بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 42
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 42
آیت نمبر: 42 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
وَ ہِیَ تَجۡرِیۡ بِہِمۡ فِیۡ مَوۡجٍ کَالۡجِبَالِ ۟ وَ نَادٰی نُوۡحُۨ ابۡنَہٗ وَ کَانَ فِیۡ مَعۡزِلٍ یّٰـبُنَیَّ ارۡکَبۡ مَّعَنَا وَ لَا تَکُنۡ مَّعَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۴۲﴾
کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی نوحؑ کا بیٹا دور فاصلے پر تھا نوحؑ نے پکار کر کہا "بیٹا، ہمارے ساتھ سوار ہو جا، کافروں کے ساتھ نہ رہ"
وه کشتی انہیں پہاڑوں جیسی موجوں میں لے کر جا رہی تھی اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے لڑکے کو جو ایک کنارے پر تھا، پکار کر کہا کہ اے میرے پیارے بچے ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں میں شامل نہ ره
اور وہی انہیں لیے جارہی ہے ایسی موجوں میں جیسے پہاڑ اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا اور وہ اس سے کنارے تھا اے میرے بچے ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو
اور وہ (کشتی) انہیں ایسی موجوں (لہروں) میں سے لئے جا رہی تھی جو پہاڑوں جیسی تھیں اور نوح(ع) نے اپنے بیٹے کو آواز دی جوکہ الگ ایک گوشہ میں (کھڑا) تھا۔ اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ (کشتی میں) سوار ہو جا۔ اور کافروں کے ساتھ نہ ہو۔
اور وہ انھیں لے کر پہاڑوں جیسی موج میں چلی جاتی تھی، اور نوح نے اپنے بیٹے کو آواز دی اور وہ ایک علیحدہ جگہ میں تھا، اے میرے چھوٹے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ (شامل) نہ ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کشتی نوح پر کون کون سوار ہوا؟ ٭٭

نوح علیہ السلام جنہیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے ان سے فرمایا کہ ”آؤ اس میں سوار ہو جاؤ اس کا پانی پر چلنا اللہ کے نام کی برکت سے ہے اور اسی طرح اس کا آخری ٹھہراؤ بھی اسی پاک نام سے ہے۔‏‏‏‏“ أبو رجاء العطاردي کی قرآت میں «بِسْمِ اللَّهِ مُجْرِيهَا وَمُرْسِيهَا» بھی ہے۔ یہی اللہ کا آپ علیہ السلام کو حکم تھا کہ ’ جب تم اور تمہارے ساتھی ٹھیک طرح بیٹھ جاؤ تو کہنا «الْـحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:28] ‏‏‏‏ اور یہ بھی دعا کرنا کہ «اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ» ‘ ۱؎ [23-المؤمنون:29] ‏‏‏‏ اس لیے مستحب ہے کہ تمام کاموں کے شروع میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ لی جائے خواہ کشتی پر سوار ہونا ہو، خواہ جانور پر سوار ہونا ہو۔ جیسے فرمان باری ہے کہ «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:12-14] ‏‏‏‏ ’ اسی اللہ نے تمہارے لیے تمام جوڑے پیدا کئے ہیں اور کشتیاں اور چوپائے تمہاری سواری کے لیے پیدا کئے ہیں کہ تم ان کی پیٹھ پر سواری کرو ‘، الخ۔ حدیث میں بھی اس کی تاکید اور رغبت آئی ہے، سورۃ الزخرف میں اس کا پورا بیان ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ طبرانی میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری امت کے لیے ڈوبنے سے بچاؤ ان کے اس قول میں ہے سوار ہوتے ہوئے کہہ لیں «بِسْمِ اللَّهِ الْمُلْكُ» ، «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ» [الزُّمَرِ: 67] ‏‏‏‏ «بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [11-ھود:41] ‏‏‏‏ } } اس دعا کے آخر میں اللہ کا وصف غفور و رحیم اس لیے لائے کہ کافروں کی سزا کے مقابلے میں مومنون پر رحمت و شفقت کا اظہار ہو۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ» ۱؎ [7-الأعراف:167] ‏‏‏‏ ’ تیرا رب جلد سزا کرنے والا اور ساتھ ہی غفور و رحیم بھی ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلَىٰ ظُلْمِهِمْ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ الْعِقَابِ» ۱؎ [13-الرعد:6] ‏‏‏‏ یعنی ’ تیرا پروردگار لوگوں کے گناہوں کو بخشنے والا بھی ہے اور سخت سزا دینے والا بھی ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [7-الاعراف:167] ‏‏‏‏ ’ بیشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے ‘، اور بھی بہت سی آیتیں ہیں جن میں رحمت و انتقام کا بیان ملا جلا ہے۔ پانی روئے زمین پر پھر گیا ہے، کسی اونچے سے اونچے پہاڑ کی بلندی سے بلند چوٹی بھی دکھائی نہیں دیتی بلکہ پہاڑوں سے اوپر پندرہ ہاتھ اور بقول اسی میل اوپر کو ہو گیا ہے باوجود اس کے کشتی نوح علیہ السلام بحکم الٰہی برابر صحیح طور پر جا رہی ہے۔

خود اللہ اس کا محافظ ہے اور وہ خاص اس کی عنایت و مہر ہے۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:11، 12] ‏‏‏‏ یعنی ’ پانی میں طغیانی کے وقت ہم نے آپ تمہیں کشتی میں چڑھا لیا کہ ہم اسے تمہارے لیے نصیحت بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھ لیں ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ وَلَقَد تَّرَكْنَاهَا آيَةً فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ» ۱؎ [54-القمر:13-15] ‏‏‏‏ ’ ہم نے تمہیں اس تختوں والی کشتی پر سوار کرایا اور اپنی حفاظت میں پار اتارا اور کافروں کو ان کے کفر کا انجام دکھا دیا اور اسے ایک نشان بنا دیا کیا اب بھی کوئی ہے جو عبرت حاصل کرے؟ ‘ اس وقت نوح علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے کو بلایا یہ آپ علیہ السلام کے چوتھے لڑکے تھے اس کا نام حام تھا یہ کافر تھا اسے آپ علیہ السلام نے کشتی میں سوار ہونے کے وقت ایمان کی اور اپنے ساتھ بیٹھ جانے کی ہدایت کی تاکہ ڈوبنے سے اور کافروں کے عذاب سے بچ جائے۔ مگر اس بد نیت نے جواب دیا کہ نہیں مجھے اس کی ضرورت نہیں میں پہاڑ پر چڑھ کر طوفان باراں سے بچ جاؤں گا۔ ایک اسرائیلی روایت میں ہے کہ اس نے شیشے کی کشتی بنائی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ قرآن میں تو یہ ہے کہ ’ اس نے یہ سمجھا کہ یہ طوفان پہاڑوں کی چوٹیوں تک نہیں پہنچنے کا میں جب جا پہنچوں گا تو یہ پانی میرا کیا بگاڑے گا؟ ‘ اس پر نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”آج عذاب الٰہی سے کہیں پناہ نہیں وہی بچے گا جس پر اللہ کا رحم ہو۔‏‏‏‏“ یہاں «عَاصِمَ» «مَعْصُومٍ» کے معنی میں ہے جیسے «طَاعِمٌ» «مَطْعُومٍ» کے معنی میں اور «وَكَاسٍ» «مَكْسُوٍ» کے معنی میں آیا ہے۔ یہ باتیں ہو ہی رہی ہیں جو ایک موج آئی اور پسر نوح علیہ السلام کو لے ڈوبی۔

📖 احسن البیان

42۔ 1 یعنی جب زمین پر پانی تھا، حتٰی کے پہاڑ بھی پانی میں ڈوبے ہوئے تھے، یہ کشتی حضرت نوح ؑ اور ان کے ساتھیوں کو دامن میں سمیٹے، اللہ کے حکم سے اور اس کی حفاظت میں پہاڑ کی طرح رواں دواں تھی۔ ورنہ اتنے طوفانی پانی میں کشتی کی حیثیت ہی کیا ہوتی ہے؟ اسی لئے دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے اسے بطور احسان ذکر فرمایا۔ (اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاۗءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ 11 ۝ ۙ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّتَعِيَهَآ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ 12۝) 59۔ الحاقہ:12-11) جب پانی میں طغیانی آگئی تو اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا تاکہ اسے تمہارے لئے نصیحت اور یادگار بنادیں اور تاکہ یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں (وحملنہ علی ذات الواح ودسر تجری باعیننا جزاء لمن کان کفر) (القمر) اور ہم نے اسے تخنوں اور کیلوں والی کشتی میں سوار کرلیا جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی بدلہ اسکی طرف سے جس کا کفر کیا گیا تھا۔ 42۔ 2 یہ حضرت نوح ؑ کا چوتھا بیٹا تھا جس کا لقب کنعان اور نام ' یام ' تھا، اسے حضرت نوح ؑ نے دعوت دی کہ مسلمان ہوجا اور کافروں کے ساتھ شامل رہ کر غرق ہونے والوں میں سے مت ہو۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 42) ➊ { وَ هِيَ تَجْرِيْ بِهِمْ فِيْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ:} پہاڑوں جیسی موجوں سے طوفان کے پانی کی وسعت، اس کی طغیانی اور جوش و غضب کے اندازے کے ساتھ کشتی کے مضبوط اور مستحکم ہونے کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ ➋ { وَ نَادٰى نُوْحُ اِبْنَهٗ …:} باپ کی شفقت دیکھیے کتنے پیار سے {”يٰبُنَيَّ “} (اے میرے چھوٹے سے بیٹے! یا اے میرے پیارے بیٹے!) کہہ کر کشتی میں سوار ہونے کی دعوت دے رہے ہیں۔ ➌ {وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِيْنَ:} اس سے معلوم ہوا کہ اس بیٹے کی بربادی کا باعث کافروں کی مجلس اور ان کے ساتھ رہنا تھا، اگر وہ نوح علیہ السلام کی صحبت میں رہتا تو کفار کے ہتھے نہ چڑھتا۔ اتنے بڑے سیلاب کے وقت بھی وہ غرق ہو گیا مگر اس نے نوح علیہ السلام کے پاس آنا گوارا نہیں کیا۔ شیخ سعدی لکھتے ہیں: پسر نوح بابداں بہ نشست خاندانِ نبوتش گم شدہ ”نوح علیہ السلام کا بیٹا بروں کے ساتھ بیٹھا تو اس سے نبوت کا خاندان ہی گم ہو گیا (وہ خاندان نبوت کا فرد ہی نہ رہا)۔“
← پچھلی آیت (41) پوری سورۃ اگلی آیت (43) →