بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 105
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 105
آیت نمبر: 105 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
یَوۡمَ یَاۡتِ لَا تَکَلَّمُ نَفۡسٌ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ۚ فَمِنۡہُمۡ شَقِیٌّ وَّ سَعِیۡدٌ ﴿۱۰۵﴾
جب وہ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی، الا یہ کہ خدا کی اجازت سے کچھ عرض کرے پھر کچھ لوگ اس روز بد بخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت
جس دن وه آجائے گی مجال نہ ہوگی کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بات بھی کر لے، سو ان میں کوئی بدبخت ہوگا اور کوئی نیک بخت
جب وہ دن آئے گا کوئی بے حکم خدا بات نہ کرے گا تو ان میں کوئی بدبخت ہے اور کوئی خوش نصیب
تو اس (خدا) کی اجازت کے بغیر کوئی متنفس بات نہیں کر سکے گا (اس دن) کچھ لوگ بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت۔
جس دن وہ (وقت) آئے گا، کوئی شخص اس کی اجازت کے سوا بات نہیں کرے گا، پھر ان میں سے کوئی بد بخت ہوگا اور کوئی خوش قسمت۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہلاکت اور نجات، ٹھوس دلائل ٭٭

’ کافروں کی اس ہلاکت اور مومنوں کی نجات میں صاف دلیل ہے ہمارے ان وعدوں کی سچائی پر جو ہم نے قیامت کے بارے میں کئے ہیں جس دن تمام اول و آخر کے لوگ جمع کئے جائیں گے۔ ایک بھی باقی نہ چھوٹے گا اور وہ بڑا بھاری دن ہو گا تمام فرشتے، تمام رسول، تمام مخلوق حاضر ہو گی۔ حاکم حقیقی عادل کافی انصاف کرے گا۔ قیامت کے قائم ہونے میں دیر کی وجہ یہ ہے کہ رب یہ بات پہلے ہی مقرر کر چکا ہے کہ اتنی مدت تک دنیا بنی آدم سے آباد رہے گی۔ اتنی مدت خاموشی پر گزرے گی پھر فلاں وقت قیامت قائم ہو گی۔ جس دن قیامت آ جائے گی۔ کوئی نہ ہو گا جو اللہ کی اجازت کے بغیر لب بھی کھول سکے۔ مگر رحمن جسے اجازت دے اور وہ بات بھی ٹھیک بولے۔ تمام آوازیں رب رحمن کے سامنے پست ہوں گی ‘۔ بخاری و مسلم کی حدیث شفاعت میں ہے { اس دن صرف رسول علیہم السلام ہی بولیں گے اور ان کا کلام بھی صرف یہی ہو گا کہ یا اللہ سلامت رکھ، یا اللہ سلامتی دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:806] ‏‏‏‏ مجمع محشر میں بہت سے تو برے ہوں گے اور بہت سے نیک۔ { اس آیت کے اترنے پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کہ پھر یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اعمال اس بنا پر ہیں جس سے پہلے ہی فراغت کر لی گئی ہے یا کسی نئی بناء پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں بلکہ اس حساب پر جو پہلے سے ختم ہو چکا ہے جو قلم چل چکا ہے لیکن ہر ایک کے لیے وہی آسان ہو گا۔ جس کے لیے اس کی پیدائش کی گئی ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3111،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

15۔ 4 گفتگو نہ کرنے سے مراد، کسی کو اللہ تعالیٰ سے کسی طرح کی بات یا شفاعت کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔ الا یہ کہ وہ اجازت دے دے۔ طویل حدیث شفاعت میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اس دن انبیاء کے علاوہ کسی کو گفتگو کی ہمت نہ ہوگی اور انبیاء کی زبان پر بھی اس دن صرف یہی ہوگا کہ یا اللہ! ہمیں بچا لے، ہمیں بچا لے '۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 105) ➊ {يَوْمَ يَاْتِ: } یہاں چند آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس دن کا کچھ نقشہ بیان فرمایا ہے۔ {” يَاْتِ “} اصل میں {” يَأْتِيْ “} ہی ہے۔ زمخشری نے لکھا{ ” يَوْمَ يَاْتِ “} کی طرح {” لَا أَدْرِ“} بھی کہہ دیتے ہیں۔ سیبویہ اور خلیل نے یہ بیان فرمایا ہے کہ یاء کو حذف کرکے اس کی جگہ کسرہ پر اکتفا کرنا ہذیل کی لغت میں بہت ہے (یعنی دوسری لغات میں بھی ہے مگر کم ہے)۔ {” يَاْتِ “} کا فاعل وہی ہے جو اوپر گزرا {” يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لَّهُ النَّاسُ “۔ ” يَوْمٌ “} کا لفظ عربی میں وقت کے معنی میں بھی آتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے {”التحرير والتنوير لابن عاشور“} یعنی جس دن وہ وقت آئے گا، یا جس وقت وہ دن آئے گا۔ زمخشری نے ایک معنی یہ لکھا ہے کہ جس دن اللہ تعالیٰ آئے گا، یعنی {” يَاْتِ “} کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا }» [ الفجر: ۲۲] ”اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے جو صف در صف ہوں گے۔“ ➋ { لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ:} یہاں سے نصرانیوں کی اور بعض مسلمانوں کی اس سفارش کا رد ہو گیا جو ان کے خیال میں کچھ ہستیوں کے اختیار میں ہے کہ وہ اللہ کے محبوب ہونے یا بڑے زبردست ہونے کی وجہ سے جسے چاہیں گے چھڑا لیں گے، حالانکہ وہاں اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کو بات کرنے کی جرأت ہی نہیں ہو گی۔ دیکھیے سورۂ نبا (۳۸)۔ ➌ {فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّ سَعِيْدٌ:شَقِيٌّ “} بروزن {”فَعِيْلٌ“} مبالغہ کے لیے ہے۔ قاموس میں ہے {”اَلشَّقَا“} کو کبھی {”اَلشَّقَاءُ“} بھی کہا جاتا ہے، سختی، تنگی۔ {”شَقِيَ يَشْقٰي“} (ع) یہ {”رَضِيَ يَرْضٰي“} کی طرح ہے، یعنی ناقص واوی ہے۔ زمخشری نے فرمایا: {”اَلَّذِيْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ بِإِسَاءَتِهِ “} یعنی وہ بدبخت جس کے لیے اس کی بدعملی کی وجہ سے آگ واجب ہو گئی۔ {” سَعِيْدٌ “} وہ خوش قسمت جس کے لیے اس کے نیک اعمال کی وجہ سے جنت واجب ہو گئی۔
← پچھلی آیت (104) پوری سورۃ اگلی آیت (106) →