قریب آ گیا ہے لوگوں کے حساب کا وقت، اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا پھر بھی وه بے خبری میں منھ پھیرے ہوئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
لوگوں کا حساب نزدیک اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
لوگوں کے حساب کتاب (کا وقت) قریب آگیا ہے اور وہ غفلت میں پڑے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
لوگوں کے لیے ان کا حساب بہت قریب آگیا اور وہ بڑی غفلت میں منہ موڑنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت سے غافل انسان ٭٭
اللہ تعالیٰ عزوجل لوگوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ ’ قیامت قریب آ گئی ہے۔ پھر بھی لوگوں کی غفلت میں کمی نہیں آئی نہ وہ اس کے لیے کوئی تیاری کر رہے ہیں جو انہیں کام آئے۔ بلکہ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے مشغول اور منہمک ہو رہے ہیں کہ قیامت سے بالکل غافل ہو گئے ہیں ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ» ۱؎ [16-النحل:1] ’ امر ربی آ گیا اب کیوں جلدی مچا رہے ہو؟ ‘ دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» ۱؎ [54-القمر:2-1] ’ قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا ‘ الخ۔ ابو نواس شاعر کا ایک شعر ٹھیک اسی معنی کا یہ ہے «(النَّاسُ فِي غَفَلَاتِهِمْ)» «(وَرَحَا الْمَنِيَّةِ تَطْحَنُ)» ”موت کی چکی زور زور سے چل رہی ہے اور لوگ غفلتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔“
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما کے ہاں ایک صاحب مہمان بن کر آئے، انہوں نے بڑے اکرام اور احترام سے انہیں اپنے ہاں اتارا اور ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سفارش کی۔ ایک دن یہ بزرگ مہمان ان کے پاس آئے اور کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فلاں وادی عطا فرما دی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس بہترین زمین کا ایک ٹکڑا میں آپ کے نام کردوں کہ آپ کو بھی فارغ البالی رہے اور آپ کے بعد آپ کے بال بچے بھی آسودگی سے گزر کریں۔ عامر رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ بھائی مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ آج ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے کہ ہمیں تو دنیا کڑوی معلوم ہونے لگی ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ» کی تلاوت فرمائی۔ ۱؎ [میزان الاعتدال:256/2:ضعیف] اس کے بعد کفار قریش اور انہی جیسے اور کافروں کی بابت فرماتا ہے کہ ’ یہ لوگ کلام اللہ اور وحی الٰہی کی طرف کان ہی نہیں لگاتے۔ یہ تازہ اور نیا آیا ہوا ذکر دل لگا کر سنتے ہی نہیں۔ اس کان سنتے ہیں اس کان اڑا دیتے ہیں۔ دل ہنسی کھیل میں مشغول ہیں ‘۔ بخاری شریف میں ہے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمہیں اہل کتاب کی کتابوں کی باتوں کے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے تو کتاب اللہ میں بہت کچھ ردوبدل کر لیا، تحریف اور تبدیلی کرلی، کمی زیادتی کرلی اور تمہارے پاس تو اللہ کی اتاری ہوئی خالص کتاب موجود ہے جس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہونے پائی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7523] یہ لوگ کتاب اللہ سے بے پرواہی کررہے ہیں اپنے دلوں کو اس کے اثر سے خالی رکھنا چاہتے ہیں۔ بلکہ یہ ظالم اوروں کو بھی بہکاتے ہیں کہتے ہیں کہ اپنے جیسے ایک انسان کی ماتحتی تو ہم نہیں کر سکتے۔ تم کیسے لوگ ہو کہ دیکھتے بھالتے جادو کو مان رہے ہو؟ یہ ناممکن ہے کہ ہم جیسے آدمی کو اللہ تعالیٰ رسالت اور وحی کے ساتھ مختص کر دے، پھر تعجب ہے کہ لوگ باوجود علم کے اس کے جادو میں آجاتے ہیں؟
لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا (1) پھر بھی وہ بیخبر ی میں منہ پھیرے ہوئے ہیں(2)
یہ سورت مکہ میں نازل ہونے والی ابتدائی سورتوں میں سے ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورۂ بنی اسرائیل، کہف، مریم، طٰہٰ اور سورۂ انبیاء کے متعلق فرمایا: [ هُنَّ مِنَ الْعِتَاقِ الْأُوَلِ وَهُنَّ مِنْ تَلاَدِيْ ] ”یہ پہلی قدیم سورتوں میں سے ہیں اور یہ میرے قدیم مال میں سے ہیں۔“ [ بخاري، التفسیر، سورۃ الأنبیاء: ۴۷۳۹ ] (آیت 1) ➊ { اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ: ” اِقْتَرَبَ “ ” قَرِبَ يَقْرَبُ “} (ع، ک) میں سے باب افتعال کا ماضی معلوم ہے۔ حروف میں اضافے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوتا ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”بہت قریب آ گیا۔“ {” غَفْلَةٍ “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بھاری غفلت“ کیا گیا ہے۔ ➋ { ” اَلنَّاسُ“ } کا لفظ عام ہے، یعنی سب لوگوں کے لیے ان کا حساب بہت قریب آ گیا، اس کے باوجود انھیں اس کی کچھ فکر نہیں، بلکہ وہ بھاری غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، یعنی دنیا کی دلچسپیوں میں محو ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے {” فِيْ غَفْلَةٍ“} کی تفسیر {” غَفْلَةُ أَهْلِ الدُّنْيَا “} (دنیا والوں کی غفلت) فرمائی ہے۔ [ بخاري: ۴۷۳۰ ] دیکھیے سورۂ مریم (۳۹)۔ ➌ {حِسَابُهُمْ: } حساب کے لفظ میں دنیا و آخرت دونوں کا محاسبہ شامل ہے۔ دنیا میں محاسبہ جیسا کہ کفار قریش کو بدر اور فتح مکہ کی صورت میں پیش آیا اور ہر انسان کو سال میں ایک دو دفعہ پیش آتا رہتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اَوَ لَا يَرَوْنَ اَنَّهُمْ يُفْتَنُوْنَ فِيْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ يَذَّكَّرُوْنَ }» [ التوبۃ: ۱۲۶ ] ”اور کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں پھر بھی وہ نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ نصیحت پکڑتے ہیں۔“ دنیا کے محاسبے کے فوراً بعد موت کی صورت میں محاسبہ پیش آئے گا، فرشتے کفار کی جانیں نکالتے ہوئے کہہ رہے ہوں گے: «{ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ}» [ الأنعام: ۹۳ ] ”نکالو اپنی جانیں، آج تمھیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا، اس کے بدلے جو تم اللہ پر ناحق (باتیں) کہتے تھے اور تم اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے۔“ موت کے بعد قبر کے سوال و جواب کی صورت میں محاسبہ اور آخر میں قیامت کے دن حساب ہو گا۔حساب کے لفظ میں یہ تمام محاسبے شامل ہیں مگر یوم حساب کے طور پر قیامت کا دن مشہور ہے، اس لیے اکثر مفسرین نے یہاں صرف اسی کا ذکر کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حساب کے یہ تمام مرحلے بالکل قریب ہیں۔ حساب کی کچھ صورتیں تو زندگی ہی میں ہر روز پیش آتی رہتی ہیں، پھر موت کے قرب میں کسی کو شک نہیں، رہی قیامت تو اگرچہ وہ لوگوں کو دور دکھائی دیتی ہے مگر ہر آنے والی چیز قریب ہے، خواہ کتنے انتظار کے بعد آئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اِنَّهُمْ يَرَوْنَهٗ بَعِيْدًا (6) وَ نَرٰىهُ قَرِيْبًا }» [ المعارج: ۶، ۷ ] ”بے شک وہ اسے دور خیال کر رہے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔“ نیز دیکھیے سورۂ نحل (۱)، حج (۴۷) اور قمر (۱) اس لحاظ سے بھی یوم حساب بہت قریب آ گیا ہے کہ دنیا کی مدت کا اکثر حصہ گزر چکا۔ اب آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا، بلکہ قیامت ہی آئے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ يَعْنِيْ إِصْبَعَيْنِ ] ”میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح (قریب قریب) بھیجے گئے ہیں۔“ [ بخاري، الرقاق، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : بعثت أنا والساعۃ کھاتین: ۶۵۰۵، عن أنس رضی اللہ عنہ ] ➍ { مُعْرِضُوْنَ:} یعنی لوگوں کا حال یہ ہے کہ اپنا حساب نہایت قریب آنے کے باوجود ایسی بھاری غفلت میں پڑے ہیں کہ ہر نصیحت سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ {”اَلنَّاسُ“} کے لفظ سے تمام لوگوں کو حساب کے بہت قریب آنے سے ڈرایا مگر آئندہ آیات میں کفار و مشرکین کی غفلت اور اعراض کو زیادہ اجاگر فرمایا ہے۔ اس آدمی کی غفلت و اعراض میں کیا شک ہے جو یہ جانتے ہوئے بھی خبردار نہیں ہوتا کہ مجھے یقینا مرنا ہے، صرف اس لیے کہ موت یا قیامت کا دن اسے متعین کرکے نہیں بتایا گیا۔ اس کی مثال اس نکمّے طالب علم کی سی ہے جسے معلوم ہے کہ امتحان یقینا ہونا ہے مگر وہ اس لیے بے پروا ہے کہ ابھی امتحان کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا۔ ابن کثیر نے یہاں ابوالعتاہیہ کا ایک شعر نقل فرمایا ہے: {اَلنَّاسُ فِيْ غَفَلاَتِهِمْ وَ رَحَي الْمَنِيَّةِ تَطْحَنُ} ”لوگ اپنی غفلتوں میں پڑے ہوئے ہیں، جب کہ موت کی چکی پیستی چلی جا رہی ہے۔“
ان کے پاس جو تازہ نصیحت بھی ان کے رب کی طرف سے آتی ہے اُس کو بہ تکلف سنتے ہیں اور کھیل میں پڑے رہتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نئی نئی نصیحت آتی ہے اسے وه کھیل کود میں ہی سنتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
جب ان کے رب کے پاس سے انہیں کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے نہیں سنتے مگر کھیلتے ہوئے،
علامہ محمد حسین نجفی
ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نئی یاددہانی ان کے پاس آتی ہے۔ تو وہ اسے کھیل کود میں لگے ہوئے سنتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی جو نئی ہو مگر وہ اسے مشکل سے سنتے ہیں اور وہ کھیل رہے ہوتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت سے غافل انسان ٭٭
اللہ تعالیٰ عزوجل لوگوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ ’ قیامت قریب آ گئی ہے۔ پھر بھی لوگوں کی غفلت میں کمی نہیں آئی نہ وہ اس کے لیے کوئی تیاری کر رہے ہیں جو انہیں کام آئے۔ بلکہ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے مشغول اور منہمک ہو رہے ہیں کہ قیامت سے بالکل غافل ہو گئے ہیں ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ» ۱؎ [16-النحل:1] ’ امر ربی آ گیا اب کیوں جلدی مچا رہے ہو؟ ‘ دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» ۱؎ [54-القمر:2-1] ’ قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا ‘ الخ۔ ابو نواس شاعر کا ایک شعر ٹھیک اسی معنی کا یہ ہے «(النَّاسُ فِي غَفَلَاتِهِمْ)» «(وَرَحَا الْمَنِيَّةِ تَطْحَنُ)» ”موت کی چکی زور زور سے چل رہی ہے اور لوگ غفلتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔“
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما کے ہاں ایک صاحب مہمان بن کر آئے، انہوں نے بڑے اکرام اور احترام سے انہیں اپنے ہاں اتارا اور ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سفارش کی۔ ایک دن یہ بزرگ مہمان ان کے پاس آئے اور کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فلاں وادی عطا فرما دی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس بہترین زمین کا ایک ٹکڑا میں آپ کے نام کردوں کہ آپ کو بھی فارغ البالی رہے اور آپ کے بعد آپ کے بال بچے بھی آسودگی سے گزر کریں۔ عامر رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ بھائی مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ آج ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے کہ ہمیں تو دنیا کڑوی معلوم ہونے لگی ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ» کی تلاوت فرمائی۔ ۱؎ [میزان الاعتدال:256/2:ضعیف] اس کے بعد کفار قریش اور انہی جیسے اور کافروں کی بابت فرماتا ہے کہ ’ یہ لوگ کلام اللہ اور وحی الٰہی کی طرف کان ہی نہیں لگاتے۔ یہ تازہ اور نیا آیا ہوا ذکر دل لگا کر سنتے ہی نہیں۔ اس کان سنتے ہیں اس کان اڑا دیتے ہیں۔ دل ہنسی کھیل میں مشغول ہیں ‘۔ بخاری شریف میں ہے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمہیں اہل کتاب کی کتابوں کی باتوں کے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے تو کتاب اللہ میں بہت کچھ ردوبدل کر لیا، تحریف اور تبدیلی کرلی، کمی زیادتی کرلی اور تمہارے پاس تو اللہ کی اتاری ہوئی خالص کتاب موجود ہے جس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہونے پائی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7523] یہ لوگ کتاب اللہ سے بے پرواہی کررہے ہیں اپنے دلوں کو اس کے اثر سے خالی رکھنا چاہتے ہیں۔ بلکہ یہ ظالم اوروں کو بھی بہکاتے ہیں کہتے ہیں کہ اپنے جیسے ایک انسان کی ماتحتی تو ہم نہیں کر سکتے۔ تم کیسے لوگ ہو کہ دیکھتے بھالتے جادو کو مان رہے ہو؟ یہ ناممکن ہے کہ ہم جیسے آدمی کو اللہ تعالیٰ رسالت اور وحی کے ساتھ مختص کر دے، پھر تعجب ہے کہ لوگ باوجود علم کے اس کے جادو میں آجاتے ہیں؟
113۔ 1 یعنی گناہ، محرمات اور فواحش کے ارتکاب سے باز آجائیں۔ 113۔ 2 یعنی اطاعت اور قرب حاصل کرنے کا شوق یا پچھلی امتوں کے حالات و واقعات سے عبرت حاصل کرنے کا جذبہ ان کے اندر پیدا کر دے۔
(آیت 2) ➊ { مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ …:” اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ “ ”سَمِعَ يَسْمَعُ“} کا معنی سننا ہے، باب افتعال میں تاء کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہو گیا، جو موقع کی مناسبت سے خود بخود سمجھ میں آ رہا ہے۔ عام طور پر {”اِسْتَمَعَ“} کا معنی کان لگا کر سننا آتا ہے، مگر ظاہر ہے کہ کفار کے لیے نصیحت کو کان لگا کر سننا مشکل ہے، خصوصاً جب وہ اس کا مذاق اڑا رہے ہوں، اس لیے معنی کیا گیا ہے ”مگر وہ اسے مشکل سے سنتے ہیں۔“ ➋ پچھلی آیت میں لوگوں کے غفلت میں گرفتار ہونے اور منہ موڑنے کا ذکر تھا۔ اس آیت میں بتایا کہ انھیں اس غفلت سے بیدار کرنے کے لیے ان کے رب کی طرف سے قرآن و سنت کی صورت میں نئی سے نئی نصیحت آتی رہتی ہے، مگر قبول کرنا تو دور کی بات، وہ اسے توجہ اور اطمینان سے سنتے بھی نہیں، بلکہ کھیلتے اور مذاق اڑاتے ہوئے بڑی مشکل اور گرانی سے سنتے ہیں۔ ➌ {” مِنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ “} (ان کے رب کی طرف سے نصیحت) سے معلوم ہو رہا ہے کہ رب تعالیٰ صرف کھانے پینے اور دنیوی ضرورتیں پوری کرنے والا رب اور پروردگار ہی نہیں بلکہ انسان کی روحانی ضرورتیں اور آخرت کی نجات کی ضامن چیزوں کو مہیا کرنے والا رب بھی ہے۔ ➍ {” مُحْدَثٍ “} کا معنی ”نیا“ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں سے لوگوں کی طرف قرآن اور حدیث کی صورت میں نئی سے نئی نصیحت آتی رہتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے اور جو چاہے کلام کر سکتا ہے۔ بعض لوگوں نے قرآن کو اللہ تعالیٰ کا کلام ماننے سے انکار کر دیا، بلکہ اسے مخلوق قرار دیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ کا کلام کرنا ناممکن ہے۔ اس بحث کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۱۴۳)، توبہ (۶) اور کہف (۱۰۹)۔
دِل ان کے (دوسری ہی فکروں میں) منہمک ہیں اور ظالم آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں کہ "یہ شخص آخر تم جیسا ایک بشر ہی تو ہے، پھر کیا تم آنکھوں دیکھتے جادُو کے پھندے میں پھنس جاؤ گے؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے دل بالکل غافل ہیں اور ان ﻇالموں نے چپکے چپکے سرگوشیاں کیں کہ وه تم ہی جیسا انسان ہے، پھر کیا وجہ ہے جو تم آنکھوں دیکھتے جادو میں آجاتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
ان کے دل کھیل میں پڑے ہیں اور ظالموں نے آپس میں خفیہ مشورت کی کہ یہ کون ہیں ایک تم ہی جیسے آدمی تو ہیں کیا جادو کے پاس جاتے ہو دیکھ بھال کر،
علامہ محمد حسین نجفی
ان کے دل بالکل غافل ہیں اور یہ ظالم چپکے چپکے سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ شخص (رسول) اس کے سوا کیا ہے؟ تمہاری ہی طرح کا ایک بشر ہے کیا تم آنکھیں دیکھتے ہوئے (اور سوجھ بوجھ رکھتے ہوئے) جادو (کی بات) سنتے جاؤگے؟
عبدالسلام بن محمد
اس حال میں کہ ان کے دل غافل ہوتے ہیں۔ اور ان لوگوں نے خفیہ سرگوشی کی جنھوں نے ظلم کیا تھا، یہ تم جیسے ایک بشر کے سوا ہے کیا؟ تو کیا تم جادو کے پاس آتے ہو، حالانکہ تم دیکھ رہے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت سے غافل انسان ٭٭
اللہ تعالیٰ عزوجل لوگوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ ’ قیامت قریب آ گئی ہے۔ پھر بھی لوگوں کی غفلت میں کمی نہیں آئی نہ وہ اس کے لیے کوئی تیاری کر رہے ہیں جو انہیں کام آئے۔ بلکہ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے مشغول اور منہمک ہو رہے ہیں کہ قیامت سے بالکل غافل ہو گئے ہیں ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ» ۱؎ [16-النحل:1] ’ امر ربی آ گیا اب کیوں جلدی مچا رہے ہو؟ ‘ دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» ۱؎ [54-القمر:2-1] ’ قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا ‘ الخ۔ ابو نواس شاعر کا ایک شعر ٹھیک اسی معنی کا یہ ہے «(النَّاسُ فِي غَفَلَاتِهِمْ)» «(وَرَحَا الْمَنِيَّةِ تَطْحَنُ)» ”موت کی چکی زور زور سے چل رہی ہے اور لوگ غفلتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔“
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما کے ہاں ایک صاحب مہمان بن کر آئے، انہوں نے بڑے اکرام اور احترام سے انہیں اپنے ہاں اتارا اور ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سفارش کی۔ ایک دن یہ بزرگ مہمان ان کے پاس آئے اور کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فلاں وادی عطا فرما دی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس بہترین زمین کا ایک ٹکڑا میں آپ کے نام کردوں کہ آپ کو بھی فارغ البالی رہے اور آپ کے بعد آپ کے بال بچے بھی آسودگی سے گزر کریں۔ عامر رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ بھائی مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ آج ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے کہ ہمیں تو دنیا کڑوی معلوم ہونے لگی ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ» کی تلاوت فرمائی۔ ۱؎ [میزان الاعتدال:256/2:ضعیف] اس کے بعد کفار قریش اور انہی جیسے اور کافروں کی بابت فرماتا ہے کہ ’ یہ لوگ کلام اللہ اور وحی الٰہی کی طرف کان ہی نہیں لگاتے۔ یہ تازہ اور نیا آیا ہوا ذکر دل لگا کر سنتے ہی نہیں۔ اس کان سنتے ہیں اس کان اڑا دیتے ہیں۔ دل ہنسی کھیل میں مشغول ہیں ‘۔ بخاری شریف میں ہے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمہیں اہل کتاب کی کتابوں کی باتوں کے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے تو کتاب اللہ میں بہت کچھ ردوبدل کر لیا، تحریف اور تبدیلی کرلی، کمی زیادتی کرلی اور تمہارے پاس تو اللہ کی اتاری ہوئی خالص کتاب موجود ہے جس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہونے پائی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7523] یہ لوگ کتاب اللہ سے بے پرواہی کررہے ہیں اپنے دلوں کو اس کے اثر سے خالی رکھنا چاہتے ہیں۔ بلکہ یہ ظالم اوروں کو بھی بہکاتے ہیں کہتے ہیں کہ اپنے جیسے ایک انسان کی ماتحتی تو ہم نہیں کر سکتے۔ تم کیسے لوگ ہو کہ دیکھتے بھالتے جادو کو مان رہے ہو؟ یہ ناممکن ہے کہ ہم جیسے آدمی کو اللہ تعالیٰ رسالت اور وحی کے ساتھ مختص کر دے، پھر تعجب ہے کہ لوگ باوجود علم کے اس کے جادو میں آجاتے ہیں؟
3۔ 1 یعنی نبی کا بشر ہونا ان کے لئے ناقابل قبول ہے پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ تم دیکھ نہیں رہے کہ یہ تو جادوگر ہے، تم اس کے جادو میں دیکھتے بھالتے کیوں پھنستے ہو۔
(آیت 3) ➊ {لَاهِيَةً قُلُوْبُهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى …: ” لَاهِيَةً “ ” لَهِيَ يَلْهٰي “} (ع) یا {” لَهَا يَلْهُوْ“} (ن) سے اسم فاعل مؤنث کا صیغہ ہے۔ {” لَهْوٌ“} وہ چیز ہے جو انسان کو اس کے ضروری اور اہم کاموں سے کسی اور کام میں مشغول کر دے۔ (راغب) جیسا کہ مادہ پرست لوگ آخرت کی فکر چھوڑ کر صرف دنیا کی طلب میں مشغول ہیں۔ آج کل کے علوم و فنون سائنس، آرٹ وغیرہ میں کوئی چیز ایسی نہیں جو آخرت کی یاد دلانے والی ہو، بلکہ یہ سب روشن خیالیاں دن بدن موت اور آخرت کی فکر سے دور لے جا رہی ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ روم (۶، ۷)۔ ➋ { وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى:} یہاں نحو کا ایک مشہور سوال ہے کہ جب فاعل ظاہر ہو تو خواہ وہ واحد ہو یا تثنیہ یا جمع، فعل واحد کے صیغے کے ساتھ آتا ہے۔ یہاں {” الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا “} فاعل ظاہر ہونے کے باوجود فعل جمع کے صیغے کے ساتھ کیوں آیا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ {” اَسَرُّوا “} کا فاعل ضمیر جمع ہے اور {” الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا “} اس سے بدل ہے، یعنی کفار نے باہمی خفیہ مشورے سے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور رکھنے کے لیے خفیہ مشاورت کرکے طے کیا کہ لوگوں سے یہ کہو اور خفیہ رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ اگر لوگوں کو پتا چل گیا کہ یہ ان کی طے کردہ بات ہے تو وہ اس سے متاثر نہیں ہوں گے۔ ➌ {هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ …:} یعنی یہ کوئی فرشتہ نہیں ہے، بلکہ تمھاری طرح کا ایک انسان ہے، اب جو یہ معجزات دکھاتا ہے اور اس کلام کو سن کر لوگ گرویدہ ہو رہے ہیں تو یہ سب جادو ہے۔ کفار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر دو طرح سے طعن کیا، ایک یہ کہ آپ بشر ہیں اور بشر نبی نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات کئی جگہ بیان فرمائی ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۹۴)، تغابن (۶)، قمر (۲۴)، مومنون (۳۳، ۳۴)، فرقان (۷) اور ابراہیم (۱۰) پہلے کفار و مشرکین کہتے تھے کہ بشر نبی نہیں ہو سکتا، آج کل کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نبی بشر نہیں ہو سکتا، بات ایک ہی ہے، «{ بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ }» [المؤمنون: ۸۱ ] ”بلکہ انھوں نے کہا جیسے پہلوں نے کہا تھا۔“ اللہ تعالیٰ نے آگے اس کا رد فرمایا۔ دوسرا طعن یہ تھا کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ جادو ہے۔ کفار کا یہ طعن بھی اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ ذکر فرمایا ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ مدثر (۲۴) اور ذاریات (۵۲)۔
رسُولؐ نے کہا میرا رب ہر اُس بات کو جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں کی جائے، وہ سمیع اور علیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پیغمبر نے کہا میرا پروردگار ہر اس بات کو جو زمین وآسمان میں ہے بخوبی جانتا ہے، وه بہت ہی سننے واﻻ اور جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
نبی نے فرمایا میرا رب جانتا ہے آسمانوں اور زمین میں ہر بات کو، اور وہی ہے سنتا جانتا
علامہ محمد حسین نجفی
(پیغمبر اسلام(ص)) نے کہا کہ میرا پروردگار آسمان اور زمین کی ہر بات کو جانتا ہے (کیونکہ) وہ بڑا سننے والا (اور) بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا میرا رب آسمان و زمین میں ہر بات کو جانتا ہے اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ان بدکرداروں کے جواب میں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ’ یہ جو بہتان باندھتے ہیں ان سے کہئے کہ جو اللہ آسمان و زمین کی تمام باتیں جانتا ہے جس پر کوئی بات پوشیدہ نہیں، اس نے اس پاک کلام قرآن کریم کو نازل فرمایا۔ اس میں اگلی پچھلی تمام خبروں کا موجود ہونا ہی دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا اتارنے والا عالم الغیب ہے۔ وہ تمہاری سب باتوں کا سننے والا اور تمہارے تمام حالات کا علم رکھنے والا ہے۔ پس تمہیں اس کا ڈر رکھنا چاہیئے ‘۔ پھر کفار کی ضد، ناسمجھی اور کٹ حجتی بیان فرما رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ خود حیران ہیں۔ کسی بات پر جم نہیں سکتے۔ کبھی کلام اللہ کو جادو کہتے ہیں تو کبھی شاعری کہتے ہیں۔ کبھی پراگندہ اور بے معنی باتیں کہتے ہیں اور کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ازخود گھڑلیا ہوا بتاتے ہیں۔ اور آیت میں ہے «انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:48 و 25-الفرقان:9] ’ دیکھیں تو سہی، آپ کے لیے کیا کیا مثالیں بیان کرتے ہیں، پس وه بہک رہے ہیں۔ اب تو راه پانا ان کے بس میں نہیں رہا ‘۔ خیال کرو کہ اپنے کسی قول پر بھروسہ نہ رکھنے والا، جو زبان پر چڑھے بک دینے و الا بھی مستقل مزاج کہلانے کامستحق ہے؟ کبھی کہتے تھے، اچھا اگر یہ سچا نبی ہے تو صالح علیہ السلام کی طرح کوئی اونٹنی لے آتا یا موسیٰ علیہ السلام کی طرح کا کوئی معجزہ دکھاتا یا عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی معجزہ ظاہر کرتا۔ «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا» [17-الاسراء:59] ’ بیشک اللہ ان چیزوں پر قادر تو ضرور ہے لیکن اگر ظاہر ہوئیں اور پھر بھی یہ اپنے کفر سے نہ ہٹے تو عادت الٰہی کے تحت عذاب الٰہی میں پکڑ لیے جائیں گے اور پیس دئیے جائیں گے۔ عموماً اگلے لوگوں نے یہی کہا اور ایمان نصیب نہ ہوا اور غارت کر دئیے گئے۔ اسی طرح یہ بھی ایسے معجزے طلب کر رہے ہیں۔ اگر ظاہر ہوئے تو ایمان نہ لائیں گے اور تباہ ہوجائینگے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:97-96] ’ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ گو تمام تر معجزے دیکھ لیں، ایمان قبول نہ کریں گے۔ ہاں عذاب الیم کے معائنہ کے بعد تو فوراً تسلیم کر لیں گے لیکن وہ محض بے سود ہے ‘۔ بات بھی یہی ہے کہ انہیں ایمان لانا ہی نہ تھا ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بےشمار معجزات روز مرہ ان کی نگاہوں کے سامنے تھے۔
بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ معجزے دیگر انبیاء علیہم السلام سے بہت زیادہ ظاہر اور کھلے ہوئے تھے۔ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب روایت میں ہے کہ { صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع مسجد میں تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تلاوت قرآن کر رہے تھے۔ اتنے میں عبداللہ بن سلول منافق آیا۔ اپنی گدی بچھا کر اپنا تکیہ لگا کر وجاہت سے بیٹھ گیا۔ تھا بھی گورا چٹا، بڑھ بڑھ کر فصاحت کے ساتھ باتیں بنانے والا، کہنے لگا ابوبکر (رضی اللہ عنہ) تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نشان ہمیں دکھائیں جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے انبیاء نشانات لائے تھے مثلا موسیٰ علیہ السلام تختیاں لائے، داؤد علیہ السلام زبور لائے، صالح علیہ السلام اونٹنی لائے، عیسیٰ علیہ السلام انجیل لائے اور آسمانی دستر خوان۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا یہ سن کر رونے لگے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو آپ رضی اللہ عنہ نے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاؤ، اور اس منافق کی فریاد دربار رسالت میں پہنچاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: { سنو میرے لیے کھڑے نہ ہوا کرو۔ صرف اللہ ہی کے لیے کھڑے ہوا کرو }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس منافق سے بڑی ایذاء پہنچی ہے۔
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے اور مجھ سے فرمایا کہ باہر جاؤ اور لوگوں کے سامنے اپنے ان فضائل کو ظاہر کرو اور ان نعمتوں کا بیان کرو جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں۔ میں ساری دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، مجھے حکم ہوا ہے کہ میں جنات کو بھی پیغام الٰہی پہنچا دوں۔ مجھے میرے رب نے اپنی پاک کتاب عنایت فرمائی ہے حالانکہ محض بے پڑھا ہوں۔ میرے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے ہیں۔ میرا نام اذان میں رکھا ہے۔ میری مدد فرشتوں سے کرائی ہے۔ مجھے اپنی امداد و نصرت عطا فرمائی ہے۔ رعب میرا میرے آگے آگے کر دیا ہے۔ مجھے حوض کوثر عطا فرمایا ہے جو قیامت کے دن تمام اور حوضوں سے بڑا ہوگا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے مقام محمود کا وعدہ دیا ہے۔ اس وقت جب کہ سب لوگ حیران و پریشان سر جھکائے ہوئے ہوں گے، مجھے اللہ نے اس پہلے گروہ میں چنا ہے جو لوگوں سے نکلے گا۔ میری شفاعت سے میری امت کے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ مجھے غلبہ اور سلطنت عطا فرمائی ہے۔ مجھے جنت نعیم کا وہ بلند و بالا اعلیٰ بالاخانہ ملے گا کہ اس سے اعلیٰ منزل کسی کی نہ ہوگی۔ میرے اوپر صرف وہ فرشتے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ میرے اور میری امت کے لیے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لیے حلال نہ تھے }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم:ضعیف]
4۔ 1 وہ تمام بندوں کی باتیں سنتا ہے اور سب کے اعمال سے واقف ہے، تم جو جھوٹ بکتے ہو، اسے سن رہا ہے اور میری سچائی کو اور جو دعوت تمہیں دے رہا ہوں، اس کی حقیقت کو خوب جانتا ہے۔
(آیت 4){ قٰلَ رَبِّيْ يَعْلَمُ الْقَوْلَ …:} یعنی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا کہ تم نے خفیہ مشورے سے جو بات طے کی ہے وہ میرے رب سے مخفی نہیں۔ وہ آسمان و زمین میں ہونے والی ہر بات کو جانتا ہے، کیونکہ وہ سمیع بھی ہے اور علیم بھی۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے {”يَعْلَمُ السِّرَّ“} (وہ چھپی بات کو جانتا ہے) کے بجائے {” يَعْلَمُ الْقَوْلَ “} فرمایا، یعنی وہ ہر بات جانتا ہے، تمھاری خفیہ سرگوشیاں بھی اور بلند آواز سے گفتگو بھی۔ اس لیے اس کے پیغمبر کے خلاف تمھاری یہ خفیہ مجلسیں یا علانیہ مخالفت تمھارے کسی کام نہیں آئیں گی اور تم غلبۂ اسلام کو کسی طرح نہیں روک سکو گے۔ ایک قراء ت میں {” قُلْ رَّبِّي“} ہے، یعنی کہہ دے کہ میرا رب آسمان و زمین میں ہونے والی ہر بات جانتا ہے۔
وہ کہتے ہیں "بلکہ یہ پراگندہ خواب ہیں، بلکہ یہ اِس کی مَن گھڑت ہے، بلکہ یہ شخص شاعر ہے ورنہ یہ لائے کوئی نشانی جس طرح پرانے زمانے کے رسول نشانیوں کے ساتھ بھیجے گئے تھے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اتنا ہی نہیں بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ یہ قرآن پراگنده خوابوں کا مجموعہ ہے بلکہ اس نے از خود اسے گھڑ لیا ہے بلکہ یہ شاعر ہے، ورنہ ہمارے سامنے یہ کوئی ایسی نشانی ﻻتے جیسے کہ اگلے پیغمبر بھیجے گئے تھے
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ بولے پریشان خوابیں ہیں بلکہ ان کی گڑھت (گھڑی ہوئی چیز) ہے بلکہ یہ شاعر ہیں تو ہمارے پاس کوئی نشانی لائیں جیسے اگلے بھیجے گئے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) خواب ہائے پریشان ہیں (نہیں) بلکہ یہ اس نے خود گھڑ لیا ہے۔ بلکہ وہ تو ایک شاعر ہے (اور اگر ایسا نہیں ہے) تو پھر ہمارے پاس کوئی معجزہ لائے جس طرح پہلے رسول (معجزات کے ساتھ) بھیجے گئے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ انھوں نے کہا یہ خوابوں کی پریشان باتیں ہیں، بلکہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے، بلکہ یہ شاعر ہے، پس یہ ہمارے پاس کوئی نشانی لائے جیسے پہلے (رسول) بھیجے گئے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ان بدکرداروں کے جواب میں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ’ یہ جو بہتان باندھتے ہیں ان سے کہئے کہ جو اللہ آسمان و زمین کی تمام باتیں جانتا ہے جس پر کوئی بات پوشیدہ نہیں، اس نے اس پاک کلام قرآن کریم کو نازل فرمایا۔ اس میں اگلی پچھلی تمام خبروں کا موجود ہونا ہی دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا اتارنے والا عالم الغیب ہے۔ وہ تمہاری سب باتوں کا سننے والا اور تمہارے تمام حالات کا علم رکھنے والا ہے۔ پس تمہیں اس کا ڈر رکھنا چاہیئے ‘۔ پھر کفار کی ضد، ناسمجھی اور کٹ حجتی بیان فرما رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ خود حیران ہیں۔ کسی بات پر جم نہیں سکتے۔ کبھی کلام اللہ کو جادو کہتے ہیں تو کبھی شاعری کہتے ہیں۔ کبھی پراگندہ اور بے معنی باتیں کہتے ہیں اور کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ازخود گھڑلیا ہوا بتاتے ہیں۔ اور آیت میں ہے «انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:48 و 25-الفرقان:9] ’ دیکھیں تو سہی، آپ کے لیے کیا کیا مثالیں بیان کرتے ہیں، پس وه بہک رہے ہیں۔ اب تو راه پانا ان کے بس میں نہیں رہا ‘۔ خیال کرو کہ اپنے کسی قول پر بھروسہ نہ رکھنے والا، جو زبان پر چڑھے بک دینے و الا بھی مستقل مزاج کہلانے کامستحق ہے؟ کبھی کہتے تھے، اچھا اگر یہ سچا نبی ہے تو صالح علیہ السلام کی طرح کوئی اونٹنی لے آتا یا موسیٰ علیہ السلام کی طرح کا کوئی معجزہ دکھاتا یا عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی معجزہ ظاہر کرتا۔ «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا» [17-الاسراء:59] ’ بیشک اللہ ان چیزوں پر قادر تو ضرور ہے لیکن اگر ظاہر ہوئیں اور پھر بھی یہ اپنے کفر سے نہ ہٹے تو عادت الٰہی کے تحت عذاب الٰہی میں پکڑ لیے جائیں گے اور پیس دئیے جائیں گے۔ عموماً اگلے لوگوں نے یہی کہا اور ایمان نصیب نہ ہوا اور غارت کر دئیے گئے۔ اسی طرح یہ بھی ایسے معجزے طلب کر رہے ہیں۔ اگر ظاہر ہوئے تو ایمان نہ لائیں گے اور تباہ ہوجائینگے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:97-96] ’ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ گو تمام تر معجزے دیکھ لیں، ایمان قبول نہ کریں گے۔ ہاں عذاب الیم کے معائنہ کے بعد تو فوراً تسلیم کر لیں گے لیکن وہ محض بے سود ہے ‘۔ بات بھی یہی ہے کہ انہیں ایمان لانا ہی نہ تھا ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بےشمار معجزات روز مرہ ان کی نگاہوں کے سامنے تھے۔
بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ معجزے دیگر انبیاء علیہم السلام سے بہت زیادہ ظاہر اور کھلے ہوئے تھے۔ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب روایت میں ہے کہ { صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع مسجد میں تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تلاوت قرآن کر رہے تھے۔ اتنے میں عبداللہ بن سلول منافق آیا۔ اپنی گدی بچھا کر اپنا تکیہ لگا کر وجاہت سے بیٹھ گیا۔ تھا بھی گورا چٹا، بڑھ بڑھ کر فصاحت کے ساتھ باتیں بنانے والا، کہنے لگا ابوبکر (رضی اللہ عنہ) تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نشان ہمیں دکھائیں جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے انبیاء نشانات لائے تھے مثلا موسیٰ علیہ السلام تختیاں لائے، داؤد علیہ السلام زبور لائے، صالح علیہ السلام اونٹنی لائے، عیسیٰ علیہ السلام انجیل لائے اور آسمانی دستر خوان۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا یہ سن کر رونے لگے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو آپ رضی اللہ عنہ نے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاؤ، اور اس منافق کی فریاد دربار رسالت میں پہنچاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: { سنو میرے لیے کھڑے نہ ہوا کرو۔ صرف اللہ ہی کے لیے کھڑے ہوا کرو }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس منافق سے بڑی ایذاء پہنچی ہے۔
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے اور مجھ سے فرمایا کہ باہر جاؤ اور لوگوں کے سامنے اپنے ان فضائل کو ظاہر کرو اور ان نعمتوں کا بیان کرو جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں۔ میں ساری دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، مجھے حکم ہوا ہے کہ میں جنات کو بھی پیغام الٰہی پہنچا دوں۔ مجھے میرے رب نے اپنی پاک کتاب عنایت فرمائی ہے حالانکہ محض بے پڑھا ہوں۔ میرے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے ہیں۔ میرا نام اذان میں رکھا ہے۔ میری مدد فرشتوں سے کرائی ہے۔ مجھے اپنی امداد و نصرت عطا فرمائی ہے۔ رعب میرا میرے آگے آگے کر دیا ہے۔ مجھے حوض کوثر عطا فرمایا ہے جو قیامت کے دن تمام اور حوضوں سے بڑا ہوگا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے مقام محمود کا وعدہ دیا ہے۔ اس وقت جب کہ سب لوگ حیران و پریشان سر جھکائے ہوئے ہوں گے، مجھے اللہ نے اس پہلے گروہ میں چنا ہے جو لوگوں سے نکلے گا۔ میری شفاعت سے میری امت کے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ مجھے غلبہ اور سلطنت عطا فرمائی ہے۔ مجھے جنت نعیم کا وہ بلند و بالا اعلیٰ بالاخانہ ملے گا کہ اس سے اعلیٰ منزل کسی کی نہ ہوگی۔ میرے اوپر صرف وہ فرشتے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ میرے اور میری امت کے لیے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لیے حلال نہ تھے }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم:ضعیف]
5۔ 1 ان سرگوشی کرنے والے ظالموں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ کہا کہ یہ قرآن تو پریشان خواب کی طرح حیران کن افکار کا مجموعہ، بلکہ اس کا اپنا گھڑا ہوا ہے، بلکہ یہ شاعر ہے اور یہ قرآن کتاب ہدایت نہیں، شاعری ہے۔ یعنی کسی ایک بات پر ان کو قرار نہیں ہے۔ ہر روز ایک نیا پینترا بدلتے اور نئی سے نئی الزام تراشی کرتے ہیں۔ 5۔ 2 یعنی جس طرح ثمود کے لئے اونٹنی، موسیٰ ؑ کے لئے عصا اور ید بیضا وغیرہ۔
(آیت 5) ➊ {بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ …: ” اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف (۴۴)۔ ➋ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو جھٹلانے والے کفار کے مختلف اقوال ذکر کرکے ثابت کیا کہ یہ خوب جانتے ہیں کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، مگر ضد اور عناد کی وجہ سے اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں، اس لیے سخت بدحواس اور مذبذب ہیں کہ قرآن کو کیا کہہ کر جھٹلائیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ یہ خوابوں کی پریشان باتیں ہیں، پھر کہتے ہیں کہ نہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خود تصنیف کرکے اللہ کے ذمے لگا دیا ہے۔ پھر اس پر تسلی نہیں ہوتی تو کہتے ہیں کہ نہیں، اصل یہ ہے کہ آپ شاعر ہیں اور یہ قرآن آپ کے شاعرانہ تخیل کا نتیجہ ہے۔ سورۂ مدثر (۱۸ تا ۲۵) میں کفار کے ایک کھڑپینچ کی اسی طرح کی پریشان خیالی کا ذکر فرمایا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی تمام باتوں کا جواب دے رکھا تھا کہ اگر تمھیں اس قرآن کے اللہ کا کلام ہونے میں شک ہے تو اس جیسی کتاب بنا کر لے آؤ، یا دس سورتیں بنا کر لے آؤ، چلو! یہ بھی نہیں تو اس جیسی ایک سورت بنا کر لے آؤ۔ اگر یہ بھی نہ کرو اور کر بھی نہیں سکو گے، تو جہنم کی آگ سے ڈر کر اس پر ایمان لے آؤ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا گیا سب سے بڑا معجزہ ہے۔ کفار کے پاس اس کا کوئی جواب نہ اس وقت تھا اور نہ قیامت تک اس کا جواب لا سکتے ہیں۔ مگر وہ ماننے کے لیے تیار ہی نہ تھے، اس لیے کہنے لگے کہ اس معجزے کو دیکھ کر ہم ایمان نہیں لائیں گے، ہمارے پاس تو یہ رسول وہ معجزے لے کر آئے جو پہلے رسولوں کو دیے گئے تھے، مثلاً صالح علیہ السلام کی اونٹنی، موسیٰ علیہ السلام کا عصا، عیسیٰ علیہ السلام کا مردہ کو زندہ کرنا، نابینا کو بینا کرنا وغیرہ۔
حالاں کہ اِن سے پہلے کوئی بستی بھی، جسے ہم نے ہلاک کیا، ایمان نہ لائی، اب کیا یہ ایمان لائیں گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
ان سے پہلے جتنی بستیاں ہم نے اجاڑیں سب ایمان سے خالی تھیں۔ تو کیا اب یہ ایمان ﻻئیں گے
احمد رضا خان بریلوی
ان سے پہلے کوئی بستی ایمان نہ لائی جسے ہم نے ہلاک کیا، تو کیا یہ ایمان لائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
ان سے پہلے کوئی بستی بھی جسے ہم نے ہلاک کیا وہ تو ایمان لائی نہیں تو کیا یہ ایمان لائیں گے؟
عبدالسلام بن محمد
ان سے پہلے کوئی بستی، جسے ہم نے ہلاک کیا، ایمان نہیں لائی تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ان بدکرداروں کے جواب میں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ’ یہ جو بہتان باندھتے ہیں ان سے کہئے کہ جو اللہ آسمان و زمین کی تمام باتیں جانتا ہے جس پر کوئی بات پوشیدہ نہیں، اس نے اس پاک کلام قرآن کریم کو نازل فرمایا۔ اس میں اگلی پچھلی تمام خبروں کا موجود ہونا ہی دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا اتارنے والا عالم الغیب ہے۔ وہ تمہاری سب باتوں کا سننے والا اور تمہارے تمام حالات کا علم رکھنے والا ہے۔ پس تمہیں اس کا ڈر رکھنا چاہیئے ‘۔ پھر کفار کی ضد، ناسمجھی اور کٹ حجتی بیان فرما رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ خود حیران ہیں۔ کسی بات پر جم نہیں سکتے۔ کبھی کلام اللہ کو جادو کہتے ہیں تو کبھی شاعری کہتے ہیں۔ کبھی پراگندہ اور بے معنی باتیں کہتے ہیں اور کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ازخود گھڑلیا ہوا بتاتے ہیں۔ اور آیت میں ہے «انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:48 و 25-الفرقان:9] ’ دیکھیں تو سہی، آپ کے لیے کیا کیا مثالیں بیان کرتے ہیں، پس وه بہک رہے ہیں۔ اب تو راه پانا ان کے بس میں نہیں رہا ‘۔ خیال کرو کہ اپنے کسی قول پر بھروسہ نہ رکھنے والا، جو زبان پر چڑھے بک دینے و الا بھی مستقل مزاج کہلانے کامستحق ہے؟ کبھی کہتے تھے، اچھا اگر یہ سچا نبی ہے تو صالح علیہ السلام کی طرح کوئی اونٹنی لے آتا یا موسیٰ علیہ السلام کی طرح کا کوئی معجزہ دکھاتا یا عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی معجزہ ظاہر کرتا۔ «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا» [17-الاسراء:59] ’ بیشک اللہ ان چیزوں پر قادر تو ضرور ہے لیکن اگر ظاہر ہوئیں اور پھر بھی یہ اپنے کفر سے نہ ہٹے تو عادت الٰہی کے تحت عذاب الٰہی میں پکڑ لیے جائیں گے اور پیس دئیے جائیں گے۔ عموماً اگلے لوگوں نے یہی کہا اور ایمان نصیب نہ ہوا اور غارت کر دئیے گئے۔ اسی طرح یہ بھی ایسے معجزے طلب کر رہے ہیں۔ اگر ظاہر ہوئے تو ایمان نہ لائیں گے اور تباہ ہوجائینگے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:97-96] ’ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ گو تمام تر معجزے دیکھ لیں، ایمان قبول نہ کریں گے۔ ہاں عذاب الیم کے معائنہ کے بعد تو فوراً تسلیم کر لیں گے لیکن وہ محض بے سود ہے ‘۔ بات بھی یہی ہے کہ انہیں ایمان لانا ہی نہ تھا ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بےشمار معجزات روز مرہ ان کی نگاہوں کے سامنے تھے۔
بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ معجزے دیگر انبیاء علیہم السلام سے بہت زیادہ ظاہر اور کھلے ہوئے تھے۔ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب روایت میں ہے کہ { صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع مسجد میں تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تلاوت قرآن کر رہے تھے۔ اتنے میں عبداللہ بن سلول منافق آیا۔ اپنی گدی بچھا کر اپنا تکیہ لگا کر وجاہت سے بیٹھ گیا۔ تھا بھی گورا چٹا، بڑھ بڑھ کر فصاحت کے ساتھ باتیں بنانے والا، کہنے لگا ابوبکر (رضی اللہ عنہ) تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نشان ہمیں دکھائیں جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے انبیاء نشانات لائے تھے مثلا موسیٰ علیہ السلام تختیاں لائے، داؤد علیہ السلام زبور لائے، صالح علیہ السلام اونٹنی لائے، عیسیٰ علیہ السلام انجیل لائے اور آسمانی دستر خوان۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا یہ سن کر رونے لگے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو آپ رضی اللہ عنہ نے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاؤ، اور اس منافق کی فریاد دربار رسالت میں پہنچاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: { سنو میرے لیے کھڑے نہ ہوا کرو۔ صرف اللہ ہی کے لیے کھڑے ہوا کرو }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس منافق سے بڑی ایذاء پہنچی ہے۔
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے اور مجھ سے فرمایا کہ باہر جاؤ اور لوگوں کے سامنے اپنے ان فضائل کو ظاہر کرو اور ان نعمتوں کا بیان کرو جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں۔ میں ساری دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، مجھے حکم ہوا ہے کہ میں جنات کو بھی پیغام الٰہی پہنچا دوں۔ مجھے میرے رب نے اپنی پاک کتاب عنایت فرمائی ہے حالانکہ محض بے پڑھا ہوں۔ میرے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے ہیں۔ میرا نام اذان میں رکھا ہے۔ میری مدد فرشتوں سے کرائی ہے۔ مجھے اپنی امداد و نصرت عطا فرمائی ہے۔ رعب میرا میرے آگے آگے کر دیا ہے۔ مجھے حوض کوثر عطا فرمایا ہے جو قیامت کے دن تمام اور حوضوں سے بڑا ہوگا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے مقام محمود کا وعدہ دیا ہے۔ اس وقت جب کہ سب لوگ حیران و پریشان سر جھکائے ہوئے ہوں گے، مجھے اللہ نے اس پہلے گروہ میں چنا ہے جو لوگوں سے نکلے گا۔ میری شفاعت سے میری امت کے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ مجھے غلبہ اور سلطنت عطا فرمائی ہے۔ مجھے جنت نعیم کا وہ بلند و بالا اعلیٰ بالاخانہ ملے گا کہ اس سے اعلیٰ منزل کسی کی نہ ہوگی۔ میرے اوپر صرف وہ فرشتے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ میرے اور میری امت کے لیے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لیے حلال نہ تھے }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم:ضعیف]
6۔ 1 یعنی ان سے پہلے جتنی بستیاں ہم نے ہلاک کیں، یہ نہیں ہوا کہ ان کی حسب خواہش معجزہ دکھلانے پر ایمان لے آئی ہوں، بلکہ معجزہ دیکھ لینے کے باوجود وہ ایمان نہیں لائیں، جس کے نتیجے میں ہلاکت ان کا مقدر بنی تو کیا اگر اہل مکہ کو ان کی خواہش کے مطابق کوئی نشانی دکھلا دی جائے، تو وہ ایمان لے آئیں گے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ یہ بھی تکذیب وعناد کے راستے پر ہی بدستور گامزن رہیں گے۔
(آیت 6){ مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْيَةٍ …:} اس آیت میں تین باتیں نہایت اختصار کے ساتھ بیان فرمائی ہیں۔ پہلی یہ کہ ایمان لانے کی شرط کے طور پر تم نے پہلے رسولوں جیسا معجزہ لانے کا مطالبہ کیا ہے، سو پہلی امتوں کو ایسے معجزات دکھائے گئے، وہ ان پر ایمان نہیں لائے، تو تم جو ان سے کہیں بڑھ کر سرکش اور ضدی ہو، کیسے ایمان لاؤ گے؟ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۵۹) دوسری یہ کہ جو قومیں معجزات دیکھ کر ایمان نہیں لائیں انھیں ہلاک کر دیا گیا، کیونکہ صریح معجزہ آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد ایمان نہ لانے والی قوم ہلاک کر دی جاتی ہے، تو تم ایسا مطالبہ کیوں کرتے ہو جس کا نتیجہ تمھاری ہلاکت ہے؟ تیسری یہ کہ تمھیں معجزہ نہ دکھانا اللہ تعالیٰ کی تم پر رحمت ہے کہ اس نے تمھیں مہلت دے رکھی ہے اور اس کے علم میں تمھاری کئی نسلوں کا مسلمان ہونا مقدر ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ عنکبوت (۴۸تا ۵۱) کی تفسیر۔
اور اے محمدؐ، تم سے پہلے بھی ہم نے انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کیا کرتے تھے تم لوگ اگر علم نہیں رکھتے تو اہلِ کتاب سے پوچھ لو
مولانا محمد جوناگڑھی
تجھ سے پہلے جتنے پیغمبر ہم نے بھیجے سبھی مرد تھے جن کی طرف ہم وحی اتارتے تھے پس تم اہل کتاب سے پوچھ لو اگر خود تمہیں علم نہ ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے تم سے پہلے نہ بھیجے مگر مرد جنہیں ہم وحی کرتے تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول) اور ہم نے آپ سے پہلے بھی مردوں کو ہی رسول بنا کر بھیجا تھا جن کی طرف وحی کیا کرتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے پوچھ لو۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے تجھ سے پہلے نہیں بھیجے مگر کچھ مرد، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے، پس ذکر والوں سے پوچھ لو، اگر تم نہیں جانتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے منکر تھے ٭٭
چونکہ مشرکین اس کے منکر تھے کہ انسانوں میں سے کوئی انسان اللہ کا رسول ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے اس عقیدے کی تردید کرتا ہے۔ فرماتا ہے، ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب انسان ہی تھے، ان میں ایک بھی فرشتہ نہ تھا ‘۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» ۱؎ [12-یوسف:109] یعنی ’ تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے اور ان کی طرف وحی نازل فرمائی، سب شہروں کے رہنے والے انسان ہی تھے ‘۔ اور آیت میں ہے «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ» ۱؎ [46-الأحقاف:9] یعنی ’ کہہ دے کہ میں کوئی نیا اور انوکھا اور سب سے پہلا رسول تو ہوں ہی نہیں ‘۔ ان کافروں سے پہلے کے کفار نے بھی نبیوں کے نہ ماننے کا یہی حیلہ اٹھایا تھا جسے قرآن نے بیان فرمایا کہ انہوں نے کہا تھا آیت «أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا» ۱؎ [64-التغابن:6] ’ کیا ایک انسان ہمارا رہبر ہو گا؟ ‘ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ’ اچھا تم اہل علم سے (یعنی یہودیوں اور نصرانیوں سے) اور دوسرے گروہ سے پوچھ لو کہ ان کے پاس انسان ہی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یا فرشتے؟ ‘ یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ انسانوں کے پاس انہی جیسے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے تاکہ لوگ ان کے پاس بیٹھ اٹھ سکیں، ان کی تعلیم حاصل کرسکیں اور ان کی باتیں سن سمجھ سکیں۔ کیا وہ اگلے پیغمبر سب کے سب ایسے جسم کے نہ تھے جو کھانے پینے کی حاجت نہ رکھتے ہوں۔ بلکہ وہ کھانے پینے کے محتاج تھے۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» ۱؎ [25-الفرقان:20] یعنی ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے، وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں آمد و رفت بھی کرتے تھے ‘ یعنی وہ سب انسان تھے، انسانوں کی طرح کھاتے پیتے تھے اور کام کاج، بیوپار، تجارت کے لیے بازاروں میں بھی آنا جانا رکھتے تھے۔ پس یہ بات ان کی پیغمبری کے منافی نہیں۔ جیسے مشرکین کا قول تھا آیت «وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:7، 8] ، یعنی ’ یہ رسول کیسا ہے؟ جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں آتا جاتا ہے۔ اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا کہ وہ بھی اس کے ساتھ اس کے دین کی تبلیغ کرتا۔ اچھا یہ نہیں تو اسے کسی خزانے کا مالک کیوں نہیں کر دیا جاتا یا اسے کوئی باغ ہی دے دیا جاتا جس سے یہ با فراغت کھا پی تو لیتا ‘، الخ۔ اسی طرح اگلے پیغمبر بھی دنیا میں نہ رہے، آئے اور گئے جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ» ۱؎ [21-الأنبياء:34] یعنی ’ تجھ سے پہلے بھی ہم نے کسی انسان کو دوام نہیں بخشا۔ ان کے پاس البتہ وحی الٰہی آتی رہی۔ فرشتہ اللہ کے حکم احکام پہنچا دیا کرتا تھا۔ پھر رب کا جو وعدہ ان سے تھا، وہ سچا ہو کر رہا ‘ یعنی ان کے مخالفین بوجہ اپنے ظلم کے تباہ ہو گئے۔ اور پیغمبر علیہم السلام نجات پاگئے ان کے تابعدار بھی کامیاب ہوئے۔ اور حد سے گزر جانے والوں کو یعنی نبیوں کے جھٹلانے والوں کو اللہ نے ہلاک کر دیا۔
7۔ 1 یعنی تمام نبی مرد انسان تھے، نہ کوئی غیر انسان کبھی نبی آیا اور نہ غیر مرد، گویا نبوت انسانوں کے ساتھ اور انسانوں میں بھی مردوں کے ساتھ ہی خاص رہی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی عورت نبی نہیں بنی۔ اس لئے نبوت بھی ان کے فرائض میں سے ہے جو عورت کو طبعی اور فطری دائرہ عمل سے خارج ہے۔ 7۔ 2 اَ ھْلَ الذِّکْرِ (اہل علم) سے مراد اہل کتاب ہیں، جو سابقہ آسمانی کتابوں کا علم رکھتے تھے، ان سے پوچھ لو کہ پچھلے انبیاء جو ہو گزرے ہیں، وہ انسان تھے یا غیر انسان؟ وہ تمہیں بتلائیں گے کہ تمام انبیاء انسان ہی تھے۔
(آیت 7) ➊ {وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا …:} یہ {” هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ “} (یہ تم جیسے ایک بشر کے سوا ہے کیا) کا جواب ہے، یعنی وہ تمام رسول جو آپ سے پہلے آئے، جن کے رسول ہونے کو یہ بھی مانتے ہیں، مثلاً ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق علیہم السلام وغیرہم، وہ سب بشر تھے، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔ تو یہ لوگ آپ کو بشر ہونے کی وجہ سے رسول کیوں نہیں مانتے؟ دیکھیے سورۂ انعام (۹۱) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [ كَانَ بَشَرًا مِّنَ الْبَشَرِ يَفْلِيْ ثَوْبَهُ وَ يَحْلِبُ شَاتَهُ وَيَخْدِمُ نَفْسَهُ ] [ مسند أحمد: 256/6، ح: ۲۶۲۴۸۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۶۷۱ ] ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم انسانوں میں سے ایک انسان تھے، اپنا کپڑا خود ٹٹول لیا کرتے تھے اور اپنی بکری کا دودھ خود دوہ لیتے تھے اور اپنا کام خود کر لیتے تھے۔“ زمین میں اگر فرشتے رہا کرتے تو رسول بھی فرشتہ آتا، اب انسان بستے ہیں تو ان کے لیے نمونہ اور ان کی رہنمائی کرنے والا انسان ہی ہو سکتا ہے۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۹۴، ۹۵)۔ ➋ {فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ …:} اس جملے کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نحل (۴۳)۔
اُن رسُولوں کو ہم نے کوئی ایسا جسم نہیں دیا تھا کہ وہ کھاتے نہ ہوں، اور نہ وہ سدا جینے والے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ وه کھانا نہ کھائیں اور نہ وه ہمیشہ رہنے والے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے انہیں خالی بدن نہ بنایا کہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ دنیا میں ہمیشہ رہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان رسولوں کو کبھی ایسے جسم کا نہیں بنایا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں۔ اور نہ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے انھیں محض جسم نہیں بنایا تھا جو کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے منکر تھے ٭٭
چونکہ مشرکین اس کے منکر تھے کہ انسانوں میں سے کوئی انسان اللہ کا رسول ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے اس عقیدے کی تردید کرتا ہے۔ فرماتا ہے، ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب انسان ہی تھے، ان میں ایک بھی فرشتہ نہ تھا ‘۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» ۱؎ [12-یوسف:109] یعنی ’ تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے اور ان کی طرف وحی نازل فرمائی، سب شہروں کے رہنے والے انسان ہی تھے ‘۔ اور آیت میں ہے «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ» ۱؎ [46-الأحقاف:9] یعنی ’ کہہ دے کہ میں کوئی نیا اور انوکھا اور سب سے پہلا رسول تو ہوں ہی نہیں ‘۔ ان کافروں سے پہلے کے کفار نے بھی نبیوں کے نہ ماننے کا یہی حیلہ اٹھایا تھا جسے قرآن نے بیان فرمایا کہ انہوں نے کہا تھا آیت «أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا» ۱؎ [64-التغابن:6] ’ کیا ایک انسان ہمارا رہبر ہو گا؟ ‘ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ’ اچھا تم اہل علم سے (یعنی یہودیوں اور نصرانیوں سے) اور دوسرے گروہ سے پوچھ لو کہ ان کے پاس انسان ہی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یا فرشتے؟ ‘ یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ انسانوں کے پاس انہی جیسے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے تاکہ لوگ ان کے پاس بیٹھ اٹھ سکیں، ان کی تعلیم حاصل کرسکیں اور ان کی باتیں سن سمجھ سکیں۔ کیا وہ اگلے پیغمبر سب کے سب ایسے جسم کے نہ تھے جو کھانے پینے کی حاجت نہ رکھتے ہوں۔ بلکہ وہ کھانے پینے کے محتاج تھے۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» ۱؎ [25-الفرقان:20] یعنی ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے، وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں آمد و رفت بھی کرتے تھے ‘ یعنی وہ سب انسان تھے، انسانوں کی طرح کھاتے پیتے تھے اور کام کاج، بیوپار، تجارت کے لیے بازاروں میں بھی آنا جانا رکھتے تھے۔ پس یہ بات ان کی پیغمبری کے منافی نہیں۔ جیسے مشرکین کا قول تھا آیت «وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:7، 8] ، یعنی ’ یہ رسول کیسا ہے؟ جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں آتا جاتا ہے۔ اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا کہ وہ بھی اس کے ساتھ اس کے دین کی تبلیغ کرتا۔ اچھا یہ نہیں تو اسے کسی خزانے کا مالک کیوں نہیں کر دیا جاتا یا اسے کوئی باغ ہی دے دیا جاتا جس سے یہ با فراغت کھا پی تو لیتا ‘، الخ۔ اسی طرح اگلے پیغمبر بھی دنیا میں نہ رہے، آئے اور گئے جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ» ۱؎ [21-الأنبياء:34] یعنی ’ تجھ سے پہلے بھی ہم نے کسی انسان کو دوام نہیں بخشا۔ ان کے پاس البتہ وحی الٰہی آتی رہی۔ فرشتہ اللہ کے حکم احکام پہنچا دیا کرتا تھا۔ پھر رب کا جو وعدہ ان سے تھا، وہ سچا ہو کر رہا ‘ یعنی ان کے مخالفین بوجہ اپنے ظلم کے تباہ ہو گئے۔ اور پیغمبر علیہم السلام نجات پاگئے ان کے تابعدار بھی کامیاب ہوئے۔ اور حد سے گزر جانے والوں کو یعنی نبیوں کے جھٹلانے والوں کو اللہ نے ہلاک کر دیا۔
8۔ 1 بلکہ وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور موت سے بھی ہم کنار ہو کر مسافر عالم بقاء بھی ہوئے، یہ انبیاء کی بشریت ہی کی دلیل دی جا رہی ہے۔
(آیت 8) ➊ {وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا …:” جَسَدًا “} کا معنی بے جان جسم ہے، یہ جثہ کا ہم معنی ہے۔ محقق ائمۂ لغت کا یہی قول ہے، جیسا کہ ابو اسحاق زجاج نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «{ فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ }» [ طٰہٰ: ۸۸ ] کی تفسیر میں نقل کیا ہے۔ [ التحریر والتنویر ] یہ ان کے اس اعتراض کا جواب ہے: «{ مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ يَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ }» [الفرقان: ۷ ] ”اس رسول کو کیا ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔“ اس کے ساتھ ہی ان کا ایک اعتراض یہ بھی تھا: «{ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ }» [ الأنبیاء: ۳ ] ”یہ تمھارے جیسا ایک بشر ہی تو ہے۔“ ان اعتراضوں کے ساتھ مطالبہ یہ تھا: «{ فَلْيَاْتِنَا بِاٰيَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ }» [ الأنبیاء: ۵ ] ”پس یہ ہمارے پاس کوئی نشانی لائے جس طرح پہلے رسول بھیجے گئے۔“ {” فَلْيَاْتِنَا بِاٰيَةٍ “} کا جواب پہلے گزر چکا ہے۔ یہاں دوسرے دونوں اعتراضوں کا جواب دیا کہ اس سے پہلے تمام رسول جو ہم نے بھیجے، بشر تھے فرشتے نہ تھے، مرد تھے عورتیں نہ تھے۔ اسی طرح وہ بے جان جسم نہ تھے جو نہ کھاتے ہوں اور نہ بازاروں میں چلتے پھرتے ہوں، بلکہ وہ کھاتے پیتے بھی تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے۔ (فرقان: ۲۰) ان کی بیویاں بھی تھیں اور اولاد بھی۔ (رعد: ۳۸) جیسے تمھارے جد امجد ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام اور بنی اسرائیل کے جد امجد یعقوب، اسحاق اور ابراہیم علیھم السلام۔ تو جب ان سب کو بشر ہونے، کھانے پینے، بازاروں میں چلنے پھرنے اور صاحب آل و اولاد ہونے کے باوجود رسول مانتے ہو تو نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول کیوں نہیں مانتے؟ ➋ مشرکین خواہ پہلے زمانے کے ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے یا ہمارے زمانے کے، سب کا ذہن یہی ہوتا ہے کہ بزرگ کھانے پینے سے بے نیاز اور بیوی بچوں سے مستغنی ہوتے ہیں اور دنیا کے دھندوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اسی لیے ان کی نگاہ میں بزرگ اور پیر بننے والے حضرات کمائی وغیرہ چھوڑ کر کٹیاؤں اور خانقاہوں میں ڈیرے لگا لیتے ہیں۔ ان بزرگوں کے بعض عقیدت مند ان کے متعلق عجیب و غریب قصے مشہور کر دیتے ہیں، جن کا ہونا ممکن ہی نہیں۔ اگر یقین نہ آئے تو ”تذکرۃ الاولیاء“ پڑھ لیں، مثلاً فلاں بزرگ نے پہلے ایک دن کھانے کا ناغہ کیا، پھر ایک ماہ کا، پھر ایک سال کا اور پھر ساری عمر کا۔ پنجاب کے ایک بزرگ کے متعلق ان کے عقیدت مندوں نے مشہور کر رکھا ہے کہ انھوں نے بارہ سال کچھ کھائے بغیر جنگل میں عبادت کرتے ہوئے گزار دیے، صرف ایک لکڑی کی روٹی ان کے پاس تھی، جسے کبھی کبھار وہ دانتوں سے کاٹتے تھے۔ پھر بارہ سال انھوں نے ایک کنویں میں الٹے لٹک کر اللہ کی عبادت کرتے ہوئے گزار دیے۔ ان سے کوئی نہیں پوچھتا کہ الٹا لٹکنا کون سی عبادت ہے؟ اور اس عرصے کی نمازیں، روزے اور وضو و غسل سب کہاں گئے؟ ان لوگوں کے ہاں یہ بزرگی ہے، جب کہ وہ تین صحابہ، جن میں سے ایک نے کہا تھا کہ میں ہمیشہ ساری ساری رات قیام کیا کروں گا، کبھی سوؤں گا نہیں، دوسرے نے کہا تھا کہ میں ہمیشہ دن کو روزہ رکھوں گا کبھی روزے کے بغیر نہیں رہوں گا اور تیسرے نے کہا تھا کہ میں عورتوں سے نکاح نہیں کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: [ وَاللّٰهِ! إِنِّيْ لَأَخْشَاكُمْ لِلّٰهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ لٰكِنّيْ أَصُوْمُ وَأُفْطِرُ وَ أُصَلِّيْ وَ أَرْقُدُ وَ أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ ] ”اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ پرہیز گار ہوں، لیکن میں قیام کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزے رکھتا ہوں کبھی نہیں بھی رکھتا اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، تو جس نے میرے طریقے سے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں۔“ [ بخاري، النکاح، باب الترغیب في النکاح: ۵۰۶۳ ] ➌ { وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِيْنَ:} یہ بھی کفار کے ایک غلط عقیدے کا رد ہے کہ اللہ کے رسول اور خاص بندے مرتے نہیں۔ کئی جاہلوں نے ایک عبارت بنا رکھی ہے جسے وہ قرآن کی آیت قرار دے کر سناتے ہیں: {” أَلَا إِنَّ أَوْلِيَائَ اللّٰهِ لَا يَمُوْتُوْنَ وَلٰكِنَّهُمْ مِنْ دَارٍ إِلٰي دَارٍ يَنْتَقِلُوْنَ “} ”یاد رکھو! اللہ کے ولی مرتے نہیں، بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں۔“ اگر کوئی شخص کہہ بیٹھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا فلاں بزرگ فوت ہو گئے ہیں تو یہ لوگ اسے گستاخ قرار دے کر اس پر حملہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ پہلے گزرے ہوئے رسول ہمیشہ رہنے والے نہ تھے، بلکہ اپنی طبعی زندگی گزار کر فوت ہو گئے۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ اَفَاۡىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ }» [الأنبیاء: ۳۴ ] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کسی بشر کے لیے ہمیشگی نہیں رکھی، سو کیا اگر تو مر جائے تو یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔“ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ زمر (۳۰، ۳۱)۔
پھر دیکھ لو کہ آخرکار ہم نے ان کے ساتھ اپنے وعدے پُورے کیے، اور انہیں اور جس جس کو ہم نے چاہا بچا لیا، اور حد سے گزر جانے والوں کو ہلاک کر دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ہم نے ان سے کیے ہوئے سب وعدے سچے کیے انہیں اور جن جن کو ہم نے چاہا نجات عطا فرمائی اور حد سے نکل جانے والوں کو غارت کر دیا
احمد رضا خان بریلوی
پھر ہم نے اپنا وعدہ انہیں سچا کر دکھایا تو انہیں نجات دی اور جن کو چاہی اور حد سے بڑھنے والوں کو ہلاک کردیا
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم نے ان سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کر دکھایا اور انہیں اور ان کے ساتھ جن کو چاہا بچالیا اور زیادتی کرنے والوں کو تباہ و برباد کردیا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ہم نے ان سے وعدہ سچا کر دیا تو ہم نے انھیں نجات دی اور اسے بھی جسے ہم چاہتے تھے اور ہم نے حد سے بڑھنے والوں کو ہلاک کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے منکر تھے ٭٭
چونکہ مشرکین اس کے منکر تھے کہ انسانوں میں سے کوئی انسان اللہ کا رسول ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے اس عقیدے کی تردید کرتا ہے۔ فرماتا ہے، ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب انسان ہی تھے، ان میں ایک بھی فرشتہ نہ تھا ‘۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» ۱؎ [12-یوسف:109] یعنی ’ تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے اور ان کی طرف وحی نازل فرمائی، سب شہروں کے رہنے والے انسان ہی تھے ‘۔ اور آیت میں ہے «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ» ۱؎ [46-الأحقاف:9] یعنی ’ کہہ دے کہ میں کوئی نیا اور انوکھا اور سب سے پہلا رسول تو ہوں ہی نہیں ‘۔ ان کافروں سے پہلے کے کفار نے بھی نبیوں کے نہ ماننے کا یہی حیلہ اٹھایا تھا جسے قرآن نے بیان فرمایا کہ انہوں نے کہا تھا آیت «أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا» ۱؎ [64-التغابن:6] ’ کیا ایک انسان ہمارا رہبر ہو گا؟ ‘ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ’ اچھا تم اہل علم سے (یعنی یہودیوں اور نصرانیوں سے) اور دوسرے گروہ سے پوچھ لو کہ ان کے پاس انسان ہی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یا فرشتے؟ ‘ یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ انسانوں کے پاس انہی جیسے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے تاکہ لوگ ان کے پاس بیٹھ اٹھ سکیں، ان کی تعلیم حاصل کرسکیں اور ان کی باتیں سن سمجھ سکیں۔ کیا وہ اگلے پیغمبر سب کے سب ایسے جسم کے نہ تھے جو کھانے پینے کی حاجت نہ رکھتے ہوں۔ بلکہ وہ کھانے پینے کے محتاج تھے۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» ۱؎ [25-الفرقان:20] یعنی ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے، وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں آمد و رفت بھی کرتے تھے ‘ یعنی وہ سب انسان تھے، انسانوں کی طرح کھاتے پیتے تھے اور کام کاج، بیوپار، تجارت کے لیے بازاروں میں بھی آنا جانا رکھتے تھے۔ پس یہ بات ان کی پیغمبری کے منافی نہیں۔ جیسے مشرکین کا قول تھا آیت «وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:7، 8] ، یعنی ’ یہ رسول کیسا ہے؟ جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں آتا جاتا ہے۔ اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا کہ وہ بھی اس کے ساتھ اس کے دین کی تبلیغ کرتا۔ اچھا یہ نہیں تو اسے کسی خزانے کا مالک کیوں نہیں کر دیا جاتا یا اسے کوئی باغ ہی دے دیا جاتا جس سے یہ با فراغت کھا پی تو لیتا ‘، الخ۔ اسی طرح اگلے پیغمبر بھی دنیا میں نہ رہے، آئے اور گئے جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ» ۱؎ [21-الأنبياء:34] یعنی ’ تجھ سے پہلے بھی ہم نے کسی انسان کو دوام نہیں بخشا۔ ان کے پاس البتہ وحی الٰہی آتی رہی۔ فرشتہ اللہ کے حکم احکام پہنچا دیا کرتا تھا۔ پھر رب کا جو وعدہ ان سے تھا، وہ سچا ہو کر رہا ‘ یعنی ان کے مخالفین بوجہ اپنے ظلم کے تباہ ہو گئے۔ اور پیغمبر علیہم السلام نجات پاگئے ان کے تابعدار بھی کامیاب ہوئے۔ اور حد سے گزر جانے والوں کو یعنی نبیوں کے جھٹلانے والوں کو اللہ نے ہلاک کر دیا۔
9۔ 1 یعنی وعدے کے مطابق نبیوں کو اور اہل ایمان کو نجات عطا کی اور حد سے تجاوز کرنے والے یعنی کفار و مشرکین کو ہم نے ہلاک کردیا۔
(آیت 9) {ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ …: ” صَدَقَ يَصْدُقُ“} لازم بھی آتا ہے، یعنی سچ کہنا اور متعدی بھی، یعنی سچا کر دکھانا، ”پھر ہم نے ان سے وعدہ سچا کر دیا۔“ {” ثُمَّ “} (پھر) کا لفظ یہ بتانے کے لیے ہے کہ رسولوں کی مخالفت ہوئی، انھیں ستایا گیا، جنگیں بھی ہوئیں مگر پھر آخر کار ہم نے ان سے مدد کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کیا، سو ہم نے رسولوں کو نجات دی اور ان کو بھی جنھیں ہم چاہتے تھے۔ اس میں رسولوں کے پیروکار بھی شامل ہیں اور کفار میں سے وہ بھی جنھیں آئندہ ایمان لانا تھا، یا جن کی اولاد کو ایمان کی توفیق ملنا تھی۔ عربوں پر سب کو ہلاک کرنے والا عذاب نہ آنے میں یہی حکمت تھی۔ ”اور حد سے بڑھنے والوں کو ہلاک کر دیا“ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیروکاروں کے لیے خوش خبری ہے اور کفار کے لیے وعید۔ رسولوں سے کیے گئے مدد کے وعدے اور اسے پورا کرنے کے ذکر پر مشتمل آیات سورۂ مجادلہ (۲۱)، صافات (۷۱ تا ۷۳)، ابراہیم (۱۳، ۱۴) اور یوسف (۱۱۰) میں ملاحظہ فرمائیں۔
لوگو، ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے، کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے تمہاری جانب کتاب نازل فرمائی ہے جس میں تمہارے لئے ذکر ہے، کیا پھر بھی تم عقل نہیں رکھتے؟
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم سے تمہاری طرف ایک کتاب اتاری جس میں تمہاری ناموری ہے تو کیا تمہیں عقل نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ (نہیں سمجھتے؟)۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا ہم نے تمھاری طرف ایک کتاب نازل کی ہے، جس میں تمھارا ذکر ہے، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قدر ناشناس لوگ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر و منزلت پر رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے کہ ’ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ ‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:611/21:] جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:44] ’ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے، «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» ۱؎ [17-الإسراء:17] ’ ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کر دیں ‘۔ اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» ۱؎ [22-الحج:45] ’ کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی ‘۔ ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ ’ اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ ‘ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 10){لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا …:} اس آیت میں کفار کی ان تمام پریشان کن باتوں کا اکٹھا جواب ہے جو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کے متعلق کہتے تھے کہ یہ خوابوں کی پراگندہ باتیں ہیں، یا من گھڑت باتیں ہیں، یا جادو ہے، یا شاعری ہے، تو فرمایا کہ قرآن کا ان میں سے کسی بات سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ ہم نے تو تمھاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمھارا ہی ذکر ہے، تمھارے ہی حالات اور زندگی کے معاملات پر بحث کی گئی ہے اور انھی کے متعلق تمھاری راہنمائی کی گئی ہے۔ اس میں خواب، جادو یا شاعری کی کون سی بات ہے، تو کیا تم سمجھتے نہیں؟ {” فِيْهِ ذِكْرُكُمْ “} کا ایک معنی یہ ہے کہ ایمان لانے کی صورت میں یہ کتاب ساری دنیا میں تمھاری ناموری، شہرت اور عز و شرف کا باعث ہے، جیسا کہ دوسری جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمایا: «{ وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ }» [ الزخرف: ۴۴ ] یعنی بے شک یہ قرآن تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے عز و شرف کا باعث ہے۔ ذکر کا ایک معنی نصیحت بھی ہے، جیسے فرمایا: «{ وَ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِيْنَ }» [ الذاریات: ۵۵ ] ”اور نصیحت کر، کیونکہ یقینا نصیحت ایمان والوں کو نفع دیتی ہے۔“ تو آیت کا ترجمہ یہ ہو گا ”بلاشبہ یقینا ہم نے تمھاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمھاری نصیحت کا سامان ہے۔“ آیت میں ذکر کے تینوں معنی بیک وقت مراد ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان میں کوئی باہمی تعارض نہیں۔
کتنی ہی ظالم بستیاں ہیں جن کو ہم نے پیس کر رکھ دیا اور اُن کے بعد دُوسری کسی قوم کو اُٹھایا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بہت سی بستیاں ہم نے تباه کر دیں جو ﻇالم تھیں اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوم کو پیدا کر دیا
احمد رضا خان بریلوی
اور کتنی ہی بستیاں ہم نے تباہ کردیں کہ وہ ستمگار تھیں اور ان کے بعد اور قوم پیدا کی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کتنی ہی بستیاں ہیں جو ہم نے بریاد کر دیں۔ کیونکہ وہ ظالم تھیں (ان کے باشندے ظالم تھے) اور ان کی جگہ اور قوم کو پیدا کر دیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور کتنی ہی بستیاں ہم نے توڑ کر رکھ دیں جو ظالم تھیں اور ان کے بعد اور لوگ نئے پیدا کر دیے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قدر ناشناس لوگ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر و منزلت پر رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے کہ ’ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ ‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:611/21:] جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:44] ’ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے، «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» ۱؎ [17-الإسراء:17] ’ ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کر دیں ‘۔ اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» ۱؎ [22-الحج:45] ’ کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی ‘۔ ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ ’ اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ ‘ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔
11۔ 1 قَصَمَ کے معنی ہیں توڑ پھوڑ کر رکھ دینا۔ یعنی کتنی ہی بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا، توڑ پھوڑ کر رکھ دیا، جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا ' قوم نوح کے بعد ہم نے کتنی ہی بستیاں ہلاک کردیں (سورة بنی اسرائیل)
(آیت 11) ➊ {وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً: ”قَصْمٌ“} کا معنی کسی سخت چیز کو توڑنا ہے۔ کہا جاتا ہے: {”فُلاَنٌ قَصَمَ ظَهْرَ فُلاَنٍ “} کہ فلاں نے فلاں کی کمر توڑ دی۔ {”اِنْقَصَمَتْ سِنُّهُ“} فلاں کا دانت ٹوٹ گیا۔ {” كَمْ “} یہاں تکثیر کے لیے ہے، ”کتنی ہی بستیاں“ سے مراد بہت سی بستیاں ہیں، اس سے کوئی خاص بستی مراد نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی طرف منسوب وہ روایت موضوع ہے جس میں ان سے نقل کیا گیا ہے کہ اس سے مراد یمن کے شہروں کے لوگ ہیں۔ [ الاستیعاب في بیان الأسباب ] آیت کے الفاظ کے مطابق بھی وہ بستیاں عام ہیں اور کوئی خاص علاقہ مراد نہیں۔ ➋ {وَ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِيْنَ: ” اَلإْنْشَاءُ“} کا معنی نئی چیز بنانا ہے۔ {” بَعْدَهَا “} بعض مقامات پر {” مِنْ بَعْدِهَا “} ہوتا ہے، اس میں کچھ دیر بعد مراد ہوتا ہے، یہاں {” بَعْدَهَا “} کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان بستیوں کی ہلاکت کے بعد ساتھ ہی نئے سرے سے اور قومیں وہاں لے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت اور بعد والی آیات میں اپنا ذکر جمع کے صیغے سے کیا ہے۔ مراد اس سے اپنی عظمت کا اظہار ہے۔
جب اُن کو ہمارا عذاب محسُوس ہوا تو لگے وہاں سے بھاگنے
مولانا محمد جوناگڑھی
جب انہوں نے ہمارے عذاب کا احساس کر لیا، تو لگے اس سے بھاگنے
احمد رضا خان بریلوی
تو جب انہوں نے ہمارا عذاب پایا جبھی وہ اس سے بھاگنے لگے
علامہ محمد حسین نجفی
جب انہوں نے ہمارا عذاب محسوس کیا تو ایک دم وہاں سے بھاگنے لگے۔
عبدالسلام بن محمد
تو جب انھوں نے ہمارا عذاب محسوس کیا اچانک وہ ان (بستیوں) سے بھاگ رہے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قدر ناشناس لوگ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر و منزلت پر رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے کہ ’ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ ‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:611/21:] جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:44] ’ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے، «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» ۱؎ [17-الإسراء:17] ’ ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کر دیں ‘۔ اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» ۱؎ [22-الحج:45] ’ کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی ‘۔ ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ ’ اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ ‘ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔
12۔ 1 احساس کے معنی ہیں، حواس کے ذریعے سے ادراک کرلینا۔ یعنی جب انہوں نے عذاب یا اس کے آثار کو آتے دیکھا یا کڑک گرج کی آواز سن کر معلوم کرلیا، تو اس سے بچنے کے لئے راہ فرار ڈھونڈنے لگے۔ رکض کے معنی ہوتے ہیں آدمی گھوڑے وغیرہ پر بیٹھ کر اس کو دوڑانے کے لیے ایڑ لگائے یہیں سے یہ بھاگنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔
(آیت 12){ فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ …:} احساس کا معنی حواس سے معلوم کرنا، مثلاً دیکھنا یا سننا وغیرہ۔ {” يَرْكُضُوْنَ “ ”رَكَضَ يَرْكُضُ“ } (ن) کا معنی سواری کو تیز دوڑانے کے لیے ایڑ لگانا ہے، مراد تیزی سے بھاگنا ہے، یعنی جب انھوں نے ہمارے عذاب کو اپنے حواس یعنی آنکھوں یا کانوں وغیرہ سے محسوس کیا تو بہت تیزی کے ساتھ بھاگ کھڑے ہوئے۔
(کہا گیا) "بھاگو نہیں، جاؤ اپنے انہی گھروں میں اور عیش کے سامانوں میں جن کے اندر تم چین کر رہے تھے، شاید کہ تم سے پوچھا جائے"
مولانا محمد جوناگڑھی
بھاگ دوڑ نہ کرو اور جہاں تمہیں آسودگی دی گئی تھی وہیں واپس لوٹو اور اپنے مکانات کی طرف جاؤ تاکہ تم سے سوال تو کر لیا جائے
احمد رضا خان بریلوی
نہ بھاگو اور لوٹ کے جاؤ ان آسائشوں کی طرف جو تم کو دی گئیں تھیں اور اپنے مکانوں کی طرف شاید تم سے پوچھنا ہو
علامہ محمد حسین نجفی
(ان سے کہا گیا) بھاگو نہیں (بلکہ) اپنی آسائش کی طرف لوٹو جو تمہیں دی گئی تھی۔ اور اپنے گھروں کی طرف لوٹو۔ تاکہ تم سے پوچھ گچھ کی جائے۔
عبدالسلام بن محمد
بھاگو نہیں اور ان (جگہوں) کی طرف واپس آئو جن میں تمھیں خوش حالی دی گئی تھی اور اپنے گھروں کی طرف، تاکہ تم سے پوچھا جائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قدر ناشناس لوگ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر و منزلت پر رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے کہ ’ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ ‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:611/21:] جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:44] ’ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے، «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» ۱؎ [17-الإسراء:17] ’ ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کر دیں ‘۔ اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» ۱؎ [22-الحج:45] ’ کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی ‘۔ ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ ’ اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ ‘ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔
13۔ 1 یہ فرشتوں نے ندا دی یا مومنوں نے استہزاء کے طور پر کہا۔ 13۔ 2 یعنی جو نعمتیں اور آسائشیں تمہیں حاصل تھیں جو تمہارے کفر اور سرکشی کا باعث تھیں اور وہ مکانات جن میں تم رہتے تھے اور جن کی خوبصورتی اور پائیداری پر فخر کرتے تھے ان کی طرف پلٹو۔ 13۔ 3 اور عذاب کے بعد تمہارا حال احوال تو پوچھ لیا جائے کہ تم پر یہ کیا بیتی، کس طرح بیتی اور کیوں بیتی؟ یہ سوال بطور خیال اور مذاق کے ہے، ورنہ ہلاکت کے شکنجے میں کسے جانے کے بعد وہ جواب دینے کی پوزیشن میں ہی کب رہتے تھے؟
(آیت 13){ لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِيْهِ …:} یعنی ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ انھیں کہا جائے یا فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ بھاگو نہیں، بلکہ ان جگہوں کی طرف جن میں تمھیں خوشحالی دی گئی تھی اور اپنے گھروں کی طرف واپس آؤ، تاکہ تم سے پوچھا جائے کہ ان تمام نعمتوں کی تم نے کیا قدر کی؟ ایک معنی یہ ہے کہ اپنی انھی مجلسوں میں دوبارہ واپس آؤ، تاکہ پہلے کی طرح تمھارے نوکر چاکر ہاتھ باندھ کر تم سے سوال کریں کہ سرکار کیا حکم ہے؟ تیسرا معنی یہ ہے کہ بھاگو نہیں، بلکہ اپنی وہی پنچایتیں اور کونسلیں جما کر بیٹھو، تاکہ لوگ اپنے مسائل کا حل تم سے پوچھنے کے لیے آئیں اور مانگنے والے تم سے مانگنے کے لیے آئیں، جنھیں تم فخر و ریا کے لیے دیا کرتے تھے۔ بہرحال یہ سب کچھ انھیں ڈانٹنے اور ان کا مذاق اڑانے کے لیے کہا جا رہا ہے۔
کہنے لگے "ہائے ہماری کم بختی، بے شک ہم خطا وار تھے"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہنے لگے ہائے ہماری خرابی! بیشک ہم ﻇالم تھے
احمد رضا خان بریلوی
بولے ہائے خرابی ہماری بیشک ہم ظالم تھے
علامہ محمد حسین نجفی
ان لوگوں نے کہا ہائے ہماری بدبختی بےشک ہم ظالم تھے۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا ہائے ہماری بربادی! یقینا ہم ظالم تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قدر ناشناس لوگ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر و منزلت پر رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے کہ ’ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ ‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:611/21:] جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:44] ’ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے، «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» ۱؎ [17-الإسراء:17] ’ ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کر دیں ‘۔ اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» ۱؎ [22-الحج:45] ’ کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی ‘۔ ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ ’ اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ ‘ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 14){ قَالُوْا يٰوَيْلَنَاۤ …:} جب اللہ کا عذاب آ گھیرتا ہے تو بدکار سے بدکار قومیں بھی گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے اسی طرح واویلا مچاتی ہیں، مگر اس وقت گناہوں کے اعتراف اور توبہ کرنے کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ دیکھیے سورۂ مومن (۸۵)۔
اور وہ یہی پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو کھلیان کر دیا، زندگی کا ایک شرارہ تک ان میں نہ رہا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر تو ان کا یہی قول تھا یہاں تک کہ ہم نے انہیں جڑ سے کٹی ہوئی کھیتی اور بجھی پڑی آگ (کی طرح) کر دیا
احمد رضا خان بریلوی
تو وہ یہی پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے انہیں کردیا کاٹے ہوئے بجھے ہوئے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ برابر یہی پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے انہیں کٹی ہوئی کھیتی کی طرح (اور) بجھی ہوئی آگ کی طرح کر دیا۔
عبدالسلام بن محمد
تو ان کی پکار ہمیشہ یہی رہی، یہاں تک کہ ہم نے انھیں کٹے ہوئے، بجھے ہوئے بنا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قدر ناشناس لوگ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر و منزلت پر رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے کہ ’ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ ‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:611/21:] جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:44] ’ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے، «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» ۱؎ [17-الإسراء:17] ’ ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کر دیں ‘۔ اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» ۱؎ [22-الحج:45] ’ کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی ‘۔ ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ ’ اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ ‘ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔
15۔ 1 یعنی جب تک زندگی کے آثار ان کے اندر رہے، وہ اعتراف ظلم کرتے رہے۔ 15۔ 2 حَصِیْد کٹی ہوئی کھیتی کو اور خُمُوْد آگ کے بج جانے کو کہتے ہیں۔ یعنی بالآخر وہ کٹی ہوئی کھیتی اور بھجی ہوئی آگ کی طرح راکھ کا ڈھیر ہوگئے، کوئی تاب و توانائی اور حس و حرکت ان کے اندر نہ رہی۔
(آیت 15){ فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ …: ” حَصِيْدًا “ ”حَصَدَ يَحْصُدُ“} (درانتی سے کاٹنا) سے {”فَعِيْلٌ“} بمعنی مفعول ({مَحْصُوْدٌ}) ہے۔ فعیل کا وزن مذکر و مؤنث اور واحد، تثنیہ، جمع سب کے لیے ایک ہی آتا ہے، معنی کٹے ہوئے۔
ہم نے اِس آسمان اور زمین کو اور جو کچھ بھی ان میں ہے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنایا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیلتے ہوئے نہیں بنایا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے عبث نہ بنائے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کو کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، کھیلتے ہوئے نہیں بنایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں ٭٭
«وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» ۱؎ [53-النجم:31] ’ آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے ‘۔ اس نے انہیں بے کار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ «وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ» ۱؎ [38-ص:27] ’ یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لیے جہنم کی آگ تیار ہے ‘۔ دوسری آیت ۱؎ [21-الأنبياء:17] کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ’ اگر ہم کھیل تماشا ہی چاہتے تو اسے بنا لیتے ‘۔ ایک معنی یہ ہیں کہ ’ اگر ہم عورت کرنا چاہتے ‘۔ «اللَّهْوُ» کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/18:] یعنی یہ دونوں معنی ہیں، ’ ہم اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے، کسی کو بنا لیتے ‘۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ’ اگر ہم اولاد چاہتے ‘۔ لیکن یہ دونوں معنی آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ بیوی کے ساتھ ہی اولاد ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» ۱؎ [39-الزمر:4] ، یعنی ’ اگر اللہ کو یہی منظور ہوتا کہ اس کی اولاد ہو تو اپنی مخلوق میں سے کسی اعلیٰ درجے کی مخلوق کو یہ منصب عطا فرماتا لیکن وہ اس بات سے پاک اور بہت دور ہے ‘۔ اس کی توحید اور غلبہ کے خلاف ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ پس وہ مطلق اولاد سے پاک ہے نہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے نہ عزیر علیہم السلام۔ نہ فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ «سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا» ۱؎ [17-الاسراء:43] ان عیسائیوں، یہودیوں اور کفار مکہ کی ان لغویات اور تہمت سے اللہ واحد قہار پاک ہے اور بلند ہے۔ آیت «إِن كُنَّا فَاعِلِينَ» میں «إِن» کو نافیہ کہا گیا ہے یعنی ’ ہم یہ کرنے والے ہی نہ تھے ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:421/18:] بلکہ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”قرآن مجید میں ہر جگہ ان نفی کے لیے ہی ہے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:620/5:]
فرشتوں کا تذکرہ ٭٭
’ ہم حق کو واضح کرتے ہیں، اسے کھول کر بیان کرتے ہیں جس سے باطل دب جاتا ہے، ٹوٹ کر چورا ہو جاتا ہے اور فوراً ہٹ جاتا ہے۔ وہ ہے بھی اسی لائق، وہ ٹھہر نہیں سکتا نہ جم سکتا ہے نہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اللہ کے لیے جو لوگ اولادیں ٹھہرا رہے ہیں، ان کے اس واہی قول کی وجہ سے ان کے لیے ویل ہے انہیں پوری خرابی ہے ‘۔ پھر ارشاد فرماتا ہے کہ ’ جن فرشتوں کو تم اللہ کی لڑکیاں کہتے ہو، ان کا حال سنو اور اللہ کی الوہیت کی عظمت دیکھو۔ آسمان و زمین کی ہرچیز اسی کی ملکیت میں ہے۔ فرشتے اس کی عبادت میں مشغول ہیں۔ ناممکن ہے کہ کسی وقت سرکشی کریں ‘۔ «لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّـهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا» ۱؎ [4-النساء:172] ’ نہ مسیح کو بندہ رب ہونے سے شرم، نہ فرشتوں کو اللہ کی عبادت سے عار، نہ ان میں سے کوئی تکبر کرے یا عبادت سے جی چرائے اور جو کوئی ایسا کرے تو ایک وقت آ رہا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے میدان محشر میں سب کے ساتھ ہو گا اور اپنا کیا بھرے گا ‘۔ یہ بزرگ فرشتے اس کی عبادت سے تھکتے بھی نہیں، گھبراتے بھی نہیں، سستی اور کاہلی ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ دن رات اللہ کی فرماں برداری میں، اس کی عبادت میں، اس کی تسبیح و اطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ نیت اور عمل دونوں موجود ہیں۔ «لَّا يَعْصُونَ اللَّـهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ» ۱؎ [66-التحریم:6] ’ اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے نہ کسی فرمان کی تعمیل سے رکتے ہیں ‘۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں تھے کہ فرمایا: { لوگو! جو میں سنتا ہوں کیا تم بھی سنتے ہو؟ } سب نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو کچھ بھی نہیں سن رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں آسمانوں کی چرچراہٹ سن رہا ہوں اور حق تو یہ ہے کہ اسے چرچرانا ہی چاہیئے، اس لیے کہ اس میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کسی نہ کسی فرشتے کا سر سجدے میں نہ ہو } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060،] عبداللہ بن حارث بن نوفل فرماتے ہیں، میں کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا، میں نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا کہ بولنا چالنا، اللہ کا پیغام لے کر جانا، عمل کرنا یہ بھی انہیں تسبیح سے نہیں روکتا؟ میرے اس سوال پر چوکنے ہوکر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ بچہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا بنو عبدالمطلب میں سے ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے میری پیشانی چوم لی اور فرمایا، ”پیارے بچے تسبیح ان فرشتوں کے لیے ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لیے سانس لینا۔ دیکھو چلتے پھرتے، بولتے چالتے تمہارا سانس برابر آتا جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح فرشتوں کی تسبیح ہر وقت جاری رہتی ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/17:]
16۔ 1 بلکہ اس کے کئی مقاصد اور حکمتیں ہیں، مثلاً بندے میرا ذکر و شکر کریں، نیکوں کو نیکیوں کی جزا اور بدوں کو بدیوں کی سزا دی جائے۔ وغیرہ۔
(آیت 16){ وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ …:} پچھلی آیات میں ظالم بستیوں کو برباد کرنے کا ذکر فرمایا تھا، اب اس کی حکمت بیان فرمائی کہ ایسا نہیں ہے کہ ہم نے اس زمین و آسمان کو کھیلتے ہوئے پیدا کر دیا ہے کہ لوگ جیسے چاہیں ظلم و ستم کرتے پھریں اور ان سے کوئی باز پرس نہ ہو۔ بلکہ ان کے پیدا کرنے میں ہماری بے شمار حکمتیں اور مصلحتیں ہیں اور کائنات میں ہر عمل کی جزا یا سزا کا عمل جاری ہے۔ لہٰذا اگر ان ظالموں کو ہلاک کیا گیا تو یہ عدل و انصاف اور جزا و سزا کے قانون کے عین مطابق تھا۔ تمھیں چاہیے کہ آنے والی دوسری زندگی میں جواب دہی کے لیے تیاری کرو۔
اگر ہم کوئی کھلونا بنانا چاہتے اور بس یہی کچھ ہمیں کرنا ہوتا تو اپنے ہی پاس سے کر لیتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر ہم یوں ہی کھیل تماشے کا اراده کرتے تو اسے اپنے پاس سے ہی بنا لیتے، اگر ہم کرنے والے ہی ہوتے
احمد رضا خان بریلوی
اگر ہم کوئی بہلاوا اختیار کرنا چاہتے تو اپنے پاس سے اختیار کرتے اگر ہمیں کرنا ہوتا
علامہ محمد حسین نجفی
اگر ہم کوئی دل بستگی کا سامان چاہتے تو اپنے پاس سے ہی کر لیتے مگر ہم ایسا کرنے والے نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اگر ہم چاہتے کہ کوئی کھیل بنائیں تو یقینا اسے اپنے پاس سے بنا لیتے، اگر ہم کرنے والے ہوتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں ٭٭
«وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» ۱؎ [53-النجم:31] ’ آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے ‘۔ اس نے انہیں بے کار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ «وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ» ۱؎ [38-ص:27] ’ یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لیے جہنم کی آگ تیار ہے ‘۔ دوسری آیت ۱؎ [21-الأنبياء:17] کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ’ اگر ہم کھیل تماشا ہی چاہتے تو اسے بنا لیتے ‘۔ ایک معنی یہ ہیں کہ ’ اگر ہم عورت کرنا چاہتے ‘۔ «اللَّهْوُ» کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/18:] یعنی یہ دونوں معنی ہیں، ’ ہم اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے، کسی کو بنا لیتے ‘۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ’ اگر ہم اولاد چاہتے ‘۔ لیکن یہ دونوں معنی آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ بیوی کے ساتھ ہی اولاد ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» ۱؎ [39-الزمر:4] ، یعنی ’ اگر اللہ کو یہی منظور ہوتا کہ اس کی اولاد ہو تو اپنی مخلوق میں سے کسی اعلیٰ درجے کی مخلوق کو یہ منصب عطا فرماتا لیکن وہ اس بات سے پاک اور بہت دور ہے ‘۔ اس کی توحید اور غلبہ کے خلاف ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ پس وہ مطلق اولاد سے پاک ہے نہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے نہ عزیر علیہم السلام۔ نہ فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ «سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا» ۱؎ [17-الاسراء:43] ان عیسائیوں، یہودیوں اور کفار مکہ کی ان لغویات اور تہمت سے اللہ واحد قہار پاک ہے اور بلند ہے۔ آیت «إِن كُنَّا فَاعِلِينَ» میں «إِن» کو نافیہ کہا گیا ہے یعنی ’ ہم یہ کرنے والے ہی نہ تھے ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:421/18:] بلکہ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”قرآن مجید میں ہر جگہ ان نفی کے لیے ہی ہے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:620/5:]
فرشتوں کا تذکرہ ٭٭
’ ہم حق کو واضح کرتے ہیں، اسے کھول کر بیان کرتے ہیں جس سے باطل دب جاتا ہے، ٹوٹ کر چورا ہو جاتا ہے اور فوراً ہٹ جاتا ہے۔ وہ ہے بھی اسی لائق، وہ ٹھہر نہیں سکتا نہ جم سکتا ہے نہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اللہ کے لیے جو لوگ اولادیں ٹھہرا رہے ہیں، ان کے اس واہی قول کی وجہ سے ان کے لیے ویل ہے انہیں پوری خرابی ہے ‘۔ پھر ارشاد فرماتا ہے کہ ’ جن فرشتوں کو تم اللہ کی لڑکیاں کہتے ہو، ان کا حال سنو اور اللہ کی الوہیت کی عظمت دیکھو۔ آسمان و زمین کی ہرچیز اسی کی ملکیت میں ہے۔ فرشتے اس کی عبادت میں مشغول ہیں۔ ناممکن ہے کہ کسی وقت سرکشی کریں ‘۔ «لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّـهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا» ۱؎ [4-النساء:172] ’ نہ مسیح کو بندہ رب ہونے سے شرم، نہ فرشتوں کو اللہ کی عبادت سے عار، نہ ان میں سے کوئی تکبر کرے یا عبادت سے جی چرائے اور جو کوئی ایسا کرے تو ایک وقت آ رہا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے میدان محشر میں سب کے ساتھ ہو گا اور اپنا کیا بھرے گا ‘۔ یہ بزرگ فرشتے اس کی عبادت سے تھکتے بھی نہیں، گھبراتے بھی نہیں، سستی اور کاہلی ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ دن رات اللہ کی فرماں برداری میں، اس کی عبادت میں، اس کی تسبیح و اطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ نیت اور عمل دونوں موجود ہیں۔ «لَّا يَعْصُونَ اللَّـهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ» ۱؎ [66-التحریم:6] ’ اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے نہ کسی فرمان کی تعمیل سے رکتے ہیں ‘۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں تھے کہ فرمایا: { لوگو! جو میں سنتا ہوں کیا تم بھی سنتے ہو؟ } سب نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو کچھ بھی نہیں سن رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں آسمانوں کی چرچراہٹ سن رہا ہوں اور حق تو یہ ہے کہ اسے چرچرانا ہی چاہیئے، اس لیے کہ اس میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کسی نہ کسی فرشتے کا سر سجدے میں نہ ہو } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060،] عبداللہ بن حارث بن نوفل فرماتے ہیں، میں کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا، میں نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا کہ بولنا چالنا، اللہ کا پیغام لے کر جانا، عمل کرنا یہ بھی انہیں تسبیح سے نہیں روکتا؟ میرے اس سوال پر چوکنے ہوکر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ بچہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا بنو عبدالمطلب میں سے ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے میری پیشانی چوم لی اور فرمایا، ”پیارے بچے تسبیح ان فرشتوں کے لیے ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لیے سانس لینا۔ دیکھو چلتے پھرتے، بولتے چالتے تمہارا سانس برابر آتا جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح فرشتوں کی تسبیح ہر وقت جاری رہتی ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/17:]
17۔ 1 یعنی اپنے پاس سے ہی کچھ چیزیں کھیل کے لئے بنا لیتے اور اپنا شوق پورا کرلیتے۔ اتنی لمبی چوڑی کائنات بنانے کی اور پھر میں ذی روح اور ذی شعور مخلوق بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ 17۔ 2 ' اگر ہم کرنے والے ہی ہوتے ' عربی اسلوب کے اعتبار سے یہ زیادہ ہے بہ نسبت اس ترجمہ کے کہ ' ہم کرنے والے ہی نہیں ' صحیح ہے (فتح القدیر)
(آیت 17) ➊ { لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا …:} یعنی بفرض محال اگر ہم اپنی دل لگی اور کھیل کے لیے کھیلنے کی کوئی چیز بناتے تو اپنے پاس بنا لیتے اور تمھیں اس کا پتا نہ چلنے دیتے، کیونکہ لہو و لعب تو نقص اور خامی کی بات ہے، اس لیے ہم اسے کسی کی نگاہ کے سامنے نہ آنے دیتے۔ تو یہ آسمان و زمین جو ہر وقت تمھارے سامنے ہیں، ہم کھیل اور دل لگی کے لیے کیسے بنا سکتے ہیں؟ یہ ساری بات بطور فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ کس قدر رحیم و کریم ہے کہ اس نے انسان کی چھوٹی عقل کو سمجھانے اور ہر طرح سے مطمئن کرنے کے لیے اس کی ذہنی سطح کے مطابق بات کی ہے، ورنہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کرے، کیونکہ لفظ {”لَوْ “} ہوتا ہی محال چیز کے بیان کے لیے ہے۔ ➋ طبری نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد سے {” لَاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا “} کا معنی نقل کیا ہے کہ ہم اس لہو و لعب کو اپنے پاس بنا لیتے، نہ جنت اور جہنم پیدا کرتے اور نہ ہی موت اور قیامت۔ یعنی پھر زمین و آسمان، انسان، جن اوران کی جزا و سزا کے سلسلے کو پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ دیکھیے سورۂ مومنون (۱۱۵)، سورۂ صٓ (۲۷) اور سورۂ ملک (۲)۔
مگر ہم تو باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا سر توڑ دیتی ہے اور وہ دیکھتے دیکھتے مِٹ جاتا ہے اور تمہارے لیے تباہی ہے اُن باتوں کی وجہ سے جو تم بناتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر پھینک مارتے ہیں پس سچ جھوٹ کا سر توڑ دیتا ہے اور وه اسی وقت نابود ہو جاتا ہے، تم جو باتیں بناتے ہو وه تمہاری لئے باعﺚ خرابی ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں تو وہ اس کا بھیجہ نکال دیتا ہے تو جبھی وہ مٹ کر رہ جاتا ہے اور تمہاری خرابی ہے ان باتوں سے جو بناتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ ہم باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا بھیجا نکال دیتی ہے (سر کچل دیتی ہے) پھر یکایک باطل مٹ جاتا ہے۔ افسوس ہے تم پر ان باتوں کی وجہ سے جو تم بناتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں تو وہ اس کا دماغ کچل دیتا ہے، پس اچانک وہ مٹنے والا ہوتا ہے اور تمھارے لیے اس کی وجہ سے بربادی ہے جو تم بیان کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں ٭٭
«وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» ۱؎ [53-النجم:31] ’ آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے ‘۔ اس نے انہیں بے کار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ «وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ» ۱؎ [38-ص:27] ’ یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لیے جہنم کی آگ تیار ہے ‘۔ دوسری آیت ۱؎ [21-الأنبياء:17] کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ’ اگر ہم کھیل تماشا ہی چاہتے تو اسے بنا لیتے ‘۔ ایک معنی یہ ہیں کہ ’ اگر ہم عورت کرنا چاہتے ‘۔ «اللَّهْوُ» کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/18:] یعنی یہ دونوں معنی ہیں، ’ ہم اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے، کسی کو بنا لیتے ‘۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ’ اگر ہم اولاد چاہتے ‘۔ لیکن یہ دونوں معنی آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ بیوی کے ساتھ ہی اولاد ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» ۱؎ [39-الزمر:4] ، یعنی ’ اگر اللہ کو یہی منظور ہوتا کہ اس کی اولاد ہو تو اپنی مخلوق میں سے کسی اعلیٰ درجے کی مخلوق کو یہ منصب عطا فرماتا لیکن وہ اس بات سے پاک اور بہت دور ہے ‘۔ اس کی توحید اور غلبہ کے خلاف ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ پس وہ مطلق اولاد سے پاک ہے نہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے نہ عزیر علیہم السلام۔ نہ فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ «سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا» ۱؎ [17-الاسراء:43] ان عیسائیوں، یہودیوں اور کفار مکہ کی ان لغویات اور تہمت سے اللہ واحد قہار پاک ہے اور بلند ہے۔ آیت «إِن كُنَّا فَاعِلِينَ» میں «إِن» کو نافیہ کہا گیا ہے یعنی ’ ہم یہ کرنے والے ہی نہ تھے ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:421/18:] بلکہ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”قرآن مجید میں ہر جگہ ان نفی کے لیے ہی ہے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:620/5:]
فرشتوں کا تذکرہ ٭٭
’ ہم حق کو واضح کرتے ہیں، اسے کھول کر بیان کرتے ہیں جس سے باطل دب جاتا ہے، ٹوٹ کر چورا ہو جاتا ہے اور فوراً ہٹ جاتا ہے۔ وہ ہے بھی اسی لائق، وہ ٹھہر نہیں سکتا نہ جم سکتا ہے نہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اللہ کے لیے جو لوگ اولادیں ٹھہرا رہے ہیں، ان کے اس واہی قول کی وجہ سے ان کے لیے ویل ہے انہیں پوری خرابی ہے ‘۔ پھر ارشاد فرماتا ہے کہ ’ جن فرشتوں کو تم اللہ کی لڑکیاں کہتے ہو، ان کا حال سنو اور اللہ کی الوہیت کی عظمت دیکھو۔ آسمان و زمین کی ہرچیز اسی کی ملکیت میں ہے۔ فرشتے اس کی عبادت میں مشغول ہیں۔ ناممکن ہے کہ کسی وقت سرکشی کریں ‘۔ «لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّـهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا» ۱؎ [4-النساء:172] ’ نہ مسیح کو بندہ رب ہونے سے شرم، نہ فرشتوں کو اللہ کی عبادت سے عار، نہ ان میں سے کوئی تکبر کرے یا عبادت سے جی چرائے اور جو کوئی ایسا کرے تو ایک وقت آ رہا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے میدان محشر میں سب کے ساتھ ہو گا اور اپنا کیا بھرے گا ‘۔ یہ بزرگ فرشتے اس کی عبادت سے تھکتے بھی نہیں، گھبراتے بھی نہیں، سستی اور کاہلی ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ دن رات اللہ کی فرماں برداری میں، اس کی عبادت میں، اس کی تسبیح و اطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ نیت اور عمل دونوں موجود ہیں۔ «لَّا يَعْصُونَ اللَّـهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ» ۱؎ [66-التحریم:6] ’ اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے نہ کسی فرمان کی تعمیل سے رکتے ہیں ‘۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں تھے کہ فرمایا: { لوگو! جو میں سنتا ہوں کیا تم بھی سنتے ہو؟ } سب نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو کچھ بھی نہیں سن رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں آسمانوں کی چرچراہٹ سن رہا ہوں اور حق تو یہ ہے کہ اسے چرچرانا ہی چاہیئے، اس لیے کہ اس میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کسی نہ کسی فرشتے کا سر سجدے میں نہ ہو } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060،] عبداللہ بن حارث بن نوفل فرماتے ہیں، میں کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا، میں نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا کہ بولنا چالنا، اللہ کا پیغام لے کر جانا، عمل کرنا یہ بھی انہیں تسبیح سے نہیں روکتا؟ میرے اس سوال پر چوکنے ہوکر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ بچہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا بنو عبدالمطلب میں سے ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے میری پیشانی چوم لی اور فرمایا، ”پیارے بچے تسبیح ان فرشتوں کے لیے ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لیے سانس لینا۔ دیکھو چلتے پھرتے، بولتے چالتے تمہارا سانس برابر آتا جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح فرشتوں کی تسبیح ہر وقت جاری رہتی ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/17:]
18۔ 1 یعنی تخلیق کائنات کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ ہے کہ یہاں حق و باطل کی جو معرکہ آرائی اور خیرو شر کے درمیان جو تصادم ہے، اس میں ہم حق اور خیر کو غالب اور باطل اور شر کو مغلوب کریں چناچہ ہم حق کو باطل پر یا سچ کو جھوٹ پر یا خیر کو شر پر مارتے ہیں، جس سے باطل، جھوٹ اور شر کا بھیجہ نکل جاتا ہے اور چشم زدن میں وہ نابود ہوجاتا ہے۔ 18۔ 2 یعنی رب کی طرف سے تم جو بےسرو پا باتیں منسوب کرتے یا اس کی بابت باور کراتے ہو، (مثلاً یہ کائنات ایک کھیل ہے، ایک کھلنڈرے کا شوق فضول ہے وغیرہ) یہ تمہاری ہلاکت کا باعث ہے۔ کیونکہ اسے کھیل تماشہ سمجھنے کی وجہ سے تم حق سے گریز اور باطل کو اختیار کرنے میں کوئی تامل اور خوف محسوس نہیں کرتے، جس کا نتیجہ بالآخر تمہاری بربادی اور ہلاکت ہی ہے۔
(آیت 18) ➊ {بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ …: ” قَذَفَ يَقْذِفُ“} (ض) کا معنی کسی چیز کو سختی کے ساتھ پھینک مارنا۔ {” فَيَدْمَغُهٗ “ ” دَمَغَ يَدْمَغُ “} (ف) کسی چیز کا دماغ کو توڑنا، یہاں تک کہ اس کی وہ جھلی پھٹ جائے جس کے پھٹنے سے روح نکل جاتی ہے۔ {”زَاهِقٌ “ ”زُهُوْقٌ“} کا معنی کسی چیز کا مکمل طور پر ختم ہو جانا ہے۔ یعنی ہم نے اس کائنات کو بے مقصد نہیں بنایا، بلکہ اس میں حق و باطل کا معرکہ جاری ہے اور اس کا نظام ہم نے اس طرح بنایا ہے کہ باطل نے جب بھی سر اٹھایا حق نے ضرب کاری لگا کر اسے نیست و نابود کر دیا۔ اسی طرح اب بھی بالآخر باطل فنا ہو جائے گا اور حق قائم و دائم رہے گا۔ ➋ {” فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ “} میں {”إِذَا“} فجائیہ یعنی اچانک کے معنی میں ہے اور{ ” هُوَ زَاهِقٌ “} جملہ اسمیہ ہے جو استمرار کے لیے ہے اور جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ باطل نہایت تیزی کے ساتھ مٹتا ہے اور اس کا مٹنا عارضی نہیں دائمی ہوتا ہے۔ (آلوسی) ➌ { وَ لَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ:} یعنی اگر تم یہ کہو گے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا یہ سلسلہ ایک کھیل بنایا ہے اور دوبارہ زندہ ہونا، حساب کتاب اور جنت و دوزخ سب فرضی قصے کہانیاں ہیں تو تمھارے اس بیان کا نتیجہ تمھاری بربادی کی صورت میں ظاہر ہو گا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
زمین اور آسمان میں جو مخلوق بھی ہے اللہ کی ہے اور جو (فرشتے) اس کے پاس ہیں وہ نہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر اُس کی بندگی سے سرتابی کرتے ہیں اور نہ ملول ہوتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
آسمانوں اور زمین میں جو ہے اسی اللہ کا ہے اور جو اس کے پاس ہیں وه اس کی عبادت سے نہ سرکشی کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اسی کے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں اور اس کے پاس والے اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور نہ تھکیں،
علامہ محمد حسین نجفی
جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین ہے سب اسی کیلئے ہے اور جو اس کی بارگاہ میں ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر و سرکشی نہیں کرتے اور نہ ہی تھکتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی کا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو اس کے پاس ہیں وہ نہ اس کی عبادت سے تکبر کرتے ہیں اور نہ زرہ برابر تھکتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں ٭٭
«وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» ۱؎ [53-النجم:31] ’ آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے ‘۔ اس نے انہیں بے کار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ «وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ» ۱؎ [38-ص:27] ’ یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لیے جہنم کی آگ تیار ہے ‘۔ دوسری آیت ۱؎ [21-الأنبياء:17] کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ’ اگر ہم کھیل تماشا ہی چاہتے تو اسے بنا لیتے ‘۔ ایک معنی یہ ہیں کہ ’ اگر ہم عورت کرنا چاہتے ‘۔ «اللَّهْوُ» کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/18:] یعنی یہ دونوں معنی ہیں، ’ ہم اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے، کسی کو بنا لیتے ‘۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ’ اگر ہم اولاد چاہتے ‘۔ لیکن یہ دونوں معنی آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ بیوی کے ساتھ ہی اولاد ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» ۱؎ [39-الزمر:4] ، یعنی ’ اگر اللہ کو یہی منظور ہوتا کہ اس کی اولاد ہو تو اپنی مخلوق میں سے کسی اعلیٰ درجے کی مخلوق کو یہ منصب عطا فرماتا لیکن وہ اس بات سے پاک اور بہت دور ہے ‘۔ اس کی توحید اور غلبہ کے خلاف ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ پس وہ مطلق اولاد سے پاک ہے نہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے نہ عزیر علیہم السلام۔ نہ فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ «سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا» ۱؎ [17-الاسراء:43] ان عیسائیوں، یہودیوں اور کفار مکہ کی ان لغویات اور تہمت سے اللہ واحد قہار پاک ہے اور بلند ہے۔ آیت «إِن كُنَّا فَاعِلِينَ» میں «إِن» کو نافیہ کہا گیا ہے یعنی ’ ہم یہ کرنے والے ہی نہ تھے ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:421/18:] بلکہ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”قرآن مجید میں ہر جگہ ان نفی کے لیے ہی ہے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:620/5:]
فرشتوں کا تذکرہ ٭٭
’ ہم حق کو واضح کرتے ہیں، اسے کھول کر بیان کرتے ہیں جس سے باطل دب جاتا ہے، ٹوٹ کر چورا ہو جاتا ہے اور فوراً ہٹ جاتا ہے۔ وہ ہے بھی اسی لائق، وہ ٹھہر نہیں سکتا نہ جم سکتا ہے نہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اللہ کے لیے جو لوگ اولادیں ٹھہرا رہے ہیں، ان کے اس واہی قول کی وجہ سے ان کے لیے ویل ہے انہیں پوری خرابی ہے ‘۔ پھر ارشاد فرماتا ہے کہ ’ جن فرشتوں کو تم اللہ کی لڑکیاں کہتے ہو، ان کا حال سنو اور اللہ کی الوہیت کی عظمت دیکھو۔ آسمان و زمین کی ہرچیز اسی کی ملکیت میں ہے۔ فرشتے اس کی عبادت میں مشغول ہیں۔ ناممکن ہے کہ کسی وقت سرکشی کریں ‘۔ «لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّـهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا» ۱؎ [4-النساء:172] ’ نہ مسیح کو بندہ رب ہونے سے شرم، نہ فرشتوں کو اللہ کی عبادت سے عار، نہ ان میں سے کوئی تکبر کرے یا عبادت سے جی چرائے اور جو کوئی ایسا کرے تو ایک وقت آ رہا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے میدان محشر میں سب کے ساتھ ہو گا اور اپنا کیا بھرے گا ‘۔ یہ بزرگ فرشتے اس کی عبادت سے تھکتے بھی نہیں، گھبراتے بھی نہیں، سستی اور کاہلی ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ دن رات اللہ کی فرماں برداری میں، اس کی عبادت میں، اس کی تسبیح و اطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ نیت اور عمل دونوں موجود ہیں۔ «لَّا يَعْصُونَ اللَّـهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ» ۱؎ [66-التحریم:6] ’ اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے نہ کسی فرمان کی تعمیل سے رکتے ہیں ‘۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں تھے کہ فرمایا: { لوگو! جو میں سنتا ہوں کیا تم بھی سنتے ہو؟ } سب نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو کچھ بھی نہیں سن رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں آسمانوں کی چرچراہٹ سن رہا ہوں اور حق تو یہ ہے کہ اسے چرچرانا ہی چاہیئے، اس لیے کہ اس میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کسی نہ کسی فرشتے کا سر سجدے میں نہ ہو } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060،] عبداللہ بن حارث بن نوفل فرماتے ہیں، میں کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا، میں نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا کہ بولنا چالنا، اللہ کا پیغام لے کر جانا، عمل کرنا یہ بھی انہیں تسبیح سے نہیں روکتا؟ میرے اس سوال پر چوکنے ہوکر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ بچہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا بنو عبدالمطلب میں سے ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے میری پیشانی چوم لی اور فرمایا، ”پیارے بچے تسبیح ان فرشتوں کے لیے ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لیے سانس لینا۔ دیکھو چلتے پھرتے، بولتے چالتے تمہارا سانس برابر آتا جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح فرشتوں کی تسبیح ہر وقت جاری رہتی ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/17:]
19۔ 1 سب اسی کی ملک اور اسی کے غلام ہیں، پھر جب تم کسی غلام کو اپنا بیٹا اور کسی لونڈی کو بیوی بنانے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ تو اللہ تعالیٰ اپنے مملوکین اور غلاموں میں سے بعض کو بیٹا اور بعض کو بیوی کس طرح بنا سکتا ہے؟ 19۔ 2 اس سے مراد فرشتے ہیں، وہ بھی اس کے غلام اور بندے ہیں، ان الفاظ سے ان کا شرف و اکرام بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اس کی بارگاہ کے مقربین ہیں۔ اس کی بیٹیاں نہیں ہیں جیسا کہ مشرکین کا عقیدہ تھا۔
(آیت 19) ➊ { وَ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ: ” مَنْ “} کا لفظ عموماً عقل والی مخلوقات کے لیے استعمال ہوتا ہے، اگرچہ یہاں زمین و آسمان کے عقلاء کو اللہ تعالیٰ کی ملکیت قرار دیا گیا ہے مگر اس میں آسمان و زمین، ان کے اندر پائے جانے والے تمام اَجرام فلکی اور دوسری تمام مخلوقات بھی شامل ہیں اور وہ سب اللہ کی ملکیت ہیں۔ کیونکہ یہ زمین آسمانوں کے اندر ہے اور ہر آسمان اپنے سے اوپر والے آسمان کے اندر ہے اور سب سے اوپر والا آسمان عرش کے اندر ہے اور اللہ سبحانہ عرش عظیم کا مالک ہے، جیسا کہ آگے آیت (۲۲) میں آ رہا ہے: «{فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُوْنَ}» تو اس سے عقلاً یہ بات ثابت ہوئی کہ وہ ہر چیز کا مالک ہے اور ملک یعنی بادشاہ بھی۔ (بقاعی) ➋ {وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ:} یعنی عرش اٹھانے والے (حاقہ: ۱۷) اور دوسرے فرشتے اور اللہ کی وہ مخلوق جسے وہی جانتا ہے۔ یعنی اتنی عظمت والے فرشتے جب ہمیشہ اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں اور اپنے آپ کو اس سے بڑا نہیں سمجھتے تو پھر انسان کی کیا بساط ہے کہ اپنے آپ کو اس کی عبادت سے بالا تر سمجھے؟ ➌ {وَ لَا يَسْتَحْسِرُوْنَ: ”حَسَرَ يَحْسِرُ حُسُوْرًا (ض)“} تھک کر رہ جانا۔ سورۂ ملک میں ہے: «{يَنْقَلِبْ اِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِيْرٌ}» [ الملک: ۴ ] ”نظر ناکام ہو کر تیری طرف پلٹ آئے گی اور وہ تھکی ہوئی ہو گی۔“ یہاں ایک سوال ہے کہ {”يَسْتَحْسِرُوْنَ “} باب استفعال سے ہے جس میں طلب کا معنی پایا جاتا ہے، یا حروف میں اضافے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ ہو جاتا ہے، یہاں باب استفعال لانے میں کیا نکتہ ہے؟ اہلِ علم نے اس کے مختلف جواب دیے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ {” وَ لَا يَسْتَحْسِرُوْنَ أَيْ لَا يَطْلُبُوْنَ أَنْ يَّنْقَطِعُوْا عَنْ ذٰلِكَ فَأَنْتَجَ ذٰلِكَ قَوْلُهُ ” يُسَبِّحُوْنَ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ “} ”یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے تھکنا چاہتے ہی نہیں اور انھیں اس کی طلب ہی نہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ رات دن اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں، وقفہ نہیں کرتے۔“ (بقاعی) اس کا سب سے اچھا جواب وہ ہے جو ابوالسعود اور آلوسی رحمھما اللہ نے دیا ہے کہ جب حرفِ نفی مبالغہ کے لفظ پر آئے تو مراد مبالغہ کی نفی نہیں ہوتی بلکہ نفی میں مبالغہ ہوتا ہے، جیسا کہ {” وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ “} کا معنی یہ نہیں ہو گا کہ ”تیرا رب بندوں پر بہت زیادہ ظلم کرنے والا نہیں“ بلکہ یہ ہو گا کہ ”تیرا رب بندوں پر کچھ بھی ظلم کرنے والا نہیں۔“ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۸۲) اور انفال (۵۱) چنانچہ {” وَ لَا يَسْتَحْسِرُوْنَ“} کا معنی ہوگا ”اور وہ ذرا برابر نہیں تھکتے۔“ {” لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ“} کی بھی یہی توجیہیں ہیں۔ اس کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ نحل (۴۹، ۵۰) اور نساء (۱۷۲)۔
وه دن رات تسبیح بیان کرتے ہیں اور ذرا سی بھی سستی نہیں کرتے
احمد رضا خان بریلوی
رات دن اس کی پاکی بولتے ہیں اور سستی نہیں کرتے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے ہیں کبھی ملول ہوکر وقفہ نہیں کرتے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ رات اور دن تسبیح کرتے ہیں، وقفہ نہیں کرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں ٭٭
«وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» ۱؎ [53-النجم:31] ’ آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے ‘۔ اس نے انہیں بے کار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ «وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ» ۱؎ [38-ص:27] ’ یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لیے جہنم کی آگ تیار ہے ‘۔ دوسری آیت ۱؎ [21-الأنبياء:17] کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ’ اگر ہم کھیل تماشا ہی چاہتے تو اسے بنا لیتے ‘۔ ایک معنی یہ ہیں کہ ’ اگر ہم عورت کرنا چاہتے ‘۔ «اللَّهْوُ» کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/18:] یعنی یہ دونوں معنی ہیں، ’ ہم اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے، کسی کو بنا لیتے ‘۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ’ اگر ہم اولاد چاہتے ‘۔ لیکن یہ دونوں معنی آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ بیوی کے ساتھ ہی اولاد ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» ۱؎ [39-الزمر:4] ، یعنی ’ اگر اللہ کو یہی منظور ہوتا کہ اس کی اولاد ہو تو اپنی مخلوق میں سے کسی اعلیٰ درجے کی مخلوق کو یہ منصب عطا فرماتا لیکن وہ اس بات سے پاک اور بہت دور ہے ‘۔ اس کی توحید اور غلبہ کے خلاف ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ پس وہ مطلق اولاد سے پاک ہے نہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے نہ عزیر علیہم السلام۔ نہ فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ «سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا» ۱؎ [17-الاسراء:43] ان عیسائیوں، یہودیوں اور کفار مکہ کی ان لغویات اور تہمت سے اللہ واحد قہار پاک ہے اور بلند ہے۔ آیت «إِن كُنَّا فَاعِلِينَ» میں «إِن» کو نافیہ کہا گیا ہے یعنی ’ ہم یہ کرنے والے ہی نہ تھے ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:421/18:] بلکہ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”قرآن مجید میں ہر جگہ ان نفی کے لیے ہی ہے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:620/5:]
فرشتوں کا تذکرہ ٭٭
’ ہم حق کو واضح کرتے ہیں، اسے کھول کر بیان کرتے ہیں جس سے باطل دب جاتا ہے، ٹوٹ کر چورا ہو جاتا ہے اور فوراً ہٹ جاتا ہے۔ وہ ہے بھی اسی لائق، وہ ٹھہر نہیں سکتا نہ جم سکتا ہے نہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اللہ کے لیے جو لوگ اولادیں ٹھہرا رہے ہیں، ان کے اس واہی قول کی وجہ سے ان کے لیے ویل ہے انہیں پوری خرابی ہے ‘۔ پھر ارشاد فرماتا ہے کہ ’ جن فرشتوں کو تم اللہ کی لڑکیاں کہتے ہو، ان کا حال سنو اور اللہ کی الوہیت کی عظمت دیکھو۔ آسمان و زمین کی ہرچیز اسی کی ملکیت میں ہے۔ فرشتے اس کی عبادت میں مشغول ہیں۔ ناممکن ہے کہ کسی وقت سرکشی کریں ‘۔ «لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّـهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا» ۱؎ [4-النساء:172] ’ نہ مسیح کو بندہ رب ہونے سے شرم، نہ فرشتوں کو اللہ کی عبادت سے عار، نہ ان میں سے کوئی تکبر کرے یا عبادت سے جی چرائے اور جو کوئی ایسا کرے تو ایک وقت آ رہا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے میدان محشر میں سب کے ساتھ ہو گا اور اپنا کیا بھرے گا ‘۔ یہ بزرگ فرشتے اس کی عبادت سے تھکتے بھی نہیں، گھبراتے بھی نہیں، سستی اور کاہلی ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ دن رات اللہ کی فرماں برداری میں، اس کی عبادت میں، اس کی تسبیح و اطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ نیت اور عمل دونوں موجود ہیں۔ «لَّا يَعْصُونَ اللَّـهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ» ۱؎ [66-التحریم:6] ’ اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے نہ کسی فرمان کی تعمیل سے رکتے ہیں ‘۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں تھے کہ فرمایا: { لوگو! جو میں سنتا ہوں کیا تم بھی سنتے ہو؟ } سب نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو کچھ بھی نہیں سن رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں آسمانوں کی چرچراہٹ سن رہا ہوں اور حق تو یہ ہے کہ اسے چرچرانا ہی چاہیئے، اس لیے کہ اس میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کسی نہ کسی فرشتے کا سر سجدے میں نہ ہو } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060،] عبداللہ بن حارث بن نوفل فرماتے ہیں، میں کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا، میں نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا کہ بولنا چالنا، اللہ کا پیغام لے کر جانا، عمل کرنا یہ بھی انہیں تسبیح سے نہیں روکتا؟ میرے اس سوال پر چوکنے ہوکر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ بچہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا بنو عبدالمطلب میں سے ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے میری پیشانی چوم لی اور فرمایا، ”پیارے بچے تسبیح ان فرشتوں کے لیے ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لیے سانس لینا۔ دیکھو چلتے پھرتے، بولتے چالتے تمہارا سانس برابر آتا جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح فرشتوں کی تسبیح ہر وقت جاری رہتی ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/17:]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 20) {يُسَبِّحُوْنَ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ لَا يَفْتُرُوْنَ:” اَلْفُتُوْرُ “} کا معنی کسی کام سے رک جانا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ }» [ المائدۃ: ۱۹ ] ”بے شک تمھارے پاس ہمارا رسول آیا ہے، جو تمھارے لیے کھول کر بیان کرتا ہے، رسولوں کے ایک وقفے کے بعد۔“ یعنی فرشتے رات دن اللہ کی تسبیح کرتے ہیں، کبھی نہیں رکتے، وقفہ نہیں کرتے۔ یہاں ایک سوال ہے جو عبد اللہ بن حارث بن نوفل نے کعب احبار سے کیا کہ آپ بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے متعلق فرمایا: «{ يُسَبِّحُوْنَ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ لَا يَفْتُرُوْنَ }» تو کیا انھیں آپس کی بات چیت، پیغمبروں کو وحی پہنچانا اور دوسرے کام تسبیح میں رکاوٹ نہیں بنتے؟ انھوں نے فرمایا: ”بیٹا! اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تسبیح ایسے ہی کر دی ہے جیسے تمھارے لیے سانس لینا کر دیا ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ تم بات کرتے ہوئے سانس لیتے جاتے ہو اور چلتے ہوئے سانس لیتے رہتے ہو؟“ [ طبری من طرق یقوي أحدھما الآخر، حکمت بن بشیر ] دن رات بغیر وقفے کے تسبیح سے مراد مبالغہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ بہت زیادہ تسبیح کرتے ہیں، جیسے کہتے ہیں کہ فلاں تمھاری ہر وقت تعریف کرتا ہے، یا میں دن رات تمھیں یاد کرتا ہوں وغیرہ۔ مفسر آلوسی نے اس توجیہ کی تعریف کی ہے۔ (روح المعانی) یا جس طرح ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا: [ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللّٰهَ عَلٰی كُلِّ أَحْيَانِهِ ] [ مسلم، الحیض، باب ذکر اللہ في حال الجنابۃ وغیرھا: ۳۷۳ ] ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام اوقات میں اللہ کا ذکر کرتے تھے۔“ ظاہر ہے آپ اپنی انسانی ضروریات، دعوت و تبلیغ اور جہاد کے لیے بات بھی کرتے تھے، کھاتے پیتے اور سوتے بھی تھے، اس کے باوجود اللہ کی یاد سے دل غافل نہیں ہوتا تھا۔ یہ توجیہ کعب احبار کی توجیہ سے ملتی جلتی ہے۔
کیا اِن لوگوں کے بنائے ہوئے ارضی خدا ایسے ہیں کہ (بے جان کو جان بخش کر) اُٹھا کھڑا کرتے ہوں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ان لوگوں نے زمین (کی مخلوقات میں) سے جنہیں معبود بنا رکھا ہے وه زنده کردیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا انہوں نے زمین میں سے کچھ ایسے خدا بنالیے ہیں کہ وہ کچھ پیدا کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا انہوں نے زمینی (مخلوق) سے ایسے معبود بنائے ہیں جو مردوں کو زندہ کر دیتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یا انھوں نے زمین سے کوئی معبود بنا لیے ہیں، جو زندہ کریں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب تہمتوں سے بلند اللہ جل شانہ ٭٭
شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ ’ جن جن کو تم اللہ کے سوا پوج رہے ہو، ان میں ایک بھی ایسا نہیں جو مردوں کو جلا سکے۔ کسی میں یا سب میں مل کر بھی یہ قدرت نہیں، پھر انہیں اس قدرت والے کے برابر ماننا یا ان کی بھی عبادت کرنا کس قدر ناانصافی ہے؟ ‘ پھر فرماتا ہے ’ سنو! اگر یہ مان لیا جائے کہ فی الواقع بہت سے الہٰ ہیں تو لازم آئے گا کہ زمین و آسمان تباہ و برباد ہو جائیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «مَا اتَّخَذَ اللَّـهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَـٰهٍ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَـٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:91] ، ’ اللہ کی اولاد نہیں، نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لیے پھرتا اور ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا، اللہ تعالیٰ ان کے بیان کردہ اوصاف سے مبرا اور منزہ ہے ‘۔
یہاں فرمایا، ’ اللہ تعالیٰ مالک عرش ان کے کہے ہوئے ردی اوصاف سے (یعنی لڑکے لڑکیوں سے) پاک ہے ‘۔ اسی طرح شریک اور ساجھی سے، مثل اور ساتھی سے بھی بلند و بالا ہے۔ ان کی یہ سب تہمتیں ہیں جن سے اللہ کی ذات برتر ہے۔ اس کی شان تو یہ ہے کہ وہ علی الاطلاق شہنشاہ حقیقی ہے، اس پر کوئی حاکم نہیں۔ سب اس کے غلبے اور قہر تلے ہیں۔ نہ تو اس کے حکم کا کوئی تعاقب کرسکے، نہ اس کے فرمان کو کوئی ٹال سکے۔ اس کی کبریائی اور عظمت و جلال اور حکومت، علم اور حکمت، لطف اور رحمت بے پایاں ہے۔ کسی کو اس کے آگے دم مارنے کی مجال نہیں۔ سب پست اور عاجز ہیں لاچار اور بے بس ہیں۔ کوئی نہیں جو چوں کرے، کوئی نہیں جو اس کے سامنے بول سکے، کوئی نہیں جسے چوں چرا کا اختیار ہو جو اس سے پوچھ سکے کہ یہ کام کیوں کیا؟ ایسا کیوں ہوا؟ وہ چونکہ تمام مخلوق کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، اسے اختیار ہے جس سے جو چاہے سوال کرے، ہر ایک کے اعمال کی وہ بازپرس کرے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [15-الحجر:92-93] ، ’ تیرے رب کی قسم ہم ان سب سے سوال کریں گے ہر اس فعل سے جو انہوں نے کیا ‘۔ «وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ» ۱؎ [23-المؤمنون:88] ’ وہی ہے کہ جو اس کی پناہ میں آگیا، سب شر سے بچ گیا اور کوئی نہیں جو اس کے مجرم کو پناہ دے سکے ‘۔
21۔ 1 استفہام انکاری ہے یعنی نہیں کرسکتے۔ پھر وہ ان کو جو کسی چیز کی قدرت نہیں رکھتے، اللہ کا شریک کیوں ٹھہراتے اور ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں؟
(آیت 21) ➊ { اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً …:” اَمْ “} کسی جملہ استفہامیہ کے بعد آتا ہے، جو ہر مقام پر سیاق و سباق سے سمجھ میں آ رہا ہوتا ہے۔ یہاں پہلی آیات کو مدنظر رکھتے ہوئے مفسر بقاعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیا یہ لوگ جان چکے ہیں کہ آسمانوں اور زمین کی ہر ہستی اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور اس میں اسی کا امر نافذ ہے اور یہ جان کر اپنی گمراہی سے باز آ چکے ہیں یا (جاننے کے باوجود اپنی ہٹ پر قائم ہیں اور) انھوں نے زمین سے کچھ معبود بنا لیے ہیں جو اکیلے زندگی کی روح پھونک سکتے ہیں؟ اگر ایسا نہیں اور یقینا نہیں تو پھر یہ ایسے بے چاروں کو معبود کیوں مان رہے ہیں؟“ ➋ {” اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ “} کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بنائے ہوئے معبود سب زمین سے تعلق رکھتے ہیں، بت ہوں یا قبریں، درخت ہوں یا دریا، جانور ہوں یا انسان یاجن، مردہ داتا و دستگیر ہوں یا زندہ، سب اسی مٹی سے ہیں جو قدموں تلے روندی جاتی ہے۔ ان کی کوڑھ مغزی دیکھو کہ انھوں نے کس قدر بے وقعت ہستیوں کو اس رب کے ہوتے ہوئے حاجت روا اور مشکل کُشا بنا لیا جو زمین ہی کا نہیں عرش کا بھی رب ہے۔ اگلی آیت میں اسی مناسبت سے فرمایا: «{ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُوْنَ }» ”سو پاک ہے اللہ جو عرش کا رب ہے، ان چیزوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔“ جو زمین و آسمان دونوں کا مالک ہے اور دونوں میں اسی کی عبادت ہوتی ہے۔ دیکھیے سورۂ زخرف (۸۴، ۸۵)۔ ➌ {هُمْ يُنْشِرُوْنَ:} ما وردی نے فرمایا: ”اس میں دو قول ہیں، ایک یہ کہ اس کا معنی {”يَخْلُقُوْنَ“} ہے، یعنی وہ پیدا کرتے ہیں، یہ قطرب کا قول ہے۔ دوسرا یہ کہ اس کا معنی {” يُحْيُوْنَ “} ہے، یعنی وہ دوبارہ زندہ کریں گے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لفظ دونوں معنوں میں آتا ہے۔ پہلے معنی کی تائید سورۂ روم کی آیت (۲۰) سے ہوتی ہے اور دوسرے معنی کی سورۂ عبس کی آیت (۱۹) سے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا انھوں نے کوئی ایسے معبود بنائے ہیں جو پہلی دفعہ پیدا کرتے ہیں یا دوبارہ زندہ کریں گے؟ یہ شان تو صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، فرمایا: «{ وَ هُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ }» [ الروم: ۲۷] ”اور وہی ہے جو خلق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور وہ اسے زیادہ آسان ہے۔“ اس کے سوا کوئی نہ پیدا کر سکتا ہے اور نہ دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔ دیکھیے سورۂ فرقان (۳)۔ ➍ {هُمْ يُنْشِرُوْنَ:} یعنی کیا ان کے کوئی ایسے معبود ہیں کہ وہی زندگی بخشتے ہیں اور دوبارہ بھی وہی زندہ کریں گے؟ یہ ان کے معبودوں سے مذاق ہے کہ ذرا ان کی اوقات تو دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اکیلے ہی یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ ➎ ابن جزی رحمہ اللہ نے {” مِنَ الْاَرْضِ “} کو {” يُنْشِرُوْنَ “} کے متعلق کیا ہے، اس صورت میں معنی یہ ہو گا کہ یا انھوں نے کوئی ایسے معبود بنا رکھے ہیں جو (لوگوں کو) زمین سے دوبارہ زندہ کریں گے۔
اگر آسمان و زمین میں ایک اللہ کے سوا دُوسرے خدا بھی ہوتے تو (زمین اور آسمان) دونوں کا نظام بگڑ جاتا پس پاک ہے اللہ ربّ العرش اُن باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر آسمان وزمین میں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور بھی معبود ہوتے تو یہ دونوں درہم برہم ہوجاتے پس اللہ تعالیٰ عرش کا رب ہر اس وصف سے پاک ہے جو یہ مشرک بیان کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا اور خدا ہوتے تو ضرور وہ تباہ ہوجاتے تو پاکی ہے اللہ عرش کے مالک کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا کوئی اور خدا ہوتا تو دونوں کا نظام برباد ہو جاتا پس پاک ہے اللہ جو عرش کا مالک ہے ان باتوں سے جو لوگ بناتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اگر ان دونوں میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتے تو وہ دونوں ضرور بگڑ جاتے۔ سو پاک ہے اللہ جو عرش کا رب ہے، ان چیزوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب تہمتوں سے بلند اللہ جل شانہ ٭٭
شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ ’ جن جن کو تم اللہ کے سوا پوج رہے ہو، ان میں ایک بھی ایسا نہیں جو مردوں کو جلا سکے۔ کسی میں یا سب میں مل کر بھی یہ قدرت نہیں، پھر انہیں اس قدرت والے کے برابر ماننا یا ان کی بھی عبادت کرنا کس قدر ناانصافی ہے؟ ‘ پھر فرماتا ہے ’ سنو! اگر یہ مان لیا جائے کہ فی الواقع بہت سے الہٰ ہیں تو لازم آئے گا کہ زمین و آسمان تباہ و برباد ہو جائیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «مَا اتَّخَذَ اللَّـهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَـٰهٍ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَـٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:91] ، ’ اللہ کی اولاد نہیں، نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لیے پھرتا اور ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا، اللہ تعالیٰ ان کے بیان کردہ اوصاف سے مبرا اور منزہ ہے ‘۔
یہاں فرمایا، ’ اللہ تعالیٰ مالک عرش ان کے کہے ہوئے ردی اوصاف سے (یعنی لڑکے لڑکیوں سے) پاک ہے ‘۔ اسی طرح شریک اور ساجھی سے، مثل اور ساتھی سے بھی بلند و بالا ہے۔ ان کی یہ سب تہمتیں ہیں جن سے اللہ کی ذات برتر ہے۔ اس کی شان تو یہ ہے کہ وہ علی الاطلاق شہنشاہ حقیقی ہے، اس پر کوئی حاکم نہیں۔ سب اس کے غلبے اور قہر تلے ہیں۔ نہ تو اس کے حکم کا کوئی تعاقب کرسکے، نہ اس کے فرمان کو کوئی ٹال سکے۔ اس کی کبریائی اور عظمت و جلال اور حکومت، علم اور حکمت، لطف اور رحمت بے پایاں ہے۔ کسی کو اس کے آگے دم مارنے کی مجال نہیں۔ سب پست اور عاجز ہیں لاچار اور بے بس ہیں۔ کوئی نہیں جو چوں کرے، کوئی نہیں جو اس کے سامنے بول سکے، کوئی نہیں جسے چوں چرا کا اختیار ہو جو اس سے پوچھ سکے کہ یہ کام کیوں کیا؟ ایسا کیوں ہوا؟ وہ چونکہ تمام مخلوق کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، اسے اختیار ہے جس سے جو چاہے سوال کرے، ہر ایک کے اعمال کی وہ بازپرس کرے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [15-الحجر:92-93] ، ’ تیرے رب کی قسم ہم ان سب سے سوال کریں گے ہر اس فعل سے جو انہوں نے کیا ‘۔ «وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ» ۱؎ [23-المؤمنون:88] ’ وہی ہے کہ جو اس کی پناہ میں آگیا، سب شر سے بچ گیا اور کوئی نہیں جو اس کے مجرم کو پناہ دے سکے ‘۔
22۔ 1 یعنی اگر واقع آسمان و زمین میں دو معبود ہوتے تو کائنات میں تصرف کرنے والی دو ہستیاں ہوتیں، دو کا ارادہ و شعور اور مرضی کار فرما ہوتی اور جب دو ہستیوں کا ارادہ اور فیصلہ کائنات میں چلتا تو یہ نظم کائنات اس طرح قائم رہ ہی نہیں سکتا تھا جو ابتدائے آفرینش سے، بغیر کسی ادنیٰ توقف کے قائم چلا آرہا ہے۔ کیونکہ دونوں کا ارادہ ایک دوسرے سے ٹکراتا۔ دونوں کی مرضی کا آپس میں تصادم ہوتا، دونوں کے اختیارات ایک دوسرے کے مخالف سمت میں استعمال ہوتے۔ جس کا نتیجہ ابتری اور فساد کی صورت میں رونما ہوتا اور اب تک ایسا نہیں ہوا تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ کائنات میں صرف ایک ہی ہستی ہے جس کا ارادہ ومشیت کار فرما ہے جو کچھ بھی ہوتا ہے صرف اور صرف اسی کے حکم پر ہوتا ہے اس کے دئیے ہوئے کو کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے وہ اپنی رحمت روک لے اس کو دینے والا کوئی نہیں۔
(آیت 22) {لَوْ كَانَ فِيْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ …:} یعنی ان لوگوں نے تو زمین سے لے کر کئی معبود بنا رکھے ہیں، جب کہ زمین اور آسمان دونوں میں ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، فرمایا: «{ وَ هُوَ الَّذِيْ فِي السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِي الْاَرْضِ اِلٰهٌ وَ هُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ }» [ الزخرف: ۸۴ ] ”اور وہی ہے جو آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے اور وہی کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“ کیونکہ معبود برحق تو وہ ہے جو پوری قدرت اور مکمل اختیار رکھنے والا ہو اور کسی معاملے میں عاجز نہ ہو۔ اب اگر زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے سوا اور بھی قادر و مختار ہوتے تو کائنات کا یہ سلسلہ کبھی کا درہم برہم ہو چکا ہوتا۔ کیونکہ ان سب کی ہمیشہ کشمکش رہتی اور کوئی چیز اپنی مرتب شکل میں نہ بن سکتی اور نہ چل سکتی، جیسا کہ فرمایا: «{ مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوْنَ }» [ المؤمنون: ۹۱ ] ”نہ اللہ نے (اپنی) کوئی اولاد بنائی اور نہ کبھی اس کے ساتھ کوئی معبود تھا، اس وقت ضرور ہر معبود، جو کچھ اس نے پیدا کیا تھا، اسے لے کر چل دیتا اور یقینا ان میں سے بعض بعض پر چڑھائی کر دیتا۔ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔“ اسی طرح ان میں سے ہر ایک اپنی قوت و اختیار منوانے کے لیے پوری کائنات کا اختیار حاصل کرنے کی کوشش کرتا اور عرش پر قبضے کی جدو جہد کرتا، نتیجہ پوری کائنات کی تباہی ہوتا، فرمایا: «{ قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِي الْعَرْشِ سَبِيْلًا }» [ بني إسرائیل: ۴۲ ] ”کہہ دے اگر اس کے ساتھ کچھ اور معبود ہوتے، جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو اس وقت وہ عرش والے کی طرف کوئی راستہ ضرور ڈھونڈتے۔“ خلاصہ یہ کہ زمین و آسمان میں کسی فساد کا نہ ہونا اور پوری کائنات میں زبردست ترتیب اور ہم آہنگی کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا مالک اور انھیں چلانے والا ایک ہی ہے۔ یہ دلیل بہت زبردست، نہایت ہی سادہ اور آسانی سے سمجھ میں آنے والی ہے۔ ایک چھوٹے سے گھر کا نظام کبھی درست نہیں چل سکتا اگر اس کا ذمہ دار ایک نہ ہو اور نہ ایک مملکت میں دو فرماں روا رہ سکتے ہیں، تو اتنی بڑی کائنات کا نظام دو فرماں رواؤں کی صورت میں کیسے چل سکتا ہے؟ علمائے اسلام نے اس دلیل کی کئی طرح سے تشریح فرمائی ہے، میں ان میں سے صرف دو تشریحات نقل کرتا ہوں۔ ایک یہ کہ اگر ہم دو معبود فرض کریں تو کسی چیز کو حرکت دینے یا ساکن رکھنے میں اگر دونوں میں اختلاف ہو جائے تو یہ ناممکن ہے کہ دونوں کا ارادہ پورا ہو جائے اور یہ بھی ناممکن ہے کہ کسی کا ارادہ بھی پورا نہ ہو (کیونکہ پھر وہ قادر و مختار ہی کیا ہوئے؟) اگر صرف ایک کا ارادہ پورا ہو تو دوسرا عاجز ٹھہرا، جو کسی صورت معبود برحق نہیں ہو سکتا اور دونوں کے اختلاف کا ممکن ہونا اس کے واقع ہونے کے قائم مقام ہے۔ دوسری تشریح یہ ہے کہ عدم سے وجود میں آنے والا ہر جز ناممکن ہے کہ دو قدرتوں کے نتیجے میں پیدا ہو۔ جب وہ دونوں میں سے ایک کی قدرت سے وجود میں آیا، تو دوسرا زائد اور بے کار ٹھہرا، جس کا اس جز میں کوئی دخل نہیں۔ اسی طرح کائنات کے ہر جز اور ہر ذرے میں غور کرتے جائیں، نتیجہ صرف ایک قادر و مختار نکلے گا۔ [ ابن عطیہ فی المحرّر الوجیز ]
وہ اپنے کاموں کے لیے (کسی کے آگے) جواب دہ نہیں ہے اور سب جواب دہ ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
وه اپنے کاموں کے لئے (کسی کےآگے) جواب ده نہیں اور سب (اس کےآگے) جواب ده ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرے اور ان سب سے سوال ہوگا
علامہ محمد حسین نجفی
وہ جو کچھ کرتا ہے اس کے بارے میں اس سے بازپرس نہیں کی جا سکتی اور وہ ہر ایک کا حساب لینے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس سے نہیں پوچھا جاتا اس کے متعلق جو وہ کرے اور ان سے پوچھاجاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب تہمتوں سے بلند اللہ جل شانہ ٭٭
شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ ’ جن جن کو تم اللہ کے سوا پوج رہے ہو، ان میں ایک بھی ایسا نہیں جو مردوں کو جلا سکے۔ کسی میں یا سب میں مل کر بھی یہ قدرت نہیں، پھر انہیں اس قدرت والے کے برابر ماننا یا ان کی بھی عبادت کرنا کس قدر ناانصافی ہے؟ ‘ پھر فرماتا ہے ’ سنو! اگر یہ مان لیا جائے کہ فی الواقع بہت سے الہٰ ہیں تو لازم آئے گا کہ زمین و آسمان تباہ و برباد ہو جائیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «مَا اتَّخَذَ اللَّـهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَـٰهٍ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَـٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:91] ، ’ اللہ کی اولاد نہیں، نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لیے پھرتا اور ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا، اللہ تعالیٰ ان کے بیان کردہ اوصاف سے مبرا اور منزہ ہے ‘۔
یہاں فرمایا، ’ اللہ تعالیٰ مالک عرش ان کے کہے ہوئے ردی اوصاف سے (یعنی لڑکے لڑکیوں سے) پاک ہے ‘۔ اسی طرح شریک اور ساجھی سے، مثل اور ساتھی سے بھی بلند و بالا ہے۔ ان کی یہ سب تہمتیں ہیں جن سے اللہ کی ذات برتر ہے۔ اس کی شان تو یہ ہے کہ وہ علی الاطلاق شہنشاہ حقیقی ہے، اس پر کوئی حاکم نہیں۔ سب اس کے غلبے اور قہر تلے ہیں۔ نہ تو اس کے حکم کا کوئی تعاقب کرسکے، نہ اس کے فرمان کو کوئی ٹال سکے۔ اس کی کبریائی اور عظمت و جلال اور حکومت، علم اور حکمت، لطف اور رحمت بے پایاں ہے۔ کسی کو اس کے آگے دم مارنے کی مجال نہیں۔ سب پست اور عاجز ہیں لاچار اور بے بس ہیں۔ کوئی نہیں جو چوں کرے، کوئی نہیں جو اس کے سامنے بول سکے، کوئی نہیں جسے چوں چرا کا اختیار ہو جو اس سے پوچھ سکے کہ یہ کام کیوں کیا؟ ایسا کیوں ہوا؟ وہ چونکہ تمام مخلوق کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، اسے اختیار ہے جس سے جو چاہے سوال کرے، ہر ایک کے اعمال کی وہ بازپرس کرے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [15-الحجر:92-93] ، ’ تیرے رب کی قسم ہم ان سب سے سوال کریں گے ہر اس فعل سے جو انہوں نے کیا ‘۔ «وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ» ۱؎ [23-المؤمنون:88] ’ وہی ہے کہ جو اس کی پناہ میں آگیا، سب شر سے بچ گیا اور کوئی نہیں جو اس کے مجرم کو پناہ دے سکے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 23){ لَا يُسْـَٔلُ عَمَّا يَفْعَلُ …:} اللہ تعالیٰ کی اس صفت کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ ہر چیز کا مالک اور سلطان وہ خود ہے، کسی کی کیا جرأت کہ اس کے کسی کام کے متعلق پوچھے کہ ایسا کیوں کیا؟ کیونکہ اپنی ملکیت میں وہ جو چاہے کرے۔ اگر وہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق کو عذاب دے تو بھی عین عدل ہو گا، کیونکہ وہ مالک ہے اور اپنی چیز سے جو چاہے کرے۔ جس طرح انسان اپنی خریدی ہوئی ایک اینٹ کو مکان کی پیشانی پر لگا دیتا ہے، دوسری کو چولھے یا بھٹی میں لگا دیتا ہے اور کوئی اسے ظالم نہیں کہتا، حالانکہ وہ اینٹ کا خالق بھی نہیں، صرف عارضی مالک ہے اور اگر اللہ تعالیٰ مخلوق پر رحم فرمائے تو اس کا فضل ہے۔ دوسرا یہ کہ اس کا ہر کام اتنا محکم اور درست ہے کہ اس میں کوئی خامی یا خلل نہیں، اس نے جو کیا اور جو فرمایا سب نہایت عمدہ اور کمال حسن و خوبی والا ہے۔ اس لیے اس کے کسی کام کے متعلق سوال یا اعتراض کی گنجائش نہیں۔ مفسر بقاعی نے ایک قدیم فلسفی سے نقل کیا ہے کہ کسی نے اس سے پوچھا، جب اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اور اس کے سوا کوئی چیز نہ تھی تو اس نے یہ جہان کیوں بنایا؟ اس نے جواب دیا کہ اس سے ”کیوں“ کا سوال ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ کوئی اس سے اوپر ہو تو یہ سوال کرے۔ اس کے برعکس لوگوں سے دونوں وجہوں سے سوال ہو سکتا ہے اور ہو گا، کیونکہ وہ مالک نہیں غلام ہیں اور مالک غلام سے پوچھ سکتا ہے اور پوچھتا ہے کہ اس نے کوئی کام کیوں کیا اور اس لیے کہ ان کے ہر کام میں خامی اور خلل موجود ہے۔ قیامت کے دن سوال کا ذکر کئی آیات میں ہے، دیکھیے سورۂ حجر (۹۲) اور صافات (۲۴)۔
کیا اُسے چھوڑ کر اِنہوں نے دوسرے خدا بنا لیے ہیں؟ اے محمدؐ، ان سے کہو کہ "لاؤ اپنی دلیل، یہ کتاب بھی موجود ہے جس میں میرے دَور کے لوگوں کے لیے نصیحت ہے اور وہ کتابیں بھی موجود ہیں جن میں مجھ سے پہلے لوگوں کے لیے نصیحت تھی" مگر ان میں سے اکثر لوگ حقیقت سے بے خبر ہیں، اس لیے منہ موڑے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں، ان سے کہہ دو ﻻؤ اپنی دلیل پیش کرو۔ یہ ہے میرے ساتھ والوں کی کتاب اور مجھ سے اگلوں کی دلیل۔ بات یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ حق کو نہیں جانتے اسی وجہ سے منھ موڑے ہوئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا اللہ کے سوا اور خدا بنا رکھے ہیں، تم فرماؤ اپنی دلیل لاؤ یہ قرآن میرے ساتھ والوں کا ذکر ہے اور مجھ سے اگلوں کا تذکرہ بلکہ ان میں اکثر حق کو نہیں جانتے تو وہ رو گرداں، ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ان لوگوں نے اللہ کے علاوہ اور خدا بنائے ہیں؟ کہئے کہ اپنی دلیل پیش کرو۔ یہ (قرآن) میرے ساتھ والوں کی (کتاب) ہے اور مجھ سے پہلے والوں کی (کتابیں بھی) ہیں (ان سے کوئی بات میرے دعویٰ کے خلاف نکال کر لاؤ) بلکہ اکثر لوگ حق کو نہیں جانتے (اس لئے) اس سے روگردانی کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یا انھوں نے اس کے سوا کوئی معبود بنا لیے ہیں؟ کہہ دے لائو اپنی دلیل۔ یہی ان کی نصیحت ہے جو میرے ساتھ ہیں اور ان کی نصیحت بھی جو مجھ سے پہلے تھے، بلکہ ان کے اکثر حق کو نہیں جانتے، سو وہ منہ پھیرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حق سے غافل مشرک ٭٭
ان لوگوں نے اللہ کے سوا جن جن کو معبود بنا رکھا ہے، ان کی عبادت پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور ہم جس اللہ کی عبادت کر رہے ہیں، اس میں سچے ہیں۔ ہمارے ہاتھوں میں اعلیٰ تر دلیل کلام اللہ موجود ہے اور اس سے پہلے کی تمام الہامی کتابیں اسی کی دلیل میں باآواز بلند شہادت دیتی ہیں جو توحید کی موافقت میں اور کافروں کی خود پرستی کے خلاف میں ہیں۔ جو کتاب جس پیغمبر علیہ السلام پر اتری، اس میں یہ بیان موجود رہا کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں لیکن اکثر مشرک حق سے غافل ہیں اور اللہ کی باتوں سے منکر ہیں۔ تمام رسولوں کو توحید الٰہی کی ہی تلقین ہوتی رہی۔ فرمان ہے آیت «وَسْـَٔــلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:45] ’ تجھ سے پہلے جو انبیاء گزرے ہیں، تو خود پوچھ لے کہ ہم نے ان کے لیے اپنے سوا اور کوئی معبود مقرر کیا تھا کہ وہ اس کی عبادت کرتے ہوں؟ ‘ اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» ۱؎ [16-النحل:36] ’ ہم نے ہر امت میں اپنا پیغمبر بھیجا جس نے لوگوں میں اعلان کیا کہ تم سب ایک اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو ‘۔ پس انبیاء کی شہادت بھی یہی ہے اور خود فطرت اللہ بھی اسی کی شاہد ہے۔ اور مشرکین کی کوئی دلیل نہیں۔ ان کی ساری حجتیں بے کار ہیں اور ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔
24۔ 1 مطلب یہ ہے کہ قرآن میں اور اس سے قبل کی دیگر کتابوں میں سب میں صرف ایک ہی معبود کی الوہیت و ربوبیت کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن مشرکین اس حق کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں اور بدستور اس توحید سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
(آیت 24) ➊ { اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً:} یہ بات شرک کے نہایت قبیح اور باطل ہونے کے بیان کے لیے پھر دہرائی۔ ➋ { قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ:} اس سے پہلے شرک کے باطل ہونے کی دو عقلی دلیلیں بیان فرمائیں، ایک {” لَوْ كَانَ فِيْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ “} اور دوسری {” لَا يُسْـَٔلُ عَمَّا يَفْعَلُ “}، اس آیت میں اس کی دو نقلی دلیلیں بیان فرمائیں اور کفار سے مطالبہ فرمایا کہ تم بھی اپنی کوئی عقلی یا نقلی دلیل پیش کرو۔ ظاہر ہے کفار کے پاس شرک کی کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی، ان کا سرمایہ محض وہم و گمان اور نفس کی خواہشیں ہیں (سورۂ نجم: ۲۳، ۲۸۔ یونس: ۶۶) یا آبا و اجداد کی تقلید (زخرف: ۲۱ تا ۲۴) اور دونوں میں سے کوئی بھی دلیل یا برہان نہیں ہے۔ ➌ { هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ:} یہ توحید کے حق ہونے اور شرک کے باطل ہونے کی دو نقلی دلیلیں ہیں۔ {” مَنْ مَّعِيَ“} (جو میرے ساتھ ہیں) سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے مسلم مراد ہیں اور ان کے ذکر سے مراد قرآن کریم ہے جو اس امت کے لیے نصیحت ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ }» [الأنبیاء: ۱۰ ] ”بلاشبہ یقینا ہم نے تمھاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمھارا ذکر (تمھاری نصیحت) ہے، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟“ {” وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ “} (اور مجھ سے پہلے لوگوں کی نصیحت) سے مراد پہلی امتوں پر نازل ہونے والی کتابیں تورات، انجیل، زبور اور صحف ابراہیم وغیرہ ہیں۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ یہ قرآن مجید اور پہلی کتابیں تمھاری دسترس میں ہیں، کسی میں شرک کی کوئی دلیل ہے تو دکھا دو۔ پہلے پچھلے تمام اہل علم کی شہادت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، فرمایا: «{ شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ }» [ آل عمران: ۱۸ ] ”اللہ نے اس بات کی شہادت دی کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب پر غالب ہے، کمال حکمت والا ہے۔“ قرآن مجید میں کفار سے شرک کی نقلی دلیل پیش کرنے کا مطالبہ کئی آیات میں آیا ہے۔ دیکھیے سورۂ احقاف (۳) اور زخرف (۴۵)۔ ➍ {بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ الْحَقَّ:} لفظ {” بَلْ “} کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے سامنے عقلی یا نقلی دلیلیں پیش کرکے یہ امید نہ رکھیں کہ وہ قبول کر لیں گے، کیونکہ یہ جاہل ہیں اور انھیں حق کا علم ہی نہیں۔ {” وَالنَّاسُ أَعْدَاءٌ لِمَا جَهِلُوْا “} (لوگ جس چیز کا علم نہ رکھتے ہوں اس کے دشمن ہوتے ہیں)۔ {” اَكْثَرُهُمْ “} سے معلوم ہوا کہ وہ سب ایسے نہیں بلکہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق جانتے ہیں مگر عناد کی وجہ سے تسلیم نہیں کرتے اور کچھ ایسے لوگوں کی طرف بھی اشارہ ہے جن کی طبیعتیں حق جان کر اسے قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو چکی ہوتی ہیں، جیسے عمر بن خطاب اور ان جیسے دیگر اصحاب(رضی اللہ عنہم) تھے اور ایسے لوگوں کی امید پر ہی داعیان حق کا حوصلہ قائم رہتا ہے۔ ➎ { فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ:} اس میں ان کے جہل کا سبب بیان فرمایا کہ وہ حق معلوم کرنے کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے اور نہ کسی دلیل پر غور کرتے ہیں، جیسے فرمایا: «{ وَ كَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ }» [ یوسف: ۱۰۵ ] ”اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے گزرتے ہیں اور وہ ان سے بے دھیان ہوتے ہیں۔“
ہم نے تُم سے پہلے جو رسُول بھی بھیجا ہے اُس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول نہ بھیجا مگر یہ کہ ہم اس کی طرف وحی فرماتے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی کو پوجو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی ایسا رسول نہیں بھیجا جس کی طرف یہ وحی نہ کی ہو کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ پس تم میری ہی عبادت کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حق سے غافل مشرک ٭٭
ان لوگوں نے اللہ کے سوا جن جن کو معبود بنا رکھا ہے، ان کی عبادت پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور ہم جس اللہ کی عبادت کر رہے ہیں، اس میں سچے ہیں۔ ہمارے ہاتھوں میں اعلیٰ تر دلیل کلام اللہ موجود ہے اور اس سے پہلے کی تمام الہامی کتابیں اسی کی دلیل میں باآواز بلند شہادت دیتی ہیں جو توحید کی موافقت میں اور کافروں کی خود پرستی کے خلاف میں ہیں۔ جو کتاب جس پیغمبر علیہ السلام پر اتری، اس میں یہ بیان موجود رہا کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں لیکن اکثر مشرک حق سے غافل ہیں اور اللہ کی باتوں سے منکر ہیں۔ تمام رسولوں کو توحید الٰہی کی ہی تلقین ہوتی رہی۔ فرمان ہے آیت «وَسْـَٔــلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:45] ’ تجھ سے پہلے جو انبیاء گزرے ہیں، تو خود پوچھ لے کہ ہم نے ان کے لیے اپنے سوا اور کوئی معبود مقرر کیا تھا کہ وہ اس کی عبادت کرتے ہوں؟ ‘ اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» ۱؎ [16-النحل:36] ’ ہم نے ہر امت میں اپنا پیغمبر بھیجا جس نے لوگوں میں اعلان کیا کہ تم سب ایک اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو ‘۔ پس انبیاء کی شہادت بھی یہی ہے اور خود فطرت اللہ بھی اسی کی شاہد ہے۔ اور مشرکین کی کوئی دلیل نہیں۔ ان کی ساری حجتیں بے کار ہیں اور ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔
25۔ 1 یعنی تمام پیغمبر بھی یہی توحید کا پیغام لے کر آئے۔
(آیت 25) ➊ {وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ …:} پچھلی آیت میں {” هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ “} کہہ کر جو بات اختصار کے ساتھ کہی گئی تھی اب وہ واضح الفاظ میں تاکید کے ساتھ دہرائی گئی ہے اور جس بات کا حوالہ صرف چند کتابوں کے ساتھ خاص تھا اب تمام رسولوں کے ذکر کے ساتھ اسے عام کرکے بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ آپ سے پہلے جو بھی رسول ہم نے بھیجا، خواہ اسے کتاب دی یا نہ دی، اسے یہی وحی کرتے رہے کہ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، سو میری عبادت کرو۔ مزید دیکھیے سورۂ نحل (۳۶) معلوم ہوا تمام رسول توحید الوہیت کی دعوت دینے کے لیے مبعوث کیے گئے تھے کہ عبادت صرف اللہ کی کرو اور اسی سے دعا اور فریاد کرو، کیونکہ توحید ربوبیت کے تو اکثر کفار بھی قائل تھے، یعنی وہ اللہ تعالیٰ کو خالق، مالک اور رازق مانتے تھے، مگر پکارتے وقت غیر اللہ کو بھی پکارتے اور انھیں نفع نقصان کا مالک سمجھتے تھے، یا یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ اپنی بات اللہ تعالیٰ سے منوا سکتے ہیں اور ہماری حاجتیں پوری کروا سکتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ یونس (۱۸) اور سورۂ زمر (۳)۔ ➋ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا ذکر پہلے اپنی صفات کے تعدد کی بنا پر جمع متکلم کے ساتھ کیا ہے، مراد اپنی عظمت کا اظہار ہے، پھر جب توحید کا ذکر آیا تو اپنا ذکر واحد متکلم کے ساتھ فرمایا کہ {” لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ “} اس میں {” اَنَا “} (میں) بھی واحد ہے اور {” فَاعْبُدُوْنِ “} (جو اصل میں {” فَاعْبُدُوْنِيْ “} تھا) کی یائے متکلم بھی واحد ہے، یہاں جمع کا صیغہ استعمال نہیں فرمایا، تاکہ شبہ بھی پیدا نہ ہو کہ معبود ایک سے زیادہ ہیں۔
یہ کہتے ہیں "رحمان اولاد رکھتا ہے" سبحان اللہ، وہ تو بندے ہیں جنہیں عزّت دی گئی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
(مشرک لوگ) کہتے ہیں کہ رحمٰن اوﻻد واﻻ ہے (غلط ہے) اس کی ذات پاک ہے، بلکہ وه سب اس کے باعزت بندے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بولے رحمن نے بیٹا اختیار کیا پاک ہے وہ بلکہ بندے ہیں عزت والے
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ کہتے ہیں کہ خدائے رحمن نے اولاد بنا رکھی ہے وہ (اس سے) پاک ہے بلکہ وہ فرشتے تو اس کے بندے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے کہا رحمان نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے، وہ پاک ہے، بلکہ وہ بندے ہیں جنھیں عزت دی گئی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خشیت الٰہی ٭٭
کفار مکہ کا خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے کہ ’ یہ بالکل غلط ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے ہیں، بڑی بڑائیوں والے ہیں اور ذی عزت ہیں۔ قولاً اور فعلاً ہروقت اطاعت الٰہی میں مشغول ہیں۔ نہ تو کسی امر میں اس سے آگے بڑھیں، نہ کسی بات میں اس کے فرمان کا خلاف کریں بلکہ جو وہ فرمائے، دوڑ کر اس کی بجا آوری کرتے ہیں۔ اللہ کے علم میں گھرے ہوئے ہیں اس پر ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ آگے پیچھے دائیں بائیں کا اسے علم ہے، ذرے ذرے کا وہ دانا ہے۔ یہ پاک فرشتے بھی اتنی مجال نہیں رکھتے کہ اللہ کے کسی مجرم کی اللہ کے سامنے اس کی مرضی کے خلاف سفارش کے لیے لب ہلا سکیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» ۱؎ [2-البقرة:255] ’ وہ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش اس کے پاس لے جا سکے؟ ‘ اور آیت میں ہے «وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ» ۱؎ [34-سبأ:23] یعنی ’ اس کے پاس کسی کی شفاعت اس کی اپنی اجازت کے بغیر چل نہیں سکتی ‘۔ اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ فرشتے اور اللہ کے مقرب بندے کل کے کل خشیت الٰہی سے، ہیبت رب سے لرزاں و ترساں رہا کرتے ہیں۔ ’ ان میں سے جو بھی خدائی کا دعویٰ کرے، ہم اسے جہنم واصل کردیں۔ ظالموں سے ہم ضرور انتقام لے لیا کرتے ہیں ‘۔ یہ بات بطور شرط ہے اور شرط کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس کا وقوع بھی ہو۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ خاص بندگان اللہ میں سے کوئی ایسا ناپاک دعویٰ کرے اور ایسی سخت سزا بھگتے۔ اسی طرح کی آیت «قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:81] اور «لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:65] ، ہے۔ پس نہ تو رحمن کی اولاد ہے نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک ممکن۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 26) ➊{ وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا …:} عقلی اور نقلی دلیلوں سے شرک کی تردید کے بعد اب ان لوگوں کا رد کیا جا رہا ہے جو اللہ تعالیٰ کے صاحبِ اولاد ہونے کے قائل تھے۔ عرب کے بعض مشرکین کا عقیدہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ بعض یہود کا کہنا تھا کہ (نعوذ باللہ) جنات اللہ تعالیٰ کے سسرال ہیں، جن سے فرشتے پیدا ہوتے ہیں، اسی طرح یہود نے عزیر علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتایا۔ نصاریٰ نے مسیح علیہ السلام کو اور بعض مسلمان کہلانے والوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے ذاتی نور کا ٹکڑا قرار دیا اور بعض نے کہا: خدا کے نور سے پیدا ہوئے ہیں پانچوں تن محمد است، علی، فاطمہ، حسین و حسن چونکہ یہ شرک کی بدترین صورت اور اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی گستاخی تھی (دیکھیے مریم: ۸۸ تا ۹۰۔ بقرہ: ۱۱۶۔ نساء: ۱۷۱) اس لیے اللہ تعالیٰ نے کئی طرح سے اس کا رد فرمایا۔ ➋ سب سے پہلے یہ کہہ کر رد فرمایا کہ {” وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا “} (اور انھوں نے کہا رحمان نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے) یعنی باپ اور اولاد ایک جنس ہوتے ہیں، اب کہاں رحمان کہ جس کی کمال رحمت سے یہ کائنات وجود میں آئی اور مسلسل چل رہی ہے اور جس کے سوا ”رحمان“ نام کا مصداق تم بھی کسی کو نہیں سمجھتے۔ اگر اس کی اولاد مانو تو والد اور اولاد کے ایک جنس ہونے کی وجہ سے فرشتوں کو اور عزیر و مسیح علیھما السلام کو اور ایک ہی نور سے ہونے کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور پنجتن کو اسم رحمان کا مصداق ماننا پڑے گا۔ خود ہی سوچ لو کیا یہ رحمان تھے؟ ➌ پھر {” سُبْحٰنَهٗ “} کہہ کر رد فرمایا، یعنی جن کمزوریوں کی وجہ سے اولاد کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان سے پاک ہے۔ انسان کو اولاد کی ضرورت اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ہوتی ہے، تاکہ وہ مشکل میں اس کی مدد کرے، بڑھاپے میں اس کا سہارا (عصائے پیری) بنے اور مرنے کے بعد اس کی جانشین بنے۔ پھر اولاد کے لیے بیوی کا ہونا لازم ہے، انسان اپنی خواہشِ نفس کی وجہ سے بیوی کا محتاج ہوتا ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۰۱) رحمان ان تمام کمزوریوں سے پاک ہے، اگر اس میں یہ کمزوریاں ہوں تو وہ رحمان نہیں ہو گا، بلکہ خود رحم کے قابل ہو گا، جس طرح تمام انسان، جن، فرشتے اور تمام مخلوقات ہیں۔ پھر وہ نہ رحمان ہو گا اور نہ تمام عیوب اور کمزوریوں سے پاک۔ [ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ] ➍ پھر {” بَلْ عِبَادٌ “} کہہ کر رد فرمایا، یعنی جنھیں یہ لوگ اولاد کہہ رہے ہیں وہ بندے (غلام) ہیں۔ غلام اپنے مالک کی اولاد نہیں ہوتا اور اولاد اپنے باپ کی غلام نہیں ہوتی۔ بندگی اور ولدیت جمع نہیں ہو سکتیں۔ اہلِ علم نے اس آیت سے استدلال فرمایا کہ اگر کسی کا بیٹا غلامی کی حالت میں اس کی ملکیت میں آئے تو آزاد ہو جائے گا، کیونکہ ولدیت اور عبدیت جمع نہیں ہو سکتیں۔ ➎ { ” مُكْرَمُوْنَ “ } کفار نے ان ہستیوں کی عظمت شان کی وجہ سے انھیں اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شبہے کو یہ کہہ کر دور فرمایا کہ ان ہستیوں کی تمام عظمت و رفعت صرف اس لیے ہے کہ انھیں عزت عطا کی گئی ہے۔ اس میں ان کا اپنا کمال کچھ نہیں، جب کہ والد اور اولاد اوصاف میں یکساں اور برابر کا جوڑ ہوتے ہیں۔
اُس کے حضور بڑھ کر نہیں بولتے اور بس اُس کے حکم پر عمل کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کسی بات میں اللہ پر پیش دستی نہیں کرتے بلکہ اس کے فرمان پر کاربند ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بات میں اس سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اسی کے حکم پر کاربند ہوتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
جو بات کرنے میں بھی اس سے سبقت نہیں کرتے اور اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ بات کرنے میں اس سے پہل نہیں کرتے اور وہ اس کے حکم کے ساتھ ہی عمل کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خشیت الٰہی ٭٭
کفار مکہ کا خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے کہ ’ یہ بالکل غلط ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے ہیں، بڑی بڑائیوں والے ہیں اور ذی عزت ہیں۔ قولاً اور فعلاً ہروقت اطاعت الٰہی میں مشغول ہیں۔ نہ تو کسی امر میں اس سے آگے بڑھیں، نہ کسی بات میں اس کے فرمان کا خلاف کریں بلکہ جو وہ فرمائے، دوڑ کر اس کی بجا آوری کرتے ہیں۔ اللہ کے علم میں گھرے ہوئے ہیں اس پر ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ آگے پیچھے دائیں بائیں کا اسے علم ہے، ذرے ذرے کا وہ دانا ہے۔ یہ پاک فرشتے بھی اتنی مجال نہیں رکھتے کہ اللہ کے کسی مجرم کی اللہ کے سامنے اس کی مرضی کے خلاف سفارش کے لیے لب ہلا سکیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» ۱؎ [2-البقرة:255] ’ وہ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش اس کے پاس لے جا سکے؟ ‘ اور آیت میں ہے «وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ» ۱؎ [34-سبأ:23] یعنی ’ اس کے پاس کسی کی شفاعت اس کی اپنی اجازت کے بغیر چل نہیں سکتی ‘۔ اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ فرشتے اور اللہ کے مقرب بندے کل کے کل خشیت الٰہی سے، ہیبت رب سے لرزاں و ترساں رہا کرتے ہیں۔ ’ ان میں سے جو بھی خدائی کا دعویٰ کرے، ہم اسے جہنم واصل کردیں۔ ظالموں سے ہم ضرور انتقام لے لیا کرتے ہیں ‘۔ یہ بات بطور شرط ہے اور شرط کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس کا وقوع بھی ہو۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ خاص بندگان اللہ میں سے کوئی ایسا ناپاک دعویٰ کرے اور ایسی سخت سزا بھگتے۔ اسی طرح کی آیت «قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:81] اور «لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:65] ، ہے۔ پس نہ تو رحمن کی اولاد ہے نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک ممکن۔
27۔ 1 اس میں مشرکین کا کہنا ہے جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ فرمایا وہ بیٹیاں نہیں، اس کے ذی عزت بندے اور اس کے فرما بردار ہیں۔ علاوہ ازیں بیٹے، بیٹیوں کی ضرورت، اس وقت پڑتی ہے۔ جب عالم پیری میں ضعف و بڑھاپا، ایسے عوارض ہیں جو انسان کو لاحق ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی ذات ان تمام کمزوریوں اور کوتاہیوں سے پاک ہے۔ اس لئے اسے اولاد کی یا کسی سہارے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں بار بار اس امر کی صراحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں ہے۔
(آیت 27) ➊ {لَا يَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ:} یعنی ان کی بندگی اور فرماں برداری کا یہ حال ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر بات تک نہیں کرتے۔ ➋ { وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ يَعْمَلُوْنَ: ” بِاَمْرِهٖ “} کو پہلے لانے سے دو باتیں واضح ہوئیں، ایک یہ کہ وہ جو کرتے ہیں اس کے حکم سے کرتے ہیں، اس کے حکم کے بغیر نہیں کرتے۔ دوسری یہ کہ وہ ہر کام صرف اس کے حکم سے کرتے ہیں، کسی اور کے حکم سے نہیں۔ غور کرو، بندگی اور غلامی کی انتہا ہے کہ مولا کی مرضی کے بغیر نہ بولتے ہیں نہ کچھ کرتے ہیں، بھلا اولاد بھی اس طرح ہوتی ہے؟ اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ سے اولاد کی نفی فرمائی۔
جو کچھ اُن کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُن سے اوجھل ہے اس سے بھی وہ باخبر ہے وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے بجز اُس کے جس کے حق میں سفارش سننے پر اللہ راضی ہو، اور وہ اس کے خوف سے ڈرے رہتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
وه ان کے آگے پیچھے تمام امور سے واقف ہے وه کسی کی بھی سفارش نہیں کرتے بجز ان کے جن سے اللہ خوش ہو وه تو خود ہیبت الٰہی سے لرزاں وترساں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور شفاعت نہیں کرتے مگر اس کے لیے جسے وہ پسند فرمائے اور وہ اس کے خوف سے ڈر رہے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ کسی کی شفاعت نہیں کرتے سوائے اس کے جس سے خدا راضی ہو۔ اور وہ اس کے خوف و خشیہ سے لرزتے رہتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ سفارش نہیں کرتے مگر اسی کے لیے جسے وہ پسند کرے اور وہ اسی کے خوف سے ڈرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خشیت الٰہی ٭٭
کفار مکہ کا خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے کہ ’ یہ بالکل غلط ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے ہیں، بڑی بڑائیوں والے ہیں اور ذی عزت ہیں۔ قولاً اور فعلاً ہروقت اطاعت الٰہی میں مشغول ہیں۔ نہ تو کسی امر میں اس سے آگے بڑھیں، نہ کسی بات میں اس کے فرمان کا خلاف کریں بلکہ جو وہ فرمائے، دوڑ کر اس کی بجا آوری کرتے ہیں۔ اللہ کے علم میں گھرے ہوئے ہیں اس پر ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ آگے پیچھے دائیں بائیں کا اسے علم ہے، ذرے ذرے کا وہ دانا ہے۔ یہ پاک فرشتے بھی اتنی مجال نہیں رکھتے کہ اللہ کے کسی مجرم کی اللہ کے سامنے اس کی مرضی کے خلاف سفارش کے لیے لب ہلا سکیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» ۱؎ [2-البقرة:255] ’ وہ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش اس کے پاس لے جا سکے؟ ‘ اور آیت میں ہے «وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ» ۱؎ [34-سبأ:23] یعنی ’ اس کے پاس کسی کی شفاعت اس کی اپنی اجازت کے بغیر چل نہیں سکتی ‘۔ اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ فرشتے اور اللہ کے مقرب بندے کل کے کل خشیت الٰہی سے، ہیبت رب سے لرزاں و ترساں رہا کرتے ہیں۔ ’ ان میں سے جو بھی خدائی کا دعویٰ کرے، ہم اسے جہنم واصل کردیں۔ ظالموں سے ہم ضرور انتقام لے لیا کرتے ہیں ‘۔ یہ بات بطور شرط ہے اور شرط کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس کا وقوع بھی ہو۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ خاص بندگان اللہ میں سے کوئی ایسا ناپاک دعویٰ کرے اور ایسی سخت سزا بھگتے۔ اسی طرح کی آیت «قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:81] اور «لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:65] ، ہے۔ پس نہ تو رحمن کی اولاد ہے نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک ممکن۔
28۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء صالحین کے علاوہ فرشتے بھی سفارش کریں گے۔ حدیث صحیح سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، لیکن یہ سفارش انہی کے حق میں ہوگی جن کے لئے اللہ تعالیٰ پسند فرمائے گا۔ اور ظاہر بات ہے کہ اللہ تعالیٰ سفارش اپنے نافرمان بندوں کے لئے نہیں، صرف گناہ گار مگر فرماں بردار بندوں یعنی اہل ایمان و توحید کے لئے پسند فرمائے گا۔
(آیت 28) ➊ { يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ:} یعنی جو کام وہ کر چکے یا جو آئندہ کریں گے وہ ان سب کو جانتا ہے۔ اس میں ان کے اس قدر اطاعت گزار اور فرماں بردار ہونے کی وجہ بیان فرمائی ہے، یعنی وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری پہلی، پچھلی، ظاہر اور پوشیدہ ہر بات جانتا ہے، اس لیے وہ اس کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ ➋ {وَ لَا يَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى:} یعنی وہ اسی کے حق میں سفارش کرتے ہیں جسے وہ پسند کرے اور جس کے حق میں سفارش کو پسند کرے اور اس کی اجازت دے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۵۵) اور سبا (۲۳) مراد اس سے اہل ایمان اور اہل توحید ہیں، کیونکہ کافر و مشرک نہ اللہ کو پسند ہیں اور نہ اسے ان کے حق میں سفارش پسند ہے۔ یہ سفارش دنیا میں بھی ہے، جیسا کہ فرشتے اہل ایمان کے حق میں دعا اور استغفار کرتے ہیں (دیکھیے سورۂ مومن: ۷ تا ۹) اور انبیاء و رسل بھی ان کے حق میں دعا کیا کرتے تھے۔ آخرت میں بھی فرشتے اور انبیاء سفارش کریں گے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ شَفَاعَتِيْ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِيْ ] [ مستدرک حاکم: ۱؍۶۹، ح: ۲۲۸، و صححہ الذھبی ] ”میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہوں والے لوگوں کے لیے ہو گی۔“ اس میں بھی اولاد کی نفی ہے، کیونکہ اولاد والد کی مرضی کے خلاف بھی سفارش کر سکتی ہے۔ ➌ { وَ هُمْ مِّنْ خَشْيَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ:} اس میں فرشتوں اور رسولوں کی اللہ تعالیٰ کے لیے انتہائی تعظیم کا ذکر فرمایا کہ وہ اس کے خوف کی وجہ سے ہمیشہ ڈرتے رہتے ہیں۔ یہ بھی اللہ کی اولاد نہ ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ والد اور اولاد کا یہ حال نہیں ہوتا۔
اور جو اُن میں سے کوئی کہہ دے کہ اللہ کے سوا میں بھی ایک خدا ہوں، تو اسے ہم جہنّم کی سزا دیں، ہمارے ہاں ظالموں کا یہی بدلہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان میں سے اگر کوئی بھی کہہ دے کہ اللہ کے سوا میں ﻻئق عبادت ہوں تو ہم اسے دوزخ کی سزا دیں ہم ﻇالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ان میں جو کوئی کہے کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں تو اسے ہم جہنم کی جزا دیں گے، ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں ستمگاروں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو (بالفرض) ان میں سے یہ کہہ دے کہ اللہ کے علاوہ میں خدا ہوں۔ تو ہم اسے جہنم کی سزا دیں گے ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان میں سے جو یہ کہے کہ میں اس کے سوا معبود ہوں تو یہی ہے جسے ہم جہنم کی جزا دیں گے۔ ایسے ہی ہم ظالموں کو جزا دیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خشیت الٰہی ٭٭
کفار مکہ کا خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے کہ ’ یہ بالکل غلط ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے ہیں، بڑی بڑائیوں والے ہیں اور ذی عزت ہیں۔ قولاً اور فعلاً ہروقت اطاعت الٰہی میں مشغول ہیں۔ نہ تو کسی امر میں اس سے آگے بڑھیں، نہ کسی بات میں اس کے فرمان کا خلاف کریں بلکہ جو وہ فرمائے، دوڑ کر اس کی بجا آوری کرتے ہیں۔ اللہ کے علم میں گھرے ہوئے ہیں اس پر ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ آگے پیچھے دائیں بائیں کا اسے علم ہے، ذرے ذرے کا وہ دانا ہے۔ یہ پاک فرشتے بھی اتنی مجال نہیں رکھتے کہ اللہ کے کسی مجرم کی اللہ کے سامنے اس کی مرضی کے خلاف سفارش کے لیے لب ہلا سکیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» ۱؎ [2-البقرة:255] ’ وہ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش اس کے پاس لے جا سکے؟ ‘ اور آیت میں ہے «وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ» ۱؎ [34-سبأ:23] یعنی ’ اس کے پاس کسی کی شفاعت اس کی اپنی اجازت کے بغیر چل نہیں سکتی ‘۔ اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ فرشتے اور اللہ کے مقرب بندے کل کے کل خشیت الٰہی سے، ہیبت رب سے لرزاں و ترساں رہا کرتے ہیں۔ ’ ان میں سے جو بھی خدائی کا دعویٰ کرے، ہم اسے جہنم واصل کردیں۔ ظالموں سے ہم ضرور انتقام لے لیا کرتے ہیں ‘۔ یہ بات بطور شرط ہے اور شرط کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس کا وقوع بھی ہو۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ خاص بندگان اللہ میں سے کوئی ایسا ناپاک دعویٰ کرے اور ایسی سخت سزا بھگتے۔ اسی طرح کی آیت «قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:81] اور «لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:65] ، ہے۔ پس نہ تو رحمن کی اولاد ہے نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک ممکن۔
29۔ 1 یعنی ان فرشتوں میں سے بھی اگر کوئی اللہ ہونے کا دعویٰ کر دے تو ہم اسے بھی جہنم میں پھینک دیں گے۔ یہ شرطیہ کلام ہے، جس کا وقوع ضروری نہیں۔ مقصد، شرک کی تردید اور توحید کا اثبات ہے۔ جیسے (قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ) 43۔ الزخرف:81) ' اگر بالفرض رحمٰن کی اولاد ہو تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والوں میں سے ہوں گا ' (لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ) 39۔ الزمر:65) ' اے پیغمبر! اگر تو بھی شرک کرے تو تیرے عمل برباد ہوجائیں گے ' یہ سب مشروط ہیں جن کا وقوع غیر ضروری ہے۔
(آیت 29) ➊ { وَ مَنْ يَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّيْۤ اِلٰهٌ …:} یعنی بالفرض اگر ان فرشتوں یا انبیاء میں سے کوئی یہ کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میری بندگی کرو، تو ہم اسے اس کی جزا جہنم دیں گے۔ فرشتوں اور انبیاء سے یہ بات کبھی سرزد نہیں ہو سکتی۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء کو شرک کرنے کی صورت میں تمام اعمال ضائع ہونے کی وعید سنائی ہے، حالانکہ انھوں نے شرک کرنا ہی نہیں تھا۔ دیکھیے سورۂ انعام (۸۳ تا ۸۸) اور زمر (۶۵)۔ ➋ { كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ:} اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا کہ ہر لحاظ سے ناقص اور فقیر مخلوق اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں رب اور معبود ہونے کا دعویٰ کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ شرک سے بڑا ظلم اور بے انصافی کوئی نہیں (لقمان: ۱۳) اور اسی لیے آخرت میں اس کی معافی کی کوئی صورت نہیں۔ دیکھیے سورۂ نساء (۴۸، ۱۱۶) اور مائدہ (۷۲)۔
کیا وہ لوگ جنہوں نے (نبیؐ کی بات ماننے سے) انکار کر دیا ہے غور نہیں کرتے کہ یہ سب آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے اِنہیں جدا کیا، اور پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی کیا وہ (ہماری اس خلّاقی کو) نہیں مانتے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا کافر لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان وزمین باہم ملے جلے تھے پھر ہم نے انہیں جدا کیا اور ہر زنده چیز کو ہم نے پانی سے پیدا کیا، کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں ﻻتے
احمد رضا خان بریلوی
کیا کافروں نے یہ خیال نہ کیا کہ آسمان اور زمین بند تھے تو ہم نے انہیں کھولا اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان لائیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا کافر اس بات پر غور نہیں کرتے کہ آسمان اور زمین پہلے آپس میں ملے ہوئے تھے پھر ہم نے دونوں کو جدا کیا۔ اور ہم نے (پہلے) ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا ہے۔ کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لاتے؟
عبدالسلام بن محمد
اور کیا جن لوگوں نے کفر کیا یہ نہیں دیکھا کہ سارے آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے تو ہم نے انھیں پھاڑ کر الگ کیا اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز بنائی، تو کیا یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زبردست غالب ٭٭
اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ اس کی قدرت پوری ہے اور اس کا غلبہ زبردست ہے۔ فرماتا ہے کہ’ جو کافر اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں، کیا انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ تمام مخلوق کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور سب چیز کا نگہبان بھی وہی ہے، پھر اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت تم کیوں کرتے ہو؟ ‘ ابتداء میں زمین و آسمان ملے جلے ایک دوسرے سے پیوست تہ بہ تہ تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں الگ الگ کیا۔ زمینوں کو نیچے، آسمانوں کو اوپر فاصلے سے اور حکمت سے قائم کیا۔ سات زمینیں پیدا کیں اور سات ہی آسمان بنائے۔ زمین اور پہلے آسمان کے درمیان جوف اور خلأ رکھا۔ آسمان سے پانی برسایا اور زمین سے پیداوار اگائی۔ ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی۔ کیا یہ تمام چیزیں جن میں سے ہر ایک صانع کی خود مختاری، قدرت اور وحدت پر دلالت کرتی ہے، اپنے سامنے موجود پاتے ہوئے بھی یہ لوگ اللہ کی عظمت کے قائل ہو کر شرک کو نہیں چھوڑتے؟ ؎ «فَفِيْ كُلِّ شَيِْئ لَّهُ ايَةٌ» «تَدُلُّ عَلٰي اَنَّهُ وَاحِدٌ» یعنی ہرچیز میں اللہ کی الوہیت اور اس کی وحدانیت کا نشان موجود ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ پہلے رات تھی یا دن؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”پہلے زمین و آسمان ملے جلے تہ بہ تہ تھے تو ظاہر ہے کہ ان میں اندھیرا ہوگا اور اندھیرے کا نام ہی رات ہے تو ثابت ہوا کہ رات پہلے تھی۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/18:] سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”تم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کرو اور جو وہ جواب دیں، مجھ سے بھی کہو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”زمین و آسمان سب ایک ساتھ تھے، نہ بارش برستی تھی نہ پیداوار اگتی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ذی روح مخلوق پیدا کی تو آسمان کو پھاڑ کر اس میں سے پانی برسایا اور زمین کو چیر کر اس میں پیداوار اگائی۔“ جب سائل نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ جواب بیان کیا تو آپ رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے، ”آج مجھے اور بھی یقین ہو گیا کہ قرآن کے علم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ بہت ہی بڑھے ہوئے ہیں۔ میرے جی میں کبھی خیال آتا تھا کہ ایسا تو نہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی جرأت بڑھ گئی ہو؟ لیکن آج وہ وسوسہ دل سے جاتا رہا۔“ آسمان کو پھاڑ کر سات آسمان بنائے۔ زمین کے مجموعے کو چیر کر سات زمینیں بنائیں۔
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر میں یہ بھی ہے کہ یہ ملے ہوئے تھے یعنی پہلے ساتوں آسمان ایک ساتھ تھے اور اسی طرح ساتوں زمینیں بھی ملی ہوئی تھیں پھر جدا جدا کر دی گئیں۔ سعید رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر ہے کہ یہ دونوں پہلے ایک ہی تھے پھر الگ الگ کر دیئے گئے۔ زمین و آسمان کے درمیان خلا رکھ دی گئی۔ پانی کو تمام جانداروں کی اصل بنا دیا۔ { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا ہوں میرا جی خوش ہو جاتا ہے اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام چیزوں کی اصلیت سے خبردار کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابوہریرہ تمام چیزیں پانی سے پیدا کی گئی ہیں } }۔ [مسند احمد:295/2:صحیح] اور روایت میں ہے کہ { پھر میں نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لوگوں کو سلام کیا کرو اور کھانا کھلایا کرو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور رات کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو تم تہجد کی نماز پڑھا کرو تاکہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ } }۔ ۱؎ [مسند احمد:493/2:صحیح] زمین کو جناب باری عزوجل نے پہاڑوں کی میخوں سے مضبوط کر دیا تاکہ وہ ہل جل کر لوگوں کو پریشان نہ کرے اور مخلوق کو زلزلے میں نہ ڈالے۔ زمین کی تین چوتھائیاں تو پانی میں ہیں اور صرف چوتھائی حصہ سورج اور ہوا کے لیے کھلا ہوا ہے۔ تاکہ لوگ آسمان کو اور اس کے عجائبات کو بچشم خود ملاحظہ کر سکیں۔ پھر زمین میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ سے راہیں بنا دیں کہ لوگ باآسانی اپنے سفر طے کر سکیں اور دور دراز ملکوں میں بھی پہنچ سکیں۔
شان الٰہی دیکھئیے اس حصے اور اس ٹکڑے کے درمیان بلند پہاڑی حائل ہے۔ یہاں سے وہاں پہنچنا بظاہر سخت دشوار معلوم ہوتا ہے لیکن قدرت الٰہی خود اس پہاڑ میں راستہ بنا دیتی ہے کہ یہاں کے لوگ وہاں اور وہاں کے یہاں پہنچ جائیں اور اپنے کام کاج پورے کر لیں۔ آسمان کو زمین پر مثل قبے کے بنا دیا۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ» ۱؎ [51-الذاريات:47] ’ ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ہم وسعت اور کشادگی والے ہیں ‘۔ فرماتا ہے «وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:5] ’ قسم آسمان کی اور اس کی بناوٹ کی ‘۔ ارشاد ہے، «أَفَلَمْ يَنظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ» ۱؎ [50-ق:6] ’ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے سروں پر آسمان کو کس کیفیت کا بنایا ہے اور کس طرح زینت دے رکھی ہے اور لطف یہ ہے کہ اتنے بڑے آسمان میں کوئی سوراخ تک نہیں ‘۔ «بنا» کہتے ہیں، قبے یا خیمے کے کھڑا کرنے کو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { «بُنِىَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ» اسلام کی بنائیں پانچ ہیں جیسے پانچ ستون پر کوئی قبہ یا خیمہ کھڑا ہوا ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:8] پھر آسمان جو مثل چھت کے ہے، یہ ہے بھی محفوظ اور بلند پہرے چوکی والا کہ کہیں سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ بلندو بالا، اونچا اور صاف ہے۔ جیسے حدیث میں ہے کہ { کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یہ آسمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { رکی ہوئی موج ہے } }۔ ۱؎ [ابو الشيخ فى العظمة:541] یہ روایت سنداً غریب ہے۔
لیکن لوگ اللہ پاک کی ان زبردست نشانیوں سے بھی بے پرواہ ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَكَأَيِّن مِّنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ» ۱؎ [12-یوسف:105] ’ آسمان و زمین کی بہت سی نشانیاں ہیں جو لوگوں کی نگاہوں تلے ہیں لیکن پھر بھی وہ ان سے منہ موڑے ہوئے ہیں ‘۔ کوئی غور و فکر ہی نہیں کرتے، کبھی نہیں سوچتے کہ کتنا پھیلا ہوا، کتنا بلند، کس قدر عظیم الشان یہ آسمان ہمارے سروں پر بغیر ستون کے اللہ تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے۔ پھر اس میں کس خوبصورتی سے ستاروں کاجڑاؤ ہو رہا ہے۔ ان میں بھی کوئی ٹھہرا ہوا ہے، کوئی چلتا پھرتا ہے۔ پھر سورج کی چال مقرر ہے۔ اس کی موجودگی دن ہے اس کا نظر نہ آنا رات ہے۔ پورے آسمان کا چکر صرف ایک دن رات میں سورج پورا کر لیتا ہے۔ اس کی چال کو، اس کی تیزی کو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ یوں قیاس آرائیاں اور اندازے کرنا اور بات ہے۔ بنی اسرائیل کے عابدوں میں سے ایک نے اپنی تیس سال کی مدت عبادت پوری کرلی مگر جس طرح اور عابدوں پر تیس سال کی عبادت کے بعد ابر کا سایہ ہو جایا کرتا تھا، اس پر نہ ہوا تو اس نے اپنی والدہ سے یہ حال بیان کیا۔ اس نے کہا، بیٹے تم نے اپنی اس عبادت کے زمانے میں کوئی گناہ کر لیا ہوگا؟ اس نے کہا اماں ایک بھی نہیں۔ کہا پھر تم نے کسی گناہ کا پورا قصد کیا ہوگا؟ جواب دیا کہ ایسا بھی مطلقاً نہیں ہوا۔ ماں نے کہا، بہت ممکن ہے کہ تم نے آسمان کی طرف نظر کی ہو اور غور و تدبر کے بغیر ہی ہٹالی ہو۔ عابد نے جواب دیا ایسا تو برابر ہوتا رہا، فرمایا بس یہی سبب ہے۔ پھر اپنی قدرت کاملہ کی بعض نشانیاں بیان فرماتا ہے کہ ’ رات اور اس کے اندھیرے کو دیکھو، دن اور اس کی روشنی پر نظر ڈالو، پھر ایک کے بعد دوسرے کا بڑھنا دیکھو، سورج چاند کو دیکھو۔ سورج کا نور ایک مخصوص نور ہے اور اس کا آسمان، اس کا زمانہ، اس کی حرکت، اس کی چال علیحدہ ہے۔ چاند کا نور الگ ہے، فلک الگ ہے، چال الگ ہے، انداز اور ہے ‘۔ «وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ’ ہر ایک اپنے اپنے فلک میں گویا تیرتا پھرتا ہے اور حکم الٰہی کی بجا آوری میں مشغول ہے ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/18:] جیسے فرمان ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» ۱؎ [6-الأنعام:96] ’ وہی صبح کاروشن کرنے والا ہے وہی رات کو پرسکون بنانے والا ہے۔ وہی سورج چاند کا انداز مقرر کرنے والا ہے۔ وہی ذی عزت، غلبے والا اور ذی علم علم والا ہے ‘۔
30۔ 1 یعنی آسمان و زمین، ابتدائے امر ہیں، باہم ملے ہوئے اور ایک دوسرے کے ساتھ پیوست تھے۔ ہم نے ان کو ایک دوسرے سے الگ کیا، آسمانوں کو اوپر کردیا جس سے بارش برستی ہے اور زمین کو اپنی جگہ پر رہنے دیا، تاہم وہ پیداوار کے قابل ہوگئی۔ 30۔ 2 اس سے مراد اگر بارش اور چشموں کا پانی ہے، تب بھی واضح ہے کہ اس کی روئیدگی ہوتی ہے اور ہر ذی روح کو حیات نو ملتی ہے اور اگر مراد نطفہ ہے، تو اس میں بھی کوئی اشکال نہیں کہ ہر زندہ چیز کے وجود کے باعث وہ قطرہ آب ہے جو نر کی پیٹھ کی ہڈیوں سے نکلتا اور مادہ کے رحم میں جاکر قرار پکڑتا ہے۔
(آیت 30) ➊ {اَوَ لَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا …: ” رَتْقًا “} کا معنی دو یا کئی چیزوں کا آپس میں سختی سے جڑا اور چپکا ہوا ہونا ہے، خواہ وہ فطری ہو (جیسے پتھر) یا کسی کے بنانے سے۔ (راغب) یہ مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے، یعنی بالکل بند۔ {” فَتْقٌ “} کا معنی ایسی جڑی ہوئی چیزوں کو الگ الگ کرنا ہے۔ {” اَوَ لَمْ يَرَ “} کا معنی ہے ”اور کیا دیکھا نہیں“ اور جہاں دیکھی جانے والی چیز نہ ہو وہاں معنی ہے ”اور کیا جانا نہیں۔“ (دیکھیے سورۂ فیل) اس آیت کے دو معنی ہیں اور دونوں درست ہیں۔ طبری نے حسن سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل کیا ہے: [ كَانَتَا مُلْتَزِقَتَيْنِ ] ”سارے آسمان اور زمین آپس میں سختی سے ملے ہوئے تھے۔“ یعنی کیا یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ بے بس ہستیوں کو شریک بنا رہے ہیں، انھیں معلوم نہیں کہ سارے آسمان اور زمین ایک ٹھوس تودہ تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی بے پناہ قوت اور کمالِ قدرت کے ساتھ ان کو الگ الگ کرکے درمیان میں ہوا اور خلا کا فاصلہ کر دیا اور آسمانوں کو سات آسمان اور زمین کو سات زمینیں بنا دیا۔ دیکھیے سورۂ طلاق(۱۲) بھلا اس کے سوا کسی کی یہ مجال ہے؟ آج کل سائنس بھی تسلیم کرتی ہے کہ کائنات پہلے ایک تودے کی شکل میں تھی، پھر ایک بہت بڑے دھماکے کے ساتھ جدا جدا ہوئی، مگر بے چارے سائنس دان وہ دھماکا کرنے والے سے ناآشنا ہی رہے۔ (الا ما شاء اللہ) دوسرا معنی یہ ہے کہ کیا اللہ کی توحید کے منکروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان بند تھا، اس سے ایک قطرہ نہیں برستا تھا اور زمین بند تھی، اس سے ایک پتا نہیں اگتا تھا؟ ہم نے اپنی قدرتِ کاملہ کے ساتھ اپنی مخلوق کے فائدے کے لیے بارش کے ساتھ آسمان کے دہانے کھول دیے اور اس کے ساتھ زمین کے مسام کھول کر طرح طرح کی نباتات پیدا فرما دیں۔ ➋ { وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ:} اس میں انسان، حیوان، پودے اور درخت سب شامل ہیں۔ پانی سے جاندار چیز کی پیدائش کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نور (۴۵) اور نباتات کی پیدائش کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۹۹)۔ ➌ ہمارے استاذ محمد عبدہ رحمہ اللہ امام رازی سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”یعنی جن چیزوں میں جان ہے، جیسے حیوانات اور نباتات، ان سب کی پیدائش پانی سے ہے، لیکن فرشتے اور جن یا دوسری کوئی چیز جس کے متعلق ثابت ہو جائے کہ اس کے مادہ میں پانی کو دخل نہیں ہے، وہ اس سے مستثنیٰ قرار پائیں گی۔“ (کبیر) دراصل یہ اس سوال کا جواب ہے کہ فرشتے اور جن تو پانی سے نہیں بلکہ نور اور آگ سے پیدا ہوئے ہیں، ان کی پیدائش پانی سے کیسے تسلیم کی جا سکتی ہے؟ اس جواب کی بنیاد اس بات پر ہے کہ {” كُلٌّ “} سے مراد کائنات کی ہر چیز نہیں ہوتی، بلکہ ہر موقع کی مناسبت سے {”كُلٌّ“} کا معنی کیا جاتا ہے، جیسا کہ ملکہ سبا کے متعلق ہد ہد نے کہا تھا: «{ وَ اُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ }» [ النمل: ۲۳ ] ”اور اسے ہر چیز میں سے حصہ دیا گیا ہے۔“ اور قوم عاد پر آنے والی آندھی کے متعلق اللہ نے فرمایا: «{ تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا }» [ الأحقاف: ۲۵ ] ”جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی۔“مفسر رازی کا یہ جواب معقول ہے۔ تاہم اگر {” كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ “} ہر زندہ چیز کا وجود پانی سے مان لیا جائے، جس میں انسان کے ساتھ جن اور فرشتے بھی شامل ہوں تو کچھ بعید نہیں، جب مٹی سے بننے والے انسان کا اصل پانی ہے تو آگ اور نور سے بننے والے جنوں اور فرشتوں کا اصل بھی پانی ہو سکتا ہے۔ آج جب ایٹم کو پھاڑنے کی صورت میں مادے کا توانائی میں بدلنا مشاہدے سے ثابت ہو چکا ہے، جس سے انسان کو بے پناہ تعمیری اور تخریبی قوت حاصل ہوئی ہے اور قیامت کے دن سمندر کے پانی آگ کی صورت اختیار کر جائیں گے (دیکھیے سورۂ تکویر: ۶) تو اللہ کے حکم سے پانی آگ کے علاوہ نور کی صورت بھی اختیار کر سکتا ہے۔ (واللہ اعلم) ➍ { اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ:} یعنی زمین و آسمان میں حیرت انگیز نظام قائم کرنے والے ہم ہیں، کوئی اور نہیں، کیا اس پر بھی یہ لوگ توحید کا راستہ اختیار نہیں کرتے، بلکہ دوسروں کو ہمارا شریک سمجھ رہے ہیں؟ ➎ رازی فرماتے ہیں: ”اس آیت (۳۰) سے آیت (۳۳) تک چار آیات میں کائنات کو بنانے والے کے وجود اور اس کے صرف ایک ہونے کے چھ قسم کے دلائل مذکور ہیں۔“ (کبیر)
اور ہم نے زمین میں پہاڑ جما دیے تاکہ وہ انہیں لے کر ڈھلک نہ جائے اور اس میں کشادہ راہیں بنا دیں، شاید کہ لوگ اپنا راستہ معلوم کر لیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنا دیئے تاکہ وه مخلوق کو ہلا نہ سکے، اور ہم نے اس میں کشاده راہیں بنا دیں تاکہ وه راستہ حاصل کریں
احمد رضا خان بریلوی
اور زمین میں ہم نے لنگر ڈالے کہ انھیں لے کر نہ کانپے اور ہم نے اس میں کشادہ راہیں رکھیں کہ کہیں وہ راہ پائیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے زمین میں پہاڑ قرار دیئے تاکہ وہ لوگوں کو لے کر ڈھلک نہ جائے اور ہم نے ان (پہاڑوں) میں کشادہ راستے بنائے تاکہ وہ راہ پائیں (اور منزل مقصود تک پہنچ جائیں)۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے کہ وہ انھیں ہلا نہ دے اور ہم نے ان میں کشادہ راستے بنا دیے، تاکہ وہ راہ پائیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زبردست غالب ٭٭
اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ اس کی قدرت پوری ہے اور اس کا غلبہ زبردست ہے۔ فرماتا ہے کہ’ جو کافر اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں، کیا انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ تمام مخلوق کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور سب چیز کا نگہبان بھی وہی ہے، پھر اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت تم کیوں کرتے ہو؟ ‘ ابتداء میں زمین و آسمان ملے جلے ایک دوسرے سے پیوست تہ بہ تہ تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں الگ الگ کیا۔ زمینوں کو نیچے، آسمانوں کو اوپر فاصلے سے اور حکمت سے قائم کیا۔ سات زمینیں پیدا کیں اور سات ہی آسمان بنائے۔ زمین اور پہلے آسمان کے درمیان جوف اور خلأ رکھا۔ آسمان سے پانی برسایا اور زمین سے پیداوار اگائی۔ ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی۔ کیا یہ تمام چیزیں جن میں سے ہر ایک صانع کی خود مختاری، قدرت اور وحدت پر دلالت کرتی ہے، اپنے سامنے موجود پاتے ہوئے بھی یہ لوگ اللہ کی عظمت کے قائل ہو کر شرک کو نہیں چھوڑتے؟ ؎ «فَفِيْ كُلِّ شَيِْئ لَّهُ ايَةٌ» «تَدُلُّ عَلٰي اَنَّهُ وَاحِدٌ» یعنی ہرچیز میں اللہ کی الوہیت اور اس کی وحدانیت کا نشان موجود ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ پہلے رات تھی یا دن؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”پہلے زمین و آسمان ملے جلے تہ بہ تہ تھے تو ظاہر ہے کہ ان میں اندھیرا ہوگا اور اندھیرے کا نام ہی رات ہے تو ثابت ہوا کہ رات پہلے تھی۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/18:] سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”تم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کرو اور جو وہ جواب دیں، مجھ سے بھی کہو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”زمین و آسمان سب ایک ساتھ تھے، نہ بارش برستی تھی نہ پیداوار اگتی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ذی روح مخلوق پیدا کی تو آسمان کو پھاڑ کر اس میں سے پانی برسایا اور زمین کو چیر کر اس میں پیداوار اگائی۔“ جب سائل نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ جواب بیان کیا تو آپ رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے، ”آج مجھے اور بھی یقین ہو گیا کہ قرآن کے علم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ بہت ہی بڑھے ہوئے ہیں۔ میرے جی میں کبھی خیال آتا تھا کہ ایسا تو نہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی جرأت بڑھ گئی ہو؟ لیکن آج وہ وسوسہ دل سے جاتا رہا۔“ آسمان کو پھاڑ کر سات آسمان بنائے۔ زمین کے مجموعے کو چیر کر سات زمینیں بنائیں۔
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر میں یہ بھی ہے کہ یہ ملے ہوئے تھے یعنی پہلے ساتوں آسمان ایک ساتھ تھے اور اسی طرح ساتوں زمینیں بھی ملی ہوئی تھیں پھر جدا جدا کر دی گئیں۔ سعید رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر ہے کہ یہ دونوں پہلے ایک ہی تھے پھر الگ الگ کر دیئے گئے۔ زمین و آسمان کے درمیان خلا رکھ دی گئی۔ پانی کو تمام جانداروں کی اصل بنا دیا۔ { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا ہوں میرا جی خوش ہو جاتا ہے اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام چیزوں کی اصلیت سے خبردار کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابوہریرہ تمام چیزیں پانی سے پیدا کی گئی ہیں } }۔ [مسند احمد:295/2:صحیح] اور روایت میں ہے کہ { پھر میں نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لوگوں کو سلام کیا کرو اور کھانا کھلایا کرو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور رات کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو تم تہجد کی نماز پڑھا کرو تاکہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ } }۔ ۱؎ [مسند احمد:493/2:صحیح] زمین کو جناب باری عزوجل نے پہاڑوں کی میخوں سے مضبوط کر دیا تاکہ وہ ہل جل کر لوگوں کو پریشان نہ کرے اور مخلوق کو زلزلے میں نہ ڈالے۔ زمین کی تین چوتھائیاں تو پانی میں ہیں اور صرف چوتھائی حصہ سورج اور ہوا کے لیے کھلا ہوا ہے۔ تاکہ لوگ آسمان کو اور اس کے عجائبات کو بچشم خود ملاحظہ کر سکیں۔ پھر زمین میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ سے راہیں بنا دیں کہ لوگ باآسانی اپنے سفر طے کر سکیں اور دور دراز ملکوں میں بھی پہنچ سکیں۔
شان الٰہی دیکھئیے اس حصے اور اس ٹکڑے کے درمیان بلند پہاڑی حائل ہے۔ یہاں سے وہاں پہنچنا بظاہر سخت دشوار معلوم ہوتا ہے لیکن قدرت الٰہی خود اس پہاڑ میں راستہ بنا دیتی ہے کہ یہاں کے لوگ وہاں اور وہاں کے یہاں پہنچ جائیں اور اپنے کام کاج پورے کر لیں۔ آسمان کو زمین پر مثل قبے کے بنا دیا۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ» ۱؎ [51-الذاريات:47] ’ ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ہم وسعت اور کشادگی والے ہیں ‘۔ فرماتا ہے «وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:5] ’ قسم آسمان کی اور اس کی بناوٹ کی ‘۔ ارشاد ہے، «أَفَلَمْ يَنظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ» ۱؎ [50-ق:6] ’ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے سروں پر آسمان کو کس کیفیت کا بنایا ہے اور کس طرح زینت دے رکھی ہے اور لطف یہ ہے کہ اتنے بڑے آسمان میں کوئی سوراخ تک نہیں ‘۔ «بنا» کہتے ہیں، قبے یا خیمے کے کھڑا کرنے کو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { «بُنِىَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ» اسلام کی بنائیں پانچ ہیں جیسے پانچ ستون پر کوئی قبہ یا خیمہ کھڑا ہوا ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:8] پھر آسمان جو مثل چھت کے ہے، یہ ہے بھی محفوظ اور بلند پہرے چوکی والا کہ کہیں سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ بلندو بالا، اونچا اور صاف ہے۔ جیسے حدیث میں ہے کہ { کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یہ آسمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { رکی ہوئی موج ہے } }۔ ۱؎ [ابو الشيخ فى العظمة:541] یہ روایت سنداً غریب ہے۔
لیکن لوگ اللہ پاک کی ان زبردست نشانیوں سے بھی بے پرواہ ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَكَأَيِّن مِّنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ» ۱؎ [12-یوسف:105] ’ آسمان و زمین کی بہت سی نشانیاں ہیں جو لوگوں کی نگاہوں تلے ہیں لیکن پھر بھی وہ ان سے منہ موڑے ہوئے ہیں ‘۔ کوئی غور و فکر ہی نہیں کرتے، کبھی نہیں سوچتے کہ کتنا پھیلا ہوا، کتنا بلند، کس قدر عظیم الشان یہ آسمان ہمارے سروں پر بغیر ستون کے اللہ تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے۔ پھر اس میں کس خوبصورتی سے ستاروں کاجڑاؤ ہو رہا ہے۔ ان میں بھی کوئی ٹھہرا ہوا ہے، کوئی چلتا پھرتا ہے۔ پھر سورج کی چال مقرر ہے۔ اس کی موجودگی دن ہے اس کا نظر نہ آنا رات ہے۔ پورے آسمان کا چکر صرف ایک دن رات میں سورج پورا کر لیتا ہے۔ اس کی چال کو، اس کی تیزی کو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ یوں قیاس آرائیاں اور اندازے کرنا اور بات ہے۔ بنی اسرائیل کے عابدوں میں سے ایک نے اپنی تیس سال کی مدت عبادت پوری کرلی مگر جس طرح اور عابدوں پر تیس سال کی عبادت کے بعد ابر کا سایہ ہو جایا کرتا تھا، اس پر نہ ہوا تو اس نے اپنی والدہ سے یہ حال بیان کیا۔ اس نے کہا، بیٹے تم نے اپنی اس عبادت کے زمانے میں کوئی گناہ کر لیا ہوگا؟ اس نے کہا اماں ایک بھی نہیں۔ کہا پھر تم نے کسی گناہ کا پورا قصد کیا ہوگا؟ جواب دیا کہ ایسا بھی مطلقاً نہیں ہوا۔ ماں نے کہا، بہت ممکن ہے کہ تم نے آسمان کی طرف نظر کی ہو اور غور و تدبر کے بغیر ہی ہٹالی ہو۔ عابد نے جواب دیا ایسا تو برابر ہوتا رہا، فرمایا بس یہی سبب ہے۔ پھر اپنی قدرت کاملہ کی بعض نشانیاں بیان فرماتا ہے کہ ’ رات اور اس کے اندھیرے کو دیکھو، دن اور اس کی روشنی پر نظر ڈالو، پھر ایک کے بعد دوسرے کا بڑھنا دیکھو، سورج چاند کو دیکھو۔ سورج کا نور ایک مخصوص نور ہے اور اس کا آسمان، اس کا زمانہ، اس کی حرکت، اس کی چال علیحدہ ہے۔ چاند کا نور الگ ہے، فلک الگ ہے، چال الگ ہے، انداز اور ہے ‘۔ «وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ’ ہر ایک اپنے اپنے فلک میں گویا تیرتا پھرتا ہے اور حکم الٰہی کی بجا آوری میں مشغول ہے ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/18:] جیسے فرمان ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» ۱؎ [6-الأنعام:96] ’ وہی صبح کاروشن کرنے والا ہے وہی رات کو پرسکون بنانے والا ہے۔ وہی سورج چاند کا انداز مقرر کرنے والا ہے۔ وہی ذی عزت، غلبے والا اور ذی علم علم والا ہے ‘۔
31۔ 1 یعنی اگر زمین پر یہ بڑے بڑے پہاڑ نہ ہوتے تو زمین جنبش اور لرزش ہوتی رہتی، جس کی وجہ سے انسانوں اور حیوانوں کے لئے زمین مسکن اور مستقر بننے کی صلاحیت سے محروم رہتی۔ ہم نے پہاڑوں کا بوجھ اس پر ڈال کر اسے ڈانوا ڈول ہونے سے محفوظ کردیا۔ 31۔ 2 اس سے مراد زمین یا پہاڑ ہیں، یعنی زمین میں کشادہ راستے بنا دیئے یا پہاڑوں میں درے رکھ دیئے، جس سے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں آنا جانا آسان ہوگیا، دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے تاکہ ان کے ذریعے سے اپنی معاش کے مصالح و مفادات حاصل کرسکیں۔
(آیت 31) ➊ { وَ جَعَلْنَا فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ: ” رَوَاسِيَ “ ”رَاسِيَةٌ“} کی جمع ہے جو {”رَسَا يَرْسُوْ رُسُوًّا“} سے اسم فاعل ہے، یعنی زمین میں گڑے ہوئے۔ ارضیات کے ماہروں پر اب یہ حقیقت ظاہر ہوئی ہے کہ پہاڑوں کا بہت بڑا حصہ زمین کے نیچے گڑا ہوا ہے۔ ➋ { اَنْ تَمِيْدَ بِهِمْ: ”مَادَ يَمِيْدُ مَيْدًا وَ مَيْدَانًا“} حرکت کرنا، ٹیڑھا ہونا۔ (قاموس) {” اَنْ تَمِيْدَ “} اصل میں {”أَنْ لَا تَمِيْدَ“} ہے۔ یہ تیسری دلیل ہے، یعنی اگر زمین میں یہ بھاری پہاڑ نہ گاڑ دیے جاتے تو اس میں ہر وقت زلزلے اور حرکت کی حالت رہتی، اس میں نہ وہ توازن ہوتا اور نہ سکون جو مخلوق کے رہنے کے لیے ضروری ہے۔ وہ کسی وقت بھی ایک طرف جھک جاتی، یا زلزلے سے دو چار رہتی جس سے زمین کے ستر فیصد حصے پر پھیلا ہوا سمندر کا پانی خشکی پر چڑھ دوڑتا اور زمین پر ایک متنفس بھی باقی نہ رہتا۔ اب بھی کبھی کبھار اللہ تعالیٰ زلزلے کے ذریعے سے اپنی نعمت یاد دلاتا رہتا ہے، جس سے سمندر کا پانی خشکی پر چڑھ دوڑتا ہے اور میلوں تک آبادیوں کو نیست و نابود کر دیتا ہے۔ ➌ { وَ جَعَلْنَا فِيْهَا فِجَاجًا سُبُلًا: ” فِجَاجًا “ ” فَجٌّ“} کی جمع ہے، یعنی پہاڑوں کے درمیان کھلا راستہ۔ زمخشری نے {” فِجَاجًا “} کو {”سُبُلًا “} سے حال قرار دیا ہے، کیونکہ یہ نکرہ {” سُبُلًا “} کی صفت ہے جو پہلے آئی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ لِتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا }» [ نوح: ۲۰ ] ”تاکہ تم اس کے کھلے راستوں پر چلو۔“ یعنی اگر یہ بلند اور ٹھوس پہاڑ اس طرح واقع ہوتے کہ ان میں کوئی راستہ نہ ہوتا، یا ان میں ڈھلوان نہ ہوتی بلکہ عموداً کھڑے ہوتے تو نہ زمین کی ایک طرف کے لوگ دوسری طرف جا سکتے، نہ ایک شہر کے لوگ دوسرے شہر کے لوگوں سے مل سکتے اور نہ خود پہاڑوں پر آبادی ہو سکتی۔ یہ ہماری قدرت کا کمال ہے کہ ہم نے پہاڑوں میں ندی نالوں، دروں اور ڈھلوانوں کی صورت میں آنے جانے کے کشادہ راستے بنا دیے ہیں، جس سے پہاڑ بھی میدانوں کی طرح آباد ہیں۔ ➍ { لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ:} تاکہ وہ زمین میں جہاں جانا چاہیں اس کے لیے راہ پا سکیں اور تاکہ وہ زمین و آسمان اور پہاڑوں کی پیدائش میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کرشمے دیکھ کر اس کی توحید کی راہ پا سکیں۔ {” يَهْتَدُوْنَ “} میں دونوں مفہوم شامل ہیں۔
اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا، مگر یہ ہیں کہ اس کی نشانیوں کی طرف توجّہ ہی نہیں کرتے
مولانا محمد جوناگڑھی
آسمان کو محفوظ چھت بھی ہم نے ہی بنایا ہے۔ لیکن لوگ اس کی قدرت کے نمونوں پر دھیان نہیں دھرتے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے آسمان کو چھت بنایا نگاہ رکھی گئی اور وہ اس کی نشانیوں سے روگرداں ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا مگر یہ لوگ پھر بھی اس کی نشانیوں سے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا اور وہ اس کی نشانیوں سے منہ پھیرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زبردست غالب ٭٭
اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ اس کی قدرت پوری ہے اور اس کا غلبہ زبردست ہے۔ فرماتا ہے کہ’ جو کافر اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں، کیا انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ تمام مخلوق کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور سب چیز کا نگہبان بھی وہی ہے، پھر اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت تم کیوں کرتے ہو؟ ‘ ابتداء میں زمین و آسمان ملے جلے ایک دوسرے سے پیوست تہ بہ تہ تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں الگ الگ کیا۔ زمینوں کو نیچے، آسمانوں کو اوپر فاصلے سے اور حکمت سے قائم کیا۔ سات زمینیں پیدا کیں اور سات ہی آسمان بنائے۔ زمین اور پہلے آسمان کے درمیان جوف اور خلأ رکھا۔ آسمان سے پانی برسایا اور زمین سے پیداوار اگائی۔ ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی۔ کیا یہ تمام چیزیں جن میں سے ہر ایک صانع کی خود مختاری، قدرت اور وحدت پر دلالت کرتی ہے، اپنے سامنے موجود پاتے ہوئے بھی یہ لوگ اللہ کی عظمت کے قائل ہو کر شرک کو نہیں چھوڑتے؟ ؎ «فَفِيْ كُلِّ شَيِْئ لَّهُ ايَةٌ» «تَدُلُّ عَلٰي اَنَّهُ وَاحِدٌ» یعنی ہرچیز میں اللہ کی الوہیت اور اس کی وحدانیت کا نشان موجود ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ پہلے رات تھی یا دن؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”پہلے زمین و آسمان ملے جلے تہ بہ تہ تھے تو ظاہر ہے کہ ان میں اندھیرا ہوگا اور اندھیرے کا نام ہی رات ہے تو ثابت ہوا کہ رات پہلے تھی۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/18:] سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”تم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کرو اور جو وہ جواب دیں، مجھ سے بھی کہو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”زمین و آسمان سب ایک ساتھ تھے، نہ بارش برستی تھی نہ پیداوار اگتی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ذی روح مخلوق پیدا کی تو آسمان کو پھاڑ کر اس میں سے پانی برسایا اور زمین کو چیر کر اس میں پیداوار اگائی۔“ جب سائل نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ جواب بیان کیا تو آپ رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے، ”آج مجھے اور بھی یقین ہو گیا کہ قرآن کے علم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ بہت ہی بڑھے ہوئے ہیں۔ میرے جی میں کبھی خیال آتا تھا کہ ایسا تو نہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی جرأت بڑھ گئی ہو؟ لیکن آج وہ وسوسہ دل سے جاتا رہا۔“ آسمان کو پھاڑ کر سات آسمان بنائے۔ زمین کے مجموعے کو چیر کر سات زمینیں بنائیں۔
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر میں یہ بھی ہے کہ یہ ملے ہوئے تھے یعنی پہلے ساتوں آسمان ایک ساتھ تھے اور اسی طرح ساتوں زمینیں بھی ملی ہوئی تھیں پھر جدا جدا کر دی گئیں۔ سعید رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر ہے کہ یہ دونوں پہلے ایک ہی تھے پھر الگ الگ کر دیئے گئے۔ زمین و آسمان کے درمیان خلا رکھ دی گئی۔ پانی کو تمام جانداروں کی اصل بنا دیا۔ { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا ہوں میرا جی خوش ہو جاتا ہے اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام چیزوں کی اصلیت سے خبردار کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابوہریرہ تمام چیزیں پانی سے پیدا کی گئی ہیں } }۔ [مسند احمد:295/2:صحیح] اور روایت میں ہے کہ { پھر میں نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لوگوں کو سلام کیا کرو اور کھانا کھلایا کرو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور رات کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو تم تہجد کی نماز پڑھا کرو تاکہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ } }۔ ۱؎ [مسند احمد:493/2:صحیح] زمین کو جناب باری عزوجل نے پہاڑوں کی میخوں سے مضبوط کر دیا تاکہ وہ ہل جل کر لوگوں کو پریشان نہ کرے اور مخلوق کو زلزلے میں نہ ڈالے۔ زمین کی تین چوتھائیاں تو پانی میں ہیں اور صرف چوتھائی حصہ سورج اور ہوا کے لیے کھلا ہوا ہے۔ تاکہ لوگ آسمان کو اور اس کے عجائبات کو بچشم خود ملاحظہ کر سکیں۔ پھر زمین میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ سے راہیں بنا دیں کہ لوگ باآسانی اپنے سفر طے کر سکیں اور دور دراز ملکوں میں بھی پہنچ سکیں۔
شان الٰہی دیکھئیے اس حصے اور اس ٹکڑے کے درمیان بلند پہاڑی حائل ہے۔ یہاں سے وہاں پہنچنا بظاہر سخت دشوار معلوم ہوتا ہے لیکن قدرت الٰہی خود اس پہاڑ میں راستہ بنا دیتی ہے کہ یہاں کے لوگ وہاں اور وہاں کے یہاں پہنچ جائیں اور اپنے کام کاج پورے کر لیں۔ آسمان کو زمین پر مثل قبے کے بنا دیا۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ» ۱؎ [51-الذاريات:47] ’ ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ہم وسعت اور کشادگی والے ہیں ‘۔ فرماتا ہے «وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:5] ’ قسم آسمان کی اور اس کی بناوٹ کی ‘۔ ارشاد ہے، «أَفَلَمْ يَنظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ» ۱؎ [50-ق:6] ’ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے سروں پر آسمان کو کس کیفیت کا بنایا ہے اور کس طرح زینت دے رکھی ہے اور لطف یہ ہے کہ اتنے بڑے آسمان میں کوئی سوراخ تک نہیں ‘۔ «بنا» کہتے ہیں، قبے یا خیمے کے کھڑا کرنے کو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { «بُنِىَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ» اسلام کی بنائیں پانچ ہیں جیسے پانچ ستون پر کوئی قبہ یا خیمہ کھڑا ہوا ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:8] پھر آسمان جو مثل چھت کے ہے، یہ ہے بھی محفوظ اور بلند پہرے چوکی والا کہ کہیں سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ بلندو بالا، اونچا اور صاف ہے۔ جیسے حدیث میں ہے کہ { کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یہ آسمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { رکی ہوئی موج ہے } }۔ ۱؎ [ابو الشيخ فى العظمة:541] یہ روایت سنداً غریب ہے۔
لیکن لوگ اللہ پاک کی ان زبردست نشانیوں سے بھی بے پرواہ ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَكَأَيِّن مِّنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ» ۱؎ [12-یوسف:105] ’ آسمان و زمین کی بہت سی نشانیاں ہیں جو لوگوں کی نگاہوں تلے ہیں لیکن پھر بھی وہ ان سے منہ موڑے ہوئے ہیں ‘۔ کوئی غور و فکر ہی نہیں کرتے، کبھی نہیں سوچتے کہ کتنا پھیلا ہوا، کتنا بلند، کس قدر عظیم الشان یہ آسمان ہمارے سروں پر بغیر ستون کے اللہ تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے۔ پھر اس میں کس خوبصورتی سے ستاروں کاجڑاؤ ہو رہا ہے۔ ان میں بھی کوئی ٹھہرا ہوا ہے، کوئی چلتا پھرتا ہے۔ پھر سورج کی چال مقرر ہے۔ اس کی موجودگی دن ہے اس کا نظر نہ آنا رات ہے۔ پورے آسمان کا چکر صرف ایک دن رات میں سورج پورا کر لیتا ہے۔ اس کی چال کو، اس کی تیزی کو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ یوں قیاس آرائیاں اور اندازے کرنا اور بات ہے۔ بنی اسرائیل کے عابدوں میں سے ایک نے اپنی تیس سال کی مدت عبادت پوری کرلی مگر جس طرح اور عابدوں پر تیس سال کی عبادت کے بعد ابر کا سایہ ہو جایا کرتا تھا، اس پر نہ ہوا تو اس نے اپنی والدہ سے یہ حال بیان کیا۔ اس نے کہا، بیٹے تم نے اپنی اس عبادت کے زمانے میں کوئی گناہ کر لیا ہوگا؟ اس نے کہا اماں ایک بھی نہیں۔ کہا پھر تم نے کسی گناہ کا پورا قصد کیا ہوگا؟ جواب دیا کہ ایسا بھی مطلقاً نہیں ہوا۔ ماں نے کہا، بہت ممکن ہے کہ تم نے آسمان کی طرف نظر کی ہو اور غور و تدبر کے بغیر ہی ہٹالی ہو۔ عابد نے جواب دیا ایسا تو برابر ہوتا رہا، فرمایا بس یہی سبب ہے۔ پھر اپنی قدرت کاملہ کی بعض نشانیاں بیان فرماتا ہے کہ ’ رات اور اس کے اندھیرے کو دیکھو، دن اور اس کی روشنی پر نظر ڈالو، پھر ایک کے بعد دوسرے کا بڑھنا دیکھو، سورج چاند کو دیکھو۔ سورج کا نور ایک مخصوص نور ہے اور اس کا آسمان، اس کا زمانہ، اس کی حرکت، اس کی چال علیحدہ ہے۔ چاند کا نور الگ ہے، فلک الگ ہے، چال الگ ہے، انداز اور ہے ‘۔ «وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ’ ہر ایک اپنے اپنے فلک میں گویا تیرتا پھرتا ہے اور حکم الٰہی کی بجا آوری میں مشغول ہے ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/18:] جیسے فرمان ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» ۱؎ [6-الأنعام:96] ’ وہی صبح کاروشن کرنے والا ہے وہی رات کو پرسکون بنانے والا ہے۔ وہی سورج چاند کا انداز مقرر کرنے والا ہے۔ وہی ذی عزت، غلبے والا اور ذی علم علم والا ہے ‘۔
32۔ 1 زمین کے لئے محفوظ چھت، جس طرح خیمے اور قبے کی چھت ہوتی ہے یا اس معنی میں محفوظ کہ ان کو زمین پر گرنے سے روک رکھا ہے، ورنہ آسمان زمین پر گرپڑیں تو زمین کا سارا نظام تہ وبالا ہوسکتا ہے۔ یا شیاطین سے محفوظ جیسے فرمایا (وَحَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ) 45۔ الحجر:17)
(آیت 32) ➊ { وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا:} زمین کے چند عجائب کے ذکر کے بعد آسمان کے عجائب کی طرف متوجہ فرمایا۔ لوگوں کی بنائی ہوئی چھوٹی سی چھتیں بھی دیواروں یا ستونوں کے بغیر قائم نہیں رہ سکتیں اور پھر ان میں ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ان سے گرنے والی چیزیں کسی نہ کسی نقصان کا باعث بنتی ہیں، وہ جتنی دیر بھی رہیں آخر گر پڑتی ہیں۔ چور ان میں نقب لگا کر مال و متاع چرا کر لے جاتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے آسمان کو زمین کے لیے ایسی چھت بنایا جو ستونوں کے بغیر قائم ہے۔ دیکھیے سورۂ رعد (۲) اور لقمان (۱۰) اور گرنے سے ہر طرح سے محفوظ ہے۔ دیکھیے سورۂ فاطر (۴۱) اور سورۂ حج (۶۵) اس سے کوئی نقصان دہ چیز نیچے آنے کے بجائے زندگی کو قائم رکھنے والی چیزیں، مثلاً سورج کی تیز روشنی (ضیا) اور حرارت، چاند اور ستاروں کا نور، رات دن کا آنا جانا، بادل، بارش، ہوائیں، فرشتے اور اللہ تعالیٰ کی بے شمار نظر نہ آنے والی رحمتیں اترتی ہیں۔ پھر نقب تو بہت دور، راز چرانے کی کوشش کرنے والے شیاطین سے بھی شہاب ثاقب کے ذریعے سے اس کی حفاظت کا زبردست انتظام کیا گیا ہے۔ دیکھیے سورۂ حجر (۱۶ تا ۱۸) اور صافات (۶ تا ۱۰)۔ ➋ { وَ هُمْ عَنْ اٰيٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ:} یعنی مشرک لوگ آسمان اور اس میں پائی جانے والی نشانیوں کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے، مثلاً سورج، چاند، ستارے، رات، دن، بارش، بادل، بجلی، ہوائیں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بے شمار چیزیں۔ کیونکہ اگر وہ عبرت کی نظر سے ان تمام چیزوں کو دیکھیں تو یقین کر لیں کہ ان کا بنانے والا موجود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔
اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سُورج اور چاند کو پیدا کیا سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
وہی اللہ ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پیدا کیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیرتے پھرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہی ہے جس نے بنائے رات اور دن اور سورج اور چاند ہر ایک ایک گھیرے میں پیر رہا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پیدا کیا۔ سب (اپنے اپنے) دائرہ (مدار) میں تیر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند پیدا کیے، سب ایک ایک دائرے میں تیر رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زبردست غالب ٭٭
اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ اس کی قدرت پوری ہے اور اس کا غلبہ زبردست ہے۔ فرماتا ہے کہ’ جو کافر اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں، کیا انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ تمام مخلوق کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور سب چیز کا نگہبان بھی وہی ہے، پھر اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت تم کیوں کرتے ہو؟ ‘ ابتداء میں زمین و آسمان ملے جلے ایک دوسرے سے پیوست تہ بہ تہ تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں الگ الگ کیا۔ زمینوں کو نیچے، آسمانوں کو اوپر فاصلے سے اور حکمت سے قائم کیا۔ سات زمینیں پیدا کیں اور سات ہی آسمان بنائے۔ زمین اور پہلے آسمان کے درمیان جوف اور خلأ رکھا۔ آسمان سے پانی برسایا اور زمین سے پیداوار اگائی۔ ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی۔ کیا یہ تمام چیزیں جن میں سے ہر ایک صانع کی خود مختاری، قدرت اور وحدت پر دلالت کرتی ہے، اپنے سامنے موجود پاتے ہوئے بھی یہ لوگ اللہ کی عظمت کے قائل ہو کر شرک کو نہیں چھوڑتے؟ ؎ «فَفِيْ كُلِّ شَيِْئ لَّهُ ايَةٌ» «تَدُلُّ عَلٰي اَنَّهُ وَاحِدٌ» یعنی ہرچیز میں اللہ کی الوہیت اور اس کی وحدانیت کا نشان موجود ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ پہلے رات تھی یا دن؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”پہلے زمین و آسمان ملے جلے تہ بہ تہ تھے تو ظاہر ہے کہ ان میں اندھیرا ہوگا اور اندھیرے کا نام ہی رات ہے تو ثابت ہوا کہ رات پہلے تھی۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/18:] سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”تم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کرو اور جو وہ جواب دیں، مجھ سے بھی کہو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”زمین و آسمان سب ایک ساتھ تھے، نہ بارش برستی تھی نہ پیداوار اگتی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ذی روح مخلوق پیدا کی تو آسمان کو پھاڑ کر اس میں سے پانی برسایا اور زمین کو چیر کر اس میں پیداوار اگائی۔“ جب سائل نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ جواب بیان کیا تو آپ رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے، ”آج مجھے اور بھی یقین ہو گیا کہ قرآن کے علم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ بہت ہی بڑھے ہوئے ہیں۔ میرے جی میں کبھی خیال آتا تھا کہ ایسا تو نہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی جرأت بڑھ گئی ہو؟ لیکن آج وہ وسوسہ دل سے جاتا رہا۔“ آسمان کو پھاڑ کر سات آسمان بنائے۔ زمین کے مجموعے کو چیر کر سات زمینیں بنائیں۔
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر میں یہ بھی ہے کہ یہ ملے ہوئے تھے یعنی پہلے ساتوں آسمان ایک ساتھ تھے اور اسی طرح ساتوں زمینیں بھی ملی ہوئی تھیں پھر جدا جدا کر دی گئیں۔ سعید رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر ہے کہ یہ دونوں پہلے ایک ہی تھے پھر الگ الگ کر دیئے گئے۔ زمین و آسمان کے درمیان خلا رکھ دی گئی۔ پانی کو تمام جانداروں کی اصل بنا دیا۔ { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا ہوں میرا جی خوش ہو جاتا ہے اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام چیزوں کی اصلیت سے خبردار کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابوہریرہ تمام چیزیں پانی سے پیدا کی گئی ہیں } }۔ [مسند احمد:295/2:صحیح] اور روایت میں ہے کہ { پھر میں نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لوگوں کو سلام کیا کرو اور کھانا کھلایا کرو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور رات کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو تم تہجد کی نماز پڑھا کرو تاکہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ } }۔ ۱؎ [مسند احمد:493/2:صحیح] زمین کو جناب باری عزوجل نے پہاڑوں کی میخوں سے مضبوط کر دیا تاکہ وہ ہل جل کر لوگوں کو پریشان نہ کرے اور مخلوق کو زلزلے میں نہ ڈالے۔ زمین کی تین چوتھائیاں تو پانی میں ہیں اور صرف چوتھائی حصہ سورج اور ہوا کے لیے کھلا ہوا ہے۔ تاکہ لوگ آسمان کو اور اس کے عجائبات کو بچشم خود ملاحظہ کر سکیں۔ پھر زمین میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ سے راہیں بنا دیں کہ لوگ باآسانی اپنے سفر طے کر سکیں اور دور دراز ملکوں میں بھی پہنچ سکیں۔
شان الٰہی دیکھئیے اس حصے اور اس ٹکڑے کے درمیان بلند پہاڑی حائل ہے۔ یہاں سے وہاں پہنچنا بظاہر سخت دشوار معلوم ہوتا ہے لیکن قدرت الٰہی خود اس پہاڑ میں راستہ بنا دیتی ہے کہ یہاں کے لوگ وہاں اور وہاں کے یہاں پہنچ جائیں اور اپنے کام کاج پورے کر لیں۔ آسمان کو زمین پر مثل قبے کے بنا دیا۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ» ۱؎ [51-الذاريات:47] ’ ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ہم وسعت اور کشادگی والے ہیں ‘۔ فرماتا ہے «وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:5] ’ قسم آسمان کی اور اس کی بناوٹ کی ‘۔ ارشاد ہے، «أَفَلَمْ يَنظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ» ۱؎ [50-ق:6] ’ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے سروں پر آسمان کو کس کیفیت کا بنایا ہے اور کس طرح زینت دے رکھی ہے اور لطف یہ ہے کہ اتنے بڑے آسمان میں کوئی سوراخ تک نہیں ‘۔ «بنا» کہتے ہیں، قبے یا خیمے کے کھڑا کرنے کو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { «بُنِىَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ» اسلام کی بنائیں پانچ ہیں جیسے پانچ ستون پر کوئی قبہ یا خیمہ کھڑا ہوا ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:8] پھر آسمان جو مثل چھت کے ہے، یہ ہے بھی محفوظ اور بلند پہرے چوکی والا کہ کہیں سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ بلندو بالا، اونچا اور صاف ہے۔ جیسے حدیث میں ہے کہ { کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یہ آسمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { رکی ہوئی موج ہے } }۔ ۱؎ [ابو الشيخ فى العظمة:541] یہ روایت سنداً غریب ہے۔
لیکن لوگ اللہ پاک کی ان زبردست نشانیوں سے بھی بے پرواہ ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَكَأَيِّن مِّنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ» ۱؎ [12-یوسف:105] ’ آسمان و زمین کی بہت سی نشانیاں ہیں جو لوگوں کی نگاہوں تلے ہیں لیکن پھر بھی وہ ان سے منہ موڑے ہوئے ہیں ‘۔ کوئی غور و فکر ہی نہیں کرتے، کبھی نہیں سوچتے کہ کتنا پھیلا ہوا، کتنا بلند، کس قدر عظیم الشان یہ آسمان ہمارے سروں پر بغیر ستون کے اللہ تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے۔ پھر اس میں کس خوبصورتی سے ستاروں کاجڑاؤ ہو رہا ہے۔ ان میں بھی کوئی ٹھہرا ہوا ہے، کوئی چلتا پھرتا ہے۔ پھر سورج کی چال مقرر ہے۔ اس کی موجودگی دن ہے اس کا نظر نہ آنا رات ہے۔ پورے آسمان کا چکر صرف ایک دن رات میں سورج پورا کر لیتا ہے۔ اس کی چال کو، اس کی تیزی کو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ یوں قیاس آرائیاں اور اندازے کرنا اور بات ہے۔ بنی اسرائیل کے عابدوں میں سے ایک نے اپنی تیس سال کی مدت عبادت پوری کرلی مگر جس طرح اور عابدوں پر تیس سال کی عبادت کے بعد ابر کا سایہ ہو جایا کرتا تھا، اس پر نہ ہوا تو اس نے اپنی والدہ سے یہ حال بیان کیا۔ اس نے کہا، بیٹے تم نے اپنی اس عبادت کے زمانے میں کوئی گناہ کر لیا ہوگا؟ اس نے کہا اماں ایک بھی نہیں۔ کہا پھر تم نے کسی گناہ کا پورا قصد کیا ہوگا؟ جواب دیا کہ ایسا بھی مطلقاً نہیں ہوا۔ ماں نے کہا، بہت ممکن ہے کہ تم نے آسمان کی طرف نظر کی ہو اور غور و تدبر کے بغیر ہی ہٹالی ہو۔ عابد نے جواب دیا ایسا تو برابر ہوتا رہا، فرمایا بس یہی سبب ہے۔ پھر اپنی قدرت کاملہ کی بعض نشانیاں بیان فرماتا ہے کہ ’ رات اور اس کے اندھیرے کو دیکھو، دن اور اس کی روشنی پر نظر ڈالو، پھر ایک کے بعد دوسرے کا بڑھنا دیکھو، سورج چاند کو دیکھو۔ سورج کا نور ایک مخصوص نور ہے اور اس کا آسمان، اس کا زمانہ، اس کی حرکت، اس کی چال علیحدہ ہے۔ چاند کا نور الگ ہے، فلک الگ ہے، چال الگ ہے، انداز اور ہے ‘۔ «وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ’ ہر ایک اپنے اپنے فلک میں گویا تیرتا پھرتا ہے اور حکم الٰہی کی بجا آوری میں مشغول ہے ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/18:] جیسے فرمان ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» ۱؎ [6-الأنعام:96] ’ وہی صبح کاروشن کرنے والا ہے وہی رات کو پرسکون بنانے والا ہے۔ وہی سورج چاند کا انداز مقرر کرنے والا ہے۔ وہی ذی عزت، غلبے والا اور ذی علم علم والا ہے ‘۔
33۔ 1 یعنی رات کو آرام اور دن کو معاش کے لئے بنایا، سورج کو دن کی نشانی چاند کو رات کی نشانی بنایا، تاکہ مہینوں اور سالوں کا حساب کیا جاسکے، جو انسان کی اہم ضروریات میں سے ہے۔ 33۔ 2 جس طرح پیراک سطح آب پر تیرتا ہے، اسی طرح چاند اور سورج اپنے اپنے مدار پر تیرتے یعنی رواں دواں رہتے ہیں۔
(آیت 33) ➊ {وَ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ:} پچھلی آیت میں مشرکوں کے زمین و آسمان کی نشانیوں سے منہ موڑنے کا ذکر فرمایا، اس آیت میں ان میں سے چند نشانیاں ذکر فرمائی ہیں، یعنی رات، دن، سورج اور چاند۔ بڑی نشانیوں کے ذکر کے بعد چھوٹی نشانیوں، مثلاً ستاروں وغیرہ کے ذکر کی ضرورت نہیں رہی۔ ان کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۲)، قصص (۷۱، ۷۲)، یونس (۵، ۶)، فرقان (۶۱، ۶۲)، انعام (۹۶) اور یس (۳۷ تا ۴۰)۔ ➋ { كُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ: ” فَلَكٍ “} دراصل چرخے کے دھاگا بنانے والے تکلے پر گھومنے والے گول چمڑے کو کہتے ہیں، پھر ہر دائرے کو فلک کہہ لیتے ہیں۔ {”سَبَحَ يَسْبَحُ“} (ف) کا معنی تیرنا ہے۔ نہایت تیزی سے چلنے کو بھی تیرنے سے تشبیہ دیتے ہیں، جیسا کہ متنبی نے کہا ہے: {أَعَزُّ مَكَانٍ فِي الدُّنْيَا سَرْجُ سَابِحٍ وَ خَيْرُ جَلِيْسٍ فِي الزَّمَانِ كِتَابُ} ”دنیا میں سب سے زیادہ باعزت جگہ تیرنے والے گھوڑے کی زین ہے اور زمانے میں سب سے بہتر ہم نشین کتاب ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ سورج، چاند اور تمام سیارے اپنے اپنے دائرے میں نہایت تیزی سے گھوم رہے ہیں۔ کوئی اپنے مقرر کردہ مدار سے نہ ادھر ادھر ہوتا ہے اور نہ خراب ہو کر رکتا ہے۔ نہ کسی میں کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے اور نہ تصادم، فرمایا: «{ ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ }» [ یٰسٓ: ۳۸ ] ”یہ اس کا مقرر کردہ اندازہ ہے جو سب پر غالب، سب کچھ جاننے والا ہے۔“
اور اے محمدؐ، ہمیشگی تو ہم نے تم سے پہلے بھی کسی انسان کے لیے نہیں رکھی ہے اگر تم مر گئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ جیتے رہیں گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ سے پہلے کسی انسان کو بھی ہم نے ہمیشگی نہیں دی، کیا اگر آپ مرگئے تو وه ہمیشہ کے لئے ره جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کے لیے دنیا میں ہمیشگی نہ بنائی تو کیا اگر تم انتقال فرماؤ تو یہ ہمیشہ رہیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے آپ سے پہلے کسی آدمی کو ہمیشگی نہیں دی۔ تو اگر آپ انتقال کر جائیں تو کیا یہ لوگ ہمیشہ (یہاں) رہیں گے؟
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے تجھ سے پہلے کسی بشر کے لیے ہمیشگی نہیں رکھی، سو کیا اگر تو مر جائے تو یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خضر علیہ السلام مر چکے ہیں ٭٭
جتنے لوگ ہوئے، سب کو ہی موت ایک روز ختم کرنے والی ہے۔ «كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ۱؎ [55-الرحمن:26-27] ’ تمام روئے زمین کے لوگ موت سے ملنے والے ہیں۔ ہاں رب کی جلال و اکرام والی ذات ہی ہمیشہ اور لازوال ہے ‘۔ اسی آیت سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ خضر علیہ السلام مرگئے۔ یہ غلط ہے کہ وہ اب تک زندہ ہوں کیونکہ وہ بھی انسان ہی تھے، ولی ہوں یا نبی ہوں یا رسول ہوں، تھے تو انسان ہی۔ ’ ان کفار کی یہ آرزو کتنی ناپاک ہے کہ تم مرجاؤ؟ تو کیا یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں؟ ‘ ایسا تو محض ناممکن ہے، دنیا میں تو چل چلاؤ لگ رہا ہے۔ کسی کو بجز ذات باری کے دوام نہیں۔ کوئی آگے ہے کوئی پیچھے۔ پھر فرمایا «كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ» [آیت35] ’ موت کا ذائقہ ہر ایک کو چکھنا پڑے گا ‘۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ”لوگ میری موت کے آرزو مند ہیں تو کیا اس کے بارے میں میں ہی اکیلا ہوں؟ یہ وہ ذائقہ نہیں جو کسی کو چھوڑ دے۔“ پھر فرماتا ہے ”بھلائی برائی سے، سکھ دکھ سے، مٹھاس کڑواہٹ سے، کشادگی تنگی سے ہم اپنے بندوں کو آزما لیتے ہیں تاکہ شکر گزار اور ناشکرا، صابر اور ناامید کھل جائے۔ صحت و بیماری، تونگری، فقیری، سختی، نرمی، حلال، حرام، ہدایت، گمراہی، اطاعت، معصیت۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:440/18:] یہ سب آزمائشیں ہیں۔ اس میں بھلے برے کھل جاتے ہیں۔ تمہارا سب کا لوٹنا ہماری ہی طرف ہے۔ اس وقت جو جیسا تھا کھل جائے گا۔ بروں کوسزا نیکوں کو جزا ملے گی ‘۔
34۔ 1 یہ کفار کے جواب میں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت کہتے تھے کہ ایک دن اسے مر ہی جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، موت تو ہر انسان کو آنی ہے اور اس اصول سے یقینا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مستشنٰی نہیں۔ کیونکہ وہ بھی انسان ہی ہیں اور ہم نے انسان کے لئے بھی دوام اور ہمیشگی نہیں رکھی ہے۔ لیکن کیا بات کہنے والے خود نہیں مریں گے۔؟ اس سے صنم پرستوں کی بھی تردید ہوگئی جو دیوتاؤں کی اور انبیاء و اولیاء کی زندگی کے قائل ہیں اور اسی بنیاد پر ان کو حاجت روا مشکل کشا سمجھتے ہیں فنعوذ باللہ من ھذہ العقیدۃ الفاسدۃ التی تعارض القرآن۔
(آیت 34) ➊ { وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ:} اس سے پہلے چار آیات میں خالق کائنات کے وجود اور اس کی توحید کے چھ دلائل بیان فرمائے۔ اب یہاں سے بیان فرمایا کہ یہ نظام ہمیشہ قائم رہنے کے لیے نہیں بلکہ امتحان اور آزمائش کے لیے بنایا گیا ہے۔ (کبیر) ➋ بقاعی نے پچھلی آیت کے ساتھ یہ مناسبت ذکر کی ہے کہ اس میں رات دن کے آنے جانے کا ذکر ہے، جس سے ہر انسان کی عمر کا سلسلہ آخر منقطع ہو جاتا ہے، اس لیے فرمایا کہ ہم نے آپ سے پہلے کسی بشر کے لیے ہمیشگی نہیں رکھی، خواہ نیک ہو یا بد۔ یہ آیت خضر علیہ السلام کے زندہ نہ ہونے کی بھی ایک بہت مضبوط دلیل ہے۔ رہے عیسیٰ علیہ السلام، تو ان کی عمر بہت طویل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انھیں ہمیشہ کی زندگی حاصل ہے، کیونکہ قیامت کے قریب زمین پر اترنے کے بعد انھوں نے بھی فوت ہونا ہے۔ [ بخاري، العلم، باب السمر في العلم: ۱۱۶، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما ] وہ حدیث بھی اس کی صریح دلیل ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَإِنَّ رَأْسَ مِئَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقٰی مِمَّنْ هُوَ عَلٰی ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ ] [ بخاري، في العلم، باب السمر فی العلم: ۱۱۶۔ مسلم: ۲۵۳۸ ] ”جو لوگ آج زمین کی پشت پر موجود ہیں آج سے ایک سو سال کے سرے پر ان میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔“ ➌ { اَفَاۡىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ:} اس میں ان لوگوں کا جواب ہے جو یہ کہہ کر خوشی کا اظہار کیا کرتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم عنقریب مر جائیں گے تو ہماری جان چھوٹ جائے گی۔ دیکھیے سورۂ طور (۲۰) فرمایا، اس میں ان کے لیے خوشی کا موقع تو تب ہو جب انھیں ہمیشہ زندہ رہنا ہو۔
ہر جاندار کو مَوت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم اچھے اور بُرے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کر رہے ہیں آخرکار تمہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہر جان دار موت کا مزه چکھنے واﻻ ہے۔ ہم بطریق امتحان تم میں سے ہر ایک کو برائی بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں اور تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم تمہاری آزمائش کرتے ہیں برائی اور بھلائی سے جانچنے کو اور ہماری ہی طرف تمہیں لوٹ کر آنا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
ہر جاندار موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور ہم تمہیں برائی اور اچھائی کے ساتھ آزماتے ہیں (آخرکار) تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
ہر جان موت کو چکھنے والی ہے اور ہم تمھیں برائی اور بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں، آزمانے کے لیے اور تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خضر علیہ السلام مر چکے ہیں ٭٭
جتنے لوگ ہوئے، سب کو ہی موت ایک روز ختم کرنے والی ہے۔ «كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ۱؎ [55-الرحمن:26-27] ’ تمام روئے زمین کے لوگ موت سے ملنے والے ہیں۔ ہاں رب کی جلال و اکرام والی ذات ہی ہمیشہ اور لازوال ہے ‘۔ اسی آیت سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ خضر علیہ السلام مرگئے۔ یہ غلط ہے کہ وہ اب تک زندہ ہوں کیونکہ وہ بھی انسان ہی تھے، ولی ہوں یا نبی ہوں یا رسول ہوں، تھے تو انسان ہی۔ ’ ان کفار کی یہ آرزو کتنی ناپاک ہے کہ تم مرجاؤ؟ تو کیا یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں؟ ‘ ایسا تو محض ناممکن ہے، دنیا میں تو چل چلاؤ لگ رہا ہے۔ کسی کو بجز ذات باری کے دوام نہیں۔ کوئی آگے ہے کوئی پیچھے۔ پھر فرمایا «كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ» [آیت35] ’ موت کا ذائقہ ہر ایک کو چکھنا پڑے گا ‘۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ”لوگ میری موت کے آرزو مند ہیں تو کیا اس کے بارے میں میں ہی اکیلا ہوں؟ یہ وہ ذائقہ نہیں جو کسی کو چھوڑ دے۔“ پھر فرماتا ہے ”بھلائی برائی سے، سکھ دکھ سے، مٹھاس کڑواہٹ سے، کشادگی تنگی سے ہم اپنے بندوں کو آزما لیتے ہیں تاکہ شکر گزار اور ناشکرا، صابر اور ناامید کھل جائے۔ صحت و بیماری، تونگری، فقیری، سختی، نرمی، حلال، حرام، ہدایت، گمراہی، اطاعت، معصیت۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:440/18:] یہ سب آزمائشیں ہیں۔ اس میں بھلے برے کھل جاتے ہیں۔ تمہارا سب کا لوٹنا ہماری ہی طرف ہے۔ اس وقت جو جیسا تھا کھل جائے گا۔ بروں کوسزا نیکوں کو جزا ملے گی ‘۔
35۔ 1 یعنی کبھی مصائب و رنج و غم سے دو چار کرکے اور کبھی دنیا کے وسائل فراواں سے بہرور کر کے۔ کبھی صحت و فراخی کے ذریعے سے اور کبھی تنگی و بیماری کے ذریعے سے، کبھی تونگری دیکر اور کبھی فقرو فاقہ میں مبتلا کر کے ہم آزماتے ہیں۔ تاکہ ہم دیکھیں کہ شکر گزاری کون کرتا ہے اور ناشکری کون؟ صبر کون کرتا ہے اور ناصبری کون؟ شکر اور صبر، یہ رضائے الٰہی کا اور کفران نعمت اور ناصبری غضب الٰہی کا موجب ہے۔ 35۔ 2 وہاں تمہارے عملوں کے مطابق اچھی یا بری جزا دیں گے۔ اول الذکر لوگوں کے لئے بھلائی اور دوسروں کے لئے برائی۔
(آیت 35) ➊ {كُلُّ نَفْسٍ ذَآىِٕقَةُ الْمَوْتِ: ” ذَآىِٕقَةُ “ ” ذَاقَ يَذُوْقُ “} (ن) سے اسم فاعل ہے، یعنی چکھنے والی۔ اس میں تمام بت پرستوں کی تردید ہے جو اپنے دیوی دیوتاؤں کے ہمیشہ زندہ رہنے کا عقیدہ رکھتے ہیں، اسی طرح ان قبر پرستوں کا بھی جو اپنے داتاؤں، حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کے لیے موت کا لفظ گالی سمجھتے ہیں۔ چنانچہ جب بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی بزرگ کے بارے میں موت یا فوت کا لفظ آئے وہ اس کے بجائے انتقال (جگہ بدلنے) کا لفظ استعمال کریں گے، یا کہیں گے وہ پردے میں ہو گئے ہیں یا پردہ فرما گئے ہیں۔ اللہ کے بندے یہ نہیں سوچتے کہ موت تو مومن کا تحفہ ہے، جس کے بغیر اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور اس کا دیدار ممکن ہی نہیں۔ چنانچہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے یہاں دو شعر نقل فرمائے ہیں جو امام شافعی رحمہ اللہ نے ایسے ہی کسی موقع پر پڑھے: {تَمَنَّي رِجَالٌ أَنْ أَمُوْتَ وَ إِنْ أَمُتْ فَتِلْكَ سَبِيْلٌ لَسْتُ فِيْهَا بِأَوْحَدٖ فَقُلْ لِلَّذِيْ يَبْغِيْ خِلاَفَ الَّذِيْ مَضٰي تَهَيَّأْ لِأُخْرٰي مِثْلِهَا فَكَأَنْ قَدٖ} ”کچھ لوگوں نے میری موت کی تمنا کی ہے اور اگر میں مر جاؤں تو یہ ایسا راستہ ہے جس میں میں اکیلا نہیں ہوں۔ سو اس شخص سے کہہ دو جو جانے والے کے بعد اس کی جگہ کا طلب گار ہے کہ تو بھی اس جیسی ایک اور (موت) کے لیے تیار ہو جا اور سمجھ لے کہ وہ بس آ ہی چکی۔“ ایک فارسی شاعر نے خوب کہا ہے: بے فنائے خود میسر نیست دیدارِ شما مے فروشد خویش را اول خریدارِ شما ”اپنے فنا ہونے کے بغیر تمھارا دیدار میسر نہیں ہو سکتا، اس لیے تمھارا خریدار پہلے اپنے آپ کو فروخت کرتا ہے۔“ مزید دیکھیے سورۂ زمر (۳۰)، آل عمران (۱۸۵)، عنکبوت (۵۶، ۵۷) اور نساء (۷۸)۔ ➋ {وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَيْرِ فِتْنَةً:” نَبْلُوْكُمْ “ ”بَلَا يَبْلُوْ“} اور {”اِبْتَلٰي يَبْتَلِيْ“} کا معنی ایک ہی ہے، آزمانا، مبتلا کرنا۔ {” فِتْنَةً “ آزمائش۔ ” فِتْنَةً “} لفظ کی تبدیلی کے ساتھ {” نَبْلُوْكُمْ “} کا مفعول مطلق ہے، مفعول لہ بھی ہو سکتا ہے۔ ترجمہ مفعول لہ کی حیثیت سے کیا گیا ہے۔ شر سے مراد دنیا میں بدحالی اور سختی ہے اور خیر سے مراد خوشحالی اور آسانی ہے۔ یعنی ہم تمھیں کبھی سختی سے دوچار کرتے ہیں، کبھی نرمی کا سلوک کرتے ہیں۔ کبھی تم پر بیماری آتی ہے، کبھی صحت۔ کبھی دولت وافر ہوتی ہے کبھی فقیری، غرض ان تمام حالتوں سے مقصود تمھاری آزمائش ہے کہ تم نعمت پر شکر اور مصیبت پر صبر کرتے ہو یا نہیں۔ کافر اور فاسق خوشحالی میں بخل اور تکبر کرنے لگتا ہے اور مصیبت میں بے صبری اور جزع فزع۔ دیکھیے سورۂ معارج (۱۹ تا ۲۱) مومن کا حال اس کے برعکس ہوتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهٗ كُلَّهٗ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهٗ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَّهٗ وَإِنْ أَصَابَتْهٗ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَّهٗ ] [ مسلم، الزھد، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر: ۲۹۹۹، عن صہیب رضی اللہ عنہ ] ”مومن کا معاملہ عجیب ہے، کیونکہ اس کا سارا معاملہ ہی خیر ہے اور یہ چیز مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ اگر اسے خوشی حاصل ہوتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے، سو وہ اس کے لیے بہتر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے، وہ بھی اس کے لیے بہتر ہے۔“ اللہ تعالیٰ کے اپنی مخلوق کو آزمانے کا ذکر کئی آیات میں آیا ہے، دیکھیے سورۂ اعراف (۹۴، ۹۵، ۱۶۸) اور سورۂ انعام (۴۲ تا ۴۵)۔ ➌ { وَ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ: ” اِلَيْنَا “} پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا ہے، یعنی تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہم تمھیں تمھارے اعمال کے مطابق اچھی یا بری جزا دیں گے۔ ”لوٹائے جاؤ گے“ اس لیے فرمایا کہ ہمارے والد ماجد آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے کے بعد جنت میں رکھا گیا، پھر ان کی خطا سے انھیں جنت سے نکالا گیا۔ معلوم ہوا ہمارا اصل وطن جنت ہے، آزمائش کے لیے کچھ مدت زمین پر گزارنے کے بعد ہمیں دوبارہ اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہو گا، اگر کامیاب ہوئے تو دوبارہ جنت ملے گی اور ناکام ہوئے تو جہنم۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۳۸، ۳۹)۔
یہ منکرین حق جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں کہتے ہیں "کیا یہ ہے وہ شخص جو تمہارے خداؤں کا ذکر کیا کرتا ہے؟" اور ان کا اپنا حال یہ ہے کہ رحمان کے ذکر سے منکر ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ منکرین تجھے جب بھی دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق ہی اڑاتے ہیں کہ کیا یہی وه ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر برائی سے کرتا ہے، اور وه خود ہی رحمٰن کی یاد کے بالکل ہی منکر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب کافر تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہیں نہیں ٹھہراتے مگر ٹھٹھا کیا یہ ہیں وہ جو تمہارے خداؤں کو برا کہتے ہیں اور وہ رحمن ہی کی یاد سے منکر ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے رسول(ص)) جب کافر آپ کو دیکھتے ہیں تو بس وہ آپ کا مذاق اڑاتے ہیں (اور کہتے ہیں) کیا یہی وہ شخص ہے جو (برائی سے) تمہارے خداؤں کا ذکر کرتا ہے؟ حالانکہ وہ خود خدائے رحمن کے ذکر کے منکر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب تجھے وہ لوگ دیکھتے ہیں جنھوں نے کفر کیا تو تجھے مذاق ہی بناتے ہیں، کیا یہی ہے جو تمھارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے، اور وہ خود رحمان کے ذکر ہی سے منکر ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جلد باز انسان ٭٭
ابوجہل وغیرہ کفار قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی ہنسی مذاق شروع کردیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی کرنے لگتے۔ کہنے لگتے کہ لو میاں دیکھ لو، یہی ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں، تمہارے بزرگوں کو بیوقوف بتاتے ہیں۔ ایک تو ان کی یہ سرکشی ہے۔ دوسرے یہ کہ خود ذکر رحمن کے منکر ہیں۔ اللہ کے منکر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر۔ اور آیت میں ان کے اسی کفر کا بیان کر کے فرمایا گیا ہے آیت «وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَـٰذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّـهُ رَسُولًا إِن كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ آلِهَتِنَا لَوْلَا أَن صَبَرْنَا عَلَيْهَا وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا» ۱؎ [25-الفرقان:41-42] یعنی ’ وہ تو کہیے ہم جمے رہے ورنہ اس نے تو ہمیں ہمارے پرانے معبودوں سے برگشتہ کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ خیر انہیں عذاب کے معائنہ سے معلوم ہو جائے گا کہ گمراہ کون تھا؟ ‘ «وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا» ۱؎ [17-الاسراء:11] ’ انسان بڑا ہی جلدباز ہے ‘۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ”اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کی پیدائش کے بعد آدم علیہ السلام کو پیدا کرنا شروع کیا۔ شام کے قریب جب ان میں روح پھونکی گئی، سر، آنکھ اور زبان میں جب روح آ گئی تو کہنے لگے، الٰہی مغرب سے پہلے ہی میری پیدائش مکمل ہو جائے۔“
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { تمام دنوں میں بہتر و افضل دن جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے اسی میں جنت میں داخل ہوئے اسی میں وہاں سے اتارے گئے، اسی میں قیامت قائم ہوگی، اسی دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت جو بندہ نماز میں ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو کچھ طلب کرے، اللہ اسے عطا فرماتا ہے }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کرکے بتلایا کہ { وہ ساعت بہت تھوڑی سی ہے }۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، مجھے معلوم ہے کہ وہ ساعت کون سی ہے وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے، اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1046، قال الشيخ الألباني:صحیح] پہلی آیت میں کافروں کی بدبختی کا ذکر کرکے اس کے بعد ہی انسانی عجلت کا ذکر اس حکمت سے ہے کہ گویا کافروں کی سرکشی سنتے ہی مسلمان کا انتقامی جذبہ بھڑک اٹھتا ہے اور وہ جلد بدلہ لینا چاہتا ہے اس لیے کہ انسانی جبلت میں ہی جلدبازی ہے۔ لیکن عادت الٰہی یہ ہے کہ وہ ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے۔ پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ ’ میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھانے والا ہی ہوں کہ عاصیوں پر کس طرح سختی ہوتی ہے۔ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مذاق میں اڑانے والوں کی کس طرح کھال ادھڑتی ہے۔ تم ابھی ہی دیکھ لو گے۔ جلدی نہ مچاؤ، دیر ہے اندھیر نہیں، مہلت ہے بھول نہیں ‘۔
36۔ 1 اس کے باوجود یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہنسی و مذاق اڑاتے ہیں۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا۔ (اِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا ۭ اَھٰذَا الَّذِيْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا) 25۔ الفرقان:41) جب اے پیغمبر! یہ کفار مکہ تجھے دیکھتے ہیں تو تیرا مذاق اڑانے لگ جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ وہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا؟
(آیت 36) ➊ { وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا …: ” هُزُوًا “} مصدر بمعنی مفعول ہے، یعنی جسے مذاق کیا جائے۔ پچھلی آیت میں لوگوں کو خیر و شر کے ساتھ آزمانے کا ذکر فرمایا۔ بنی نوع انسان کے لیے سب سے بڑی خیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے اور آپ کی آمد لوگوں کے لیے سب سے بڑی آزمائش بھی ہے کہ کون نعمت کی قدر کرتے ہوئے آپ پر ایمان لاتا ہے اور کون ناشکری اور کفر کرتا ہے۔ اس آیت میں اس نعمت کے عطا ہونے پر ناشکری کرنے والے لوگوں یعنی کافروں کے رویے کا ذکر فرمایا کہ جب وہ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کو مذاق ہی بناتے ہیں، سنجیدگی سے نہ کوئی بات سنتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں۔ ➋ { اَهٰذَا الَّذِيْ يَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ:} یہ جملہ ان کے ٹھٹھے کی تفسیر ہے، یعنی وہ آپ کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ کیا یہی ہے جو تمھارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے؟ ذکر کرنے سے مراد اچھائی سے ذکر کرنا بھی ہوتا ہے اور برائی سے بھی، تعین اس کا حال کے قرینے سے ہوتا ہے، مثلاً کوئی شخص آپ سے آپ کے کسی دوست کے متعلق بیان کرتا ہے کہ وہ آپ کا ذکر کر رہا تھا، تو ظاہر ہے اس کی مراد یہی ہے کہ وہ آپ کی تعریف کر رہا تھا اور اگر آپ کے کسی مخالف کے متعلق بیان کرے کہ وہ آپ کا ذکر کر رہا تھا تو اس سے مراد یہی ہو گی کہ وہ برائی کے ساتھ آپ کا ذکر کر رہا تھا۔ جیسا کہ بت توڑنے والے کو تلاش کرتے ہوئے ابراہیم علیہ السلام کی قوم کے لوگوں نے کہا تھا: «{ سَمِعْنَا فَتًى يَّذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِيْمُ }» [ الأنبیاء: ۶۰ ] ”ہم نے ایک جوان کو سنا ہے، وہ ان کا ذکر کرتا ہے، اسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔“ {” اَهٰذَا “} (کیا یہی ہے) میں ہمزہ تعجب کے اظہار کے لیے اور {” هٰذَا “} تحقیر کے لیے استعمال ہوا ہے۔ ➌ { وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ:} یعنی ان کے معبودوں کا برائی سے ذکر کرنے پر آپ کا مذاق اڑانا انھیں کس طرح زیب دیتا ہے، جب کہ خود ان کا حال یہ ہے کہ وہ رحمان کے ذکر ہی سے منکر ہیں؟ انھیں اس بے حد رحم والے کا ذکر گوارا نہیں جس نے انھیں پیدا کیا، ان پر انعام فرمایا اور جس اکیلے کے ہاتھ میں ان کا نفع اور ان کا نقصان ہے۔ پھر مذاق کے حق دار یہ لوگ ہیں یا ہمارا رسول؟ {” بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ “} کی تفسیر بعض مفسرین نے قرآن مجید فرمائی ہے کہ «{ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ }» [الحجر: ۹ ] یعنی وہ خود رحمان کے نازل کردہ ذکر کے منکر ہیں۔
انسان جلد باز مخلوق ہے ابھی میں تم کو اپنی نشانیاں دکھائے دیتا ہوں، جلدی نہ مچاؤ
مولانا محمد جوناگڑھی
انسان جلد باز مخلوق ہے۔ میں تمہیں اپنی نشانیاں ابھی ابھی دکھاؤں گا تم مجھ سے جلد بازی نہ کرو
احمد رضا خان بریلوی
آدمی جلد باز بنایا گیا، اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا مجھ سے جلدی نہ کرو
علامہ محمد حسین نجفی
انسان جلد بازی سے پیدا ہوا ہے میں عنقریب تمہیں اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھلاؤں گا۔ پس تم مجھ سے جلدی کا مطالبہ نہ کرو۔
عبدالسلام بن محمد
انسان سراسر جلد باز پیدا کیا گیا ہے، میں عنقریب تمھیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا، سو مجھ سے جلدی کا مطالبہ نہ کرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جلد باز انسان ٭٭
ابوجہل وغیرہ کفار قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی ہنسی مذاق شروع کردیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی کرنے لگتے۔ کہنے لگتے کہ لو میاں دیکھ لو، یہی ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں، تمہارے بزرگوں کو بیوقوف بتاتے ہیں۔ ایک تو ان کی یہ سرکشی ہے۔ دوسرے یہ کہ خود ذکر رحمن کے منکر ہیں۔ اللہ کے منکر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر۔ اور آیت میں ان کے اسی کفر کا بیان کر کے فرمایا گیا ہے آیت «وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَـٰذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّـهُ رَسُولًا إِن كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ آلِهَتِنَا لَوْلَا أَن صَبَرْنَا عَلَيْهَا وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا» ۱؎ [25-الفرقان:41-42] یعنی ’ وہ تو کہیے ہم جمے رہے ورنہ اس نے تو ہمیں ہمارے پرانے معبودوں سے برگشتہ کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ خیر انہیں عذاب کے معائنہ سے معلوم ہو جائے گا کہ گمراہ کون تھا؟ ‘ «وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا» ۱؎ [17-الاسراء:11] ’ انسان بڑا ہی جلدباز ہے ‘۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ”اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کی پیدائش کے بعد آدم علیہ السلام کو پیدا کرنا شروع کیا۔ شام کے قریب جب ان میں روح پھونکی گئی، سر، آنکھ اور زبان میں جب روح آ گئی تو کہنے لگے، الٰہی مغرب سے پہلے ہی میری پیدائش مکمل ہو جائے۔“
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { تمام دنوں میں بہتر و افضل دن جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے اسی میں جنت میں داخل ہوئے اسی میں وہاں سے اتارے گئے، اسی میں قیامت قائم ہوگی، اسی دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت جو بندہ نماز میں ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو کچھ طلب کرے، اللہ اسے عطا فرماتا ہے }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کرکے بتلایا کہ { وہ ساعت بہت تھوڑی سی ہے }۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، مجھے معلوم ہے کہ وہ ساعت کون سی ہے وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے، اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1046، قال الشيخ الألباني:صحیح] پہلی آیت میں کافروں کی بدبختی کا ذکر کرکے اس کے بعد ہی انسانی عجلت کا ذکر اس حکمت سے ہے کہ گویا کافروں کی سرکشی سنتے ہی مسلمان کا انتقامی جذبہ بھڑک اٹھتا ہے اور وہ جلد بدلہ لینا چاہتا ہے اس لیے کہ انسانی جبلت میں ہی جلدبازی ہے۔ لیکن عادت الٰہی یہ ہے کہ وہ ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے۔ پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ ’ میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھانے والا ہی ہوں کہ عاصیوں پر کس طرح سختی ہوتی ہے۔ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مذاق میں اڑانے والوں کی کس طرح کھال ادھڑتی ہے۔ تم ابھی ہی دیکھ لو گے۔ جلدی نہ مچاؤ، دیر ہے اندھیر نہیں، مہلت ہے بھول نہیں ‘۔
37۔ 1 یہ کفار کے متعلق عذاب کے جواب میں ہے کہ چونکہ انسان کی فطرت میں عجلت اور جلد بازی ہے اس لئے وہ پیغمبروں سے بھی جلدی مطالبہ کرنے لگ جاتا ہے کہ اپنے اللہ سے کہہ کہ ہم پر فوراً عذاب نازل کروا دے۔ اللہ نے فرمایا جلدی مت کرو، میں عنقریب اپنی نشانیاں تمہیں دکھاؤں گا۔ ان نشانیوں سے مراد عذاب بھی ہوسکتا ہے اور صداقت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دلائل وبراہین بھی۔
(آیت 37) ➊ { خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ:} کسی چیز کے وقت سے پہلے اس کا ارادہ عجلہ (جلد بازی) ہے، یعنی جلد بازی انسان کی فطرت میں شامل ہے، وہ پیدا ہی جلد باز کیا گیا، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا }» [ بني إسرائیل: ۱۱ ] ”اور انسان ہمیشہ سے بہت جلد باز ہے۔“ ”جلد بازی سے پیدا کیا گیا ہے“ سے مراد مبالغہ ہے، جیسے فرمایا: «{ اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ }» [ الروم: ۵۴ ] ”اللہ وہ ہے جس نے تمھیں ضعف سے پیدا کیا۔“ ➋ {سَاُورِيْكُمْ اٰيٰتِيْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ: ” فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ“} اصل میں {”فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِيْ“} ہے۔ آیات کے آخری حروف کی موافقت کے لیے نون پر کسرہ باقی رکھ کر ”یاء“ حذف کر دی گئی۔ اس آیت کی تفسیر دو طرح سے کی گئی ہے، ایک یہ کہ کفار کی شدید مخالفت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے پر مسلمان سخت غم زدہ اور پریشان تھے اور کفار پر جلد از جلد عذاب کے منتظر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عمل کو جلد بازی قرار دے کر تسلی دی کہ میں تمھیں اپنی نشانیاں ضرور دکھاؤں گا، مگر ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے، اس سے پہلے اس کا مطالبہ مت کرو۔ نشانیوں سے مراد کفار پر آنے والی آفات و مصائب ہیں، مثلاً بدر، احد، خندق، حدیبیہ اور فتح مکہ میں کفار کی شکست اور ان کے اقتدار کا خاتمہ۔ اس مطلب کا قرینہ یہ ہے کہ کفار کے عذاب جلدی لانے کے مطالبے کا ذکر اگلی آیت میں ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان کی سرشت میں جلد بازی ہے، وہ کسی سے ناراض ہو اور اس کے پاس طاقت ہو تو وہ فوراً انتقام لیتا ہے۔ اپنی اس سرشت کے مطابق انھوں نے اللہ تعالیٰ کے متعلق بھی یہ خیال کیا کہ اگر اس کے پاس انتقام کی طاقت ہوتی تو وہ فوراً عذاب نازل کر دیتا، چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے اور عذاب میں دیر کی وجہ سے بار بار اس کے جلد لانے کا مطالبہ کرتے۔ فرمایا، تم عذاب کے جلدی آنے کا مطالبہ کیوں کرتے ہو؟ اب تک جو ہم نے تمھیں ڈھیل دی ہے اس میں ہماری کئی حکمتیں ہیں، جن میں سے تم پر حجت پوری کرنا اور تم میں سے کئی لوگوں کا اسلام قبول کرنا بھی ہے۔ اس سے تم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ ہمیں تمھاری کارستانیاں اور شرارتیں گوارا ہیں؟ ذرا ٹھہرو! ابھی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ ہم تم سے کیسے انتقام لیتے ہیں۔ دنیا میں بھی قتل ہو گے اور ذلت و رسوائی برداشت کرنا پڑے گی اور آخرت میں بھی تمھیں جہنم کی آگ کا ایندھن بنایا جائے گا۔
یہ لوگ کہتے ہیں "آخر یہ دھمکی پُوری کب ہو گی اگر تم سچے ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو بتا دو کہ یہ وعده کب ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کہتے ہیں کب ہوگا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ سچے ہیں تو یہ (قیامت کا) وعدہ کب پورا ہوگا؟
عبدالسلام بن محمد
اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خود عذاب کے طالب لوگ ٭٭
عذاب الٰہی کو، قیامت کے آنے کو یہ لوگ چونکہ محال جانتے تھے، اس لیے جرأت سے کہتے تھے کہ بتاؤ تو سہی تمہارے یہ ڈراوے کب پورے ہوں گے؟ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ’ تم اگر سمجھ دار ہوتے اور اس دن کی ہولناکیوں سے آگاہ ہوتے تو جلدی نہ مچاتے ‘۔ «لَهُم مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِن تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ» ۱؎ [39-الزمر:16] ’ اس وقت عذاب الٰہی اوپر تلے سے اوڑھنا بچھونا بنے ہوئے ہونگے ‘، «لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:41] ’ طاقت نہ ہوگی کہ آگے پیچھے سے اللہ کا عذاب ہٹا سکو ‘۔ «سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٍ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ النَّارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:50] ’ گندھک کا لباس ہوگا جس میں آگ لگی ہوئی ہوگی اور کھڑے جل رہے ہوں گے، ہرطرف سے جہنم گھیرے ہوئے ہوگی ‘۔ «وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مِن وَاقٍ» ۱؎ [13-الرعد:34] ’ کوئی نہ ہوگا جو مدد کو اٹھے۔ جہنم اچانک دبوچ لے گی۔ اس وقت ہکے بکے رہ جاؤ گے، مبہوت اور بے ہوش ہو جاؤ گے، حیران و پریشان ہو جاؤ گے، کوئی حیلہ نہ ملے گا کہ اسے دفع کرو، اس سے بچ جاؤ اور نہ ایک ساعت کی ڈھیل اور مہلت ملے گی ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 38){وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ …:} یہ ان کے عذاب طلب کرنے میں جلدی کی تفصیل ہے۔ کفار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے اور آپ کا اور مسلمانوں کا مذاق اڑانے کے لیے بار بار پوچھتے کہ عذاب کا وہ وعدہ کب پورا ہو گا؟ جھٹلانے کے ساتھ ساتھ چڑانے اور بھڑکانے کے لیے طنزاً یہ بھی کہتے کہ ”اگر تم سچے ہو۔“ {” كُنْتُمْ “} ہمیشگی کا اظہار کرتا ہے اور {”صٰدِقِيْنَ “} اسم فاعل بھی سچ کے دوام کا اظہار کرتا ہے، یعنی تم جو ہمیشہ سچ بولتے ہو، تمھاری صفت ہی صادق ہے تو عذاب کا جو وعدہ تم نے کیا تھا وہ کب پورا ہو گا؟ (بقاعی)
کاش اِن کافروں کو اُس وقت کا کچھ علم ہوتا جبکہ یہ نہ اپنے منہ آگ سے بچا سکیں گے نہ اپنی پیٹھیں، اور نہ ان کو کہیں سے مدد پہنچے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
کاش! یہ کافر جانتے کہ اس وقت نہ تو یہ کافر آگ کو اپنے چہروں سے ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی
احمد رضا خان بریلوی
کسی طرح جانتے کافر اس وقت کو جب نہ روک سکیں گے اپنے مونہوں سے آگے اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد ہو
علامہ محمد حسین نجفی
کاش ان کافروں کو اس کا کچھ علم ہوتا۔ جب یہ لوگ آگ کو نہیں روک سکیں گے نہ اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پشتوں سے اور نہ ہی ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
کاش! وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اس وقت کو جان لیں جب وہ نہ اپنے چہروں سے آگ کو روک سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خود عذاب کے طالب لوگ ٭٭
عذاب الٰہی کو، قیامت کے آنے کو یہ لوگ چونکہ محال جانتے تھے، اس لیے جرأت سے کہتے تھے کہ بتاؤ تو سہی تمہارے یہ ڈراوے کب پورے ہوں گے؟ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ’ تم اگر سمجھ دار ہوتے اور اس دن کی ہولناکیوں سے آگاہ ہوتے تو جلدی نہ مچاتے ‘۔ «لَهُم مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِن تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ» ۱؎ [39-الزمر:16] ’ اس وقت عذاب الٰہی اوپر تلے سے اوڑھنا بچھونا بنے ہوئے ہونگے ‘، «لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:41] ’ طاقت نہ ہوگی کہ آگے پیچھے سے اللہ کا عذاب ہٹا سکو ‘۔ «سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٍ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ النَّارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:50] ’ گندھک کا لباس ہوگا جس میں آگ لگی ہوئی ہوگی اور کھڑے جل رہے ہوں گے، ہرطرف سے جہنم گھیرے ہوئے ہوگی ‘۔ «وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مِن وَاقٍ» ۱؎ [13-الرعد:34] ’ کوئی نہ ہوگا جو مدد کو اٹھے۔ جہنم اچانک دبوچ لے گی۔ اس وقت ہکے بکے رہ جاؤ گے، مبہوت اور بے ہوش ہو جاؤ گے، حیران و پریشان ہو جاؤ گے، کوئی حیلہ نہ ملے گا کہ اسے دفع کرو، اس سے بچ جاؤ اور نہ ایک ساعت کی ڈھیل اور مہلت ملے گی ‘۔
39۔ 1 اس کا جواب علیحدہ ہے، یعنی اگر یہ جان لیتے تو پھر عذاب کا جلدی مطالبہ نہ کرتے یا یقینا جان لیتے کہ قیامت آنے والی ہے یا کفر پر قائم نہ رہتے بلکہ ایمان لے آتے۔
(آیت 39) ➊ { لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …:} یعنی ان لوگوں کے عذاب کو جھٹلانے اور اسے ناممکن سمجھنے کی اصل وجہ ان کا جہل ہے، انھیں اس وقت کا علم ہی نہیں جب آگ انھیں چاروں طرف سے گھیر لے گی۔ یہ نہ اپنے چہروں سے آگ کو روک سکیں گے، جو ان کے جسم کا سب سے اہم اور خوبصورت حصہ ہے اور نہ پشتوں سے، جو جسم کا سب سے مضبوط حصہ ہے۔ جب ان اعضا کو آگ سے نہ بچا سکے تو دوسرے اعضا کو کیسے بچائیں گے؟ کفار کو آگ کے چاروں طرف سے گھیرنے کا ذکر کئی جگہ آیا ہے۔ دیکھیے سورۂ کہف (۲۹)، اعراف (۴۱)، زمر (۱۶)، ابراہیم (۵۰)، مومنون (۱۰۴) اور دوسری آیات۔ ” لَوْ “ کی دو تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ یہ حرف شرط ہے اور اس کی جزا محذوف ہے، جو خودبخود سمجھ میں آ رہی ہے، یعنی اگر کافر لوگ اس وقت کو جان لیں تو نہ کبھی اسے جلدی طلب کریں، نہ اس کا مذاق اڑائیں اور نہ اس کا انکار کریں۔ دوسری تفسیر یہ کہ یہ حرف تمنی ہے، یعنی ”کاش کہ کافر لوگ اس وقت کو جان لیں“ اس صورت میں جزا کی ضرورت نہیں۔ ➋ { وَ لَا هُمْ يُنْصَرُوْنَ:} کوئی ان کی مدد کو نہیں آئے گا اور نہ وہ اپنی یا ایک دوسرے کی مدد کر سکیں گے۔ دیکھیے سورۂ طارق (۱۰)، صافات (۲۵، ۲۶) اور شعراء (۹۲ تا ۹۵)۔
وہ بلا اچانک آئے گی اور اِنہیں اِس طرح یک لخت دبوچ لے گی کہ یہ نہ اس کو دفع کر سکیں گے اور نہ اِن کو لمحہ بھر مُہلت ہی مل سکے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
(ہاں ہاں!) وعدے کی گھڑی ان کے پاس اچانک آجائے گی اور انہیں ہکا بکا کر دے گی، پھر نہ تو یہ لوگ اسے ٹال سکیں گے اور نہ ذرا سی بھی مہلت دیئے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ وہ ان پر اچانک آپڑے گی تو انہیں بے حواس کردے گی پھر نہ وہ اسے پھیرسکیں گے اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ وہ (گھڑی) اچانک ان پر آجائے گی۔ اور انہیں مبہوت کر دے گی پھر نہ تو وہ اسے ہٹا سکیں گے اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ وہ ان پر اچانک آئے گی تو انھیں مبہوت کر دے گی، پھر وہ نہ اسے ہٹا سکیں گے اور نہ انھیں مہلت دی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خود عذاب کے طالب لوگ ٭٭
عذاب الٰہی کو، قیامت کے آنے کو یہ لوگ چونکہ محال جانتے تھے، اس لیے جرأت سے کہتے تھے کہ بتاؤ تو سہی تمہارے یہ ڈراوے کب پورے ہوں گے؟ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ’ تم اگر سمجھ دار ہوتے اور اس دن کی ہولناکیوں سے آگاہ ہوتے تو جلدی نہ مچاتے ‘۔ «لَهُم مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِن تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ» ۱؎ [39-الزمر:16] ’ اس وقت عذاب الٰہی اوپر تلے سے اوڑھنا بچھونا بنے ہوئے ہونگے ‘، «لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:41] ’ طاقت نہ ہوگی کہ آگے پیچھے سے اللہ کا عذاب ہٹا سکو ‘۔ «سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٍ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ النَّارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:50] ’ گندھک کا لباس ہوگا جس میں آگ لگی ہوئی ہوگی اور کھڑے جل رہے ہوں گے، ہرطرف سے جہنم گھیرے ہوئے ہوگی ‘۔ «وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مِن وَاقٍ» ۱؎ [13-الرعد:34] ’ کوئی نہ ہوگا جو مدد کو اٹھے۔ جہنم اچانک دبوچ لے گی۔ اس وقت ہکے بکے رہ جاؤ گے، مبہوت اور بے ہوش ہو جاؤ گے، حیران و پریشان ہو جاؤ گے، کوئی حیلہ نہ ملے گا کہ اسے دفع کرو، اس سے بچ جاؤ اور نہ ایک ساعت کی ڈھیل اور مہلت ملے گی ‘۔
40۔ 1 یعنی انھیں کچھ سجھائی نہ نہیں دے گا کہ وہ کیا کریں؟ 40۔ 2 کہ وہ توبہ و اعتذار کا اہتمام کرلیں۔
(آیت 40) ➊ {بَلْ تَاْتِيْهِمْ بَغْتَةً …:} ”بلکہ وہ ان کے پاس اچانک آئے گا۔“ {” تَاْتِيْهِمْ “} کی ضمیر سے مراد قیامت ہے، کیونکہ آگ کا چاروں طرف سے گھیرنا قیامت کے دن ہو گا۔ اچانک آنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے آنے سے پہلے اس کا وقت معلوم ہونے کی کوئی صورت ہی نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ نے وہ کسی کو بتایا ہے۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۵)، اعراف (۱۸۷) اور نازعات (۴۲ تا ۴۶) نہ قیامت آہستہ آہستہ بتدریج آئے گی کہ اس کے آنے کا علم ہو جائے۔ (بقاعی) بلکہ اچانک آئے گی، اسی لیے اس کا ایک نام {” اَلسَّاعَةُ “} ہے، اس لیے کہ وہ ایک ساعت (گھڑی) میں قائم ہو جائے گی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ نَشَرَ الرَّجُلَانِ ثَوْبَهُمَا فَلاَ يَتَبَايَعَانِهٖ وَلَا يَطْوِيَانِهٖ وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَةُ وَقَدِ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لِقْحَتِهٖ فَلَا يَطْعَمُهٗ وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَةُ وَهُوَ يَلِيْطُ حَوْضَهٗ فَلَا يَسْقِيْ فِيْهِ وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ رَفَعَ أَحَدُكُمْ أُكْلَتَهُ إِلٰی فِيْهِ فَلَا يَطْعَمُهَا ] [ بخاري، الرقاق، بابٌ: ۶۵۰۶۔ مسلم: ۲۹۵۴ ] ”قیامت اس حال میں قائم ہو گی کہ دو آدمیوں نے اپنا کپڑا پھیلایا ہو گا، پھر نہ اس کی خرید و فروخت کر سکیں گے اور نہ اسے لپیٹ سکیں گے اور قیامت اس حال میں قائم ہو گی کہ آدمی اپنے دودھ والے جانور کا دودھ لائے گا تو اسے پیے گا نہیں اور قیامت اس حال میں قائم ہوگی کہ وہ اپنے حوض کی لپائی کر رہا ہو گا تو اس میں اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلا سکے گا اور قیامت اس حال میں قائم ہو گی کہ اس نے لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھایا ہو گا تو کھا نہیں سکے گا۔“ ➋ { فَتَبْهَتُهُمْ: ” بَهَتَ يَبْهَتُ بَهْتًا “} (ف،ع، ن، ک) اچانک آپکڑنا، لاجواب کر دینا، حیران کر دینا۔ (قاموس) یعنی وہ انھیں مبہوت (حیرت زدہ) کر دے گی۔ {” فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ رَدَّهَا “} کیونکہ نہ وہ اسے ہٹا سکیں گے اور نہ اس پر صبر کر سکیں گے۔ {” وَ لَا هُمْ يُنْظَرُوْنَ “} اور نہ انھیں کوئی مہلت ملے گی کہ ایک لمحہ آرام کر لیں، کیونکہ مہلت کی مدت تو اس سے پہلے پوری ہو چکی ہو گی۔ (قاسمی)
مذاق تم سے پہلے بھی رسُولوں کا اڑایا جا چکا ہے، مگر اُن کا مذاق اڑانے والے اُسی چیز کے پھیر میں آ کر رہے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تجھ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ہنسی مذاق کیا گیا پس ہنسی کرنے والوں کو ہی اس چیز نے گھیر لیا جس کی وه ہنسی اڑاتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک تم سے اگلے رسولوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا گیا تو مسخرگی کرنے والوں کا ٹھٹھا انہیں کو لے بیٹھا
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک ان پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا جو آپ سے پہلے تھے تو اسی (عذاب) نے ان مذاق اڑانے والوں کو گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا تجھ سے پہلے کئی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو ان میں سے جن لوگوں نے مذاق اڑایا انھیں اسی چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ تمہیں جو ستایا جا رہا ہے، مذاق میں اڑایا جاتا ہے اور جھوٹا کہا جاتا ہے، اس پر پریشان نہ ہونا، کافروں کی یہ پرانی عادت ہے۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی انہوں نے یہی کیا جس کی وجہ سے آخرش عذابوں میں پھنس گئے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:34] ، ’ تجھ سے پہلے کے انبیاء بھی جھٹلائے گئے اور انہوں نے اپنے جھٹلائے جانے پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی۔ اللہ کی باتوں کا بدلنے والا کوئی نہیں۔ تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آچکی ہیں ‘۔ پھر اپنی نعمت بیان فرماتا ہے کہ ’ وہ تم سب کی حفاظت دن رات اپنی ان آنکھوں سے کر رہا ہے جو نہ کبھی تھکیں نہ سوئیں ‘۔ «مِنَ الرَّحْمَٰنِ» کا معنی رحمان کے بدلے یعنی رحمان کے سوا ہیں۔ عربی شعروں میں بھی «مِنَ» بدل کے معنی میں ہے۔ اسی ایک احسان پر کیا موقوف ہے۔ یہ کفار تو اللہ کے ہر ایک احسان کی ناشکری کرتے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کے منکر اور ان سے منہ پھیرنے والے ہیں۔ پھر بطور انکار کے ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کہ ’ کیا ان کے معبود جو اللہ کے سوا ہیں، انہیں اپنی حفاظت میں رکھتے ہیں؟ ‘ یعنی وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ ان کا یہ گمان محض غلط ہے۔ بلکہ ان کے معبودان باطل خود اپنی مدد و حفاظت کے بھی مالک نہیں۔ بلکہ وہ ہم سے بچ بھی نہیں سکتے۔ ہماری جانب سے کوئی خبر ان کے ہاتھوں میں نہیں۔ ایک معنی اس جملے کے یہ بھی ہیں کہ ’ نہ تو وہ کسی کو بچا سکیں نہ خود بچ سکیں ‘۔
41۔ 1 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ مشرکین کے مذاق اور جھٹلانے سے بددل نہ ہوں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، تجھ سے پہلے آنے والے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا گیا، بالآخر وہی عذاب ان پر الٹ پڑا، یعنی اس نے انھیں گھیر لیا، جس کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور جس کا وقوع ان کے نزدیک ابھی مستبعد تھا جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا (وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا) 6۔ الانعام:34) تجھ سے پہلے بھی رسول جھٹلائے گئے پس انہوں نے تکذیب پر اور ان تکلیفوں پر جو انھیں دی گئیں صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے ساتھ کفار و مشرکین کے لیے اس میں تہدید و وعید بھی ہے۔
(آیت 41) {وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ …:” حَاقَ يَحِيْقُ “} گھیر لینا۔ اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ آپ کفار کے مذاق اڑانے اور جھٹلانے سے بد دل نہ ہوں، آپ سے پہلے پیغمبروں کا بھی اسی طرح مذاق اڑایا گیا۔ انھوں نے اللہ کے جس عذاب سے ڈرایا اس کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ آخر کار ان مذاق اڑانے والوں کو اسی عذاب نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ آپ کا مذاق اڑانے والوں کا انجام بھی یہی ہو گا۔
اے محمدؐ، اِن سے کہو، "کون ہے جو رات کو یا دن کو تمہیں رحمان سے بچا سکتا ہو؟" مگر یہ اپنے رب کی نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان سے پوچھئے کہ رحمٰن سے، دن اور رات تمہاری حفاﻇت کون کر سکتا ہے؟ بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے رب کے ذکر سے پھرے ہوئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ شبانہ روز تمہاری کون نگہبانی کرتا ہے رحمان سے بلکہ وہ اپنے رب کی یاد سے منہ پھیرے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) کہہ دیجئے! کون ہے جو رات میں یا دن میں خدائے رحمن (کے عذاب) سے تمہاری حفاظت کر سکتا ہے؟ بلکہ یہ لوگ اپنے پروردگار کے ذکر سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ کون ہے جو رات اور دن میں رحمان سے تمھاری حفاظت کرتا ہے، بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے منہ پھیرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ تمہیں جو ستایا جا رہا ہے، مذاق میں اڑایا جاتا ہے اور جھوٹا کہا جاتا ہے، اس پر پریشان نہ ہونا، کافروں کی یہ پرانی عادت ہے۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی انہوں نے یہی کیا جس کی وجہ سے آخرش عذابوں میں پھنس گئے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:34] ، ’ تجھ سے پہلے کے انبیاء بھی جھٹلائے گئے اور انہوں نے اپنے جھٹلائے جانے پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی۔ اللہ کی باتوں کا بدلنے والا کوئی نہیں۔ تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آچکی ہیں ‘۔ پھر اپنی نعمت بیان فرماتا ہے کہ ’ وہ تم سب کی حفاظت دن رات اپنی ان آنکھوں سے کر رہا ہے جو نہ کبھی تھکیں نہ سوئیں ‘۔ «مِنَ الرَّحْمَٰنِ» کا معنی رحمان کے بدلے یعنی رحمان کے سوا ہیں۔ عربی شعروں میں بھی «مِنَ» بدل کے معنی میں ہے۔ اسی ایک احسان پر کیا موقوف ہے۔ یہ کفار تو اللہ کے ہر ایک احسان کی ناشکری کرتے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کے منکر اور ان سے منہ پھیرنے والے ہیں۔ پھر بطور انکار کے ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کہ ’ کیا ان کے معبود جو اللہ کے سوا ہیں، انہیں اپنی حفاظت میں رکھتے ہیں؟ ‘ یعنی وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ ان کا یہ گمان محض غلط ہے۔ بلکہ ان کے معبودان باطل خود اپنی مدد و حفاظت کے بھی مالک نہیں۔ بلکہ وہ ہم سے بچ بھی نہیں سکتے۔ ہماری جانب سے کوئی خبر ان کے ہاتھوں میں نہیں۔ ایک معنی اس جملے کے یہ بھی ہیں کہ ’ نہ تو وہ کسی کو بچا سکیں نہ خود بچ سکیں ‘۔
42۔ 1 یعنی تمہارے جو کرتوت ہیں، وہ تو ایسے ہیں کہ دن یا رات کی کسی گھڑی میں تم پر عذاب آسکتا ہے؟ اس عذاب سے دن اور رات تمہاری کون حفاطت کرتا ہے؟ کیا اللہ کے سوا بھی کوئی اور ہے جو عذاب الٰہی سے تمہاری حفاظت کرسکے؟
(آیت 42) ➊ {قُلْ مَنْ يَّكْلَؤُكُمْ بِالَّيْلِ …:” كَلَأَ يَكْلَؤُ “} (ف) پہرا دینا، حفاظت کرنا۔ (قاموس) {” مِنَ الرَّحْمٰنِ “} سے مراد {”مِنْ أَمْرِ الرَّحْمَانِ“} یا {”مِنْ عَذَابِ الرَّحْمٰنِ“} ہے۔ (طبری وغیرہ) پچھلی آیت میں رسولوں کا مذاق اڑانے والی گزشتہ اقوام کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے گھیر لینے کا ذکر تھا، اس آیت میں موجود کفار سے خطاب ہے کہ وہ کون ہے جو رات یا دن کسی وقت آنے والے رحمان کے عذاب سے تمھاری حفاظت کرتا ہے؟ درحقیقت یہ سوال کفار کو لاجواب کرنے کے لیے ہے، کیونکہ اگر وہ اس کا جواب دیں تو انھیں ماننا پڑے گا کہ دن رات پیش آنے والی بے شمار آفات و مصائب سے اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی ان کی حفاظت کرتا ہے اور نہ بچا سکتا ہے، اس لیے وہ اس سوال کا جواب ہی نہیں دیں گے۔ {” بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ “} بلکہ وہ ایسا جواب دینے سے گریز ہی کریں گے جس میں ان کے رب کا ذکر آئے۔ (التسہیل) زمخشری نے فرمایا: ”بلکہ انھوں نے اپنے رب کے ذکر (یاد یا نصیحت) ہی سے منہ موڑ رکھا ہے، وہ اس کے عذاب سے کیا ڈریں گے۔“ ➋ ابن کثیر رحمہ اللہ نے {” مِنَ الرَّحْمٰنِ “} کا معنی {” بَدْلَ الرَّحْمَانِ “} فرمایا ہے، یعنی وہ کون ہے جو دن رات میں آنے والی بے شمار آفات سے رحمان کے بجائے تمھاری حفاظت کرتا ہو؟ ظاہر ہے ایسا کوئی نہیں۔ ➌ { ” الرَّحْمٰنِ “} کے لفظ میں اشارہ ہے کہ رات دن میں پیش آنے والی بے شمار آفات و حوادث سے تمام انسانوں حتیٰ کہ کفار کی بھی ایک وقت تک حفاظت کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت کا نتیجہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ }» [ الرعد: ۱۱ ] ”اس کے لیے اس (انسان) کے آگے اور اس کے پیچھے یکے بعد دیگرے آنے والے کئی پہرے دار ہیں، جو اللہ کے حکم (یعنی عذاب اور دوسری آفات) سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔“ ➍ {” قُلْ مَنْ يَّكْلَؤُكُمْ “} میں کفار کو مخاطب فرمایا، پھر نفرت کے اظہار کے لیے انھیں غائب کے صیغے سے ذکر فرمایا کہ {” بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ “} یعنی یہ خطاب کے قابل ہی نہیں۔ اسے التفات کہتے ہیں، اس کی ایک اور مثال کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۲۲)۔
کیا یہ کچھ ایسے خدا رکھتے ہیں جو ہمارے مقابلے میں ان کی حمایت کریں؟ وہ نہ تو خود اپنی مدد کر سکتے ہیں اور نہ ہماری ہی تائید اُن کو حاصل ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں جو انہیں مصیبتوں سے بچا لیں۔ کوئی بھی خود اپنی مدد کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ کوئی ہماری طرف سے رفاقت دیا جاتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا ان کے کچھ خدا ہیں جو ان کو ہم سے بچاتے ہیں وہ اپنی ہی جانوں کو نہیں بچاسکتے اور نہ ہماری طرف سے ان کی یاری ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ہمارے علاوہ ان کے ایسے خدا ہیں جو ان کی حفاظت کر سکیں؟ وہ (خود ساختہ) خدا تو خود اپنی مدد نہیں کر سکتے اور نہ ہی ہماری طرف سے ان کو پناہ دی جائے گی (اور نہ تائید کی جائے گی)۔
عبدالسلام بن محمد
یا ان کے لیے ہمارے سوا کوئی اور معبود ہیں، جو انھیں بچاتے ہیں؟ وہ نہ خود اپنی جانوں کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ ہماری طرف سے ان کا ساتھ دیا جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ تمہیں جو ستایا جا رہا ہے، مذاق میں اڑایا جاتا ہے اور جھوٹا کہا جاتا ہے، اس پر پریشان نہ ہونا، کافروں کی یہ پرانی عادت ہے۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی انہوں نے یہی کیا جس کی وجہ سے آخرش عذابوں میں پھنس گئے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:34] ، ’ تجھ سے پہلے کے انبیاء بھی جھٹلائے گئے اور انہوں نے اپنے جھٹلائے جانے پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی۔ اللہ کی باتوں کا بدلنے والا کوئی نہیں۔ تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آچکی ہیں ‘۔ پھر اپنی نعمت بیان فرماتا ہے کہ ’ وہ تم سب کی حفاظت دن رات اپنی ان آنکھوں سے کر رہا ہے جو نہ کبھی تھکیں نہ سوئیں ‘۔ «مِنَ الرَّحْمَٰنِ» کا معنی رحمان کے بدلے یعنی رحمان کے سوا ہیں۔ عربی شعروں میں بھی «مِنَ» بدل کے معنی میں ہے۔ اسی ایک احسان پر کیا موقوف ہے۔ یہ کفار تو اللہ کے ہر ایک احسان کی ناشکری کرتے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کے منکر اور ان سے منہ پھیرنے والے ہیں۔ پھر بطور انکار کے ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کہ ’ کیا ان کے معبود جو اللہ کے سوا ہیں، انہیں اپنی حفاظت میں رکھتے ہیں؟ ‘ یعنی وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ ان کا یہ گمان محض غلط ہے۔ بلکہ ان کے معبودان باطل خود اپنی مدد و حفاظت کے بھی مالک نہیں۔ بلکہ وہ ہم سے بچ بھی نہیں سکتے۔ ہماری جانب سے کوئی خبر ان کے ہاتھوں میں نہیں۔ ایک معنی اس جملے کے یہ بھی ہیں کہ ’ نہ تو وہ کسی کو بچا سکیں نہ خود بچ سکیں ‘۔
43۔ 1 اس معنی ہیں ' وَلَا ھُمْ یَجْارُوْنَ مِنْ عَذَابِنَا ' نہ وہ ہمارے عذاب سے ہی محفوظ ہیں، یعنی وہ خود اپنی مدد پر اور اللہ کے عذاب سے بچنے پر قادر نہیں ہیں، پھر ان کی طرف سے ان کی مدد کیا ہوئی ہے اور وہ انھیں عذاب سے کس طرح بچا سکتے ہیں؟
(آیت 43) ➊ { اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا: ” اَمْ “} کا عطف اس سے پہلے محذوف جملہ استفہامیہ پر ہوتا ہے۔ (بقاعی) یعنی کیا حقیقت وہی ہے جو اوپر گزری کہ ہمارے عذاب سے انھیں کوئی بچانے والا نہیں، یا ہمارے سوا ان کے کوئی ایسے معبود ہیں جو ان کو بچاتے اور ان کا دفاع کرتے ہیں؟ {” مِنْ دُوْنِنَا “} کا ایک معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ”یا ان کے کوئی ایسے معبود ہیں جو ہمارے مقابلے میں ان کو بچاتے اور ان کا دفاع کرتے ہیں۔“ ➋ {لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ:} یہ اس کا رد ہے کہ ان کے معبود انھیں بچا سکتے ہیں، یعنی ان کے بنائے ہوئے معبود اپنی مدد نہیں کر سکتے تو ان کی یا کسی اور کی کیا مدد کریں گے؟ ➌ { وَ لَا هُمْ مِّنَّا يُصْحَبُوْنَ:} ”اور نہ ہماری طرف سے ان کا ساتھ دیا جاتا ہے“ یہ کفار کے اس عقیدے کا رد ہے کہ ہمارے معبود ہمیں بچانے کی طاقت نہ بھی رکھتے ہوں تو انھیں اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کا ساتھ حاصل ہے، جس کی بدولت وہ جو چاہیں کروا لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے معبود نہ خود اپنی مدد کر سکتے ہیں اور نہ انھیں ہمارا کسی قسم کا ساتھ یا تائید حاصل ہے۔ اس کے قریب معنی والی آیت دیکھیے سورۂ زمر (۳)۔ (ابن عاشور)
اصل بات یہ ہے کہ اِن لوگوں کو اور اِن کے آباء و اجداد کو ہم زندگی کا سر و سامان دیے چلے گئے یہاں تک کہ اِن کو دن لگ گئے مگر کیا اِنہیں نظر نہیں آتا کہ ہم زمین کو مختلف سمتوں سے گھٹاتے چلے آ رہے ہیں؟ پھر کیا یہ غالب آ جائیں گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو زندگی کے سروسامان دیے یہاں تک کہ ان کی مدت عمر گزر گئی۔ کیا وه نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں، اب کیا وہی غالب ہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو برتاوا دیا یہاں تک کہ زندگی ان پر دراز ہوئی تو کیا نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے آرہے ہیں تو کیا یہ غالب ہوں گے
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ ہم نے انہیں اور ان کے آباء و اجداد کو (زندگی کا) سر و سامان دیا یہاں تک کہ ان کی لمبی لمبی عمریں گزر گئیں (عرصہ دراز گزر گیا) کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے اطراف سے برابر گھٹاتے چلے آرہے ہیں تو کیا وہ غالب آسکتے ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
بلکہ ہم نے انھیں اور ان کے باپ دادا کو سازو سامان دیا، یہاں تک کہ ان پر لمبی عمر گزر گئی، پھر کیا وہ دیکھتے نہیں کہ بیشک ہم زمین کو آتے ہیں، اسے اس کے کناروں سے گھٹاتے آتے ہیں، تو کیا وہی غالب آنے والے ہیں ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذلت و رسوائی کے مارے لوگ ٭٭
کافروں کے کینے کی اور اپنی گمراہی پر جم جانے کی وجہ بیان ہو رہی ہے کہ انہیں کھانے پینے کو ملتا رہا، لمبی لمبی عمریں ملیں، انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمارے کرتوت اللہ کو پسند ہیں۔ اس کے بعد انہیں نصیحت کرتا ہے کہ ’ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے کافروں کی بستیوں کی بستیاں بوجہ ان کے کفر کے ملیامیٹ کر دیں؟ ‘ اس جملے کے اور بھی بہت سے معنی کئے گئے ہیں جو سورۃ الرعد میں ہم بیان کر آئے ہیں۔ لیکن زیادہ ٹھیک معنی یہی ہیں۔ جیسے فرمایا آیت «ووَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [46-الأحقاف:27] ، ’ ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں ہلاک کیں اور اپنی نشانیاں ہیر پھیر کر کے تمہیں دکھا دیں تاکہ لوگ اپنی برائیوں سے باز آجائیں ‘۔ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے اس کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے ہیں کہ ’ ہم کفر پر اسلام کو غالب کرتے چلے آئے ہیں ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:494/1:] کیا تم اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو اپنے دشمنوں پر غالب کر دیا اور کس طرح جھٹلانے والی اگلی امتوں کو اس نے ملیامیٹ کر دیا اور اپنے مومنوں کو نجات دے دی۔ کیا اب بھی یہ لوگ اپنے آپ کو غالب ہی سمجھ رہے ہیں؟ نہیں نہیں بلکہ یہ مغلوب ہیں، ذلیل ہیں، رذیل ہیں، نقصان میں ہیں، بربادی کے ماتحت ہیں۔ میں تو اللہ کی طرف سے مبلغ ہوں، جن جن عذابوں سے تمہیں خبردار کر رہا ہوں، یہ اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ اللہ کا کہا ہوا ہے۔ ہاں جن کی آنکھیں اللہ نے اندھی کر دی ہیں، جن کے دل و دماغ بند کر دیئے ہیں، انہیں یہ اللہ کی باتیں سود مند نہیں پڑتیں۔ بہروں کو آگاہ کرنا بے کار ہے کیونکہ وہ تو سنتے ہی نہیں۔ ان گنہگاروں پر اک ادنیٰ سا بھی عذاب آ جائے تو واویلا کرنے لگتے ہیں اور اسی وقت بے ساختہ اپنے قصور کا اقرار کر لیتے ہیں۔ قیامت کے دن عدل کی ترازو قائم کی جائے گی۔ یہ ترازو ایک ہی ہوگی لیکن چونکہ جو اعمال اس میں تولے جائیں گے وہ بہت سے ہوں گے، اس اعتبار سے لفظ جمع لائے۔ «وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:49] ’ اس دن کسی پر کسی طرح کا ذرا سا بھی ظلم نہ ہوگا ‘۔ اس لیے کہ حساب لینے والا خود اللہ ہے جو اکیلا ہی تمام مخلوق کے حساب کے لیے کافی ہے۔ ہر چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی وہاں موجود ہو جائے گا۔
اور آیت میں فرمایا تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ فرمان ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40] ، ’ اللہ تعالیٰ ایک رائی کے دانے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، نیکی کو بڑھاتا ہے اور اس کا اجر اپنے پاس سے بہت بڑا عنایت فرماتا ہے ‘۔ لقمان رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی وصیتوں میں اپنے بیٹے سے فرمایا تھا، «يَابُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16] ’ بیٹے ایک رائی کے دانے برابر بھی جو عمل ہو خواہ وہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں، وہ اللہ اسے لائے گا، وہ بڑا ہی باریک بین اور باخبر ہے ‘۔ بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں وزن دار ہیں اور اللہ کو بہت پیارے ہیں «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2695]
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اہل محشر کے سامنے اپنے پاس بلائے گا اور اس کے گناہوں کے ایک کم ایک سو دفتر اس کے سامنے کھولے جائیں گے۔ جہاں تک نگاہ کام کرے وہاں تک کا ایک ایک دفتر ہوگا۔ پھر اس سے جناب باری تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ ’ کیا تجھے اپنے کئے ہوئے ان گناہوں میں سے کسی کا انکار ہے؟ میری طرف سے جو محافظ فرشتے تیرے اعمال لکھنے پر مقرر تھے انہوں نے تجھ پر کوئی ظلم تو نہیں کیا؟ ‘ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! نہ انکار کی گنجائش ہے نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ظلماً لکھا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اچھا تیرے پاس کوئی عذر ہے یا کوئی نیکی ہے؟ ‘ وہ گھبرایا ہوا کہے گا اے اللہ کوئی نہیں۔ پروردگار عالم فرمائے گا ’ کیوں نہیں؟ بیشک تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا ‘۔ اب ایک چھوٹا سا پرچہ نکالا جائے گا جس میں «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَ اَنَّ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» لکھا ہوا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اسے پیش کرو ‘۔ وہ کہے گا اے اللہ یہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا کرے گا؟ جناب باری فرمائے گا ’ تجھ پر ظلم نہ کیا جائے گا ‘۔ اب تمام کے تمام دفتر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو اس پرچے کا وزن ان تمام دفتروں سے بڑھ جائے گا۔ یہ جھک جائے گا اور وہ اونچے ہو جائیں گے اور اللہ رحمان و رحیم کے نام سے کوئی چیز وزنی نہ ہوگی } }۔ ابن ماجہ اور ترمذی میں بھی روایت ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ { قیامت کے دن جب ترازوئیں رکھی جائیں گی پس ایک شخص کو لایا جائے گا اور ایک پلڑے میں رکھا جائے گا اور جو کچھ اس پر شمار کیا گیا ہے، وہ بھی رکھا جائے گا تو وہ پلڑا جھک جائے گا اور اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ ابھی اس نے پیٹھ پھیری ہی ہوگی کہ اللہ کی طرف سے ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا اور کہے گا جلدی نہ کرو۔ ایک چیز اس کی ابھی باقی رہ گئی ہے پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس میں «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» ہوگا وہ اس شخص کے ساتھ ترازو کے پلڑے میں رکھا جائے گا اور یہ پلڑا نیکی کا جھک جائے گا }۔۱؎ [مسند احمد:221/2:حسن]
مسند احمد میں ہے کہ { ایک صحابی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے غلام ہیں جو مجھے جھٹلاتے بھی ہیں، میری خیانت بھی کرتے ہیں، میری نافرمانی بھی کرتے ہیں اور میں بھی انہیں مارتا پیٹتا ہوں اور برا بھلا بھی کہتا ہوں۔ اب فرمائیے میرا ان کا کیا حال ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان کی خیانت، نافرمانی، جھٹلانا وغیرہ جمع کیا جائے گا اور تیرا مارنا پیٹنا برا بھلا کہنا بھی۔ اگر تیری سزا ان کی خطاؤں کے برابر ہوئی تو تو چھوٹ گیا نہ عذاب نہ ثواب۔ ہاں اگر تیری سزا کم رہی تو تجھے اللہ کا فضل و کرم ملے گا اور اگر تیری سزا ان کے کرتوتوں سے بڑھ گئی تو تجھ سے اس بڑھی ہوئی سزا کا انتقام لیا جائے گا }۔ یہ سن کر وہ صحابی رضی اللہ عنہ رونے لگے اور چیخنا شروع کردیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسے کیا ہو گیا؟ کیا اس نے قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھا آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ» } [آیت:47] یہ سن کر اس صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان معاملات کو سن کر تو میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے ان تمام غلاموں کو آزاد کردوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گواہ رہئے یہ سب اللہ کی راہ میں آزاد ہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3165،قال الشيخ الألباني:صحیح]
44۔ 1 یعنی ان کی یا ان کے آبا واجداد، کی زندگیاں اگر عیش و راحت میں گزر گئیں تو کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صحیح راستے پر ہیں؟ اور آئندہ بھی انھیں کچھ نہیں ہوگا؟ نہیں بلکہ یہ چند روزہ زندگی کا آرام تو ہمارے اصول مہلت کا ایک حصہ ہے، اس سے کسی کو دھوکا اور فریب میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ 44۔ 2 یعنی زمین کفر بتدریج گھٹ رہی ہے اور دولت اسلام وسعت پذیر ہے۔ کفر کے پیروں تلے سے زمین کھسک رہی ہے اور اسلام کا غلبہ بڑھ رہا ہے اور مسلمان علاقے پر علاقہ فتح کرتے چلے جا رہے ہیں۔ 44۔ 3 یعنی کفر کو سمٹتا اور اسلام کو بڑھتا ہوا دیکھ کر بھی، کیا وہ کافر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ غالب ہیں؟ استفہام انکاری ہے۔ یعنی وہ غالب نہیں، مغلوب ہیں، فاتح نہیں، مفتوح ہیں، معزز و سرفراز نہیں، ذلت اور خواری ان کا مقدر ہے۔
(آیت 44) ➊ { بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ …:} یعنی ان کے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بے پروا ہونے، پیغمبر کا مذاق اڑانے اور جلدی عذاب لانے کا مطالبہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان پر جو مہربانی کی، انھیں اور ان کے آبا و اجداد کو دنیا کے سازو سامان سے فائدہ اٹھانے کا جو موقع دیا تو اس پر احسان مند ہونے کے بجائے اس غلط فہمی میں پڑ گئے کہ یہ نعمت ہمیشہ رہے گی، کبھی زائل نہ ہو گی، جیسا کہ فرمایا: «{ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍ }» [ إبراہیم: ۴۴ ] ”اور کیا تم نے اس سے پہلے قسمیں نہ کھائی تھیں کہ تمھارے لیے کوئی بھی زوال نہیں۔“ اور پھر ہوتے ہوتے اپنی خوش حالی میں اس قدر مست ہو گئے کہ سرے سے بھول ہی گئے کہ ان کے اوپر کوئی ان کا رب بھی ہے، جو جب چاہے عذاب بھیج کر ان کا نام و نشان مٹا سکتا ہے۔ ➋ { اَفَلَا يَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِي الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا …:} یعنی کیا یہ مشرکین جو عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں اس عذاب کے آثار اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے کہ ہم ان کی زمین کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے اسے مسلسل کم کرتے چلے آ رہے ہیں۔ مسلمان شہروں پر شہر اور علاقوں پر علاقے فتح کرتے چلے جا رہے ہیں اور وہ وقت آ رہا ہے کہ ان کی مقبوضہ زمین گھٹتے گھٹتے ساری کی ساری ان کے قبضے سے نکل جائے گی، تو کیا پھر بھی یہی غالب ہوں گے؟ زمین کو اس کے کناروں سے کم کرتے چلے آنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ زمین سے مراد زمین کے رہنے والے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ سْـَٔلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا }» [ یوسف: ۸۲ ] ”اور اس بستی سے پوچھ لیجیے جس میں ہم تھے۔“ یہاں بستی سے مراد بستی میں رہنے والے ہیں۔ یعنی کیا یہ کافر ہماری زبردست قدرت اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے کہ بے سروسامان اور مظلوم و مقہور مسلمانوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے اور ان سرداروں کے ساتھی مسلمان ہوتے جا رہے ہیں، جس سے کفار کی تعداد روز بروز کم ہوتی جارہی ہے، جو آخر کار ختم ہو جانے والی ہے۔ تیسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ کیا یہ لوگ ہماری زبردست قدرت نہیں دیکھتے کہ ہم آسمانی اور زمینی آفات مثلاً طوفانوں، سیلابوں، زلزلوں، آتش فشاں پہاڑوں کی ہلاکت خیزیوں، جنگوں، وباؤں اور دوسرے عذابوں کی صورت میں ہزاروں لاکھوں لوگوں کو ہلاک کرکے آباد زمینوں کو بے آباد کر دیتے ہیں؟ ان کے اردگرد ہود علیہ السلام، صالح علیہ السلام، لوط علیہ السلام اور قوم سبا کی برباد شدہ بستیاں ان کی آنکھوں کے سامنے ہیں، بھلا ہماری اس عظیم الشان قوت کے مقابلے میں یہ لوگ غالب ا ٓسکتے ہیں؟ پہلا مطلب الفاظ کے بہت قریب ہے، مگر سورت مکی ہونے کی وجہ سے آخری دو مطلب بیان کیے گئے ہیں، کیونکہ مکہ میں مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا۔ مزید دیکھیے سورۂ رعد (۴۱)۔
اِن سے کہہ دو کہ "میں تو وحی کی بنا پر تمہیں متنبہ کر رہا ہوں" مگر بہرے پکار کو نہیں سنا کرتے جبکہ اُنہیں خبردار کیا جائے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے! میں تو تمہیں اللہ کی وحی کے ذریعہ آگاه کر رہا ہوں مگر بہرے لوگ بات نہیں سنتے جبکہ انہیں آگاه کیا جائے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ کہ میں تم کو صرف وحی سے ڈراتا ہوں اور بہرے پکارنا نہیں سنتے جب ڈرائے جائیں،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہہ دیجئے کہ میں تو تمہیں صرف وحی کی بناء پر (عذاب سے) ڈراتا ہوں مگر جو بہرے ہوتے ہیں وہ دعا و پکار نہیں سنتے جب انہیں ڈرایا جائے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے میں تو تمھیں صرف وحی کے ساتھ ڈراتا ہوں اور بہرے پکار کو نہیں سنتے، جب کبھی ڈرائے جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذلت و رسوائی کے مارے لوگ ٭٭
کافروں کے کینے کی اور اپنی گمراہی پر جم جانے کی وجہ بیان ہو رہی ہے کہ انہیں کھانے پینے کو ملتا رہا، لمبی لمبی عمریں ملیں، انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمارے کرتوت اللہ کو پسند ہیں۔ اس کے بعد انہیں نصیحت کرتا ہے کہ ’ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے کافروں کی بستیوں کی بستیاں بوجہ ان کے کفر کے ملیامیٹ کر دیں؟ ‘ اس جملے کے اور بھی بہت سے معنی کئے گئے ہیں جو سورۃ الرعد میں ہم بیان کر آئے ہیں۔ لیکن زیادہ ٹھیک معنی یہی ہیں۔ جیسے فرمایا آیت «ووَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [46-الأحقاف:27] ، ’ ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں ہلاک کیں اور اپنی نشانیاں ہیر پھیر کر کے تمہیں دکھا دیں تاکہ لوگ اپنی برائیوں سے باز آجائیں ‘۔ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے اس کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے ہیں کہ ’ ہم کفر پر اسلام کو غالب کرتے چلے آئے ہیں ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:494/1:] کیا تم اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو اپنے دشمنوں پر غالب کر دیا اور کس طرح جھٹلانے والی اگلی امتوں کو اس نے ملیامیٹ کر دیا اور اپنے مومنوں کو نجات دے دی۔ کیا اب بھی یہ لوگ اپنے آپ کو غالب ہی سمجھ رہے ہیں؟ نہیں نہیں بلکہ یہ مغلوب ہیں، ذلیل ہیں، رذیل ہیں، نقصان میں ہیں، بربادی کے ماتحت ہیں۔ میں تو اللہ کی طرف سے مبلغ ہوں، جن جن عذابوں سے تمہیں خبردار کر رہا ہوں، یہ اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ اللہ کا کہا ہوا ہے۔ ہاں جن کی آنکھیں اللہ نے اندھی کر دی ہیں، جن کے دل و دماغ بند کر دیئے ہیں، انہیں یہ اللہ کی باتیں سود مند نہیں پڑتیں۔ بہروں کو آگاہ کرنا بے کار ہے کیونکہ وہ تو سنتے ہی نہیں۔ ان گنہگاروں پر اک ادنیٰ سا بھی عذاب آ جائے تو واویلا کرنے لگتے ہیں اور اسی وقت بے ساختہ اپنے قصور کا اقرار کر لیتے ہیں۔ قیامت کے دن عدل کی ترازو قائم کی جائے گی۔ یہ ترازو ایک ہی ہوگی لیکن چونکہ جو اعمال اس میں تولے جائیں گے وہ بہت سے ہوں گے، اس اعتبار سے لفظ جمع لائے۔ «وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:49] ’ اس دن کسی پر کسی طرح کا ذرا سا بھی ظلم نہ ہوگا ‘۔ اس لیے کہ حساب لینے والا خود اللہ ہے جو اکیلا ہی تمام مخلوق کے حساب کے لیے کافی ہے۔ ہر چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی وہاں موجود ہو جائے گا۔
اور آیت میں فرمایا تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ فرمان ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40] ، ’ اللہ تعالیٰ ایک رائی کے دانے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، نیکی کو بڑھاتا ہے اور اس کا اجر اپنے پاس سے بہت بڑا عنایت فرماتا ہے ‘۔ لقمان رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی وصیتوں میں اپنے بیٹے سے فرمایا تھا، «يَابُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16] ’ بیٹے ایک رائی کے دانے برابر بھی جو عمل ہو خواہ وہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں، وہ اللہ اسے لائے گا، وہ بڑا ہی باریک بین اور باخبر ہے ‘۔ بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں وزن دار ہیں اور اللہ کو بہت پیارے ہیں «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2695]
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اہل محشر کے سامنے اپنے پاس بلائے گا اور اس کے گناہوں کے ایک کم ایک سو دفتر اس کے سامنے کھولے جائیں گے۔ جہاں تک نگاہ کام کرے وہاں تک کا ایک ایک دفتر ہوگا۔ پھر اس سے جناب باری تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ ’ کیا تجھے اپنے کئے ہوئے ان گناہوں میں سے کسی کا انکار ہے؟ میری طرف سے جو محافظ فرشتے تیرے اعمال لکھنے پر مقرر تھے انہوں نے تجھ پر کوئی ظلم تو نہیں کیا؟ ‘ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! نہ انکار کی گنجائش ہے نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ظلماً لکھا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اچھا تیرے پاس کوئی عذر ہے یا کوئی نیکی ہے؟ ‘ وہ گھبرایا ہوا کہے گا اے اللہ کوئی نہیں۔ پروردگار عالم فرمائے گا ’ کیوں نہیں؟ بیشک تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا ‘۔ اب ایک چھوٹا سا پرچہ نکالا جائے گا جس میں «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَ اَنَّ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» لکھا ہوا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اسے پیش کرو ‘۔ وہ کہے گا اے اللہ یہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا کرے گا؟ جناب باری فرمائے گا ’ تجھ پر ظلم نہ کیا جائے گا ‘۔ اب تمام کے تمام دفتر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو اس پرچے کا وزن ان تمام دفتروں سے بڑھ جائے گا۔ یہ جھک جائے گا اور وہ اونچے ہو جائیں گے اور اللہ رحمان و رحیم کے نام سے کوئی چیز وزنی نہ ہوگی } }۔ ابن ماجہ اور ترمذی میں بھی روایت ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ { قیامت کے دن جب ترازوئیں رکھی جائیں گی پس ایک شخص کو لایا جائے گا اور ایک پلڑے میں رکھا جائے گا اور جو کچھ اس پر شمار کیا گیا ہے، وہ بھی رکھا جائے گا تو وہ پلڑا جھک جائے گا اور اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ ابھی اس نے پیٹھ پھیری ہی ہوگی کہ اللہ کی طرف سے ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا اور کہے گا جلدی نہ کرو۔ ایک چیز اس کی ابھی باقی رہ گئی ہے پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس میں «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» ہوگا وہ اس شخص کے ساتھ ترازو کے پلڑے میں رکھا جائے گا اور یہ پلڑا نیکی کا جھک جائے گا }۔۱؎ [مسند احمد:221/2:حسن]
مسند احمد میں ہے کہ { ایک صحابی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے غلام ہیں جو مجھے جھٹلاتے بھی ہیں، میری خیانت بھی کرتے ہیں، میری نافرمانی بھی کرتے ہیں اور میں بھی انہیں مارتا پیٹتا ہوں اور برا بھلا بھی کہتا ہوں۔ اب فرمائیے میرا ان کا کیا حال ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان کی خیانت، نافرمانی، جھٹلانا وغیرہ جمع کیا جائے گا اور تیرا مارنا پیٹنا برا بھلا کہنا بھی۔ اگر تیری سزا ان کی خطاؤں کے برابر ہوئی تو تو چھوٹ گیا نہ عذاب نہ ثواب۔ ہاں اگر تیری سزا کم رہی تو تجھے اللہ کا فضل و کرم ملے گا اور اگر تیری سزا ان کے کرتوتوں سے بڑھ گئی تو تجھ سے اس بڑھی ہوئی سزا کا انتقام لیا جائے گا }۔ یہ سن کر وہ صحابی رضی اللہ عنہ رونے لگے اور چیخنا شروع کردیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسے کیا ہو گیا؟ کیا اس نے قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھا آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ» } [آیت:47] یہ سن کر اس صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان معاملات کو سن کر تو میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے ان تمام غلاموں کو آزاد کردوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گواہ رہئے یہ سب اللہ کی راہ میں آزاد ہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3165،قال الشيخ الألباني:صحیح]
45۔ 1 یعنی قرآن سنا کر انھیں وعظ و نصیحت کر رہا ہوں اور یہی میری ذمہ داری ہے اور منصب ہے۔ لیکن جن لوگوں کے کانوں کو اللہ نے حق کے سننے سے بہرا کردیا، آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور دلوں پر مہر لگا دی، ان پر اس قرآن کا اور وعظ و نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
(آیت 45) ➊ { قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْيِ:} یعنی آپ ان سے کہہ دیں کہ میرا کام تو وحی کے مطابق تمھیں اللہ کے عذاب سے ڈرانا ہے، عذاب لانا نہیں۔ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور فوراً عذاب لانا اس کی کونی اور شرعی حکمتوں کے خلاف ہے، کیونکہ اس سے آزمائش کا مقصد فوت ہوتا ہے۔ ➋ { وَ لَا يَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ:} بہروں سے مراد کفار ہیں جنھیں حق سنائی ہی نہیں دیتا۔ الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ”یہ بہرے“ کیا گیا ہے۔ آیت کے شروع میں کفار کو مخاطب فرمایا کہ ”میں تو تمھیں وحی کے ساتھ ڈراتا ہوں“ پھر فرمایا ”یہ بہرے پکار نہیں سنتے“، بعد میں انھیں غائب کے صیغے سے ذکر فرمایا کہ یہ لوگ مخاطب کرنے کے اہل ہی نہیں، یہ التفات ہے۔ ➌ { اِذَا مَا يُنْذَرُوْنَ:} ”جب ڈرائے جاتے ہیں“ کے الفاظ سے ان کے بہرے پن کی شدت بیان کرنا مقصود ہے، کیونکہ بہرہ تو کوئی بھی بات نہیں سنتا، خواہ ڈرانے کی ہو یا خوش خبری کی، مگر عام دستور ہے کہ ڈرانے کے وقت زیادہ سے زیادہ اونچی آواز کے ساتھ پکارا جاتا ہے۔ تو جو بہرہ اتنی بلند پکار نہ سنے وہ کوئی اور آواز کیا سنے گا؟
اور اگر تیرے رب کا عذاب ذرا سا انہیں چھو جائے تو ابھی چیخ اٹھیں کہ ہائے ہماری کم بختی، بے شک ہم خطا وار تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر انہیں تیرے رب کے کسی عذاب کا جھونکا بھی لگ جائے تو پکار اٹھیں کہ ہائے ہماری بدبختی! یقیناً ہم گنہگار تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر انہیں تمہارے رب کے عذاب کی ہوا چھو جائے تو ضرور کہیں گے ہائے خرابی ہماری بیشک ہم ظالم تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب انہیں تمہارے پروردگار کے عذاب کا ایک جھونکا بھی چھو جائے تو وہ کہہ اٹھیں گے کہ ہائے افسوس بےشک ہم ظالم تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور یقینا اگر انھیں تیرے رب کے عذاب کی ایک لپٹ چھو جائے تو ضرور ہی کہیں گے ہائے ہماری بربادی! بلاشبہ ہم ہی ظالم تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذلت و رسوائی کے مارے لوگ ٭٭
کافروں کے کینے کی اور اپنی گمراہی پر جم جانے کی وجہ بیان ہو رہی ہے کہ انہیں کھانے پینے کو ملتا رہا، لمبی لمبی عمریں ملیں، انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمارے کرتوت اللہ کو پسند ہیں۔ اس کے بعد انہیں نصیحت کرتا ہے کہ ’ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے کافروں کی بستیوں کی بستیاں بوجہ ان کے کفر کے ملیامیٹ کر دیں؟ ‘ اس جملے کے اور بھی بہت سے معنی کئے گئے ہیں جو سورۃ الرعد میں ہم بیان کر آئے ہیں۔ لیکن زیادہ ٹھیک معنی یہی ہیں۔ جیسے فرمایا آیت «ووَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [46-الأحقاف:27] ، ’ ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں ہلاک کیں اور اپنی نشانیاں ہیر پھیر کر کے تمہیں دکھا دیں تاکہ لوگ اپنی برائیوں سے باز آجائیں ‘۔ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے اس کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے ہیں کہ ’ ہم کفر پر اسلام کو غالب کرتے چلے آئے ہیں ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:494/1:] کیا تم اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو اپنے دشمنوں پر غالب کر دیا اور کس طرح جھٹلانے والی اگلی امتوں کو اس نے ملیامیٹ کر دیا اور اپنے مومنوں کو نجات دے دی۔ کیا اب بھی یہ لوگ اپنے آپ کو غالب ہی سمجھ رہے ہیں؟ نہیں نہیں بلکہ یہ مغلوب ہیں، ذلیل ہیں، رذیل ہیں، نقصان میں ہیں، بربادی کے ماتحت ہیں۔ میں تو اللہ کی طرف سے مبلغ ہوں، جن جن عذابوں سے تمہیں خبردار کر رہا ہوں، یہ اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ اللہ کا کہا ہوا ہے۔ ہاں جن کی آنکھیں اللہ نے اندھی کر دی ہیں، جن کے دل و دماغ بند کر دیئے ہیں، انہیں یہ اللہ کی باتیں سود مند نہیں پڑتیں۔ بہروں کو آگاہ کرنا بے کار ہے کیونکہ وہ تو سنتے ہی نہیں۔ ان گنہگاروں پر اک ادنیٰ سا بھی عذاب آ جائے تو واویلا کرنے لگتے ہیں اور اسی وقت بے ساختہ اپنے قصور کا اقرار کر لیتے ہیں۔ قیامت کے دن عدل کی ترازو قائم کی جائے گی۔ یہ ترازو ایک ہی ہوگی لیکن چونکہ جو اعمال اس میں تولے جائیں گے وہ بہت سے ہوں گے، اس اعتبار سے لفظ جمع لائے۔ «وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:49] ’ اس دن کسی پر کسی طرح کا ذرا سا بھی ظلم نہ ہوگا ‘۔ اس لیے کہ حساب لینے والا خود اللہ ہے جو اکیلا ہی تمام مخلوق کے حساب کے لیے کافی ہے۔ ہر چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی وہاں موجود ہو جائے گا۔
اور آیت میں فرمایا تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ فرمان ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40] ، ’ اللہ تعالیٰ ایک رائی کے دانے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، نیکی کو بڑھاتا ہے اور اس کا اجر اپنے پاس سے بہت بڑا عنایت فرماتا ہے ‘۔ لقمان رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی وصیتوں میں اپنے بیٹے سے فرمایا تھا، «يَابُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16] ’ بیٹے ایک رائی کے دانے برابر بھی جو عمل ہو خواہ وہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں، وہ اللہ اسے لائے گا، وہ بڑا ہی باریک بین اور باخبر ہے ‘۔ بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں وزن دار ہیں اور اللہ کو بہت پیارے ہیں «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2695]
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اہل محشر کے سامنے اپنے پاس بلائے گا اور اس کے گناہوں کے ایک کم ایک سو دفتر اس کے سامنے کھولے جائیں گے۔ جہاں تک نگاہ کام کرے وہاں تک کا ایک ایک دفتر ہوگا۔ پھر اس سے جناب باری تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ ’ کیا تجھے اپنے کئے ہوئے ان گناہوں میں سے کسی کا انکار ہے؟ میری طرف سے جو محافظ فرشتے تیرے اعمال لکھنے پر مقرر تھے انہوں نے تجھ پر کوئی ظلم تو نہیں کیا؟ ‘ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! نہ انکار کی گنجائش ہے نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ظلماً لکھا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اچھا تیرے پاس کوئی عذر ہے یا کوئی نیکی ہے؟ ‘ وہ گھبرایا ہوا کہے گا اے اللہ کوئی نہیں۔ پروردگار عالم فرمائے گا ’ کیوں نہیں؟ بیشک تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا ‘۔ اب ایک چھوٹا سا پرچہ نکالا جائے گا جس میں «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَ اَنَّ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» لکھا ہوا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اسے پیش کرو ‘۔ وہ کہے گا اے اللہ یہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا کرے گا؟ جناب باری فرمائے گا ’ تجھ پر ظلم نہ کیا جائے گا ‘۔ اب تمام کے تمام دفتر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو اس پرچے کا وزن ان تمام دفتروں سے بڑھ جائے گا۔ یہ جھک جائے گا اور وہ اونچے ہو جائیں گے اور اللہ رحمان و رحیم کے نام سے کوئی چیز وزنی نہ ہوگی } }۔ ابن ماجہ اور ترمذی میں بھی روایت ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ { قیامت کے دن جب ترازوئیں رکھی جائیں گی پس ایک شخص کو لایا جائے گا اور ایک پلڑے میں رکھا جائے گا اور جو کچھ اس پر شمار کیا گیا ہے، وہ بھی رکھا جائے گا تو وہ پلڑا جھک جائے گا اور اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ ابھی اس نے پیٹھ پھیری ہی ہوگی کہ اللہ کی طرف سے ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا اور کہے گا جلدی نہ کرو۔ ایک چیز اس کی ابھی باقی رہ گئی ہے پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس میں «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» ہوگا وہ اس شخص کے ساتھ ترازو کے پلڑے میں رکھا جائے گا اور یہ پلڑا نیکی کا جھک جائے گا }۔۱؎ [مسند احمد:221/2:حسن]
مسند احمد میں ہے کہ { ایک صحابی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے غلام ہیں جو مجھے جھٹلاتے بھی ہیں، میری خیانت بھی کرتے ہیں، میری نافرمانی بھی کرتے ہیں اور میں بھی انہیں مارتا پیٹتا ہوں اور برا بھلا بھی کہتا ہوں۔ اب فرمائیے میرا ان کا کیا حال ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان کی خیانت، نافرمانی، جھٹلانا وغیرہ جمع کیا جائے گا اور تیرا مارنا پیٹنا برا بھلا کہنا بھی۔ اگر تیری سزا ان کی خطاؤں کے برابر ہوئی تو تو چھوٹ گیا نہ عذاب نہ ثواب۔ ہاں اگر تیری سزا کم رہی تو تجھے اللہ کا فضل و کرم ملے گا اور اگر تیری سزا ان کے کرتوتوں سے بڑھ گئی تو تجھ سے اس بڑھی ہوئی سزا کا انتقام لیا جائے گا }۔ یہ سن کر وہ صحابی رضی اللہ عنہ رونے لگے اور چیخنا شروع کردیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسے کیا ہو گیا؟ کیا اس نے قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھا آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ» } [آیت:47] یہ سن کر اس صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان معاملات کو سن کر تو میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے ان تمام غلاموں کو آزاد کردوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گواہ رہئے یہ سب اللہ کی راہ میں آزاد ہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3165،قال الشيخ الألباني:صحیح]
46۔ 1 یعنی عذاب کا ایک ہلکا سا چھٹا اور تھوڑا حصہ بھی پہنچے گا تو پکار اٹھیں گے اور اعتراف جرم کرنے لگ جائیں گے۔
(آیت 46) ➊ { وَ لَىِٕنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ …: ” نَفْحَةٌ “} کسی چیز کا ایک دفعہ کا تھوڑا سا حصہ، مثلاً ہوا کا ہلکا سا جھونکا، آگ یا گرمی کی معمولی سی لپٹ، خوشبو کی ہلکی سی لپٹ۔یعنی آج تو یہ لوگ تکبر کی وجہ سے بہرے ہو رہے ہیں مگر جلد ہی ان کی یہ حالت بدل جائے گی اور عذاب کا تو ذکر ہی کیا، اگر صرف ایک مرتبہ اس کی ذرا سی لپٹ انھیں چھو بھی گئی تو ساری شیخی ختم ہو جائے گی اور واویلا کرنے لگیں گے، مگر اس وقت چیخ پکار کچھ فائدہ نہ دے گی۔ کفار کا عذاب دیکھتے ہی اپنے ظالم ہونے کا اقرار قرآن مجید میں کئی جگہ مذکور ہے۔ دیکھیے سورۂ مومن (۸۴، ۸۵)۔ ➋ ہلکے سے ہلکے عذاب سے ان کی یہ حالت ہونے کی تصویر کشی کے لیے تین مبالغے استعمال کیے گئے۔ لفظ{ ”مَسّ“ } (چھونا) اور {” نَفْحَةٌ “} کا لفظ، جس کا معنی کسی بھی چیز کا کم از کم ہونا ہے اور {” نَفْحَةٌ “} میں ” تاء “ جو ایک مرتبہ کے مفہوم کو واضح کرتی ہے۔ (زمخشری)
قیامت کے روز ہم ٹھیک ٹھیک تولنے والے ترازو رکھ دیں گے، پھر کسی شخص پر ذرہ برابر ظلم نہ ہو گا جس کا رائی کے دانے کے برابر بھی کچھ کیا دھرا ہو گا وہ ہم سامنے لے آئیں گے اور حساب لگانے کے لیے ہم کافی ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
قیامت کے دن ہم درمیان میں ﻻ رکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازو کو۔ پھر کسی پر کچھ بھی ﻇلم نہ کیا جائے گا۔ اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا ہم اسے ﻻ حاضر کریں گے، اور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم عدل کی ترازوئیں رکھیں گے قیامت کے دن تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا، اور اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہو تو ہم اسے لے آئیں گے، اور ہم کافی ہیں حساب کو،
علامہ محمد حسین نجفی
ہم قیامت کے دن صحیح تولنے والے میزان (ترازو) قائم کر دیں گے۔ پس کسی شخص پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور اگر کوئی (عمل) رائی کے دانہ کے برابر بھی ہوگا تو ہم اسے (وزن میں) لے آئیں گے اور حساب لینے والے ہم ہی کافی ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم قیامت کے دن ایسے ترازو رکھیں گے جو عین انصاف ہوں گے، پھر کسی شخص پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر رائی کے ایک دانہ کے برابر عمل ہو گا تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذلت و رسوائی کے مارے لوگ ٭٭
کافروں کے کینے کی اور اپنی گمراہی پر جم جانے کی وجہ بیان ہو رہی ہے کہ انہیں کھانے پینے کو ملتا رہا، لمبی لمبی عمریں ملیں، انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمارے کرتوت اللہ کو پسند ہیں۔ اس کے بعد انہیں نصیحت کرتا ہے کہ ’ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے کافروں کی بستیوں کی بستیاں بوجہ ان کے کفر کے ملیامیٹ کر دیں؟ ‘ اس جملے کے اور بھی بہت سے معنی کئے گئے ہیں جو سورۃ الرعد میں ہم بیان کر آئے ہیں۔ لیکن زیادہ ٹھیک معنی یہی ہیں۔ جیسے فرمایا آیت «ووَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [46-الأحقاف:27] ، ’ ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں ہلاک کیں اور اپنی نشانیاں ہیر پھیر کر کے تمہیں دکھا دیں تاکہ لوگ اپنی برائیوں سے باز آجائیں ‘۔ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے اس کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے ہیں کہ ’ ہم کفر پر اسلام کو غالب کرتے چلے آئے ہیں ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:494/1:] کیا تم اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو اپنے دشمنوں پر غالب کر دیا اور کس طرح جھٹلانے والی اگلی امتوں کو اس نے ملیامیٹ کر دیا اور اپنے مومنوں کو نجات دے دی۔ کیا اب بھی یہ لوگ اپنے آپ کو غالب ہی سمجھ رہے ہیں؟ نہیں نہیں بلکہ یہ مغلوب ہیں، ذلیل ہیں، رذیل ہیں، نقصان میں ہیں، بربادی کے ماتحت ہیں۔ میں تو اللہ کی طرف سے مبلغ ہوں، جن جن عذابوں سے تمہیں خبردار کر رہا ہوں، یہ اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ اللہ کا کہا ہوا ہے۔ ہاں جن کی آنکھیں اللہ نے اندھی کر دی ہیں، جن کے دل و دماغ بند کر دیئے ہیں، انہیں یہ اللہ کی باتیں سود مند نہیں پڑتیں۔ بہروں کو آگاہ کرنا بے کار ہے کیونکہ وہ تو سنتے ہی نہیں۔ ان گنہگاروں پر اک ادنیٰ سا بھی عذاب آ جائے تو واویلا کرنے لگتے ہیں اور اسی وقت بے ساختہ اپنے قصور کا اقرار کر لیتے ہیں۔ قیامت کے دن عدل کی ترازو قائم کی جائے گی۔ یہ ترازو ایک ہی ہوگی لیکن چونکہ جو اعمال اس میں تولے جائیں گے وہ بہت سے ہوں گے، اس اعتبار سے لفظ جمع لائے۔ «وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:49] ’ اس دن کسی پر کسی طرح کا ذرا سا بھی ظلم نہ ہوگا ‘۔ اس لیے کہ حساب لینے والا خود اللہ ہے جو اکیلا ہی تمام مخلوق کے حساب کے لیے کافی ہے۔ ہر چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی وہاں موجود ہو جائے گا۔
اور آیت میں فرمایا تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ فرمان ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40] ، ’ اللہ تعالیٰ ایک رائی کے دانے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، نیکی کو بڑھاتا ہے اور اس کا اجر اپنے پاس سے بہت بڑا عنایت فرماتا ہے ‘۔ لقمان رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی وصیتوں میں اپنے بیٹے سے فرمایا تھا، «يَابُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16] ’ بیٹے ایک رائی کے دانے برابر بھی جو عمل ہو خواہ وہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں، وہ اللہ اسے لائے گا، وہ بڑا ہی باریک بین اور باخبر ہے ‘۔ بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں وزن دار ہیں اور اللہ کو بہت پیارے ہیں «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2695]
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اہل محشر کے سامنے اپنے پاس بلائے گا اور اس کے گناہوں کے ایک کم ایک سو دفتر اس کے سامنے کھولے جائیں گے۔ جہاں تک نگاہ کام کرے وہاں تک کا ایک ایک دفتر ہوگا۔ پھر اس سے جناب باری تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ ’ کیا تجھے اپنے کئے ہوئے ان گناہوں میں سے کسی کا انکار ہے؟ میری طرف سے جو محافظ فرشتے تیرے اعمال لکھنے پر مقرر تھے انہوں نے تجھ پر کوئی ظلم تو نہیں کیا؟ ‘ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! نہ انکار کی گنجائش ہے نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ظلماً لکھا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اچھا تیرے پاس کوئی عذر ہے یا کوئی نیکی ہے؟ ‘ وہ گھبرایا ہوا کہے گا اے اللہ کوئی نہیں۔ پروردگار عالم فرمائے گا ’ کیوں نہیں؟ بیشک تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا ‘۔ اب ایک چھوٹا سا پرچہ نکالا جائے گا جس میں «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَ اَنَّ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» لکھا ہوا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اسے پیش کرو ‘۔ وہ کہے گا اے اللہ یہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا کرے گا؟ جناب باری فرمائے گا ’ تجھ پر ظلم نہ کیا جائے گا ‘۔ اب تمام کے تمام دفتر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو اس پرچے کا وزن ان تمام دفتروں سے بڑھ جائے گا۔ یہ جھک جائے گا اور وہ اونچے ہو جائیں گے اور اللہ رحمان و رحیم کے نام سے کوئی چیز وزنی نہ ہوگی } }۔ ابن ماجہ اور ترمذی میں بھی روایت ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ { قیامت کے دن جب ترازوئیں رکھی جائیں گی پس ایک شخص کو لایا جائے گا اور ایک پلڑے میں رکھا جائے گا اور جو کچھ اس پر شمار کیا گیا ہے، وہ بھی رکھا جائے گا تو وہ پلڑا جھک جائے گا اور اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ ابھی اس نے پیٹھ پھیری ہی ہوگی کہ اللہ کی طرف سے ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا اور کہے گا جلدی نہ کرو۔ ایک چیز اس کی ابھی باقی رہ گئی ہے پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس میں «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» ہوگا وہ اس شخص کے ساتھ ترازو کے پلڑے میں رکھا جائے گا اور یہ پلڑا نیکی کا جھک جائے گا }۔۱؎ [مسند احمد:221/2:حسن]
مسند احمد میں ہے کہ { ایک صحابی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے غلام ہیں جو مجھے جھٹلاتے بھی ہیں، میری خیانت بھی کرتے ہیں، میری نافرمانی بھی کرتے ہیں اور میں بھی انہیں مارتا پیٹتا ہوں اور برا بھلا بھی کہتا ہوں۔ اب فرمائیے میرا ان کا کیا حال ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان کی خیانت، نافرمانی، جھٹلانا وغیرہ جمع کیا جائے گا اور تیرا مارنا پیٹنا برا بھلا کہنا بھی۔ اگر تیری سزا ان کی خطاؤں کے برابر ہوئی تو تو چھوٹ گیا نہ عذاب نہ ثواب۔ ہاں اگر تیری سزا کم رہی تو تجھے اللہ کا فضل و کرم ملے گا اور اگر تیری سزا ان کے کرتوتوں سے بڑھ گئی تو تجھ سے اس بڑھی ہوئی سزا کا انتقام لیا جائے گا }۔ یہ سن کر وہ صحابی رضی اللہ عنہ رونے لگے اور چیخنا شروع کردیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسے کیا ہو گیا؟ کیا اس نے قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھا آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ» } [آیت:47] یہ سن کر اس صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان معاملات کو سن کر تو میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے ان تمام غلاموں کو آزاد کردوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گواہ رہئے یہ سب اللہ کی راہ میں آزاد ہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3165،قال الشيخ الألباني:صحیح]
47۔ 1 موازین، میزان (ترازو) کی جمع ہے وزن اعمال کے لئے قیامت والے دن یا تو کئی ترازو ہونگے یا ترازو تو ایک ہی ہوگی انسان کے اعمال تو بےوزن ہیں یعنی ان کا کوئی ظاہری وجود یا جسم تو ہے نہیں پھر وزن کس طرح ہوگا؟ یہ سوال آج سے قبل تک شاید کوئی اہمیت رکھتا ہو۔ لیکن آج سائنسی ایجادات نے اسے ممکن بنادیا ہے۔ اب ان ایجادات کے ذریعے سے بےوزن چیزوں کا وزن بھی تولا جانے لگا ہے۔ جب انسان اس بات پر قادر ہوگیا ہے، تو اللہ کے لئے ان اعمال کا، جو بےوزن کو دکھلانے کے لئے ان بےوزن اعمال کو وہ اجسام میں بدل دے گا اور پھر وزن کرے، جیسا کہ حدیث میں بعض اعمالوں کے مجسم ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ مثلا! صاحب قرآن کے لئے ایک خوش شکل نوجوان کی شکل میں آئے گا۔ اور پوچھے گا، تو کون ہے؟ وہ کہے گا میں قرآن ہوں جسے تو راتوں کو (قیام اللیل) بیدار رہ کر اور دن کو پیاسا رہ کر پڑھا کرتا تھا، اسی طرح مومن کی قبر میں عمل صالح ایک خوش رنگ اور معطر نوجوان کی شکل میں آئے گا اور کافر اور منافق کے پاس اس کی برعکس شکل میں (مسند احمد 5۔ 287)۔ اس کی مذید تفصیل کے لیے دیکھئے سورة الاعراف 7 کا حاشیہ القسط مصدر اور الموازین کی صفت ہے معنی ہیں ذوات قسط انصاف کرنے والی ترازو یا ترازوئیں
(آیت 47) ➊ {وَ نَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ …:} پچھلی آیات میں ذکر ہوا ہے کہ کفار کے پاس جب تک قدرت رہتی ہے وہ عدل و انصاف سے کنارہ کش اور ظلم و جور پر تلے رہتے ہیں اور اختیار ختم ہوتے ہی حق کا اعتراف کرنے لگتے ہیں، اس آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ اس طرح نہیں، وہ ہمیشہ {”قَائِمًا بِالْقِسْطِ“} انصاف پر قائم ہے، حتیٰ کہ قیامت کے دن بھی وہ انصاف کے ترازو قائم فرمائے گا، پھر کسی جان پر کچھ ظلم نہیں ہو گا۔ (بقاعی) ➋ {” الْمَوَازِيْنَ “ ”مِيْزَانٌ“} کی جمع ہے۔ {” الْقِسْطَ “} مصدر ہے جو اسم فاعل{ ”مُقْسِطٌ“ } کے معنی میں ہے اور {” الْمَوَازِيْنَ “} کی صفت ہے، جیسے مبالغے کے لیے عادل آدمی کو {”رَجُلٌ عَدْلٌ“} کہہ لیتے ہیں، یعنی اتنا عادل آدمی کہ سراپا عدل ہے۔ یعنی ہم ایسے ترازو رکھیں گے جو اتنے انصاف والے ہیں گویا عین انصاف ہیں۔ موصوف واحد ہو یا تثنیہ یا جمع، مذکر ہو یا مؤنث، اگر اس کی صفت مصدر ہو تو وہ سب کے لیے ایک جیسی ہوتی ہے۔ {” الْقِسْطَ “} مفعول لہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی ہم انصاف کے لیے بہت سے ترازو رکھیں گے۔ ➌ {” الْمَوَازِيْنَ “} سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن متعدد ترازو ہوں گے، جن کے ساتھ اعمال کا وزن کیا جائے گا، پھر یا تو ہر آدمی کے لیے الگ ترازو ہو گا یا ہر عمل کے لیے۔ نیز دیکھیے سورۂ اعراف (۷)۔ ➍ { فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْـًٔا:} ”پھر کسی شخص پر کچھ ظلم نہیں کیا جائے گا“ یعنی نہ نیکیوں میں کچھ کمی آئے گی اور نہ برائیوں میں کوئی اضافہ ہو گا۔ ➎ { وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ زلزال (۷، ۸) اور لقمان (۱۶)۔ ➏ {وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِيْنَ:} ہم حساب لینے والے کافی ہیں، ہمیں کسی مدد گار کی ضرورت نہیں، پھر نہ ہمارے حساب کے بعد کسی پڑتال کی گنجائش ہے اور نہ کہیں اپیل ہو سکتی ہے۔
پہلے ہم موسیٰؑ اور ہارونؑ کو فرقان اور روشنی اور "ذکر" عطا کر چکے ہیں اُن متقی لوگوں کی بھَلائی کے لیے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ بالکل سچ ہے کہ ہم نے موسیٰ وہارون کو فیصلے کرنے والی نورانی اور پرہیزگاروں کے لئے وعﻆ ونصیحت والی کتاب عطا فرمائی
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فیصلہ دیا اور اجالا اور پرہیزگاروں کو نصیحت
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک ہم نے موسیٰ و ہارون کو فرقان، روشنی اور پرہیزگاروں کیلئے نصیحت نامہ عطا کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ اور ہارون کو خوب فرق کر دینے والی چیز اور روشنی اور نصیحت عطا کی ان متقی لوگوں کے لیے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کتاب النور ٭٭
ہم پہلے بھی اس بات کو جتا چکے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اکثر ملا جلا آتا ہے اور اسی طرح توراۃ اور قرآن کا ذکر بھی عموماً ایک ساتھ ہی ہوتا ہے۔ فرقان سے مراد کتاب ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:353/18:] یعنی تورات ہے جو حق و باطل، حرام و حلال میں فرق کرنے والی تھی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:353/18:] اسی سے جناب موسیٰ علیہ السلام کو مدد ملی۔ کل کی کل آسمانی کتابیں حق وباطل، ہدایت وگمراہی، بھلائی برائی، حلال و حرام میں جدائی کرنے والی ہوتی ہیں۔ ان سے دلوں میں نورانیت، اعمال میں حقانیت، اللہ کا خوف وخشیت، ڈر اور اللہ کی طرف رجوع حاصل ہوتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ ’ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے یہ کتاب نصیحت و پند اور نور و روشنی ہے ‘۔ پھر ان متقیوں کا وصف بیان فرمایا کہ ’ وہ اپنے اللہ سے غائبانہ ڈرتے رہتے ہیں ‘۔ جیسے جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا آیت «مَنْ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبِ» ۱؎ [50-ق:33] ’ جو رحمن سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور جھکنے والا دل رکھتے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ» ۱؎ [67-الملک:12] ’ جو لوگ اپنے رب کا غائبانہ ڈر رکھتے ہیں، ان کے لیے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر ہے ‘۔ ان متقیوں کا دوسرا وصف یہ ہے کہ یہ قیامت کا کھٹکا رکھتے ہیں۔ اس کی ہولناکیوں سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اس قرآن عظیم کو بھی ہم نے ہی نازل فرمایا ہے جس کے آس پاس بھی باطل نہیں آ سکتا۔ جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے اترا ہے۔ افسوس کیا اس قدر وضاحت وحقانیت، صداقت ونورانیت والا قرآن بھی اس قابل ہے کہ تم اس کے منکر بنے رہو؟ ‘
48۔ 1 یہ تورات کی صفات بیان کی گئی ہیں جو حضرت موسیٰ ؑ کو دی گئی تھی۔ اس میں بھی متقین کے لئے ہی نصیحت تھی۔ جیسے قرآن کریم کو بھی (ھُدَی لِّلْمُتَّقِیْنَ) کہا گیا، کیونکہ جن کے دلوں میں اللہ کا تقوٰی نہیں ہوتا، وہ اللہ کی کتاب کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے، تو آسمانی کتاب ان کیلئے نصیحت اور ہدایت کا ذریعہ کس طرح بنے، نصیحت یا ہدایت کے لئے ضروری ہے کہ اس کی طرف توجہ کی جائے اور اس میں غور و فکر کیا جائے۔
(آیت 48) ➊ { وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ …:} سورت کے شروع سے توحید، نبوت اور قیامت پر بات چلی آ رہی ہے، اب چند انبیاء کے واقعات کا آغاز ہوتا ہے۔ مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے کہ ان انبیاء کی طرح آپ بھی پوری تن دہی سے دعوت کا فریضہ سرانجام دیتے رہیں اور اس راہ میں آنے والی ہر مشکل میں صبر و استقامت سے کام لیں، اس کے علاوہ اس بات کی تفصیل ہے کہ پہلے تمام انبیاء بشر تھے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کا ذکر فرمایا۔ قرآن مجید میں اکثر موسیٰ علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اور دونوں کی کتابوں کا ذکر اکٹھا آتا ہے، کیونکہ دعوت کے ساتھ جہاد کا سلسلہ موسیٰ علیہ السلام سے شروع ہوتا ہے اور دعوت کے سلسلے میں دونوں کے درمیان بڑی مماثلت ہے۔ ➋ {الْفُرْقَانَ وَ ضِيَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِيْنَ: ” الْفُرْقَانَ “} اور {” اَلْفَرْقُ “} کا معنی ایک ہی ہے، الف اور نون کی وجہ سے معنی میں مبالغہ پیدا ہو گیا ہے، یعنی حق و باطل کے درمیان خوب فرق کرنے والی چیز۔ اس سے مراد تورات بھی ہے، معجزے اور جادو کے درمیان فرق کرنے والے معجزے بھی اور موسیٰ اور ہارون علیھما السلام اور بنی اسرائیل کو فرعونیوں پر حاصل ہونے والی فتح و نصرت بھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے یوم بدر کو یوم الفرقان قرار دیا۔ گویا {” الْفُرْقَانَ “} کتاب، معجزات اور نصرتِ الٰہی تینوں کی صفت ہو سکتی ہے، کیونکہ تینوں ہی حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی چیز ہیں۔ اسی طرح {” ضِيَآءً “} اور {” ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِيْنَ “} بھی تینوں کی صفت ہیں، کیونکہ تورات، معجزات اور نصرتِ الٰہی تینوں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی بھی ہیں، ایمان کی روشنی بھی ہیں اور نصیحت بھی۔ مگر کتاب، معجزات اور نصرتِ الٰہی کے مشاہدے سے حق و باطل کے درمیان فرق، ایمان کی روشنی اور نصیحت اسی کو نصیب ہوتی ہے جو متقی ہو۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۲) کی تفسیر۔
جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈریں اور جن کو (حساب کی) اُس گھڑی کا کھٹکا لگا ہُوا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه لوگ جو اپنے رب سے بن دیکھے خوف کھاتے ہیں اور قیامت (کے تصور) سے کانپتے رہتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور انہیں قیامت کا اندیشہ لگا ہوا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جو بے دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں نیز جو قیامت سے بھی خوف زدہ رہتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور وہ قیامت سے ڈرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کتاب النور ٭٭
ہم پہلے بھی اس بات کو جتا چکے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اکثر ملا جلا آتا ہے اور اسی طرح توراۃ اور قرآن کا ذکر بھی عموماً ایک ساتھ ہی ہوتا ہے۔ فرقان سے مراد کتاب ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:353/18:] یعنی تورات ہے جو حق و باطل، حرام و حلال میں فرق کرنے والی تھی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:353/18:] اسی سے جناب موسیٰ علیہ السلام کو مدد ملی۔ کل کی کل آسمانی کتابیں حق وباطل، ہدایت وگمراہی، بھلائی برائی، حلال و حرام میں جدائی کرنے والی ہوتی ہیں۔ ان سے دلوں میں نورانیت، اعمال میں حقانیت، اللہ کا خوف وخشیت، ڈر اور اللہ کی طرف رجوع حاصل ہوتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ ’ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے یہ کتاب نصیحت و پند اور نور و روشنی ہے ‘۔ پھر ان متقیوں کا وصف بیان فرمایا کہ ’ وہ اپنے اللہ سے غائبانہ ڈرتے رہتے ہیں ‘۔ جیسے جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا آیت «مَنْ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبِ» ۱؎ [50-ق:33] ’ جو رحمن سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور جھکنے والا دل رکھتے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ» ۱؎ [67-الملک:12] ’ جو لوگ اپنے رب کا غائبانہ ڈر رکھتے ہیں، ان کے لیے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر ہے ‘۔ ان متقیوں کا دوسرا وصف یہ ہے کہ یہ قیامت کا کھٹکا رکھتے ہیں۔ اس کی ہولناکیوں سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اس قرآن عظیم کو بھی ہم نے ہی نازل فرمایا ہے جس کے آس پاس بھی باطل نہیں آ سکتا۔ جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے اترا ہے۔ افسوس کیا اس قدر وضاحت وحقانیت، صداقت ونورانیت والا قرآن بھی اس قابل ہے کہ تم اس کے منکر بنے رہو؟ ‘
49۔ 1 یہ متقین کی صفات ہیں، جیسے سورة بقرہ کے آغاز میں اور دیگر مقامات پر بھی متقین کی صفات کا تذکرہ ہے۔
(آیت 49) ➊ {الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ: } اس کے دو معنی ہیں، ایک یہ کہ وہ اپنے رب کو دیکھے بغیر اس کا شدید خوف رکھتے ہیں اور دوسرا یہ کہ لوگوں کی نگاہوں سے غائب ہونے کی حالت میں بھی وہ اپنے رب سے بہت ڈرتے ہیں۔ ان کے کسی عمل سے مقصود نہ ریا ہے اور نہ لوگوں کی طعن تشنیع سے بچنا، بلکہ ان کے ہر عمل کا باعث صرف اپنے رب کی خشیت ہے۔ ➋ {وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ:} یہ جملہ اسمیہ ہے جس میں دوام پایا جاتا ہے، ”اشفاق“ کا معنی ہے کسی آنے والے حادثے کا شدید کھٹکا، یعنی انھیں ہر وقت قیامت کا کھٹکا لگا رہتا ہے اور وہ ہمیشہ اس سے ڈرتے رہتے ہیں۔
اور اب یہ بابرکت "ذکر" ہم نے (تمہارے لیے) نازل کیا ہے پھر کیا تم اِس کو قبول کرنے سے انکاری ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ نصیحت وبرکت واﻻ قرآن بھی ہم ہی نے نازل فرمایا ہے کیا پھر بھی تم اس کے منکر ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور یہ ہے برکت والا ذکر کہ ہم نے اتارا تو کیا تم اس کے منکر ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ (قرآن) بابرکت نصیحت نامہ ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے۔ کیا تم اس کا انکار کرتے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
اور یہ ایک با برکت نصیحت ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے، تو کیا تم اسی سے منکر ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کتاب النور ٭٭
ہم پہلے بھی اس بات کو جتا چکے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اکثر ملا جلا آتا ہے اور اسی طرح توراۃ اور قرآن کا ذکر بھی عموماً ایک ساتھ ہی ہوتا ہے۔ فرقان سے مراد کتاب ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:353/18:] یعنی تورات ہے جو حق و باطل، حرام و حلال میں فرق کرنے والی تھی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:353/18:] اسی سے جناب موسیٰ علیہ السلام کو مدد ملی۔ کل کی کل آسمانی کتابیں حق وباطل، ہدایت وگمراہی، بھلائی برائی، حلال و حرام میں جدائی کرنے والی ہوتی ہیں۔ ان سے دلوں میں نورانیت، اعمال میں حقانیت، اللہ کا خوف وخشیت، ڈر اور اللہ کی طرف رجوع حاصل ہوتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ ’ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے یہ کتاب نصیحت و پند اور نور و روشنی ہے ‘۔ پھر ان متقیوں کا وصف بیان فرمایا کہ ’ وہ اپنے اللہ سے غائبانہ ڈرتے رہتے ہیں ‘۔ جیسے جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا آیت «مَنْ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبِ» ۱؎ [50-ق:33] ’ جو رحمن سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور جھکنے والا دل رکھتے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ» ۱؎ [67-الملک:12] ’ جو لوگ اپنے رب کا غائبانہ ڈر رکھتے ہیں، ان کے لیے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر ہے ‘۔ ان متقیوں کا دوسرا وصف یہ ہے کہ یہ قیامت کا کھٹکا رکھتے ہیں۔ اس کی ہولناکیوں سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اس قرآن عظیم کو بھی ہم نے ہی نازل فرمایا ہے جس کے آس پاس بھی باطل نہیں آ سکتا۔ جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے اترا ہے۔ افسوس کیا اس قدر وضاحت وحقانیت، صداقت ونورانیت والا قرآن بھی اس قابل ہے کہ تم اس کے منکر بنے رہو؟ ‘
50۔ 1 یہ قرآن، جو یاد دہانی حاصل کرنے والے کے لئے ذکر اور نصیحت اور خیر و برکت کا حامل ہے، اسے بھی ہم نے ہی اتارا ہے۔ تم اس کے مُنَزَّل مِّنَ اللّٰہِ ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو، جب کہ تمہیں اعتراف ہے کہ تورات اللہ کی طرف سے ہی نازل کردہ کتاب ہے۔
(آیت 50) ➊ {وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ: ” هٰذَا “} (یہ) سے مراد قرآن مجید ہے، سامعین کے ذہن میں حاضر ہونے کی وجہ سے اس کی طرف {” هٰذَا “} کے ساتھ اشارہ فرمایا ہے۔ {” ذِكْرٌ “} یعنی یہ نصیحت ہے اور یاد دہانی بھی۔ {” مُبٰرَكٌ “} جس میں بہت برکت، یعنی بے شمار بھلائیاں ہیں اور ہم نے (اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کے اظہار کے لیے جمع متکلم کا صیغہ استعمال فرمایا ہے) اسے نازل کیا ہے۔ ➋ { اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ:} ہم نے موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کو تورات اور معجزات عطا کیے، تم لوگ انھیں مانتے ہو تو یہ بابرکت ذکر یعنی قرآن بھی ہم نے ہی نازل کیا ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ تم اسے نہیں مانتے؟