بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 11
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 11
آیت نمبر: 11 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
اِلَّا الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿۱۱﴾
اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکو کار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی
سوائے ان کے جو صبر کرتے ہیں اور نیک کاموں میں لگے رہتے ہیں۔ انہی لوگوں کے لئے بخشش بھی ہے اور بہت بڑا نیک بدلہ بھی
مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے،
مگر ہاں جو لوگ صبر کرتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں (وہ ایسے نہیں ہیں بلکہ) یہی وہ ہیں جن کے لئے بخشش ہے اور بہت بڑا اجر ہے۔
مگر وہ لوگ جنھوں نے صبر کیا اور نیک اعمال کیے، یہ لوگ ہیں جن کے لیے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭

سوائے کامل ایمان والوں کے عموماً لوگوں میں جو برائیاں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ راحت کے بعد کی سختی پر مایوس اور محض نا اُمید ہو جاتے ہیں اللہ سے بدگمانی کر کے آئندہ کے لیے بھلائی کو بھول بیٹھتے ہیں گویا کہ نہ کبھی اس سے پہلے کوئی آرام اٹھایا تھا نہ اس کے بعد کسی راحت کی توقع ہے۔ یہی حال اس کے برخلاف بھی ہے اگر سختی کے بعد آسانی ہو گئی تو کہنے لگتے ہیں کہ بس اب برا وقت ٹل گیا۔ اپنی راحت اپنی تن آسانیوں پر مست و بےفکر ہو جاتے ہیں۔ دوسروں کا استہزاء کرنے لگتے ہیں۔ اکڑ میں پڑ جاتے ہیں اور آئندہ کی سختی کو بالکل فراموش کر دیتے ہیں۔ ہاں ایماندار اس بری خصلت سے محفوظ رہتے ہیں، وہ دکھ درد میں صبر و استقامت سے کام لیتے ہیں راحت و آرام میں اللہ کی فرمان برداری کرتے ہیں۔ یہ صبر پر مغفرت اور نیکی پر ثواب پاتے ہیں ‘۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے کہ مومن کو کوئی سختی کوئی مصیبت کوئی دکھ، کوئی غم ایسا نہیں پہنچتا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی خطائیں معاف نہ فرماتا ہو، یہاں تک کہ کانٹا لگنے پر بھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6541] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے { مومن کے لیے اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ سراسر بہتر ہے۔ یہ راحت پاکر شکر کرتا ہے اور بھلائی سمیٹتا ہے۔ تکلیف اٹھا کر صبر کرتا ہے، نیکی پاتا ہے اور ایسا حال مومن کے سوا اور کسی کا نہیں ہو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999] ‏‏‏‏ اسی کا بیان سورۃ والعصر میں ہے، «وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ» [ 103-سورة العصر: 1-3 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ عصر کے وقت کی قسم تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ان کے جو ایمان لائیں اور ساتھ ہی نیکیاں بھی کریں اور ایک دوسرے کو دین حق کی اور صبر کی ہدایت کرتے رہیں ‘ یہی بیان آیت «إِنَّ الْإِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا إِلَّا الْمُصَلِّينَ» ۱؎ [70-المعارج:19-22] ‏‏‏‏ میں ہے۔

📖 احسن البیان

11۔ 1 اہل ایمان، راحت و فراغت ہو یا تنگی اور مصیبت، دونوں حالتوں میں اللہ کے احکام کے مطابق طرز عمل اختیار کرتے ہیں جیسا کہ حدیث میں آتا ہے نبی نے قسم کھا کر فرمایا ' قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اللہ تعالیٰ مومن کے لئے جو بھی فیصلہ فرماتا ہے، اس میں اس کے لئے بہتری کا پہلو ہوتا ہے۔ اگر اس کو کئی راحت پہنچتی ہے تو اس پر اللہ کا شکر کرتا ہے اور اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے، یہ بھی اس کے لئے بہتر (یعنی اجر وثواب کا باعث) ہے۔ یہ امتیاز ایک مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ (صحیح مسلم، کتاب الزھد، باب امومن امرہ کلہ خیر) اور ایک اور حدیث میں فرمایا کہ " مومن کو جو بھی فکر و غم اور تکلیف پہنچتی ہے حتی کہ اسے کانٹا چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کی غلطیاں معاف فرما دیتا ہے " (مسند احمد جلد 3، ص 4) سورة معاج کی آیات 19، 22 میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 11) {اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ:} یعنی صابر مومن کا یہ حال نہیں، وہ نہ راحت میں پھولتا ہے اور نہ مصیبت میں رب کی نعمتوں کو بھولتا ہے۔ یہی بات سورۂ معارج (۱۹ تا ۳۵) میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهٗ كُلَّهٗ لَهٗ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذٰلِكَ لِأَحَدٍ إِلاَّ لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهٗ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَّهٗ، وَ إِنْ أَصَابَتْهٗ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَّهٗ ] [ مسلم، الزہد، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر: ۲۹۹۹ ] ”مومن کا معاملہ عجیب ہے، کیونکہ اس کا ہر کام ہی خیر ہے اور یہ چیز مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں، اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے، سو وہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف اور مصیبت پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے، سو وہ بھی اس کے لیے خیر ہوتی ہے۔“
← پچھلی آیت (10) پوری سورۃ اگلی آیت (12) →