بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 48
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 48
آیت نمبر: 48 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
قِیۡلَ یٰنُوۡحُ اہۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَکٰتٍ عَلَیۡکَ وَ عَلٰۤی اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَکَ ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُہُمۡ ثُمَّ یَمَسُّہُمۡ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۴۸﴾
حکم ہوا "اے نوحؑ اتر جا، ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہیں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں، اور کچھ گروہ ایسے بھی ہیں جن کو ہم کچھ مدت سامان زندگی بخشیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا"
فرما دیا گیا کہ اے نوح! ہماری جانب سے سلامتی اور ان برکتوں کے ساتھ اتر، جو تجھ پر ہیں اور تیرے ساتھ کی بہت سی جماعتوں پر اور بہت سی وه امتیں ہوں گی جنہیں ہم فائده تو ضرور پہنچائیں گے لیکن پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا
فرمایا گیا اے نوح! کشتی سے اتر ہماری طرف سے سلام اور برکتوں کےساتھ جو تجھ پر ہیں اور تیرے ساتھ کے کچھ گروہوں پر اور کچھ گروہ ہیں جنہیں ہم دنیا برتنے دیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا
ارشاد ہوا۔ اے نوح(ع) اترو۔ ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہوں تم پر اور ان گروہوں پر جو تمہارے ساتھ ہیں (یا بالفاظ مناسب تمہارے ساتھ والوں سے پیدا ہونے والی نسلوں پر) اور تمہارے بعد کچھ ایسے گروہ بھی ہوں گے جنہیں ہم کچھ مدت کیلئے (دنیاوی) فائدہ اٹھانے کا موقع دیں گے پھر (انجامِ کار) انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔
کہا گیا اے نوح! اتر جا ہماری طرف سے عظیم سلامتی اور بہت سی برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان جماعتوں پر جو ان لوگوں سے ہوں گی جو تیرے ساتھ ہیں۔ اور کئی جماعتیں ہیں جنھیں ہم عنقریب سازوسامان دیں گے، پھر انھیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

طوفان نوح کا آخری منظر ٭٭

کشتی ٹھہری اور اللہ کا سلام آپ علیہ السلام پر اور آپ علیہ السلام کے تمام مومن ساتھیوں پر اور ان کی اولاد میں سے قیامت تک جو ایماندار آنے والے ہیں سب پر نازل ہوا۔ ساتھ ہی کافروں کے دنیوی فائدے سے مستفید ہونے اور پھر عذاب میں گرفتار ہونے کا بھی اعلان ہوا۔ پس یہ آیت قیامت تک کے مومنوں کی سلامتی اور برکت اور کافروں کی سزا پر مبنی ہے۔ امام ابن اسحاق کا بیان ہے کہ ”جب جناب باری جل شانہ نے طوفان بند کرنے کا ارادہ فرما لیا تو روئے زمین پر ایک ہوا بھیج دی جس نے پانی کو ساکن کر دیا اور اس کا اُبلنا بند ہو گیا ساتھ ہی آسمان کے دروازے بھی جو اب تک پانی برسا رہے تھے بند کر دئیے گئے۔ زمین کو پانی کے جذب کر لینے کا حکم ہو گیا اسی وقت پانی کم ہونا شروع ہو گیا اور بقول اہل توراۃ کے ساتویں مہینے کی سترہویں تاریخ کشتی نوح ”جودی“ پر لگی۔ دسویں مہینے کی پہلی تاریخ کو پہاڑوں کی چوٹیاں کھل گئیں۔ اس کے چالیس دن کے بعد کشتی کے روزن پانی کے اوپر دکھائی دینے لگے۔ پھر آپ علیہ السلام نے کوے کو پانی کی تحقیق کے لیے بھیجا لیکن وہ پلٹ کر نہ آیا، آپ علیہ السلام نے کبوتر کو بھیجا جو واپس آیا۔ اپنے پاؤں رکھنے کو اسے جگہ نہ ملی، آپ علیہ السلام نے اپنے ہاتھ پر لے کر اسے اندر لے لیا، پھر ساتھ دن کے بعد اسے دوبارہ بھیجا۔ شام کو وہ واپس آیا، اپنی چونچ میں زیتون کا پتہ لیے ہوئے تھا اس سے اللہ کے نبی علیہ السلام نے معلوم کر لیا کہ پانی زمین سے کچھ ہی اونچا رہ گیا ہے۔ پھر سات دن کے بعد بھیجا اب کی مرتبہ وہ نہ لوٹا تو آپ علیہ السلام نے سمجھ لیا کہ زمین بالکل خشک ہو چکی ہے۔ الغرض پورے ایک سال کے بعد نوح علیہ السلام نے کشتی کا سرپوش اٹھایا اور آواز آئی کہ اے نوح ہماری نازل کردہ سلامتی کے ساتھ اب اتر آؤ الخ۔

📖 احسن البیان

48۔ 1 یہ اترنا کشتی سے یا اس پہاڑ سے ہے جس پر کشتی جا کر ٹھہر گئی تھی۔ 48۔ 2 اس سے مراد یا تو وہ گروہ ہیں جو حضرت نوح ؑ کے ساتھ کشتی میں سوار تھے، یا آئندہ ہونے والے وہ گروہ ہیں جو ان کی نسل سے ہونے والے تھے، اگلے فقرے کے پیش نظر یہی دوسرا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔ 48۔ 3 یہ وہ گروہ ہیں جو کشتی میں بچ جانے والوں کی نسل سے قیامت تک ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کافروں کو دنیا کی چند روزہ زندگی گزارنے کے لئے ہم دنیا کا سازو سامان ضرور دیں گے لیکن بالآخر عذاب الیم سے دو چار ہوں گے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 48) ➊ { قِيْلَ يٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَيْكَ:} یعنی ہماری طرف سے اپنے آپ پر اور اپنے ساتھ والے لوگوں پر سلامتی اور بے شمار برکتیں لے کر کشتی سے زمین پر اترو۔ ➋ { وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ:} یعنی ان تمام مومنوں پر جو قیامت تک تمھاری اور تمھارے ساتھ والوں کی نسل سے پیدا ہوں گے، لیکن ان ساتھ والوں سے نسل صرف نوح علیہ السلام کے بیٹوں کی چلی، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ جَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِيْنَ[الصافآت: ۷۷ ] ”اور ہم نے اس کی اولاد ہی کو باقی رہنے والے بنا دیا۔“ ➌ { وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُمْ …:} حق تعالیٰ نے تسلی فرما دی کہ اس کے بعد ساری نوع انسانیت پر ہلاکت نہیں آئے گی، ہاں بعض فرقے ہلاک ہوں گے۔ (موضح) ہلاک ہونے والے فرقوں سے مراد وہ تمام کافر ہیں جو نوح علیہ السلام کی نسل سے پیدا ہوئے یا قیامت تک پیدا ہوں گے۔
← پچھلی آیت (47) پوری سورۃ اگلی آیت (49) →