوت اور رفعت کردار کے لئے بہت ضروری ہے۔ حتٰی کہ یہ تجاوز، دشمن کے ساتھ معاملہ کرتے وقت بھی جائز نہیں ہے۔
(آیت 112) ➊ {فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ: ” فَاسْتَقِمْ “} میں سین اور تاء کا اضافہ یا تو طلب کے لیے ہے، معنی یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح سیدھا اور قائم رہنے کی درخواست کرتا رہ جس طرح تجھے حکم دیا گیا ہے اور یہ اضافہ مبالغے اور تاکید کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ قرطبی نے فرمایا، استقامت دائیں یا بائیں طرف جائے بغیر ایک طرف کو سیدھے چلتے چلے جانا ہے۔ یہ معنی یہاں زیادہ مناسب ہے۔ پہلا معنی بھی درست ہے اور اس پر عمل کرتے ہوئے ہی ہم ہر رکعت میں صراط مستقیم کی ہدایت کی دعا کرتے ہیں۔ استقامت کا معنی باطل کے دونوں کناروں افراط اور تفریط (زیادتی اور کمی) سے بچ کر ان کے عین درمیان سیدھا رہنا ہے۔ یہ نہایت مشکل کام ہے۔ پہلے تو ہر وقت اس کا خیال رکھنا ہی مشکل ہے کہ عین صحیح راستہ کیا ہے؟ پھر اس پر قائم رہنا اس سے بھی مشکل ہے۔ رازی نے اسے ایک مثال سے سمجھایا ہے کہ دھوپ اور چھاؤں کے درمیان ایک جگہ ہے۔ اس کا معلوم کرنا اور ہر وقت اس کا خیال رکھنا کس قدر مشکل ہو گا۔ اس لیے اہل علم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا تھا: [ شَيَّبَتْنِيْ هُوْدٌ ] [ترمذی: ۳۲۹۷] ”مجھے سورۂ ہود نے بوڑھا کر دیا۔“ اس کا سبب انبیاء علیھم السلام کی قوموں پر عذاب کے واقعات کے بجائے یہ حکم ہے: «{ فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ }» ➋ {” فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ “} سے معلوم ہوا کہ سیدھا راستہ جس پر خوب ثابت رہنے کا حکم ہے، صرف وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی فرمایا۔ یہاں استقامت کا حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان تمام لوگوں کو ہے جو کفر سے توبہ کر کے آپ کے ساتھ اہل ایمان میں داخل ہوئے، مگر سب کو کس چیز پر استقامت کا حکم ہے، صرف اس پر جسے {” كَمَاۤ اُمِرْتَ “} کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ یعنی صرف اس پر جس کا حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے، کیونکہ اللہ کی طرف سے امر صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا ہے، آپ کے سوا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے لے کر امت کے آخری شخص تک ایک بھی شخص ایسا نہیں جو مامور من اللہ ہو اور جسے وحی کے ذریعے سے حکم ملتا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا ایک شخص بھی ایسا نہیں جس کی رائے اللہ کا حکم یا دین ہو، جس پر امت کو قائم رہنے کا حکم ہو۔ اس سے تمام تقلیدی گروہوں کا استقامت سے ہٹ جانا ثابت ہوا۔ نجات چاہتے ہیں تو تمام لوگوں کی رائے، قیاس اور تقلیدی گروہ بندی چھوڑ کر صرف کتاب و سنت کو لازم پکڑنا ہو گا۔ ➌ استقامت (اللہ کے حکم پر پوری طرح قائم رہنا) ایک نہایت جامع لفظ ہے، جس میں پوری شریعت آ جاتی ہے۔ عقائد میں اللہ کی صفات پر اس طرح ایمان جس طرح اس نے حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نہ کسی صفت کا انکار کرنا (تعطیل)، نہ اسے مخلوق کی صفات جیسا سمجھنا (تشبیہ) بلکہ جیسا اللہ کی شان کے لائق ہے۔ اعمال میں نہ کسی حکم پر عمل چھوڑنا (نافرمانی) اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھنا یا آپ سے الگ راستہ نکالنا (رہبانیت اور بدعت)۔ اخلاق میں، مثلاً نہ بخل کرنا نہ بے جا خرچ کرنا۔ غرض ہر چیز میں عین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح راستہ معلوم کرکے اس پر قدم بہ قدم چلنا استقامت ہے۔ سفیان بن عبد اللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا، یا رسول اللہ! آپ مجھے اسلام میں کوئی ایسی بات بتلائیں کہ آپ کے بعد مجھے کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے؟ فرمایا: [ قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ ] ”کہو میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر خوب ثابت قدم رہ۔“ [ مسلم، الإیمان، باب جامع أوصاف الإسلام: ۳۸ ] استقامت کے اجر اور فضیلت کے لیے دیکھیے سورۂ حٰم السجدہ (۳۰) اور احقاف (۱۳)۔ ➍ {وَ لَا تَطْغَوْا: ” طَغٰي يَطْغَي طُغْيَانًا “} حد سے بڑھنا، یعنی شریعت کی اطاعت کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حدیں مقرر کر دی ہیں اپنے آپ کو انھی کے اندر رکھو، ان سے باہر نکلنے کی کوشش نہ کرو۔ زندگی کے کسی معاملے میں بھی ان سے تجاوز حرام ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے گھروں کی طرف آئے۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے بارے میں پوچھ رہے تھے، جب انھیں بتایا گیا تو گویا انھوں نے اسے کم سمجھا اور کہنے لگے: [ وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَدْ غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ أَحَدُهُمْ أَمَّا أَنَا فَإِنِّيْ أُصَلِّي اللَّيْلَ أَبَدًا، وَ قَالَ آخَرُ أَنَا أَصُوْمُ الدَّهْرَ وَلاَ أُفْطِرُ، وَقَالَ آخَرُ أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلاَ أَتَزَوَّجُ أَبَدًا، فَجَاءَ إِلَيْهِمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتُمُ الَّذِيْنَ قُلْتُمْ كَذَا وَ كَذَا؟ أَمَا وَاللّٰهِ! إِنِّيْ لَأَخْشَاكُمْ لِلّٰهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهٗ لٰكِنِّيْ أَصُوْمُ وَأُفْطِرُ، وَ أُصَلِّيْ وَأَرْقُدُ، وَ أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ ] [ بخاری، النکاح، باب الترغیب في النکاح: ۵۰۶۳ ] ”ہماری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا نسبت؟ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے پہلے پچھلے گناہ معاف کر دیے ہیں۔“ ان میں سے ایک نے کہا: ”میں تو ہمیشہ رات بھر نماز پڑھوں گا۔“ دوسرے نے کہا: ”میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا۔“ تیسرے نے کہا: ”میں عورتوں سے نکاح نہیں کروں گا۔“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو آپ نے فرمایا: ”تم لوگوں نے اس اس طرح کہا ہے؟ یاد رکھو، اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ کی خشیت رکھنے والا اور تم سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا ہوں، لیکن میں تو روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا اور نماز پڑھتا ہوں اور سو بھی جاتا ہوں اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، تو جو شخص میری سنت (میرے طریقے) سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں۔“ رہے روزانہ ایک ہزار رکعتیں پڑھنے والے، چالیس سال تک عشاء اور فجر ایک وضو سے پڑھنے والے، بارہ سال بھوکے جنگل میں عبادت کرنے والے حضرات، تو یا تو صاف ان پر جھوٹ باندھا گیا ہے، کیونکہ یہ انسان کے بس کی بات ہی نہیں، یا پھر وہ اسی طغیانی کا شکار تھے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔ (نعوذ باللہ) ➎ { اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ:} یعنی استقامت اختیار کرو یا طغیانی، اللہ تعالیٰ تمھارا عمل سب دیکھ رہا ہے۔
اِن ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آ جاؤ گے اور تمہیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمہیں بچا سکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
دیکھو ﻇالموں کی طرف ہرگز نہ جھکنا ورنہ تمہیں بھی (دوزخ کی) آگ لگ جائے گی اور اللہ کے سوا اور تمہارا مددگار نہ کھڑا ہو سکے گا اور نہ تم مدد دیئے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آ گ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حما یتی نہیں پھر مدد نہ پاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور خبردار! ظالموں کی طرف مائل نہ ہونا ورنہ (ان کی طرح) تمہیں بھی آتشِ دوزخ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی سرپرست نہ ہوگا اور نہ ہی تمہاری کوئی مدد کی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان لوگوں کی طرف مائل نہ ہونا جنھوں نے ظلم کیا، ورنہ تمھیں آگ آلپٹے گی اور تمھارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست نہیں ہوں گے، پھر تمھیں مدد نہ دی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
استقامت کی ہدایت ٭٭
استقامت اور سیدھی راہ پر دوام، ہمیشگی اور ثابت قدمی کی ہدایت اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمانوں کو کر رہا ہے۔ یہی سب سے بڑی چیز ہے۔ ساتھ ہی سرکشی سے روکا ہے کیونکہ یہی توبہ کرنے والی چیز ہے گو کسی مشرک ہی پر کی گئی ہو۔ پرودگار بندوں کے ہر عمل سے آگاہ ہے مداہنت اور دین کے کاموں میں سستی نہ کرو۔ شرک کی طرف نہ جھکو۔ مشرکین کے اعمال پر رضا مندی کا اظہار نہ کرو۔ ظالموں کی طرف نہ جھکو۔ ورنہ آگ تمہیں پکڑ لے گی۔ ظالموں کی طرف داری ان کے ظلم پر مدد ہے یہ ہرگز نہ کرو۔ اگر ایسا کیا تو کون ہے جو تم سے عذاب اللہ ہٹائے؟ اور کون ہے جو تمہیں اس سے بچائے۔
113۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ ظالموں کے ساتھ نرمی کرتے ہوئے ان سے مدد حاصل مت کرنا۔ اس سے ان کو یہ تأثر ملے گا کہ گویا تم ان کی دوسری باتوں کو بھی پسند کرتے ہو۔ اس طرح یہ تمہارا ایک بہت بڑا جرم بن جائے گا جو تمہیں بھی ان کے ساتھ، نار جہنم کا مستحق بنا سکتا ہے۔ اس سے ظالم حکمرانوں کے ساتھ ربط وتعلق کی بھی ممانعت نکلتی ہے، اگر مصلحت عامہ یا دینی منافع متقاضی ہوں۔ ایسی صورت میں دل سے نفرت رکھتے ہوئے ان سے ربط وتعلق کی اجازت ہوگی۔ جیسا کہ بعض احادیث سے واضح ہے۔
(آیت 113) ➊ {وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا:”رَكِنَ“} (ن، ع، ف) مائل ہونا۔ (1) { ” الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا “} اور {”اَلظَّالِمِيْنَ“} میں فرق ہے۔ {” الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا “} وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، خواہ کبھی کبھار کیا ہو اور {”اَلظَّالِمِيْنَ“} ظلم کرنے والے، جن کی روش ہی یہ ہے۔ جب پہلی قسم کے لوگوں کی طرف مائل ہونے سے منع فرمایا تو دوسری قسم کی طرف مائل ہونے کا آپ خود اندازہ کر لیں۔ (2) جب ان کی طرف مائل ہونا منع ہے جنھوں نے ظلم کیا تو خود کسی پر ظلم کرنا اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کس قدر قبیح ہو گا۔ حدیث قدسی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [ يَا عِبَادِيْ! إِنِّيْ حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰی نَفْسِيْ وَ جَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا، فَلَا تَظَالَمُوْا ] [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم: ۲۵۷۷، عن أبي ذر رضی اللہ عنہ ] ”اے میرے بندو! میں نے کسی پر ظلم کرنا خود اپنے آپ پر حرام کر رکھا ہے اور اسے تمھارے درمیان بھی حرام کر دیا، سو تم ایک دوسرے پر ظلم مت کرو۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اِتَّقُوْا الظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَّوْمَ الْقِيَامَةِ ] [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم: ۲۵۷۸، عن جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما ] ”ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن کئی اندھیرے ہو گا۔“ (3) ظلم میں شرک اور دوسرے تمام ظلم شامل ہیں، یعنی جو لوگ ظلم کی طرف مائل ہوں ان سے کوئی دوستی اور محبت نہ رکھو، چاہے وہ کافر ہوں یا نام کے مسلمان۔ (شوکانی) (4) ان کی طرف مائل ہونے میں ان کے ساتھ محبت، ان کے ساتھ مجلس آرائی، ان کے پاس بیٹھنا، انھیں ملنے کے لیے جانا، ان کے ظلم پر چپ رہنا، ان کے کاموں پر خوش ہونا، ان جیسا بننا، ان کا فیشن اختیار کرنا، ان کا ذکر عزت اور تعظیم کے ساتھ کرنا، سب کچھ شامل ہے۔ {” رُكُوْنٌ “} (مائل ہونے) کا کم از کم مرتبہ پاس رہ کر چپ رہنا اور آخری مرتبہ ظلم پر ان کی حوصلہ افزائی اور مدد ہے۔ ➋ { فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ …: ” وَ لَا تَرْكَنُوْۤا “} نہی کے جواب میں فاء نے {” تَمَسَّ“} مضارع کو نصب دیا ہے۔ اس آیت سے ظالم حکمرانوں، سرداروں اور چودھریوں سے ربط و تعلق کی ممانعت نکلتی ہے۔ ہاں ان کے شر سے بچنے کے لیے یا مصلحت عامہ یا دعوت دین یا دینی ضرورت کے تقاضے کے پیش نظر ان سے میل جول رکھے تو اس کی اجازت ہے، بشرطیکہ دل میں ان کے ظلم کی وجہ سے نفرت رکھے، جیسا کہ سورۂ آل عمران (۲۸) اور بعض احادیث میں آیا ہے۔ غرض ظلم کرنے والوں سے دلی محبت یا میلان کسی صورت جائز نہیں، البتہ مجبوری کی وجہ سے ان کے پاس جانا، نصیحت کرنا، ان کے ظلم پر مجبوراً خاموش رہنا یا دین کی مصلحت اور حق کی دعوت و تاکید کے لیے ربط و تعلق رکھنا الگ بات ہے۔ ➌ {ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ:} اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ حاکم اگر ظالم اور بدکار ہو تو اس کی اطاعت اسی وقت ہے جب وہ ظلم یا شریعت کی نافرمانی کا حکم نہ دے۔ اگر وہ شریعت کے خلاف حکم دے تو اس کی اطاعت جائز نہیں، الا یہ کہ اس کے ضرر سے بچنے کے لیے بظاہر اطاعت کا اظہار کرے اور دل میں برا سمجھے، جیسا کہ اوپر سورۂ آل عمران کے حوالے سے گزرا۔ حاکم کی اطاعت اس وقت فرض ہے: (1) جب وہ مسلمان ہو۔ دیکھیے سورۂ نساء (۵۹)۔ (2) مسلمانوں میں اقامت ِصلوۃ جاری رکھے۔ دیکھیے مسلم (۱۸۵۵)۔ (3) اس سے کھلم کھلا کفر کا ظہور نہ ہو۔ دیکھیے بخاری (۷۰۵۶)۔ (4) اور وہ اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دے۔ دیکھیے بخاری (۷۱۴۴)۔ {” وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ “} سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ظالم حکمرانوں کی حمایت اور ان کی طرف میلان کا نتیجہ آخرت کے عذاب کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی ولایت (دوستی و حمایت) اور اس کی نصرت(مدد) سے محرومی بھی ہے۔ آج یہ حقیقت ہر شخص اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔
اور دیکھو، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
دن کے دونوں سروں میں نماز برپا رکھ اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی، یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے
احمد رضا خان بریلوی
اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں اور کچھ رات کے حصوں میں بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں، یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے نبی) دن کے دونوں کناروں (صبح و شام) اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کریں بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں یہ نصیحت ہے ان لوگوں کیلئے جو نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کر اور رات کی کچھ گھڑیوں میں بھی، بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔ یہ یاد کرنے والوں کے لیے یاد دہانی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اوقات نماز کی نشاندہی ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کہتے ہیں ”دن کے دونوں سرے سے مراد صبح کی اور مغرب کی نماز ہے۔“ قتادہ، ضحاک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا قول ہے کہ ”پہلے سرے سے مراد صبح کی نماز اور دوسرے سے مراد ظہر اور عصر کی نماز رات کی گھڑیوں سے مراد عشاء کی نماز۔“ بقول مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ ”مغرب و عشاء کی۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:18648:مرسل] نیکیوں کو کرنا گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ سنن میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جس مسلمان سے کوئی گناہ ہو جائے پھر وہ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھ لے، تو اللہ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1521، قال الشيخ الألباني:صحیح] { ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کیا پھر فرمایا اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”جو میرے اس وضو جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے، جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اس کے تمام اگلے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:159] مسند میں ہے کہ { آپ رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا، وضو کیا، پھر فرمایا ”میرے اس وضو کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کیا کرتے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میرے اس وضو جیسا وضو کرے اور کھڑا ہو کر ظہر کی نماز ادا کرے، اس کے صبح سے لے کر اب تک کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، پھر عصر کی نماز پڑھے، تو ظہر سے عصر تک کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں، پھر مغرب کی نماز ادا کرے، تو عصر سے لے کر مغرب تک کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ پھر عشاء کی نماز سے مغرب سے عشاء تک کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ سوتا ہے لوٹ پوٹ ہوتا ہے پھر صبح اُٹھ کر نماز فجر پڑھ لینے سے عشاء سے لے کر صبح کی نماز تک کے سب گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ یہی ہیں وہ بھلائیاں جو برائیوں کو دور کر دیتی ہیں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:71/1:صحیح]
صحیح حدیث میں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بتلاؤ تو اگر تم میں سے کسی کے مکان کے دروازے پر ہی نہر جاری ہو اور وہ اس میں ہر دن پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو کیا اس کے جسم پر ذرا سی بھی میل باقی رہ جائے گا؟“، لوگوں کے نے کہا ہرگز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس یہی مثال ہے۔ پانچ نمازوں کی کہ ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ خطائیں اور گناہ معاف فرما دیتا ہے“ }۔ [صحیح بخاری:528] صحیح مسلم شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”پانچوں نمازیں اور جمعہ جمعہ تک اور رمضان رمضان تک کا کفارہ ہے جب تک کہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کیا جائے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:233] مسند احمد میں ہے { ہر نماز اپنے سے پہلے کی خطاؤں کو مٹا دیتی ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:413/5:حسن] بخاری میں ہے کہ { کسی شخص نے ایک عورت کا بوسہ لے لیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اس گناہ کی ندامت ظاہر کی۔ اس پر یہ آیت اتری اس نے کہا کیا میرے لیے ہی یہ مخصوص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ”نہیں بلکہ میری ساری امت کے لیے یہی حکم ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:526] ایک اور روایت میں ہے کہ { اس نے کہا ”میں نے باغ میں اس عورت سے سب کچھ کیا، ہاں جماع نہیں کیا اب میں حاضر ہوں جو سزا میرے لیے آپ تجویز فرمائیں میں برداشت کر لوں گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ چلا گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ نے اس کی پردہ پوشی کی تھی اگر یہ بھی اپنے نفس کی پردہ پوشی کرتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برابر اسی شخص کی طرف دیکھتے رہے پھر فرمایا: ”اسے واپس بلا لاؤ۔“ جب وہ آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اس پر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ کیا یہ اسی کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ سب لوگوں کے لیے ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2763]
مسند احمد میں ہے، { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ نے جس طرح تم میں روزیاں تقسیم فرمائیں ہیں، اخلاق بھی تقسیم فرمائے ہیں اللہ تعالیٰ دنیا تو اسے بھی دیتا ہے جس سے خوش ہو اور اسے بھی جس سے غضبناک ہو۔ لیکن دین صرف انہیں کو دیتا ہے جن سے اسے محبت ہو۔ پس جسے دین مل جائے یقیناً اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ بندہ مسلمان نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا دل اور اس کی زبان مسلمان نہ ہو جائے۔ اور بندہ ایماندار نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے پڑوسی اس کی ایذاؤں سے بے فکر نہ ہو جائیں }۔ لوگوں نے پوچھا ایذائیں کیا کیا؟ فرمایا: { دھوکہ اور ظلم۔ سنو جو شخص مال حرام کمائے پھر اس میں سے خرچ کرے اللہ اسے برکت سے محروم رکھتا ہے۔ اگر وہ اس میں سے صدقہ کرے تو قبول نہیں ہوتا۔ اور جتنا کچھ اپنے بعد باقی چھوڑ مرے وہ سب اس کے لیے آگ دوزخ کا توشہ بنتا ہے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو بھلائی سے مٹاتا ہے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:387/1:صحیح موقوفا ضعیف مرفوعا] مسند احمد میں ہے کہ { ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ ”ایک عورت سودا لینے کے لیے آتی تھی افسوس کہ میں اسے کوٹھڑی میں لے جا کر اس سے بجز جماع کے اور ہر طرح لطف اندوز ہوا۔ اب جو اللہ کا حکم ہو وہ مجھ پر جاری کیا جائے۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”شاید اس کا خاوند غیر حاضر ہوگا۔“ اس نے کہا جی ہاں یہ بات تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم جاؤ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھو۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی یہی سوال کیا پس آپ رضی اللہ عنہ نے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرح فرمایا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی حالت بیان کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شاید اس کا خاوند اللہ کی راہ میں گیا ہوا ہوگا؟ } پس قرآن کریم کی یہ آیت اتری تو کہنے لگا ”کیا یہ خاص میرے لیے ہی ہے“؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا ”نہیں اس طرح صرف تیری ہی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہو سکتیں بلکہ یہ سب لوگوں کے لیے عام ہے۔“ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عمر سچے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:245/1:ضعیف]
ابن جریر میں ہے کہ { وہ عورت مجھ سے ایک درہم کی کھجوریں خریدنے آئی تھی تو میں نے اسے کہا کے اندر کوٹھڑی میں اس سے بہت اچھی کھجوریں ہیں وہ اندر گئی میں نے بھی اندر جا کر اسے چوم لیا۔ پھر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اللہ سے ڈر اور اپنے نفس پر پردہ ڈالے رہ۔“ لیکن ابو الیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھ سے صبر نہ ہو سکا۔ میں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس تو نے ایک غازی مرد کی اس غیر حاضری میں ایسی خیانت کی۔ میں نے تو یہ سن کر اپنے آپ کو جہنمی سمجھ لیا اور میرے دل میں خیال آنے لگا کہ کاش کہ میرا اسلام اس کے بعد کا ہوتا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذرا سی دیر اپنی گردن جھکا لی اسی وقت جبرائیل یہ آیت لے کر اترے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3115،قال الشيخ الألباني:حسن] ابن جریر میں ہے کہ { ایک شخص نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی اللہ کی مقرر کردہ حد مجھ پر جاری کیجئے۔ ایک دو دفعہ اس نے یہ کہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ موڑ لیا۔ پھر جب نماز کھڑی ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو دریافت فرمایا کہ وہ شخص کہاں ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اچھی طرح وضو کیا؟ اور ہمارے ساتھ نماز پڑھی۔“ اس نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس تو تو ایسا ہی ہے جیسے اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ خبردار اب کوئی ایسی حرکت نہ کرنا۔“ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:18694:]
ابوعثمان رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ انہوں نے ایک درخت کی خشک شاخ پکڑ کے اسے جھنجھوڑا تو تمام خشک پتے جھڑ گئے پھر فرمایا ”ابوعثمان تم پوچھتے نہیں ہو کہ میں نے یہ کیوں کیا؟“ میں نے کہا ہاں جناب ارشاد ہو، فرمایا ”اسی طرح میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، پھر فرمایا: جب بندہ مسلمان اچھی طرح وضو کر کے پانچوں نمازیں ادا کرتا ہے تو اس کے گناہ ایسے ہی چھڑ جاتے ہیں جیسے اس خشک شاخ کے پتے جھڑ گئے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ ۱؎ [مسند احمد:437/5:حسن] مسند میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”برائی اگر کوئی ہو جائے تو اس کے پیچھے ہی نیکی کر لو کہ اسے مٹا دے۔ اور لوگوں سے خوش اخلاقی سے ملا کرو“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:228/5:حسن] اور حدیث میں ہے { جب تجھ سے کوئی گناہ ہو جائے تو اس کے پیچھے ہی نیکی کر لیا کر تاکہ یہ اسے مٹا دے میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» پڑھنا بھی نیکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو بہترین اور افضل نیکی ہے“ }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:361/3:حسن] ابو یعلیٰ میں ہے { دن رات کے جس وقت میں کوئی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» پڑھے اس کے نامہ اعمال میں سے برائیاں مٹ جاتی ہیں یہاں تک کہ ان کی جگہ ویسی ہی نیکیاں ہو جاتی ہیں }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:3611:ضعیف] اس کے راوی عثمان میں ضعف ہے۔ مسند بزار میں ہے { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میں نے کوئی خواہش ایسی نہیں چھوڑی جسے پوری نہ کی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اللہ کے ایک ہونے کی اور میری رسالت کی گواہی دیتا ہے؟“ اس نے کہا ہاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس یہ ان سب پر غالب رہے گی }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:3433/6:صحیح]
114۔ 1 دونوں سروں سے مراد بعض نے صبح اور مغرب، اور بعض نے عشاء اور مغرب دونوں کا وقت مراد لیا ہے۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ یہ آیت معراج سے قبل نازل ہوئی ہو، جس میں پانچ نمازیں فرض کی گئیں۔ کیونکہ اس سے قبل صرف دو ہی نمازیں ضروری تھیں، ایک طلوع شمس سے قبل اور ایک غروب سے قبل اور رات کے پچھلے پہر میں نماز تہجد۔ پھر نماز تہجد امت سے معاف کردی گئی، پھر اس کا وجوب بقول بعض آپ سے بھی ساقط کردیا گیا۔ (ابن کثیر) واللہ اعلم۔ 114۔ 2 جس طرح کہ احادیث میں بھی اسے صراحت کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔ مثلا پانچ نمازیں، جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک، ان کے مابین ہونے والے گناہوں کو دور کرنے والے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے، ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' بتلاؤ! اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر بڑی نہر ہو، وہ روزانہ اس میں پانچ مرتبہ نہاتا ہو، کیا اس کے بعد اس کے جسم پر میل کچیل باقی رہے گا؟ صحابہ نے عرض کیا ' نہیں ' آپ نے فرمایا ' اسی طرح پانچ نمازیں ہیں، ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ گناہوں اور خطاؤں کو مٹا دیتا ہے '۔ (مسلم بخاری)
(آیت 114) ➊ اس آیت اور اس کے بعد والی آیات میں استقامت کا اور طغیانی اور ظالموں کی طرف میلان سے اجتناب کا طریقہ بتایا ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق، جو نماز سے حاصل ہوتا ہے اور صبر کرنا اور برائی اور فساد فی الارض سے منع کرتے رہنا۔ ➋ {وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ:} اقامت کا معنی سیدھا کرنا، مراد نماز کو اس کے اوقات پر سنت کے مطابق پورے ارکان اور خشوع و اخلاص کے ساتھ ادا کرنا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے فرمایا: [ صَلُّوْا كَمَا رَأَيْتُمُوْنِيْ أُصَلِّيْ ] [ بخاری، الأذان، باب الأذان للمسافرین إذا کانوا…: ۶۳۱ ] ”نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے دیکھا ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں۔“ قرطبی نے فرمایا کہ مفسرین میں سے کسی کا اختلاف نہیں کہ یہاں اس سے مراد فرض نماز ہے۔ ➌ ایمان کے بعد سب سے زیادہ زور اقامت ِصلاۃ پر دیا گیا ہے اور اسے کفر و ایمان کے درمیان فرق قرار دیا گیا ہے، کیونکہ روزانہ پانچ دفعہ مسجد میں جا کر اللہ کے سامنے حاضری میں ارکانِ اسلام کا کچھ نہ کچھ حصہ آ جاتا ہے۔ کلمہ ٔ اسلام تشہد میں موجود ہے، پوری نماز کے دوران میں کھانے پینے سے بلکہ دنیا کے ہر کام سے پرہیز روزے کا عکس ہے، اپنے کاروبار کو چھوڑ کر آنا اس شخص کے بس کی بات نہیں جو زکوٰۃ نہ دے سکتا ہو اور قبلے کی طرف رخ حج کی یاد دلاتا ہے۔ ➍ {طَرَفَيِ النَّهَارِ:} دن کے دو کنارے۔ طلوع فجر سے غروب آفتاب تک نہار (دن) ہوتا ہے، اس میں تین نمازیں آجاتی ہیں۔ زوال سے پہلے والے کنارے میں فجر اور زوال کے بعد والے میں ظہر اور عصر۔ {” زُلَفًا “ ” زُلْفَةٌ “} کی جمع ہے، جیسے {”غُرْفَةٌ “} کی جمع {”غُرَفٌ“} ہے، اس سے مراد دن کے آخری حصے کے قریب کے اوقات ہیں، کیونکہ {”اِزْلَافٌ“} کا معنی قرب ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيْنَ }» [ الشعراء: ۹۰ ] ”اور جنت متقی لوگوں کے لیے قریب لائی جائے گی۔“ اور فرمایا: «{ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى }» [ الزمر: ۳ ] ”ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں۔“ اس سے مراد مغرب اور عشاء ہیں، کیونکہ وہ دن کے قریب ہوتی ہیں۔ اس طرح اس آیت میں پانچوں نمازیں آ جاتی ہیں۔ علماء نے لکھا ہے کہ اگر ان آیات کا نزول معراج کے بعد ہوا ہو تو اجمالی طور پر ان میں پانچوں نمازیں آ جاتی ہیں، البتہ چونکہ یہ سورت مکی ہے، اس لیے ہو سکتا ہے کہ یہ آیات معراج میں پانچ نمازیں فرض ہونے سے پہلے نازل ہوئی ہوں اور ان آیات سے دن کے دونوں کنارے سورج نکلنے سے پہلے (فجر) اور غروب ہونے سے پہلے (عصر) کی نماز ہی فرض ہو اور رات کی گھڑیوں سے مراد تہجد ہو جو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور تمام امت پر فرض تھی، پھر اس کی فرضیت منسوخ ہو گئی، البتہ اس کی تاکید اور فضیلت باقی رہی۔ اصل یہ ہے کہ تفصیلی طور پر نماز پنج گانہ کے اوقات کی تعیین اور تفصیل حدیث ہی سے ملتی ہے اور قرآن مجید پر عمل حدیث کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ منکرین حدیث میں سے پہلے کچھ لوگ قرآن میں تین نمازیں مانتے تھے، پھر دوپر آ گئے، بعد والے ایک پر آ گئے اور پرویز نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر اب تک متواتر احادیث اور متواتر عمل کے ساتھ آنے والے نماز کے طریقے کا سرے ہی سے انکار کر دیا اور حقیقت یہی ہے کہ صرف قرآن سے نہ نماز کے مکمل اوقات معلوم ہو سکتے ہیں، نہ اس کے ارکان، نہ ارکان کی ترتیب، نہ رکعات کی تعداد اور نہ شروع یا ختم کرنے کا طریقہ، غرض حدیث ترک کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ قرآن پر عمل سے جان چھوٹ جائے اور یہی ان بد نصیب لوگوں کی دلی خواہش ہے جو ان شاء اللہ کبھی پوری نہیں ہو گی۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت دے۔ ➎ { اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ:} پچھلے جملے میں اللہ کے حکم پر استقامت میں اور ظالموں کی طرف میلان سے محفوظ رہنے میں مدد کرنے والی سب سے مضبوط چیز بتائی تھی کہ فلاں فلاں وقت میں نماز قائم کرو، اب اس کی وجہ بتائی۔ عموماً {” اِنَّ “} تعلیل یعنی وجہ بتانے کے لیے آتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ نیکی گناہ کو مٹا دیتی ہے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا ] [ مسند أحمد: 153/5، ح: ۲۱۴۱۲۔ ترمذی: ۱۹۸۷۔ صحیح الجامع: ۹۷، وحسنہ الألبانی ] ”برائی کے بعد ساتھ ہی نیکی کر تو یہ اسے مٹا دے گی۔“ نماز بھی ایک ایسی ہی نیکی ہے جس سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی اجنبی عورت کا بوسہ لیا، پھر (ازراہ ندامت) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر سوال کرنے لگا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، «{ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ }» تو اس آدمی نے کہا: ”یا رسول اللہ! یہ صرف میرے لیے ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لِجَمِيْعِ أُمَّتِيْ كُلِّهِمْ ] ”یہ میری ساری امت کے لیے ہے۔“ [ بخاری، مواقیت الصلٰوۃ، باب الصلاۃ کفارۃ: ۵۲۶ ] شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو تین طرح: (1) جو نیکیاں کرے اس کی برائیاں معاف ہوں۔ (2) اور جو نیکیاں پکڑے اس سے خو برائی کی چھوٹے۔ (3) اور جس ملک میں نیکیوں کا رواج ہو وہاں ہدایت آئے اور گمراہی مٹے، لیکن تینوں جگہ وزن غالب چاہیے، جتنا میل اتنا صابن۔“ (موضح) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيْهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، مَا تَقُوْلُ ذٰلِكَ يُبْقِيْ مِنْ دَرَنِهِ؟ قَالُوْا لاَ يُبْقِيْ مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا، قَالَ فَذٰلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللّٰهُ بِهِ الْخَطَايَا ] [ بخاری، مواقیت الصلٰوۃ، باب الصلوات الخمس کفارۃ: ۵۲۸ ] ”اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر ایک نہر ہو جس میں وہ روزانہ پانچ دفعہ غسل کرے تو تمھارا کیا کہنا ہے کہ یہ اس کی میل میں سے کچھ باقی چھوڑے گا؟“ انھوں نے کہا: ”وہ اس کی میل میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑے گا۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی پانچوں نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔“
اور صبر کر، اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ صبر کرتے رہئے یقیناً اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا
احمد رضا خان بریلوی
اور صبر کرو کہ اللہ نیکوں کا نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور آپ صبر کیجئے! بے شک اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
عبدالسلام بن محمد
اور صبر کر کہ بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اوقات نماز کی نشاندہی ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کہتے ہیں ”دن کے دونوں سرے سے مراد صبح کی اور مغرب کی نماز ہے۔“ قتادہ، ضحاک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا قول ہے کہ ”پہلے سرے سے مراد صبح کی نماز اور دوسرے سے مراد ظہر اور عصر کی نماز رات کی گھڑیوں سے مراد عشاء کی نماز۔“ بقول مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ ”مغرب و عشاء کی۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:18648:مرسل] نیکیوں کو کرنا گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ سنن میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جس مسلمان سے کوئی گناہ ہو جائے پھر وہ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھ لے، تو اللہ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1521، قال الشيخ الألباني:صحیح] { ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کیا پھر فرمایا اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”جو میرے اس وضو جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے، جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اس کے تمام اگلے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:159] مسند میں ہے کہ { آپ رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا، وضو کیا، پھر فرمایا ”میرے اس وضو کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کیا کرتے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میرے اس وضو جیسا وضو کرے اور کھڑا ہو کر ظہر کی نماز ادا کرے، اس کے صبح سے لے کر اب تک کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، پھر عصر کی نماز پڑھے، تو ظہر سے عصر تک کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں، پھر مغرب کی نماز ادا کرے، تو عصر سے لے کر مغرب تک کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ پھر عشاء کی نماز سے مغرب سے عشاء تک کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ سوتا ہے لوٹ پوٹ ہوتا ہے پھر صبح اُٹھ کر نماز فجر پڑھ لینے سے عشاء سے لے کر صبح کی نماز تک کے سب گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ یہی ہیں وہ بھلائیاں جو برائیوں کو دور کر دیتی ہیں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:71/1:صحیح]
صحیح حدیث میں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بتلاؤ تو اگر تم میں سے کسی کے مکان کے دروازے پر ہی نہر جاری ہو اور وہ اس میں ہر دن پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو کیا اس کے جسم پر ذرا سی بھی میل باقی رہ جائے گا؟“، لوگوں کے نے کہا ہرگز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس یہی مثال ہے۔ پانچ نمازوں کی کہ ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ خطائیں اور گناہ معاف فرما دیتا ہے“ }۔ [صحیح بخاری:528] صحیح مسلم شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”پانچوں نمازیں اور جمعہ جمعہ تک اور رمضان رمضان تک کا کفارہ ہے جب تک کہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کیا جائے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:233] مسند احمد میں ہے { ہر نماز اپنے سے پہلے کی خطاؤں کو مٹا دیتی ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:413/5:حسن] بخاری میں ہے کہ { کسی شخص نے ایک عورت کا بوسہ لے لیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اس گناہ کی ندامت ظاہر کی۔ اس پر یہ آیت اتری اس نے کہا کیا میرے لیے ہی یہ مخصوص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ”نہیں بلکہ میری ساری امت کے لیے یہی حکم ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:526] ایک اور روایت میں ہے کہ { اس نے کہا ”میں نے باغ میں اس عورت سے سب کچھ کیا، ہاں جماع نہیں کیا اب میں حاضر ہوں جو سزا میرے لیے آپ تجویز فرمائیں میں برداشت کر لوں گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ چلا گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ نے اس کی پردہ پوشی کی تھی اگر یہ بھی اپنے نفس کی پردہ پوشی کرتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برابر اسی شخص کی طرف دیکھتے رہے پھر فرمایا: ”اسے واپس بلا لاؤ۔“ جب وہ آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اس پر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ کیا یہ اسی کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ سب لوگوں کے لیے ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2763]
مسند احمد میں ہے، { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ نے جس طرح تم میں روزیاں تقسیم فرمائیں ہیں، اخلاق بھی تقسیم فرمائے ہیں اللہ تعالیٰ دنیا تو اسے بھی دیتا ہے جس سے خوش ہو اور اسے بھی جس سے غضبناک ہو۔ لیکن دین صرف انہیں کو دیتا ہے جن سے اسے محبت ہو۔ پس جسے دین مل جائے یقیناً اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ بندہ مسلمان نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا دل اور اس کی زبان مسلمان نہ ہو جائے۔ اور بندہ ایماندار نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے پڑوسی اس کی ایذاؤں سے بے فکر نہ ہو جائیں }۔ لوگوں نے پوچھا ایذائیں کیا کیا؟ فرمایا: { دھوکہ اور ظلم۔ سنو جو شخص مال حرام کمائے پھر اس میں سے خرچ کرے اللہ اسے برکت سے محروم رکھتا ہے۔ اگر وہ اس میں سے صدقہ کرے تو قبول نہیں ہوتا۔ اور جتنا کچھ اپنے بعد باقی چھوڑ مرے وہ سب اس کے لیے آگ دوزخ کا توشہ بنتا ہے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو بھلائی سے مٹاتا ہے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:387/1:صحیح موقوفا ضعیف مرفوعا] مسند احمد میں ہے کہ { ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ ”ایک عورت سودا لینے کے لیے آتی تھی افسوس کہ میں اسے کوٹھڑی میں لے جا کر اس سے بجز جماع کے اور ہر طرح لطف اندوز ہوا۔ اب جو اللہ کا حکم ہو وہ مجھ پر جاری کیا جائے۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”شاید اس کا خاوند غیر حاضر ہوگا۔“ اس نے کہا جی ہاں یہ بات تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم جاؤ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھو۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی یہی سوال کیا پس آپ رضی اللہ عنہ نے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرح فرمایا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی حالت بیان کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شاید اس کا خاوند اللہ کی راہ میں گیا ہوا ہوگا؟ } پس قرآن کریم کی یہ آیت اتری تو کہنے لگا ”کیا یہ خاص میرے لیے ہی ہے“؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا ”نہیں اس طرح صرف تیری ہی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہو سکتیں بلکہ یہ سب لوگوں کے لیے عام ہے۔“ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عمر سچے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:245/1:ضعیف]
ابن جریر میں ہے کہ { وہ عورت مجھ سے ایک درہم کی کھجوریں خریدنے آئی تھی تو میں نے اسے کہا کے اندر کوٹھڑی میں اس سے بہت اچھی کھجوریں ہیں وہ اندر گئی میں نے بھی اندر جا کر اسے چوم لیا۔ پھر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اللہ سے ڈر اور اپنے نفس پر پردہ ڈالے رہ۔“ لیکن ابو الیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھ سے صبر نہ ہو سکا۔ میں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس تو نے ایک غازی مرد کی اس غیر حاضری میں ایسی خیانت کی۔ میں نے تو یہ سن کر اپنے آپ کو جہنمی سمجھ لیا اور میرے دل میں خیال آنے لگا کہ کاش کہ میرا اسلام اس کے بعد کا ہوتا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذرا سی دیر اپنی گردن جھکا لی اسی وقت جبرائیل یہ آیت لے کر اترے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3115،قال الشيخ الألباني:حسن] ابن جریر میں ہے کہ { ایک شخص نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی اللہ کی مقرر کردہ حد مجھ پر جاری کیجئے۔ ایک دو دفعہ اس نے یہ کہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ موڑ لیا۔ پھر جب نماز کھڑی ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو دریافت فرمایا کہ وہ شخص کہاں ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اچھی طرح وضو کیا؟ اور ہمارے ساتھ نماز پڑھی۔“ اس نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس تو تو ایسا ہی ہے جیسے اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ خبردار اب کوئی ایسی حرکت نہ کرنا۔“ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:18694:]
ابوعثمان رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ انہوں نے ایک درخت کی خشک شاخ پکڑ کے اسے جھنجھوڑا تو تمام خشک پتے جھڑ گئے پھر فرمایا ”ابوعثمان تم پوچھتے نہیں ہو کہ میں نے یہ کیوں کیا؟“ میں نے کہا ہاں جناب ارشاد ہو، فرمایا ”اسی طرح میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، پھر فرمایا: جب بندہ مسلمان اچھی طرح وضو کر کے پانچوں نمازیں ادا کرتا ہے تو اس کے گناہ ایسے ہی چھڑ جاتے ہیں جیسے اس خشک شاخ کے پتے جھڑ گئے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ ۱؎ [مسند احمد:437/5:حسن] مسند میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”برائی اگر کوئی ہو جائے تو اس کے پیچھے ہی نیکی کر لو کہ اسے مٹا دے۔ اور لوگوں سے خوش اخلاقی سے ملا کرو“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:228/5:حسن] اور حدیث میں ہے { جب تجھ سے کوئی گناہ ہو جائے تو اس کے پیچھے ہی نیکی کر لیا کر تاکہ یہ اسے مٹا دے میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» پڑھنا بھی نیکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو بہترین اور افضل نیکی ہے“ }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:361/3:حسن] ابو یعلیٰ میں ہے { دن رات کے جس وقت میں کوئی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» پڑھے اس کے نامہ اعمال میں سے برائیاں مٹ جاتی ہیں یہاں تک کہ ان کی جگہ ویسی ہی نیکیاں ہو جاتی ہیں }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:3611:ضعیف] اس کے راوی عثمان میں ضعف ہے۔ مسند بزار میں ہے { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میں نے کوئی خواہش ایسی نہیں چھوڑی جسے پوری نہ کی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اللہ کے ایک ہونے کی اور میری رسالت کی گواہی دیتا ہے؟“ اس نے کہا ہاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس یہ ان سب پر غالب رہے گی }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:3433/6:صحیح]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 115) {وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ …:} نماز کے ساتھ دوسری چیز جو استقامت علی الحق میں اور ظلم کی طرف میلان سے روکنے میں بے حد مددگار ہے وہ صبر ہے، فرمایا: «{ وَ اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ }» [ البقرۃ: ۴۵ ] ”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو۔“ مفردات راغب میں ہے: ”صبر کا معنی کسی کو تنگی میں روک کر رکھنا ہے، کہا جاتا ہے: {”صَبَرْتُ الدَّابَّةَ“} ”میں نے جانور کو چارے کے بغیرباندھ رکھا“ اور{ ”صَبَرْتُ فُلاَنًا“ } ”میں نے اس کا ایسا پیچھا کیا جس سے وہ کسی طرح نکل نہ سکے۔“ صبر نفس کو اس چیز پر روک کر اور باندھ کر رکھتا ہے جس کا تقاضا عقل اور شرع کرتی ہیں، یا اس چیز سے باندھ کر اور روک کر رکھتا ہے جس سے روکنے کا عقل اور شرع تقاضا کرتی ہیں۔“ اہل علم عموماً صبر کی تین قسمیں بتاتے ہیں: (1) اپنے آپ کو نیکی پر باندھ کر اور ہمیشہ کے لیے اس کا پابند بنا کر رکھنا۔ (2) اپنے آپ کو ہمیشہ اللہ کی نافرمانی سے روک کر رکھنا۔ (3) مصیبت پر جزع فزع کے بجائے اللہ کی تقدیر پر راضی رہنے کا پابند بنانا۔ استقامت کے لیے صبر کی ضرورت واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زیر تفسیر آیت کی طرح قرآن میں بہت سی جگہوں پر صبر کا ذکر فرمایا، حتیٰ کہ فرمایا: «{ اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ }» [ الزمر: ۱۰ ] ”صرف صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر بغیر حساب کے دیا جائے گا۔“
پھر کیوں نہ اُن قوموں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ایسے اہل خیر موجود رہے جو لوگوں کو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے؟ ایسے لوگ نکلے بھی تو بہت کم، جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچا لیا، ورنہ ظالم لوگ تو انہی مزوں کے پیچھے پڑے رہے جن کے سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیے گئے تھے اور وہ مجرم بن کر رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس کیوں نہ تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں سے ایسے اہل خیر لوگ ہوئے جو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے، سوائے ان چند کے جنہیں ہم نے ان میں سے نجات دی تھی، ﻇالم لوگ تو اس چیز کے پیچھے پڑ گئے جس میں انہیں آسودگی دی گئی تھی اور وه گنہگار تھے
احمد رضا خان بریلوی
تو کیوں نہ ہوئے تم میں سے اگلی سنگتوں (قوموں) میں ایسے جن میں بھلائی کا کچھ حصہ لگا رہا ہوتا کہ زمین میں فساد سے روکتے ہاں ان میں تھوڑے تھے وہی جن کو ہم نے نجات دی اور ظالم اسی عیش کے پیچھے پڑے رہے جو انہیں دیا گیا اور وہ گنہگار تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
ان قوموں اور نسلوں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں معدودے چند افراد کے سوا جن کو ہم نے نجات دی تھی ایسے سمجھدار اور نیکوکار لوگ کیوں نہ ہوئے جو لوگوں کو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے اور ظالم لوگ تو اسی عیش و عشرت کے پیچھے پڑے رہے جو ان کو دی گئی تھی اور یہ سب لوگ مجرم تھے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ان امتوں میں سے جو تم سے پہلے تھیں، کچھ بچی کھچی بھلائی والے لوگ کیوں نہ ہوئے، جو زمین میں فساد سے منع کرتے، سوائے تھوڑے سے لوگوں کے جنھیں ہم نے ان میں سے نجات دی اور وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، وہ ان چیزوں کے پیچھے پڑگئے جن میں انھیں عیش و آرام دیا گیا تھا اور وہ مجرم تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکی کی دعوت دینے والے چند لوگ ٭٭
یعنی سوائے چند لوگوں کے ہم گزشتہ زمانے کے لوگوں میں ایسے کیوں نہیں پاتے جو شریروں اور منکروں کو برائیوں سے روکتے رہیں، یہی وہ ہیں جنہیں ہم اپنے عذاب سے بچا لیا کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امت میں ایسی جماعت کی موجودگی کا قطعی اور فرضی حکم دیا۔ فرمایا «وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» ۱؎ [3-آل عمران:104] ’ بھلائی اور نیکی کی دعوت دینے والی ایک جماعت تم میں ہر وقت موجود رہنی چاہیئے ‘، الخ۔ ظالموں کا شیوہ یہی ہے کہ وہ اپنی بدعادتوں سے باز نہیں آتے۔ نیک علماء کے فرمان کی طرف توجہ بھی نہیں کریتے یہاں تک کہ اللہ کے عذاب ان کی بے خبری میں ان پر مسلط ہو جاتے ہیں۔ بھلی بستیوں پر اللہ کی طرف سے از راہ ظلم عذاب کبھی آتے ہی نہیں۔ آیت میں ہے «وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَـٰكِن ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ» ۱؎ [11-ھود:101] ’ ہم ظلم سے پاک ہیں لیکن خود ہی وہ اپنی جانوں پر مظالم کرنے لگتے ہیں ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ» ۱؎ [41-فصلت:46] ’ تمہارا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ‘۔
116۔ 1 یعنی گزشتہ امتوں میں ایسے نیک لوگ کیوں نہ ہوئے جو اہل شر اور اہل منکر کو شر، منکرات اور فساد سے روکتے؟ پھر فرمایا، ایسے لوگ تھے تو سہی، لیکن بہت تھوڑے۔ جنہیں ہم نے اس وقت نجات دے دی، جب دوسروں کو عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا۔ 116۔ 2 یعنی یہ ظالم۔ اپنے ظلم پر قائم اور اپنی مد ہوشیوں میں مست رہے حتٰی کہ عذاب نے انھیں آلیا۔
(آیت 116) {فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ …: ” لَوْ لَا “} کے دو معانی ہیں، پہلا یہ کہ ”اگر یہ نہ ہوتا“ مثلاً {” لَوْ لَا عَلِيٌّ لَهَلَكَ عُمَرُ “} ”اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتے۔“ دوسرا معنی {” هَلاَّ “} یعنی ”ایسا کیوں نہ ہوا“ یہ ترغیب کے لیے ہوتا ہے، یعنی ایسا ہونا چاہیے تھا، یہاں یہی معنی مراد ہے۔{ ” قَرْنٌ “} ایک نسل کے لوگ۔ یہ لفظ عموماً ایک صدی پر بولا جاتا ہے۔ {” اُولُوْا بَقِيَّةٍ “} اچھی عادات و خصائل اور عقل والے لوگ۔ اصل میں {” بَقِيَّةٍ “} ان نفیس اور منتخب چیزوں کو کہا جاتا ہے جنھیں انسان اپنے فائدے کے لیے بچا بچا کر باقی رکھتا ہے، جیسے کہتے ہیں: {” بَقِيَّةُ السَّلَفِ “} یعنی پہلے لوگوں میں سے بہترین آدمی۔ پہلی تمام قوموں کے واقعات کے بعد اب خلاصہ بیان ہو رہا ہے کہ تم سے پہلے ان لوگوں میں ایسے اصحاب خیر کیوں نہ ہوئے جو اہل شر اور اہل فساد کو فساد فی الارض سے روکتے، یعنی ایسے لوگوں کی موجودگی نہایت ضروری تھی۔ پھر فرمایا، ایسے لوگ تھے تو سہی مگر نہایت تھوڑے، جن کی کچھ پیش نہ چلی، چنانچہ جب دوسروں پر عذاب آیا تو ان قلیل لوگوں کو ہم نے عذاب سے بچا لیا۔ اس میں مسلمانوں کو بھی تنبیہ ہے کہ جب تک ان میں ایسے اصحاب خیر موجود رہیں گے جو نیکی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں اور ایسے اصحاب خیر بالکل تھوڑے اور بے اثر نہیں ہوں گے تو اس وقت تک عذاب نہیں آئے گا۔ پھر پہلوں کی ہلاکت کا سبب بیان فرمایا کہ وہ ان نعمتوں اور خوش حالیوں میں پڑ کر اپنی خسیس خواہشات کے پیچھے ایسے لگے کہ وہ عذاب کے قابل مجرم بن گئے۔
تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کا رب ایسا نہیں کہ کسی بستی کو ﻇلم سے ہلاک کر دے اور وہاں کے لوگ نیکو کار ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہارا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو بے وجہ ہلاک کردے اور ان کے لوگ اچھے ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور آپ کا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ وہ ظلم کرکے (ناحق) بستیوں کو ہلاک کر دے جبکہ ان کے باشندے نیکوکار اور اصلاح کرنے والے ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور تیرا رب ایسا نہ تھا کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کر دے، اس حال میں کہ اس کے رہنے والے اصلاح کرنے والے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکی کی دعوت دینے والے چند لوگ ٭٭
یعنی سوائے چند لوگوں کے ہم گزشتہ زمانے کے لوگوں میں ایسے کیوں نہیں پاتے جو شریروں اور منکروں کو برائیوں سے روکتے رہیں، یہی وہ ہیں جنہیں ہم اپنے عذاب سے بچا لیا کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امت میں ایسی جماعت کی موجودگی کا قطعی اور فرضی حکم دیا۔ فرمایا «وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» ۱؎ [3-آل عمران:104] ’ بھلائی اور نیکی کی دعوت دینے والی ایک جماعت تم میں ہر وقت موجود رہنی چاہیئے ‘، الخ۔ ظالموں کا شیوہ یہی ہے کہ وہ اپنی بدعادتوں سے باز نہیں آتے۔ نیک علماء کے فرمان کی طرف توجہ بھی نہیں کریتے یہاں تک کہ اللہ کے عذاب ان کی بے خبری میں ان پر مسلط ہو جاتے ہیں۔ بھلی بستیوں پر اللہ کی طرف سے از راہ ظلم عذاب کبھی آتے ہی نہیں۔ آیت میں ہے «وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَـٰكِن ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ» ۱؎ [11-ھود:101] ’ ہم ظلم سے پاک ہیں لیکن خود ہی وہ اپنی جانوں پر مظالم کرنے لگتے ہیں ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ» ۱؎ [41-فصلت:46] ’ تمہارا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 117){وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ …:} یعنی اگر وہ لوگ مجرم ہونے کے بجائے مصلح ہوتے، پھر انھیں عذاب کے ساتھ ہلاک کیا جاتا تو یہ صاف ظلم تھا اور اللہ تعالیٰ کبھی ایسا ظلم نہیں کرتا کہ کسی بستی والے لوگ فساد نہ کریں بلکہ اصلاح کریں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکرتے ہوں اور پھر بھی اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیج دے، کیونکہ یہ ظلم ہو گا اور اللہ تعالیٰ کسی صورت بھی ظلم کرنے والا نہیں۔ بعض اہل علم نے ظلم سے مراد شرک لے کر یہ معنی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی بستی کو صرف شرک کی وجہ سے ہلاک نہیں کرتا، جب کہ اس کے رہنے والے زمین میں فساد نہ کرتے ہوں، بلکہ آپس کے تعلقات میں اصلاح رکھتے ہوں۔ ہلاک اسی وقت کرتا ہے جب وہ حد سے بڑھ کر زمین میں فساد پھیلانے لگیں، مگر پہلا معنی زیادہ درست ہے۔
بے شک تیرا رب اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا، مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی راه پر ایک گروه کر دیتا۔ وه تو برابر اختلاف کرنے والے ہی رہیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگرتمہارا رب چاہتا تو سب آدمیوں کو ایک ہی امت کردیتا اور وہ ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اگر آپ کا پروردگار (زبردستی) چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت (گروہ) بنا دیتا مگر اپنی حکمتِ کاملہ سے اس نے ایسا نہیں کیا لہٰذا یہ لوگ ہمیشہ آپس میں اختلاف کرتے رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر تیرا رب چاہتا تو یقینا سب لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا اور وہ ہمیشہ مختلف رہیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جس پر اللہ تعالٰی کا کرم ہو ٭٭
اللہ کی قدر کسی کام سے عاجز نہیں۔ «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [10-یونس:99] ’ وہ چاہے تو سب کو ہی اسلام یا کفر پر جمع کر دے ‘ لیکن اس کی حکمت ہے جو انسانی رائے ان کے دین و مذاہب جدا جدا برابر جاری و ساری ہیں۔ طریقے مختلف، مالی حالات جداگانہ ایک ایک کے ماتحت یہاں مراد دین و مذہب کا اختلاف ہے۔ جن پر اللہ کا رحم ہو جائے وہ رسولوں کی تابعداری رب تعالیٰ کی حکم برداری میں برابر لگے رہتے ہیں۔ اب وہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے مطیع ہیں۔ اور یہی نجات پانے والے ہیں۔ چنانچہ مسند و سنن میں حدیث ہے جس کی ہر سند دوسری سند کو تقویت پہنچا رہی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہودیوں کے اکہتر گروہ ہوئے۔ نصاریٰ بہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے، اس امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے، سب جہنمی ہیں سوائے ایک جماعت کے“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ”وہ جو اس پر ہوں جس پر میں ہو اور میرے اصحاب“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2641، قال الشيخ الألباني:صحیح] بقول عطا رحمہ اللہ «مُخْتَلِفِينَ» سے مراد یہودی، نصرانی، مجوسی ہیں اور اللہ کے رحم والی جماعت سے مراد یک طرفہ دین اسلام کے مطیع لوگ ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ جماعت ہے گو ان کے وطن اور بدن جدا ہوں اور اہل معصیت فرقت و اختلاف والے ہیں گو ان کے وطن اور بدن ایک ہی جا جمع ہوں۔ «فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» ۱؎ [11-ھود:105] قدرتی طور پر ان کی پیدائش ہی اسی لیے ہے شقی و سعید کی ازلی تقسیم ہے۔ یہ بھی مطلب ہے کہ رحمت حاصل کرنے والی یہ جماعت بالخصوص اسی لیے ہے۔ طاؤس رحمہ اللہ کے پاس دو شخص اپنا جھگڑا لے کر آئے اور آپس کے اختلاف میں بہت بڑھ گئے تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ”تم نے جھگڑا اور اختلاف کیا“ اس پر ایک شخص نے کہا ”اسی لیے ہم پیدا کئے گئے ہیں۔“ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، ”غلط ہے“ اس نے اپنے ثبوت میں اسی آیت کی تلاوت کی تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”اس لیے نہیں پیدا کیا کہ آپس میں اختلاف کریں، بلکہ پیدائش تو جمع کے لیے اور رحمت حاصل کرنے کے لیے ہوئی ہے۔“
جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”رحمت کے لیے پیدا کیا ہے نہ کہ عذاب کے لیے۔ اور آیت میں ہے «وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ» ۱؎ [51-الذاريات:56] ’ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے ہی پیدا کیا ہے ‘۔ تیسرا قول ہے کہ ”رحمت اور اختلاف کے لیے پیدا کیا ہے۔“ چنانچہ مالک رحمہ اللہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ”ایک فرقہ جنتی اور ایک جہنمی۔ انہیں رحمت حاصل کرنے اور انہیں اختلاف میں مصروف رہنے کے لیے پیدا کیا ہے تیرے رب کا یہ فیصلہ ناطق ہے کہ اس کی مخلوق میں ان دونوں اقسام کے لوگ ہوں گے اور ان دونوں سے جنت دوزخ پر کئے جائیں گے۔ اس کی کامل حکمتوں کو وہی جانتا ہے۔“ بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جنت دوزخ دونوں میں آپس میں گفتگو ہوئی۔ جنت نے کہا مجھ میں تو صرف ضعیف اور کمزور لوگ ہی داخل ہوتے ہیں اور جہنم نے کہا میں تکبر اور ظلم کرنے والوں کے ساتھ مخصوص کی گئی ہوں۔ اس پر اللہ تعالیٰ عزوجل نے جنت سے فرمایا ’ تو میری رحمت ہے، جسے میں چاہوں اسے تجھ سے نواز دوں گا ‘۔ اور جہنم سے فرمایا ’ تو میرا عذاب ہے جس سے میں چاہوں تیرے عذاب کے ذریعہ اس سے انتقام لوں گا۔ تم دونوں پر ہو جاؤ گی ‘۔ جنت میں تو برابر زیادتی رہے گی یہاں تک کہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ ایک نئی مخلوق پیدا کرے گا اور اسے اس میں بسائے گا اور جہنم بھی برابر زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اس پر اللہ رب العزت اپنا قدم رکھ دے گا تب وہ کہے گی تیری عزت کی قسم اب بس ہے بس ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4849]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 119،118) ➊ {وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً:} یعنی اے میرے رسول! تیری خواہش تو یہ ہے کہ سب لوگ مسلمان ہو جائیں، ایک بھی کافر نہ رہے (دیکھیے شعراء: ۳) اور یہ بات تیرے رب پر کچھ مشکل بھی نہیں، جب اس نے جن و انس کے سوا باقی پوری مخلوق کو اپنی اطاعت کا پابند بنا رکھا ہے تو وہ جن و انس کو بھی ایک ہی امت بنا سکتا تھا کہ کوئی کفر کر ہی نہ سکتا، فرمایا: «{وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيْعًا اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ}» [ یونس:۹۹ ] مگر تیرے رب کی حکمت کا تقاضا کچھ اور تھا، اس لیے اس نے کسی کو ایمان پر مجبور نہیں کیا، سمع و بصر دے کر اور راستہ بتا کر اختیار دے دیا کہ حق و باطل میں سے جو چاہو اختیار کرو۔ اس لیے یہ سب لوگ کبھی ایمان پر متفق نہیں ہو سکتے، بلکہ ان میں ہمیشہ اختلاف رہے گا، کوئی مومن ہے کوئی کافر، کوئی فرماں بردار کوئی نافرمان، فرمایا: «{وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ}» ”اور اس نے انھیں اسی (آزمائش کے) لیے پیدا فرمایا ہے۔“ مائدہ میں ہے: «{وَ لٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ}» [ المائدۃ: ۴۸ ] ”اور لیکن تاکہ وہ تمھیں اس میں آزمائے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔“ اور یہ بات اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی طے کر دی ہے کہ میں جہنم کو اس آزمائش میں ناکام ہونے والے جن و انس سے بھروں گا اور اس بات کے ذکر کی ضرورت ہی نہیں کہ آزمائش میں کامیاب ہونے والوں کو اپنی جنت سے نوازوں گا۔ ➋ {وَ لَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَ (118) اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ:} معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا: [ أَلاَ إِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ افْتَرَقُوْا عَلٰی ثِنْتَيْنِ وَ سَبْعِيْنَ مِلَّةً، وَإِنَّ هٰذِهِ الْمِلَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلٰی ثَلاَثٍ وَ سَبْعِيْنَ، ثِنْتَانِ وَسَبْعُوْنَ فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَ هِيَ الْجَمَاعَةُ ] [زَادَ ابْنُ يَحْيَی وَعَمْرٌو فِيْ حَدِيْثِهِمَا:] [ وَإِنَّهٗ سَيَخْرُجُ فِيْ أُمَّتِيْ أَقْوَامٌ تَجَارَی بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَما يَتَجَارَی الْكَلَبُ لِصَاحِبِهِ، وَقَالَ عَمْرٌو: الْكَلَبُ بِصَاحِبِهِ لاَ يَبْقَی مِنْهٗ عِرْقٌ وَلاَ مَفْصِلٌ إِلاَّ دَخَلَهٗ ] [ أبوداوٗد، السنۃ، باب شرح السنۃ: ۴۵۹۷۔ السلسلۃ الصحیحۃ: 404/1، ح ۲۰۴ ] ”یاد رکھو! تم سے پہلے اہلِ کتاب بہتر (۷۲) ملتوں میں جدا جدا ہو گئے اور یہ ملت تہتر (۷۳) میں جدا جدا ہو جائے گی۔ بہتر (۷۲) آگ میں اور ایک جنت میں ہو گا اور وہ ”الجماعۃ“ ہے۔“ ابن یحییٰ اور عمرو نے اپنی روایتوں میں مزید کہا: ”میری امت میں ایسی قومیں نکلیں گی جن میں یہ خواہشات و بدعات اس طرح رگ رگ میں جاری ہو جائیں گی جیسے باؤلے پن کی بیماری، اس بیماری کے مریض کے رگ و ریشے میں جاری ہو جاتی ہے۔“ عمرو نے کہا: ”باؤلے پن کے بیمار کی کوئی رگ اور کوئی جوڑ باقی نہیں رہتا جس میں اس بیماری کا اثر نہ ہو۔“ ➌ اس آیت سے صاف معلوم ہوا کہ کسی امت کا اتفاق اور اجتماع رحمت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگ ہمیشہ مختلف رہیں گے مگر جس پر تیرا رب رحم کرے اور صاف ظاہر ہے کہ امت مسلمہ صرف اسی چیز پر جمع ہو سکتی ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئی اور وہ کتاب وسنت ہے۔ یہی طریقِ مستقیم ہے اور اسی پر چلنے والے ”الجماعۃ“ ہیں، باقی سب فرقے بعد میں اس سیدھے راستے سے ہٹنے کی وجہ سے پیدا ہوئے۔ ➍ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عام لوگوں میں مشہور روایت {” اِخْتَلاَفُ أُمَّتِيْ رَحْمَةٌ “} یعنی میری امت کا اختلاف رحمت ہے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صاف جھوٹ ہے۔ حافظ ابن حزم رحمہ اللہ نے اسے موضوع ثابت کرتے ہوئے ایک دلچسپ بات یہ بھی لکھی کہ اگر اسے صحیح مانا جائے تو پھر امت کا اتفاق زحمت ہو گا، کیونکہ اختلاف رحمت ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر اپنے رحم کا ذکر کیا ہے جو اختلاف کرنے والے نہیں ہوں گے۔ اس لیے سب فرقے چھوڑ کر کتاب و سنت کو مضبوطی سے تھام لینا ہی راہ نجات ہے۔
اور بے راہ رویوں سے صرف وہ لوگ بچیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے اِسی (آزادی انتخاب و اختیار) کے لیے ہی تو اس نے انہیں پیدا کیا تھا اور تیرے رب کی وہ بات پوری ہو گئی جو اس نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جن اور انسان، سب سے بھر دوں گا
مولانا محمد جوناگڑھی
بجز ان کے جن پر آپ کا رب رحم فرمائے، انہیں تو اسی لئے پیدا کیا ہے، اور آپ کے رب کی یہ بات پوری ہے کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے پر کروں گا
احمد رضا خان بریلوی
مگر جن پر تمہارے رب نے رحم کیا اور لوگ اسی لیے بنائے ہیں اور تمہارے رب کی بات پوری ہوچکی کہ بیشک ضرور جہنم بھر دوں گا جنوں اور آدمیوں کو ملا کر
علامہ محمد حسین نجفی
سوائے اس کے جس پر آپ کا پروردگار رحم فرمائے اور اسی (رحمت) کے لئے تو ان کو پیدا کیا ہے۔ اور آپ کے پروردگار کی بات پوری ہوگئی کہ میں جہنم کو تمام جنوں اور انسانوں سے بھر دوں گا۔
عبدالسلام بن محمد
مگر جس پر تیرا رب رحم کرے اور اس نے انھیں اسی لیے پیدا کیا اور تیرے رب کی بات پوری ہو گئی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے ضرور ہی بھروں گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جس پر اللہ تعالٰی کا کرم ہو ٭٭
اللہ کی قدر کسی کام سے عاجز نہیں۔ «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [10-یونس:99] ’ وہ چاہے تو سب کو ہی اسلام یا کفر پر جمع کر دے ‘ لیکن اس کی حکمت ہے جو انسانی رائے ان کے دین و مذاہب جدا جدا برابر جاری و ساری ہیں۔ طریقے مختلف، مالی حالات جداگانہ ایک ایک کے ماتحت یہاں مراد دین و مذہب کا اختلاف ہے۔ جن پر اللہ کا رحم ہو جائے وہ رسولوں کی تابعداری رب تعالیٰ کی حکم برداری میں برابر لگے رہتے ہیں۔ اب وہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے مطیع ہیں۔ اور یہی نجات پانے والے ہیں۔ چنانچہ مسند و سنن میں حدیث ہے جس کی ہر سند دوسری سند کو تقویت پہنچا رہی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہودیوں کے اکہتر گروہ ہوئے۔ نصاریٰ بہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے، اس امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے، سب جہنمی ہیں سوائے ایک جماعت کے“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ”وہ جو اس پر ہوں جس پر میں ہو اور میرے اصحاب“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2641، قال الشيخ الألباني:صحیح] بقول عطا رحمہ اللہ «مُخْتَلِفِينَ» سے مراد یہودی، نصرانی، مجوسی ہیں اور اللہ کے رحم والی جماعت سے مراد یک طرفہ دین اسلام کے مطیع لوگ ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ جماعت ہے گو ان کے وطن اور بدن جدا ہوں اور اہل معصیت فرقت و اختلاف والے ہیں گو ان کے وطن اور بدن ایک ہی جا جمع ہوں۔ «فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» ۱؎ [11-ھود:105] قدرتی طور پر ان کی پیدائش ہی اسی لیے ہے شقی و سعید کی ازلی تقسیم ہے۔ یہ بھی مطلب ہے کہ رحمت حاصل کرنے والی یہ جماعت بالخصوص اسی لیے ہے۔ طاؤس رحمہ اللہ کے پاس دو شخص اپنا جھگڑا لے کر آئے اور آپس کے اختلاف میں بہت بڑھ گئے تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ”تم نے جھگڑا اور اختلاف کیا“ اس پر ایک شخص نے کہا ”اسی لیے ہم پیدا کئے گئے ہیں۔“ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، ”غلط ہے“ اس نے اپنے ثبوت میں اسی آیت کی تلاوت کی تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”اس لیے نہیں پیدا کیا کہ آپس میں اختلاف کریں، بلکہ پیدائش تو جمع کے لیے اور رحمت حاصل کرنے کے لیے ہوئی ہے۔“
جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”رحمت کے لیے پیدا کیا ہے نہ کہ عذاب کے لیے۔ اور آیت میں ہے «وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ» ۱؎ [51-الذاريات:56] ’ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے ہی پیدا کیا ہے ‘۔ تیسرا قول ہے کہ ”رحمت اور اختلاف کے لیے پیدا کیا ہے۔“ چنانچہ مالک رحمہ اللہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ”ایک فرقہ جنتی اور ایک جہنمی۔ انہیں رحمت حاصل کرنے اور انہیں اختلاف میں مصروف رہنے کے لیے پیدا کیا ہے تیرے رب کا یہ فیصلہ ناطق ہے کہ اس کی مخلوق میں ان دونوں اقسام کے لوگ ہوں گے اور ان دونوں سے جنت دوزخ پر کئے جائیں گے۔ اس کی کامل حکمتوں کو وہی جانتا ہے۔“ بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جنت دوزخ دونوں میں آپس میں گفتگو ہوئی۔ جنت نے کہا مجھ میں تو صرف ضعیف اور کمزور لوگ ہی داخل ہوتے ہیں اور جہنم نے کہا میں تکبر اور ظلم کرنے والوں کے ساتھ مخصوص کی گئی ہوں۔ اس پر اللہ تعالیٰ عزوجل نے جنت سے فرمایا ’ تو میری رحمت ہے، جسے میں چاہوں اسے تجھ سے نواز دوں گا ‘۔ اور جہنم سے فرمایا ’ تو میرا عذاب ہے جس سے میں چاہوں تیرے عذاب کے ذریعہ اس سے انتقام لوں گا۔ تم دونوں پر ہو جاؤ گی ‘۔ جنت میں تو برابر زیادتی رہے گی یہاں تک کہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ ایک نئی مخلوق پیدا کرے گا اور اسے اس میں بسائے گا اور جہنم بھی برابر زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اس پر اللہ رب العزت اپنا قدم رکھ دے گا تب وہ کہے گی تیری عزت کی قسم اب بس ہے بس ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4849]
119۔ 1 ' اسی لئے ' کا مطلب بعض نے اختلاف اور بعض نے رحمت لیا ہے۔ دونوں صورتوں میں مفہوم یہ ہوگا کہ ہم نے انسانوں کو آزمائش کے لئے پیدا کیا ہے۔ جو دین حق سے اختلاف کا راستہ اختیار کرے گا، وہ آزمائش میں ناکام اور جو اسے اپنا لے گا، وہ کامیاب اور رحمت الٰہی کا مستحق ہوگا۔ 119۔ 2 یعنی اللہ کی تقدیر اور قضاء میں یہ بات ثبت ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہونگے جو جنت کے اور کچھ ایسے ہونگے جو جہنم کے مستحق ہوں گے اور جنت و جہنم کو انسانوں اور جنوں سے بھر دیا جائے گا۔ جیسا کہ حدیث میں ہے، نبی نے فرمایا ' جنت اور دوزخ آپس میں جھگڑ پڑیں، جنت نے کہا، کیا بات ہے کہ میرے اندر وہی لوگ آئیں گے جو کمزور اور معاشرے کے گرے پڑے لوگ ہوں گے؟ ' جہنم نے کہا میرے اندر تو بڑے بڑے جبار اور متکبر قسم کے لوگ ہوں گے اللہ تعالیٰ نے، جنت سے فرمایا ' تو میری رحمت کی مظہر ہے، تیرے ذریعے سے میں جس پر چاہوں اپنا رحم کروں۔ اور جہنم سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو میرے عذاب کی مظہر ہے تیرے ذریعے سے میں جس کو چاہوں سزا دوں۔ اللہ تعالیٰ جنت اور دوزخ دونوں کو بھر دے گا۔ جنت میں ہمیشہ اس کا فضل ہوگا، حتٰی کہ اللہ تعالیٰ ایسی مخلوق پیدا فرمائے گا جو جنت کے باقی ماندہ رقبے میں رہے گی اور جہنم، جہنمیوں کی کثرت کے باوجود نعرہ بلند کرے گی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا جس پر جہنم پکار اٹھے گی قط قط وعزتک، بس، بس، تیری عزت و جلال کی قسم ' (صحیح بخاری)
اور اے محمدؐ، یہ پیغمبروں کے قصے جو ہم تمہیں سناتے ہیں، وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے سے ہم تمہارے دل کو مضبوط کرتے ہیں ان کے اندر تم کو حقیقت کا علم ملا اور ایمان لانے والوں کو نصیحت اور بیداری نصیب ہوئی
مولانا محمد جوناگڑھی
رسولوں کے سب احوال ہم آپ کے سامنے آپ کے دل کی تسکین کے لئے بیان فرما رہے ہیں۔ آپ کے پاس اس سورت میں بھی حق پہنچ چکا جو نصیحت ووعﻆ ہے مومنوں کے لئے
احمد رضا خان بریلوی
اور سب کچھ ہم تمہیں رسولوں کی خبریں سناتے ہیں جس سے تمہا را دل ٹھیرائیں اور اس سورت میں تمہارے پاس حق آیا اور مسلمانوں کو پند و نصیحت
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے رسول) پیغمبروں کے قصوں میں سے یہ سب قصے جو ہم آپ کو سناتے ہیں (یہ اس لئے ہے کہ) ہم آپ کے دل کو مضبوط کر دیں اور پھر ان (قصوں) کے اندر تمہارے پاس حق آگیا۔ اور اہلِ ایمان کیلئے پند و موعظہ اور نصیحت و یاددہانی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم رسولوں کی خبروں میں سے ہر وہ چیز تجھ سے بیان کرتے ہیں جس کے ساتھ ہم تیرے دل کو ثابت رکھتے ہیں اور تیرے پاس ان میں حق اور مومنوں کے لیے نصیحت اور یادددہانی آئی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذکر ماضی تمہارے لیے سامان سکون ٭٭
پہلی امتوں کا اپنے نبیوں کو جھٹلانا، نبیوں کا ان کی ایذاؤں پر صبر کرنا۔ آخر اللہ کے عذاب کا آنا، کافروں کا برباد ہونا، نبیوں رسولوں اور مومنوں کا نجات پانا، یہ سب واقعات ہم تجھے سنا رہے ہیں۔ تاکہ تیرے دل کو ہم اور مضبوط کر دیں اور تجھے کامل سکون حاصل ہو جائے۔ اس سورت میں بھی حق تجھ پر واضح ہو چکا ہے کہ اس دنیا میں بھی تیرے سامنے سچے واقعات بیان ہو چکے ہیں۔ یہ عبرت ہے کفار کے لیے اور نصیحت ہے مومنوں کے لیے کہ وہ اس سے نفع حاصل کریں۔
رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے، تو ان سے کہہ دو کہ تم اپنے طریقے پر کام کرتے رہو اور ہم اپنے طریقے پر کیے جاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ایمان نہ ﻻنے والوں سے کہہ دیجئے کہ تم اپنے طور پر عمل کئے جاؤ ہم بھی عمل میں مشغول ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور کافروں سے فرماؤ تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ ہم اپنا کام کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے پیغمبر(ص)) جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان سے کہہ دیجیے! تم اپنی جگہ اور اپنے طور پر کام کرو (اور ہم) اپنی جگہ اور اپنے طور پر کام کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان لوگوں سے جو ایمان نہیں لاتے، کہہ دے تم اپنی جگہ عمل کرو، یقینا ہم (بھی) عمل کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بطور دھمکانے ڈرانے اور ہوشیار کرنے کے ان کافروں سے کہہ دو کہ اچھا تم اپنے طریقے سے نہیں ہٹتے تو نہ ہٹو ہم بھی اپنے طریقے پر کار بند ہیں۔ تم منظر رہو کہ آخر انجام کیا ہوتا ہے ہم بھی اسی انجام کی راہ دیکھتے ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» دنیا نے ان کافروں کا انجام دیکھ لیا ان مسلمانوں کا بھی جو اللہ کے فضل و کرم سے دنیا پر چھا گئے۔ مخالفین پر کامیابی کے ساتھ غلبہ حاصل کر لیا دنیا کو مٹھی میں لے لیا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
انجام کار کا تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تم بھی انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور راہ دیکھو ہم بھی راہ دیکھتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
تم بھی (نتیجہ کا) انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور انتظار کرو، یقینا ہم (بھی) انتظار کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بطور دھمکانے ڈرانے اور ہوشیار کرنے کے ان کافروں سے کہہ دو کہ اچھا تم اپنے طریقے سے نہیں ہٹتے تو نہ ہٹو ہم بھی اپنے طریقے پر کار بند ہیں۔ تم منظر رہو کہ آخر انجام کیا ہوتا ہے ہم بھی اسی انجام کی راہ دیکھتے ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» دنیا نے ان کافروں کا انجام دیکھ لیا ان مسلمانوں کا بھی جو اللہ کے فضل و کرم سے دنیا پر چھا گئے۔ مخالفین پر کامیابی کے ساتھ غلبہ حاصل کر لیا دنیا کو مٹھی میں لے لیا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
122۔ 1 یعنی عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ حسن انجام کس کے حصے میں آتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ ظالم لوگ کامیاب نہیں ہونگے۔ چناچہ یہ وعدہ جلد ہی پورا ہوا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غلبہ عطا فرمایا اور پورہ جزیرہ عرب اسلام کے زیر نگین آگیا۔
(آیت 122){وَ انْتَظِرُوْا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ: } یعنی تم بھی اللہ کے حکم کی راہ دیکھتے رہو ہم بھی راہ دیکھ رہے ہیں، یا تم ہمارے انجام کی راہ دیکھتے رہو، ہم تمھارے انجام کی راہ دیکھ رہے ہیں۔
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ چھپا ہوا ہے سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے اور سارا معاملہ اسی کی طرف رجوع کیا جاتا ہے پس اے نبیؐ، تو اس کی بندگی کر اور اسی پر بھروسا رکھ، جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو تیرا رب اس سے بے خبر نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
زمینوں اور آسمانوں کا علم غیب اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، تمام معاملات کا رجوع بھی اسی کی جانب ہے، پس تجھے اسی کی عبادت کرنی چاہئے اور اسی پر بھروسہ رکھنا چاہئے اور تم جو کچھ کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بے خبر نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے غیب اور اسی کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے تو اس کی بندگی کرو اور اس پر بھروسہ رکھو، اور تمہارا رب تمہارے کا موں سے غافل نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور آسمانوں اور زمین کا علمِ غیب اللہ ہی سے مخصوص ہے اور اسی کی طرف تمام معاملات کی بازگشت ہے تو آپ(ص) اسی کی عبادت کریں اور اسی پر بھروسہ کریں اور آپ کا پروردگار اس سے غافل نہیں ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ ہی کے پاس آسمانوں اور زمین کا غیب ہے اور سب کے سب کام اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔ سو اس کی عبادت کر اور اس پر بھروسا کر اور تیرا رب اس سے ہرگز غافل نہیں جو تم کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
علم غیب اور حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ ہی کو سزاوار ہے ٭٭
آسمان و زمین کے ہر غیب کو جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ عزوجل ہی ہے۔ اسی کی سب کو عبادت کرنی چاہیئے اور اسی پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔ جو بھی اس پر بھروسہ رکھے وہ اس کے لیے کافی ہے۔ کعب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تورات کا خاتمہ بھی انہیں آیتوں پر ہے اللہ تعالیٰ مخلوق میں سے کسی کے کسی عمل سے بے خبر نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 123){وَ اِلَيْهِ يُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ:} سب کو اسی کے پاس جانا ہے، پھر وہی ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔