بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الأنبياء
سورۃ الأنبياء — 112 آیات — صفحہ 3 از 3
قرآن کریم Surah 21
اِنَّ الَّذِیۡنَ سَبَقَتۡ لَہُمۡ مِّنَّا الۡحُسۡنٰۤی ۙ اُولٰٓئِکَ عَنۡہَا مُبۡعَدُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾ۙ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
رہے وہ لوگ جن کے لیے ہماری طرف سے بھَلائی کا پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہوگا، تو وہ یقیناً اُس سے دُور رکھے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
البتہ بے شک جن کے لئے ہماری طرف سے نیکی پہلے ہی ٹھہر چکی ہے۔ وه سب جہنم سے دور ہی رکھے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جن کے لیے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہوچکا وہ جنہم سے دور رکھے گئے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
ہاں البتہ وہ لوگ جن کیلئے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقدر ہو چکی ہوگی وہ اس سے دور رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جن کے لیے ہماری طرف سے پہلے بھلائی طے ہو چکی، وہ اس سے دور رکھے گئے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم کی ہولناکیاں ٭٭

بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» ۱؎ [66-التحريم:6] ‏‏‏‏ [2-البقرة:24] ‏‏‏‏ ’ اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر ‘۔ حبشی زبان میں حطب کو «حَصَبُ» کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے «حَصَبُ» کے «حَطَبْ» ہے۔ ’ تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے ‘۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پردوزخی ہو گئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «‏‏‏‏فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ» ۱؎ [11-ھود:106] ‏‏‏‏، ’ وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے اور چیخوں کے سوا ان کے کان میں اور کوئی آواز نہ پڑے گی ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب صرف مشرک جہنم میں رہ جائیں گے انہیں آگ کے صندوقوں میں قید کر دیا جائے گا جن میں آگ کے سریے ہوں گے ان میں سے ہر ایک کو یہی گمان ہو گا کہ جہنم میں اس کے سوا اور کوئی نہیں“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ [ابن جریر] ‏‏‏‏

«حُسْنَىٰ» سے مراد رحمت وسعادت ہیں۔ دوزخیوں کا اور ان کے عذابوں کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں اور ان کی جزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے یہ لوگ باایمان تھے ان کے نیک اعمال کی وجہ سے سعادت ان کے استقبال کو تیار تھی۔ جیسے فرمان ہے آیت «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:26] ‏‏‏‏ ’ نیکوں کے لیے نیک اجر ہے اور زیادتی اجر بھی ‘۔ فرمان ہے آیت «هَلْ جَزَاءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ» ۱؎ [55-الرحمن:60] ‏‏‏‏ ’ نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے ‘۔ ان کے دنیا کے اعمال نیک تھے تو آخرت میں ثواب اور نیک بدلہ ملا، عذاب سے بچے اور رحمت رب سے سرفراز ہوئے۔ یہ جہنم سے دور کر دئیے گئے کہ اس کی آہٹ تک نہیں سنتے نہ دوزخیوں کا جلنا وہ سنتے ہیں۔ پل صراط پردوزخیوں کو زہریلے ناگ ڈستے ہیں اور یہ وہاں ہائے ہائے کرتے ہیں جنتی لوگوں کے کان بھی اس درد ناک آواز سے ناآشنا رہیں گے۔ اتنا ہی نہیں کہ خوف ڈر سے یہ الگ ہو گئے بلکہ ساتھ ہی راحت و آرام بھی حاصل کر لیا۔ من مانی چیزیں موجود۔ دوامی کی راحت بھی حاضر۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک رات اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ”میں اور عمر عثمان اور زبیر اور طلحہ اور عبدالرحمٰن انہی لوگوں میں سے ہیں“ یا سعد کا نام لیا رضی اللہ عنہم۔ اتنے میں نماز کی تکبیر ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ چادر گھیسٹتے آیت «لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا» ، پڑھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہو گئے۔ اور روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ایسے ہی ہیں۔‏‏‏‏“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہی لوگ اولیاء اللہ ہیں بجلی سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پل صراط سے پار ہو جائیں گے اور کافر وہیں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے۔‏‏‏‏“ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ بزرگان دین ہیں جو اللہ والے تھے شرکت سے بیزار تھے لیکن ان کے بعد لوگوں نے ان کی مرضی کے خلاف ان کی پوجا پاٹ شروع کر دی تھی، عزیر، مسیح، فرشتے، سورج، چاند، مریم، وغیرہ۔

عبداللہ بن زبعری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا تیرا خیال ہے کہ اللہ نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:98] ‏‏‏‏ اتاری ہے؟ اگر یہ سچ ہے تو کیا سورج چاند، فرشتے عزیر، عیسیٰ، سب کہ سب ہمارے بتوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے؟ اس کے جواب میں آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:57] ‏‏‏‏ اور آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى اُولٰىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:101] ‏‏‏‏ نازل ہوئی۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ولید بن مغیرہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نضر بن حارث آیا اس وقت مسجد میں اور قریشی بھی بہت سارے تھے نضر بن حارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کر رہا تھا لیکن وہ لاجوب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ لَوْ كَانَ هَـٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:100-98] ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مجلس سے چلے گئے تو عبداللہ بن زبعری آیا لوگوں نے اس سے کہا آج نضر بن حارث نے باتیں کیں لیکن بری طرح چت ہوئے اور یہ فرماتے ہوئے چلے گے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو انہیں جواب دیتا کہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر کو نصرانی مسیح کو تو کیا یہ سب بھی جہنم میں جلیں گے؟ سب کو یہ جواب بہت پسند آیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جس نے اپنی عبادت کرائی وہ عابدوں کے ساتھ جہنم میں ہے یہ بزرگ اپنی عبادتیں نہیں کراتے تھے بلکہ یہ لوگ تو انہیں نہیں شیطان کو پوج رہے ہیں اسی نے انہیں ان کی عبادت کی راہ بتائی ہے } }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کے ساتھ ہی قرآنی جواب اس کے بعد ہی آیت «إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:101] ‏‏‏‏ میں اترا تو جن نیک لوگوں کی جاہلوں نے پرستش کی تھی وہ اس سے مستثنیٰ ہو گئے۔ چنانچہ قرآن میں ہے آیت «مَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» ۱؎ [21-الأنبياء:29] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان میں سے جو اپنی معبودیت اوروں سے منوانی چاہے اس کا بدلہ جہنم ہے ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں ‘۔ اور آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:57-60] ‏‏‏‏ اتری کہ ’ اس بات کہ سنتے ہی وہ لوگ متعجب ہوگئے اور کہنے لگے ہمارے معبود اچھے یا وہ یہ تو صرف دھینگا مشتی ہے اور یہ لوگ جھگڑالو ہی ہیں وہ ہمارا انعام یافتہ بندہ تھا اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے نمونہ بنایا تھا۔ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین فرشتوں کو کر دیتے ‘۔ «وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ» ۱؎ [43-الزخرف:61] ‏‏‏‏ ’ عیسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) نشانِ قیامت ہیں ان کے ہاتھ سے جو معجزات صادر ہوئے وہ شبہ والی چیزیں نہیں وہ قیامت کی دلیل ہیں تجھے اس میں کچھ شک نہ کرنا چاہے۔ میری مانتا چلا جا یہی صراط مستقیم ہے ‘۔ ابن زبعری کی جرات دیکھئیے خطاب اہل مکہ سے ہے اور ان کی ان تصویروں اور پتھروں کے لیے کہا گیا ہے جنہیں وہ سوائے اللہ کے پوجا کرتے تھے نہ کہ عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ پاک نفس کے لیے جو غیر اللہ کی عبادت سے روکتے تھے۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں لفظ «ما» جو یہاں ہے وہ عرب میں ان کے لیے آتا ہے جو بے جان اور بے عقل ہوں۔

یہ ابن زبعری اس کے بعد مسلمان ہوگئے تھے رضی اللہ عنہ۔ یہ بڑے مشہور شاعر تھے۔ پہلے انہوں نے مسلمانوں کی دل کھول کر دھول اڑائی تھی لیکن مسلمان ہونے کے بعد معذرت کی۔ موت کی گھبراہٹ، اس گھڑی کی گھبراہٹ جبکہ جہنم پر ڈھکن ڈھک دیا جائے گا جب کہ موت کو دوزخ جنت کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا۔ غرض کسی اندیشے کا نزول ان پر نہ ہوگا وہ ہر غم و ہراس سے دور ہوں گے، پورے مسرور ہوں گے، خوش ہوں گے اور ناخوشی سے کوسوں الگ ہوں گے۔ فرشتوں کے پرے کے پرے ان سے ملاقاتیں کر رہے ہوں گے اور انہیں ڈھارس دیتے ہوئے کہتے ہوں گے کہ اسی دن کا وعدہ تم سے کیا گیا تھا، اس وقت تم قبروں سے اٹھنے کے دن کے منتظر رہو۔
11۔ 1 بعض لوگوں کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہوسکتا تھا یا مشرکین کی طرف سے پیدا کیا جاسکتا تھا، جیسا کہ فی الواقع کیا جاتا ہے کہ عبادت تو حضرت عیسیٰ و عزیز علیہالسلام، فرشتوں اور بہت سے صالحین کی بھی کی جاتی ہے تو کیا یہ بھی اپنے عابدین کے ساتھ جہنم میں ڈالے جائیں گے؟ اس آیت میں اس کا ازالہ کردیا گیا ہے کہ یہ لوگ تو اللہ کے نیک بندے تھے جن کی نیکیوں کی وجہ سے اللہ کی طرف سے ان کے لئے نیکی یعنی سعادت ابدی یا بشارت جنت ٹھہرائی جا چکی ہے۔ یہ جہنم سے دور ہی رہیں گے
(آیت 101){ اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى …:” الْحُسْنٰۤى”اَلْأَحْسَنُ“} کی مؤنث ہے، معنی ہے سب سے اچھی چیز۔ مراد وہ سعادت اور خوش قسمتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی ان کی تقدیر میں لکھ دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شرک کی وجہ سے جہنم میں جانے والوں کے ذکر کے بعد اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والوں کا ذکر فرمایا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سعادت اورنیک اعمال کی توفیق یا معافی مقدر کر دی ہے اور وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔ بعض مفسرین نے اس آیت سے مراد وہ صالحین، انبیاء اور فرشتے لیے ہیں جن کی مشرکین عبادت کرتے تھے۔ ان کے مطابق یہ آیت مشرکین کے جواب میں اتری ہے جنھوں نے اعتراض کیا تھا کہ اگر اللہ کے علاوہ جن کی عبادت کی گئی ہے وہ جہنم میں جائیں گے تو لوگوں نے عبادت فرشتوں اور پیغمبروں کی بھی کی ہے۔ جواب یہ دیا گیا کہ یہ لوگ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔ اگرچہ اس آیت میں اس اعتراض کا جواب بھی موجود ہے، تاہم آیت کے الفاظ عام ہیں، اس لیے اس میں فرشتوں، پیغمبروں اور صالحین کے ساتھ تمام سعادت مند مومن بھی شامل ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا خاص اسلوب ہے کہ وہ جنت و جہنم اور نیک و بد دونوں کا ذکر ساتھ ساتھ فرماتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سعادت مند لوگوں کو عطا ہونے والی پانچ نعمتیں ذکر فرمائی ہیں، جن میں سے پہلی یہ ہے کہ وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔
لَا یَسۡمَعُوۡنَ حَسِیۡسَہَا ۚ وَ ہُمۡ فِیۡ مَا اشۡتَہَتۡ اَنۡفُسُہُمۡ خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾ۚ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس کی سرسراہٹ تک نہ سُنیں گے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اپنی من بھاتی چیزوں کے درمیان رہیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه تو دوزخ کی آہٹ تک نہ سنیں گے اور اپنی من بھاتی چیزوں میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
وہ اس کی بھنک (ہلکی سی آواز بھی) نہ سنیں گے اور وہ اپنی من مانتی خواہشوں میں ہمیشہ رہیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ اس کی آہٹ بھی نہیں سنیں گے اور وہ اپنی من پسند نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اس کی آہٹ نہیں سنیں گے اور وہ اس میں جسے ان کے دل چاہیں گے، ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم کی ہولناکیاں ٭٭

بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» ۱؎ [66-التحريم:6] ‏‏‏‏ [2-البقرة:24] ‏‏‏‏ ’ اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر ‘۔ حبشی زبان میں حطب کو «حَصَبُ» کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے «حَصَبُ» کے «حَطَبْ» ہے۔ ’ تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے ‘۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پردوزخی ہو گئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «‏‏‏‏فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ» ۱؎ [11-ھود:106] ‏‏‏‏، ’ وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے اور چیخوں کے سوا ان کے کان میں اور کوئی آواز نہ پڑے گی ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب صرف مشرک جہنم میں رہ جائیں گے انہیں آگ کے صندوقوں میں قید کر دیا جائے گا جن میں آگ کے سریے ہوں گے ان میں سے ہر ایک کو یہی گمان ہو گا کہ جہنم میں اس کے سوا اور کوئی نہیں“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ [ابن جریر] ‏‏‏‏

«حُسْنَىٰ» سے مراد رحمت وسعادت ہیں۔ دوزخیوں کا اور ان کے عذابوں کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں اور ان کی جزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے یہ لوگ باایمان تھے ان کے نیک اعمال کی وجہ سے سعادت ان کے استقبال کو تیار تھی۔ جیسے فرمان ہے آیت «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:26] ‏‏‏‏ ’ نیکوں کے لیے نیک اجر ہے اور زیادتی اجر بھی ‘۔ فرمان ہے آیت «هَلْ جَزَاءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ» ۱؎ [55-الرحمن:60] ‏‏‏‏ ’ نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے ‘۔ ان کے دنیا کے اعمال نیک تھے تو آخرت میں ثواب اور نیک بدلہ ملا، عذاب سے بچے اور رحمت رب سے سرفراز ہوئے۔ یہ جہنم سے دور کر دئیے گئے کہ اس کی آہٹ تک نہیں سنتے نہ دوزخیوں کا جلنا وہ سنتے ہیں۔ پل صراط پردوزخیوں کو زہریلے ناگ ڈستے ہیں اور یہ وہاں ہائے ہائے کرتے ہیں جنتی لوگوں کے کان بھی اس درد ناک آواز سے ناآشنا رہیں گے۔ اتنا ہی نہیں کہ خوف ڈر سے یہ الگ ہو گئے بلکہ ساتھ ہی راحت و آرام بھی حاصل کر لیا۔ من مانی چیزیں موجود۔ دوامی کی راحت بھی حاضر۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک رات اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ”میں اور عمر عثمان اور زبیر اور طلحہ اور عبدالرحمٰن انہی لوگوں میں سے ہیں“ یا سعد کا نام لیا رضی اللہ عنہم۔ اتنے میں نماز کی تکبیر ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ چادر گھیسٹتے آیت «لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا» ، پڑھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہو گئے۔ اور روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ایسے ہی ہیں۔‏‏‏‏“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہی لوگ اولیاء اللہ ہیں بجلی سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پل صراط سے پار ہو جائیں گے اور کافر وہیں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے۔‏‏‏‏“ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ بزرگان دین ہیں جو اللہ والے تھے شرکت سے بیزار تھے لیکن ان کے بعد لوگوں نے ان کی مرضی کے خلاف ان کی پوجا پاٹ شروع کر دی تھی، عزیر، مسیح، فرشتے، سورج، چاند، مریم، وغیرہ۔

عبداللہ بن زبعری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا تیرا خیال ہے کہ اللہ نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:98] ‏‏‏‏ اتاری ہے؟ اگر یہ سچ ہے تو کیا سورج چاند، فرشتے عزیر، عیسیٰ، سب کہ سب ہمارے بتوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے؟ اس کے جواب میں آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:57] ‏‏‏‏ اور آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى اُولٰىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:101] ‏‏‏‏ نازل ہوئی۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ولید بن مغیرہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نضر بن حارث آیا اس وقت مسجد میں اور قریشی بھی بہت سارے تھے نضر بن حارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کر رہا تھا لیکن وہ لاجوب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ لَوْ كَانَ هَـٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:100-98] ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مجلس سے چلے گئے تو عبداللہ بن زبعری آیا لوگوں نے اس سے کہا آج نضر بن حارث نے باتیں کیں لیکن بری طرح چت ہوئے اور یہ فرماتے ہوئے چلے گے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو انہیں جواب دیتا کہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر کو نصرانی مسیح کو تو کیا یہ سب بھی جہنم میں جلیں گے؟ سب کو یہ جواب بہت پسند آیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جس نے اپنی عبادت کرائی وہ عابدوں کے ساتھ جہنم میں ہے یہ بزرگ اپنی عبادتیں نہیں کراتے تھے بلکہ یہ لوگ تو انہیں نہیں شیطان کو پوج رہے ہیں اسی نے انہیں ان کی عبادت کی راہ بتائی ہے } }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کے ساتھ ہی قرآنی جواب اس کے بعد ہی آیت «إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:101] ‏‏‏‏ میں اترا تو جن نیک لوگوں کی جاہلوں نے پرستش کی تھی وہ اس سے مستثنیٰ ہو گئے۔ چنانچہ قرآن میں ہے آیت «مَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» ۱؎ [21-الأنبياء:29] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان میں سے جو اپنی معبودیت اوروں سے منوانی چاہے اس کا بدلہ جہنم ہے ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں ‘۔ اور آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:57-60] ‏‏‏‏ اتری کہ ’ اس بات کہ سنتے ہی وہ لوگ متعجب ہوگئے اور کہنے لگے ہمارے معبود اچھے یا وہ یہ تو صرف دھینگا مشتی ہے اور یہ لوگ جھگڑالو ہی ہیں وہ ہمارا انعام یافتہ بندہ تھا اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے نمونہ بنایا تھا۔ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین فرشتوں کو کر دیتے ‘۔ «وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ» ۱؎ [43-الزخرف:61] ‏‏‏‏ ’ عیسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) نشانِ قیامت ہیں ان کے ہاتھ سے جو معجزات صادر ہوئے وہ شبہ والی چیزیں نہیں وہ قیامت کی دلیل ہیں تجھے اس میں کچھ شک نہ کرنا چاہے۔ میری مانتا چلا جا یہی صراط مستقیم ہے ‘۔ ابن زبعری کی جرات دیکھئیے خطاب اہل مکہ سے ہے اور ان کی ان تصویروں اور پتھروں کے لیے کہا گیا ہے جنہیں وہ سوائے اللہ کے پوجا کرتے تھے نہ کہ عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ پاک نفس کے لیے جو غیر اللہ کی عبادت سے روکتے تھے۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں لفظ «ما» جو یہاں ہے وہ عرب میں ان کے لیے آتا ہے جو بے جان اور بے عقل ہوں۔

یہ ابن زبعری اس کے بعد مسلمان ہوگئے تھے رضی اللہ عنہ۔ یہ بڑے مشہور شاعر تھے۔ پہلے انہوں نے مسلمانوں کی دل کھول کر دھول اڑائی تھی لیکن مسلمان ہونے کے بعد معذرت کی۔ موت کی گھبراہٹ، اس گھڑی کی گھبراہٹ جبکہ جہنم پر ڈھکن ڈھک دیا جائے گا جب کہ موت کو دوزخ جنت کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا۔ غرض کسی اندیشے کا نزول ان پر نہ ہوگا وہ ہر غم و ہراس سے دور ہوں گے، پورے مسرور ہوں گے، خوش ہوں گے اور ناخوشی سے کوسوں الگ ہوں گے۔ فرشتوں کے پرے کے پرے ان سے ملاقاتیں کر رہے ہوں گے اور انہیں ڈھارس دیتے ہوئے کہتے ہوں گے کہ اسی دن کا وعدہ تم سے کیا گیا تھا، اس وقت تم قبروں سے اٹھنے کے دن کے منتظر رہو۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 102) ➊ { لَا يَسْمَعُوْنَ حَسِيْسَهَا:} یہ دوسری نعمت ہے کہ جہنم کی ہلکی سے ہلکی محسو س ہونے والی آواز بھی ان کے کانوں میں نہیں آئے گی کہ انھیں کسی طرح بھی تکلیف پہنچ سکے۔ مراد جنت میں جانے کے بعد ہے۔ (قرطبی) ➋ { وَ هُمْ فِيْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَ:} یہ تیسری نعمت ہے، یعنی اہل جنت کے دل کی ہر خواہش نہ صرف یہ کہ پوری ہو گی (حم السجدہ: ۳۰ تا ۳۲) بلکہ ان کی من پسند ہر نعمت دائمی اور ابدی بھی ہو گی، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
لَا یَحۡزُنُہُمُ الۡفَزَعُ الۡاَکۡبَرُ وَ تَتَلَقّٰہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ؕ ہٰذَا یَوۡمُکُمُ الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت اُن کو ذرا پریشان نہ کرے گا، اور ملائکہ بڑھ کر اُن کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ "یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا"
مولانا محمد جوناگڑھی
وه بڑی گھبراہٹ (بھی) انہیں غمگین نہ کر سکے گی اور فرشتے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیں گے، کہ یہی تمہارا وه دن ہے جس کا تم وعده دیئے جاتے رہے
احمد رضا خان بریلوی
انہیں غم میں نہ ڈالے گی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ اور فرشتے ان کی پیشوائی کو آئیں گے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا،
علامہ محمد حسین نجفی
ان کو بڑی گھبراہٹ بھی غمزدہ نہیں کر سکے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے (اور بتائیں گے کہ) یہ ہے آپ کا وہ دن جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
انھیں سب سے بڑی گھبراہٹ غمگین نہ کرے گی اور انھیں (آگے سے) لینے کے لیے فرشتے آئیں گے۔ یہ ہے تمھارا وہ دن جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم کی ہولناکیاں ٭٭

بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» ۱؎ [66-التحريم:6] ‏‏‏‏ [2-البقرة:24] ‏‏‏‏ ’ اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر ‘۔ حبشی زبان میں حطب کو «حَصَبُ» کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے «حَصَبُ» کے «حَطَبْ» ہے۔ ’ تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے ‘۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پردوزخی ہو گئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «‏‏‏‏فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ» ۱؎ [11-ھود:106] ‏‏‏‏، ’ وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے اور چیخوں کے سوا ان کے کان میں اور کوئی آواز نہ پڑے گی ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب صرف مشرک جہنم میں رہ جائیں گے انہیں آگ کے صندوقوں میں قید کر دیا جائے گا جن میں آگ کے سریے ہوں گے ان میں سے ہر ایک کو یہی گمان ہو گا کہ جہنم میں اس کے سوا اور کوئی نہیں“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ [ابن جریر] ‏‏‏‏

«حُسْنَىٰ» سے مراد رحمت وسعادت ہیں۔ دوزخیوں کا اور ان کے عذابوں کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں اور ان کی جزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے یہ لوگ باایمان تھے ان کے نیک اعمال کی وجہ سے سعادت ان کے استقبال کو تیار تھی۔ جیسے فرمان ہے آیت «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:26] ‏‏‏‏ ’ نیکوں کے لیے نیک اجر ہے اور زیادتی اجر بھی ‘۔ فرمان ہے آیت «هَلْ جَزَاءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ» ۱؎ [55-الرحمن:60] ‏‏‏‏ ’ نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے ‘۔ ان کے دنیا کے اعمال نیک تھے تو آخرت میں ثواب اور نیک بدلہ ملا، عذاب سے بچے اور رحمت رب سے سرفراز ہوئے۔ یہ جہنم سے دور کر دئیے گئے کہ اس کی آہٹ تک نہیں سنتے نہ دوزخیوں کا جلنا وہ سنتے ہیں۔ پل صراط پردوزخیوں کو زہریلے ناگ ڈستے ہیں اور یہ وہاں ہائے ہائے کرتے ہیں جنتی لوگوں کے کان بھی اس درد ناک آواز سے ناآشنا رہیں گے۔ اتنا ہی نہیں کہ خوف ڈر سے یہ الگ ہو گئے بلکہ ساتھ ہی راحت و آرام بھی حاصل کر لیا۔ من مانی چیزیں موجود۔ دوامی کی راحت بھی حاضر۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک رات اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ”میں اور عمر عثمان اور زبیر اور طلحہ اور عبدالرحمٰن انہی لوگوں میں سے ہیں“ یا سعد کا نام لیا رضی اللہ عنہم۔ اتنے میں نماز کی تکبیر ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ چادر گھیسٹتے آیت «لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا» ، پڑھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہو گئے۔ اور روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ایسے ہی ہیں۔‏‏‏‏“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہی لوگ اولیاء اللہ ہیں بجلی سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پل صراط سے پار ہو جائیں گے اور کافر وہیں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے۔‏‏‏‏“ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ بزرگان دین ہیں جو اللہ والے تھے شرکت سے بیزار تھے لیکن ان کے بعد لوگوں نے ان کی مرضی کے خلاف ان کی پوجا پاٹ شروع کر دی تھی، عزیر، مسیح، فرشتے، سورج، چاند، مریم، وغیرہ۔

عبداللہ بن زبعری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا تیرا خیال ہے کہ اللہ نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:98] ‏‏‏‏ اتاری ہے؟ اگر یہ سچ ہے تو کیا سورج چاند، فرشتے عزیر، عیسیٰ، سب کہ سب ہمارے بتوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے؟ اس کے جواب میں آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:57] ‏‏‏‏ اور آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى اُولٰىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:101] ‏‏‏‏ نازل ہوئی۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ولید بن مغیرہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نضر بن حارث آیا اس وقت مسجد میں اور قریشی بھی بہت سارے تھے نضر بن حارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کر رہا تھا لیکن وہ لاجوب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ لَوْ كَانَ هَـٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:100-98] ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مجلس سے چلے گئے تو عبداللہ بن زبعری آیا لوگوں نے اس سے کہا آج نضر بن حارث نے باتیں کیں لیکن بری طرح چت ہوئے اور یہ فرماتے ہوئے چلے گے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو انہیں جواب دیتا کہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر کو نصرانی مسیح کو تو کیا یہ سب بھی جہنم میں جلیں گے؟ سب کو یہ جواب بہت پسند آیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جس نے اپنی عبادت کرائی وہ عابدوں کے ساتھ جہنم میں ہے یہ بزرگ اپنی عبادتیں نہیں کراتے تھے بلکہ یہ لوگ تو انہیں نہیں شیطان کو پوج رہے ہیں اسی نے انہیں ان کی عبادت کی راہ بتائی ہے } }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کے ساتھ ہی قرآنی جواب اس کے بعد ہی آیت «إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:101] ‏‏‏‏ میں اترا تو جن نیک لوگوں کی جاہلوں نے پرستش کی تھی وہ اس سے مستثنیٰ ہو گئے۔ چنانچہ قرآن میں ہے آیت «مَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» ۱؎ [21-الأنبياء:29] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان میں سے جو اپنی معبودیت اوروں سے منوانی چاہے اس کا بدلہ جہنم ہے ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں ‘۔ اور آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:57-60] ‏‏‏‏ اتری کہ ’ اس بات کہ سنتے ہی وہ لوگ متعجب ہوگئے اور کہنے لگے ہمارے معبود اچھے یا وہ یہ تو صرف دھینگا مشتی ہے اور یہ لوگ جھگڑالو ہی ہیں وہ ہمارا انعام یافتہ بندہ تھا اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے نمونہ بنایا تھا۔ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین فرشتوں کو کر دیتے ‘۔ «وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ» ۱؎ [43-الزخرف:61] ‏‏‏‏ ’ عیسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) نشانِ قیامت ہیں ان کے ہاتھ سے جو معجزات صادر ہوئے وہ شبہ والی چیزیں نہیں وہ قیامت کی دلیل ہیں تجھے اس میں کچھ شک نہ کرنا چاہے۔ میری مانتا چلا جا یہی صراط مستقیم ہے ‘۔ ابن زبعری کی جرات دیکھئیے خطاب اہل مکہ سے ہے اور ان کی ان تصویروں اور پتھروں کے لیے کہا گیا ہے جنہیں وہ سوائے اللہ کے پوجا کرتے تھے نہ کہ عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ پاک نفس کے لیے جو غیر اللہ کی عبادت سے روکتے تھے۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں لفظ «ما» جو یہاں ہے وہ عرب میں ان کے لیے آتا ہے جو بے جان اور بے عقل ہوں۔

یہ ابن زبعری اس کے بعد مسلمان ہوگئے تھے رضی اللہ عنہ۔ یہ بڑے مشہور شاعر تھے۔ پہلے انہوں نے مسلمانوں کی دل کھول کر دھول اڑائی تھی لیکن مسلمان ہونے کے بعد معذرت کی۔ موت کی گھبراہٹ، اس گھڑی کی گھبراہٹ جبکہ جہنم پر ڈھکن ڈھک دیا جائے گا جب کہ موت کو دوزخ جنت کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا۔ غرض کسی اندیشے کا نزول ان پر نہ ہوگا وہ ہر غم و ہراس سے دور ہوں گے، پورے مسرور ہوں گے، خوش ہوں گے اور ناخوشی سے کوسوں الگ ہوں گے۔ فرشتوں کے پرے کے پرے ان سے ملاقاتیں کر رہے ہوں گے اور انہیں ڈھارس دیتے ہوئے کہتے ہوں گے کہ اسی دن کا وعدہ تم سے کیا گیا تھا، اس وقت تم قبروں سے اٹھنے کے دن کے منتظر رہو۔
13۔ 1 بڑی گھبراہٹ سے موت یا صور اسرافیل مراد ہے یا وہ لمحہ جب دوزخ اور جنت کے درمیان موت کو ذبح کردیا جائے گا۔ دوسری بات یعنی صور اسرافیل اور قیام قیامت سیاق کے زیادہ قریب ہے۔
(آیت 103) ➊ {لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ:} یہ چوتھی نعمت ہے کہ پہلے کوئی گھبراہٹ ہو تو ہو، آگ سے نجات اور جنت میں داخلے کے بعد وہ ہر گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے، حتیٰ کہ سب سے بڑی گھبراہٹ بھی انھیں غمگین نہیں کرے گی، پھر چھوٹی موٹی گھبراہٹوں کی کیا مجال ہے کہ انھیں غم زدہ کر سکیں؟ ➋ {الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ:} ابن عطیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ نعمت جنت میں داخلے کے بعد حاصل ہو گی۔“ کیونکہ صحیح احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے ساتھ بہت سے اہل ایمان کا جہنم سے نکلنا اور جنت میں جانا ثابت ہے، اس لیے {”الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ “ } سے مراد وہ وقت معلوم ہوتا ہے جس کا ذکر ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يُوْتٰی بِالْمَوْتِ كَهَيْئَةِ كَبْشٍ أَمْلَحَ فَيُنَادِيْ مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! فَيَشْرَئِبُّوْنَ وَيَنْظُرُوْنَ فَيَقُوْلُ هَلْ تَعْرِفُوْنَ هٰذَا؟ فَيَقُوْلُوْنَ نَعَمْ، هٰذَا الْمَوْتُ، وَكُلُّهُمْ قَدْ رَآهُ، ثُمَّ يُنَادِيْ يَا أَهْلَ النَّارِ، فَيَشْرَئِبُّوْنَ وَيَنْظُرُوْنَ فَيَقُوْلُ هَلْ تَعْرِفُوْنَ هٰذَا؟ فَيَقُوْلُوْنَ: نَعَمْ، هٰذَا الْمَوْتُ، وَكُلُّهُمْ قَدْ رَآهٗ، فَيُذْبَحُ، ثُمَّ يَقُوْلُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! خُلُوْدٌ فَلاَ مَوْتَ، وَ يَا أَهْلَ النَّارِ! خُلُوْدٌ فَلاَ مَوْتَ، ثُمَّ قَرَأَ: «{ وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ وَ هُمْ فِيْ غَفْلَةٍوَهٰؤُلَاءِ فيْ غَفْلَةٍ أَهْلُ الدُّنْيَا، «{ وَ هُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ }» ‏‏‏‏ ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ عز و جل: «‏‏‏‏وأنذرھم یوم الحسرۃ» ‏‏‏‏: ۴۷۳۰ ] ”موت کو ایک سیاہ و سفید مینڈھے کی صورت میں لایا جائے گا، پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا: ”اے جنت والو!“ وہ گردن اٹھائیں گے اور دیکھیں گے تو وہ کہے گا: ”کیا تم اسے پہچانتے ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں! یہ موت ہے“ اور ان سب نے اسے دیکھا ہو گا، پھر وہ آواز دے گا: ”اے آگ والو!“ تو وہ گردن اٹھائیں گے اور دیکھیں گے تو وہ کہے گا: ”کیا تم اسے پہچانتے ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں! یہ موت ہے“ اور ان سب نے اسے دیکھا ہو گا، پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا، پھر وہ کہے گا: ”اے جنت والو! (اب) ہمیشگی ہے اور موت نہیں ہے اور اے آگ والو! (اب) ہمیشگی ہے اور موت نہیں ہے۔“ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: «{ وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ وَ هُمْ فِيْ غَفْلَةٍ }» [ مریم: ۳۹ ] (اور انھیں پچھتاوے کے دن سے ڈرا جب (ہر) کام کا فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں) یعنی وہ سراسر دنیا کی غفلت میں ہیں: «{ وَ هُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ }» ”اور وہ ایمان نہیں لاتے۔“ابن کثیر نے ”عبد الرزاق عن یحییٰ بن ربیعہ عن عطاء“ یہ قول ذکر فرمایا ہے: ”گویا {” يَوْمَ الْحَسْرَةِ “} اور {” الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ “} ایک ہی چیز ہے۔“ اکثر حضرات نے اس سے مراد صور میں آخری پھونک کا وقت مراد لیا ہے۔ بعض نے میدان حشر میں پیش آنے والے ہولناک واقعات مراد لیے ہیں، مگر جو غم یا گھبراہٹ ختم ہو جائے اسے {” الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ “} نہیں کہا جا سکتا۔ ابن کثیر میں ہے کہ سعید بن جبیر نے فرمایا: [ حِيْنَ تُطْبَقُ النَّارُ عَلٰی أَهْلِهَا ] ”اس سے مراد وہ وقت ہے جب جہنم والوں کے اوپر جہنم کو بند کر دیا جائے گا۔“ دکتور حکمت بن بشیر نے فرمایا: ”اسے طبری نے حسن سند سے ذکر کیا ہے۔“ یہ قول اور موت کو ذبح کرنے کا قول ایک ہی ہے، کیونکہ جہنم کو اسی وقت اوپر سے بند کیا جائے گا جب اس میں وہی لوگ رہ جائیں گے جنھیں ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے۔ خلاصہ یہ کہ جنت میں جانے کے بعد جنتی ہر قسم کی گھبراہٹ اور خوف سے محفوظ رہیں گے، حتیٰ کہ سب سے بڑی گھبراہٹ بھی انھیں غم زدہ نہیں کرے گی، بلکہ وہ صرف اور صرف جہنمیوں کے لیے مخصوص ہو گی۔ ➌ {وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ …:} یہ استقبال جنت میں داخلے کے وقت ہو گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ سِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِيْنَ}» [ الزمر: ۷۳ ] ”اور وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈر گئے، گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آئیں گے، اس حال میں کہ اس کے دروازے کھول دیے گئے ہوں گے اور اس کے نگران ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم پاکیزہ رہے، پس اس میں داخل ہو جاؤ، ہمیشہ رہنے والے۔“ اس سے پہلے موت کے وقت بھی فرشتے ان کا استقبال کریں گے اور بشارتیں دیں گے، فرمایا: «{ اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ (30) نَحْنُ اَوْلِيٰٓؤُكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْاٰخِرَةِ وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ (31) نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ }» [ حٰمٓ السجدۃ: ۳۰ تا ۳۲ ] ”بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے، پھر خوب قائم رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور اس جنت کے ساتھ خوش ہو جاؤ جس کاتم وعدہ دیے جاتے تھے۔ ہم تمھارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی اور تمھارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تمھارے دل چاہیں گے اور تمھارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تم مانگو گے۔ یہ بے حد بخشنے والے، نہایت مہربان کی طرف سے مہمانی ہے۔“ اور فرمایا: «{ الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ طَيِّبِيْنَ يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ }» [النحل: ۳۲ ] ”جنھیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ پاک ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں سلام ہو تم پر، جنت میں داخل ہوجاؤ، اس کے بدلے جو تم کیا کرتے تھے۔“
یَوۡمَ نَطۡوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلۡکُتُبِ ؕ کَمَا بَدَاۡنَاۤ اَوَّلَ خَلۡقٍ نُّعِیۡدُہٗ ؕ وَعۡدًا عَلَیۡنَا ؕ اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیۡنَ ﴿۱۰۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ دن جبکہ آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیے جاتے ہیں جس طرح پہلے ہم نے تخلیق کی ابتدا کی تھی اُسی طرح ہم پھر اُس کا اعادہ کریں گے یہ ایک وعدہ ہے ہمارے ذمے، اور یہ کام ہمیں بہرحال کرنا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن ہم آسمان کو یوں لپیٹ لیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں، جیسے کہ ہم نے اول دفعہ پیدائش کی تھی اسی طرح دوباره کریں گے۔ یہ ہمارے ذمے وعده ہے اور ہم اسے ضرور کر کے (ہی) رہیں گے
احمد رضا خان بریلوی
جس دن ہم آسمان کو لپیٹیں گے جیسے سجل فرشتہ نامہٴ اعمال کو لپیٹتا ہے، جیسے پہلے اسے بنایا تھا ویسے ہی پھر کردیں گے یہ وعدہ ہے ہمارے ذمہ، ہم کو اس کا ضرور کرنا،
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح طومار میں خطوط لپیٹے جاتے ہیں جس طرح ہم نے پہلے تخلیق کی ابتداء کی تھی اسی طرح ہم اس کا اعادہ کریں گے۔ یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے یقیناً ہم اسے (پورا) کرکے رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن ہم آسمان کو کاتب کے کتابوں کو لپیٹنے کی طرح لپیٹ دیں گے۔ جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کی ابتدا کی (اسی طرح) ہم اسے لوٹائیں گے۔ یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے، یقینا ہم ہمیشہ (پورا) کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں تمام کائنات ٭٭

’ یہ قیامت کے دن ہوگا جب ہم آسمان کو لپیٹ لیں گے ‘۔ جیسے فرمایا آیت «وَمَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ» ۱؎ [39-الزمر:67] ‏‏‏‏ ’ ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی تھی، جانا ہی نہیں ‘۔ تمام زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک اور برتر ہے ہر چیز سے جسے لوگ اس کا شریک ٹھہرا رہے ہیں۔ بخاری شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمینوں کو مٹھی میں لے لے گا اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7412] ‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ساتوں آسمانوں کو اور وہاں کی کل مخلوق کو، ساتوں زمینوں کو اور اس کی کل کائنات کو اللہ تعالیٰ اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا وہ اس کے ہاتھ میں ایسے ہوں گے جیسے رائی کا دانہ۔‏‏‏‏“ «سِّجِلِّ» سے مراد کتاب ہے، اور کہا گیا ہے کہ مراد یہاں ایک فرشتہ ہے۔ جب کسی کا استغفار چڑھتا ہے تو وہ کہتا ہے اسے نور لکھ لو۔ یہ فرشتہ نامہ اعمال پر مقرر ہے۔ جب انسان مر جاتا ہے تو اس کی کتاب کو اور کتابوں کے ساتھ لپیٹ کر اسے قیامت کے لیے رکھ دیتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ نام ہے اس صحابی کا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کاتب وحی تھا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2935،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ روایت ثابت نہیں اکثر حفاظ حدیث نے ان سب کو موضوع کہا ہے خصوصا ہمارے استاد حافظ کبیر ابو الحجاج مزی رحمتہ اللہ نے۔ میں نے اس حدیث کو ایک الگ کتاب میں لکھا ہے۔ امام جعفر بن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اس حدیث پر بہت ہی انکار کیا ہے اور اس کی خوب تردید کی اور فرمایا ہے کہ ” «سِّجِلِّ» نام کا کوئی صحابی ہے ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کاتبوں کے نام مشہور ومعروف ہیں کسی کا نام «سِّجِلِّ» نہیں۔ فی الواقع امام صاحب نے صحیح اور درست فرمایا یہ بڑی وجہ ہے اس حدیث کے منکر ہونے کی۔ بلکہ یہ بھی یاد رہے کہ جس نے اس صحابی کا ذکر کیا ہے اس نے اسی حدیث پر اعتماد کر کے ذکر کیا ہے اور لغتاً بھی یہی بات ہے پس فرمان ہے ’ جس دن ہم آسمان کو لپیٹ لیں گے اس طرح جیسے لکھی ہوئی کتاب لپیٹی جاتی ہے ‘۔

لام یہاں پر معنی میں علیٰ کے ہے جیسے «فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ» ۱؎ [37-الصافات:103] ‏‏‏‏ میں لام معنی میں علیٰ ہے۔ لغت میں اس کی اور نظیریں بھی ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ یقیناً ہو کر رہے گا۔ اس دن اللہ تعالیٰ نئے سرے سے مخلوق کو پہلے کی طرح پیدا کرے گا۔ جو ابتداء پر قادر تھا وہ اعادہ پر بھی اس سے زیادہ قادر ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اس کے وعدے اٹل ہوتے ہیں، وہ کبھی بدلتے نہیں، نہ ان میں تضاد ہوتا ہے۔ وہ تمام چیزوں پر قادر ہے وہ اسے پورا کر کے ہی رہے گا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اپنے ایک وعظ میں فرمایا: { تم لوگ اللہ کے سامنے جمع ہونے والے ہو۔ ننگے پیر ننگے بدن بے ختنے ’ جیسے ہم نے پہلی بار پیدا کیا اسی طرح دوبارہ لوٹائینگے یہ ہمارا وعدہ ہے جسے ہم پورا کر کے رہیں گے ‘ } }، الخ۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4740] ‏‏‏‏ سب چیزیں نیست و نابود ہو جائیں گی پھر بنائی جائیں گی۔
14۔ 1 یعنی جس طرح کاتب لکھنے کے بعد اوراق یا رجسٹر لپیٹ کر رکھ دیتا ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ) 39۔ الزمر:87) آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہونگے ' ' سِجِل کے معنی صحیفے یا رجسٹر کے ہیں لِلْکُتُبِ کے معنی ہیں عَلَی الْکِتَابِ بِمَعْنَی الْمَکْتُوْبِ (تفسیر ابن کثیر) مطلب یہ ہے کہ کاتب کے لئے لکھے ہوئے کاغذات کو لپیٹ لینا جس طرح آسان ہے، اسی طرح اللہ کے لئے آسمان کی وسعتوں کو اپنے ہاتھ میں سمیٹ لینا کوئی مشکل امر نہیں۔
(آیت 104) ➊ {يَوْمَ نَطْوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ: ”طَوٰي يَطْوِيْ طَيًّا“} لپیٹنا۔ {” السِّجِلِّ “} کا معنی ہے صحیفہ و کتاب بھی ہے اور کاتب بھی۔ (قاموس) یہاں کاتب معنی زیادہ موزوں ہے، کیونکہ کاتب کاغذات لکھنے کے بعد آخر میں لپیٹ کر اکٹھے کر لیتا ہے۔ (ابن عاشور) بعض لوگوں نے ایک فرشتے کا نام ”سجل“ بتایا ہے اور بعض نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک کاتب کا نام ”سجل“ بتایا ہے، مگر یہ دونوں درست نہیں، نہ کسی فرشتے کا نام ”سجل“ ثابت ہے اور نہ کسی صحابی کا۔ ➋ {” يَوْمَ “} یعنی جن چیزوں کا ذکر اوپر گزرا یہ سب اس دن ہوں گی جس دن… ({أَيْ تَكُوْنُ هٰذِهِ الْأَشْيَاءَ يَوْمَ})۔(بقاعی) ➌ {نَطْوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ:} یعنی جس طرح کاتب اپنے اوراق لپیٹ لیتا ہے اسی طرح ہم آسمانوں کو لپیٹ دیں گے۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ یہ بات کچھ تفصیل سے آئی ہے، چنانچہ فرمایا: «‏‏‏‏{وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ وَ الْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ}» ‏‏‏‏ [ الزمر: ۶۷ ] ”اور انھوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جو اس کی قدر کا حق ہے، حالانکہ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔“ اور ابن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ يَقْبِضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْأَرْضَ وَتَكُوْنُ السَّمَاوَاتُ بِيَمِيْنِهِ ] [ بخاري، التوحید، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «لما خلقت بیدی» : ۷۴۱۲ ] ”بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام زمینوں کو مٹھی میں لے لے گا اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے۔“ مزید تفصیل سورۂ زمر (۶۷) میں دیکھیے۔ سلف صالحین کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات جس طرح قرآن و حدیث میں آئی ہیں ان کا اسی طرح عقیدہ رکھنا چاہیے اور انھیں اسی طرح بیان کرنا چاہیے، نہ ان کا انکار کیا جائے اور نہ تاویل، نہ یہ کہا جائے کہ ان الفاظ کا معنی ہی ہمیں معلوم نہیں۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو مخلوق کی صفات کے مشابہ نہ سمجھا جائے۔ ➍ {كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُهٗ …:} ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں نصیحت کی خاطر خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: [ يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّكُمْ تُحْشَرُوْنَ إِلَی اللّٰهِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا ] [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمہا، باب فناء الدنیاء: 2860/58۔ بخاري: ۴۷۴۰ ] ”اے لوگو! تم اللہ کی طرف اس حال میں اٹھائے جاؤ گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، ختنے کے بغیر ہو گے۔“ پھر یہ آیت پڑھی: «‏‏‏‏{كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُهٗ وَعْدًا عَلَيْنَا اِنَّا كُنَّا فٰعِلِيْنَ}» ‏‏‏‏
وَ لَقَدۡ کَتَبۡنَا فِی الزَّبُوۡرِ مِنۡۢ بَعۡدِ الذِّکۡرِ اَنَّ الۡاَرۡضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور زَبور میں ہم نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم زبور میں پند ونصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے (ہی) ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ذکر (توراۃ یا پند و نصیحت) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ یہ زمین، اس کے وارث میرے صالح بندے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سچا فیصلہ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جس طرح آخرت میں دے گا اسی طرح دنیا میں بھی انہیں ملک و مال دیتا ہے، یہ اللہ کا حتمی وعدہ اور سچا فیصلہ ہے۔ جیسے فرمان آیت «إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّـهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:128] ‏‏‏‏ ’ زمین اللہ کی ہے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کار پرہیزگاروں کا حصہ ہے ‘۔ اور فرمان ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ» ۱؎ [40-غافر:51] ‏‏‏‏ ’ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی دنیا میں اور آخرت میں مدد فرماتے ہیں ‘۔ اور فرمان ہے کہ «وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا» ۱؎ [24-النور:55] ‏‏‏‏ ’ تم میں سے ایمان داروں اور نیک لوگوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں غالب بنائے گا جیسے کہ ان سے اگلوں کو بنایا اور ان کے لیے ان کے دین کو قوی کر دے گا جس سے وہ خوش ہے ‘۔ اور فرمایا کہ ’ یہ شرعیہ اور قدریہ کتابوں میں مرقوم ہے، یقیناً ہو کر ہی رہے گا ‘۔ زبور سے مراد بقول سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ تورات انجیل اور قرآن ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں زبور سے مراد کتاب ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ زبور اس کتاب کا نام ہے جو داؤد علیہ السلام پر اتری تھی۔ ذکر سے مراد یہاں پر توراۃ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ذکر سے مراد قرآن ہے۔‏‏‏‏“ سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ذکر وہ ہے جو آسمانوں میں ہے یعنی اللہ کے پاس کی ام الکتاب جو سب سے پہلی کتاب ہے یعنی لوح محفوظ۔‏‏‏‏“ یہ بھی مروی ہے کہ زبور اور وہ آسمانی کتابیں جو پیغمبروں پرنازل ہوئیں اور ذکر مراد پہلی کتاب یعنی لوح محفوظ۔ فرماتے ہیں توراۃ زبور اور علم الٰہی میں پہلے ہی یہ فیصلہ ہو گیا تھا کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم زمین کی بادشاہ بنے گی اور نیک ہو کر جنت میں جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمین سے مراد جنت کی زمین۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”صالح لوگ ہم ہی ہیں۔‏‏‏‏“ مراد اس سے با ایمان لوگ ہیں ’ اس قرآن میں جو نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا گیا ہے پوری نصیحت و کفایت ہے ان کے لیے جو ہمارے عبادت گزار بندے ہیں۔ جو ہماری مانتے ہیں اپنی خواہش کو ہمارے نام پر قربان کر دیتے ہیں ‘۔ پھر فرماتا کہ ’ ہم نے اپنے اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے پس اس نعمت کی شکر گزاری کرنے والا دنیا و آخرت میں شادماں ہے اور ناقدری کرنے والا دونوں جہاں میں برباد و ناشاد ہے ‘۔ جیسے ارشاد ہے کہ «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:27-28] ‏‏‏‏ ’ کیا تم نے انہیں دیکھا جنہوں نے نعمت ربانی کی ناشکری کی اور اپنی قوم کو غارت کر دیا ‘۔ اس قرآن کی نسبت فرمایا کہ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:44] ‏‏‏‏ ’ یہ ایمان والوں کے لیے ہدایت وشفاء ہے بے ایمان بہرے اندھے ہیں ‘۔

صحیح مسلم میں ہے کہ { ایک موقع پر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کافروں کے لیے بدعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2599] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میں تو صرف رحمت وہدایت ہوں } }۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:490، ] ‏‏‏‏ اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ { مجھے ایک قوم کی ترقی اور دوسری کے تنزل کے ساتھ بھیجا گیا ہے }۔ طبرانی میں ہے کہ ابو جہل نے کہا اے قریشیو! محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) یثرب میں چلا گیا ہے اپنے طلائیے کے لشکر ادھرادھر تمہاری جستجو میں بھیج رہا ہے۔ دیکھو ہوشیار رہنا وہ بھوکے شیر کی طرح تاک میں ہے وہ خار کھائے ہوئے ہے کیونکہ تم نے اسے نکال دیا ہے واللہ اس کے جادوگر بے مثال ہیں میں تو اسے یا اس کے ساتھیوں میں سے جس کسی کو دیکھتا ہوں تو مجھے ان کے ساتھ شیطان نظر آتے ہیں تم جانتے ہو کہ اوس اور خزرج ہمارے دشمن ہیں اس دشمن کو ان دشمنوں نے پناہ دی ہے۔ اس پر مطعم بن عدی کہنے لگے ابو الحکم سنو تمہارے اس بھائی سے جسے تم نے اپنے ملک سے جلا وطن کر دیا ہے میں نے کسی کو زیادہ سچا اور زیادہ وعدے کا پورا کرنے والا نہیں پایا۔ اب جب کہ ایسے بھلے آدمی کے ساتھ تم یہ بدسلوکی کر چکے ہو تو اب تو اسے چھوڑو تمہیں چاہیئے اس سے بالکل الگ تھلک رہو۔ اس پر ابوسفیان بن حارث کہنے لگا نہیں تمہیں اس پر پوری سختی کرنی چاہیئے یاد رکھو اگر اس کے طرفدار تم پر غالب آ گئے تو تم کہیں کے نہ رہو گے وہ رشتہ دیکھیں گے نہ کنبہ میری رائے میں تو تمہیں مدینے والوں کو تنگ کر دینا چاہیئے کہ یا تو وہ محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نکال دیں اور وہ بیک بینی دوگوش تن تنہا رہ جائے یا ان مدینے والوں کا صفایا کر دینا چاہیئے اگر تم تیار ہو جاؤ تو میں مدینے کہ کونے کونے پر لشکر بٹھادوں گا اور انہیں ناکوں چنے چبوا دونگا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ باتیں پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اللہ کی قسم جس کہ ہاتھ میری جان ہے میں ہی انہیں قتل وغارت کروں گا اور قید کر کے پھر احسان کر کے چھوڑوں گا میں رحمت ہوں میرا بھیجنے والا اللہ ہے وہ مجھے اس دنیا سے نہ اٹھائے گا جب تک اپنے دین کو دنیا پر غالب نہ کر دے۔ میرے پانچ نام ہیں محمد، احمد، ماحی، یعنی میری وجہ سے اللہ کفر کو مٹا دے گا، حاشر اس لیے کہ لوگ میرے قدموں پر جمع کئے جائیں گے اور عاقب }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی تحت الحدیث:490،] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے { سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے بسا اوقات احادیث رسول کا مذاکرہ رہا کرتا تھا ایک دن حذیفہ رضی اللہ عنہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اے حذیفہ ایک دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ { جسے میں نے غصے میں برا بھلا کہہ دیا ہو یا اس پر لعنت کر دی ہو تو سمجھ لو کہ میں بھی تم جیسا ایک انسان ہی ہوں تمہاری طرح مجھے بھی غصہ آ جاتا ہے۔ ہاں البتہ میں چونکہ رحمتہ اللعالمین ہوں تو میری دعا ہے کہ اللہ میرے ان الفاظ کو بھی ان لوگوں کے لیے موجب رحمت بنا دے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4659،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ رہی یہ بات کہ کفار کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت کیسے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”مؤمنوں کے لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا و آخرت میں رحمت تھے اور غیر مؤمنوں کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں رحمت تھے کہ وہ زمین میں دھنسائے جانے سے، آسمان سے پتھر برسائے جانے سے بچ گئے۔ جیسے کہ اگلی امتوں کے منکروں پر عذاب آئے۔‏‏‏‏“
15۔ 1 زبور سے مراد یا تو زبور ہی ہے اور ذکر سے مراد پندونصیحت جیسا کہ ترجمہ میں درج ہے یا پھر زبور سے مراد گذشتہ آسمانی کتابیں اور ذکر سے مراد لوح محفوظ ہے۔ یعنی پہلے لوح محفوظ میں یہ بات درج ہے اور اس کے بعد آسمانی کتابوں میں بھی یہ بات لکھی جاتی رہی ہے کہ زمین کے وارث نیک بندے ہونگے۔ زمین سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک جنت ہے اور بعض کے نزدیک ارض کفار۔ یعنی اللہ کے نیک بندے زمین میں اقتدار اور سرخرو رہے اور آئندہ بھی جب کبھی وہ اس صفت کے حامل ہوں گے، اس وعدہ الٰہی کے مطابق، زمین کا اقتدار انہی کے پاس ہوگا۔ اس لیے مسلمانوں کی محرومی اقتدار کی موجودہ صورت حال کسی اشکال کا باعث نہیں بننی چاہیے یہ وعدہ مشروط ہے صالحیت عباد کے ساتھ اور اذا فات الشرط فات المشروط کے مطابق جب مسلمان اس خوبی سے محروم ہوگئے تو اقتدار سے بھی محروم کردئیے گئے اس میں گویا حصول اقتدار کا طریقہ بتلایا گیا ہے اور وہ ہے صالحیت یعنی اللہ رسول کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنا اور اس کے حدود و ضابطوں پر کاربند رہنا۔
(آیت 105){وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ …:} زبور کا معنی کتاب ہے، یہاں زبور سے مراد داؤد علیہ السلام کی کتاب ہے اور ذکر سے مراد نصیحت ہے، جیسا کہ ترجمہ کیا گیا ہے، کیونکہ موجودہ زبور میں یہ بات موجود ہے۔ یا پھر زبور سے مراد گزشتہ آسمانی کتابیں اور ذکر سے مراد لوح محفوظ ہے، یعنی پہلے لوح محفوظ میں یہ بات درج ہے اور اس کے بعد آسمانی کتابوں میں بھی یہ بات لکھی جاتی رہی ہے کہ زمین کے وارث نیک بندے ہوں گے۔ گویا یہ اللہ تعالیٰ کا کونی فیصلہ بھی ہے اور شرعی بھی۔ اس زمین سے کیا مراد ہے؟ آیات کے سیاق و سباق کو دیکھنے سے بات صاف سمجھ میں آ رہی ہے کہ اس سے مراد زمین و آسمان کی بساط لپیٹنے کے بعد وجود میں آنے والی زمین ہے، جو بطور انعام اللہ تعالیٰ کے صالح بندوں کو عطا کی جائے گی اور وہ ان کی دائمی اور ابدی وراثت ہو گی۔ چنانچہ موجودہ زبور اگرچہ تحریف سے خالی نہیں مگر یہ حوالہ اس میں بھی موجود ہے: ”صادق زمین کے وارث ہوں گے اور اس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔“ [ زبور، باب: ۳۷، آیت: ۲۹ ] قرآن مجید میں بھی بطور انعام ملنے والی اس وراثت کا ذکر ہے جو ہمیشہ رہے گی، چنانچہ فلاح پانے والے مومنوں کے اوصاف ذکر کرنے کے بعد فرمایا: «{اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ (10) الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ}» [ المؤمنون: ۱۰، ۱۱ ] ”یہی لوگ ہیں جو وارث ہیں، جو فردوس کے وارث ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔“ اور فرمایا: «{ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَآءُ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ }» [ الزمر: ۷۴ ] ”اور وہ (جنتی) کہیں گے سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنا دیا کہ ہم جنت میں سے جہاں چاہیں جگہ بنا لیں، سو یہ عمل کرنے والوں کا اچھا اجر ہے۔“ زبور اور قرآن دونوں سے معلوم ہوا کہ صالحین کو بطور انعام ملنے والی وراثت ارضِ جنت ہے، کیونکہ ہمیشہ کا بسیرا وہی ہے۔ رہی موجودہ زمین، تو اس کی وراثت صالح و طالح، کافر و مسلم دونوں کو ملتی ہے اور صرف انعام کے طور پر نہیں، بلکہ امتحان کے لیے ملتی ہے اور ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ عارضی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِيْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ (128) قَالُوْا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ يَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ }» [ الأعراف: ۱۲۸، ۱۲۹ ] ”موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا، اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، بے شک زمین اللہ کی ہے، وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے بناتا ہے اور اچھا انجام متقی لوگوں کے لیے ہے۔ انھوں نے کہا، ہمیں اس سے پہلے ایذا دی گئی کہ تو ہمارے پاس آئے اور اس کے بعد بھی کہ تو ہمارے پاس آیا۔ اس نے کہا، تمھارا رب قریب ہے کہ تمھارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمھیں زمین میں جانشین بنا دے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔“ اس زمین کی وراثت نہ نیکی و بدی پر موقوف ہے اور نہ ابدی اور دائمی ہے، فرمایا: «{ وَ تِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ }» [ آل عمران: ۱۴۰ ] ”اور یہ تو دن ہیں، ہم انھیں لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں۔“ البتہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر مسلمان صحیح مومن ہوں تو دنیا میں بھی آخر وہی غالب رہیں گے، چنانچہ فرمایا: «{ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ[آل عمران: ۱۳۹ ] ”اور تم ہی غالب ہو، اگر تم مومن ہو۔“ اور فرمایا: «{ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ}» [ النور: ۵۵ ] ”اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں زمین میں ضرور ہی جانشین بنائے گا، جس طرح ان لوگوں کو جانشین بنایا جو ان سے پہلے تھے اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور ہی اقتدار دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ہر صورت انھیں ان کے خوف کے بعد بدل کرامن دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں گے اور جس نے اس کے بعد کفر کیا تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔“ ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰی زَوَی لِيَ الْأَرْضَ فَأُرِيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ مُلْكَ أُمَّتِيْ سَيَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِيْ مِنْهَا وَأُعْطِيْتُ الْكَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ ] [ أبوداوٗد، الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن و دلائلھا: ۴۲۵۲، و صححہ الألباني ] ”اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین تہ کر دی تو میں نے اس کے مشرق اور مغرب دیکھ لیے اور میری امت کا ملک وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وہ میرے لیے تہ کی گئی ہے اور مجھے سرخ اور سفید (سونا اور چاندی) دو خزانے دیے گئے ہیں۔“ اور واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق چند ہی سالوں میں مسلمان زمین کے مشرق و مغرب کے مالک بن گئے، مگر جب ان میں ایمان اور عمل صالح کی کمی ہوئی، انھوں نے ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ میں کوتاہی کی اور عیش و عشرت میں پڑ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے اور اپنے دشمن سزا دینے کے لیے مسلط کر دیے، جس طرح بنی اسرائیل پر بخت نصر کو مسلط کیا تھا۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۵ تا ۷) معلوم ہوا ایسا نہیں ہے کہ جو بھی اس زمین کے کسی حصے کا مالک بن جائے وہ صالحین میں شمار ہو گیا، ورنہ فرعون، ہامان، قارون، شداد، نمرود، چنگیز، ہلاکو، ہٹلر، نپولین، بش، کمیونسٹ، گائے اور بتوں کے پجاری اور تثلیث کے فرزند اللہ کے صالح بندے شمار ہوں گے اور آج کل کے روشن خیال یہی چاہتے ہیں کہ مغرب کے مشرکوں، بدکاروں اور ہم جنس پرستوں کو صالح شمار کیا جائے، تاکہ انھیں اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عمل کرنے سے چھٹکارا مل جائے۔
اِنَّ فِیۡ ہٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوۡمٍ عٰبِدِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾ؕ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِس میں ایک بڑی خبر ہے عبادت گزار لوگوں کے لیے
مولانا محمد جوناگڑھی
عبادت گزار بندوں کے لئے تو اس میں ایک بڑا پیغام ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک یہ قرآن کافی ہے عبادت والوں کو
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک اس میں عبادت گزار لوگوں کیلئے بڑا انعام ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا عظیم پیغام ہے جو عبادت کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سچا فیصلہ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جس طرح آخرت میں دے گا اسی طرح دنیا میں بھی انہیں ملک و مال دیتا ہے، یہ اللہ کا حتمی وعدہ اور سچا فیصلہ ہے۔ جیسے فرمان آیت «إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّـهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:128] ‏‏‏‏ ’ زمین اللہ کی ہے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کار پرہیزگاروں کا حصہ ہے ‘۔ اور فرمان ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ» ۱؎ [40-غافر:51] ‏‏‏‏ ’ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی دنیا میں اور آخرت میں مدد فرماتے ہیں ‘۔ اور فرمان ہے کہ «وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا» ۱؎ [24-النور:55] ‏‏‏‏ ’ تم میں سے ایمان داروں اور نیک لوگوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں غالب بنائے گا جیسے کہ ان سے اگلوں کو بنایا اور ان کے لیے ان کے دین کو قوی کر دے گا جس سے وہ خوش ہے ‘۔ اور فرمایا کہ ’ یہ شرعیہ اور قدریہ کتابوں میں مرقوم ہے، یقیناً ہو کر ہی رہے گا ‘۔ زبور سے مراد بقول سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ تورات انجیل اور قرآن ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں زبور سے مراد کتاب ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ زبور اس کتاب کا نام ہے جو داؤد علیہ السلام پر اتری تھی۔ ذکر سے مراد یہاں پر توراۃ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ذکر سے مراد قرآن ہے۔‏‏‏‏“ سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ذکر وہ ہے جو آسمانوں میں ہے یعنی اللہ کے پاس کی ام الکتاب جو سب سے پہلی کتاب ہے یعنی لوح محفوظ۔‏‏‏‏“ یہ بھی مروی ہے کہ زبور اور وہ آسمانی کتابیں جو پیغمبروں پرنازل ہوئیں اور ذکر مراد پہلی کتاب یعنی لوح محفوظ۔ فرماتے ہیں توراۃ زبور اور علم الٰہی میں پہلے ہی یہ فیصلہ ہو گیا تھا کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم زمین کی بادشاہ بنے گی اور نیک ہو کر جنت میں جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمین سے مراد جنت کی زمین۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”صالح لوگ ہم ہی ہیں۔‏‏‏‏“ مراد اس سے با ایمان لوگ ہیں ’ اس قرآن میں جو نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا گیا ہے پوری نصیحت و کفایت ہے ان کے لیے جو ہمارے عبادت گزار بندے ہیں۔ جو ہماری مانتے ہیں اپنی خواہش کو ہمارے نام پر قربان کر دیتے ہیں ‘۔ پھر فرماتا کہ ’ ہم نے اپنے اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے پس اس نعمت کی شکر گزاری کرنے والا دنیا و آخرت میں شادماں ہے اور ناقدری کرنے والا دونوں جہاں میں برباد و ناشاد ہے ‘۔ جیسے ارشاد ہے کہ «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:27-28] ‏‏‏‏ ’ کیا تم نے انہیں دیکھا جنہوں نے نعمت ربانی کی ناشکری کی اور اپنی قوم کو غارت کر دیا ‘۔ اس قرآن کی نسبت فرمایا کہ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:44] ‏‏‏‏ ’ یہ ایمان والوں کے لیے ہدایت وشفاء ہے بے ایمان بہرے اندھے ہیں ‘۔

صحیح مسلم میں ہے کہ { ایک موقع پر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کافروں کے لیے بدعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2599] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میں تو صرف رحمت وہدایت ہوں } }۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:490، ] ‏‏‏‏ اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ { مجھے ایک قوم کی ترقی اور دوسری کے تنزل کے ساتھ بھیجا گیا ہے }۔ طبرانی میں ہے کہ ابو جہل نے کہا اے قریشیو! محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) یثرب میں چلا گیا ہے اپنے طلائیے کے لشکر ادھرادھر تمہاری جستجو میں بھیج رہا ہے۔ دیکھو ہوشیار رہنا وہ بھوکے شیر کی طرح تاک میں ہے وہ خار کھائے ہوئے ہے کیونکہ تم نے اسے نکال دیا ہے واللہ اس کے جادوگر بے مثال ہیں میں تو اسے یا اس کے ساتھیوں میں سے جس کسی کو دیکھتا ہوں تو مجھے ان کے ساتھ شیطان نظر آتے ہیں تم جانتے ہو کہ اوس اور خزرج ہمارے دشمن ہیں اس دشمن کو ان دشمنوں نے پناہ دی ہے۔ اس پر مطعم بن عدی کہنے لگے ابو الحکم سنو تمہارے اس بھائی سے جسے تم نے اپنے ملک سے جلا وطن کر دیا ہے میں نے کسی کو زیادہ سچا اور زیادہ وعدے کا پورا کرنے والا نہیں پایا۔ اب جب کہ ایسے بھلے آدمی کے ساتھ تم یہ بدسلوکی کر چکے ہو تو اب تو اسے چھوڑو تمہیں چاہیئے اس سے بالکل الگ تھلک رہو۔ اس پر ابوسفیان بن حارث کہنے لگا نہیں تمہیں اس پر پوری سختی کرنی چاہیئے یاد رکھو اگر اس کے طرفدار تم پر غالب آ گئے تو تم کہیں کے نہ رہو گے وہ رشتہ دیکھیں گے نہ کنبہ میری رائے میں تو تمہیں مدینے والوں کو تنگ کر دینا چاہیئے کہ یا تو وہ محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نکال دیں اور وہ بیک بینی دوگوش تن تنہا رہ جائے یا ان مدینے والوں کا صفایا کر دینا چاہیئے اگر تم تیار ہو جاؤ تو میں مدینے کہ کونے کونے پر لشکر بٹھادوں گا اور انہیں ناکوں چنے چبوا دونگا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ باتیں پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اللہ کی قسم جس کہ ہاتھ میری جان ہے میں ہی انہیں قتل وغارت کروں گا اور قید کر کے پھر احسان کر کے چھوڑوں گا میں رحمت ہوں میرا بھیجنے والا اللہ ہے وہ مجھے اس دنیا سے نہ اٹھائے گا جب تک اپنے دین کو دنیا پر غالب نہ کر دے۔ میرے پانچ نام ہیں محمد، احمد، ماحی، یعنی میری وجہ سے اللہ کفر کو مٹا دے گا، حاشر اس لیے کہ لوگ میرے قدموں پر جمع کئے جائیں گے اور عاقب }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی تحت الحدیث:490،] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے { سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے بسا اوقات احادیث رسول کا مذاکرہ رہا کرتا تھا ایک دن حذیفہ رضی اللہ عنہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اے حذیفہ ایک دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ { جسے میں نے غصے میں برا بھلا کہہ دیا ہو یا اس پر لعنت کر دی ہو تو سمجھ لو کہ میں بھی تم جیسا ایک انسان ہی ہوں تمہاری طرح مجھے بھی غصہ آ جاتا ہے۔ ہاں البتہ میں چونکہ رحمتہ اللعالمین ہوں تو میری دعا ہے کہ اللہ میرے ان الفاظ کو بھی ان لوگوں کے لیے موجب رحمت بنا دے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4659،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ رہی یہ بات کہ کفار کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت کیسے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”مؤمنوں کے لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا و آخرت میں رحمت تھے اور غیر مؤمنوں کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں رحمت تھے کہ وہ زمین میں دھنسائے جانے سے، آسمان سے پتھر برسائے جانے سے بچ گئے۔ جیسے کہ اگلی امتوں کے منکروں پر عذاب آئے۔‏‏‏‏“
16۔ 1 فی ‌ھذا سے مراد وہ وعظ و تنبیہ ہے جو اس سورت میں مختلف انداز سے بیان کی گئی ہے بلاغ سے مراد کفایت ومنفعت ہے یعنی وہ کافی اور مفید ہے یا اس سے مراد قرآن مجید ہے جس میں مسلمانوں کے لئے بڑا فائدہ اور کفالت ہے عابدین سے، خشوع خضوع سے اللہ کی عبادت کرنے والے، اور شیطان اور خواہشات نفس پر اللہ کی اطاعت کو ترجیح دینے والے ہیں۔
(آیت 106){ اِنَّ فِيْ هٰذَا لَبَلٰغًا …:} یعنی اس قرآن میں یا اس سورت میں توحید، آخرت، انبیاء کے واقعات اور جو دوسرے مضامین بیان ہوئے ہیں ان میں ان لوگوں کے لیے بہت بڑا پیغام ہے جو اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرنے والے ہیں۔ جو لوگ اللہ کی عبادت پر آمادہ ہی نہیں، بلکہ شیطان اور نفس کی پیروی پر ڈٹے ہوئے ہیں انھیں اس قرآن سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ آنکھوں میں روشنی ہو تو سورج یا چراغ کی روشنی کا فائدہ ہوتا ہے، اندھے کو چراغ سے کچھ دکھائی نہ دے تو اس میں چراغ کا کوئی قصور نہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۲) میں {” هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ “} کی تفسیر۔
وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے محمدؐ، ہم نے جو تم کو بھیجا ہے تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول) ہم نے آپ کو تمام عالمین کیلئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر جہانوں پر رحم کرتے ہوئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سچا فیصلہ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جس طرح آخرت میں دے گا اسی طرح دنیا میں بھی انہیں ملک و مال دیتا ہے، یہ اللہ کا حتمی وعدہ اور سچا فیصلہ ہے۔ جیسے فرمان آیت «إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّـهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:128] ‏‏‏‏ ’ زمین اللہ کی ہے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کار پرہیزگاروں کا حصہ ہے ‘۔ اور فرمان ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ» ۱؎ [40-غافر:51] ‏‏‏‏ ’ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی دنیا میں اور آخرت میں مدد فرماتے ہیں ‘۔ اور فرمان ہے کہ «وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا» ۱؎ [24-النور:55] ‏‏‏‏ ’ تم میں سے ایمان داروں اور نیک لوگوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں غالب بنائے گا جیسے کہ ان سے اگلوں کو بنایا اور ان کے لیے ان کے دین کو قوی کر دے گا جس سے وہ خوش ہے ‘۔ اور فرمایا کہ ’ یہ شرعیہ اور قدریہ کتابوں میں مرقوم ہے، یقیناً ہو کر ہی رہے گا ‘۔ زبور سے مراد بقول سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ تورات انجیل اور قرآن ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں زبور سے مراد کتاب ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ زبور اس کتاب کا نام ہے جو داؤد علیہ السلام پر اتری تھی۔ ذکر سے مراد یہاں پر توراۃ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ذکر سے مراد قرآن ہے۔‏‏‏‏“ سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ذکر وہ ہے جو آسمانوں میں ہے یعنی اللہ کے پاس کی ام الکتاب جو سب سے پہلی کتاب ہے یعنی لوح محفوظ۔‏‏‏‏“ یہ بھی مروی ہے کہ زبور اور وہ آسمانی کتابیں جو پیغمبروں پرنازل ہوئیں اور ذکر مراد پہلی کتاب یعنی لوح محفوظ۔ فرماتے ہیں توراۃ زبور اور علم الٰہی میں پہلے ہی یہ فیصلہ ہو گیا تھا کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم زمین کی بادشاہ بنے گی اور نیک ہو کر جنت میں جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمین سے مراد جنت کی زمین۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”صالح لوگ ہم ہی ہیں۔‏‏‏‏“ مراد اس سے با ایمان لوگ ہیں ’ اس قرآن میں جو نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا گیا ہے پوری نصیحت و کفایت ہے ان کے لیے جو ہمارے عبادت گزار بندے ہیں۔ جو ہماری مانتے ہیں اپنی خواہش کو ہمارے نام پر قربان کر دیتے ہیں ‘۔ پھر فرماتا کہ ’ ہم نے اپنے اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے پس اس نعمت کی شکر گزاری کرنے والا دنیا و آخرت میں شادماں ہے اور ناقدری کرنے والا دونوں جہاں میں برباد و ناشاد ہے ‘۔ جیسے ارشاد ہے کہ «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:27-28] ‏‏‏‏ ’ کیا تم نے انہیں دیکھا جنہوں نے نعمت ربانی کی ناشکری کی اور اپنی قوم کو غارت کر دیا ‘۔ اس قرآن کی نسبت فرمایا کہ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:44] ‏‏‏‏ ’ یہ ایمان والوں کے لیے ہدایت وشفاء ہے بے ایمان بہرے اندھے ہیں ‘۔

صحیح مسلم میں ہے کہ { ایک موقع پر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کافروں کے لیے بدعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2599] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میں تو صرف رحمت وہدایت ہوں } }۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:490، ] ‏‏‏‏ اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ { مجھے ایک قوم کی ترقی اور دوسری کے تنزل کے ساتھ بھیجا گیا ہے }۔ طبرانی میں ہے کہ ابو جہل نے کہا اے قریشیو! محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) یثرب میں چلا گیا ہے اپنے طلائیے کے لشکر ادھرادھر تمہاری جستجو میں بھیج رہا ہے۔ دیکھو ہوشیار رہنا وہ بھوکے شیر کی طرح تاک میں ہے وہ خار کھائے ہوئے ہے کیونکہ تم نے اسے نکال دیا ہے واللہ اس کے جادوگر بے مثال ہیں میں تو اسے یا اس کے ساتھیوں میں سے جس کسی کو دیکھتا ہوں تو مجھے ان کے ساتھ شیطان نظر آتے ہیں تم جانتے ہو کہ اوس اور خزرج ہمارے دشمن ہیں اس دشمن کو ان دشمنوں نے پناہ دی ہے۔ اس پر مطعم بن عدی کہنے لگے ابو الحکم سنو تمہارے اس بھائی سے جسے تم نے اپنے ملک سے جلا وطن کر دیا ہے میں نے کسی کو زیادہ سچا اور زیادہ وعدے کا پورا کرنے والا نہیں پایا۔ اب جب کہ ایسے بھلے آدمی کے ساتھ تم یہ بدسلوکی کر چکے ہو تو اب تو اسے چھوڑو تمہیں چاہیئے اس سے بالکل الگ تھلک رہو۔ اس پر ابوسفیان بن حارث کہنے لگا نہیں تمہیں اس پر پوری سختی کرنی چاہیئے یاد رکھو اگر اس کے طرفدار تم پر غالب آ گئے تو تم کہیں کے نہ رہو گے وہ رشتہ دیکھیں گے نہ کنبہ میری رائے میں تو تمہیں مدینے والوں کو تنگ کر دینا چاہیئے کہ یا تو وہ محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نکال دیں اور وہ بیک بینی دوگوش تن تنہا رہ جائے یا ان مدینے والوں کا صفایا کر دینا چاہیئے اگر تم تیار ہو جاؤ تو میں مدینے کہ کونے کونے پر لشکر بٹھادوں گا اور انہیں ناکوں چنے چبوا دونگا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ باتیں پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اللہ کی قسم جس کہ ہاتھ میری جان ہے میں ہی انہیں قتل وغارت کروں گا اور قید کر کے پھر احسان کر کے چھوڑوں گا میں رحمت ہوں میرا بھیجنے والا اللہ ہے وہ مجھے اس دنیا سے نہ اٹھائے گا جب تک اپنے دین کو دنیا پر غالب نہ کر دے۔ میرے پانچ نام ہیں محمد، احمد، ماحی، یعنی میری وجہ سے اللہ کفر کو مٹا دے گا، حاشر اس لیے کہ لوگ میرے قدموں پر جمع کئے جائیں گے اور عاقب }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی تحت الحدیث:490،] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے { سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے بسا اوقات احادیث رسول کا مذاکرہ رہا کرتا تھا ایک دن حذیفہ رضی اللہ عنہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اے حذیفہ ایک دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ { جسے میں نے غصے میں برا بھلا کہہ دیا ہو یا اس پر لعنت کر دی ہو تو سمجھ لو کہ میں بھی تم جیسا ایک انسان ہی ہوں تمہاری طرح مجھے بھی غصہ آ جاتا ہے۔ ہاں البتہ میں چونکہ رحمتہ اللعالمین ہوں تو میری دعا ہے کہ اللہ میرے ان الفاظ کو بھی ان لوگوں کے لیے موجب رحمت بنا دے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4659،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ رہی یہ بات کہ کفار کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت کیسے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”مؤمنوں کے لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا و آخرت میں رحمت تھے اور غیر مؤمنوں کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں رحمت تھے کہ وہ زمین میں دھنسائے جانے سے، آسمان سے پتھر برسائے جانے سے بچ گئے۔ جیسے کہ اگلی امتوں کے منکروں پر عذاب آئے۔‏‏‏‏“
اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لے آئے گا اس نے گویا اس رحمت کو قبول کرلیا اور اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کیا۔ نتیجتًا دنیا و آخرت کی سعادتوں سے ہمکنار ہوگا اور اور چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پورے جہان کے لیے ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے جہان کے لیے رحمت بن کر یعنی اپنی تعلیمات کے ذریعے سے دین و دنیا کی سعادتوں سے ہمکنار کرنے کے لیے آئے ہیں بعض لوگوں نے اس اعتبار سے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جہان والوں کے لیے رحمت قرار دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے یہ امت بالکلیہ تباہی و بربادی سے محفوظ کردی گئی جیسے پچھلی قومیں اور امتیں حرف غلط کی طرح مٹا دی جاتی رہیں امت محمدیہ (جو امت اجابت اور امت دعوت کے اعتبار سے پوری نوع انسانی پر مشتمل ہے) پر اس طرح کا کلی عذاب نہیں آئے اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کے لیے بد دعا نہ کرنا یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کا ایک حصہ تھا انی لم ابعث لعانا وانما بعثت رحمۃ (صحیح مسلم) اسی طرح غصے میں کسی مسلمان کو لعنت یا سب وشتم کرنے کو بھی قیامت والے دن رحمت کا باعث قرار دینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کا حصہ ہے (مسند احمد) اسی لیے ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انما رحمۃ مھداۃ (صحیح الجامع الصغیر) میں رحمت مجسم بن کر آیا ہوں جو اللہ کی طرف سے اہل جہان کے لیے ایک ہدیہ ہے۔
(آیت 107){ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ:} اعراب القرآن (قرآن کی ترکیب نحوی) کے موضوع پر لکھی ہوئی تقریباً تمام کتابوں میں {” رَحْمَةً “ } کو {” اَرْسَلْنٰكَ “} کا مفعول لہ بیان کیا گیا ہے۔ بعض کتابوں میں دوسری تراکیب بھی بیان ہوئی ہیں جن کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ نحو کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ مفعول لہ جس فعل کی علت بیان کر رہا ہو اس فعل کا اور مفعول لہ کا فاعل ایک ہوتا ہے، مثلاً {”ضَرَبْتُ زَيْدًا تَأْدِيْبًا“} (میں نے زید کو ادب سکھانے کے لیے مارا) اس میں مارنے والا اور ادب سکھانے والا ایک ہی ہے، اس طرح یہاں بھیجنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہے اور رحم کرنے والا بھی۔ چنانچہ معنی یہ ہو گا کہ ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر جہانوں پر رحم کرنے کے لیے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجنے کی وجہ اللہ تعالیٰ کا جہانوں پر رحم کرنا ہے۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے اس کا ترجمہ کیا ہے: ”ونفرستادیم ترا مگر ازروئے مہربانی برعالمہا“ (اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر جہانوں پر مہربانی کی وجہ سے) اور شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے ترجمہ کیا ہے: ”اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا سو مہر (یعنی مہربانی) کر کر جہان کے لوگوں پر۔“ مفسر ابوالسعود نے فرمایا: {” أَيْ مَا أَرْسَلْنَاكَ بِمَا ذُكِرَ لِعِلَّةٍ مِنَ الْعِلَلِ إِلاَّ لِرَحْمَتِنَا الْوَاسِعَةِ لِلْعَالَمِيْنَ قَاطِبَةً“} ”اور ہم نے تجھے مذکورہ وحی دے کر کسی بھی وجہ سے نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں پر اپنی وسیع رحمت کی وجہ سے۔“ امام المفسرین طبری نے فرمایا: {” وَمَا أَرْسَلْنَاكَ يَا مُحَمَّدُ! إِلاَّ رَحْمَةً لِمَنْ أَرْسَلْنَاكَ إِلَيْهِ مِنْ خَلْقِيْ“} ”اور ہم نے اے محمد! تجھے نہیں بھیجا مگر اپنی مخلوق میں سے ان لوگوں پر رحم کے لیے جن کی طرف ہم نے تجھے بھیجا ہے۔“ پھر امام طبری نے {” لِّلْعٰلَمِيْنَ “} کی تفسیر میں اس قول کو ترجیح دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجنے کی وجہ مومن و کافر سب پر رحم ہے کہ جو آپ پر ایمان لائے گا اس کے لیے دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں رحمت لکھی جائے گی اور جو آپ پر ایمان نہیں لائے گا وہ دنیا میں ان عذابوں سے محفوظ رہے گا جو پہلی امتوں پر نبی کو جھٹلانے کی وجہ سے نازل ہوتے تھے، مثلاً زمین میں دھنس جانا، شکلیں بدل جانا وغیرہ۔ ایک ترکیب نحوی یہ ہے کہ {” رَحْمَةً “} حال بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے۔ جس طرح کہتے ہیں {”زَيدٌ عَدْلٌ“} کہ زید عدل ہے، یعنی اتنا عادل ہے گویا سراپا عدل ہے۔ پھر یہ {” اَرْسَلْنٰكَ “} میں ضمیر فاعل ”ہم“ سے بھی حال ہو سکتا ہے اور {” اَرْسَلْنٰكَ “} میں ضمیر ”کاف“ سے بھی۔ پہلی صورت میں معنی یہ ہو گا کہ ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر اس حال میں کہ ہم جہانوں کے لیے سراسر رحمت ہیں۔ دوسری صورت میں معنی ہو گا کہ ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر اس حال میں کہ تو جہانوں کے لیے سراسر رحمت ہے۔ پہلا معنی مفعول لہ والے معنی کے قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جہانوں پر رحم کی وجہ سے مبعوث کرنا اور اللہ تعالیٰ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں بھیجنا کہ اس کی ذات پاک تمام جہانوں کے لیے سراسر رحمت ہے، دونوں کا مفہوم ایک ہے جو سورۂ فاتحہ میں {” رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ “} اور {” الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “} کے اکٹھے بیان سے واضح ہے۔ دوسرا معنی کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں بھیجا کہ آپ جہانوں کے لیے سراسر رحمت ہیں، بھی درست ہے کہ آپ مومنوں کے لیے تو دنیا و آخرت دونوں میں سراسر رحمت ہیں، فرمایا: «{ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ }» [التوبۃ: ۱۲۸ ] ”مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔“ اور فرمایا: «{ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ }» [التوبۃ: ۶۱ ] ”اور ان کے لیے ایک رحمت ہے جو تم میں سے ایمان لائے ہیں۔“ اور کفار کے لیے بھی دنیا میں سراسر رحمت ہیں کہ آپ کی وجہ سے وہ دنیا میں پہلی قوموں جیسے عذابوں سے محفوظ ہو گئے اور آپ کی شریعت میں صلح و جنگ دونوں حالتوں میں ان پر وہ ظلم و جور روا نہیں رکھا جاتا جو دوسری تمام اقوام اپنے مخالفین پر روا رکھتی ہیں اور آپ کو کفار کے ایمان نہ لانے اور ان کے جہنم کا ایندھن بننے کا اتنا غم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: «{ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ }» [الشعراء: ۳ ] ”شاید تو اپنے آپ کو ہلاک کرنے والا ہے، اس لیے کہ وہ مومن نہیں ہوتے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانوروں پر رحم فرماتے اور اس کا حکم دیتے اور ان پر ظلم سے منع فرماتے تھے، فرمایا: [ فِيْ كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ ] [ بخاري، المظالم، باب الآبار علی الطرق إذا لم یُتأذّبہا: ۲۴۶۶ ] ”ہر تر جگر (زندگی) والی چیز (پر رحم) میں اجر ہے۔“ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیاسے کتے کو پانی پلانے پر ایک بدکار عورت کو مغفرت کی نوید سنائی۔ شریعت اسلامیہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ رحمت بھی رب العالمین ہی کی رحمت ہے کہ اس نے اپنے محبوب رسول میں یہ وصف رکھا۔ چنانچہ ابن جزی ”التسہیل“ میں اعراب کی یہ تینوں وجہیں لکھ کر فرماتے ہیں: {”وَالْمَعْنٰي عَلٰي كُلِّ وَجْهٍ أَنَّ اللّٰهَ رَحِمَ الْعَالَمِيْنَ بِإِرْسَالِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ“} ”ان تمام صورتوں میں معنی ایک ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجنے کے ساتھ جہانوں پر رحم فرمایا۔“
قُلۡ اِنَّمَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۰۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن سے کہو "میرے پاس جو وحی آتی ہے وہ یہ ہے کہ تمہارا خدا صرف ایک خدا ہے، پھر کیا تم سرِ اطاعت جھکاتے ہو؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے! میرے پاس تو پس وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، تو کیا تم بھی اس کی فرمانبرداری کرنے والے ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ مجھے تو یہی وحی ہوتی ہے کہ تمہارا خدا نہیں مگر ایک اللہ تو کیا تم مسلمان ہوتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہہ دیجئے! کہ میری طرف جو کچھ وحی کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ تمہارا الٰہ بس ایک الہ ہے۔ تو کیا تم اس کے آگے سر جھکاتے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے میری طرف یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود صرف ایک معبود ہے، تو کیا تم فرماں برداری کرنے والے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جلد یا بدیر حق غالب ہو گا ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے فرما دیں کہ میری جانب یہی وحی کی جاتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے تم سب بھی اسے تسلیم کر لو۔ اور اگر تم میری بات پہ یقین نہیں کرتے تو ہم تم جدا ہیں تم ہمارے دشمن ہو ہم تمہارے ‘۔ جیسے آیت میں ہے کہ «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» ۱؎ [10-یونس:41] ‏‏‏‏ ’ اگر یہ جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو اور میں تمہارے کرتوتوں سے بیزار ہوں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاءٍ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاىِٕنِيْنَ» ۱؎ [8-الأنفال:58] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر تجھے کسی قوم سے خیانت و بد عہدی کا اندیشہ ہو تو عہد توڑ دینے کی انہیں فوراً خبردے دو ‘۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ ’ اگر تم علیحدگی اختیار کرو تو ہمارے تمہارے تعلقات منقطع ہیں۔ یقین مانو کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ پورا ہونے والا تو ضرور ہے اب خواہ ابھی ہو خواہ دیر سے اس کا خود مجھے علم نہیں ‘۔ ظاہر و باطن کا عالم اللہ ہی ہے جو تم ظاہر کرو اور جو چھپاؤ اسے سب کا علم ہے۔ بندوں کے کل اعمال ظاہر اور پوشیدہ اس پر آشکارا ہیں۔ چھوٹا بڑا کھلا عمل چھپا سب کچھ وہ جانتا ہے۔ ممکن ہے اس کی تاخیر بھی تمہاری آزمائش ہو اور تمہیں تمہاری زندگانی تک نفع دینا ہو۔ انبیاء علیہم السلام کو جو دعا تعلیم ہوئی تھی کہ ’ اے اللہ ہم میں اور ہماری قوم میں تو سچا فیصلہ کر اور تو ہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی قسم کی دعا کا حکم ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی غزوے میں جاتے تو دعا کرتے کہ «رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:89] ‏‏‏‏ ’ میرے رب تو سچا فیصلہ فرما۔ ہم اپنے مہربان رب سے ہی مدد طلب کرتے ہیں کہ وہ تمہارے جھوٹ افتراؤں کو ہم سے ٹالے اس میں ہمارا مددگار وہی ہے ‘۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الانبیاء کی تفسیر ختم ہوئی۔
18۔ 1 اس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اصل رحمت توحید کو اپنا لینا اور شرک سے بچ جانا ہے۔
(آیت 108) {قُلْ اِنَّمَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ …:} اس آیت میں {” اِنَّمَا “} کلمۂ حصر دو دفعہ آیا ہے۔ فرمایا، آپ کہہ دیں کہ میری طرف صرف یہ وحی ہوتی ہے کہ تمھارا معبود صرف ایک معبود ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تو اس کے علاوہ بھی بہت سی وحی آتی تھی، مثلاً رسالت، قیامت، نماز، روزہ اور دوسرے احکام، تو یہ کیوں فرمایا کہ میری طرف صرف ایک وحی آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ تمھارا معبود صرف ایک ہے؟ جواب یہ ہے کہ پوری شریعت کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمارا کام صرف ایک معبود کی عبادت یعنی ایک مالک کی غلامی ہے۔ وہ جو حکم دے اسے کرنا ہے، جس سے منع کرے اس سے باز رہنا ہے۔ اپنی ہر ضرورت اسی سے مانگنی ہے، کیونکہ اسے وہی پورا کر سکتا ہے، یہ تمام انبیاء کی دعوت ہے، فرمایا: «{ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ }» [ الأنبیاء: ۲۵ ] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ یہی ملتِ ابراہیم ہے، فرمایا: «{ اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ }» [ البقرۃ: ۱۳۱ ] ”جب اس سے اس کے رب نے کہا، فرماں بردار ہو جا، اس نے کہا، میں جہانوں کے رب کے لیے فرماں بردار ہو گیا۔“ شریعت کے تمام احکام اس مالک کی بندگی بجا لانے کی مختلف صورتیں ہیں اور سب {” اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ “} کی تفصیل ہیں۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے: داستان حسن جب پھیلی تو لامحدود تھی اور جب سمٹی تو تیرا نام بن کر رہ گئی اس لیے یہاں جب اس حقیقت کے اعلان کا حکم دیا کہ میری طرف صرف یہ وحی ہوتی ہے کہ تمھارا معبود صرف ایک معبود ہے اور تمھارا کام اسی کی عبادت یعنی اس سے انتہا درجے کی محبت اور اس کے لیے انتہا درجے کی عاجزی کے ساتھ پوری طرح اس کا بندہ اور غلام بن جانا اور اسلام یعنی اپنے آپ کو مکمل طور پر اس کے سپرد کر دینا اور اپنی مرضی چھوڑ کر صرف اس کی مرضی پر چلنا ہے۔ تو آخر میں انھیں ایک اللہ کی عبادت اور اپنے آپ کو مکمل طور پر اس کے حوالے کرنے کا حکم دینے کے لیے استفہام کا طریقہ اختیار فرمایا کہ جب مجھے یہی وحی ہوتی ہے تو کیا اس کے مطابق تم اس کے لیے مسلم یعنی اس کے سپرد ہونے والے اور مکمل فرماں بردار بننے والے ہو؟ مقصد یہ ہے کہ ضرور بننا چاہیے، چنانچہ ہمارے نبی کو حکم ہوا: «{ قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَ نُسُكِيْ وَ مَحْيَايَ وَ مَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (162) لَا شَرِيْكَ لَهٗ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ }» [ الأنعام: ۱۶۲، ۱۶۳ ] ”کہہ دے بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں حکم ماننے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔“
فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ اٰذَنۡتُکُمۡ عَلٰی سَوَآءٍ ؕ وَ اِنۡ اَدۡرِیۡۤ اَقَرِیۡبٌ اَمۡ بَعِیۡدٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر وہ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ "میں نے علی الاعلان تم کو خبردار کر دیا ہے اب یہ میں نہیں جانتا کہ وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے قریب ہے یا دُور
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اگر یہ منھ موڑ لیں تو کہہ دیجئے کہ میں نے تمہیں یکساں طور پر خبردار کر دیا ہے۔ مجھے علم نہیں کہ جس کا وعده تم سے کیا جا رہا ہے وه قریب ہے یا دور
احمد رضا خان بریلوی
پھر اگر وہ منہ پھیریں تو فرمادو میں نے تمہیں لڑائی کا اعلان کردیا، برابری پر اور میں کیا جانوں کہ پاس ہے یا دور ہے وہ جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
پس اگر وہ اس سے روگردانی کریں تو آپ کہہ دیجئے! کہ میں نے برابر آپ کو خبردار کر دیا ہے اب مجھے معلوم نہیں ہے کہ وہ دن جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ قریب ہے یا دور؟
عبدالسلام بن محمد
پھر اگر وہ منہ موڑ لیں تو کہہ دے میں نے تمھیں اس طرح خبردار کر دیا ہے کہ (ہم تم) برابر ہیں اور میں نہیں جانتا آیا قریب ہے یا دور، جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جلد یا بدیر حق غالب ہو گا ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے فرما دیں کہ میری جانب یہی وحی کی جاتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے تم سب بھی اسے تسلیم کر لو۔ اور اگر تم میری بات پہ یقین نہیں کرتے تو ہم تم جدا ہیں تم ہمارے دشمن ہو ہم تمہارے ‘۔ جیسے آیت میں ہے کہ «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» ۱؎ [10-یونس:41] ‏‏‏‏ ’ اگر یہ جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو اور میں تمہارے کرتوتوں سے بیزار ہوں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاءٍ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاىِٕنِيْنَ» ۱؎ [8-الأنفال:58] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر تجھے کسی قوم سے خیانت و بد عہدی کا اندیشہ ہو تو عہد توڑ دینے کی انہیں فوراً خبردے دو ‘۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ ’ اگر تم علیحدگی اختیار کرو تو ہمارے تمہارے تعلقات منقطع ہیں۔ یقین مانو کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ پورا ہونے والا تو ضرور ہے اب خواہ ابھی ہو خواہ دیر سے اس کا خود مجھے علم نہیں ‘۔ ظاہر و باطن کا عالم اللہ ہی ہے جو تم ظاہر کرو اور جو چھپاؤ اسے سب کا علم ہے۔ بندوں کے کل اعمال ظاہر اور پوشیدہ اس پر آشکارا ہیں۔ چھوٹا بڑا کھلا عمل چھپا سب کچھ وہ جانتا ہے۔ ممکن ہے اس کی تاخیر بھی تمہاری آزمائش ہو اور تمہیں تمہاری زندگانی تک نفع دینا ہو۔ انبیاء علیہم السلام کو جو دعا تعلیم ہوئی تھی کہ ’ اے اللہ ہم میں اور ہماری قوم میں تو سچا فیصلہ کر اور تو ہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی قسم کی دعا کا حکم ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی غزوے میں جاتے تو دعا کرتے کہ «رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:89] ‏‏‏‏ ’ میرے رب تو سچا فیصلہ فرما۔ ہم اپنے مہربان رب سے ہی مدد طلب کرتے ہیں کہ وہ تمہارے جھوٹ افتراؤں کو ہم سے ٹالے اس میں ہمارا مددگار وہی ہے ‘۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الانبیاء کی تفسیر ختم ہوئی۔
19۔ 1 یعنی جس طرح میں جانتا ہوں کہ تم میری دعوت توحید و اسلام سے منہ موڑ کر میرے دشمن ہو، اسی طرح تمہیں بھی معلوم ہونا چاہیے کہ میں بھی تمہارا دشمن ہوں اور ہماری تمہاری آپس میں کھلی جنگ ہے۔ 19۔ 2 اس وعدے سے مراد قیامت ہے یا غلبہ اسلام و مسلمین کا وعدہ یا وہ وعدہ جب اللہ کی طرف سے تمہارے خلاف جنگ کرنے کی مجھے اجازت دی جائے گی۔
(آیت 109) ➊ { فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ …: ” إِنْ “} کا لفظ شک کے لیے آتا ہے، یعنی اول تو اتنے یقینی دلائل کے بعد ممکن نہیں کہ وہ مسلم نہ بنیں، لیکن اتنے واضح اور قطعی دلائل کے بعد بھی اگر وہ منہ موڑیں اور مسلم نہ بنیں تو ان سے کہہ دیجیے کہ تمھارے اسلام اور توحید سے منہ موڑنے کے بعد میں تمھیں صاف آگاہ کر رہا ہوں کہ تم نے توحید سے منہ موڑا تو میں نے بھی تمھارے شرک سے منہ موڑا، تاکہ یہ بات جاننے میں ہم تم دونوں برابر ہو جائیں۔ سورۂ کافرون میں بھی یہ اعلان صاف الفاظ میں سنا دیا گیا ہے۔ ➋ { وَ اِنْ اَدْرِيْۤ اَقَرِيْبٌ …:} یعنی توحید سے منہ موڑنے کی وجہ سے عذاب کا تم پر آنا لازم ہے، مگر مجھے معلوم نہیں کہ تم سے جس دنیوی یا اخروی عذاب کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ قریب ہے یا دور، کیونکہ اس کا ٹھیک وقت اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ سورۂ جن میں فرمایا: «{ قُلْ اِنْ اَدْرِيْۤ اَقَرِيْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ يَجْعَلُ لَهٗ رَبِّيْۤ اَمَدًا }» [ الجن: ۲۵ ] ”کہہ دے میں نہیں جانتا آیا وہ چیز قریب ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے، یا میرا رب اس کے لیے کچھ مدت رکھے گا۔“
اِنَّہٗ یَعۡلَمُ الۡجَہۡرَ مِنَ الۡقَوۡلِ وَ یَعۡلَمُ مَا تَکۡتُمُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو با آواز بلند کہی جاتی ہیں اور وہ بھی جو تم چھپا کر کرتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
البتہ اللہ تعالیٰ تو کھلی اور ﻇاہر بات کو بھی جانتا ہے اور جو تم چھپاتے ہو اسے بھی جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ جانتا ہے آواز کی بات اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک وہ (اللہ) بلند آواز سے کہی گئی بات کو بھی جانتا ہے اور اسے بھی جسے تم چھپاتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ بلند آواز سے کی ہوئی بات کو جانتا ہے اور وہ بھی جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جلد یا بدیر حق غالب ہو گا ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے فرما دیں کہ میری جانب یہی وحی کی جاتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے تم سب بھی اسے تسلیم کر لو۔ اور اگر تم میری بات پہ یقین نہیں کرتے تو ہم تم جدا ہیں تم ہمارے دشمن ہو ہم تمہارے ‘۔ جیسے آیت میں ہے کہ «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» ۱؎ [10-یونس:41] ‏‏‏‏ ’ اگر یہ جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو اور میں تمہارے کرتوتوں سے بیزار ہوں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاءٍ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاىِٕنِيْنَ» ۱؎ [8-الأنفال:58] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر تجھے کسی قوم سے خیانت و بد عہدی کا اندیشہ ہو تو عہد توڑ دینے کی انہیں فوراً خبردے دو ‘۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ ’ اگر تم علیحدگی اختیار کرو تو ہمارے تمہارے تعلقات منقطع ہیں۔ یقین مانو کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ پورا ہونے والا تو ضرور ہے اب خواہ ابھی ہو خواہ دیر سے اس کا خود مجھے علم نہیں ‘۔ ظاہر و باطن کا عالم اللہ ہی ہے جو تم ظاہر کرو اور جو چھپاؤ اسے سب کا علم ہے۔ بندوں کے کل اعمال ظاہر اور پوشیدہ اس پر آشکارا ہیں۔ چھوٹا بڑا کھلا عمل چھپا سب کچھ وہ جانتا ہے۔ ممکن ہے اس کی تاخیر بھی تمہاری آزمائش ہو اور تمہیں تمہاری زندگانی تک نفع دینا ہو۔ انبیاء علیہم السلام کو جو دعا تعلیم ہوئی تھی کہ ’ اے اللہ ہم میں اور ہماری قوم میں تو سچا فیصلہ کر اور تو ہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی قسم کی دعا کا حکم ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی غزوے میں جاتے تو دعا کرتے کہ «رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:89] ‏‏‏‏ ’ میرے رب تو سچا فیصلہ فرما۔ ہم اپنے مہربان رب سے ہی مدد طلب کرتے ہیں کہ وہ تمہارے جھوٹ افتراؤں کو ہم سے ٹالے اس میں ہمارا مددگار وہی ہے ‘۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الانبیاء کی تفسیر ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 110) ➊ { اِنَّهٗ يَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ …:} سب کے سامنے کھلم کھلا عمل بھی ہوتا ہے اور قول بھی، اس لیے فرمایا کہ کوئی بھی کھلم کھلی اور بلند آواز میں ہونے والی بات ہو، اللہ تعالیٰ اسے بھی جانتا ہے اور جو بات تم دل میں چھپاتے ہو اسے بھی جانتا ہے۔ یہ تنبیہ اور خبردار کرنے کا مؤثر ترین طریقہ ہے کہ کسی کو غلط کام سے روکنا ہو تو اسے روکنے کے بجائے کہا جائے کہ میں تمھاری سب حرکتیں دیکھ رہا ہوں، مطلب یہ کہ تم سے نمٹ لوں گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تمھاری بلند آواز کی باتیں بھی جانتا ہوں اور جو کچھ تم چھپاتے ہو وہ بھی جانتا ہوں۔ مطلب یہ کہ تمھارا کفر بھی مجھے معلوم ہے اور تمھارا نفاق بھی، اس لیے کفر بھی چھوڑ دو اور نفاق بھی، ورنہ میری گرفت کے لیے تیار رہو۔ ➋ یہاں ایک سوال ہے کہ چھپی ہوئی بات جاننا تو واقعی کمال ہے اور یہ اللہ ہی کی شان ہے، مگر جہر اور بلند آواز سے کی ہوئی بات تو ہر شخص سن سکتا ہے اور جان سکتا ہے، اس صفت کو خاص طور پر کیوں ذکر فرمایا گیا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ بلند آواز سے ایک آدمی بات کرے تو واقعی وہ سمجھ میں آ جاتی ہے مگر جب ایک ہی وقت میں دو چار یا دس پندرہ آدمی اپنی پوری بلند آواز کے ساتھ بات کرنا شروع کر دیں تو آدمی کو کسی کی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی، یہ اللہ مالک الملک، سمیع و بصیر کی شان ہے کہ دس پندرہ نہیں کروڑوں، اربوں انسان، جن، فرشتے اور حیوانات اپنی پوری آواز کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں، تو وہ ان سب کی پکار سنتا ہے، جو کچھ وہ کہہ رہے ہوتے ہیں اسے جانتا ہے اور ان کی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ مخلوق میں یہ وصف کہاں؟ (بقاعی)
وَ اِنۡ اَدۡرِیۡ لَعَلَّہٗ فِتۡنَۃٌ لَّکُمۡ وَ مَتَاعٌ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۱۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ شاید یہ (دیر) تمہارے لیے ایک فتنہ ہے اور تمہیں ایک وقت خاص تک کے لیے مزے کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
مجھے اس کا بھی علم نہیں، ممکن ہے یہ تمہاری آزمائش ہو اور ایک مقرره وقت تک کا فائده (پہنچانا) ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور میں کیا جانوں شاید وہ تمہاری جانچ ہو اور ایک وقت تک برتوانا
علامہ محمد حسین نجفی
اور میں کیا جانوں؟ کہ یہ تاخیر) تمہارے لئے آزمائش ہے یا ایک خاص وقت تک زندگی کا لطف اٹھانے کی مہلت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور میں نہیں جانتا شاید یہ تمھارے لیے ایک آزمائش ہو اور ایک وقت تک کچھ فائدہ اٹھانا ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جلد یا بدیر حق غالب ہو گا ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے فرما دیں کہ میری جانب یہی وحی کی جاتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے تم سب بھی اسے تسلیم کر لو۔ اور اگر تم میری بات پہ یقین نہیں کرتے تو ہم تم جدا ہیں تم ہمارے دشمن ہو ہم تمہارے ‘۔ جیسے آیت میں ہے کہ «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» ۱؎ [10-یونس:41] ‏‏‏‏ ’ اگر یہ جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو اور میں تمہارے کرتوتوں سے بیزار ہوں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاءٍ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاىِٕنِيْنَ» ۱؎ [8-الأنفال:58] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر تجھے کسی قوم سے خیانت و بد عہدی کا اندیشہ ہو تو عہد توڑ دینے کی انہیں فوراً خبردے دو ‘۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ ’ اگر تم علیحدگی اختیار کرو تو ہمارے تمہارے تعلقات منقطع ہیں۔ یقین مانو کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ پورا ہونے والا تو ضرور ہے اب خواہ ابھی ہو خواہ دیر سے اس کا خود مجھے علم نہیں ‘۔ ظاہر و باطن کا عالم اللہ ہی ہے جو تم ظاہر کرو اور جو چھپاؤ اسے سب کا علم ہے۔ بندوں کے کل اعمال ظاہر اور پوشیدہ اس پر آشکارا ہیں۔ چھوٹا بڑا کھلا عمل چھپا سب کچھ وہ جانتا ہے۔ ممکن ہے اس کی تاخیر بھی تمہاری آزمائش ہو اور تمہیں تمہاری زندگانی تک نفع دینا ہو۔ انبیاء علیہم السلام کو جو دعا تعلیم ہوئی تھی کہ ’ اے اللہ ہم میں اور ہماری قوم میں تو سچا فیصلہ کر اور تو ہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی قسم کی دعا کا حکم ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی غزوے میں جاتے تو دعا کرتے کہ «رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:89] ‏‏‏‏ ’ میرے رب تو سچا فیصلہ فرما۔ ہم اپنے مہربان رب سے ہی مدد طلب کرتے ہیں کہ وہ تمہارے جھوٹ افتراؤں کو ہم سے ٹالے اس میں ہمارا مددگار وہی ہے ‘۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الانبیاء کی تفسیر ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 111){ وَ اِنْ اَدْرِيْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ …:} یعنی مجھے معلوم نہیں کہ شاید عذاب میں یہ تاخیر تمھارے لیے آزمائش ہو کہ تم اس سے فائدہ اٹھا کر حق کی طرف پلٹتے ہو، یا اپنی سرکشی میں مزید ترقی کرتے ہو، جس کے بعد یہ مہلت دنیا میں کچھ دیر تک فائدہ اٹھانے کے لیے دی گئی ہو۔
قٰلَ رَبِّ احۡکُمۡ بِالۡحَقِّ ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحۡمٰنُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(آخرکار) رسولؐ نے کہا کہ "اے میرے رب، حق کے ساتھ فیصلہ کر دے، اور لوگو، تم جو باتیں بناتے ہو اُن کے مقابلے میں ہمارا ربِّ رحمان ہی ہمارے لیے مدد کا سہارا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
خود نبی نے کہا اے رب! انصاف کے ساتھ فیصلہ فرما اور ہمارا رب بڑا مہربان ہے جس سے مدد طلب کی جاتی ہے ان باتوں پر جو تم بیان کرتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
نبی نے عرض کی کہ اے میرے رب حق فیصلہ فرمادے اور ہمارے رب رحمنٰ ہی کی مدد درکار ہے ان باتوں پر جو تم بتاتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
(آخرکار رسول(ص) نے) کہا اے میرے پروردگار! تو حق کے ساتھ فیصلہ کر دے۔ (اے لوگو) ہمارا پروردگار وہی خدائے رحمن ہے جس سے ان باتوں کے خلاف مدد مانگی جاتی ہے جو تم بنا رہے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اے میرے رب! حق کے ساتھ فیصلہ فرما اور ہمارا رب ہی وہ بے حد مہربان ہے جس سے ان باتوں پر مدد طلب کی جاتی ہے جو تم بیان کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جلد یا بدیر حق غالب ہو گا ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے فرما دیں کہ میری جانب یہی وحی کی جاتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے تم سب بھی اسے تسلیم کر لو۔ اور اگر تم میری بات پہ یقین نہیں کرتے تو ہم تم جدا ہیں تم ہمارے دشمن ہو ہم تمہارے ‘۔ جیسے آیت میں ہے کہ «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» ۱؎ [10-یونس:41] ‏‏‏‏ ’ اگر یہ جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو اور میں تمہارے کرتوتوں سے بیزار ہوں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاءٍ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاىِٕنِيْنَ» ۱؎ [8-الأنفال:58] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر تجھے کسی قوم سے خیانت و بد عہدی کا اندیشہ ہو تو عہد توڑ دینے کی انہیں فوراً خبردے دو ‘۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ ’ اگر تم علیحدگی اختیار کرو تو ہمارے تمہارے تعلقات منقطع ہیں۔ یقین مانو کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ پورا ہونے والا تو ضرور ہے اب خواہ ابھی ہو خواہ دیر سے اس کا خود مجھے علم نہیں ‘۔ ظاہر و باطن کا عالم اللہ ہی ہے جو تم ظاہر کرو اور جو چھپاؤ اسے سب کا علم ہے۔ بندوں کے کل اعمال ظاہر اور پوشیدہ اس پر آشکارا ہیں۔ چھوٹا بڑا کھلا عمل چھپا سب کچھ وہ جانتا ہے۔ ممکن ہے اس کی تاخیر بھی تمہاری آزمائش ہو اور تمہیں تمہاری زندگانی تک نفع دینا ہو۔ انبیاء علیہم السلام کو جو دعا تعلیم ہوئی تھی کہ ’ اے اللہ ہم میں اور ہماری قوم میں تو سچا فیصلہ کر اور تو ہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی قسم کی دعا کا حکم ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی غزوے میں جاتے تو دعا کرتے کہ «رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:89] ‏‏‏‏ ’ میرے رب تو سچا فیصلہ فرما۔ ہم اپنے مہربان رب سے ہی مدد طلب کرتے ہیں کہ وہ تمہارے جھوٹ افتراؤں کو ہم سے ٹالے اس میں ہمارا مددگار وہی ہے ‘۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الانبیاء کی تفسیر ختم ہوئی۔
112۔ 1 یعنی اس وعدہ الٰہی میں تاخیر، میں نہیں جانتا کہ تمہاری آزمائش کے لئے ہے یا ایک خاص وقت تک فائدہ اٹھانے کے لئے مہلت دینا ہے۔ 112۔ 2 یعنی میری بابت جو تم مختلف باتیں کرتے رہتے ہو، یا اللہ کے لئے اولاد ٹھہراتے ہو، ان سب باتوں کے مقابلے میں وہ رب ہی مہربانی کرنے والا اور وہی مدد کرنے والا ہے۔
(آیت 112) ➊ { قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ …:} پہلے انبیاء کی امتوں نے جب حق کو جھٹلایا تو انھوں نے حق تعالیٰ سے اس دعا سے ملتی جلتی دعا کی جو اس آیت میں مذکور ہے، چنانچہ شعیب علیہ السلام نے دعا کی: «{ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَيْرُ الْفٰتِحِيْنَ }» [ الأعراف: ۸۹ ] ”اے ہمارے رب! ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دے اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔“ اور ان سب پیغمبروں کے متعلق فرمایا جنھیں ان کی قوم نے کفر اختیار نہ کرنے کی صورت میں اپنی بستی سے نکالنے کی دھمکی دی تھی: «{ وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ }» [ إبراہیم: ۱۵ ] ”اور انھوں نے (حق تعالیٰ سے) فیصلہ مانگا اور ہر سرکش، سخت عناد رکھنے والا نامراد ہوا۔“ {” قٰلَ رَبِّ احْكُمْ “} کے{” قٰلَ “} میں دو قراء تیں ہیں، ایک امر کے صیغے کے ساتھ {” قُلْ “} ہے، جس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ یہ کہیں جو اس آیت میں مذکور ہے۔ دوسری قراء ت، جو ہمارے ہاں رائج ہے، اس کے مطابق یہ ماضی کا صیغہ {” قَالَ “} ہے، جس کا معنی ہے، اس نے کہا۔ اس صورت میں معنی یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہمارے اس رسول نے بھی کفار کے جھٹلانے اور جلاوطن کرنے کی کوششوں کی وجہ سے ہم سے یہ کہا جو اس آیت میں مذکور ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ کوئی بھی داعی جب ایسے حالات سے دو چار ہو تو اسے یہ دعا کرنی چاہیے۔ ➋ قرآن مجید کے رسم الخط میں اس آیت کا پہلا لفظ الف کے بغیر {” قٰلَ “} لکھا گیا ہے، جسے {” قُلْ “} اور {” قَالَ “} دونوں طرح پڑھنے کی گنجائش ہے، جس طرح {” مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ “} میں {” مَلِكِ “} اور {” مَالِكِ “} دونوں طرح پڑھنے کی گنجائش ہے اور یہ قرآن مجید کے رسم الخط کا کمال ہے۔