بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 46
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 46
آیت نمبر: 46 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
قَالَ یٰنُوۡحُ اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنۡ اَہۡلِکَ ۚ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیۡرُ صَالِحٍ ٭۫ۖ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِ مَا لَـیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ اِنِّیۡۤ اَعِظُکَ اَنۡ تَکُوۡنَ مِنَ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۴۶﴾
جواب میں ارشاد ہوا "اے نوحؑ، وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے، لہٰذا تو اُس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت تو نہیں جانتا، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے"
اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نوح یقیناً وه تیرے گھرانے سے نہیں ہے، اس کے کام بالکل ہی ناشائستہ ہیں تجھے ہرگز وه چیز نہ مانگنی چاہئے جس کا تجھے مطلقاً علم نہ ہو میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے اپنا شمار کرانے سے باز رہے
فرمایا اے نوح! وہ تیرے گھر والوں میں نہیں بیشک اس کے کام بڑے نالائق ہیں، تو مجھ سے وہ بات نہ مانگ جس کا تجھے علم نہیں میں تجھے نصیحت فرماتا ہوں کہ نادان نہ بن،
ارشاد ہوا۔ اے نوح وہ تیرے اہل میں سے نہیں ہے وہ تو مجسم عملِ بد ہے پس جس چیز کا تمہیں علم نہیں ہے اس کے بارے میں مجھ سے سوال نہ کر میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ جاہلوں میں سے نہ ہو جانا۔
فرمایا اے نوح! بے شک وہ تیرے گھر والوں سے نہیں، بے شک یہ ایسا کام ہے جو اچھا نہیں، پس مجھ سے اس بات کا سوال نہ کر جس کا تجھے کچھ علم نہیں،بے شک میں تجھے اس سے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے ہوجائے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نوح علیہ السلام کی اپنے بیٹے کے لیے نجات کی دعا اور جواب ٭٭

یاد رہے کہ یہ دعا نوح علیہ السلام کی محض اس غرض سے تھی کہ آپ علیہ السلام کو صحیح طور پر اپنے ڈوبے ہوئے لڑکے کا حال معلوم ہو جائے۔ کہتے ہیں کہ ”پروردگار یہ بھی ظاہر ہے کہ میرا لڑکا میرے اہل میں سے تھا۔ اور میرے اہل کو بچانے کا تیرا وعدہ تھا اور یہ بھی ناممکن ہے کہ تیرا وعدہ غلط ہو۔ پھر یہ میرا بچہ کفار کے ساتھ کیسے غرق کر دیا گیا؟“ جواب ملا کہ ’ تیری جس اہل کو نجات دینے کا میرا وعدہ تھا ان میں تیرا یہ بچہ داخل نہ تھا، میرا یہ وعدہ ایمانداروں کی نجات کا تھا۔ میں کہہ چکا تھا کہ «وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ» ۱؎ [11-ھود:40] ‏‏‏‏ یعنی ’ تیرے اہل کو بھی تو کشتی میں چڑھا لے مگر جس پر میری بات بڑھ چکی ہے، وہ بوجہ اپنے کفر کے انہیں میں سے تھا جو میرے سابق علم میں کفر والے اور ڈوبنے والے مقرر ہو چکے تھے ‘ ‘۔ یہ بھی یاد رہے کہ جن بعض لوگوں نے کہا ہے یہ دراصل نوح علیہ السلام کا لڑکا تھا ہی نہیں کیونکہ آپ علیہ السلام کے بطن سے نہ تھا۔ بلکہ بدکاری سے تھا اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آپ علیہ السلام کی بیوی کا اگلے گھر کا لڑکا تھا۔ یہ دونوں قول غلط ہیں بہت سے بزرگوں نے صاف لفظوں میں اسے غلط کہا ہے بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے سلف سے منقول ہے کہ کسی نبی علیہ السلام کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی۔ پس یہاں اس فرمان سے کہ وہ تیرے اہل میں سے نہیں یہی مطلب ہے کہ ’ تیرے جس اہل کی نجات کا میرا وعدہ ہے یہ ان میں سے نہیں ‘۔ یہی بات سچ ہے اور یہی قول اصلی ہے۔ اس کے سوا اور طرف جانا محض غلطی ہے اور ظاہر خطا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی غیرت اس بات کو قبول نہیں کر سکتی کہ اپنے کسی نبی علیہ السلام کے گھر میں زانیہ عورت دے۔ خیال فرمائیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت جنہوں نے بہتان بازی کی تھی ان پر اللہ تعالیٰ کس قدر غضبناک ہوا اس لڑکے کے اہل میں سے نکل جانے کی وجہ خود قرآن نے بیان فرما دی ہے کہ ’ اس کے عمل نیک نہ تھے ‘۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک قرأت «إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» ہے مسند کی حدیث میں ہے اسماء بنت یزید فرماتی ہیں { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ» پڑھتے سنا ہے اور آیت «يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا» ۱؎ ۱؎ [39-الزمر:53] ‏‏‏‏ پڑھتے سنا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:359/6:صحیح بالشواهد] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ «فَخَانَتَاهُمَا» ۱؎ [66-التحريم:10] ‏‏‏‏ کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا ”اس سے مراد زنا نہیں بلکہ نوح علیہ السلام کی بیوی کی خیانت تو یہ تھی کہ لوگوں سے کہتی تھی یہ مجنون ہے۔ اور لوط علیہ السلام کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ جو مہمان آپ علیہ السلام کے ہاں آتے اپنی قوم کو خبر کر دیتی۔‏‏‏‏“ پھر آپ نے یہ آیت «إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» پڑھی۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب نوح علیہ السلام کے لڑکے کے بارے میں سوال ہوا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”اللہ سچا ہے اس نے اسے نوح علیہ السلام کا لڑکا فرما دیا ہے۔ پس وہ یقیناً نوح علیہ السلام کا ثابت النسب لڑکا ہی تھا۔‏‏‏‏“ دیکھو اللہ فرماتا ہے کسی نبی کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی، اور یہ بھی یاد رہے کہ بعض علماء کا قول ہے کہ کسی نبی کی بیوی نے کبھی زناکاری نہیں کی ایسا ہی مجاہدرحمہ اللہ سے مروی ہے۔ اور یہی ابن جریررحمہ اللہ کا پسندیدہ ہے۔ اور فی الواقع ٹھیک اور صحیح بات بھی یہی ہے۔

📖 احسن البیان

46۔ 1 حضرت نوح ؑ نے قرابت نسبی کا لحاظ کرتے ہوئے اسے اپنا بیٹا قرار دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایمان کی بنیاد پر قرابت دین کے اعتبار سے اس بات کی نفی فرمائی کہ وہ تیرے گھرانے سے ہے۔ اس لئے کہ ایک نبی کا اصل گھرانہ تو وہی ہے جو اس پر ایمان لائے، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ اور اگر کوئی ایمان نہ لائے تو چاہے وہ نبی کا باپ ہو، بیٹا ہو یا بیوی، وہ نبی کے گھرانے کا فرد نہیں۔ 46۔ 2 یہ اللہ تعالیٰ نے اس کی علت بیان فرما دی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس کے پاس ایمان اور عمل صا لح نہیں ہوگا، اسے اللہ کے عذاب سے اللہ کا پیغمبر بھی بچانے پر قادر نہیں۔ آج کل لوگ پیروں، فقیروں اور سجادہ نشینوں سے وابستگی کو ہی نجات کے لیے کافی سمجھتے ہیں اور عمل صالح کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے حالانکہ جب عمل صالح کے بغیر نبی سے نسبی قرابت بھی کام نہیں آتی، تو یہ وابستگیاں کیا کام آسکتی ہیں۔ 46۔ 3 اس سے معلوم ہوا کہ نبی عالم الغیب نہیں ہوتا، اس کو اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا وحی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اسے عطا فرما دیتا ہے۔ اگر حضرت نوح ؑ کو پہلے سے علم ہوتا کہ ان کی درخواست قبول نہیں ہوگی تو یقینا وہ اس سے پرہیز فرماتے۔ 46۔ 4 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوح ؑ کو نصیحت ہے، جس کا مقصد ان کو اس مقام بلند پر فائز کرنا ہے جو علمائے عالمین کے لئے اللہ کی بارگاہ میں ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 46) ➊ { قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ:} فرمایا اے نوح! یہ تیرے اہل میں سے نہیں،بلکہ {” اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ “} کے تحت کفر کی وجہ سے تمھارا اہل ہونے کے شرف سے محروم ہے اور ان لوگوں میں شامل ہو گیا ہے جن کے غرق کیے جانے کا پہلے فیصلہ ہو چکا ہے۔ ➋ {اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ:} عام طور پر اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے ”اس کے عمل اچھے نہیں ہیں۔“ یہ معنی اس صورت میں درست ہو سکتا ہے کہ{ ” عَمَلٌ “} مصدر کو مبالغہ کے لیے اسم فاعل ({عَامِلٌ}) کے معنی میں مانا جائے، جیسے:{ ” زَيْدٌ عَدْلٌ “} کو {” زَيْدٌ عَادِلٌ “} کے معنی میں لیا جاتا ہے، یعنی یہ غیر صالح عمل کرنے والا ہے۔ مگر امام المفسرین طبری رحمہ اللہ کے مطابق{ ” اِنَّهٗ “} کی ضمیر نوح علیہ السلام کی دعا کی طر ف جاتی ہے کہ آپ نے اپنے مشرک بیٹے کے حق میں جو سفارش کی ہے، یہ کام اچھا نہیں ہے۔ ➌ { فَلَا تَسْـَٔلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ:} یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ سوال تو اسی چیز کا ہوتا ہے جس کا علم نہ ہو، جس چیز کا علم ہو اس کے سوال کی تو ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ اس کے دو جواب ہیں، دراصل عربی میں سوال کا لفظ مانگنے کے معنی میں بھی آتا ہے اور پوچھنے کے بارے میں بھی۔ سو پہلا جو اب یہ ہے کہ صرف وہی چیز مانگنی چاہیے جس کے متعلق اچھی طرح معلوم ہو کہ جس سے مانگ رہے ہیں وہ یہ چیز مانگنے پر ناراض نہیں ہو گا۔ جس کے متعلق یہ علم نہ ہو بلکہ اس کے ناراض ہونے کا بھی خطرہ ہو، وہ ہرگز نہیں مانگنی چاہیے۔ اب نوح علیہ السلام کے سامنے اللہ تعالیٰ کے وہ فرمان موجود تھے: «{ وَ لَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا }» اور «{ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ }» پھر بھی انھیں اس کا علم نہیں ہو سکا کہ اس درخواست پر اللہ تعالیٰ کس قدر ناراض ہوں گے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کی درخواست کا جواب تو {” اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ “} کہہ کر دے دیا تھا، اب اس سے آگے امکان تھا کہ نوح علیہ السلام بیٹے کے نجات نہ پانے اور کفر پر مستحکم رہنے کے متعلق سوال کرتے کہ اس میں کیا حکمت ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی اس سے روک دیا کہ میری حکمتوں تک تمھارے علم کی رسائی نہیں ہو سکتی، اس لیے مجھ سے ایسی بات مت پوچھنا۔ (الوسیط للطنطاوی) یعنی پوچھنی بھی وہی بات چاہیے جس کے متعلق علم ہو کہ جس سے پوچھ رہے ہیں وہ اس سوال پر ناراض نہیں ہو گا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”آدمی پوچھتا وہی ہے جو معلوم نہ ہو، لیکن مرضی معلوم ہونی چاہیے۔ یہ کام ہے جاہل کا کہ اگلے کی مرضی نہ دیکھے پوچھنے کی، پھر پوچھے۔“ (موضح) ➍ { اِنِّيْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ:} مطلب یہ ہے کہ اس حقیقت کو جاننے کے بعد اگر ایسا سوال کرو گے تو جاہل بن کر رہ جاؤ گے۔ (روح المعانی)
← پچھلی آیت (45) پوری سورۃ اگلی آیت (47) →