بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ هود — Surah Hud
آیت نمبر 23
کل آیات: 123
قرآن کریم هود آیت 23
آیت نمبر: 23 — سورۃ هود islamicurdubooks.com ↗
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخۡبَتُوۡۤا اِلٰی رَبِّہِمۡ ۙ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۳﴾
رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اپنے رب ہی کے ہو کر رہے، تو یقیناً وہ جنتی لوگ ہیں اور جنت میں وہ ہمیشہ رہیں گے
یقیناً جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے اور اپنے پالنے والے کی طرف جھکتے رہے، وہی جنت میں جانے والے ہیں، جہاں وه ہمیشہ ہی رہنے والے ہیں
بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور اپنے رب کی طرف رجوع لائے وہ جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور عجز و نیاز کے ساتھ اپنے پروردگار کے حضور جھک گئے یہی لوگ جنتی ہیں جو ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور اپنے رب کی طرف عاجزی کی وہی جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عقل و ہوش اور ایمان والے لوگ ٭٭

بروں کے ذکر کے بعد اچھے لوگوں کا بیان ہو رہا ہے جن کے دل ایمان والے، جن کے جسمانی اعضاء فرماں برداری کرنے والے تھے، قول و فعل سے فرمان رب بجا لانے والے اور رب کی نافرمانی سے بچنے والے تھے یہ لوگ جنت کے وارث ہوں گے۔ بلند و بالا بالاخانے، بچھے بچھائے تخت، جھکے ہوئے خوشوں اور میوؤں کے درخت ابھرے ابھرے فرش، خوبصورت بیویاں، قسم قسم کے خوش ذائقہ پھل، چاہت کے لذیذ کھانے پینے اور سب سے بڑھ کر دیدار الٰہی یہ نعمتیں ہوں گی جو ان کے لیے ہمیشگی کے لیے ہوں گی۔ نہ انہیں موت آئے گی نہ بڑھاپا، نہ بیماری، نہ غفلت، نہ رفع حاجت ہو گی، نہ تھوک، نہ ناک مشک، نہ بو والا پسینہ آیا اور غذا ہضم۔ پہلے بیان کردہ کافر شقی لوگ اور یہ مومن متقی لوگ بالکل وہی نسبت رکھتے ہیں جو اندھے بہرے اور بینا اور سنتے میں ہے۔ اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ عَلِمَ اللَّـهُ فِيهِمْ خَيْرًا لَّأَسْمَعَهُمْ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا وَّهُم مُّعْرِضُونَ» ۱؎ [8-الأنفال:23] ‏‏‏‏ ’ کافر دنیا میں حق کو دیکھنے میں اندھے تھے اور آخرت کے دن بھی بھلائی کی راہ نہیں پائیں گے نہ اسے دیکھیں گے ‘۔ وہ حقانیت کی دلیلوں کی سننے سے بہرے تھے، نفع دینے والی بات سنتے ہی نہ تھے، اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ انہیں ضرور سناتا۔ اس کے برخلاف مومن سمجھ دار، ذکی، عاقل، عالم، دیکھتا، بھالتا، سوچتا، سمجھتا حق و باطل میں تمیز کرتا۔ بھلائی لے لیتا، برائی چھوڑ دیتا، دلیل اور شبہ میں فرق کر لیتا اور باطل سے بچتا، حق کو مانتا۔ بتلائیے یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں؟ تعجب ہے کہ پھر بھی تم ایسے دو مختلف شخصوں میں فرق نہیں سمجھتے۔ ارشاد ہے «لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاىِٕزُوْنَ» ۱؎ [59-الحشر:20] ‏‏‏‏ ’ دوزخی اور جنتی ایک نہیں ہوتے جنتی تو بالکل کامیاب ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ وَلَا الظُّلُمَاتُ وَلَا النُّورُ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُورُ وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ إِنَّ اللَّـهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاءُ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ إِنْ أَنتَ إِلَّا نَذِيرٌ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ» ۱؎ [35-فاطر:19-24] ‏‏‏‏ ’ اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں، اندھیرا اور اُجالا برابر نہیں، سایہ اور دھوپ برابر نہیں، زندہ اور مردہ برابر نہیں۔ اللہ تو جسے چاہے سنا سکتا ہے تو قبر والوں کو سنا نہیں سکتا۔ تو تو صرف آ گاہ کر دینے والا ہے۔ ہم نے تجھے حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، ہر ہر امت میں ڈرانے والا ہو چکا ہے ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 23) {اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …: ” اَخْبَتُوْۤا”اِخْبَاتٌ“} کا معنی ہے جھکنا، عاجزی کرنا، مطمئن ہونا۔ جمل رحمہ اللہ نے فرمایا:{ ”اَخْبَتَ لَهُ“ } کا معنی ہے {”خَشَعَ وَ خَضَعَ لَهُ “} وہ اس کے سامنے عاجز ہو گیا اور{ ” اَخْبَتَ اِلَيْهِ “ } کا معنی ہے {”اِطْمَئَنَّ اِلَيْهِ“} کہ وہ اس کی طرف سے مطمئن ہو گیا۔ سب سے بڑے ظالموں، یعنی اللہ پر جھوٹ باندھنے والے کفار و مشرکین کے بعد اب اہل ایمان کا تذکرہ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اعمال صالحہ کیے اور اپنے رب کے سامنے عاجز اور اس کی تقدیر اور فیصلے پر مطمئن ہو گئے وہ جنت کے مالک ہوں گے۔ ”اخبات“ والوں کی کچھ صفات سورۂ حج (۳۴، ۳۵، ۵۴) میں آئی ہیں۔
← پچھلی آیت (22) پوری سورۃ اگلی آیت (24) →