بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 116
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 116
آیت نمبر: 116 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
فَلَوۡ لَا کَانَ مِنَ الۡقُرُوۡنِ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ اُولُوۡا بَقِیَّۃٍ یَّنۡہَوۡنَ عَنِ الۡفَسَادِ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّمَّنۡ اَنۡجَیۡنَا مِنۡہُمۡ ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مَاۤ اُتۡرِفُوۡا فِیۡہِ وَ کَانُوۡا مُجۡرِمِیۡنَ ﴿۱۱۶﴾
پھر کیوں نہ اُن قوموں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ایسے اہل خیر موجود رہے جو لوگوں کو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے؟ ایسے لوگ نکلے بھی تو بہت کم، جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچا لیا، ورنہ ظالم لوگ تو انہی مزوں کے پیچھے پڑے رہے جن کے سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیے گئے تھے اور وہ مجرم بن کر رہے
پس کیوں نہ تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں سے ایسے اہل خیر لوگ ہوئے جو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے، سوائے ان چند کے جنہیں ہم نے ان میں سے نجات دی تھی، ﻇالم لوگ تو اس چیز کے پیچھے پڑ گئے جس میں انہیں آسودگی دی گئی تھی اور وه گنہگار تھے
تو کیوں نہ ہوئے تم میں سے اگلی سنگتوں (قوموں) میں ایسے جن میں بھلائی کا کچھ حصہ لگا رہا ہوتا کہ زمین میں فساد سے روکتے ہاں ان میں تھوڑے تھے وہی جن کو ہم نے نجات دی اور ظالم اسی عیش کے پیچھے پڑے رہے جو انہیں دیا گیا اور وہ گنہگار تھے،
ان قوموں اور نسلوں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں معدودے چند افراد کے سوا جن کو ہم نے نجات دی تھی ایسے سمجھدار اور نیکوکار لوگ کیوں نہ ہوئے جو لوگوں کو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے اور ظالم لوگ تو اسی عیش و عشرت کے پیچھے پڑے رہے جو ان کو دی گئی تھی اور یہ سب لوگ مجرم تھے۔
پھر ان امتوں میں سے جو تم سے پہلے تھیں، کچھ بچی کھچی بھلائی والے لوگ کیوں نہ ہوئے، جو زمین میں فساد سے منع کرتے، سوائے تھوڑے سے لوگوں کے جنھیں ہم نے ان میں سے نجات دی اور وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، وہ ان چیزوں کے پیچھے پڑگئے جن میں انھیں عیش و آرام دیا گیا تھا اور وہ مجرم تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نیکی کی دعوت دینے والے چند لوگ ٭٭

یعنی سوائے چند لوگوں کے ہم گزشتہ زمانے کے لوگوں میں ایسے کیوں نہیں پاتے جو شریروں اور منکروں کو برائیوں سے روکتے رہیں، یہی وہ ہیں جنہیں ہم اپنے عذاب سے بچا لیا کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امت میں ایسی جماعت کی موجودگی کا قطعی اور فرضی حکم دیا۔ فرمایا «وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» ۱؎ [3-آل عمران:104] ‏‏‏‏ ’ بھلائی اور نیکی کی دعوت دینے والی ایک جماعت تم میں ہر وقت موجود رہنی چاہیئے ‘، الخ۔ ظالموں کا شیوہ یہی ہے کہ وہ اپنی بدعادتوں سے باز نہیں آتے۔ نیک علماء کے فرمان کی طرف توجہ بھی نہیں کریتے یہاں تک کہ اللہ کے عذاب ان کی بے خبری میں ان پر مسلط ہو جاتے ہیں۔ بھلی بستیوں پر اللہ کی طرف سے از راہ ظلم عذاب کبھی آتے ہی نہیں۔ آیت میں ہے «وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَـٰكِن ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ» ۱؎ [11-ھود:101] ‏‏‏‏ ’ ہم ظلم سے پاک ہیں لیکن خود ہی وہ اپنی جانوں پر مظالم کرنے لگتے ہیں ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ» ۱؎ [41-فصلت:46] ‏‏‏‏ ’ تمہارا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ‘۔

📖 احسن البیان

116۔ 1 یعنی گزشتہ امتوں میں ایسے نیک لوگ کیوں نہ ہوئے جو اہل شر اور اہل منکر کو شر، منکرات اور فساد سے روکتے؟ پھر فرمایا، ایسے لوگ تھے تو سہی، لیکن بہت تھوڑے۔ جنہیں ہم نے اس وقت نجات دے دی، جب دوسروں کو عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا۔ 116۔ 2 یعنی یہ ظالم۔ اپنے ظلم پر قائم اور اپنی مد ہوشیوں میں مست رہے حتٰی کہ عذاب نے انھیں آلیا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 116) {فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ …: ” لَوْ لَا “} کے دو معانی ہیں، پہلا یہ کہ ”اگر یہ نہ ہوتا“ مثلاً {” لَوْ لَا عَلِيٌّ لَهَلَكَ عُمَرُ “} ”اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتے۔“ دوسرا معنی {” هَلاَّ “} یعنی ”ایسا کیوں نہ ہوا“ یہ ترغیب کے لیے ہوتا ہے، یعنی ایسا ہونا چاہیے تھا، یہاں یہی معنی مراد ہے۔{ ” قَرْنٌ “} ایک نسل کے لوگ۔ یہ لفظ عموماً ایک صدی پر بولا جاتا ہے۔ {” اُولُوْا بَقِيَّةٍ “} اچھی عادات و خصائل اور عقل والے لوگ۔ اصل میں {” بَقِيَّةٍ “} ان نفیس اور منتخب چیزوں کو کہا جاتا ہے جنھیں انسان اپنے فائدے کے لیے بچا بچا کر باقی رکھتا ہے، جیسے کہتے ہیں: {” بَقِيَّةُ السَّلَفِ “} یعنی پہلے لوگوں میں سے بہترین آدمی۔ پہلی تمام قوموں کے واقعات کے بعد اب خلاصہ بیان ہو رہا ہے کہ تم سے پہلے ان لوگوں میں ایسے اصحاب خیر کیوں نہ ہوئے جو اہل شر اور اہل فساد کو فساد فی الارض سے روکتے، یعنی ایسے لوگوں کی موجودگی نہایت ضروری تھی۔ پھر فرمایا، ایسے لوگ تھے تو سہی مگر نہایت تھوڑے، جن کی کچھ پیش نہ چلی، چنانچہ جب دوسروں پر عذاب آیا تو ان قلیل لوگوں کو ہم نے عذاب سے بچا لیا۔ اس میں مسلمانوں کو بھی تنبیہ ہے کہ جب تک ان میں ایسے اصحاب خیر موجود رہیں گے جو نیکی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں اور ایسے اصحاب خیر بالکل تھوڑے اور بے اثر نہیں ہوں گے تو اس وقت تک عذاب نہیں آئے گا۔ پھر پہلوں کی ہلاکت کا سبب بیان فرمایا کہ وہ ان نعمتوں اور خوش حالیوں میں پڑ کر اپنی خسیس خواہشات کے پیچھے ایسے لگے کہ وہ عذاب کے قابل مجرم بن گئے۔
← پچھلی آیت (115) پوری سورۃ اگلی آیت (117) →