بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 104
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 104
آیت نمبر: 104 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
وَ مَا نُؤَخِّرُہٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعۡدُوۡدٍ ﴿۱۰۴﴾ؕ
ہم اس کے لانے میں کچھ بہت زیادہ تاخیر نہیں کر رہے ہیں، بس ایک گنی چنی مدت اس کے لیے مقرر ہے
اسے ہم جو ملتوی کرتے ہیں وه صرف ایک مدت معین تک ہے
اور ہم اسے پیچھے نہیں ہٹاتے مگر ایک گنی ہوئی مدت کے لیئے
اور ہم اسے صرف ایک مدت (کے پورا ہونے) تک مؤخر کر رہے ہیں۔
اور ہم اسے مؤخر نہیں کر رہے، مگر ایک گنے ہوئے وقت کے لیے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہلاکت اور نجات، ٹھوس دلائل ٭٭

’ کافروں کی اس ہلاکت اور مومنوں کی نجات میں صاف دلیل ہے ہمارے ان وعدوں کی سچائی پر جو ہم نے قیامت کے بارے میں کئے ہیں جس دن تمام اول و آخر کے لوگ جمع کئے جائیں گے۔ ایک بھی باقی نہ چھوٹے گا اور وہ بڑا بھاری دن ہو گا تمام فرشتے، تمام رسول، تمام مخلوق حاضر ہو گی۔ حاکم حقیقی عادل کافی انصاف کرے گا۔ قیامت کے قائم ہونے میں دیر کی وجہ یہ ہے کہ رب یہ بات پہلے ہی مقرر کر چکا ہے کہ اتنی مدت تک دنیا بنی آدم سے آباد رہے گی۔ اتنی مدت خاموشی پر گزرے گی پھر فلاں وقت قیامت قائم ہو گی۔ جس دن قیامت آ جائے گی۔ کوئی نہ ہو گا جو اللہ کی اجازت کے بغیر لب بھی کھول سکے۔ مگر رحمن جسے اجازت دے اور وہ بات بھی ٹھیک بولے۔ تمام آوازیں رب رحمن کے سامنے پست ہوں گی ‘۔ بخاری و مسلم کی حدیث شفاعت میں ہے { اس دن صرف رسول علیہم السلام ہی بولیں گے اور ان کا کلام بھی صرف یہی ہو گا کہ یا اللہ سلامت رکھ، یا اللہ سلامتی دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:806] ‏‏‏‏ مجمع محشر میں بہت سے تو برے ہوں گے اور بہت سے نیک۔ { اس آیت کے اترنے پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کہ پھر یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اعمال اس بنا پر ہیں جس سے پہلے ہی فراغت کر لی گئی ہے یا کسی نئی بناء پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں بلکہ اس حساب پر جو پہلے سے ختم ہو چکا ہے جو قلم چل چکا ہے لیکن ہر ایک کے لیے وہی آسان ہو گا۔ جس کے لیے اس کی پیدائش کی گئی ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3111،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

14۔ 1 یعنی قیامت کے دن میں تاخیر کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے لئے ایک وقت معین کیا ہوا ہے۔ جب وہ وقت مقرر آجائے گا، تو ایک لمحے کی تاخیر نہیں ہوگی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 104) {وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ:” مَعْدُوْدٍ “} کا معنی ہے گنا ہوا۔ گنی ہوئی چیز آخر ختم ہو جاتی ہے، یعنی قیامت کی مہلت گنتی کے چند دن ہیں، جیسے روزوں کے متعلق فرمایا: «{ اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ }» [ البقرۃ: ۱۸۴ ] ”گنے ہوئے چند دنوں میں۔“ اور وہ گنتی صرف اللہ کے علم میں ہے، قیامت نہ اس سے پہلے آ سکتی ہے، نہ اس سے مؤخر ہو سکتی ہے۔
← پچھلی آیت (103) پوری سورۃ اگلی آیت (105) →