بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنبياء — Surah Anbiya
آیت نمبر 111
کل آیات: 112
قرآن کریم الأنبياء آیت 111
آیت نمبر: 111 — سورۃ الأنبياء islamicurdubooks.com ↗
وَ اِنۡ اَدۡرِیۡ لَعَلَّہٗ فِتۡنَۃٌ لَّکُمۡ وَ مَتَاعٌ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۱۱۱﴾
میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ شاید یہ (دیر) تمہارے لیے ایک فتنہ ہے اور تمہیں ایک وقت خاص تک کے لیے مزے کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے"
مجھے اس کا بھی علم نہیں، ممکن ہے یہ تمہاری آزمائش ہو اور ایک مقرره وقت تک کا فائده (پہنچانا) ہے
اور میں کیا جانوں شاید وہ تمہاری جانچ ہو اور ایک وقت تک برتوانا
اور میں کیا جانوں؟ کہ یہ تاخیر) تمہارے لئے آزمائش ہے یا ایک خاص وقت تک زندگی کا لطف اٹھانے کی مہلت ہے۔
اور میں نہیں جانتا شاید یہ تمھارے لیے ایک آزمائش ہو اور ایک وقت تک کچھ فائدہ اٹھانا ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جلد یا بدیر حق غالب ہو گا ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے فرما دیں کہ میری جانب یہی وحی کی جاتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے تم سب بھی اسے تسلیم کر لو۔ اور اگر تم میری بات پہ یقین نہیں کرتے تو ہم تم جدا ہیں تم ہمارے دشمن ہو ہم تمہارے ‘۔ جیسے آیت میں ہے کہ «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» ۱؎ [10-یونس:41] ‏‏‏‏ ’ اگر یہ جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو اور میں تمہارے کرتوتوں سے بیزار ہوں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاءٍ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاىِٕنِيْنَ» ۱؎ [8-الأنفال:58] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر تجھے کسی قوم سے خیانت و بد عہدی کا اندیشہ ہو تو عہد توڑ دینے کی انہیں فوراً خبردے دو ‘۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ ’ اگر تم علیحدگی اختیار کرو تو ہمارے تمہارے تعلقات منقطع ہیں۔ یقین مانو کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ پورا ہونے والا تو ضرور ہے اب خواہ ابھی ہو خواہ دیر سے اس کا خود مجھے علم نہیں ‘۔ ظاہر و باطن کا عالم اللہ ہی ہے جو تم ظاہر کرو اور جو چھپاؤ اسے سب کا علم ہے۔ بندوں کے کل اعمال ظاہر اور پوشیدہ اس پر آشکارا ہیں۔ چھوٹا بڑا کھلا عمل چھپا سب کچھ وہ جانتا ہے۔ ممکن ہے اس کی تاخیر بھی تمہاری آزمائش ہو اور تمہیں تمہاری زندگانی تک نفع دینا ہو۔ انبیاء علیہم السلام کو جو دعا تعلیم ہوئی تھی کہ ’ اے اللہ ہم میں اور ہماری قوم میں تو سچا فیصلہ کر اور تو ہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی قسم کی دعا کا حکم ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی غزوے میں جاتے تو دعا کرتے کہ «رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:89] ‏‏‏‏ ’ میرے رب تو سچا فیصلہ فرما۔ ہم اپنے مہربان رب سے ہی مدد طلب کرتے ہیں کہ وہ تمہارے جھوٹ افتراؤں کو ہم سے ٹالے اس میں ہمارا مددگار وہی ہے ‘۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الانبیاء کی تفسیر ختم ہوئی۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 111){ وَ اِنْ اَدْرِيْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ …:} یعنی مجھے معلوم نہیں کہ شاید عذاب میں یہ تاخیر تمھارے لیے آزمائش ہو کہ تم اس سے فائدہ اٹھا کر حق کی طرف پلٹتے ہو، یا اپنی سرکشی میں مزید ترقی کرتے ہو، جس کے بعد یہ مہلت دنیا میں کچھ دیر تک فائدہ اٹھانے کے لیے دی گئی ہو۔
← پچھلی آیت (110) پوری سورۃ اگلی آیت (112) →