بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 111
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 111
آیت نمبر: 111 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
وَ اِنَّ کُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّہُمۡ رَبُّکَ اَعۡمَالَہُمۡ ؕ اِنَّہٗ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۱۱۱﴾
اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا، یقیناً وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے
یقیناًان میں سے ہر ایک جب ان کے روبرو جائے گا تو آپ کا رب اسے اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ بیشک وه جو کر رہے ہیں ان سے وه باخبر ہے
اور بیشک جتنے ہیں ایک ایک کو تمہارا رب اس کا عمل پورا بھردے گا اسے ان کے کا موں کی خبر ہے،
اور یقیناً آپ کا پروردگار ان سب کو ان کے اعمال کا (بدلہ) پورا پورا دے گا بے شک جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں خدا اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
اور بے شک ان سب کو جب (وقت آئے گا) تو یقینا تیرا رب انھیں ان کے اعمال ضرور پورے پورے دے گا، بے شک وہ اس سے جو وہ کر رہے ہیں، پوری طرح باخبر ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مشرکوں کا حشر ٭٭

مشرکوں کے شرک کے باطل ہونے میں ہرگز شبہ تک نہ کرنا۔ ان کے پاس سوائے باپ دادا کی بھونڈی تقلید کے اور دلیل ہی کیا ہے؟ ان کی نیکیاں انہیں دنیا میں ہی مل جائیں گی آخرت میں عذاب ہی عذاب ہوگا۔ جو خیر و شکر کے وعدے ہیں سب پورے ہونے والے ہیں۔ ان کے عذاب کا مقررہ حصہ انہیں ضرور پہنچے گا۔ موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے کتاب دی لیکن لوگوں نے تفرقہ ڈالا۔ کسی نے اقرار کیا تو کسی نے انکار کر دیا۔ پس انہی نبیوں جیسا حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ہے کوئی مانے گا کوئی ٹالے گا۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَأَجَلٌ مُّسَمًّى فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ» ۱؎ [20-طه:129-130] ‏‏‏‏ ’ چونکہ ہم وقت مقرر کر چکے ہیں چونکہ ہم بغیر حجت پوری کئے عذاب نہیں کیا کرتے اس لیے یہ تاخیر ہے ورنہ ابھی انہیں ان کے گناہوں کا مزہ یاد آ جاتا ہے پس ان کی باتوں پر صبر کر اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا ره ‘۔ کافروں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں غلط ہی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا شک و شبہ زائل نہیں ہوتا۔ سب کو اللہ جمع کرے گا اور ان کے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ دے گا۔ اس قرأت کا بھی معنی اس ہمارے ذکر کردہ معنی کی طرف ہی لوٹنا ہے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 111) ➊ {وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ …:” كُلًّا “} میں تنوین عوض کی ہے، یعنی اس کا مضاف الیہ محذوف ہے۔ اصل میں تھا {” كُلُّهُمْ“ } یا {” كُلُّ هٰؤُلَاءِ“} (یہ سب لوگ) {” لَمَّا “} کا معنی ”جب“ ہے، یہ حرفِ شرط ہے جس کی شرط محذوف ہے۔ {”لَيُوَفِّيَنَّهُمْ “} اس کی جزا ہے۔ وہ محذوف شرط {” لَمَّا “} کے معنی کے مطابق نکالی جائے گی، یعنی {” لَمَّا جَاءَ أَجَلُهُمْ“} یعنی بے شک یہ سب لوگ (جب ان کا وقت آئے گا) تو یقینا انھیں ان کا رب ان کے اعمال کا ضرور پورا پورا بدلہ دے گا۔ چونکہ وہ لوگ قیامت کے منکر تھے، اس لیے اس جملے میں کئی طرح سے تاکید آئی ہے۔ {” اِنَّ “}، لام تاکید اور نون ثقیلہ۔ {” لَمَّا “} کا مابعد حذف کرنے سے بھی ایک ہیبت پیدا ہو رہی ہے، کیونکہ خود لفظ {” لَمَّا “} میں وقت کا مفہوم شامل ہے، یعنی جب وہ وقت آئے گا۔({” اِنَّ كُلًّا لَّمَّا “} کی یہ سب سے واضح اور آسان توجیہ ہے) دیکھیے تفسیر الشعراوی۔ تفسیر نسفی میں ہے: {” قَالَ صَاحِبُ الْإِيْجَازِ ”لَمَّا“ فِيْهِ مَعْنَي الظَّرْفِ وَقَدْ دَخَلَ فِي الْكَلاَمِ اخْتِصَارٌ كَأَنَّهُ قِيْلَ ”وَإِنَّ كُلاًّ لَّمَّا بُعِثُوْا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ“} مطلب وہی ہے جو اوپر گزرا، البتہ انھوں نے {” لَمَّا جَاءَ أَجَلُهُمْ “ } کے بجائے {” لَمَّا بُعِثُوْا “} محذوف نکالا ہے۔ ➋ {اِنَّهٗ بِمَا يَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ: } اس میں اعمال کی جزا پوری پوری دینے کی وجہ بیان کی ہے کہ وہ ان کے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے، اس لیے عمل نیک ہو یا بد اس کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔
← پچھلی آیت (110) پوری سورۃ اگلی آیت (112) →