بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 103
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 103
آیت نمبر: 103 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّمَنۡ خَافَ عَذَابَ الۡاٰخِرَۃِ ؕ ذٰلِکَ یَوۡمٌ مَّجۡمُوۡعٌ ۙ لَّہُ النَّاسُ وَ ذٰلِکَ یَوۡمٌ مَّشۡہُوۡدٌ ﴿۱۰۳﴾
حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو عذاب آخرت کا خوف کرے وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اُس روز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا
یقیناً اس میں ان لوگوں کے لئے نشان عبرت ہے جو قیامت کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ وه دن جس میں سب لوگ جمع کئے جائیں گے اور وه، وه دن ہے جس میں سب حاضر کئے جائیں گے
بیشک اس میں نشانی ہے اس کے لیے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے وہ دن ہے جس میں سب لوگ اکٹھے ہوں گے اور وہ دن حاضری کا ہے
بے شک اس بات میں (عبرت کی) نشانی ہے اس شخص کے لئے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے وہ ایسا دن ہے جس میں سب لوگ اکھٹے کئے جائیں گے اور وہ (سب کے) پیش ہونے کا دن ہے۔
بے شک اس میں اس شخص کے لیے یقینا ایک نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے، یہ وہ دن ہے جس کے لیے (سب) لوگ جمع کیے جانے والے ہیں اور یہ وہ دن ہے جس میں حاضری ہو گی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہلاکت اور نجات، ٹھوس دلائل ٭٭

’ کافروں کی اس ہلاکت اور مومنوں کی نجات میں صاف دلیل ہے ہمارے ان وعدوں کی سچائی پر جو ہم نے قیامت کے بارے میں کئے ہیں جس دن تمام اول و آخر کے لوگ جمع کئے جائیں گے۔ ایک بھی باقی نہ چھوٹے گا اور وہ بڑا بھاری دن ہو گا تمام فرشتے، تمام رسول، تمام مخلوق حاضر ہو گی۔ حاکم حقیقی عادل کافی انصاف کرے گا۔ قیامت کے قائم ہونے میں دیر کی وجہ یہ ہے کہ رب یہ بات پہلے ہی مقرر کر چکا ہے کہ اتنی مدت تک دنیا بنی آدم سے آباد رہے گی۔ اتنی مدت خاموشی پر گزرے گی پھر فلاں وقت قیامت قائم ہو گی۔ جس دن قیامت آ جائے گی۔ کوئی نہ ہو گا جو اللہ کی اجازت کے بغیر لب بھی کھول سکے۔ مگر رحمن جسے اجازت دے اور وہ بات بھی ٹھیک بولے۔ تمام آوازیں رب رحمن کے سامنے پست ہوں گی ‘۔ بخاری و مسلم کی حدیث شفاعت میں ہے { اس دن صرف رسول علیہم السلام ہی بولیں گے اور ان کا کلام بھی صرف یہی ہو گا کہ یا اللہ سلامت رکھ، یا اللہ سلامتی دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:806] ‏‏‏‏ مجمع محشر میں بہت سے تو برے ہوں گے اور بہت سے نیک۔ { اس آیت کے اترنے پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کہ پھر یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اعمال اس بنا پر ہیں جس سے پہلے ہی فراغت کر لی گئی ہے یا کسی نئی بناء پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں بلکہ اس حساب پر جو پہلے سے ختم ہو چکا ہے جو قلم چل چکا ہے لیکن ہر ایک کے لیے وہی آسان ہو گا۔ جس کے لیے اس کی پیدائش کی گئی ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3111،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

13۔ 1 یعنی مواخذہ الٰہی میں یا ان واقعات میں جو عبرت و موعظبت کے لئے بیان کئے گئے ہیں۔ 13۔ 2 یعنی حساب اور بدلے کے لئے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 103) ➊ {اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ:} یعنی ان آیات و واقعات سے وہی عبرت حاصل کرے گا جس کا آخرت پر ایمان ہے، مگر جس کا آخرت پر ایمان نہیں وہ ان تمام واقعات کی کوئی نہ کوئی سائنسی توجیہ کرے گا کہ زمین و آسمان کے تغیرات کی وجہ سے ایسا ہوا، ظلم یا عدل سے اس کا کیا تعلق؟ ➋ { ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لَّهُ النَّاسُ:} یعنی وہ قیامت کا دن ایسا ہے جس کے لیے تمام لوگ جمع کیے ہوئے ہوں گے۔ زمخشری نے فرمایا کہ فعل مجہول {”يُجْمَعُ لَهُ“} (جمع کیے جائیں گے) کے بجائے اسم مفعول {” مَّجْمُوْعٌ لَّهُ “} (جمع کیے ہوئے ہوں گے) اس لیے استعمال فرمایا کہ اسم میں دوام اور ہمیشگی پائی جاتی ہے جب کہ فعل میں یہ چیز نہیں ہوتی۔ ➌ { وَ ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ:} یعنی اس میں سب لوگ حاضر کیے ہوئے ہوں گے، کوئی چھپ سکے گا نہ ادھر ادھر ہو سکے گا۔ ایک معنی یہ ہے کہ اس دن ہر نیکی یا بدی کی شہادت موجود ہو گی اور پیش بھی کی جائے گی۔ یہ بھی مراد ہے کہ اس دن پہلے، پچھلے انسان اور جن سب حاضر ہوں گے، فرشتے بھی اور خود ذات الٰہی بھی فیصلے کے لیے تشریف لائیں گے، فرمایا: «{ وَ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا }» [ الفجر: ۲۲ ] ”اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے جو صف در صف ہوں گے۔“
← پچھلی آیت (102) پوری سورۃ اگلی آیت (104) →