بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الأنبياء
سورۃ الأنبياء — 112 آیات — صفحہ 2 از 3
قرآن کریم Surah 21
وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ رُشۡدَہٗ مِنۡ قَبۡلُ وَ کُنَّا بِہٖ عٰلِمِیۡنَ ﴿ۚ۵۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس سے بھی پہلے ہم نے ابراہیمؑ کو اُس کی ہوش مندی بخشی تھی اور ہم اُس کو خوب جانتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے اس سے پہلے ابراہیم کو اس کی سمجھ بوجھ بخشی تھی اور ہم اس کے احوال سے بخوبی واقف تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے ابراہیم کو پہلے ہی سے اس کی نیک راہ عطا کردی اور ہم اس سے خبردار تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور یقیناً ہم نے اس (عہد موسوی) سے پہلے ابراہیم (ع) کو (ان کے مقام کے مطابق) سوجھ بوجھ عطا فرمائی تھی اور ہم ان کو خوب جانتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے اس سے پہلے ابراہیم کو اس کی سمجھ بوجھ عطا فرمائی تھی اور ہم اسے جاننے والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہودی روایتوں سے بچو ٭٭

فرمان ہے کہ ’ خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی ‘۔ جیسے آیت میں ہے «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» ۱؎ [6-الأنعام:83] ‏‏‏‏۔ ’ یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کر سکیں ‘۔ یہ جو قصے مشہور ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا ً چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا، یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے مطابق ہو جو حق ہمارے ہاتھوں میں ہے یعنی کتاب وسنت، وہ تو سچا ہے اور قابل قبول ہے اس لیے کہ وہ صحت کے مطابق ہے۔ اور جو خلاف ہو وہ مردود ہے۔ اور جس کی نسبت ہماری شریعت خاموش ہو، موافقت ومخالفت کچھ نہ ہو، گو اس کا روایت کرنا بقول اکثر مفسرین جائز ہے لیکن نہ تو ہم اسے سچا کر سکتے ہیں نہ غلط۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ وہ واقعات ہمارے لیے کچھ سند نہیں، نہ ان میں ہمارا کوئی دینی نفع ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہماری جامع و نافع، کامل و شامل شریعت اس کے بیان میں کوتاہی نہ کرتی۔ ہمارا اپنا مسلک تو اس تفسیر میں یہ رہا ہے کہ ہم ایسی بنی اسرائیلی روایتوں کو وارد نہیں کرتے کیونکہ اس میں سوائے وقت ضائع کرنے کے کوئی نفع نہیں ہاں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ بنی اسرائیل میں روایت کی جانچ پڑتال کا مادہ ہی نہ تھا، وہ سچ جھوٹ میں تمیز کرنا جانتے ہی نہ تھے، ان میں جھوٹ سرایت کر گیا تھا جیسے کہ ہمارے حفاظ ائمہ نے تشریح کی ہے۔

غرض یہ ہے کہ آیت میں اس امر کا بیان ہے کہ ’ ہم نے اس سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو ہدایت بخشی تھی اور ہم جانتے تھے کہ وہ اس کے لائق ہے ‘۔ بچپنے میں ہی آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کی غیر اللہ پرستی کو ناپسند فرمایا اور نہایت جرأت سے اس کا سخت انکار کیا اور قوم سے برملا کہا کہ ان بتوں کے اردگرد مجمع لگا کر کیا بیٹھے ہو؟ اصبغ بن نباتہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ راہ سے گزر رہے تھے جو دیکھا کہ شطرنج باز لوگ بازی کھیل رہے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہی تلاوت فرما کر فرمایا کہ ”تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں جلتا ہوا انگارا لے لے یہ اس شطرنج کے مہروں کے لینے سے اچھا ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس کھلی دلیل کا جواب ان کے پاس کیا تھا جو دیتے؟ کہنے لگے کہ یہ تو پرانی روش ہے، باپ دادوں سے چلی آتی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا! واہ یہ بھی کوئی دلیل ہوئی؟ ہمارا اعتراض جو تم پر ہے وہی تمہارے اگلوں پر ہے۔ ایک گمراہی میں تمہارے بڑے مبتلا ہوں اور تم بھی اس میں مبتلا ہو جاؤ تو وہ بھلائی بننے سے رہی؟ میں کہتا ہوں، تم اور تمہارے باپ دادا سبھی راہ حق سے برگشتہ ہو گئے ہو اور کھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو۔ اب تو ان کے کان کھڑے ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے عقل مندوں کی توہین دیکھی، اپنے باپ دادوں کی نسبت نہ سننے والے کلمات سنے، اپنے معبودوں کی حقارت ہوتی ہوئی دیکھی تو گھبرا گئے اور کہنے لگے ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) کیا واقعی تم ٹھیک کہہ رہے ہو یا مذاق کر رہے ہو؟ ہم نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی۔ آپ علیہ السلام کو تبلیغ کا موقعہ ملا اور صاف اعلان کیا کہ ”رب تو صرف خالق آسمان و زمین ہی ہے، تمام چیزوں کا خالق و مالک وہی ہے۔ تمہارے یہ معبود کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی نہ خالق ہیں نہ مالک۔ پھر معبود و مسجود کیسے ہو گئے؟ میری گواہی ہے کہ خالق و مالک اللہ ہی لائق عبادت ہے نہ اس کے سوا کوئی رب نہ معبود۔‏‏‏‏“
51۔ 1 مِنْ قَبْلُ سے مراد تو یہ ہے کہ ابراہیم ؑ کو رشد و ہدایت (یا ہوشمندی) دینے کا واقع، موسیٰ ؑ کو ابتدائے تورات سے پہلے کا ہے یہ مطلب ہے کہ ابراہیم ؑ کو نبوت سے پہلے ہی ہوش مندی عطا کردی تھی۔ 51۔ 2 یعنی ہم جانتے تھے کہ وہ اس رشد کا اہل ہے اور وہ اس کا صحیح استعمال کرے گا۔
(آیت 51) ➊ {وَ لَقَدْ اٰتَيْنَاۤ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ …: ”رُشْدٌ“} ہدایت اور سیدھا راستہ، یہ لفظ {”غَيٌّ“} کے مقابلے میں آتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ}» [ البقرۃ: ۲۵۶ ] ”بلاشبہ ہدایت گمراہی سے صاف واضح ہو چکی۔“ اور سمجھ بوجھ اور ہوش مندی کے معنی میں بھی، جیسا کہ فرمایا: «{ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا }» [ النساء: ۶ ] ”پھر اگر تم ان سے کچھ سمجھ داری معلوم کرو۔“ {” رُشْدَهٗ “} یعنی وہ سمجھ بوجھ جو اس کے لائق تھی۔ ➋ { مِنْ قَبْلُ:} یعنی موسیٰ اور ہارون علیھما السلام سے پہلے یا نبوت عطا کرنے سے پہلے۔ بعض نے کہا غار سے نکلنے کے بعد۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انعام(۷۵ تا ۷۹)۔ ➌ { وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ:} یعنی ہم اسے جانتے تھے کہ ہم نے اس میں کیا کیا خوبیاں اور صلاحیتیں رکھی تھیں۔ ابراہیم علیہ السلام کی جتنی بھی خوبیاں بیان کر لی جائیں اللہ تعالیٰ کی یہ شہادت ان سب سے بڑھ کر ہے۔ یہ منصب عطا ہی اسے ہوتا ہے جو اللہ کے علم میں اس کا اہل ہو، فرمایا: «{اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ }» [ الأنعام: ۱۲۴ ] ”اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔“
اِذۡ قَالَ لِاَبِیۡہِ وَ قَوۡمِہٖ مَا ہٰذِہِ التَّمَاثِیۡلُ الَّتِیۡۤ اَنۡتُمۡ لَہَا عٰکِفُوۡنَ ﴿۵۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یاد کرو وہ موقع جبکہ اُس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ "یہ مورتیں کیسی ہیں جن کے تم لوگ گرویدہ ہو رہے ہو؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
جب اس نے اپنے باپ اور قوم سے کہا یہ مورتیں کیا ہیں جن کے آگے تم آسن مارے (پوجا کے لیے بیٹھے) ہو
علامہ محمد حسین نجفی
جب آپ نے (منہ بولے) باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیں کیسی ہیں جن (کی عبادت) پر تم جمے بیٹھے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کیا ہیں یہ مورتیاں جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہودی روایتوں سے بچو ٭٭

فرمان ہے کہ ’ خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی ‘۔ جیسے آیت میں ہے «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» ۱؎ [6-الأنعام:83] ‏‏‏‏۔ ’ یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کر سکیں ‘۔ یہ جو قصے مشہور ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا ً چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا، یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے مطابق ہو جو حق ہمارے ہاتھوں میں ہے یعنی کتاب وسنت، وہ تو سچا ہے اور قابل قبول ہے اس لیے کہ وہ صحت کے مطابق ہے۔ اور جو خلاف ہو وہ مردود ہے۔ اور جس کی نسبت ہماری شریعت خاموش ہو، موافقت ومخالفت کچھ نہ ہو، گو اس کا روایت کرنا بقول اکثر مفسرین جائز ہے لیکن نہ تو ہم اسے سچا کر سکتے ہیں نہ غلط۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ وہ واقعات ہمارے لیے کچھ سند نہیں، نہ ان میں ہمارا کوئی دینی نفع ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہماری جامع و نافع، کامل و شامل شریعت اس کے بیان میں کوتاہی نہ کرتی۔ ہمارا اپنا مسلک تو اس تفسیر میں یہ رہا ہے کہ ہم ایسی بنی اسرائیلی روایتوں کو وارد نہیں کرتے کیونکہ اس میں سوائے وقت ضائع کرنے کے کوئی نفع نہیں ہاں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ بنی اسرائیل میں روایت کی جانچ پڑتال کا مادہ ہی نہ تھا، وہ سچ جھوٹ میں تمیز کرنا جانتے ہی نہ تھے، ان میں جھوٹ سرایت کر گیا تھا جیسے کہ ہمارے حفاظ ائمہ نے تشریح کی ہے۔

غرض یہ ہے کہ آیت میں اس امر کا بیان ہے کہ ’ ہم نے اس سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو ہدایت بخشی تھی اور ہم جانتے تھے کہ وہ اس کے لائق ہے ‘۔ بچپنے میں ہی آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کی غیر اللہ پرستی کو ناپسند فرمایا اور نہایت جرأت سے اس کا سخت انکار کیا اور قوم سے برملا کہا کہ ان بتوں کے اردگرد مجمع لگا کر کیا بیٹھے ہو؟ اصبغ بن نباتہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ راہ سے گزر رہے تھے جو دیکھا کہ شطرنج باز لوگ بازی کھیل رہے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہی تلاوت فرما کر فرمایا کہ ”تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں جلتا ہوا انگارا لے لے یہ اس شطرنج کے مہروں کے لینے سے اچھا ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس کھلی دلیل کا جواب ان کے پاس کیا تھا جو دیتے؟ کہنے لگے کہ یہ تو پرانی روش ہے، باپ دادوں سے چلی آتی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا! واہ یہ بھی کوئی دلیل ہوئی؟ ہمارا اعتراض جو تم پر ہے وہی تمہارے اگلوں پر ہے۔ ایک گمراہی میں تمہارے بڑے مبتلا ہوں اور تم بھی اس میں مبتلا ہو جاؤ تو وہ بھلائی بننے سے رہی؟ میں کہتا ہوں، تم اور تمہارے باپ دادا سبھی راہ حق سے برگشتہ ہو گئے ہو اور کھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو۔ اب تو ان کے کان کھڑے ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے عقل مندوں کی توہین دیکھی، اپنے باپ دادوں کی نسبت نہ سننے والے کلمات سنے، اپنے معبودوں کی حقارت ہوتی ہوئی دیکھی تو گھبرا گئے اور کہنے لگے ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) کیا واقعی تم ٹھیک کہہ رہے ہو یا مذاق کر رہے ہو؟ ہم نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی۔ آپ علیہ السلام کو تبلیغ کا موقعہ ملا اور صاف اعلان کیا کہ ”رب تو صرف خالق آسمان و زمین ہی ہے، تمام چیزوں کا خالق و مالک وہی ہے۔ تمہارے یہ معبود کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی نہ خالق ہیں نہ مالک۔ پھر معبود و مسجود کیسے ہو گئے؟ میری گواہی ہے کہ خالق و مالک اللہ ہی لائق عبادت ہے نہ اس کے سوا کوئی رب نہ معبود۔‏‏‏‏“
52۔ 1 تَمَاثِیْل، تِمْثَالُ کی جمع ہے۔ یہ اصل میں کسی چیز کی ہوبہو نقل کو کہتے ہیں۔ جیسے پتھر کا مجسمہ یا کاغذ اور دیوار پر کسی کی تصویر۔ یہاں مراد وہ مورتیاں ہیں جو قوم ابراہیم ؑ نے اپنے معبودوں کی بنا رکھی تھیں اور جن کی وہ عبادت کرتے تھے عاکف۔ عکوف سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کے معنی کسی چیز کو لازم پکڑنے اور اس پر جھک کر جم کر بیٹھ رہنے کے ہیں۔ اسی سے اعتکاف ہے جس میں انسان اللہ کی عبادت کے لیے جم کر بیٹھتا ہے اور یکسوئی اور انہماک سے اس کی طرف لو لگاتا ہے یہاں اس سے مراد بتوں کی تعظیم و عبادت اور ان کے تھانوں پر مجاور بن کر بیٹھنا ہے یہ تماثیلیں (مورتیاں اور تصویریں) قبر پرستوں اور پیر پرستوں میں بھی آجکل عام ہیں اور ان کو بڑے اہتمام سے گھروں اور دکانوں میں بطور تبرک آویزاں کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں سمجھ عطا فرمائے۔
(آیت 52) ➊ {اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ وَ قَوْمِهٖ …: ” التَّمَاثِيْلُ”تِمْثَالٌ“} کی جمع ہے، اللہ تعالیٰ کی کسی مخلوق کی مثل بنائی ہوئی صورت، مجسمہ۔ بت پرست عموماً انسانوں کے مجسموں کی پوجا کرتے ہیں۔ یہ ہے وہ سمجھ بوجھ جو موسیٰ علیہ السلام سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو عطا فرمائی تھی، یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کا حق ہونا اور بتوں اور دوسرے تمام معبودوں کا باطل ہونا۔ ابراہیم علیہ السلام کی قوم بت پرست بھی تھی، ستارے، چاند اور سورج کی پرستش بھی کرتی تھی اور بادشاہ کو بھی رب مانتی تھی۔ ستارے، چاند اور سورج کے معبود نہ ہونے کے لیے ابراہیم علیہ السلام کی نہایت مدلل، مؤثر اور لاجواب دعوت سورۂ انعام (۷۶ تا ۸۳) میں ملاحظہ فرمائیں۔ بادشاہ کے رب نہ ہونے کی دعوت سورۂ بقرہ (۲۵۸) میں ملاحظہ فرمائیں۔ یہاں بتوں کے بے اختیار ہونے کی تبلیغ اور اس کا عملی اظہار فرمایا ہے۔ ➋ {مَا هٰذِهِ التَّمَاثِيْلُ …: ” هٰذِهِ “} کا اشارہ بتوں کی تحقیر کے لیے ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے نادان بنتے ہوئے اپنے باپ اور اپنی قوم سے بتوں کا تذکرہ نہایت تحقیر کے ساتھ کرتے ہوئے پوچھا: ”یہ مورتیاں جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو، کیا چیز ہیں؟“ گویا ابراہیم علیہ السلام ان کو کوئی چیز ماننے ہی پر تیار نہ تھے، کیونکہ وہ نہ سنتے تھے اور نہ کوئی فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے تھے۔ دیکھیے سورۂ مریم (۴۲)۔
قَالُوۡا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا لَہَا عٰبِدِیۡنَ ﴿۵۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
انہوں نے جواب دیا "ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے پایا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
سب نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو انہی کی عبادت کرتے ہوئے پایا
احمد رضا خان بریلوی
بولے ہم نے اپنے دادا کو ان کی پوجا کرتے پایا
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا ہم نے اپنے باپ دادا کو انھی کی عبادت کرنے والے پایا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہودی روایتوں سے بچو ٭٭

فرمان ہے کہ ’ خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی ‘۔ جیسے آیت میں ہے «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» ۱؎ [6-الأنعام:83] ‏‏‏‏۔ ’ یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کر سکیں ‘۔ یہ جو قصے مشہور ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا ً چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا، یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے مطابق ہو جو حق ہمارے ہاتھوں میں ہے یعنی کتاب وسنت، وہ تو سچا ہے اور قابل قبول ہے اس لیے کہ وہ صحت کے مطابق ہے۔ اور جو خلاف ہو وہ مردود ہے۔ اور جس کی نسبت ہماری شریعت خاموش ہو، موافقت ومخالفت کچھ نہ ہو، گو اس کا روایت کرنا بقول اکثر مفسرین جائز ہے لیکن نہ تو ہم اسے سچا کر سکتے ہیں نہ غلط۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ وہ واقعات ہمارے لیے کچھ سند نہیں، نہ ان میں ہمارا کوئی دینی نفع ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہماری جامع و نافع، کامل و شامل شریعت اس کے بیان میں کوتاہی نہ کرتی۔ ہمارا اپنا مسلک تو اس تفسیر میں یہ رہا ہے کہ ہم ایسی بنی اسرائیلی روایتوں کو وارد نہیں کرتے کیونکہ اس میں سوائے وقت ضائع کرنے کے کوئی نفع نہیں ہاں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ بنی اسرائیل میں روایت کی جانچ پڑتال کا مادہ ہی نہ تھا، وہ سچ جھوٹ میں تمیز کرنا جانتے ہی نہ تھے، ان میں جھوٹ سرایت کر گیا تھا جیسے کہ ہمارے حفاظ ائمہ نے تشریح کی ہے۔

غرض یہ ہے کہ آیت میں اس امر کا بیان ہے کہ ’ ہم نے اس سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو ہدایت بخشی تھی اور ہم جانتے تھے کہ وہ اس کے لائق ہے ‘۔ بچپنے میں ہی آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کی غیر اللہ پرستی کو ناپسند فرمایا اور نہایت جرأت سے اس کا سخت انکار کیا اور قوم سے برملا کہا کہ ان بتوں کے اردگرد مجمع لگا کر کیا بیٹھے ہو؟ اصبغ بن نباتہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ راہ سے گزر رہے تھے جو دیکھا کہ شطرنج باز لوگ بازی کھیل رہے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہی تلاوت فرما کر فرمایا کہ ”تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں جلتا ہوا انگارا لے لے یہ اس شطرنج کے مہروں کے لینے سے اچھا ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس کھلی دلیل کا جواب ان کے پاس کیا تھا جو دیتے؟ کہنے لگے کہ یہ تو پرانی روش ہے، باپ دادوں سے چلی آتی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا! واہ یہ بھی کوئی دلیل ہوئی؟ ہمارا اعتراض جو تم پر ہے وہی تمہارے اگلوں پر ہے۔ ایک گمراہی میں تمہارے بڑے مبتلا ہوں اور تم بھی اس میں مبتلا ہو جاؤ تو وہ بھلائی بننے سے رہی؟ میں کہتا ہوں، تم اور تمہارے باپ دادا سبھی راہ حق سے برگشتہ ہو گئے ہو اور کھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو۔ اب تو ان کے کان کھڑے ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے عقل مندوں کی توہین دیکھی، اپنے باپ دادوں کی نسبت نہ سننے والے کلمات سنے، اپنے معبودوں کی حقارت ہوتی ہوئی دیکھی تو گھبرا گئے اور کہنے لگے ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) کیا واقعی تم ٹھیک کہہ رہے ہو یا مذاق کر رہے ہو؟ ہم نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی۔ آپ علیہ السلام کو تبلیغ کا موقعہ ملا اور صاف اعلان کیا کہ ”رب تو صرف خالق آسمان و زمین ہی ہے، تمام چیزوں کا خالق و مالک وہی ہے۔ تمہارے یہ معبود کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی نہ خالق ہیں نہ مالک۔ پھر معبود و مسجود کیسے ہو گئے؟ میری گواہی ہے کہ خالق و مالک اللہ ہی لائق عبادت ہے نہ اس کے سوا کوئی رب نہ معبود۔‏‏‏‏“
جس طرح آج بھی جہالت و خرافات میں پھنسے ہوئے مسلمانوں کو بدعات و رسومات جاہلیہ سے روکا جائے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم انھیں کس طرح چھوڑیں جب کہ ہمارے آباواجداد بھی یہی کچھ کرتے رہے ہیں اور یہی جواب وہ حضرات دیتے ہیں جو نصوص کتاب و سنت سے اعراض کر کے علماء ومشائخ کے آراء وافکار سے چمٹے رہنے کو ضروری خیال کرتے ہیں۔
(آیت 53){ قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا …:} ابراہیم علیہ السلام کے والد اور ان کی قوم کے پاس بتوں کی عبادت کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل نہ تھی، اس لیے انھوں نے تقلید کا سہارا لیا اور کہا کہ ہم نے اپنے باپ داد اکو ان کی عبادت کرنے والے پایا ہے، حالانکہ باپ دادا سیدھے راستے پر ہوں تو بے شک ان کے پیچھے چلو، لیکن اگر وہ غلط راستے پر ہوں تو غلط راستے پر چلتے جانا کہاں کی دانش مندی ہے؟
قَالَ لَقَدۡ کُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَ اٰبَآؤُکُمۡ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۵۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس نے کہا "تم بھی گمراہ ہو اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ نے فرمایا! پھر تو تم اور تمہارے باپ دادا سبھی یقیناً کھلی گمراہی میں مبتلا رہے
احمد رضا خان بریلوی
کہا بے شک تم اور تمہارے باپ دادا سب کھلی گمراہی میں ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ نے کہا تم بھی اور تمہارے باپ دادا بھی کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔
عبدالسلام بن محمد
کہا بلاشبہ یقینا تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی میں تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہودی روایتوں سے بچو ٭٭

فرمان ہے کہ ’ خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی ‘۔ جیسے آیت میں ہے «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» ۱؎ [6-الأنعام:83] ‏‏‏‏۔ ’ یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کر سکیں ‘۔ یہ جو قصے مشہور ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا ً چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا، یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے مطابق ہو جو حق ہمارے ہاتھوں میں ہے یعنی کتاب وسنت، وہ تو سچا ہے اور قابل قبول ہے اس لیے کہ وہ صحت کے مطابق ہے۔ اور جو خلاف ہو وہ مردود ہے۔ اور جس کی نسبت ہماری شریعت خاموش ہو، موافقت ومخالفت کچھ نہ ہو، گو اس کا روایت کرنا بقول اکثر مفسرین جائز ہے لیکن نہ تو ہم اسے سچا کر سکتے ہیں نہ غلط۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ وہ واقعات ہمارے لیے کچھ سند نہیں، نہ ان میں ہمارا کوئی دینی نفع ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہماری جامع و نافع، کامل و شامل شریعت اس کے بیان میں کوتاہی نہ کرتی۔ ہمارا اپنا مسلک تو اس تفسیر میں یہ رہا ہے کہ ہم ایسی بنی اسرائیلی روایتوں کو وارد نہیں کرتے کیونکہ اس میں سوائے وقت ضائع کرنے کے کوئی نفع نہیں ہاں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ بنی اسرائیل میں روایت کی جانچ پڑتال کا مادہ ہی نہ تھا، وہ سچ جھوٹ میں تمیز کرنا جانتے ہی نہ تھے، ان میں جھوٹ سرایت کر گیا تھا جیسے کہ ہمارے حفاظ ائمہ نے تشریح کی ہے۔

غرض یہ ہے کہ آیت میں اس امر کا بیان ہے کہ ’ ہم نے اس سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو ہدایت بخشی تھی اور ہم جانتے تھے کہ وہ اس کے لائق ہے ‘۔ بچپنے میں ہی آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کی غیر اللہ پرستی کو ناپسند فرمایا اور نہایت جرأت سے اس کا سخت انکار کیا اور قوم سے برملا کہا کہ ان بتوں کے اردگرد مجمع لگا کر کیا بیٹھے ہو؟ اصبغ بن نباتہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ راہ سے گزر رہے تھے جو دیکھا کہ شطرنج باز لوگ بازی کھیل رہے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہی تلاوت فرما کر فرمایا کہ ”تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں جلتا ہوا انگارا لے لے یہ اس شطرنج کے مہروں کے لینے سے اچھا ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس کھلی دلیل کا جواب ان کے پاس کیا تھا جو دیتے؟ کہنے لگے کہ یہ تو پرانی روش ہے، باپ دادوں سے چلی آتی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا! واہ یہ بھی کوئی دلیل ہوئی؟ ہمارا اعتراض جو تم پر ہے وہی تمہارے اگلوں پر ہے۔ ایک گمراہی میں تمہارے بڑے مبتلا ہوں اور تم بھی اس میں مبتلا ہو جاؤ تو وہ بھلائی بننے سے رہی؟ میں کہتا ہوں، تم اور تمہارے باپ دادا سبھی راہ حق سے برگشتہ ہو گئے ہو اور کھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو۔ اب تو ان کے کان کھڑے ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے عقل مندوں کی توہین دیکھی، اپنے باپ دادوں کی نسبت نہ سننے والے کلمات سنے، اپنے معبودوں کی حقارت ہوتی ہوئی دیکھی تو گھبرا گئے اور کہنے لگے ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) کیا واقعی تم ٹھیک کہہ رہے ہو یا مذاق کر رہے ہو؟ ہم نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی۔ آپ علیہ السلام کو تبلیغ کا موقعہ ملا اور صاف اعلان کیا کہ ”رب تو صرف خالق آسمان و زمین ہی ہے، تمام چیزوں کا خالق و مالک وہی ہے۔ تمہارے یہ معبود کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی نہ خالق ہیں نہ مالک۔ پھر معبود و مسجود کیسے ہو گئے؟ میری گواہی ہے کہ خالق و مالک اللہ ہی لائق عبادت ہے نہ اس کے سوا کوئی رب نہ معبود۔‏‏‏‏“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 54){ قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ:} اس کا یہ معنی نہیں کہ تم اور تمھارے باپ دادا ماضی میں گمراہی میں مبتلا تھے اب نہیں، بلکہ {”كَانَ“} دوام اور استمرار کے لیے ہے اور {” فِيْ “} ان کے گمراہی میں بری طرح پھنسے ہونے کے اظہار کے لیے ہے، جیسا کہ ابوالسعود نے فرمایا: {” وَ مَعْنٰي” كُنْتُمْمُطْلَقُ اِسْتِقْرَارِهِمْ عَلَي الضَّلاَلِ لاَ اسْتِقْرَارُهُمُ الْمَاضِيْ الْحَاصِلُ قَبْلَ زَمَانِ الْخِطَابِ الْمُتَنَاوِلِ لَهُمْ وَلِآبَائِهِمْ“} خلاصہ یہ کہ ابراہیم علیہ السلام نے واشگاف الفاظ میں فرما دیا کہ بلاشبہ یقینا تم اور تمھارے باپ دادا پہلے بھی کھلی گمراہی میں مبتلا تھے اور اب بھی مسلسل ایسے ہی چلے آرہے ہو۔ کیونکہ بت پرستی سے بڑھ کر کھلی گمراہی اور کیا ہو سکتی ہے؟
قَالُوۡۤا اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِیۡنَ ﴿۵۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
انہوں نے کہا "کیا تو ہمارے سامنے اپنے اصلی خیالات پیش کر رہا ہے یا مذاق کرتا ہے؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہنے لگے کیا آپ ہمارے پاس سچ مچ حق ﻻئے ہیں یا یوں ہی مذاق کر رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بولے کیا تم ہمارے پاس حق لائے ہو یا یونہی کھیلتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے کہا کیا تم ہمارے پاس کوئی حق بات (سچا پیغام) لے کر آئے ہو یا صرف دل لگی کر رہے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس حق لایا ہے، یا تو کھیلنے والوں سے ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہودی روایتوں سے بچو ٭٭

فرمان ہے کہ ’ خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی ‘۔ جیسے آیت میں ہے «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» ۱؎ [6-الأنعام:83] ‏‏‏‏۔ ’ یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کر سکیں ‘۔ یہ جو قصے مشہور ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا ً چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا، یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے مطابق ہو جو حق ہمارے ہاتھوں میں ہے یعنی کتاب وسنت، وہ تو سچا ہے اور قابل قبول ہے اس لیے کہ وہ صحت کے مطابق ہے۔ اور جو خلاف ہو وہ مردود ہے۔ اور جس کی نسبت ہماری شریعت خاموش ہو، موافقت ومخالفت کچھ نہ ہو، گو اس کا روایت کرنا بقول اکثر مفسرین جائز ہے لیکن نہ تو ہم اسے سچا کر سکتے ہیں نہ غلط۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ وہ واقعات ہمارے لیے کچھ سند نہیں، نہ ان میں ہمارا کوئی دینی نفع ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہماری جامع و نافع، کامل و شامل شریعت اس کے بیان میں کوتاہی نہ کرتی۔ ہمارا اپنا مسلک تو اس تفسیر میں یہ رہا ہے کہ ہم ایسی بنی اسرائیلی روایتوں کو وارد نہیں کرتے کیونکہ اس میں سوائے وقت ضائع کرنے کے کوئی نفع نہیں ہاں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ بنی اسرائیل میں روایت کی جانچ پڑتال کا مادہ ہی نہ تھا، وہ سچ جھوٹ میں تمیز کرنا جانتے ہی نہ تھے، ان میں جھوٹ سرایت کر گیا تھا جیسے کہ ہمارے حفاظ ائمہ نے تشریح کی ہے۔

غرض یہ ہے کہ آیت میں اس امر کا بیان ہے کہ ’ ہم نے اس سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو ہدایت بخشی تھی اور ہم جانتے تھے کہ وہ اس کے لائق ہے ‘۔ بچپنے میں ہی آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کی غیر اللہ پرستی کو ناپسند فرمایا اور نہایت جرأت سے اس کا سخت انکار کیا اور قوم سے برملا کہا کہ ان بتوں کے اردگرد مجمع لگا کر کیا بیٹھے ہو؟ اصبغ بن نباتہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ راہ سے گزر رہے تھے جو دیکھا کہ شطرنج باز لوگ بازی کھیل رہے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہی تلاوت فرما کر فرمایا کہ ”تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں جلتا ہوا انگارا لے لے یہ اس شطرنج کے مہروں کے لینے سے اچھا ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس کھلی دلیل کا جواب ان کے پاس کیا تھا جو دیتے؟ کہنے لگے کہ یہ تو پرانی روش ہے، باپ دادوں سے چلی آتی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا! واہ یہ بھی کوئی دلیل ہوئی؟ ہمارا اعتراض جو تم پر ہے وہی تمہارے اگلوں پر ہے۔ ایک گمراہی میں تمہارے بڑے مبتلا ہوں اور تم بھی اس میں مبتلا ہو جاؤ تو وہ بھلائی بننے سے رہی؟ میں کہتا ہوں، تم اور تمہارے باپ دادا سبھی راہ حق سے برگشتہ ہو گئے ہو اور کھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو۔ اب تو ان کے کان کھڑے ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے عقل مندوں کی توہین دیکھی، اپنے باپ دادوں کی نسبت نہ سننے والے کلمات سنے، اپنے معبودوں کی حقارت ہوتی ہوئی دیکھی تو گھبرا گئے اور کہنے لگے ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) کیا واقعی تم ٹھیک کہہ رہے ہو یا مذاق کر رہے ہو؟ ہم نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی۔ آپ علیہ السلام کو تبلیغ کا موقعہ ملا اور صاف اعلان کیا کہ ”رب تو صرف خالق آسمان و زمین ہی ہے، تمام چیزوں کا خالق و مالک وہی ہے۔ تمہارے یہ معبود کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی نہ خالق ہیں نہ مالک۔ پھر معبود و مسجود کیسے ہو گئے؟ میری گواہی ہے کہ خالق و مالک اللہ ہی لائق عبادت ہے نہ اس کے سوا کوئی رب نہ معبود۔‏‏‏‏“
55۔ 1 یہ اس لئے کہا کہ انہوں نے اس سے قبل توحید کی آواز ہی نہیں سنی تھی انہوں نے سوچا، پتہ نہیں، ابراہیم ؑ ہمارے ساتھ مذاق تو نہیں کر رہا ہے۔
(آیت 55){ قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ …:} قوم کو بت پرستی کے حق ہونے کا اتنا یقین تھا کہ وہ سوچ ہی نہ سکتے تھے کہ کوئی شخص اسے کھلی گمراہی قرار دے سکتا ہے۔ علاوہ ازیں ابراہیم علیہ السلام جیسے حسن اخلاق والے شخص سے (جو کوئی ایسی بات کہتا ہی نہیں جو کسی کو ناگوار گزرے) صاف گمراہی کا فتویٰ سن کر انھیں یقین نہ آیا کہ ابراہیم علیہ السلام یہ بات سنجیدگی سے کہہ رہے ہیں۔ وہ سمجھے کہ آپ مذاق کر رہے ہیں، اس لیے انھوں نے پوچھا کہ آپ یہ حقیقت بیان کر رہے ہیں یا دل لگی کر رہے ہیں؟
قَالَ بَلۡ رَّبُّکُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ الَّذِیۡ فَطَرَہُنَّ ۫ۖ وَ اَنَا عَلٰی ذٰلِکُمۡ مِّنَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۵۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس نے جواب دیا "نہیں، بلکہ فی الواقع تمہارا رب وہی ہے جو زمین اور آسمانوں کا رب اور اُن کا پیدا کرنے والا ہے اِس پر میں تمہارے سامنے گواہی دیتا ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ نے فرمایا نہیں درحقیقت تم سب کا پروردگار تو وه ہے جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے، میں تو اسی بات کا گواه اور قائل ہوں
احمد رضا خان بریلوی
کہا بلکہ تمہارا رب وہ ہے جو رب ہے آسمان اور زمین کا جس نے انہیں پیدا کیا، اور میں اس پر گواہوں میں سے ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ نے کہا (دل لگی نہیں) بلکہ تمہارا پروردگار وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے اور میں اس بات کے گواہوں میں سے ایک گواہ ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
کہا بلکہ تمھارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے، جس نے انھیں پیدا کیا ہے اور میں اس پر گواہی دینے والوں سے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہودی روایتوں سے بچو ٭٭

فرمان ہے کہ ’ خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی ‘۔ جیسے آیت میں ہے «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» ۱؎ [6-الأنعام:83] ‏‏‏‏۔ ’ یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کر سکیں ‘۔ یہ جو قصے مشہور ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا ً چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا، یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے مطابق ہو جو حق ہمارے ہاتھوں میں ہے یعنی کتاب وسنت، وہ تو سچا ہے اور قابل قبول ہے اس لیے کہ وہ صحت کے مطابق ہے۔ اور جو خلاف ہو وہ مردود ہے۔ اور جس کی نسبت ہماری شریعت خاموش ہو، موافقت ومخالفت کچھ نہ ہو، گو اس کا روایت کرنا بقول اکثر مفسرین جائز ہے لیکن نہ تو ہم اسے سچا کر سکتے ہیں نہ غلط۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ وہ واقعات ہمارے لیے کچھ سند نہیں، نہ ان میں ہمارا کوئی دینی نفع ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہماری جامع و نافع، کامل و شامل شریعت اس کے بیان میں کوتاہی نہ کرتی۔ ہمارا اپنا مسلک تو اس تفسیر میں یہ رہا ہے کہ ہم ایسی بنی اسرائیلی روایتوں کو وارد نہیں کرتے کیونکہ اس میں سوائے وقت ضائع کرنے کے کوئی نفع نہیں ہاں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ بنی اسرائیل میں روایت کی جانچ پڑتال کا مادہ ہی نہ تھا، وہ سچ جھوٹ میں تمیز کرنا جانتے ہی نہ تھے، ان میں جھوٹ سرایت کر گیا تھا جیسے کہ ہمارے حفاظ ائمہ نے تشریح کی ہے۔

غرض یہ ہے کہ آیت میں اس امر کا بیان ہے کہ ’ ہم نے اس سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو ہدایت بخشی تھی اور ہم جانتے تھے کہ وہ اس کے لائق ہے ‘۔ بچپنے میں ہی آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کی غیر اللہ پرستی کو ناپسند فرمایا اور نہایت جرأت سے اس کا سخت انکار کیا اور قوم سے برملا کہا کہ ان بتوں کے اردگرد مجمع لگا کر کیا بیٹھے ہو؟ اصبغ بن نباتہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ راہ سے گزر رہے تھے جو دیکھا کہ شطرنج باز لوگ بازی کھیل رہے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہی تلاوت فرما کر فرمایا کہ ”تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں جلتا ہوا انگارا لے لے یہ اس شطرنج کے مہروں کے لینے سے اچھا ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس کھلی دلیل کا جواب ان کے پاس کیا تھا جو دیتے؟ کہنے لگے کہ یہ تو پرانی روش ہے، باپ دادوں سے چلی آتی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا! واہ یہ بھی کوئی دلیل ہوئی؟ ہمارا اعتراض جو تم پر ہے وہی تمہارے اگلوں پر ہے۔ ایک گمراہی میں تمہارے بڑے مبتلا ہوں اور تم بھی اس میں مبتلا ہو جاؤ تو وہ بھلائی بننے سے رہی؟ میں کہتا ہوں، تم اور تمہارے باپ دادا سبھی راہ حق سے برگشتہ ہو گئے ہو اور کھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو۔ اب تو ان کے کان کھڑے ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے عقل مندوں کی توہین دیکھی، اپنے باپ دادوں کی نسبت نہ سننے والے کلمات سنے، اپنے معبودوں کی حقارت ہوتی ہوئی دیکھی تو گھبرا گئے اور کہنے لگے ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) کیا واقعی تم ٹھیک کہہ رہے ہو یا مذاق کر رہے ہو؟ ہم نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی۔ آپ علیہ السلام کو تبلیغ کا موقعہ ملا اور صاف اعلان کیا کہ ”رب تو صرف خالق آسمان و زمین ہی ہے، تمام چیزوں کا خالق و مالک وہی ہے۔ تمہارے یہ معبود کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی نہ خالق ہیں نہ مالک۔ پھر معبود و مسجود کیسے ہو گئے؟ میری گواہی ہے کہ خالق و مالک اللہ ہی لائق عبادت ہے نہ اس کے سوا کوئی رب نہ معبود۔‏‏‏‏“
56۔ 1 یعنی میں مذاق نہیں کر رہا، بلکہ ایک ایسی چیز پیش کر رہا ہوں جس کا علم و یقین (مشاہدہ) مجھے حاصل ہے اور وہ یہ کہ تمہارا معبود مورتیاں نہیں، بلکہ وہ رب ہے جو آسمانوں اور زمین کا مالک اور ان کا پیدا کرنے والا ہے۔
(آیت 56) ➊ {قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ …: ” بَلْ “} (بلکہ) سے پہلے کلام کا کچھ حصہ محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آ رہا ہے، یعنی میں یہ بات مذاق سے نہیں بلکہ پوری سنجیدگی سے کہہ رہا ہوں کہ یہ مورتیاں اور مجسّمے رب نہیں ہیں بلکہ تمھارا رب صرف وہ ہے جو تمام آسمانوں کا اور زمین کا رب ہے۔{” رَبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ “} مبتدا اور خبر دونوں کے معرفہ ہونے سے حصر کا معنی پیدا ہو رہا ہے۔ ➋ { وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ:} یعنی میں یہ بات دلیل سے ثابت کر سکتا ہوں، تمھاری طرح نہیں کہ آبا و اجداد کی تقلید کے سوا میرے پاس کوئی دلیل ہی نہ ہو (کیونکہ شہادت اسی بات کی دی جاتی ہے جس کا انسان کو یقینی علم ہو، جب کہ تقلید اور علم ایک دوسرے کے منافی ہیں)۔ (رازی)
وَ تَاللّٰہِ لَاَکِیۡدَنَّ اَصۡنَامَکُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِیۡنَ ﴿۵۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور خدا کی قسم میں تمہاری غیر موجودگی میں ضرور تمہارے بتوں کی خبر لوں گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ کی قسم! میں تمہارے ان معبودوں کے ساتھ جب تم علیحده پیٹھ پھیر کر چل دو گے ایک چال چلوں گا
احمد رضا خان بریلوی
اور مجھے اللہ کی قسم ہے میں تمہارے بتوں کا برا چاہوں گا بعد اس کے کہ تم پھر جاؤ پیٹھ دے کر
علامہ محمد حسین نجفی
اور بخدا میں تمہارے بتوں کے ساتھ (کوئی نہ کوئی) چال ضرور چلوں گا جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ کی قسم! میں ضرور ہی تمھارے بتوں کی خفیہ تدبیر کروں گا، اس کے بعد کہ تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے ٭٭

اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا، اور جذبہ توحید میں آکر آپ علیہ السلام نے قسم کھا لی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔ ان کی عید کا دن جو مقرر تھا، خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لیے باہر جاؤ گے، میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کر دوں گا۔‏‏‏‏“ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ علیہ السلام کے والد نے آپ علیہ السلام سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہو جائے۔

چنانچہ یہ آپ علیہ السلام کو لے چلا، کچھ دور جانے کے بعد ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم گر پڑے اور فرمانے لگے، ابا میں بیمار ہو گیا۔ باپ آپ علیہ السلام کو چھوڑ کرمراسم کفر بجا لانے کے لیے آگے بڑھ گئے اور جو لوگ راستے سے گزرتے، آپ علیہ السلام سے پوچھتے، کیا بات ہے راستے پر کیسے بیٹھے ہو؟ جواب دیتے کہ میں بیمار ہوں۔ جب عام لوگ نکل گئے اور بڈھے بڑے لوگ رہ گئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، ”تم سب کے چلے جانے کے بعد آج میں تمہارے معبودوں کی مرمت کر دوں گا۔‏‏‏‏“ آپ علیہ السلام نے جو فرمایا کہ میں بیمار ہوں تو واقعی آپ علیہ السلام اس دن کے اگلے دن قدرے علیل بھی تھے۔ جب کہ وہ لوگ چلے گئے تو میدان خالی پا کر آپ علیہ السلام نے اپنا ارادہ پورا کیا اور بڑے بت کو چھوڑ کر تمام بتوں کا چورا کر دیا۔ جیسے اور آیتوں میں اس کا تفصیلی بیان موجود ہے کہ «فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ» ۱؎ [37-الصفات:93] ‏‏‏‏ ’ اپنے ہاتھ سے ان بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے ‘۔ اس بڑے بت کے باقی رکھنے میں حکمت ومصلحت یہ تھی کہ اولاً ان لوگوں کے ذہن میں خیال آئے کہ شاید اس بڑے بت نے ان چھوٹے بتوں کو غارت کر دیا ہوگا؟ کیونکہ اسے غیرت معلوم ہوئی ہوگی کہ مجھ بڑے کے ہوتے ہوئے یہ چھوٹے خدائی کے لائق کیسے ہوگئے؟ چنانچہ اس خیال کی پختگی ان کے ذہنوں میں قائم کرنے کے لیے آپ علیہ السلام نے کلہاڑا بھی اس کی گردن پر رکھ دیا تھا، جیسے کہ مروی ہے۔ جب یہ مشرکین اپنے میلے سے واپس آئے تو دیکھا کہ ان کے سارے معبود منہ کے بل اوندھے گرے ہوئے ہیں، اور اپنی حالت سے وہ بتا رہے ہیں کہ وہ محض بے جان، بے نفع و نقصان، ذلیل و حقیر چیز ہیں۔ اور گویا اپنی اس حالت سے اپنے پجاریوں کی بے وقوفی پر وہ مہر لگا رہے تھے۔ لیکن ان بے وقوفوں پر الٹا اثر ہوا کہنے لگے، یہ کون ظالم شخص تھا جس نے ہمارے معبودوں کی ایسی اہانت کی؟ اس وقت جن لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کا وہ کلام سنا تھا، انہیں خیال آ گیا اور کہنے لگے، وہ نوجوان جس کا نام ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) ہے اسے ہم نے اپنے معبودوں کی مذمت کرتے ہوئے سنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کو پڑھتے اور فرماتے، جو نبی آیا جوان۔ جو عالم بنا جوان۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ شان الٰہی دیکھئیے جو مقصد خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کا تھا، وہ اب پورا ہو رہا ہے۔
57۔ 1 یہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے دل میں عزم کیا، بعض کہتے ہیں کہ آہستہ سے کہا جس سے مقصود بعض لوگوں کو سنانا تھا۔ مراد یہی وہ عملی کوشش ہے جو وہ زبانی وعظ کے بعد عملی اہتمام کی شکل میں کرنا چاہتے تھے۔ یعنی بتوں کی توڑ پھوڑ۔
(آیت 57) ➊ { وَ تَاللّٰهِ لَاَكِيْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ …:} ابراہیم علیہ السلام نے زبان سے بتوں کی تردید کے بعد سمجھا کہ ان لوگوں کو زبانی سمجھانا کافی نہیں بلکہ ان کے دماغوں میں ان بتوں کی خدائی اور مشکل کشائی کا جما ہوا عقیدہ ختم کرنا ایک زبردست عملی کارروائی کے بغیر ممکن نہیں، جس سے ان کی بے بسی صاف واضح ہو جائے۔ چونکہ ان تک پہنچنا اور کارروائی کرنا آسان نہ تھا، تو اس کام کے لیے انھوں نے اس دن کا انتخاب فرمایا جب سب لوگوں کے جشن پر جانے سے کارروائی کا موقع مل سکتا تھا۔ دیکھیے سورۂ صافات (۸۸ تا ۹۰)۔ ➋ ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کے باطل ہونے کو عمل سے ثابت کرنے سے پہلے اللہ کی قسم کھا کر اپنے ارادے کا اعلان فرمایا۔ کچھ لوگ پختہ قبروں یا آستانوں اور بتوں کو خفیہ طریقے سے توڑ دیتے ہیں اور روپوش ہو جاتے ہیں اور اپنے اس عمل کو سنتِ ابراہیمی قرار دیتے ہیں، لیکن اگر واقعی وہ سنت ابراہیمی کے پیروکار ہیں تو انھیں چاہیے کہ اعلان کرکے یہ کام کریں، تاکہ اس کے نتیجے کے ذمہ دار بھی خود بنیں اور ابراہیم علیہ السلام جیسی استقامت دکھائیں۔ یہ نہیں کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی۔ ➌ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے یہ بات دل میں کہی۔ بعض نے لکھا ہے کہ جب سب لوگ چلے گئے تو انھوں نے ایک آدھ آدمی کی موجودگی میں یہ بات کہی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب اسرائیلیات ہیں۔ قرآن مجید نے صاف الفاظ میں ان کے اپنے والد اور قوم کے سامنے یہ بات کہنے کا ذکر فرمایا ہے۔ مگر قوم کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کی پروا نہیں کی۔
فَجَعَلَہُمۡ جُذٰذًا اِلَّا کَبِیۡرًا لَّہُمۡ لَعَلَّہُمۡ اِلَیۡہِ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۵۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
چنانچہ اس نے اُن کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور صرف ان کے بڑے کو چھوڑ دیا تاکہ شاید وہ اس کی طرف رجوع کریں
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اس نے ان سب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے ہاں صرف بڑے بت کو چھوڑ دیا یہ بھی اس لئے کہ وه سب اس کی طرف ہی لوٹیں
احمد رضا خان بریلوی
تو ان سب کو چورا کردیا مگر ایک کو جو ان کا سب سے بڑا تھا کہ شاید وہ اس سے کچھ پوچھیں
علامہ محمد حسین نجفی
چنانچہ آپ نے ان کے ایک بڑے بت کے سوا باقی سب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
عبدالسلام بن محمد
پس اس نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان کے ایک بڑے کے، تاکہ وہ اسی کی طرف رجوع کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے ٭٭

اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا، اور جذبہ توحید میں آکر آپ علیہ السلام نے قسم کھا لی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔ ان کی عید کا دن جو مقرر تھا، خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لیے باہر جاؤ گے، میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کر دوں گا۔‏‏‏‏“ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ علیہ السلام کے والد نے آپ علیہ السلام سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہو جائے۔

چنانچہ یہ آپ علیہ السلام کو لے چلا، کچھ دور جانے کے بعد ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم گر پڑے اور فرمانے لگے، ابا میں بیمار ہو گیا۔ باپ آپ علیہ السلام کو چھوڑ کرمراسم کفر بجا لانے کے لیے آگے بڑھ گئے اور جو لوگ راستے سے گزرتے، آپ علیہ السلام سے پوچھتے، کیا بات ہے راستے پر کیسے بیٹھے ہو؟ جواب دیتے کہ میں بیمار ہوں۔ جب عام لوگ نکل گئے اور بڈھے بڑے لوگ رہ گئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، ”تم سب کے چلے جانے کے بعد آج میں تمہارے معبودوں کی مرمت کر دوں گا۔‏‏‏‏“ آپ علیہ السلام نے جو فرمایا کہ میں بیمار ہوں تو واقعی آپ علیہ السلام اس دن کے اگلے دن قدرے علیل بھی تھے۔ جب کہ وہ لوگ چلے گئے تو میدان خالی پا کر آپ علیہ السلام نے اپنا ارادہ پورا کیا اور بڑے بت کو چھوڑ کر تمام بتوں کا چورا کر دیا۔ جیسے اور آیتوں میں اس کا تفصیلی بیان موجود ہے کہ «فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ» ۱؎ [37-الصفات:93] ‏‏‏‏ ’ اپنے ہاتھ سے ان بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے ‘۔ اس بڑے بت کے باقی رکھنے میں حکمت ومصلحت یہ تھی کہ اولاً ان لوگوں کے ذہن میں خیال آئے کہ شاید اس بڑے بت نے ان چھوٹے بتوں کو غارت کر دیا ہوگا؟ کیونکہ اسے غیرت معلوم ہوئی ہوگی کہ مجھ بڑے کے ہوتے ہوئے یہ چھوٹے خدائی کے لائق کیسے ہوگئے؟ چنانچہ اس خیال کی پختگی ان کے ذہنوں میں قائم کرنے کے لیے آپ علیہ السلام نے کلہاڑا بھی اس کی گردن پر رکھ دیا تھا، جیسے کہ مروی ہے۔ جب یہ مشرکین اپنے میلے سے واپس آئے تو دیکھا کہ ان کے سارے معبود منہ کے بل اوندھے گرے ہوئے ہیں، اور اپنی حالت سے وہ بتا رہے ہیں کہ وہ محض بے جان، بے نفع و نقصان، ذلیل و حقیر چیز ہیں۔ اور گویا اپنی اس حالت سے اپنے پجاریوں کی بے وقوفی پر وہ مہر لگا رہے تھے۔ لیکن ان بے وقوفوں پر الٹا اثر ہوا کہنے لگے، یہ کون ظالم شخص تھا جس نے ہمارے معبودوں کی ایسی اہانت کی؟ اس وقت جن لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کا وہ کلام سنا تھا، انہیں خیال آ گیا اور کہنے لگے، وہ نوجوان جس کا نام ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) ہے اسے ہم نے اپنے معبودوں کی مذمت کرتے ہوئے سنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کو پڑھتے اور فرماتے، جو نبی آیا جوان۔ جو عالم بنا جوان۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ شان الٰہی دیکھئیے جو مقصد خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کا تھا، وہ اب پورا ہو رہا ہے۔
58۔ 1 چناچہ وہ جس دن اپنی عید یا کوئی جشن مناتے تھے، ساری قوم اس کے لئے باہر چلی گئی اور ابراہیم ؑ نے موقع غنیمت جان کر انھیں توڑ پھوڑ کر رکھ دیا صرف ایک بڑا بت چھوڑ دیا، بعض کہتے ہیں کہ کلہاڑی اس کے ہاتھ میں پکڑا دی تاکہ وہ اس سے پوچھیں۔
(آیت 58) ➊ { فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا:جُذٰذًا”جَذَّ يَجُذُّ“} (قطع کرنا اور ریزہ ریزہ کرنا) میں سے{ ”فُعَالٌ“} بمعنی مفعول ({مَجْذُوْذٌ}) ہے، یعنی ریزہ ریزہ، ٹکڑے ٹکڑے۔ اسی کے ہم وزن اور ہم معنی {”حُطَامٌ“} اور {”فُتَاتٌ“} ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کی قوم کے لوگ اپنے خاص جشن کے موقع پر گھروں سے باہر نکلتے اور سارا دن جشن مناتے، چنانچہ انھوں نے ابراہیم علیہ السلام کو بھی اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی مگر انھوں نے بیماری کا عذر کر لیا۔ (صافات: ۸۸ تا ۹۰) ابراہیم علیہ السلام موقع پا کر بت خانے کے اندر داخل ہو گئے، پہلے ان سے کچھ خطاب کیا، جس کا تذکرہ سورۂ صافات میں ہے، جواب نہ پا کر پوری قوت سے انھیں توڑنا شروع کر دیا اور ایک کے سوا سب کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ یہاں اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے سب کو توڑ کر کلہاڑا بڑے بت کے کندھے پر رکھ دیا، مگر یہ محض اسرائیلی روایت ہے، قرآن یا حدیث میں اس کا کہیں ذکر نہیں۔ پھر پتھر کے بت توڑنے کے لیے کلہاڑے کے بجائے ہتھوڑا استعمال ہوتا ہے۔ ہاں اگر لکڑی کے بت ہوں تو الگ بات ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے ابراہیم علیہ السلام نے ان بتوں کو کیسے ٹکڑے ٹکڑے کیا اور اس کے لیے صرف ایک ہتھیار استعمال کیا یا جس جس اوزار کی ضرورت تھی سب استعمال فرمائے۔ ➋ {اِلَّا كَبِيْرًا لَّهُمْ:” كَبِيْرًا “} نکرہ ہے، سوائے ان کے ایک بڑے کے۔ معلوم ہوا کہ ان کے بڑے بت کئی تھے، مگر ابراہیم علیہ السلام نے ایک بڑے کے سوا چھوٹے بڑے تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اس کی تائید آئندہ آیت(۶۳) {” قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ كَبِيْرُهُمْ “} سے بھی ہوتی ہے کہ ”یہ کام ان کے اس بڑے نے کیا ہے۔“ معلوم ہوا کہ اس بڑے کے سوا اور بھی بڑے بت تھے جو اپنے انجام کو پہنچ چکے تھے۔ (بقاعی) جو لوگ اسے ان کے سب بتوں سے بڑا بت قرار دیتے ہیں قرآن کے الفاظ ان کا ساتھ نہیں دیتے۔ ➌ ”سوائے ان کے ایک بڑے کے“ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں یا ان کے معبودوں کو ”کبیر“ نہیں فرمایا، ہاں ”ان کے ہاں کبیر“ فرمایا ہے، کیونکہ وہ اسے کبیر مانتے تھے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت کا خط بھیجتے ہوئے لکھا: [ اِلٰی هِرَقْلَ عَظِيْمِ الرُّوْمِ ] دیکھیے ہرقل کو صرف رومیوں کے ہاں عظیم فرمایا ہے، کافر کو مطلقاً عظیم نہیںـ فرمایا۔ (سعدی) ➍ { لَعَلَّهُمْ اِلَيْهِ يَرْجِعُوْنَ:} ان کے ایک بڑے بت کو کچھ نہیں کہا، تاکہ جب وہ سب بتوں کو ٹوٹا ہوا اور اسے صحیح سلامت دیکھیں تو اس سے پوچھیں کہ جناب آپ کے غصے کا باعث کیا ہوا کہ آپ نے ان سب خداؤں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اگر آپ نے یہ کام نہیں کیا تو آپ کے ہوتے ہوئے کوئی ظالم یہ کام کیسے کر گیا؟ ایک معنی اس کا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے ایک بڑے کے سوا تمام بت ٹکڑے ٹکڑے کر دیے کہ وہ لوگ جب یہ ماجرا دیکھیں گے تو فوراً ان کا ذہن ابراہیم علیہ السلام ہی کی طرف جائے گا، پھر جب وہ ان سے پوچھیں گے تو انھیں شرک کی تردید کا بہترین موقع مل جائے گا۔
قَالُوۡا مَنۡ فَعَلَ ہٰذَا بِاٰلِہَتِنَاۤ اِنَّہٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اُنہوں نے آ کر بتوں کا یہ حال دیکھا تو) کہنے لگے "ہمارے خداؤں کا یہ حال کس نے کر دیا؟ بڑا ہی کوئی ظالم تھا وہ"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہنے لگے کہ ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ کس نے کیا؟ ایسا شخص تو یقیناً ﻇالموں میں سے ہے
احمد رضا خان بریلوی
بولے کس نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ کام کیا بیشک وہ ظالم ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے کہا ہمارے خداؤں کے ساتھ کس نے یہ سلوک کیا ہے؟ بےشک وہ ظالموں میں سے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کس نے کیا ہے؟ بلاشبہ وہ یقینا ظالموں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے ٭٭

اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا، اور جذبہ توحید میں آکر آپ علیہ السلام نے قسم کھا لی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔ ان کی عید کا دن جو مقرر تھا، خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لیے باہر جاؤ گے، میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کر دوں گا۔‏‏‏‏“ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ علیہ السلام کے والد نے آپ علیہ السلام سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہو جائے۔

چنانچہ یہ آپ علیہ السلام کو لے چلا، کچھ دور جانے کے بعد ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم گر پڑے اور فرمانے لگے، ابا میں بیمار ہو گیا۔ باپ آپ علیہ السلام کو چھوڑ کرمراسم کفر بجا لانے کے لیے آگے بڑھ گئے اور جو لوگ راستے سے گزرتے، آپ علیہ السلام سے پوچھتے، کیا بات ہے راستے پر کیسے بیٹھے ہو؟ جواب دیتے کہ میں بیمار ہوں۔ جب عام لوگ نکل گئے اور بڈھے بڑے لوگ رہ گئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، ”تم سب کے چلے جانے کے بعد آج میں تمہارے معبودوں کی مرمت کر دوں گا۔‏‏‏‏“ آپ علیہ السلام نے جو فرمایا کہ میں بیمار ہوں تو واقعی آپ علیہ السلام اس دن کے اگلے دن قدرے علیل بھی تھے۔ جب کہ وہ لوگ چلے گئے تو میدان خالی پا کر آپ علیہ السلام نے اپنا ارادہ پورا کیا اور بڑے بت کو چھوڑ کر تمام بتوں کا چورا کر دیا۔ جیسے اور آیتوں میں اس کا تفصیلی بیان موجود ہے کہ «فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ» ۱؎ [37-الصفات:93] ‏‏‏‏ ’ اپنے ہاتھ سے ان بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے ‘۔ اس بڑے بت کے باقی رکھنے میں حکمت ومصلحت یہ تھی کہ اولاً ان لوگوں کے ذہن میں خیال آئے کہ شاید اس بڑے بت نے ان چھوٹے بتوں کو غارت کر دیا ہوگا؟ کیونکہ اسے غیرت معلوم ہوئی ہوگی کہ مجھ بڑے کے ہوتے ہوئے یہ چھوٹے خدائی کے لائق کیسے ہوگئے؟ چنانچہ اس خیال کی پختگی ان کے ذہنوں میں قائم کرنے کے لیے آپ علیہ السلام نے کلہاڑا بھی اس کی گردن پر رکھ دیا تھا، جیسے کہ مروی ہے۔ جب یہ مشرکین اپنے میلے سے واپس آئے تو دیکھا کہ ان کے سارے معبود منہ کے بل اوندھے گرے ہوئے ہیں، اور اپنی حالت سے وہ بتا رہے ہیں کہ وہ محض بے جان، بے نفع و نقصان، ذلیل و حقیر چیز ہیں۔ اور گویا اپنی اس حالت سے اپنے پجاریوں کی بے وقوفی پر وہ مہر لگا رہے تھے۔ لیکن ان بے وقوفوں پر الٹا اثر ہوا کہنے لگے، یہ کون ظالم شخص تھا جس نے ہمارے معبودوں کی ایسی اہانت کی؟ اس وقت جن لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کا وہ کلام سنا تھا، انہیں خیال آ گیا اور کہنے لگے، وہ نوجوان جس کا نام ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) ہے اسے ہم نے اپنے معبودوں کی مذمت کرتے ہوئے سنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کو پڑھتے اور فرماتے، جو نبی آیا جوان۔ جو عالم بنا جوان۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ شان الٰہی دیکھئیے جو مقصد خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کا تھا، وہ اب پورا ہو رہا ہے۔
59۔ 1 یعنی جب وہ جشن سے فارغ ہو کر آئے تو دیکھا کہ معبود تو ٹوٹے پڑے ہیں، تو کہنے لگے، یہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے جس نے یہ حرکت کی ہے۔
(آیت 59) ➊ { قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ:} مشرکوں کے عقل سے عاری ہونے کی کیسی زبردست تصویر ہے۔ کہنے لگے، ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ سلوک کس نے کیا ہے؟ سوچا ہی نہیں کہ وہ معبود ہی کیا جو اپنا دفاع بھی نہ کر سکے؟ لطف یہ کہ سب نے یہی کہا کہ کوئی اور ان کے خداؤں کا یہ حال کر گیا ہے۔ قبر پرستوں کا بھی یہی حال ہے: جو کروٹ بدلنا نہیں جانتے ہیں انھیں آپ مشکل کشا مانتے ہیں ➋ { اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيْنَ:إِنَّ “} اور لام کی تاکید کے ساتھ، بے شک وہ یقینا ظالموں سے ہے کہ اس نے مشکل کشاؤں کی تعظیم کے بجائے ان کا یہ حال کر دیا ہے۔ یا اس لیے کہ مارنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، اس ظالم نے تو انھیں اتنا مارا ہے کہ ان کا کچھ باقی ہی نہیں چھوڑا اور نہ انھیں ذلیل کرنے میں کوئی کسر رہنے دی ہے۔ (رازی)
قَالُوۡا سَمِعۡنَا فَتًی یَّذۡکُرُہُمۡ یُقَالُ لَہٗۤ اِبۡرٰہِیۡمُ ﴿ؕ۶۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(بعض لوگ) بولے "ہم نے ایک نوجوان کو ان کا ذکر کرتے سُنا تھا جس کا نام ابراہیمؑ ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
بولے ہم نے ایک نوجوان کو ان کا تذکره کرتے ہوئے سنا تھا جسے ابراہیم (علیہ السلام) کہا جاتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
ان میں کے کچھ بولے ہم نے ایک جوان کو انہیں برا کہتے سنا جسے ابراہیم کہتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
(بعض) لوگ کہنے لگے کہ ہم نے ایک نوجوان کو سنا ہے جو ان کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے جسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
لوگوں نے کہا ہم نے ایک جوان کو سنا ہے، وہ ان کا ذکر کرتا ہے، اسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے ٭٭

اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا، اور جذبہ توحید میں آکر آپ علیہ السلام نے قسم کھا لی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔ ان کی عید کا دن جو مقرر تھا، خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لیے باہر جاؤ گے، میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کر دوں گا۔‏‏‏‏“ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ علیہ السلام کے والد نے آپ علیہ السلام سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہو جائے۔

چنانچہ یہ آپ علیہ السلام کو لے چلا، کچھ دور جانے کے بعد ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم گر پڑے اور فرمانے لگے، ابا میں بیمار ہو گیا۔ باپ آپ علیہ السلام کو چھوڑ کرمراسم کفر بجا لانے کے لیے آگے بڑھ گئے اور جو لوگ راستے سے گزرتے، آپ علیہ السلام سے پوچھتے، کیا بات ہے راستے پر کیسے بیٹھے ہو؟ جواب دیتے کہ میں بیمار ہوں۔ جب عام لوگ نکل گئے اور بڈھے بڑے لوگ رہ گئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، ”تم سب کے چلے جانے کے بعد آج میں تمہارے معبودوں کی مرمت کر دوں گا۔‏‏‏‏“ آپ علیہ السلام نے جو فرمایا کہ میں بیمار ہوں تو واقعی آپ علیہ السلام اس دن کے اگلے دن قدرے علیل بھی تھے۔ جب کہ وہ لوگ چلے گئے تو میدان خالی پا کر آپ علیہ السلام نے اپنا ارادہ پورا کیا اور بڑے بت کو چھوڑ کر تمام بتوں کا چورا کر دیا۔ جیسے اور آیتوں میں اس کا تفصیلی بیان موجود ہے کہ «فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ» ۱؎ [37-الصفات:93] ‏‏‏‏ ’ اپنے ہاتھ سے ان بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے ‘۔ اس بڑے بت کے باقی رکھنے میں حکمت ومصلحت یہ تھی کہ اولاً ان لوگوں کے ذہن میں خیال آئے کہ شاید اس بڑے بت نے ان چھوٹے بتوں کو غارت کر دیا ہوگا؟ کیونکہ اسے غیرت معلوم ہوئی ہوگی کہ مجھ بڑے کے ہوتے ہوئے یہ چھوٹے خدائی کے لائق کیسے ہوگئے؟ چنانچہ اس خیال کی پختگی ان کے ذہنوں میں قائم کرنے کے لیے آپ علیہ السلام نے کلہاڑا بھی اس کی گردن پر رکھ دیا تھا، جیسے کہ مروی ہے۔ جب یہ مشرکین اپنے میلے سے واپس آئے تو دیکھا کہ ان کے سارے معبود منہ کے بل اوندھے گرے ہوئے ہیں، اور اپنی حالت سے وہ بتا رہے ہیں کہ وہ محض بے جان، بے نفع و نقصان، ذلیل و حقیر چیز ہیں۔ اور گویا اپنی اس حالت سے اپنے پجاریوں کی بے وقوفی پر وہ مہر لگا رہے تھے۔ لیکن ان بے وقوفوں پر الٹا اثر ہوا کہنے لگے، یہ کون ظالم شخص تھا جس نے ہمارے معبودوں کی ایسی اہانت کی؟ اس وقت جن لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کا وہ کلام سنا تھا، انہیں خیال آ گیا اور کہنے لگے، وہ نوجوان جس کا نام ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) ہے اسے ہم نے اپنے معبودوں کی مذمت کرتے ہوئے سنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کو پڑھتے اور فرماتے، جو نبی آیا جوان۔ جو عالم بنا جوان۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ شان الٰہی دیکھئیے جو مقصد خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کا تھا، وہ اب پورا ہو رہا ہے۔
60۔ 1 ان میں سے بعض نے کہا کہ وہ نوجوان ابراہیم ؑ ہے نا، وہ ہمارے بتوں کے خلاف باتیں کرتا ہے، معلوم ہوتا ہے یہ اس کی کارستانی ہے۔
(آیت 60){قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى يَّذْكُرُهُمْ …: } بتوں کو توڑنے کا مجرم تلاش کرنے میں انھیں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ جن لوگوں نے وہ تقریر سنی تھی، جو ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد اور قوم کے سامنے کی تھی اور جس میں انھوں نے صاف اعلان کیا تھا کہ اللہ کی قسم! میں ضرور تمھارے بتوں کی خفیہ تدبیر کروں گا، انھوں نے کہا کہ ہم نے ایک جوان کو سنا ہے جو ان (بتوں) کا ذکر کر رہا تھا، اسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔ ان مشرکوں کا ابراہیم علیہ السلام کی تحقیر کا انداز دیکھیے، وہ انھیں ابراہیم نامی ایک غیر معروف جوان بتا رہے ہیں، حالانکہ ابراہیم علیہ السلام جیسی شخصیت گمنام ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ بھلا سورج یا چاند بھی چھپے رہ سکتے ہیں؟ پھر وہ اس عمل کا باعث ان کی جوانی کو قرار دے رہے ہیں، حالانکہ ان جاہلوں کو معلوم ہی نہیں کہ اس جوان کی جوانی دیوانی نہیں بلکہ ایسی ہوش مند ہے جس پر بے شمار پختہ عمروں کی پختہ عمری قربان ہے۔ {” يَذْكُرُهُمْ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (۳۶)۔
قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِہٖ عَلٰۤی اَعۡیُنِ النَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَشۡہَدُوۡنَ ﴿۶۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
انہوں نے کہا "تو پکڑ لاؤ اُسے سب کے سامنے تاکہ لوگ دیکھ لیں (اُس کی کیسی خبر لی جاتی ہے)"
مولانا محمد جوناگڑھی
سب نے کہا اچھا اسے مجمع میں لوگوں کی نگاہوں کے سامنے ﻻؤ تاکہ سب دیکھیں
احمد رضا خان بریلوی
بولے تو اسے لوگوں کے سامنے لاؤ شاید وہ گواہی دیں
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے کہا تو پھر اسے (پکڑ کر) سب لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ وہ گواہی دیں۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا پھر اسے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لائو، تاکہ وہ گواہ ہو جائیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم کے یہ لوگ مشورہ کرتے ہیں کہ آؤ سب کو جمع کرو اور اسے بلاؤ اور پھر اس کو سزا دو۔ خلیل اللہ علیہ السلام یہی چاہتے تھے کہ کوئی ایسا مجمع ہو اور میں اس میں ان کی غلطیاں ان پر واضح کروں اور ان میں توحید کی تبلیغ کروں، اور انہیں بتلاؤں کہ یہ کیسے ظالم و جاہل ہیں کہ ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو نفع نقصان کے مالک نہیں بلکہ اپنی جان کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ چنانچہ مجمع ہوا، سب چھوٹے بڑے آگئے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام بھی ملزم کی حیثیت سے موجود ہوئے اور آپ علیہ السلام سے سوال ہوا کہ ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ لغو حرکت تم نے کی ہے؟ اس پر آپ علیہ السلام نے انہیں قائل معقول کرنے کے لیے فرمایا کہ ”یہ کام تو ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے“ اور اس کی طرف اشارہ کیا جسے آپ علیہ السلام نے توڑا نہ تھا۔ پھر فرمایا کہ ”مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟ اپنے ان معبودوں سے ہی کیوں دریافت نہیں کرتے کہ تمہارے ٹکڑے اڑانے والا کون ہے؟“ اس سے مقصود خلیل اللہ علیہ السلام کا یہ تھا کہ یہ لوگ خودبخود ہی سمجھ لیں کہ یہ پتھر کیا بولیں گے؟ اور جب وہ اتنے عاجز ہیں تو یہ لائق عبادت کیسے ٹھہر سکتے ہیں؟ چنانچہ یہ مقصد بھی آپ کا بفضل الٰہی پورا ہوا اور یہ دوسری ضرب بھی کاری لگی۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { خلیل اللہ نے تین جھوٹ بولے ہیں۔ دو تو راہ اللہ میں: ایک تو انکا یہ فرمانا کہ ”ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے۔‏‏‏‏“ دوسرا یہ فرمانا کہ ”میں بیمار ہوں“، اور ایک مرتبہ سارہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفر میں تھے۔ اتفاق سے ایک ظالم بادشاہ کی حدود سے آپ علیہ السلام گزر رہے تھے، آپ علیہ السلام نے وہاں منزل کی تھی۔ کسی نے بادشاہ کو خبر کر دی کہ ایک مسافر کے ساتھ بہترین عورت ہے اور وہ اس وقت ہماری سلطنت میں ہے۔ بادشاہ نے جھٹ سپاہی بھیجا کہ وہ سارہ رضی اللہ عنہا کو لے آئے۔ اس نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا ”میری بہن ہے“ اس نے کہا اسے بادشاہ کے دربار میں بھیجو۔ آپ علیہ السلام سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا ”سنو، اس ظالم نے تمہیں طلب کیا ہے اور میں تمہیں اپنی بہن بتا چکا ہوں۔ اگر تم سے بھی پوچھا جائے تو یہی کہنا، اس لیے کہ دین کے اعتبار سے تم میری بہن ہو، روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مسلمان نہیں“، یہ کہہ کر آپ علیہ السلام چلے آئے۔ سارہ رضی اللہ عنہا وہاں سے چلیں اور آپ علیہ السلام نماز میں کھڑے ہوگئے۔ جب سارہ رضی اللہ عنہا کو اس ظالم نے دیکھا اور ان کی طرف لپکا، اسی وقت اللہ کے عذاب نے اسے پکڑ لیا، ہاتھ پاؤں اینٹھ گئے۔ گھبرا کر عاجزی سے کہنے لگا اے نیک عورت اللہ سے دعا کر کہ وہ مجھے چھوڑ دے میں وعدہ کرتا ہوں کہ تجھے ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے دعا کی اسی وقت وہ اچھا ہو گیا لیکن اچھا ہوتے ہی اس نے پھر قصد کیا اور آپ رضی اللہ عنہا کو پکڑنا چاہا۔ وہی پھر عذاب الٰہی آ پہنچا اور یہ پہلی دفعہ سے زیادہ سخت پکڑ لیا گیا پھر عاجزی کرنے لگا۔ غرض تین دفعہ پے در پے یہی ہوا۔ تیسری دفعہ چھوٹتے ہی اس نے اپنے قریب کے ملازم کو آواز دی اور کہا تو میرے پاس کسی انسان عورت کو نہیں لایا بلکہ شیطانہ کو لایا ہے۔ جا اسے نکال اور ہاجرہ کو اس کے ساتھ کر دے۔ اسی وقت آپ وہاں سے نکال دی گئیں اور ہاجرہ آپ کے حوالے کی گئیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان کی آہٹ پاتے ہی نماز سے فراغت حاصل کی اور دریافت فرمایا کہ ”کہو کیا گزری؟“ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اللہ نے اس کافر کے مکر کو اسی پر لوٹا دیا اور حاجرہ میری خدمت کے لیے آگئیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہا اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ ”یہ ہیں تمہاری اماں اے آسمانی پانی کے لڑکو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3358] ‏‏‏‏
61۔ 1 یعنی اس کو سزا ملتی ہوئی دیکھیں تاکہ آئندہ کوئی اور یہ کام نہ کرے۔ یا یہ معنی ہیں کہ لوگ اس بات کی گواہی دیں کہ انہوں نے ابراہیم ؑ کو بت توڑتے ہوئے دیکھا یا ان کے خلاف باتیں کرتے ہوئے سنا ہے۔
(آیت 61) ➊ { قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْيُنِ النَّاسِ:} کہنے لگے، اگر ایسا ہے تو اسے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لاؤ۔ ➋ { لَعَلَّهُمْ يَشْهَدُوْنَ:} اس کے دو معنی ہیں، ایک تو یہ کہ اسے لوگوں کے سامنے لاؤ، تاکہ وہ گواہ ہو جائیں کہ یہی شخص ہے جو بتوں کی برائی بیان کرتا تھا اور ان کا بندوبست کرنے کی قسمیں اٹھاتا تھا اور اس کا مجرم ہونا ثابت ہو جائے کہ یہ کام بھی اسی کا ہے اور ہو سکتا ہے کہ کوئی موقع کا گواہ بھی مل جائے، جس نے اسے بت توڑتے ہوئے دیکھا ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ مشرک ہونے کے باوجود وہ لوگ ملزم پر جرم ثابت کرنا ضروری سمجھتے تھے، جو ان کے نزدیک جرم تھا۔ بقاعی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اب اللہ تعالیٰ کی جناب ہی میں ان لوگوں کی شکایت ہے جو (مسلمان ہو کر) اپنے دین کے اکابر کو بغیر کسی دلیل یا تہمت کے پکڑ کر بند کر دیتے ہیں (نہ فرد جرم، نہ کوئی گواہ اور نہ کوئی اور ثبوت، بلکہ اکثر اوقات انھیں بے گناہی کے جرم میں پکڑ لیتے ہیں)۔“ دوسرا معنی یہ ہے کہ اسے لوگوں کے سامنے لاؤ، تاکہ وہ گواہ ہو جائیں اور آنکھوں سے دیکھ لیں کہ اس کے ساتھ کیسا عبرتناک سلوک کیا جاتا ہے، تاکہ آئندہ کسی کو ایسی حرکت کی جرأت نہ ہو۔ وہ تو ابراہیم علیہ السلام کو مجرم ثابت کرنے کے لیے لوگوں کو اکٹھا کر رہے تھے مگر درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابراہیم علیہ السلام کی دلی تمنا پوری ہونے کا سامان ہو رہا تھا کہ کسی طرح سب لوگ جمع ہوں تو وہ ان کے سامنے بتوں کی بے بسی اور مشرکوں کی بے عقلی واضح کریں، جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کے لیے عید کے دن دوپہر کے وقت تمام لوگوں کو کھلے میدان میں جمع کرنے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ(۵۸، ۵۹)۔
قَالُوۡۤا ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ ہٰذَا بِاٰلِہَتِنَا یٰۤـاِبۡرٰہِیۡمُ ﴿ؕ۶۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(ابراہیمؑ کے آنے پر) اُنہوں نے پوچھا "کیوں ابراہیمؑ، تو نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہنے لگے! اے ابراہیم (علیہ السلام) کیا تو نے ہی ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے
احمد رضا خان بریلوی
بولے کیا تم نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ کام کیا اے ابراہیم
علامہ محمد حسین نجفی
(چنانچہ آپ لائے گئے) ان لوگوں نے کہا اے ابراہیم (ع)! کیا تم نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا کیا تو نے ہی ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کیا ہے اے ابراہیم!؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم کے یہ لوگ مشورہ کرتے ہیں کہ آؤ سب کو جمع کرو اور اسے بلاؤ اور پھر اس کو سزا دو۔ خلیل اللہ علیہ السلام یہی چاہتے تھے کہ کوئی ایسا مجمع ہو اور میں اس میں ان کی غلطیاں ان پر واضح کروں اور ان میں توحید کی تبلیغ کروں، اور انہیں بتلاؤں کہ یہ کیسے ظالم و جاہل ہیں کہ ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو نفع نقصان کے مالک نہیں بلکہ اپنی جان کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ چنانچہ مجمع ہوا، سب چھوٹے بڑے آگئے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام بھی ملزم کی حیثیت سے موجود ہوئے اور آپ علیہ السلام سے سوال ہوا کہ ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ لغو حرکت تم نے کی ہے؟ اس پر آپ علیہ السلام نے انہیں قائل معقول کرنے کے لیے فرمایا کہ ”یہ کام تو ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے“ اور اس کی طرف اشارہ کیا جسے آپ علیہ السلام نے توڑا نہ تھا۔ پھر فرمایا کہ ”مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟ اپنے ان معبودوں سے ہی کیوں دریافت نہیں کرتے کہ تمہارے ٹکڑے اڑانے والا کون ہے؟“ اس سے مقصود خلیل اللہ علیہ السلام کا یہ تھا کہ یہ لوگ خودبخود ہی سمجھ لیں کہ یہ پتھر کیا بولیں گے؟ اور جب وہ اتنے عاجز ہیں تو یہ لائق عبادت کیسے ٹھہر سکتے ہیں؟ چنانچہ یہ مقصد بھی آپ کا بفضل الٰہی پورا ہوا اور یہ دوسری ضرب بھی کاری لگی۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { خلیل اللہ نے تین جھوٹ بولے ہیں۔ دو تو راہ اللہ میں: ایک تو انکا یہ فرمانا کہ ”ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے۔‏‏‏‏“ دوسرا یہ فرمانا کہ ”میں بیمار ہوں“، اور ایک مرتبہ سارہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفر میں تھے۔ اتفاق سے ایک ظالم بادشاہ کی حدود سے آپ علیہ السلام گزر رہے تھے، آپ علیہ السلام نے وہاں منزل کی تھی۔ کسی نے بادشاہ کو خبر کر دی کہ ایک مسافر کے ساتھ بہترین عورت ہے اور وہ اس وقت ہماری سلطنت میں ہے۔ بادشاہ نے جھٹ سپاہی بھیجا کہ وہ سارہ رضی اللہ عنہا کو لے آئے۔ اس نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا ”میری بہن ہے“ اس نے کہا اسے بادشاہ کے دربار میں بھیجو۔ آپ علیہ السلام سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا ”سنو، اس ظالم نے تمہیں طلب کیا ہے اور میں تمہیں اپنی بہن بتا چکا ہوں۔ اگر تم سے بھی پوچھا جائے تو یہی کہنا، اس لیے کہ دین کے اعتبار سے تم میری بہن ہو، روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مسلمان نہیں“، یہ کہہ کر آپ علیہ السلام چلے آئے۔ سارہ رضی اللہ عنہا وہاں سے چلیں اور آپ علیہ السلام نماز میں کھڑے ہوگئے۔ جب سارہ رضی اللہ عنہا کو اس ظالم نے دیکھا اور ان کی طرف لپکا، اسی وقت اللہ کے عذاب نے اسے پکڑ لیا، ہاتھ پاؤں اینٹھ گئے۔ گھبرا کر عاجزی سے کہنے لگا اے نیک عورت اللہ سے دعا کر کہ وہ مجھے چھوڑ دے میں وعدہ کرتا ہوں کہ تجھے ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے دعا کی اسی وقت وہ اچھا ہو گیا لیکن اچھا ہوتے ہی اس نے پھر قصد کیا اور آپ رضی اللہ عنہا کو پکڑنا چاہا۔ وہی پھر عذاب الٰہی آ پہنچا اور یہ پہلی دفعہ سے زیادہ سخت پکڑ لیا گیا پھر عاجزی کرنے لگا۔ غرض تین دفعہ پے در پے یہی ہوا۔ تیسری دفعہ چھوٹتے ہی اس نے اپنے قریب کے ملازم کو آواز دی اور کہا تو میرے پاس کسی انسان عورت کو نہیں لایا بلکہ شیطانہ کو لایا ہے۔ جا اسے نکال اور ہاجرہ کو اس کے ساتھ کر دے۔ اسی وقت آپ وہاں سے نکال دی گئیں اور ہاجرہ آپ کے حوالے کی گئیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان کی آہٹ پاتے ہی نماز سے فراغت حاصل کی اور دریافت فرمایا کہ ”کہو کیا گزری؟“ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اللہ نے اس کافر کے مکر کو اسی پر لوٹا دیا اور حاجرہ میری خدمت کے لیے آگئیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہا اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ ”یہ ہیں تمہاری اماں اے آسمانی پانی کے لڑکو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3358] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 63،62) ➊ { قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا …:} لوگوں کے سوال کے جواب میں کہ اے ابراہیم! کیا تو نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کیا ہے؟ ابراہیم علیہ السلام نے ان کے بتوں کی بے بسی و بے چارگی واضح کرنے کے لیے شدید طنز کرتے ہوئے فرمایا: ”بلکہ یہ کام ان کے اس بڑے نے کیا ہے، سو ان سے پوچھ لو اگر وہ بولتے ہیں۔“ مراد خود ان کے منہ سے اس بات کا اقرار کروانا تھا کہ بت نفع یا نقصان تو دور کی بات ہے بول کر بتا بھی نہیں سکتے کہ ان کا یہ حال زار کون کر گیا ہے۔ {”فَسْـَٔلُوْهُمْ “} (سو ان سے پوچھ لو) یعنی صحیح سالم رہنے والے ان کے اس بڑے سے پوچھو کہ اس نے بت کیوں توڑے اور اگر کسی اور نے توڑے ہیں تو اس نے اپنے ساتھیوں کا دفاع کیوں نہیں کیا؟ اور ٹوٹے ہوئے خداؤں سے بھی پوچھو کہ کس نے ان کا یہ حال کیا اور یہ بھی کہ وہ خود یا ان کا بڑا ان کا دفاع کیوں نہیں کر سکے؟ ان کے ایک بڑے بت کو سالم چھوڑنے میں یہ اشارہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بڑا اپنے ساتھ کسی بڑے یا چھوٹے مدمقابل کو برداشت نہیں کرتا تو رب تعالیٰ جس کی صفت ہی ”اللہ اکبر“ ہے، اپنے ساتھ کسی شریک کو کیسے برداشت کر سکتا ہے؟ ➋ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيْمُ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ إِلاَّ ثَلاَثَ كَذِبَاتٍ: ثِنْتَيْنِ مِنْهُنَّ فِیْ ذَاتِ اللّٰهِ عَزَّوَجَلَّ، قَوْلُهُ: «{ اِنِّيْ سَقِيْمٌ }» [الصافات: ۸۹] وَ قَوْلُ: «{ بَلْ فَعَلَهٗ كَبِيْرُهُمْ هٰذَا[الأنبياء: ۶۳] وَقَالَ بَيْنَا هُوَ ذَاتَ يَوْمٍ وَسَارَةُ إِذْ أَتَي عَلٰي جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ، فَقِيْلَ لَهُ إِنَّ هَاهُنَا رَجُلاً مَعَهُ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ عَنْهَا فَقَالَ مَنْ هٰذِهِ؟ قَالَ أُخْتِيْ فَأَتَی سَارَةَ فَقَالَ يَا سَارَةُ! لَيْسَ عَلَی وَجْهِ الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِيْ وَ غَيْرُكِ، وَإِنَّ هٰذَا سَأَلَنِيْ عَنْكِ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِيْ فَلاَ تُكَذِّبِيْنِيْ ] [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: { واتخذ اللہ إبراہیم خلیلا }: ۳۳۵۸۔ مسلم: ۲۳۷۱ ] ”ابراہیم علیہ السلام نے تین دفعہ کے سوا کبھی جھوٹ نہیں کہا، جن میں سے دو اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاطر تھے۔ ان کا کہنا: «{ اِنِّيْ سَقِيْمٌ }» [ الصافات: ۸۹] ”میں بیمار ہوں“اور ان کا یہ کہنا: «{ بَلْ فَعَلَهٗ كَبِيْرُهُمْ هٰذَا }» [ الأنبیاء: ۶۳ ] ”بلکہ اسے ان کے اس بڑے نے کیا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور ایک دفعہ وہ اور (ان کی بیوی) سارہ سفر کر رہے تھے کہ وہ جابر لوگوں میں سے ایک جابر (کی بستی) کے پاس آئے۔ اسے بتایا گیا کہ یہاں ایک آدمی ہے جس کے ساتھ ایک عورت ہے جو حسین ترین لوگوں سے ہے۔ اس نے ان کی طرف پیغام بھیجا اور اس کے متعلق پوچھا اور کہا: ”وہ کون ہے؟ “کہا: ”وہ میری بہن ہے۔“ پھر سارہ کے پاس آئے تو کہا، اے سارہ! اس سرزمین پر میرے اور تمھارے سوا کوئی مومن نہیں اور اس نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اسے بتایا ہے کہ تو میری بہن ہے، سو مجھے مت جھٹلانا۔“ بعض لوگوں نے اس حدیث میں ابراہیم علیہ السلام کے تین جھوٹوں کے ذکر کی وجہ سے اس حدیث کا انکار ہی کر دیا کہ ایک صدیق نبی جھوٹ کیسے بول سکتا ہے؟ ایک روشن خیال بزرگ نے تو امام بخاری اور تمام ائمۂ حدیث کے ساتھ اس حدیث کو صحیح کہنے والے حضرات کے متعلق یہاں تک لکھ دیا ہے: ”ایک گروہ روایت پرستی میں غلو کرکے اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ اسے بخاری و مسلم کے چند راویوں کی صداقت زیادہ عزیز ہے اور اس بات کی پروا نہیں کہ اس سے ایک نبی پر جھوٹ کا الزام عائد ہوتا ہے۔“ ان بزرگوں نے یہ سوچا ہی نہیں کہ اس حدیث کے روایت کرنے والے ائمہ کرام یعنی بخاری، محمد بن محبوب، حماد بن زید اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی صداقت کو عزیز نہ رکھنے کا نتیجہ کیا ہو گا؟ جب ان کی صداقت ہی عزیر نہ رہی تو امت کے اتفاق کے ساتھ {” أَصَحُّ الْكُتُبِ بَعْدَ كِتَابِ اللّٰهِ “} اور دوسری کتب حدیث کی کیا حیثیت رہ جائے گی اور امت کے پاس باقی کیا رہ جائے گا؟ لطف یہ کہ ان بزرگوں نے ائمۂ حدیث کے صدق پر یہ مہربانی بزعم خود منکرین حدیث کے فتنے کے سد باب کے لیے فرمائی ہے۔ بھلا اس کرم فرمائی کے بعد منکرین حدیث کو کسی مزید محنت کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ ایک بزرگ نے یہ تک کہہ دیا کہ ”نبی کو جھوٹا کہنے سے بہتر ہے کہ اس حدیث کے راویوں کو جھوٹا کہہ دیا جائے۔“ سبحان اللہ! ابراہیم علیہ السلام کو جھوٹا کس نے کہا ہے؟ اور آپ حضرات کی دلیری کا کیا کہنا کہ جن راویوں کو پوری امت بالاتفاق سچا قرار دیتی ہے آپ انھیں جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔ مجھے تعجب ہوتا ہے کہ اچھے خاصے ذہین حضرات صحیح حدیث اور ائمۂ حدیث پر اتنی جرأت کرتے ہوئے یہ بات نہ سمجھ سکے کہ اس حدیث میں ابراہیم علیہ السلام کو جھوٹا نہیں کہا گیا بلکہ اعلیٰ درجے کا سچا (صدیق) ثابت کیا گیا ہے۔ کیونکہ جس شخص نے پوری زندگی میں ان تین باتوں کے سوا کوئی جھوٹ نہ بولا ہو، جو حقیقت میں جھوٹ ہیں ہی نہیں، بلکہ صرف ظاہر میں جھوٹ ہیں، وہ کس قدر سچا ہو گا۔ بلاغت میں اسے {”تَأْكِيْدُ الْمَدْحِ بِمَا يَشْبَهُ الذَّمَّ“} کہا جاتا ہے، یعنی ایسی تعریف جو بظاہر مذمت ہو، جیسا کہ ایک شاعر نے کہا ہے: {وَلَا عَيْبَ فِيْهِمْ غَيْرَ أَنَّ سُيُوْفَهُمْ بِهِنَّ فُلُوْلٌ مِنْ قِرَاعِ الْكَتَائِبِ} ”یعنی ان میں اس کے سوا کوئی عیب نہیں کہ ان کی تلواروں میں لشکروں کو کھٹکھٹانے کی وجہ سے دندانے پڑے ہوئے ہیں۔“ ظاہر ہے کہ دشمنوں کے مقابلے کی وجہ سے تلواروں میں دندانے پڑ جانا کوئی عیب نہیں، تو جن کا عیب یہ ہے ان کی خوبیوں کا حال کیا ہو گا۔ اب آپ ان تینوں واقعات پر غور کریں۔ وہ لوگ ابراہیم علیہ السلام سے پوچھتے ہیں کہ اے ابراہیم! کیا ہمارے معبودوں کے ساتھ تو نے یہ کام کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں، بلکہ ان کے اس بڑے نے یہ کام کیا ہے۔ ”بلکہ“ کا معنی یہی ہے کہ میں نے نہیں کیا، حالانکہ ابراہیم کو خوب معلوم تھا کہ انھوں نے ہی یہ کام کیا ہے۔ یہ بظاہر صاف جھوٹ ہے مگر حقیقت میں یہ ایک تدبیر تھی جس کے ذریعے سے وہ ان کے منہ سے اقرار کروانا چاہتے تھے کہ بت بول نہیں سکتے، نفع نقصان کا مالک ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مشرکین بھی ابراہیم علیہ السلام کے مقصد کو سمجھ رہے تھے اور ان کے پاس یہ ماننے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ بت بولتے نہیں۔ چنانچہ انھوں نے اس کا اقرار کیا۔ اب جس شخص کا جھوٹ دشمنوں کے مونہوں سے کائنات کی سب سے بڑی حقیقت کا اقرار کروا لے کہ اللہ کے سوا کسی کے اختیار میں کچھ نہیں، اس شخص کے صدیق ہونے میں کیا شبہ رہ جاتا ہے۔اسی طرح فرمایا: «{ اِنِّيْ سَقِيْمٌ }» [ الصافات: ۸۹ ] کہ میں بیمار ہوں، وہ سمجھے کہ اتنے بیمار ہیں کہ ساتھ نہیں جا سکتے، حالانکہ جو شخص اتنا بیمار ہو وہ پتھروں وغیرہ کے اتنے مجسموں کا ستیا ناس کیسے کر سکتا ہے؟ ابراہیم علیہ السلام کے ذہن میں کفر و شرک سے نفرت کی وجہ سے پیدا ہونے والی تکلیف یا کوئی بیماری تھی، اسے عربی زبان میں تعریض کہتے ہیں کہ کہنے والا اپنے الفاظ سے کچھ مراد لے اور سننے والے کچھ اور سمجھیں۔ سننے والوں کے لحاظ سے واقعہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے اس پر کذب کا لفظ بولا جاتا ہے، مگر یہ حقیقت میں جھوٹ نہیں ہوتا، بلکہ جھوٹ سے بچنے کا ایک طریقہ ہے، جیسا کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [ إِنَّ فِي الْمَعَارِيْضِ لَمَنْدُوْحَةٌ عَنِ الْكَذِبِ ] [ الأدب المفرد: ۸۵۷ ] ”بے شک معاریض میں کذب سے بچنے کی گنجائش ہے۔“ اسی طرح سارہ علیھا السلام کو بہن کہنا بظاہر واقعہ کے خلاف تھا مگر انھیں بہن کہتے وقت اپنی مراد ابراہیم علیہ السلام نے خود بیان فرما دی جو بالکل درست ہے۔ ان دونوں واقعوں میں ابراہیم علیہ السلام نے تعریض سے کام لیا ہے۔ غور کیجیے وہ حدیث جس میں مذکور ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے ساری زندگی میں ان تین کے سوا کوئی جھوٹ نہیں بولا، ابراہیم علیہ السلام کو سچا ثابت کر رہی ہے یا جھوٹا؟ چلیں مان ہی لیں کہ اس حدیث میں ابراہیم علیہ السلام کا تین دفعہ جھوٹ بولنا واقعی بیان ہوا ہے، پھر بھی اس میں ابراہیم علیہ السلام پر کوئی گناہ لازم نہیں آتا اور نہ ان کا جھوٹا ہونا لازم آتا ہے، کیونکہ وہ حالت جنگ میں تھے اور جنگ میں جھوٹ بولنا جائز ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْحَرْبُ خُدْعَةٌ ] [ بخاري، الجھاد والسیر، باب الحرب خدعۃ: ۳۰۲۹ ] ”جنگ دھوکے کا نام ہے۔“ بتائیے! اس میں ابراہیم علیہ السلام کے صدق پر کیا حرف آتا ہے؟ اوپر مذکور بزرگوں نے بڑے زور شور سے یہ بات کہی ہے کہ سند صحیح ہونا کافی نہیں، متن بھی صحیح ہونا ضروری ہے۔ یہ بات فی الواقع درست ہے اور خود محدثین نے اسے حدیث کی صحت کے لیے شرط قرار دیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ امام بخاری اور دوسرے محدثین کو اس حدیث میں ابراہیم علیہ السلام کی توہین نظر آتی تو وہ کبھی اسے صحیح قرار نہ دیتے۔ افسوس! ہمارے ان بزرگوں کی طعن تشنیع کا نشانہ محدثین ہی بنتے ہیں، اپنی رائے اور قیاس سے ایک نئی شریعت ایجاد کر لینے والے حضرات کے متعلق ان کے دلوں اور قلموں میں بہت نرم گوشہ ہے۔ [ فَإِلَی اللّٰہِ الْمُشْتَکٰی] بائبل کے حوالے سے ابراہیم علیہ السلام کی عمر ۷۵ سال اور سارہ کی عمر ۶۵ سال نقل کرکے بھی اس حدیث پر اعتراض کیا گیا ہے کہ اس عمر میں عورت میں کیا حسن باقی رہ جاتا ہے جو شاہِ مصر اس پر فریفتہ ہو۔ افسوس! ہمارے یہ حضرات ائمۂ محدثین پر اس قدر خفا ہیں کہ کتاب اللہ کے بعد سب سے صحیح کتاب کی حدیث انھیں غلط نظر آئی اور وہ کتاب جس میں تحریف کی خود اللہ تعالیٰ نے شہادت دی ہے اور جس کی داخلی شہادتیں اس کے بے شمار جھوٹوں کی نشان دہی کر رہی ہیں، وہ انھیں اس قابل نظر آئی کہ انھوں نے اس کے ساتھ صحیح حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو رد کر دیا۔ [ إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ] ➌ یہاں ایک اشکال باقی رہ جاتا ہے کہ صحیح بخاری میں مذکور حدیثِ شفاعت میں ہے کہ لوگ جب ابراہیم علیہ السلام کے پاس شفاعت کی درخواست لے کر جائیں گے تو وہ اپنے تین کذبات کا ذکر کرکے شفاعت سے عذر کر دیں گے۔ اگر یہ جھوٹ نہیں تو ابراہیم علیہ السلام شفاعت سے معذوری کیوں ظاہر کریں گے؟ اہل علم نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو جو مرتبہ عطا فرمایا تھا ان کے خیال کے مطابق اس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ ان موقعوں پر بھی تعریض کے بجائے صاف کہتے کہ ہاں، میں نے بت توڑے ہیں اور مشرکین کی عید پر جانے سے بیماری کے عذر کے بجائے صاف لفظوں میں انکار کر دیتے کہ میں نہیں جاتا۔ اسی طرح جبار مصر کے سامنے صاف کہہ دیتے کہ سارہ میری بیوی ہے، پھر جو آزمائش آتی اس پر صبر کرتے، جس طرح دوسری بہت سی آزمائشوں پر انھوں نے صبر کیا اور اللہ تعالیٰ نے انھیں امامت کے رتبے پر سرفراز فرمایا۔ اپنے اس عمل کو اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کے مقابلے میں کمتر سمجھ کر وہ شفاعت سے معذوری ظاہر کریں گے۔ [ أحکام القرآن لابن العربی ] دیکھیے اسی حدیث شفاعت میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام شفاعت سے یہ کہہ کر عذر کر دیں گے کہ لوگوں نے میری پرستش کی، اس لیے مجھے شفاعت کے لیے جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے، حالانکہ اس میں ان کا کوئی قصور نہیں تھا۔
قَالَ بَلۡ فَعَلَہٗ ٭ۖ کَبِیۡرُہُمۡ ہٰذَا فَسۡـَٔلُوۡہُمۡ اِنۡ کَانُوۡا یَنۡطِقُوۡنَ ﴿۶۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس نے جواب دیا "بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس سردار نے کیا ہے، اِن ہی سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ نے جواب دیا بلکہ اس کام کو ان کے بڑے نے کیا ہے تم اپنے خداؤں سے ہی پوچھ لو اگر یہ بولتے چالتے ہوں
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا بلکہ ان کے اس بڑے نے کیا ہوگا تو ان سے پوچھو اگر بولتے ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
ابراہیم (ع)نے کہا: بلکہ ان کے بڑے بت نے یہ سب کاروائی کی ہے ان بتوں سے ہی پوچھ لو اگر وہ بول سکتے ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا بلکہ ان کے اس بڑے نے یہ کیا ہے، سو ان سے پوچھ لو، اگر وہ بولتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم کے یہ لوگ مشورہ کرتے ہیں کہ آؤ سب کو جمع کرو اور اسے بلاؤ اور پھر اس کو سزا دو۔ خلیل اللہ علیہ السلام یہی چاہتے تھے کہ کوئی ایسا مجمع ہو اور میں اس میں ان کی غلطیاں ان پر واضح کروں اور ان میں توحید کی تبلیغ کروں، اور انہیں بتلاؤں کہ یہ کیسے ظالم و جاہل ہیں کہ ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو نفع نقصان کے مالک نہیں بلکہ اپنی جان کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ چنانچہ مجمع ہوا، سب چھوٹے بڑے آگئے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام بھی ملزم کی حیثیت سے موجود ہوئے اور آپ علیہ السلام سے سوال ہوا کہ ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ لغو حرکت تم نے کی ہے؟ اس پر آپ علیہ السلام نے انہیں قائل معقول کرنے کے لیے فرمایا کہ ”یہ کام تو ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے“ اور اس کی طرف اشارہ کیا جسے آپ علیہ السلام نے توڑا نہ تھا۔ پھر فرمایا کہ ”مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟ اپنے ان معبودوں سے ہی کیوں دریافت نہیں کرتے کہ تمہارے ٹکڑے اڑانے والا کون ہے؟“ اس سے مقصود خلیل اللہ علیہ السلام کا یہ تھا کہ یہ لوگ خودبخود ہی سمجھ لیں کہ یہ پتھر کیا بولیں گے؟ اور جب وہ اتنے عاجز ہیں تو یہ لائق عبادت کیسے ٹھہر سکتے ہیں؟ چنانچہ یہ مقصد بھی آپ کا بفضل الٰہی پورا ہوا اور یہ دوسری ضرب بھی کاری لگی۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { خلیل اللہ نے تین جھوٹ بولے ہیں۔ دو تو راہ اللہ میں: ایک تو انکا یہ فرمانا کہ ”ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے۔‏‏‏‏“ دوسرا یہ فرمانا کہ ”میں بیمار ہوں“، اور ایک مرتبہ سارہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفر میں تھے۔ اتفاق سے ایک ظالم بادشاہ کی حدود سے آپ علیہ السلام گزر رہے تھے، آپ علیہ السلام نے وہاں منزل کی تھی۔ کسی نے بادشاہ کو خبر کر دی کہ ایک مسافر کے ساتھ بہترین عورت ہے اور وہ اس وقت ہماری سلطنت میں ہے۔ بادشاہ نے جھٹ سپاہی بھیجا کہ وہ سارہ رضی اللہ عنہا کو لے آئے۔ اس نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا ”میری بہن ہے“ اس نے کہا اسے بادشاہ کے دربار میں بھیجو۔ آپ علیہ السلام سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا ”سنو، اس ظالم نے تمہیں طلب کیا ہے اور میں تمہیں اپنی بہن بتا چکا ہوں۔ اگر تم سے بھی پوچھا جائے تو یہی کہنا، اس لیے کہ دین کے اعتبار سے تم میری بہن ہو، روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مسلمان نہیں“، یہ کہہ کر آپ علیہ السلام چلے آئے۔ سارہ رضی اللہ عنہا وہاں سے چلیں اور آپ علیہ السلام نماز میں کھڑے ہوگئے۔ جب سارہ رضی اللہ عنہا کو اس ظالم نے دیکھا اور ان کی طرف لپکا، اسی وقت اللہ کے عذاب نے اسے پکڑ لیا، ہاتھ پاؤں اینٹھ گئے۔ گھبرا کر عاجزی سے کہنے لگا اے نیک عورت اللہ سے دعا کر کہ وہ مجھے چھوڑ دے میں وعدہ کرتا ہوں کہ تجھے ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے دعا کی اسی وقت وہ اچھا ہو گیا لیکن اچھا ہوتے ہی اس نے پھر قصد کیا اور آپ رضی اللہ عنہا کو پکڑنا چاہا۔ وہی پھر عذاب الٰہی آ پہنچا اور یہ پہلی دفعہ سے زیادہ سخت پکڑ لیا گیا پھر عاجزی کرنے لگا۔ غرض تین دفعہ پے در پے یہی ہوا۔ تیسری دفعہ چھوٹتے ہی اس نے اپنے قریب کے ملازم کو آواز دی اور کہا تو میرے پاس کسی انسان عورت کو نہیں لایا بلکہ شیطانہ کو لایا ہے۔ جا اسے نکال اور ہاجرہ کو اس کے ساتھ کر دے۔ اسی وقت آپ وہاں سے نکال دی گئیں اور ہاجرہ آپ کے حوالے کی گئیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان کی آہٹ پاتے ہی نماز سے فراغت حاصل کی اور دریافت فرمایا کہ ”کہو کیا گزری؟“ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اللہ نے اس کافر کے مکر کو اسی پر لوٹا دیا اور حاجرہ میری خدمت کے لیے آگئیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہا اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ ”یہ ہیں تمہاری اماں اے آسمانی پانی کے لڑکو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3358] ‏‏‏‏
63۔ 1 چناچہ حضرت ابراہیم ؑ کو مجمع عام میں لایا گیا اور ان سے پوچھا گیا، حضرت ابراہیم ؑ نے جواب دیا کہ یہ کام تو اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ (ٹوٹے ہوئے بت) بول کر بتلا سکتے ہیں تو ذرا ان سے پوچھو تو سہی۔ یہ بطور اپنے مطلب کے بات کی یا انہوں نے کہا تاکہ وہ یہ بات جان لیں کہ جو نہ بول سکتا ہو نہ کسی چیز سے آگاہی کی صلاحیت رکھتا ہو، وہ معبود نہیں ہوسکتا۔ نہ اس پر الہ کا اطلاق ہی صحیح ہے ایک حدیث صحیح میں حضرت ابراہیم ؑ کے اس قول بل فعلہ کبیرھم کو لفظ کذب سے تعبیر کیا گیا ہے کہ ابراہیم ؑ نے تین جھوٹ بولے دو اللہ کے لیے ایک (انی سقیم) اور دوسرا یہی اور تیسرا حضرت سارہ اپنی بیوی کو بہن کہنا (صحیح بخاری کتاب الانبیاء باب واتخذاللہ ابراہیم خلیلا) زمانہ حال کے بعض مفسرین نے اس حدیث صحیح کو قرآن کے خلاف باور کر کے اس کا انکار کردیا ہے اور اس کی صحت پر اصرار غلو اور روایت پرستی قرار دیا ہے لیکن ان کی یہ رائے صحیح نہیں یقینا حقیقت کے اعتبار سے انھیں جھوٹ نہیں کہا جاسکتا لیکن ظاہری شکل کے لحاظ سے ان کو کذب سے خارج بھی نہیں کیا جاسکتا ہے گو یہ کذب اللہ کے ہاں قابل مواخذہ نہیں ہے کیونکہ وہ اللہ ہی کے لیے بولے گئے ہیں درآنحالیکہ کوئی گناہ کا کام اللہ کے لیے نہیں ہوسکتا اور یہ تب ہی ہوسکتا ہے کہ ظاہری طور پر کذب ہونے کے باوجود وہ حقیقتا کذب نہ ہو جیسے حضرت آدم ؑ کے لیے عصی اور غوی کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں حالانکہ خود قرآن میں ہی ان کے فعل اکل شجر کو نسیان اور ارادے کی کمزوری کا نتیجہ بھی بتلایا گیا ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ کسی کام کے دو پہلو بھی ہوسکتے ہیں من وجہ اس میں استحسان اور من وجہ ظاہری قباحت کا پہلو۔ حضرت ابراہیم ؑ کا یہ قول اس پہلو سے ظاہری طور پر کذب ہی ہے کہ واقعے کے خلاف تھا بتوں کو انہوں نے خود توڑا تھا لیکن اس کا انتساب بڑے بت کی طرف کیا لیکن چونکہ مقصد ان کا تعریض اور اثبات توحید تھا اس لیے حقیقت کے اعتبار ہم اسے جھوٹ کے بجائے اتمام حجت کا ایک طریق اور مشرکین کی بےعقلی کے اثبات واظہار کا ایک انداز کہیں گے علاوہ ازیں حدیث میں ان کذبات کا ذکر جس ضمن میں آیا ہے وہ بھی قابل غور ہے اور وہ ہے میدان محشر میں اللہ کے روبرو جاکر سفارش کرنے سے اس لیے گریز کرنا کہ ان سے دنیا میں تین موقعوں پر لغزش کا صدور ہوا ہے درآنحالیکہ وہ لغزشیں نہیں یعنی حقیقت اور مقصد کے اعتبار وہ جھوٹ نہیں ہیں مگر وہ اللہ کی عظمت وجلا کیوجہ سے اتنے خوف زدہ ہوں گے کہ یہ باتیں جھوٹ کے ساتھ مماثلت کی وجہ سے قابل گرفت نظر آئیں گی گویا حدیث کا مقصد حضرت ابراہیم ؑ کو جھوٹا ثابت کرنا ہرگز نہیں ہے بلکہ اس کیفیت کا اظہار ہے جو قیامت والے دن خشیت الہی کی وجہ سے ان پر طاری ہوگی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّکُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿ۙ۶۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ سُن کر وہ لوگ اپنے ضمیر کی طرف پلٹے اور (اپنے دلوں میں) کہنے لگے "واقعی تم خود ہی ظالم ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
پس یہ لوگ اپنے دلوں میں قائل ہوگئے اور کہنے لگے واقعی ﻇالم تو تم ہی ہو
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے جی کی طرف پلٹے اور بولے بیشک تمہیں ستمگار ہو
علامہ محمد حسین نجفی
وہ لوگ (ابراہیم کا یہ جواب سن کر) اپنے دلوں میں سوچنے لگے اور آپس میں کہنے لگے واقعی تم خود ہی ظالم ہو۔
عبدالسلام بن محمد
تو وہ اپنے دلوں کی طرف لوٹے اور کہنے لگے یقینا تم خود ہی ظالم ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اپنی حماقت سے پریشان کافر ٭٭

بیان ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی باتیں سن کر انہیں خیال تو پیدا ہو گیا۔ اپنے آپ کو اپنی بیوقوفی پر ملامت کرنے لگے۔ سخت ندامت اٹھائی اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے بڑی غلطی کی، اپنے معبودوں کے پاس کسی کو حفاظت کیلئے نہ چھوڑا اور چل دئیے۔ پھر غور وفکر کر کے بات بنائی کہ آپ علیہ السلام جو کچھ ہم سے کہتے ہیں کہ ان سے ہم پوچھ لیں کہ تمہیں کس نے توڑا ہے تو کیا آپ علیہ السلام کو علم نہیں کہ یہ بت بے زبان ہیں؟ عاجزی، حیرت اور انتہائی لاجوابی کی حالت میں انہیں اس بات کا اقرار کرنا پڑا۔ اب خلیل اللہ علیہ السلام کو خاصا موقعہ مل گیا اور آپ علیہ السلام فوراً فرمانے لگے کہ ”بے زبان، بے نفع و ضرر چیز کی عبادت کیسی؟ تم کیوں اس قدر بے سمجھ ہو رہے ہو؟ تف ہے تم پر اور تمہارے ان جھوٹے خداؤں پر۔ آہ کس قدر ظلم وجہل ہے کہ ایسی چیزوں کی پرستش کی جائے اور اللہ واحد کو چھوڑ دیا جائے؟ یہی تھیں وہ دلیلیں جن کا ذکر پہلے ہوا تھا کہ «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» ۱؎ [6-الأنعام:83] ‏‏‏‏ ’ ہم نے ابراہیم کو وہ دلیلیں سکھا دیں جن سے قوم حقیقت تک پہنچ جائے ‘۔

آگ گلستان بن گئی ٭٭

یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہو جاتا ہے تو یا نیکی اسے گھسیٹ لیتی ہے یا بدی غالب آ جاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کو ان کی بدبختی نے گھیرلیا اور دلیل سے عاجز آ کر قائل معقول ہو کر لگے اپنے دباؤ کا مظاہرہ کرنے۔ آپس میں مشورہ کیا کہ ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال کر اس کی جان لے لو تاکہ ہمارے ان معبودوں کی عزت رہے۔ اس بات پر سب نے اتفاق کر لیا اور لکڑیاں جمع کرنی شروع کر دیں۔ یہاں تک کہ بیمار عورتیں بھی نذر مانتی تھیں تو یہی کہ اگر انہیں شفاء ہو جائے تو ابراہیم علیہ السلام کے جلانے کو لکڑیاں لائیں گی۔ زمین میں ایک بہت بڑا اور بہت گہرا گڑھا کھودا، لکڑیوں سے اسے پر کیا اور انبار کھڑا کر کے اس میں آگ لگائی۔ روئے زمین پر کبھی اتنی بڑی آگ دیکھی نہیں گئی۔ جب آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے، اس کے پاس جانا محال ہو گیا، اب گھبرائے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالیں کیسے؟ آخر ایک کردی فارسی اعرابی کے مشورے سے جس کا نام ہیزن تھا، ایک منجنیق تیار کرائی گئی کہ اس میں بٹھا کر جھولا کر پھینک دو۔ ۱؎ [تفسیر قرطبی:303/11:] ‏‏‏‏ مروی ہے کہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت زمین میں دھنسا دیا اور قیامت تک وہ اندر اترتا جاتا ہے۔ جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ۱؎ [3-آل عمران:173] ‏‏‏‏، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس بھی جب یہ خبر پہنچی کہ تمام عرب لشکر جرار لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے کے لیے آ رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی پڑھا تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4563] ‏‏‏‏ یہ بھی مروی ہے کہ جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، «‏‏‏‏اللَّهُمَّ إِنَّكَ فِي السَّمَاءِ وَاحِدٌ وَأَنَا فِي الْأَرْضِ وَاحِدٌ أَعْبُدُكَ» ”الٰہی تو آسمانوں میں اکیلا معبود ہے اور توحید کے ساتھ تیرا عابد زمین پر صرف میں ہی ہوں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند بزار:2349:ضعیف] ‏‏‏‏ مروی ہے کہ جب کافر آپ علیہ السلام کو باندھنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، ”الٰہی تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، تیری ذات پاک ہے، تمام حمد و ثنا تیرے ہی لیے سزاوار ہے۔ سارے ملک کا تو اکیلا ہی مالک ہے کوئی بھی تیرا شریک و ساجھی نہیں۔‏‏‏‏“ شعیب جبائی فرماتے ہیں کہ ”اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر صرف سولہ سال کی تھی۔‏‏‏‏“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

بعض سلف سے منقول ہے کہ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے سامنے آسمان و زمین کے درمیان ظاہر ہوئے اور فرمایا، ”کیا آپ علیہ السلام کو کوئی حاجت ہے؟“ آپ علیہ السلام نے جواب دیا ”تم سے تو کوئی حاجت نہیں البتہ اللہ تعالیٰ سے حاجت ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بارش کا داروغہ فرشتہ کان لگائے ہوئے تیار تھا کہ کب اللہ کا حکم ہو اور میں اس آگ پر بارش برسا کر اسے ٹھنڈی کر دوں لیکن براہ راست حکم الٰہی آگ کو ہی پہنچا کہ ’ میرے خلیل پر تو سلامتی اور ٹھنڈک بن جا ‘۔ فرماتے ہیں کہ ”اس حکم کے ساتھ ہی روئے زمین کی آگ ٹھنڈی ہوگئی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:] ‏‏‏‏ کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اس دن دنیا بھر میں آگ سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکا، اور ابراہیم علیہ السلام کی جوتیاں تو آگ نے جلا دیں لیکن آپ علیہ السلام کے ایک رونگٹے کو بھی آگ نہ لگی۔‏‏‏‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، ”آگ کو حکم ہوا کہ وہ خلیل اللہ علیہ السلام کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اگر آگ کو صرف ٹھنڈا ہونے کا ہی حکم ہوتا تو پھر ٹھنڈک بھی آپ علیہ السلام کو ضرر پہنچاتی، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:] ‏‏‏‏ اس لیے ساتھ ہی فرما دیا گیا کہ ’ ٹھنڈک کے ساتھ ہی سلامتی بن جا ‘۔ مذکور ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے ساتھ تھے، آپ علیہ السلام کے منہ پر سے پسینا پونچھ رہے تھے بس اس کے سوا آگ نے کوئی تکلیف نہیں دی۔

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ”سایہ یا فرشتہ اس وقت آپ علیہ السلام کے ساتھ تھا۔‏‏‏‏“ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام اس میں چالیس یا پچاس دن رہے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ”مجھے اس زمانے میں جو راحت وسرور حاصل تھا ویسا اس سے نکلنے کے بعد حاصل نہیں ہوا، کیا اچھا ہوتا کہ میری ساری زندگی اسی میں گزرتی۔‏‏‏‏“ [الدر المنشور للسیوطی:479/4:ضعیف] ‏‏‏‏
64۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ کے اس جواب سے وہ سوچ میں پڑگئے اور ایک دوسرے کو لاجواب ہو کر، کہنے لگے، واقع ظالم تو تم ہی ہو، جو اپنی جان کو بچانے پر اور نقصان پہنچانے والے کا ہاتھ پکڑنے پر قادر نہیں وہ مستحق عبادت کیونکر ہوسکتا ہے؟ بعض نے یہ مفہوم بیان کیا کہ معبودوں کی عدم حفاظت پر ایک دوسرے کو ملامت کی اور ترک حفاظت پر ایک دوسرے کا ظالم کہا۔
(آیت 64){فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ …:} ابراہیم علیہ السلام کی اس زبردست چوٹ نے انھیں سوچنے پر مجبور کر دیا۔ سب نے اپنے دل میں غور کیا تو کہہ اٹھے کہ تم اس جوان کو خواہ مخواہ ظالم کہہ رہے ہو، ظالم تو تم خود ہو جو ایسی بے حقیقت چیزوں کو اپنا معبود قرار دے کر پوجتے پکارتے اور انھیں اپنا حاجت روا اور مشکل کشا قرار دیتے ہو، جن کی بے بسی اور بے چارگی کا حال یہ ہے کہ وہ خود اپنے اوپر آنے والی مصیبت کو بھی دفع نہیں کر سکتے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ اپنے آپ پر گزری ہوئی مصیبت کسی دوسرے کے سامنے بیان بھی نہیں کر سکتے، تو پھر اس سے بڑھ کر ظلم اور حماقت کیا ہو سکتی ہے؟ سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے: «{ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ }» [ لقمان: ۱۳ ] ”بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے۔“ بعض نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ تم ہی ظالم ہو کہ تم نے اپنے بتوں کی حفاظت کا خاطر خواہ بندوبست نہیں کیا، مگر پہلا معنی ہی صحیح اور مقام کے مناسب ہے۔
ثُمَّ نُکِسُوۡا عَلٰی رُءُوۡسِہِمۡ ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا ہٰۤؤُلَآءِ یَنۡطِقُوۡنَ ﴿۶۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر پھر اُن کی مت پلٹ گئی اور بولے "تُو جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اپنے سروں کے بل اوندھے ہوگئے (اور کہنے لگے کہ) یہ تو تجھے بھی معلوم ہے کہ یہ بولنے چالنے والے نہیں
احمد رضا خان بریلوی
پھر اپنے سروں کے بل اوندھائے گئے کہ تمہیں خوب معلوم ہے یہ بولتے نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
پھر انہوں نے (خجالت سے) سر جھکا کر کہا کہ تم جانتے ہو کہ یہ (بت) بات نہیں کرتے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر وہ اپنے سروں پر الٹے کر دیے گئے، بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اپنی حماقت سے پریشان کافر ٭٭

بیان ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی باتیں سن کر انہیں خیال تو پیدا ہو گیا۔ اپنے آپ کو اپنی بیوقوفی پر ملامت کرنے لگے۔ سخت ندامت اٹھائی اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے بڑی غلطی کی، اپنے معبودوں کے پاس کسی کو حفاظت کیلئے نہ چھوڑا اور چل دئیے۔ پھر غور وفکر کر کے بات بنائی کہ آپ علیہ السلام جو کچھ ہم سے کہتے ہیں کہ ان سے ہم پوچھ لیں کہ تمہیں کس نے توڑا ہے تو کیا آپ علیہ السلام کو علم نہیں کہ یہ بت بے زبان ہیں؟ عاجزی، حیرت اور انتہائی لاجوابی کی حالت میں انہیں اس بات کا اقرار کرنا پڑا۔ اب خلیل اللہ علیہ السلام کو خاصا موقعہ مل گیا اور آپ علیہ السلام فوراً فرمانے لگے کہ ”بے زبان، بے نفع و ضرر چیز کی عبادت کیسی؟ تم کیوں اس قدر بے سمجھ ہو رہے ہو؟ تف ہے تم پر اور تمہارے ان جھوٹے خداؤں پر۔ آہ کس قدر ظلم وجہل ہے کہ ایسی چیزوں کی پرستش کی جائے اور اللہ واحد کو چھوڑ دیا جائے؟ یہی تھیں وہ دلیلیں جن کا ذکر پہلے ہوا تھا کہ «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» ۱؎ [6-الأنعام:83] ‏‏‏‏ ’ ہم نے ابراہیم کو وہ دلیلیں سکھا دیں جن سے قوم حقیقت تک پہنچ جائے ‘۔

آگ گلستان بن گئی ٭٭

یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہو جاتا ہے تو یا نیکی اسے گھسیٹ لیتی ہے یا بدی غالب آ جاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کو ان کی بدبختی نے گھیرلیا اور دلیل سے عاجز آ کر قائل معقول ہو کر لگے اپنے دباؤ کا مظاہرہ کرنے۔ آپس میں مشورہ کیا کہ ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال کر اس کی جان لے لو تاکہ ہمارے ان معبودوں کی عزت رہے۔ اس بات پر سب نے اتفاق کر لیا اور لکڑیاں جمع کرنی شروع کر دیں۔ یہاں تک کہ بیمار عورتیں بھی نذر مانتی تھیں تو یہی کہ اگر انہیں شفاء ہو جائے تو ابراہیم علیہ السلام کے جلانے کو لکڑیاں لائیں گی۔ زمین میں ایک بہت بڑا اور بہت گہرا گڑھا کھودا، لکڑیوں سے اسے پر کیا اور انبار کھڑا کر کے اس میں آگ لگائی۔ روئے زمین پر کبھی اتنی بڑی آگ دیکھی نہیں گئی۔ جب آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے، اس کے پاس جانا محال ہو گیا، اب گھبرائے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالیں کیسے؟ آخر ایک کردی فارسی اعرابی کے مشورے سے جس کا نام ہیزن تھا، ایک منجنیق تیار کرائی گئی کہ اس میں بٹھا کر جھولا کر پھینک دو۔ ۱؎ [تفسیر قرطبی:303/11:] ‏‏‏‏ مروی ہے کہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت زمین میں دھنسا دیا اور قیامت تک وہ اندر اترتا جاتا ہے۔ جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ۱؎ [3-آل عمران:173] ‏‏‏‏، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس بھی جب یہ خبر پہنچی کہ تمام عرب لشکر جرار لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے کے لیے آ رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی پڑھا تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4563] ‏‏‏‏ یہ بھی مروی ہے کہ جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، «‏‏‏‏اللَّهُمَّ إِنَّكَ فِي السَّمَاءِ وَاحِدٌ وَأَنَا فِي الْأَرْضِ وَاحِدٌ أَعْبُدُكَ» ”الٰہی تو آسمانوں میں اکیلا معبود ہے اور توحید کے ساتھ تیرا عابد زمین پر صرف میں ہی ہوں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند بزار:2349:ضعیف] ‏‏‏‏ مروی ہے کہ جب کافر آپ علیہ السلام کو باندھنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، ”الٰہی تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، تیری ذات پاک ہے، تمام حمد و ثنا تیرے ہی لیے سزاوار ہے۔ سارے ملک کا تو اکیلا ہی مالک ہے کوئی بھی تیرا شریک و ساجھی نہیں۔‏‏‏‏“ شعیب جبائی فرماتے ہیں کہ ”اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر صرف سولہ سال کی تھی۔‏‏‏‏“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

بعض سلف سے منقول ہے کہ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے سامنے آسمان و زمین کے درمیان ظاہر ہوئے اور فرمایا، ”کیا آپ علیہ السلام کو کوئی حاجت ہے؟“ آپ علیہ السلام نے جواب دیا ”تم سے تو کوئی حاجت نہیں البتہ اللہ تعالیٰ سے حاجت ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بارش کا داروغہ فرشتہ کان لگائے ہوئے تیار تھا کہ کب اللہ کا حکم ہو اور میں اس آگ پر بارش برسا کر اسے ٹھنڈی کر دوں لیکن براہ راست حکم الٰہی آگ کو ہی پہنچا کہ ’ میرے خلیل پر تو سلامتی اور ٹھنڈک بن جا ‘۔ فرماتے ہیں کہ ”اس حکم کے ساتھ ہی روئے زمین کی آگ ٹھنڈی ہوگئی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:] ‏‏‏‏ کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اس دن دنیا بھر میں آگ سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکا، اور ابراہیم علیہ السلام کی جوتیاں تو آگ نے جلا دیں لیکن آپ علیہ السلام کے ایک رونگٹے کو بھی آگ نہ لگی۔‏‏‏‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، ”آگ کو حکم ہوا کہ وہ خلیل اللہ علیہ السلام کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اگر آگ کو صرف ٹھنڈا ہونے کا ہی حکم ہوتا تو پھر ٹھنڈک بھی آپ علیہ السلام کو ضرر پہنچاتی، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:] ‏‏‏‏ اس لیے ساتھ ہی فرما دیا گیا کہ ’ ٹھنڈک کے ساتھ ہی سلامتی بن جا ‘۔ مذکور ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے ساتھ تھے، آپ علیہ السلام کے منہ پر سے پسینا پونچھ رہے تھے بس اس کے سوا آگ نے کوئی تکلیف نہیں دی۔

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ”سایہ یا فرشتہ اس وقت آپ علیہ السلام کے ساتھ تھا۔‏‏‏‏“ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام اس میں چالیس یا پچاس دن رہے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ”مجھے اس زمانے میں جو راحت وسرور حاصل تھا ویسا اس سے نکلنے کے بعد حاصل نہیں ہوا، کیا اچھا ہوتا کہ میری ساری زندگی اسی میں گزرتی۔‏‏‏‏“ [الدر المنشور للسیوطی:479/4:ضعیف] ‏‏‏‏
65۔ 1 پھر اے ابراہیم ؑ تو ہمیں یہ کیوں کہہ رہا ہے کہ ان سے پوچھو اگر یہ بول سکتے ہیں، جب کہ تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولنے کی طاقت سے محروم ہیں۔
(آیت 65){ ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ …: ” نَكَسَ “} کا معنی سر کے بل الٹا کرنا ہے، یعنی سر نیچے اور پاؤں اوپر کر دینا، یہ کسی بھی شخص کی بدترین حالت ہے۔ {” نُكِسَ الْوَلَدُ “} جب بچے کی ٹانگیں سر سے پہلے باہر آئیں۔ {” نُكِسَ فِي الْمَرَضِ “} تندرست ہو کر پھر بیمار ہو جانا۔ یعنی اگرچہ ابراہیم علیہ السلام کا جواب سنتے ہی ان کے دلوں نے فیصلہ کر دیا کہ ظالم تم خود ہو جو ایسے بے حس اور بے بس بتوں کو معبود بنا بیٹھے ہو جو بول کر یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ ان پر کیا گزری، مگر پھر حق تسلیم کرنے کے بجائے ان پر ضد اور جہالت سوار ہو گئی، جس سے ان کی عقل الٹی ہوگئی اور وہ بغیر کسی حیا کے وہ بات کہنے لگے جس سے ان کی بے وقوفی اور حماقت بالکل واضح ہو رہی تھی۔ {” نُكِسُوْا “} الٹے کر دیے گئے، جیسے کسی چیز نے زبردستی انھیں سر کے بل اوندھا کر دیا ہو، چنانچہ کہنے لگے: «{ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنْطِقُوْنَ }» ”بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔“
قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُکُمۡ شَیۡئًا وَّ لَا یَضُرُّکُمۡ ﴿ؕ۶۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ابراہیمؑ نے کہا "پھر کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اُن چیزوں کو پوج رہے ہو جو نہ تمہیں نفع پہنچانے پر قادر ہیں نہ نقصان
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ کے خلیل نے اسی وقت فرمایا افسوس! کیا تم اللہ کے علاوه ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں کچھ بھی نفع پہنچا سکیں نہ نقصان
احمد رضا خان بریلوی
کہا تو کیا اللہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہو جو نہ تمہیں نفع دے اور نہ نقصان پہنچائے
علامہ محمد حسین نجفی
آپ نے کہا تو پھر تم اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کہا پھر کیا تم اللہ کے سوا اس چیز کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمھیں کچھ نفع دیتی ہے اور نہ تمھیں نقصان پہنچاتی ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اپنی حماقت سے پریشان کافر ٭٭

بیان ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی باتیں سن کر انہیں خیال تو پیدا ہو گیا۔ اپنے آپ کو اپنی بیوقوفی پر ملامت کرنے لگے۔ سخت ندامت اٹھائی اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے بڑی غلطی کی، اپنے معبودوں کے پاس کسی کو حفاظت کیلئے نہ چھوڑا اور چل دئیے۔ پھر غور وفکر کر کے بات بنائی کہ آپ علیہ السلام جو کچھ ہم سے کہتے ہیں کہ ان سے ہم پوچھ لیں کہ تمہیں کس نے توڑا ہے تو کیا آپ علیہ السلام کو علم نہیں کہ یہ بت بے زبان ہیں؟ عاجزی، حیرت اور انتہائی لاجوابی کی حالت میں انہیں اس بات کا اقرار کرنا پڑا۔ اب خلیل اللہ علیہ السلام کو خاصا موقعہ مل گیا اور آپ علیہ السلام فوراً فرمانے لگے کہ ”بے زبان، بے نفع و ضرر چیز کی عبادت کیسی؟ تم کیوں اس قدر بے سمجھ ہو رہے ہو؟ تف ہے تم پر اور تمہارے ان جھوٹے خداؤں پر۔ آہ کس قدر ظلم وجہل ہے کہ ایسی چیزوں کی پرستش کی جائے اور اللہ واحد کو چھوڑ دیا جائے؟ یہی تھیں وہ دلیلیں جن کا ذکر پہلے ہوا تھا کہ «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» ۱؎ [6-الأنعام:83] ‏‏‏‏ ’ ہم نے ابراہیم کو وہ دلیلیں سکھا دیں جن سے قوم حقیقت تک پہنچ جائے ‘۔

آگ گلستان بن گئی ٭٭

یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہو جاتا ہے تو یا نیکی اسے گھسیٹ لیتی ہے یا بدی غالب آ جاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کو ان کی بدبختی نے گھیرلیا اور دلیل سے عاجز آ کر قائل معقول ہو کر لگے اپنے دباؤ کا مظاہرہ کرنے۔ آپس میں مشورہ کیا کہ ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال کر اس کی جان لے لو تاکہ ہمارے ان معبودوں کی عزت رہے۔ اس بات پر سب نے اتفاق کر لیا اور لکڑیاں جمع کرنی شروع کر دیں۔ یہاں تک کہ بیمار عورتیں بھی نذر مانتی تھیں تو یہی کہ اگر انہیں شفاء ہو جائے تو ابراہیم علیہ السلام کے جلانے کو لکڑیاں لائیں گی۔ زمین میں ایک بہت بڑا اور بہت گہرا گڑھا کھودا، لکڑیوں سے اسے پر کیا اور انبار کھڑا کر کے اس میں آگ لگائی۔ روئے زمین پر کبھی اتنی بڑی آگ دیکھی نہیں گئی۔ جب آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے، اس کے پاس جانا محال ہو گیا، اب گھبرائے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالیں کیسے؟ آخر ایک کردی فارسی اعرابی کے مشورے سے جس کا نام ہیزن تھا، ایک منجنیق تیار کرائی گئی کہ اس میں بٹھا کر جھولا کر پھینک دو۔ ۱؎ [تفسیر قرطبی:303/11:] ‏‏‏‏ مروی ہے کہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت زمین میں دھنسا دیا اور قیامت تک وہ اندر اترتا جاتا ہے۔ جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ۱؎ [3-آل عمران:173] ‏‏‏‏، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس بھی جب یہ خبر پہنچی کہ تمام عرب لشکر جرار لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے کے لیے آ رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی پڑھا تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4563] ‏‏‏‏ یہ بھی مروی ہے کہ جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، «‏‏‏‏اللَّهُمَّ إِنَّكَ فِي السَّمَاءِ وَاحِدٌ وَأَنَا فِي الْأَرْضِ وَاحِدٌ أَعْبُدُكَ» ”الٰہی تو آسمانوں میں اکیلا معبود ہے اور توحید کے ساتھ تیرا عابد زمین پر صرف میں ہی ہوں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند بزار:2349:ضعیف] ‏‏‏‏ مروی ہے کہ جب کافر آپ علیہ السلام کو باندھنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، ”الٰہی تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، تیری ذات پاک ہے، تمام حمد و ثنا تیرے ہی لیے سزاوار ہے۔ سارے ملک کا تو اکیلا ہی مالک ہے کوئی بھی تیرا شریک و ساجھی نہیں۔‏‏‏‏“ شعیب جبائی فرماتے ہیں کہ ”اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر صرف سولہ سال کی تھی۔‏‏‏‏“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

بعض سلف سے منقول ہے کہ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے سامنے آسمان و زمین کے درمیان ظاہر ہوئے اور فرمایا، ”کیا آپ علیہ السلام کو کوئی حاجت ہے؟“ آپ علیہ السلام نے جواب دیا ”تم سے تو کوئی حاجت نہیں البتہ اللہ تعالیٰ سے حاجت ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بارش کا داروغہ فرشتہ کان لگائے ہوئے تیار تھا کہ کب اللہ کا حکم ہو اور میں اس آگ پر بارش برسا کر اسے ٹھنڈی کر دوں لیکن براہ راست حکم الٰہی آگ کو ہی پہنچا کہ ’ میرے خلیل پر تو سلامتی اور ٹھنڈک بن جا ‘۔ فرماتے ہیں کہ ”اس حکم کے ساتھ ہی روئے زمین کی آگ ٹھنڈی ہوگئی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:] ‏‏‏‏ کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اس دن دنیا بھر میں آگ سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکا، اور ابراہیم علیہ السلام کی جوتیاں تو آگ نے جلا دیں لیکن آپ علیہ السلام کے ایک رونگٹے کو بھی آگ نہ لگی۔‏‏‏‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، ”آگ کو حکم ہوا کہ وہ خلیل اللہ علیہ السلام کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اگر آگ کو صرف ٹھنڈا ہونے کا ہی حکم ہوتا تو پھر ٹھنڈک بھی آپ علیہ السلام کو ضرر پہنچاتی، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:] ‏‏‏‏ اس لیے ساتھ ہی فرما دیا گیا کہ ’ ٹھنڈک کے ساتھ ہی سلامتی بن جا ‘۔ مذکور ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے ساتھ تھے، آپ علیہ السلام کے منہ پر سے پسینا پونچھ رہے تھے بس اس کے سوا آگ نے کوئی تکلیف نہیں دی۔

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ”سایہ یا فرشتہ اس وقت آپ علیہ السلام کے ساتھ تھا۔‏‏‏‏“ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام اس میں چالیس یا پچاس دن رہے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ”مجھے اس زمانے میں جو راحت وسرور حاصل تھا ویسا اس سے نکلنے کے بعد حاصل نہیں ہوا، کیا اچھا ہوتا کہ میری ساری زندگی اسی میں گزرتی۔‏‏‏‏“ [الدر المنشور للسیوطی:479/4:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 66){ قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …:} ابراہیم علیہ السلام اتنے بڑے مجمع میں ان کی زبان سے یہی کہلوانا چاہتے تھے اور سب کچھ اسی ترتیب سے ہو رہا تھا جو ابراہیم علیہ السلام کی توقع اور خواہش کے مطابق تھی۔ ان کے لیے توحید کی دعوت اور شرک کے رد کا ایسا سنہرا موقع شاید اس سے پہلے کبھی نہ آیا ہو، چنانچہ فرمایا کہ جب یہ بول ہی نہیں سکتے تو فائدہ یا نقصان پہنچانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تو پھر کیا تم ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہو جو تمھیں نہ کچھ فائدہ پہنچاتی ہیں اور نہ نقصان؟ {” مَا “} کا لفظ عموماً ان چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن میں عقل نہیں ہوتی۔
اُفٍّ لَّکُمۡ وَ لِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تف ہے تم پر اور تمہارے اِن معبُودوں پر جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر پوجا کر رہے ہو کیا تم کچھ بھی عقل نہیں رکھتے؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
تف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ کیا تمہیں اتنی سی عقل بھی نہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
تف ہے تم پر اور ان بتوں پر جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہو، تو کیا تمہیں عقل نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
تف ہے تم پر اور ان (بتوں) پر جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر پرستش کرتے ہو۔ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟
عبدالسلام بن محمد
اف ہے تم پر اور ان چیزوں پر جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، تو کیا تم سمجھتے نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اپنی حماقت سے پریشان کافر ٭٭

بیان ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی باتیں سن کر انہیں خیال تو پیدا ہو گیا۔ اپنے آپ کو اپنی بیوقوفی پر ملامت کرنے لگے۔ سخت ندامت اٹھائی اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے بڑی غلطی کی، اپنے معبودوں کے پاس کسی کو حفاظت کیلئے نہ چھوڑا اور چل دئیے۔ پھر غور وفکر کر کے بات بنائی کہ آپ علیہ السلام جو کچھ ہم سے کہتے ہیں کہ ان سے ہم پوچھ لیں کہ تمہیں کس نے توڑا ہے تو کیا آپ علیہ السلام کو علم نہیں کہ یہ بت بے زبان ہیں؟ عاجزی، حیرت اور انتہائی لاجوابی کی حالت میں انہیں اس بات کا اقرار کرنا پڑا۔ اب خلیل اللہ علیہ السلام کو خاصا موقعہ مل گیا اور آپ علیہ السلام فوراً فرمانے لگے کہ ”بے زبان، بے نفع و ضرر چیز کی عبادت کیسی؟ تم کیوں اس قدر بے سمجھ ہو رہے ہو؟ تف ہے تم پر اور تمہارے ان جھوٹے خداؤں پر۔ آہ کس قدر ظلم وجہل ہے کہ ایسی چیزوں کی پرستش کی جائے اور اللہ واحد کو چھوڑ دیا جائے؟ یہی تھیں وہ دلیلیں جن کا ذکر پہلے ہوا تھا کہ «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» ۱؎ [6-الأنعام:83] ‏‏‏‏ ’ ہم نے ابراہیم کو وہ دلیلیں سکھا دیں جن سے قوم حقیقت تک پہنچ جائے ‘۔

آگ گلستان بن گئی ٭٭

یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہو جاتا ہے تو یا نیکی اسے گھسیٹ لیتی ہے یا بدی غالب آ جاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کو ان کی بدبختی نے گھیرلیا اور دلیل سے عاجز آ کر قائل معقول ہو کر لگے اپنے دباؤ کا مظاہرہ کرنے۔ آپس میں مشورہ کیا کہ ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال کر اس کی جان لے لو تاکہ ہمارے ان معبودوں کی عزت رہے۔ اس بات پر سب نے اتفاق کر لیا اور لکڑیاں جمع کرنی شروع کر دیں۔ یہاں تک کہ بیمار عورتیں بھی نذر مانتی تھیں تو یہی کہ اگر انہیں شفاء ہو جائے تو ابراہیم علیہ السلام کے جلانے کو لکڑیاں لائیں گی۔ زمین میں ایک بہت بڑا اور بہت گہرا گڑھا کھودا، لکڑیوں سے اسے پر کیا اور انبار کھڑا کر کے اس میں آگ لگائی۔ روئے زمین پر کبھی اتنی بڑی آگ دیکھی نہیں گئی۔ جب آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے، اس کے پاس جانا محال ہو گیا، اب گھبرائے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالیں کیسے؟ آخر ایک کردی فارسی اعرابی کے مشورے سے جس کا نام ہیزن تھا، ایک منجنیق تیار کرائی گئی کہ اس میں بٹھا کر جھولا کر پھینک دو۔ ۱؎ [تفسیر قرطبی:303/11:] ‏‏‏‏ مروی ہے کہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت زمین میں دھنسا دیا اور قیامت تک وہ اندر اترتا جاتا ہے۔ جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ۱؎ [3-آل عمران:173] ‏‏‏‏، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس بھی جب یہ خبر پہنچی کہ تمام عرب لشکر جرار لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے کے لیے آ رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی پڑھا تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4563] ‏‏‏‏ یہ بھی مروی ہے کہ جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، «‏‏‏‏اللَّهُمَّ إِنَّكَ فِي السَّمَاءِ وَاحِدٌ وَأَنَا فِي الْأَرْضِ وَاحِدٌ أَعْبُدُكَ» ”الٰہی تو آسمانوں میں اکیلا معبود ہے اور توحید کے ساتھ تیرا عابد زمین پر صرف میں ہی ہوں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند بزار:2349:ضعیف] ‏‏‏‏ مروی ہے کہ جب کافر آپ علیہ السلام کو باندھنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، ”الٰہی تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، تیری ذات پاک ہے، تمام حمد و ثنا تیرے ہی لیے سزاوار ہے۔ سارے ملک کا تو اکیلا ہی مالک ہے کوئی بھی تیرا شریک و ساجھی نہیں۔‏‏‏‏“ شعیب جبائی فرماتے ہیں کہ ”اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر صرف سولہ سال کی تھی۔‏‏‏‏“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

بعض سلف سے منقول ہے کہ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے سامنے آسمان و زمین کے درمیان ظاہر ہوئے اور فرمایا، ”کیا آپ علیہ السلام کو کوئی حاجت ہے؟“ آپ علیہ السلام نے جواب دیا ”تم سے تو کوئی حاجت نہیں البتہ اللہ تعالیٰ سے حاجت ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بارش کا داروغہ فرشتہ کان لگائے ہوئے تیار تھا کہ کب اللہ کا حکم ہو اور میں اس آگ پر بارش برسا کر اسے ٹھنڈی کر دوں لیکن براہ راست حکم الٰہی آگ کو ہی پہنچا کہ ’ میرے خلیل پر تو سلامتی اور ٹھنڈک بن جا ‘۔ فرماتے ہیں کہ ”اس حکم کے ساتھ ہی روئے زمین کی آگ ٹھنڈی ہوگئی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:] ‏‏‏‏ کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اس دن دنیا بھر میں آگ سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکا، اور ابراہیم علیہ السلام کی جوتیاں تو آگ نے جلا دیں لیکن آپ علیہ السلام کے ایک رونگٹے کو بھی آگ نہ لگی۔‏‏‏‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، ”آگ کو حکم ہوا کہ وہ خلیل اللہ علیہ السلام کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اگر آگ کو صرف ٹھنڈا ہونے کا ہی حکم ہوتا تو پھر ٹھنڈک بھی آپ علیہ السلام کو ضرر پہنچاتی، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:] ‏‏‏‏ اس لیے ساتھ ہی فرما دیا گیا کہ ’ ٹھنڈک کے ساتھ ہی سلامتی بن جا ‘۔ مذکور ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے ساتھ تھے، آپ علیہ السلام کے منہ پر سے پسینا پونچھ رہے تھے بس اس کے سوا آگ نے کوئی تکلیف نہیں دی۔

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ”سایہ یا فرشتہ اس وقت آپ علیہ السلام کے ساتھ تھا۔‏‏‏‏“ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام اس میں چالیس یا پچاس دن رہے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ”مجھے اس زمانے میں جو راحت وسرور حاصل تھا ویسا اس سے نکلنے کے بعد حاصل نہیں ہوا، کیا اچھا ہوتا کہ میری ساری زندگی اسی میں گزرتی۔‏‏‏‏“ [الدر المنشور للسیوطی:479/4:ضعیف] ‏‏‏‏
67۔ 1 یعنی جب وہ خود ان کی بےبسی کے اعتراف پر مجبور ہوگئے تو پھر ان کی بےعقلی پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کو چھوڑ کر ایسے بےبسوں کی تم عبادت کرتے ہو؟
(آیت 67){ اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ …: ” اُفٍّ “} کا اصل معنی ہر گندی سمجھی جانے والی چیز ہے، مثلاً میل، گندگی، ناخن کے تراشے اور اس قسم کی چیزیں۔ یہی لفظ ہر اس شخص یا چیز کے لیے بولا جاتا ہے جس سے اکتاہٹ کااظہار کرنا اور اسے گندا اور نہایت حقیر قرار دینا مقصود ہو۔ (راغب) {” اُفٍّ “} کی تنوین سے نفرت کی شدت کا اظہار ہو رہا ہے، یعنی میری زبردست نفرت، اکتاہٹ اور تحقیر تم جیسے بے عقلوں کے لیے اور تمھارے بنائے ہوئے معبودوں کے لیے ہے، کیا تم نہیں سمجھتے کہ ایسے بے حس اور بے بس پتھر وغیرہ بھی کبھی اس قابل ہو سکتے ہیں کہ کوئی ہوش مند انسان ساری کائنات کے خالق و مالک اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرے؟
قَالُوۡا حَرِّقُوۡہُ وَ انۡصُرُوۡۤا اٰلِہَتَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ فٰعِلِیۡنَ ﴿۶۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
انہوں نے کہا "جلا ڈالو اس کو اور حمایت کرو اپنے خداؤں کی اگر تمہیں کچھ کرنا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہنے لگے کہ اسے جلا دو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے
احمد رضا خان بریلوی
بولے ان کو جلادو اور اپنے خداؤں کی مدد کروں اگر تمہیں کرنا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
ان لوگوں نے کہا اگر کچھ کرنا چاہتے ہو تو اسے آگ میں جلا دو۔ اور اپنے خداؤں کی مدد کرو۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو، اگر تم کرنے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آگ گلستان بن گئی ٭٭

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”ابراہیم علیہ السلام کے والد نے سب سے اچھا کلمہ جو کہا ہے وہ یہ ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام آگ سے زندہ صحیح سالم نکلے، اس وقت آپ علیہ السلام کو اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے دیکھ کر آپ علیہ السلام کے والد نے کہا، ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) ”تیرا رب بہت ہی بزرگ اور بڑا ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، اس دن جو جانور نکلا وہ آپ علیہ السلام کی آگ کو بجھانے کی کوشش کرتا رہا سوائے گرگٹ کے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:467/18:] ‏‏‏‏

زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے اور اسے فاسق کہا ہے۔‏‏‏‏“ { ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک نیزہ دیکھ کر ایک عورت نے سوال کیا کہ یہ کیوں رکھ چھوڑا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”گرگٹوں کو مار ڈالنے کے لیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { جس وقت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے اس وقت تمام جانور اس آگ کو بجھا رہے تھے سوائے گرگٹ کے، یہ اور پھونک رہا تھا }، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3231،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ان کا مکر ہم نے ان پر الٹ دیا ‘۔ کافروں نے اللہ کے نبی علیہ السلام کو نیچا کرنا چاہا اللہ نے انہیں نیچا دکھایا۔ . عطیہ عوفی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں جلائے جانے کا تماشا دیکھنے کے لیے ان کافروں کا بادشاہ بھی آیا تھا، ادھر خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا جاتا ہے ادھر آگ میں سے ایک چنگاری اڑتی ہے اور اس کافر بادشاہ کے انگوٹھے پر آ پڑتی ہے اور وہیں کھڑے کھڑے سب کے سامنے اس طرح اسے جلا دیتی ہے جیسے روئی جل جائے۔‏‏‏‏“
68۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ نے جب یوں اپنی حجت تمام کردی اور ان کی ضلالت و حماقت کو ایسے طریقے سے ان پر واضح کردیا کہ وہ لاجواب ہوگئے۔ تو چونکہ وہ توفیق ہدایت سے محروم تھے اور کفر و شرک نے ان کے دلوں کو بےنور کردیا تھا۔ اس لئے بجائے اس کے کہ وہ شرک سے بعض آجاتے، الٹا ابراہیم ؑ کے خلاف سخت اقدام کرنے پر آمادہ ہوگئے اور اپنے معبودوں کی دہائی دیتے ہوئے انھیں آگ میں جھونک دینے کی تیاری شروع کردی، چناچہ آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ تیار کیا گیا اور اس میں حضرت ابراہیم ؑ کو کہا جاتا ہے کہ منجنیق (جس سے بڑے پتھر پھینکے جاتے ہیں) کے ذریعے سے پھینکا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ ابراہیم ؑ کے لئے ٹھنڈی اور سلامتی بن جا علماء کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ، ٹھنڈی کے ساتھ ' سلامتی ' نہ فرماتا تو اس کی ٹھنڈک ابراہیم ؑ کے لئے ناقابل برداشت ہوتی۔ بہرحال یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے جو آسمان سے باتیں کرتی ہوئی دہکتی آگ کے گل و گلزار بن جانے کی صورت میں حضرت ابراہیم ؑ کے لئے اللہ کی مشیت سے ظاہر ہوا۔ اس طرح اللہ نے اپنے بندے کو دشمنوں کی سازش سے بچا لیا۔
(آیت 68) ➊ { قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ:} یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہو جاتا ہے تو یا تو نیکی اسے اپنی طرف کھینچ لیتی ہے یا بدی غالب آ جاتی ہے۔ بدی کے غلبے کی صورت میں جب اس کے پاس کوئی دلیل نہیں رہتی اور وہ مکمل طور پر لاجواب ہو جاتا ہے تو اپنے مخالف کو دھمکیاں دیتا ہے۔ دیکھیے نوح علیہ السلام کی قوم (شعراء: ۱۱۶)، ابراہیم علیہ السلام کو ان کے والد کی دھمکی (مریم: ۴۶)، لوط علیہ السلام کی قوم (شعراء: ۱۶۷)، شعیب علیہ السلام کی قوم (اعراف: ۸۸)، فرعون کی موسیٰ علیہ السلام کو دھمکی (شعراء: ۲۹) اور جادوگروں کو دھمکی (شعراء: ۴۹)۔ پھر اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اپنے لاجواب کر دینے والے حریف کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کی قوم بھی جب دلیل میں ہر طرح لاجواب ہو گئی تو ابراہیم علیہ السلام کی جان کے درپے ہو گئی۔ مشورہ ہوا کہ اسے قتل کر دو یا جلا دو۔ دیکھیے سورۂ عنکبوت (۲۴) آخر فیصلہ یہ ٹھہرا کہ اپنے معبودوں کا انتقام لینے کی اور ان کی نصرت کی یہی صورت ہے کہ اسے جلا کر راکھ بنا دو۔ ➋ { اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِيْنَ:} یہ الفاظ ان کے ضمیر کی کشمکش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اول تو ابراہیم کو نقصان پہنچانے والے تمھارے کسی اقدام کا کوئی جواز نہیں۔ دلیل کا جواب دلیل ہے، مار ڈالنا نہیں، لیکن اگر تمھارے پاس اس کا کوئی علاج نہیں اور تم نے ضرور ہی اس کے خلاف کچھ کرنا ہے تو پھر معمولی سزا مت سوچو۔ اپنے معبودوں کی مدد کرتے ہوئے اس کا قصہ نہایت عبرت ناک سزا کے ساتھ ختم کرو، تاکہ آئندہ کوئی اس بحث کی جرأت ہی نہ کرے۔ (بقاعی)
قُلۡنَا یٰنَارُ کُوۡنِیۡ بَرۡدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ ﴿ۙ۶۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے کہا "اے آگ، ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی بن جا ابراہیمؑ پر"
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے فرما دیا اے آگ! تو ٹھنڈی پڑ جا اور ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے سلامتی (اور آرام کی چیز) بن جا!
احمد رضا خان بریلوی
ہم نے فرمایا اے آگ ہو جا ٹھنڈی اور سلامتی ابراہیم پر
علامہ محمد حسین نجفی
(چنانچہ انہوں نے آپ کو آگ میں ڈال دیا تو) ہم نے کہا اے آگ! ٹھنڈی ہوکر اور ابراہیم کے لئے سلامتی کا باعث بن جا۔
عبدالسلام بن محمد
ہم نے کہا اے آگ! تو ابراہیم پر سراسر ٹھنڈک اور سلامتی بن جا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آگ گلستان بن گئی ٭٭

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”ابراہیم علیہ السلام کے والد نے سب سے اچھا کلمہ جو کہا ہے وہ یہ ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام آگ سے زندہ صحیح سالم نکلے، اس وقت آپ علیہ السلام کو اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے دیکھ کر آپ علیہ السلام کے والد نے کہا، ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) ”تیرا رب بہت ہی بزرگ اور بڑا ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، اس دن جو جانور نکلا وہ آپ علیہ السلام کی آگ کو بجھانے کی کوشش کرتا رہا سوائے گرگٹ کے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:467/18:] ‏‏‏‏

زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے اور اسے فاسق کہا ہے۔‏‏‏‏“ { ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک نیزہ دیکھ کر ایک عورت نے سوال کیا کہ یہ کیوں رکھ چھوڑا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”گرگٹوں کو مار ڈالنے کے لیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { جس وقت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے اس وقت تمام جانور اس آگ کو بجھا رہے تھے سوائے گرگٹ کے، یہ اور پھونک رہا تھا }، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3231،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ان کا مکر ہم نے ان پر الٹ دیا ‘۔ کافروں نے اللہ کے نبی علیہ السلام کو نیچا کرنا چاہا اللہ نے انہیں نیچا دکھایا۔ . عطیہ عوفی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں جلائے جانے کا تماشا دیکھنے کے لیے ان کافروں کا بادشاہ بھی آیا تھا، ادھر خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا جاتا ہے ادھر آگ میں سے ایک چنگاری اڑتی ہے اور اس کافر بادشاہ کے انگوٹھے پر آ پڑتی ہے اور وہیں کھڑے کھڑے سب کے سامنے اس طرح اسے جلا دیتی ہے جیسے روئی جل جائے۔‏‏‏‏“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 69) ➊ {قُلْنَا يٰنَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا …: ” بَرْدًا “} ٹھنڈک، {” سَلٰمًا “} سلامتی۔ مبالغہ کے طور پر مصدر بمعنی اسم فاعل ہے۔ یہاں کچھ عبارت محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آ رہی ہے کہ اپنے فیصلے کے مطابق انھوں نے ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کا زبردست انتظام کیا، چنانچہ لکڑیاں جمع کرنے کے لیے باقاعدہ ایک چار دیواری بنائی گئی، جیسا کہ فرمایا: «{ قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْيَانًا فَاَلْقُوْهُ فِي الْجَحِيْمِ }» ‏‏‏‏ [ الصافات: ۹۷ ] ”انھوں نے کہا، اس کے لیے ایک عمارت بناؤ، پھر اسے بھڑکتی آگ میں پھینک دو۔“ پھر جب آگ خوب بھڑک اٹھی اور اس کی تپش چاروں طرف پھیل گئی تو انھوں نے منجنیق کے ذریعے سے یا جیسے بھی ہو سکا، ابراہیم علیہ السلام کو اس میں پھینک دیا تو ہم نے حکم دیا کہ اے آگ! ابراہیم پر سراسر ٹھنڈک ہو جا، مگر تکلیف دینے والی ٹھنڈک نہیں، بلکہ ایسی کہ سراسر سلامتی ہو۔ اگر اللہ تعالیٰ صرف {” بَرْدًا “} (سراسر ٹھنڈک) فرماتے تو شدید ٹھنڈک ابراہیم علیہ السلام برداشت نہ کر سکتے، اس لیے آگ کو ٹھنڈک کے ساتھ سلامتی والی بن جانے کا حکم دیا۔ ➋ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابراہیم علیہ السلام کے لیے معجزہ یعنی فطرت کے عام قوانین کے برعکس معاملہ تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو سمندر پر اپنی لاٹھی مارنے کا حکم دیا تو سمندر پھٹ گیا اور پانی کا ہر حصہ ایک بہت بڑے پہاڑ کی طرح اپنی جگہ کھڑا رہا، فرمایا: «{ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيْمِ }» [ الشعراء: ۶۳ ] ”پس وہ پھٹ گیا تو ہر ٹکڑا بہت بڑے پہاڑ کی طرح ہو گیا۔“ جب کہ پانی کی فطرت بہنا ہے، ایسے ہی آگ کی فطرت جلانا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے بعد وہ ابراہیم علیہ السلام کے لیے گلزار بن گئی۔ اگر کسی کی سمجھ میں یہ بات نہ آتی ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھ لے: «{ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ }» [ آل عمران: ۴۷ ] ”جب وہ کسی کام کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہو جا، تو وہ ہو جاتا ہے۔“ اس موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے آگ کو {” كُوْنِيْ “} (ہو جا) سے خطاب فرمایا، پھر آگ کی کیا مجال تھی کہ ٹھنڈی اور سلامتی والی نہ ہوتی۔ (ثنائی) اگر کسی کو پھر بھی اصرار ہے کہ آگ کا کام جلانا ہی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے بھی ٹھنڈی نہیں ہو سکتی تو اسے قرآن مجید پر ایمان کے دعوے کا تکلف نہیں کرنا چاہیے۔ ➌ ام شریک رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مار دینے کا حکم دیا اور فرمایا: [ وَكَانَ يَنْفُخُ عَلٰی إِبْرَاهِيْمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ] ”یہ ابراہیم علیہ السلام پر پھونکیں مارتی تھی۔“ [ بخاري، الأنبیاء، باب قولہ تعالٰی: «‏‏‏‏واتخذ اللہ إبراہیم خلیلا…» ‏‏‏‏: ۳۳۵۹ ] محدث عبد الرزاق نے اپنی مصنف (۸۳۹۲) میں معمر عن الزہری عن عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنھا روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كَانَتِ الضِّفْدَعُ تُطْفِئُ النَّارَ عَنْ إِبْرَاهِيْمَ وَكَانَ الْوَزَغُ يَنْفُخُ فِيْهِ فَنَهَی عَنْ قَتْلِ هٰذا وَ أَمَرَ بِقَتْلِ هٰذَا ] ”مینڈک ابراہیم علیہ السلام سے آگ بجھاتے تھے اور چھپکلی اس میں پھونکیں مارتی تھی، سو انھیں قتل کرنے سے منع فرمایا اور اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔“ مسند احمد کے محقق نے لکھا ہے کہ یہ سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: [ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْوَزَغِ اَلْفُوَيْسِقُ وَلَمْ أَسْمَعْهٗ أَمَرَ بِقَتْلِهٖ ] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو ”فویسق“(بہت نافرمان) فرمایا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے قتل کرنے کا حکم دیتے ہوئے نہیں سنا۔“ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: [ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ ] [ بخاري: ۳۳۰۶ ] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے چھپکلی کو قتل کرنے کی حدیث کسی صحابی کے واسطے سے سنی ہے، اس صورت میں بھی حدیث صحیح ہے، کیونکہ تمام صحابہ روایت حدیث میں معتبر ہیں۔ ➍ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام کا آخری قول، جب انھیں آگ میں پھینکا گیا {”حَسْبِيَ اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيْلُ “} تھا، یعنی مجھے اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے۔ [ بخاري، التفسیر، باب: «الذین قال لھم الناس…» ‏‏‏‏: ۴۵۶۴ ] ➎ بغوی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ کعب احبار سے روایت کی گئی ہے کہ جب انھوں نے ابراہیم علیہ السلام کو منجنیق میں رکھ کر آگ کی طرف پھینکا تو جبریل علیہ السلام آپ کے سامنے آئے اور کہا: ”ابراہیم! تمھیں کوئی حاجت ہے؟“ فرمایا: ”تمھاری طرف تو نہیں۔“ انھوں نے کہا: ”پھر اپنے رب سے سوال کرو۔“ فرمایا: [ حَسْبِيْ مِنْ سُؤَالِيْ عِلْمُهُ بِحَالِيْ ] ”مجھے میرے سوال کرنے سے اس کا میری حالت کو جاننا ہی کافی ہے۔“ بغوی نے یہ کہہ کر اس کے ضعف کی طرف اشارہ کر دیا ہے:{ ” رُوِيَ عَنْ كَعْبٍ “} کہ کعب سے روایت کی گئی ہے۔ معلوم ہوا کہ اس روایت کا کوئی سر پیر نہیں، اس لیے شیخ البانی رحمہ اللہ نے فرمایا: {” لَا أَصْلَ لَهُ “} [ سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ: ۲۱ ] اور ابن عراق نے {” تنزيہ الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة “} میں یہ روایت ذکر کرکے فرمایا: ”ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ روایت موضوع ہے۔“ علاوہ ازیں یہ روایت ان آیات و احادیث کے بھی خلاف ہے جن میں دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، فرمایا: «{ وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ }» [ المؤمن: ۶۰ ] ”اور تمھارے رب نے فرمایا، مجھے پکارو میں تمھاری دعا قبول کروں گا۔ بے شک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ لَمْ يَدْعُ اللّٰهَ يَغْضَبْ عَلَيْهِ ] [ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 153/6، ح: ۲۶۵۴۔ ترمذی: ۳۳۷۳۔ ابن ماجہ: ۳۸۲۷ ] ”جو اللہ تعالیٰ سے دعا نہ کرے اللہ تعالیٰ اس پر غصے ہو جاتا ہے۔“ کعب احبار والی باطل روایت صحیح بخاری کی اس حدیث کے بھی خلاف ہے جو اوپر گزری کہ ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں پھینکے جانے کے وقت آخری الفاظ {” حَسْبِيَ اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيْلُ “ } کہے تھے۔ قرآن میں ابراہیم علیہ السلام کی بہت سی دعائیں مذکور ہیں، اگر دعا کے بجائے اللہ تعالیٰ کا علم ہی کافی ہو تو اللہ تعالیٰ کو تو ہر شخص کی ہر حالت کا علم ہے، پھر اس سے دعا اور سوال کا معاملہ تو سرے سے ختم ہے، حالانکہ دعا اس لیے نہیں ہوتی کہ اللہ تعالیٰ کو ہماری حالت کا علم نہیں بلکہ دعا خود ایک عبادت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ ] [ ترمذی، التفسیر، باب ومن سورۃ البقرۃ: ۲۹۶۹ ] ”دعا ہی عبادت ہے۔“ اسی حدیث میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ }» [ المؤمن: ۶۰ ] ”اور تمھارے رب نے فرمایا مجھے پکارو، میں تمھاری دعا قبول کروں گا۔ بے شک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔“ بعض صوفیاء نے جو اس باطل روایت کو دلیل بنا کر کہا ہے کہ تمھارا اس سے سوال کرنا تمھاری طرف سے اس پر تہمت لگانا ہے، یہ ان کی بہت بڑی گمراہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کو اللہ تعالیٰ پر تہمت لگانا قرار دے رہے ہیں۔ (خلاصہ سلسلہ صحیحہ) شیخ محمد امین شنقیطی رحمہ اللہ ”اضواء البیان“ میں فرماتے ہیں: ”ابوالعالیہ سے روایت ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ {” وَ سَلٰمًا “} نہ فرماتے تو اس کی سردی ان کے لیے اس کی گرمی سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی اور اگر {” عَلٰۤى اِبْرٰهِيْمَ “} نہ فرماتے تو اس کی ٹھنڈک ہمیشہ تک باقی رہتی۔ اور سدی سے ہے کہ اس دن جو آگ بھی تھی بجھ گئی۔ اور کعب اور قتادہ سے ہے کہ آگ نے صرف ابراہیم علیہ السلام کو باندھنے والی رسیاں جلائیں۔ اور نہال بن عمرو سے ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: ”میں ان ایام جیسا خوش حال کبھی نہیں رہا جن دنوں میں آگ میں تھا۔“ اور شعیب حمانی سے ہے کہ انھیں آگ میں ڈالا گیا تو ان کی عمر سولہ (۱۶) سال تھی۔ اور ابن جریج سے ہے کہ اس وقت وہ چھبیس (۲۶) برس کے تھے۔ اور کلبی سے ہے کہ جتنی آگیں تھیں سب ٹھنڈی ہو گئیں، چنانچہ کسی آگ نے ایک کھری تک نہیں پکائی۔ اور بعض نے قصے میں ذکر کیا ہے کہ نمرود نے اپنے محل میں سے جھانکا تو دیکھا کہ ابراہیم علیہ السلام تخت پر ہیں اور سایوں کا فرشتہ ان کا دل لگا رہا ہے، تو اس نے کہا، تیرا رب بہت اچھا رب ہے، میں اس کے لیے چار ہزار گائیں قربانی کروں گا اور پھر اس نے ابراہیم علیہ السلام کو کچھ نہیں کہا۔“ شیخ شنقیطی رحمہ اللہ یہ سب کچھ لکھنے کے بعد فرماتے ہیں: ”یہ سب اسرائیلیات ہیں اور مفسرین اس قصے میں اور دوسرے بہت سے قصوںمیں ایسی بہت سی باتیں بیان کر دیتے ہیں۔“ یہاں تھوڑا سا غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ سب تابعین اور راوی اس وقت تو موجود ہی نہ تھے جب ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکا گیا، نہ ان پر وحی اتری اور نہ وہ درمیان کی کوئی سند بیان کرتے ہیں، پھر انھیں ان باتوں کا پتا کیسے چلا؟ ظاہر ہے یہ وہی سنی سنائی باتیں ہیں جنھیں تفسیر قرآن میں کسی طرح بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ مزید دیکھیے اس تفسیر کا مقدمہ۔ ➏ یہ واقعہ حق کی طرف دعوت اور اس پر استقامت کا عجیب و غریب واقعہ ہے۔ اس میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور پوری امت مسلمہ کے لیے حق کی خاطر جان کی بازی لگا دینے کا سبق ہے اور یہ بھی کہ جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو تمام اسباب ختم ہونے کے باوجود اپنے بندے کا بال بھی بیکا نہیں ہونے دیتا۔
وَ اَرَادُوۡا بِہٖ کَیۡدًا فَجَعَلۡنٰہُمُ الۡاَخۡسَرِیۡنَ ﴿ۚ۷۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ چاہتے تھے کہ ابراہیمؑ کے ساتھ بُرائی کریں مگر ہم نے ان کو بُری طرح ناکام کر دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
گو انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کا برا چاہا، لیکن ہم نے انہیں ناکام بنا دیا
احمد رضا خان بریلوی
اور انہوں نے اس کا برا چاہا تو ہم نے انہیں سب سے بڑھ کر زیاں کار کردیا
علامہ محمد حسین نجفی
ان لوگوں نے ابراہیم کے ساتھ چالبازی کرنا چاہی تھی مگر ہم نے انہیں ناکام کر دیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا ارادہ کیا توہم نے انھی کو انتہائی خسارے والے کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آگ گلستان بن گئی ٭٭

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”ابراہیم علیہ السلام کے والد نے سب سے اچھا کلمہ جو کہا ہے وہ یہ ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام آگ سے زندہ صحیح سالم نکلے، اس وقت آپ علیہ السلام کو اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے دیکھ کر آپ علیہ السلام کے والد نے کہا، ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) ”تیرا رب بہت ہی بزرگ اور بڑا ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، اس دن جو جانور نکلا وہ آپ علیہ السلام کی آگ کو بجھانے کی کوشش کرتا رہا سوائے گرگٹ کے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:467/18:] ‏‏‏‏

زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے اور اسے فاسق کہا ہے۔‏‏‏‏“ { ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک نیزہ دیکھ کر ایک عورت نے سوال کیا کہ یہ کیوں رکھ چھوڑا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”گرگٹوں کو مار ڈالنے کے لیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { جس وقت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے اس وقت تمام جانور اس آگ کو بجھا رہے تھے سوائے گرگٹ کے، یہ اور پھونک رہا تھا }، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3231،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ان کا مکر ہم نے ان پر الٹ دیا ‘۔ کافروں نے اللہ کے نبی علیہ السلام کو نیچا کرنا چاہا اللہ نے انہیں نیچا دکھایا۔ . عطیہ عوفی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں جلائے جانے کا تماشا دیکھنے کے لیے ان کافروں کا بادشاہ بھی آیا تھا، ادھر خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا جاتا ہے ادھر آگ میں سے ایک چنگاری اڑتی ہے اور اس کافر بادشاہ کے انگوٹھے پر آ پڑتی ہے اور وہیں کھڑے کھڑے سب کے سامنے اس طرح اسے جلا دیتی ہے جیسے روئی جل جائے۔‏‏‏‏“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 70){ وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَيْدًا …: ” الْاَخْسَرِيْنَ “} اگرچہ اسم تفضیل ہے، مگر یہاں کسی سے زیادہ خسارا اٹھانے والے مراد نہیں، بلکہ یہ خاسرین میں مبالغہ ہے، اس لیے ترجمہ ”انتہائی خسارے والے“ کیا گیا ہے۔ اگر تفضیل کا معنی لیں تو {”أَخْسَرِيْنَ مِنْ كُلِّ خَاسِرٍ“} مراد ہو گا، یعنی ہر خسارے والے سے زیادہ خسارے والے۔ {” كَيْدًا “} خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ کفار نے ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کی سازش ان سے خفیہ رکھی تھی۔ شاید ان کا مقصد یہ ہو کہ ابراہیم علیہ السلام ہاتھ سے نہ نکل جائیں۔ (ابن عاشور) {” فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِيْنَ “} میں {”هُمْ“} اور {” الْاَخْسَرِيْنَ “} دونوں کے معرفہ ہونے سے قصر کا فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ بس وہی انتہائی خسارے والے ہوئے، ابراہیم علیہ السلام کو ذرہ بھر خسارا نہیں ہوا۔ انھیں خسارے والے (ناکام) اس لیے قرار دیا کہ وہ ابراہیم علیہ السلام کی کسی بھی دلیل کا جواب نہ دے سکے جس کے ساتھ انھوں نے سورج، چاند اور ستاروں کو بے بس ثابت کیا، یا جس کے ساتھ انھوں نے بادشاہ کا بے اختیار ہونا ثابت کیا، یا بتوں کا معبود نہ ہونا ثابت کیا۔ پھر نہ ان سے بت توڑنے کا انتقام لے سکے اور نہ انھیں آگ میں جلا سکے، بلکہ وہ سب کچھ جو انھوں نے انھیں سزا دینے کے لیے تیار کیا تھا ان کے لیے معجزہ اور ان کی عظمتِ شان کا باعث بن گیا اور انتہائی خسارا یہ کہ اس واقعہ کے بعد اس قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ گیا، جیسا کہ سورۂ حج میں ان قوموں کا ذکر فرمایا جن پر اللہ کا عذاب آیا، تو ان میں قوم ابراہیم کا بھی ذکر ہے، آخر میں فرمایا: «{ فَاَمْلَيْتُ لِلْكٰفِرِيْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ }» [ الحج: ۴۴ ] ”تو میں نے ان کافروں کو مہلت دی، پھر میں نے انھیں پکڑ لیا تو میرا عذاب کیسا تھا؟“
وَ نَجَّیۡنٰہُ وَ لُوۡطًا اِلَی الۡاَرۡضِ الَّتِیۡ بٰرَکۡنَا فِیۡہَا لِلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۷۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ہم نے اُسے اور لوطؑ کو بچا کر اُس سرزمین کی طرف لے گئے جس میں ہم نے دنیا والوں کے لیے برکتیں رکھی ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم ابراہیم اور لوط کو بچاکر اس زمین کی طرف لے چلے جس میں ہم نے تمام جہان والوں کے لئے برکت رکھی تھی
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم اسے اور لوط کو نجات بخشی اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہاں والوں کے لیے برکت رکھی
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے انہیں اور لوط کو نجات دی اور اس سر زمین (شام) کی طرف لے گئے جسے ہم نے دنیا جہان والوں کیلئے بابرکت بنایا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اسے اور لوط کو اس سر زمین کی طرف نجات دی جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہجرت خلیل علیہ السلام ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام کو عراق کی سر زمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔ شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سر زمین ہے۔ یہیں عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب رحمہ اللہ آپ علیہ السلام حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ علیہ السلام نے ان سے اس قرار پر نکاح کر لیا کہ وہ آپ علیہ السلام کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے، انہی کا نام سارہ ہے رضی اللہ عنہا۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ سارہ آپ علیہ السلام کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ علیہ السلام کے ساتھ ہی ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکے شریف میں ختم ہوئی۔ مکے ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» ۱؎ ۱؎ [3-آل عمران:97-96] ‏‏‏‏ ’ یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت وہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آ جانے والا امن وسلامتی میں آ جاتا ہے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا ‘۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] ‏‏‏‏ چونکہ خلیل اللہ علیہ السلام کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت «رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ» ۱؎ [37-الصافات:100] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکوکار بنایا۔

ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنا دیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیان فرمایا۔ اور ارشاد ہوا کہ ’ وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے ‘۔ پھر لوط علیہ السلام کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور آپ علیہ السلام کی تابعداری میں آپ علیہ السلام ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت «فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ» ۱؎ [29-العنكبوت:26] ‏‏‏‏، ’ لوط علیہ السلام آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں ‘۔ پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فنا کر دئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں۔ یہاں فرمایا کہ ’ ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا ‘۔
71۔ 1 اس سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک ملک شام ہے۔ جسے شادابی اور پھلوں اور نہروں کی کثرت نیز انبیاء (علیہم السلام) کا مسکن ہونے کے لحاظ سے بابرکت کہا گیا ہے۔
(آیت 71){ وَ نَجَّيْنٰهُ وَ لُوْطًا …:} اس واقعہ کو دیکھ کر لوط علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لے آئے۔ دیکھیے سورۂ عنکبوت (۲۶) اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں جلنے سے محفوظ رکھا تھا اسی طرح ابراہیم اور لوط علیھما السلام دونوں کو ان ظالموں کے پنجے سے بحفاظت نکال کر شام کی طرف ہجرت کرنے کی آسانی عطا فرمائی۔ یہ بھی عظیم احسان تھا، کیونکہ وہاں سے ان کا نکلنا آسان نہ تھا۔ شام کی طرف ہجرت سے معلوم ہوا کہ ابراہیم علیہ السلام عراق کے رہنے والے تھے۔ برکت والی زمین کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱) کی تفسیر۔
وَ وَہَبۡنَا لَہٗۤ اِسۡحٰقَ ؕ وَ یَعۡقُوۡبَ نَافِلَۃً ؕ وَ کُلًّا جَعَلۡنَا صٰلِحِیۡنَ ﴿۷۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ہم نے اسے اسحاقؑ عطا کیا اور یعقوبؑ اس پر مزید، اور ہر ایک کو صالح بنایا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے اسےاسحاق عطا فرمایااور یعقوب اس پر مزید۔ اور ہرایک کو ہم نے صالح بنایا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے اسے اسحاق عطا فرمایا اور یعقوب پوتا، اور ہم نے ان سب کو اپنے قرب خاص کا سزاوار کیا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے اسحاق (جیسا بیٹا) اور مزید یعقوب (جیسا پوتا) عطا فرمایا اور سب کو صالح بنایا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اسے اسحاق اور زائد انعام کے طور پر یعقوب عطا کیا اور سبھی کو ہم نے نیک بنایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہجرت خلیل علیہ السلام ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام کو عراق کی سر زمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔ شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سر زمین ہے۔ یہیں عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب رحمہ اللہ آپ علیہ السلام حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ علیہ السلام نے ان سے اس قرار پر نکاح کر لیا کہ وہ آپ علیہ السلام کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے، انہی کا نام سارہ ہے رضی اللہ عنہا۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ سارہ آپ علیہ السلام کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ علیہ السلام کے ساتھ ہی ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکے شریف میں ختم ہوئی۔ مکے ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» ۱؎ ۱؎ [3-آل عمران:97-96] ‏‏‏‏ ’ یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت وہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آ جانے والا امن وسلامتی میں آ جاتا ہے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا ‘۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] ‏‏‏‏ چونکہ خلیل اللہ علیہ السلام کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت «رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ» ۱؎ [37-الصافات:100] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکوکار بنایا۔

ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنا دیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیان فرمایا۔ اور ارشاد ہوا کہ ’ وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے ‘۔ پھر لوط علیہ السلام کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور آپ علیہ السلام کی تابعداری میں آپ علیہ السلام ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت «فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ» ۱؎ [29-العنكبوت:26] ‏‏‏‏، ’ لوط علیہ السلام آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں ‘۔ پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فنا کر دئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں۔ یہاں فرمایا کہ ’ ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا ‘۔
72۔ 1 نَا فِلَۃ، زائد کو کہتے ہیں، یعنی حضرت ابراہیم ؑ نے تو صرف بیٹے کے لئے دعا کی تھی، ہم نے بغیر دعا مذید پوتا بھی عطا کردیا۔
(آیت 72) ➊ {وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ يَعْقُوْبَ نَافِلَةً:” نَافِلَةً “} کا معنی زائد عطیہ ہے۔ اس آیت کے دو معنی ہیں، ایک یہ کہ ہم نے اسے اسحاق عطا کیا اور زائد انعام کے طور پر یعقوب (پوتا) عطا کیا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب دونوں زائد انعام کے طور پر عطا کیے۔ مفسر ابن عاشور رحمہ اللہ نے اس کی بہت عمدہ توجیہ فرمائی ہے کہ سورۂ صافات (۱۰۰) میں مذکور ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام ہجرت کے لیے روانہ ہوئے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی: «{ رَبِّ هَبْ لِيْ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ }» ”اے میرے رب! مجھے (لڑکا) عطا کر جو نیکوں سے ہو۔“ فرمایا: «{ فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيْمٍ }» [ الصافات: ۱۰۱ ] ”تو ہم نے اسے ایک بہت بردبار لڑکے کی بشارت دی۔“ یہ بردبار لڑکا اسماعیل علیہ السلام تھے جن کی قربانی کا واقعہ بھی اس مقام پر مذکور ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کی دعا تو اسماعیل علیہ السلام کی ولادت سے قبول ہو گئی تھی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسحاق اور یعقوب علیھما السلام جو عطا کیے تو وہ بغیر دعا اور بغیر امید کے عطا فرمائے، اس لیے دونوں کو زائد عطیہ قرار دیا جو اسماعیل علیہ السلام کے بعد بلاطلب عطا ہوئے۔ دونوں کی خوش خبری بھی اکٹھی دی گئی تھی: «{ فَبَشَّرْنٰهَابِاِسْحٰقَ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ }» [ ھود: ۷۱ ] ”تو ہم نے اس (سارہ) کو اسحاق کی بشارت دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔“ ➋ {وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِيْنَ:كُلًّا “} سے مراد ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیھم السلام ہیں، کیونکہ آخری بات انھی کی ذکر ہوئی ہے۔ لوط علیہ السلام کا ذکر ابراہیم علیہ السلام کی معیت کے طور پر آیا ہے، ان کا الگ ذکر آگے آ رہا ہے۔ [ التحریر والتنویر ] {”صٰلِحِيْنَ “} اصلاح فساد کی ضد ہے۔ {” صَلَحَ “} (ف، ک) درست ہونا، یعنی ہم نے ان تمام پیغمبروں کو درست عقیدے اور درست عمل والا اپنا مکمل فرماں بردار بنایا۔
وَ جَعَلۡنٰہُمۡ اَئِمَّۃً یَّہۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡہِمۡ فِعۡلَ الۡخَیۡرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوۃِ وَ اِیۡتَآءَ الزَّکٰوۃِ ۚ وَ کَانُوۡا لَنَا عٰبِدِیۡنَ ﴿ۚۙ۷۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ہم نے اُن کو امام بنا دیا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے انہیں وحی کے ذریعہ نیک کاموں کی اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کی ہدایت کی، اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے انہیں پیشوا بنا دیا کہ ہمارے حکم سے لوگوں کی رہبری کریں اور ہم نے ان کی طرف نیک کاموں کے کرنے اور نمازوں کے قائم رکھنے اور زکوٰة دینے کی وحی (تلقین) کی، اور وه سب کے سب ہمارے عبادت گزار بندے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے انہیں امام کیا کہ ہمارے حکم سے بلاتے ہیں اور ہم نے انہیں وحی بھیجی اچھے کام کرنے اور نماز برپا رکھنے اور زکوٰة دینے کی اور وہ ہماری بندگی کرتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے انہیں ایسا امام (پیشوا) بنایا جو ہمارے حکم سے (لوگوں کو) ہدایت کرتے تھے اور ہم نے انہیں نیک کاموں کے کرنے، نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے کی وحی کی اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے ساتھ رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف نیکیاں کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی بھیجی اور وہ صرف ہماری عبادت کرنے والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہجرت خلیل علیہ السلام ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام کو عراق کی سر زمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔ شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سر زمین ہے۔ یہیں عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب رحمہ اللہ آپ علیہ السلام حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ علیہ السلام نے ان سے اس قرار پر نکاح کر لیا کہ وہ آپ علیہ السلام کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے، انہی کا نام سارہ ہے رضی اللہ عنہا۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ سارہ آپ علیہ السلام کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ علیہ السلام کے ساتھ ہی ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکے شریف میں ختم ہوئی۔ مکے ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» ۱؎ ۱؎ [3-آل عمران:97-96] ‏‏‏‏ ’ یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت وہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آ جانے والا امن وسلامتی میں آ جاتا ہے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا ‘۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] ‏‏‏‏ چونکہ خلیل اللہ علیہ السلام کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت «رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ» ۱؎ [37-الصافات:100] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکوکار بنایا۔

ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنا دیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیان فرمایا۔ اور ارشاد ہوا کہ ’ وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے ‘۔ پھر لوط علیہ السلام کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور آپ علیہ السلام کی تابعداری میں آپ علیہ السلام ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت «فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ» ۱؎ [29-العنكبوت:26] ‏‏‏‏، ’ لوط علیہ السلام آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں ‘۔ پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فنا کر دئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں۔ یہاں فرمایا کہ ’ ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 73) ➊ { وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا:} یعنی وہ صرف خود ہی ہر لحاظ سے درست اور ہمارے مکمل فرماں بردار نہ تھے، بلکہ وہ اپنی قوم کے پیشوا بھی تھے جو ہماری وحی کے مطابق دوسروں کو بھی حق کی طرف دعوت دیتے تھے۔ معلوم ہوا اصل ہدایت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہو اور جو ائمہ اللہ کے حکم کے بغیر حکم دیں تو وہ ہدایت کے امام نہیں، گمراہی کے امام ہیں۔ ➋ {وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ …:} یعنی صالحیت اور امامت کے علاوہ ہم نے انھیں اپنی وحی سے بھی سرفراز فرمایا۔ {”فِعْلَ الْخَيْرٰتِ “} میں اگرچہ تمام نیک اعمال آ جاتے ہیں مگر اسلام لانے کے بعد اللہ کے حقوق میں سے سب سے اہم عمل نماز اور بندوں کے حقوق میں سے سب سے اہم حق زکوٰۃ کا ذکر خاص طور پر فرمایا، کیونکہ اگر یہ نہیں تو اسلام بھی معتبر نہیں۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۵)۔ ➌ {وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِيْنَ:لَنَا “} پہلے آنے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا، یعنی وہ صرف ہماری عبادت کرنے والے تھے، کسی اور کو ہمارے ساتھ شریک کرنے والے نہ تھے۔
وَ لُوۡطًا اٰتَیۡنٰہُ حُکۡمًا وَّ عِلۡمًا وَّ نَجَّیۡنٰہُ مِنَ الۡقَرۡیَۃِ الَّتِیۡ کَانَتۡ تَّعۡمَلُ الۡخَبٰٓئِثَ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمَ سَوۡءٍ فٰسِقِیۡنَ ﴿ۙ۷۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور لوطؑ کو ہم نے حکم اور علم بخشا اور اُسے اُس بستی سے بچا کر نکال دیا جو بدکاریاں کرتی تھی درحقیقت وہ بڑی ہی بُری، فاسق قوم تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھی حکم اور علم دیا اور اسے اسی بستی سے نجات دی جہاں کے لوگ گندے کاموں میں مبتلا تھے۔ اور تھے بھی بدترین گنہگار
احمد رضا خان بریلوی
اور لوط کو ہم نے حکومت اور علم دیا اور اسے اس بستی سے نجات بخشی جو گندے کام کرتی تھی بیشک وہ برُے لوگ بے حکم تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے لوط (ع) کو حکمت اور علم عطا کیا۔ اور انہیں اس بستی سے نجات دی جس کے باشندے گندے کام کیا کرتے تھے واقعی وہ قوم بڑی بری اور نافرمان تھی۔
عبدالسلام بن محمد
اور لوط، ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا اور اسے اس بستی سے نجات دی جو گندے کام کیا کرتی تھی۔ یقینا وہ برے لوگ تھے جو نافرمان تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہجرت خلیل علیہ السلام ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام کو عراق کی سر زمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔ شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سر زمین ہے۔ یہیں عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب رحمہ اللہ آپ علیہ السلام حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ علیہ السلام نے ان سے اس قرار پر نکاح کر لیا کہ وہ آپ علیہ السلام کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے، انہی کا نام سارہ ہے رضی اللہ عنہا۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ سارہ آپ علیہ السلام کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ علیہ السلام کے ساتھ ہی ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکے شریف میں ختم ہوئی۔ مکے ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» ۱؎ ۱؎ [3-آل عمران:97-96] ‏‏‏‏ ’ یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت وہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آ جانے والا امن وسلامتی میں آ جاتا ہے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا ‘۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] ‏‏‏‏ چونکہ خلیل اللہ علیہ السلام کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت «رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ» ۱؎ [37-الصافات:100] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکوکار بنایا۔

ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنا دیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیان فرمایا۔ اور ارشاد ہوا کہ ’ وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے ‘۔ پھر لوط علیہ السلام کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور آپ علیہ السلام کی تابعداری میں آپ علیہ السلام ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت «فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ» ۱؎ [29-العنكبوت:26] ‏‏‏‏، ’ لوط علیہ السلام آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں ‘۔ پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فنا کر دئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں۔ یہاں فرمایا کہ ’ ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 75،74) {وَ لُوْطًا اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا …:} لوط علیہ السلام کا ذکر الگ کرنے سے ظاہر ہو رہا ہے کہ انھیں پہلے تینوں انبیاء کے علاقے اور قوم کے علاوہ کسی دوسرے علاقے اور قوم کی طرف بھیجا گیا تھا۔ لوط علیہ السلام کا قصہ سورۂ اعراف (۸۰)، ہود (۸۱) اور حجر (۶۱) میں گزر چکا ہے۔ ان کی بستی کے خبیث اعمال کا ذکر گزشتہ سورتوں کے علاوہ سورۂ عنکبوت (۲۸ تا ۳۵) اور سورۂ قمر (۳۳ تا ۳۷) وغیرہ میں بھی موجود ہے۔ اس بستی کا نام سدوم مشہور ہے۔
وَ اَدۡخَلۡنٰہُ فِیۡ رَحۡمَتِنَا ؕ اِنَّہٗ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿٪۷۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور لوطؑ کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا، وہ صالح لوگوں میں سے تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اپنی رحمت میں داخل کر لیا بے شک وه نیکو کار لوگوں میں سے تھا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے اسے اپنی رحمت میں داخل کیا، بیشک وہ ہمارے قرب خاص سزاواروں میں ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے اس (لوط(ع)) کو اپنی رحمت میں داخل کیا۔ بےشک وہ بڑے نیکوکاروں میں سے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اسے اپنی رحمت میں داخل کر لیا، یقینا وہ نیک لوگوں سے تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہجرت خلیل علیہ السلام ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام کو عراق کی سر زمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔ شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سر زمین ہے۔ یہیں عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب رحمہ اللہ آپ علیہ السلام حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ علیہ السلام نے ان سے اس قرار پر نکاح کر لیا کہ وہ آپ علیہ السلام کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے، انہی کا نام سارہ ہے رضی اللہ عنہا۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ سارہ آپ علیہ السلام کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ علیہ السلام کے ساتھ ہی ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکے شریف میں ختم ہوئی۔ مکے ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» ۱؎ ۱؎ [3-آل عمران:97-96] ‏‏‏‏ ’ یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت وہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آ جانے والا امن وسلامتی میں آ جاتا ہے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا ‘۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] ‏‏‏‏ چونکہ خلیل اللہ علیہ السلام کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت «رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ» ۱؎ [37-الصافات:100] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکوکار بنایا۔

ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنا دیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیان فرمایا۔ اور ارشاد ہوا کہ ’ وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے ‘۔ پھر لوط علیہ السلام کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور آپ علیہ السلام کی تابعداری میں آپ علیہ السلام ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت «فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ» ۱؎ [29-العنكبوت:26] ‏‏‏‏، ’ لوط علیہ السلام آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں ‘۔ پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فنا کر دئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں۔ یہاں فرمایا کہ ’ ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا ‘۔
75۔ 1 حضرت لوط علیہ السلام، حضرت ابراہیم ؑ کے برادر زاد (بھتیجے) تھے اور حضرت ابراہیم ؑ پر ایمان لانے والے اور ان کے ساتھ عراق سے ہجرت کرکے شام جانے والوں میں سے تھے۔ اللہ نے ان کو بھی علم و حکمت یعنی نبوت سے نوازا۔ یہ جس علاقے میں نبی بنا کر بھیجے گئے، اسے عمورہ اور سدوم کہا جاتا ہے۔ یہ فلسطین کے بحیرہ مردار سے متصل بجانب اردن ایک شاداب علاقہ تھا۔ جس کا بڑا حصہ اب بحیرہ مردار کا جزو ہے۔ ان کی قوم لواطت جیسے فعل شفیع، گزر گاہوں پر بیٹھ کر آنے جانے والوں پر آوازے کسنا اور انھیں تنگ کرنا روڑے ریزے پھینکنا وغیرہ میں ممتاز تھی، جسے اللہ نے یہاں خبائث (پلید کاموں) سے تعبیر فرمایا ہے۔ بالآخر حضرت لوط ؑ کو اپنی رحمت میں داخل کرکے یعنی انھیں اور ان کے پیرو کار کو بچا کر قوم کو تباہ کردیا گیا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ نُوۡحًا اِذۡ نَادٰی مِنۡ قَبۡلُ فَاسۡتَجَبۡنَا لَہٗ فَنَجَّیۡنٰہُ وَ اَہۡلَہٗ مِنَ الۡکَرۡبِ الۡعَظِیۡمِ ﴿ۚ۷۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور یہی نعمت ہم نے نوحؑ کو دی یاد کرو جبکہ اِن سب سے پہلے اُس نے ہمیں پکارا تھا ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے اور اس کے گھر والوں کو کرب عظیم سے نجات دی
مولانا محمد جوناگڑھی
نوح کے اس وقت کو یاد کیجئے جبکہ اس نے اس سے پہلے دعا کی ہم نے اس کی دعا قبول فرمائی اور اسے اور اس کے گھر والوں کو بڑے کرب سے نجات دی
احمد رضا خان بریلوی
اور نوح کو جب اس سے پہلے اس نے ہمیں پکارا تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے اور اس کے گھر والوں کو بڑی سختی سے نجات دی
علامہ محمد حسین نجفی
اور نوح(ع) (کا ذکر کیجئے) جب انہوں نے (ان سب سے) پہلے پکارا اور ہم نے ان کی دعا و پکار قبول کی اور انہیں اور ان کے اہل کو سخت غم و کرب سے نجات دی۔
عبدالسلام بن محمد
اور نوح کو بھی جب اس نے اس سے پہلے پکارا تو ہم نے اس کی دعا قبول کرلی، پھر اسے اور اس کے گھر والوں کو بہت بڑی گھبراہٹ سے بچا لیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام کی دعا ٭٭

نوح نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کی قوم نے ستایا۔ تکلیفیں دیں تو آپ علیہ السلام نے اللہ کو پکارا کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» ۱؎ [54-القمر:10] ‏‏‏‏ ’ باری تعالیٰ میں عاجز آ گیا ہوں تو میری مدد فرما ‘۔ «وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا» ۱؎ [71-نوح:26-27] ‏‏‏‏ ’ زمین پر ان کافروں میں سے کسی ایک کو بھی باقی نہ رکھ ورنہ یہ تیرے بندوں کو بہکائیں گے۔ اور ان کی اولادیں بھی ایسی ہی فاجر و کافر ہوں گی ‘۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی دعا قبول فرمائی «وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ ۚ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ» ۱؎ [11-ھود:40] ‏‏‏‏ اور آپ علیہ السلام کو اور مومنوں کو نجات دی اور آپ علیہ السلام کے اہل کو بھی سوائے ان کے جن کے نام برباد ہونے والوں میں آگئے تھے۔ آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کی بہت ہی کم مقدار تھی۔ قوم کی سختی، ایذاء دہی اور تکلیف سے رب عالم نے اپنے نبی علیہ السلام کو بچا لیا۔ ساڑھے نو سو سال تک آپ علیہ السلام ان میں رہے اور انہیں دین اسلام کی طرف بلاتے رہے مگر سوائے چند لوگوں کے اور سب اپنے شرک و کفر سے باز نہ آئے، بلکہ آپ علیہ السلام کو سخت ایذائیں دیں اور ایک دوسرے کو اذیت دینے کے لیے بھڑکاتے رہے۔ ’ ہم نے ان کی مدد فرمائی اور عزت و آبرو کے ساتھ کفار کی ایذاء رسانیوں سے چھٹکارا دیا اور ان برے لوگوں کوٹھکانے لگا دیا ‘، اور نوح علیہ السلام کی دعا کے مطابق روئے زمین پر ایک بھی کافر نہ بچا۔ سب ڈبو دئے گئے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 77،76) ➊ ابراہیم علیہ السلام کو آگ سے نجات دینے کے بعد نوح علیہ السلام کو پانی کے طوفان سے نجات دینے کا ذکر فرمایا۔ ➋ { وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ …:} نوح علیہ السلام کی اس دعا کا ذکر سورۂ نوح (۲۶ تا ۲۸) میں تفصیل سے مذکور ہے، اسی طرح سورۂ قمر میں ہے: «{ فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّيْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ }» [ القمر:۱۰] ”تو اس نے اپنے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہوں سو تو بدلہ لے۔“ ➌ { فَنَجَّيْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ:اَهْلَهٗ “} سے مراد ان کے مشرک بیٹے اور بیوی کے سوا باقی گھر والے ہیں۔ بیٹے کے متعلق دیکھیے سورۂ ہود (۴۰ تا ۴۳) اور بیوی کے متعلق سورۂ تحریم (۱۰)۔ ➍ {مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ:الْكَرْبِ “} کا معنی ہے {”أَقْصَي الْغَمِّ “} یعنی آخری حد کو پہنچا ہوا غم۔ {” الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ “} سے مراد کفار کی نوح علیہ السلام سے ساڑھے نو سو برس کی مسلسل مخالفت، بدسلوکی، ایذا رسانی، استہزا اور سنگسار کرنے کی دھمکیاں بھی ہیں، جن کا شکوہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور کیا، جو سورۂ نوح کی آیت (۵) سے آیت (۲۴) تک میں مذکور ہے اور جن کا ذکر سورۂ ہود (۳۸) اور شعراء (۱۱۶) میں ہے۔ پہاڑوں جیسی موجوں والا طوفان بھی مراد ہے، جس نے اللہ کے حکم سے زمین پر بسنے والا ایک مشرک بھی باقی نہ چھوڑا۔ ➎ { فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِيْنَ:} اس کی تفصیل سورۂ ہود (۳۷ تا ۴۹) میں ملاحظہ فرمائیں۔
وَ نَصَرۡنٰہُ مِنَ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمَ سَوۡءٍ فَاَغۡرَقۡنٰہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۷۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُس قوم کے مقابلے میں اُس کی مدد کی جس نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا تھا وہ بڑے بُرے لوگ تھے، پس ہم نے ان سب کو غرق کر دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلا رہے تھے ان کے مقابلے میں ہم نے اس کی مدد کی، یقیناً وه برے لوگ تھے پس ہم نےان سب کو ڈبو دیا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے ان لوگوں پر اس کو مدد دی جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں، بیشک وہ برے لوگ تھے تو ہم نے ان سب کو ڈبو دیا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان لوگوں کے مقابلہ میں جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے ان کی مدد کی بےشک وہ بڑے برے لوگ تھے۔ پس ہم نے ان سب کو غرق کر دیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ان لوگوں کے خلاف اس کی مدد کی جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا، بے شک وہ برے لوگ تھے تو ہم نے ان سب کو غرق کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام کی دعا ٭٭

نوح نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کی قوم نے ستایا۔ تکلیفیں دیں تو آپ علیہ السلام نے اللہ کو پکارا کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» ۱؎ [54-القمر:10] ‏‏‏‏ ’ باری تعالیٰ میں عاجز آ گیا ہوں تو میری مدد فرما ‘۔ «وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا» ۱؎ [71-نوح:26-27] ‏‏‏‏ ’ زمین پر ان کافروں میں سے کسی ایک کو بھی باقی نہ رکھ ورنہ یہ تیرے بندوں کو بہکائیں گے۔ اور ان کی اولادیں بھی ایسی ہی فاجر و کافر ہوں گی ‘۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی دعا قبول فرمائی «وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ ۚ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ» ۱؎ [11-ھود:40] ‏‏‏‏ اور آپ علیہ السلام کو اور مومنوں کو نجات دی اور آپ علیہ السلام کے اہل کو بھی سوائے ان کے جن کے نام برباد ہونے والوں میں آگئے تھے۔ آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کی بہت ہی کم مقدار تھی۔ قوم کی سختی، ایذاء دہی اور تکلیف سے رب عالم نے اپنے نبی علیہ السلام کو بچا لیا۔ ساڑھے نو سو سال تک آپ علیہ السلام ان میں رہے اور انہیں دین اسلام کی طرف بلاتے رہے مگر سوائے چند لوگوں کے اور سب اپنے شرک و کفر سے باز نہ آئے، بلکہ آپ علیہ السلام کو سخت ایذائیں دیں اور ایک دوسرے کو اذیت دینے کے لیے بھڑکاتے رہے۔ ’ ہم نے ان کی مدد فرمائی اور عزت و آبرو کے ساتھ کفار کی ایذاء رسانیوں سے چھٹکارا دیا اور ان برے لوگوں کوٹھکانے لگا دیا ‘، اور نوح علیہ السلام کی دعا کے مطابق روئے زمین پر ایک بھی کافر نہ بچا۔ سب ڈبو دئے گئے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیۡمٰنَ اِذۡ یَحۡکُمٰنِ فِی الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِیۡہِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ ۚ وَ کُنَّا لِحُکۡمِہِمۡ شٰہِدِیۡنَ ﴿٭ۙ۷۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اِسی نعمت سے ہم نے داؤدؑ اورسلیمانؑ کو سرفراز کیا یاد کرو وہ موقع جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصلہ کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دُوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں، اور ہم اُن کی عدالت خود دیکھ رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کو یاد کیجئے جبکہ وه کھیت کے معاملہ میں فیصلہ کر رہے تھے کہ کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو اس میں چر چگ گئی تھیں، اور ان کے فیصلے میں ہم موجود تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور داؤد اور سلیمان کو یاد کرو جب کھیتی کا ایک جھگڑا چکاتے تھے، جب رات کو اس میں کچھ لوگوں کی بکریاں چھوٹیں اور ہم ان کے حکم کے وقت حاضر تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور داؤد (ع) اور سلیمان (ع) (کا تذکرہ کیجئے) جب وہ کھیت کے بارے میں فیصلہ کر رہے تھے جب ایک گروہ کی بکریاں رات کے وقت اس میں گھس گئی تھیں اور ہم ان کے فیصلہ کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور داؤد اور سلیمان کو، جب وہ کھیتی کے بارے میں فیصلہ کر رہے تھے، جب اس میں لوگوں کی بکریاں رات چر گئیں اور ہم ان کے فیصلے کے وقت حاضر تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک ہی مقدمہ میں داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کے مختلف فیصلے ٭٭

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ کھیتی انگور کی تھی جس کے خوشے لٹک رہے تھے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:475/18:] ‏‏‏‏ «نَفَشَتْ» کے معنی ہیں رات کے وقت جانوروں کے چرنے کے، اور دن کے وقت چرنے کو عربی میں «ھَمَل» کہتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:477/18:] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس باغ کو بکریوں نے بگاڑ دیا۔ داؤد علیہ السلام نے یہ فیصلہ کیا کہ باغ کے نقصان کے بدلے یہ بکریاں باغ والے کو دے دی جائیں۔ سلیمان علیہ السلام نے یہ فیصلہ سن کر عرض کی کہ اے اللہ کے نبی علیہ السلام اس کے سوا بھی فیصلے کی کوئی صورت ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا وہ کیا؟ جواب دیا کہ بکریاں باغ والے کے حوالے کر دی جائیں، وہ ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور باغ بکری والے کو دے دیا جائے۔ یہ اس میں انگور کی بیلوں کی خدمت کرے یہاں تک کہ بیلیں ٹھیک ٹھاک ہو جائیں۔ انگور لگیں اور پھر اسی حالت پر آ جائیں جس پر تھے تو باغ والے کو اس کا باغ سونپ دے اور باغ والا اسے اس کی بکریاں سونپ دے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ ہم نے اس جھگڑے کا صحیح فیصلہ سلیمان علیہ السلام کو سمجھا دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:475/18:] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”داؤد علیہ السلام کا یہ فیصلہ سن کر بکریوں والے اپنا سا منہ لے کر صرف کتوں کو اپنے ساتھ لیے ہوئے واپس جا رہے تھے۔ سلیمان علیہ السلام نے انہیں دیکھ کر دریافت کیا کہ تمہارا فیصلہ کیا ہوا؟ انہوں نے خبر دی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا ”اگر میں اس جگہ ہوتا تو یہ فیصلہ نہ دیتا بلکہ کچھ اور فیصلہ کرتا۔‏‏‏‏“ داؤد علیہ السلام کو جب یہ بات پہنچی تو آپ علیہ السلام نے انہیں بلوایا اور پوچھا کہ بیٹے تم کیا فیصلہ کرتے؟ آپ نے وہی اوپر والا فیصلہ سنایا۔ مسروق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ان بکریوں نے خوشے اور پتے سب کھالئے تھے۔ تو داؤد علیہ السلام کے فیصلے کے خلاف سلیمان علیہ السلام نے فیصلہ دیا کہ ان لوگوں کی بکریاں باغ والوں کو دے دی جائیں اور یہ باغ انہیں سونپا جائے، جب تک باغ اپنی اصلی حالت پر آئے تب تک بکریوں کے بچے اور ان کا دودھ اور ان کا کل نفع باغ والوں کا۔ پھر ہر ایک کو ان کی چیز سونپ دی جائے۔‏‏‏‏“ قاضی شریح رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بھی ایک ایسا ہی جھگڑا آیا تھا تو آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر دن کو بکریوں نے نقصان پہنچایا ہے تب تو کوئی معاوضہ نہیں۔ اور اگر رات کو نقصان پہنچایا ہے تو بکریوں والے ضامن ہیں۔ پھر آپ رحمہ اللہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:479/18:] ‏‏‏‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کسی باغ میں چلی گئی اور وہاں باغ کا بڑا نقصان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ باغ والوں پر دن کے وقت باغ کی حفاظت ہے اور جو نقصان جانوروں سے رات کو ہو اس کا جرمانہ جانور والوں پر ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:238] ‏‏‏‏ اس حدیث میں علتیں نکالی گئی ہیں اور ہم نے کتاب الاحکام میں اللہ کے فضل سے اس کی پوری تفصیل بیان کر دی ہے۔ مروی ہے کہ ایاس بن معاویہ رحمتہ اللہ علیہ سے جب کہ قاضی بننے کی درخواست کی گئی تو وہ حسن رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آئے اور رو دئے۔ پوچھا گیا کہ اے ابوسعید آپ کیوں روتے ہیں؟ فرمایا مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ اگر قاضی نے اجتہاد کیا، پھر غلطی کی، وہ جہنمی ہے اور جو خواہش نفس کی طرف جھک گیا، وہ بھی جہنمی ہے۔ ہاں جس نے اجتہاد کیا اور صحت پر پہنچ گیا، وہ جنت میں پہنچا۔ حسن رحمہ اللہ یہ سن کر فرمانے لگے، ”سنو اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کی «قضاۃ» کا ذکر فرمایا ہے، ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام اعلیٰ منصب پر ہوتے ہیں، ان کے قول سے ان لوگوں کی باتیں رد ہو سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کی تعریف تو بیان فرمائی ہے لیکن داؤد علیہ السلام کی مذمت بیان نہیں فرمائی۔ پھر فرمانے لگے، سنو تین باتوں کا عہد اللہ تعالیٰ نے قاضیوں سے لیا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ منصفین شرع دنیوی نفع کی وجہ سے بدل نہ دیں، دوسرے یہ کہ اپنے دلی ارادوں اور خواہشوں کے پیچھے نہ پڑ جائیں، تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ» ۱؎ [38-ص:26] ‏‏‏‏ یعنی ’ اے داؤد! ہم نے تجھے زمین کا خلیفہ بنایا ہے تو لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلے کرتا رہ خواہش کے پیچے نہ پڑ کہ اللہ کی راہ سے بہک جائے ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ» ۱؎ [5-المائدہ:44] ‏‏‏‏ ’ لوگوں سے نہ ڈرو مجھی سے ڈرتے رہا کرو ‘۔ اور فرمان ہے آیت «وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا» ۱؎ [2-البقرة:41] ‏‏‏‏، ’ میری آیتوں کو معمولی نفع کی خاطر بیچ نہ دیا کرو ‘۔ میں کہتا ہوں انبیاء علیہم السلام کی معصومیت میں اور ان کی منجانب اللہ ہر وقت تائید ہوتے رہنے میں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ رہے اور لوگ تو صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب حاکم اجتہاد اور کوشش کرے پھر صحت تک پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور جب پوری کوشش کے بعد بھی غلطی کرجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7352] ‏‏‏‏ یہ حدیث صاف بتا رہی ہے کہ حضرت ایاس رحمہ اللہ کو جو وہم تھا کہ باوجود پوری جدوجہد کے بھی خطا کر جائے تو دوزخی ہے یہ غلط ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

سنن کی اور حدیث میں ہے، { قاضی تین قسم کے ہیں۔ ایک جنتی دو جہنمی اور جس نے حق کو معلوم کر لیا اور اسی سے فیصلہ کیا وہ جنتی۔ اور جس نے جہالت کے ساتھ فیصلہ کیا وہ جہنمی اور جس نے حق کو جانتے ہوئے اس کے خلاف فیصلہ دیا وہ بھی جہنمی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3573، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ قرآن کریم کے بیان کردہ اس واقعے کے قریب ہی وہ قصہ ہے جو مسند احمد میں ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، دو عورتیں تھیں جن کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے۔ بھیڑیا آ کر ایک بچے کو اٹھا لے گیا، اب ہر ایک دوسری سے کہنے لگی کہ تیرا بچہ گیا اور جو ہے وہ میرا بچہ ہے۔ آخر یہ قصہ داؤد علیہ السلام کے سامنے پیش ہوا۔ آپ علیہ السلام نے بڑی عورت کو ڈگری دے دی کہ یہ بچہ تیرا ہے۔ یہ یہاں سے نکلیں راستے میں سلیمان علیہ السلام تھے، آپ علیہ السلام نے دونوں کو بلایا اور فرمایا چھری لاؤ۔ میں اس لڑکے کے دو ٹکڑے کر کے آدھا آدھا ان دونوں کو دے دیتا ہوں۔ اس پر بڑی تو خاموش ہوگئی لیکن چھوٹی نے ہائے واویلا شروع کر دیا کہ اللہ آپ علیہ السلام پر رحم کرے آپ علیہ السلام ایسا نہ کیجئے، یہ لڑکا اسی بڑی کا ہے اسی کو دے دیجئیے۔ سلیمان علیہ السلام معاملے کو سمجھ گئے اور لڑکا چھوٹی عورت کو دلادیا }۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3427] ‏‏‏‏

امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ نے اس پر باب باندھا ہے کہ حاکم کو جائز ہے کہ اپنا فیصلہ اپنے دل میں رکھ کر حقیقت کو معلوم کرنے کے لیے اس کے خلاف کچھ کہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ابن عساکر میں ہے کہ ایک خوبصورت عورت سے ایک رئیس نے ملنا چاہا لیکن عورت نے نہ مانا، اسی طرح تین اور شخصوں نے بھی اس سے بدکاری کا ارادہ کیا لیکن وہ باز رہی۔ اس پر وہ رؤسا خار کھا گئے اور آپس میں اتفاق کر کے داؤد علیہ السلام کی عدالت میں جا کر سب نے گواہی دی کہ وہ عورت اپنے کتے سے ایسا کام کراتی ہے چاروں کے متفقہ بیان پر حکم ہوگیا کہ اسے رجم کر دیا جائے۔ اسی شام کو سلیمان علیہ السلام اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر خود حاکم بنے اور چار لڑکے ان لوگوں کی طرح آپ علیہ السلام کے پاس اس مقدمے کو لائے اور ایک عورت کی نسبت یہی کہا۔ سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا ان چاروں کو الگ الگ کر دو۔ پھر ایک کو اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا کہ اس کتے کا رنگ کیسا تھا؟ اس نے کہا سیاہ۔ پھر دوسرے کو تنہا بلایا اس سے بھی یہی سوال کیا اس نے کہا سرخ۔ تیسرے نے کہا خاکی۔ چوتھے نے کہا سفید۔ آپ علیہ السلام نے اسی وقت فیصلہ دیا کہ عورت پر یہ نری تہمت ہے اور ان چاروں کو قتل کر دیا جائے۔ داؤد علیہ السلام کے پاس بھی یہ واقعہ بیان کیا گیا۔ آپ علیہ السلام نے اسی وقت فی الفور ان چاروں امیروں کو بلایا اور اسی طرح الگ الگ ان سے اس کتے کے رنگ کی بابت سوال کیا۔ یہ گڑبڑا گئے۔ کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ۔ آپ کو ان کا جھوٹ معلوم ہو گیا اور حکم فرمایا کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔

پھر بیان ہو رہا ہے کہ ’ داؤد علیہ السلام کو وہ نورانی گلا عطا فرمایا گیا تھا اور آپ علیہ السلام ایسی خوش آوازی اور خلوص کے ساتھ زبور پڑھتے تھے کہ پرند بھی اپنی پرواز چھوڑ کر تھم جاتے تھے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے لگتے تھے۔ اسی طرح پہاڑ بھی ‘۔ آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ» ۱؎ [34-سبأ:10] ‏‏‏‏ ’ اور ہم نے داؤد پر اپنا فضل کیا، اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی (‏‏‏‏یہی حکم ہے) اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کر دیا ‘۔

ایک روایت میں ہے کہ { رات کے وقت سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تلاوت قرآن کریم کر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی میٹھی رسیلی اور خلوص بھری آواز سن کر ٹھہر گئے اور دیر تک سنتے رہے، پھر فرمانے لگے { یہ تو آل داؤد کی آوازوں کی شیرینی دیئے گئے ہیں }۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہا کو جب معلوم ہوا تو فرمانے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مجھے معلوم ہوتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری قرأت سن رہے ہیں تو میں اور بھی اچھی طرح پڑھتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5048] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 79،78) ➊ {وَ دَاوٗدَ وَ سُلَيْمٰنَ اِذْ يَحْكُمٰنِ فِي الْحَرْثِ …: ” نَفَشَتْ “} کا معنی ہے جانوروں کا رات کو کھیت میں پھیل جانا اور اس کی کھیتی اور پودوں کو کھا جانا۔ {” غَنَم“} کا لفظ بھیڑ بکری دونوں پر آتا ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے داؤد اور سلیمان علیھما السلام کو عطا کردہ نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلے وہ نعمت ذکر فرمائی جو دونوں کو عطا ہوئی تھی اور جو بعد میں آنے والی تمام نعمتوں سے افضل ہے، چنانچہ فرمایا: «{ وَ كُلًّا اٰتَيْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا» ‏‏‏‏ ” حُكْمًا “} سے مراد قوت فیصلہ ہے اور {” عِلْمًا “} سے مراد علم شریعت ہے۔ ➋ ان آیات کی تفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں آئی، البتہ ابن جریر نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے اس آیت کے متعلق فرمایا: [ كَرْمٌ قَدْ أَنْبَتَتْ عَنَاقِيْدُهُ فَأَفْسَدَتْهُ الْغَنَمُ قَالَ فَقَضَی دَاوٗدُ بِالْغَنَمِ لِصَاحِبِ الْكَرْمِ، فَقَالَ سُلَيْمَانُ غَيْرُ هٰذَا يَا نَبِيَّ اللّٰهِ! قَالَ وَمَا ذٰلِكَ؟ قَالَ تَدْفَعُ الْكَرْمَ اِلٰي صَاحِبِ الْغَنَمِ فَيَقُوْمُ عَلَيْهِ حَتّٰی يَعُوْدَ كَمَا كَانَ وَتَدْفَعُ الْغَنَمَ اِلٰي صَاحِبِ الْكَرْمِ فَيُصِيْبَ مِنْهَا حَتّٰی إِذَا عَادَ الْكَرْمَ كَمَا كَانَ دَفَعْتَ الْكَرْمَ اِلٰی صَاحِبِهِ وَدَفَعْتَ الْغَنَمَ اِلٰی صَاحِبِهَا قَالَ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ: «{ فَفَهَّمْنٰهَا سُلَيْمٰنَ وَ كُلًّا اٰتَيْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا }» ] [ مستدرک: 588/2، ح: ۴۱۳۸ ] ”یہ انگور کی بیلیں تھیں جن کے گچھے نکل چکے تھے، جنھیں بھیڑ بکریوں نے اجاڑ دیا تھا۔ فرماتے ہیں کہ داؤد علیہ السلام نے فیصلہ فرمایا کہ بھیڑ بکریاں انگور کی بیلوں کے مالک کو دے دی جائیں، تو سلیمان علیہ السلام نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! اس کا فیصلہ اور ہے۔“ انھوں نے پوچھا: ”وہ کیا ہے؟“ عرض کی: ”آپ انگور کی بیلیں بھیڑ بکریوں والے کے حوالے کر دیں، وہ ان کی نگہداشت کرے جب تک وہ دوبارہ پہلے جیسی نہ ہو جائیں اور بھیڑ بکریاں انگور کی بیلوں والے کے حوالے کر دیں، وہ اس وقت تک ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور جب انگوروں کی بیلیں پہلی حالت پر لوٹ آئیں تو آپ انگوروں کی بیلیں اس کے مالک کے سپرد اور بھیڑ بکریاں اس کے مالک کے سپرد کر دیں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”تو ہم نے وہ (فیصلہ) سلیمان کو سمجھا دیا اور ہم نے ہر ایک کو حکم اور علم عطا کیا۔“ ابن کثیر کے محقق دکتور حکمت بن بشیر نے فرمایا: ”حاکم نے اسے روایت کرکے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ (اس سند میں ابو اسحاق کی تدلیس موجود ہے)۔“ دکتور حکمت بن بشیر لکھتے ہیں: ”طبری نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد کا یہی قول نقل فرمایا ہے اور قتادہ اور ابن زید کا یہی قول صحیح سند کے ساتھ مسند عبد الرزاق میں بھی مروی ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے یہ واقعہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم داؤد اور سلیمان کے فیصلے کے وقت حاضر تھے، یعنی ہمیں اس کی ایک ایک جزئی کا پورا علم ہے۔ اگرچہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ تفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے کی صراحت نہیں کی، تاہم واقعہ کی صورت وہی معلوم ہوتی ہے جو انھوں نے بیان کی ہے۔ اس لیے بھی کہ بائبل میں اس واقعہ کا ذکر نہیں اور نہ یہ یہودی لٹریچر میں معروف ہے اور پھر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اسرائیلیات بیان کرنے میں معروف بھی نہیں ہیں۔ ➌ داؤد اور سلیمان علیھما السلام دونوں میں سے ہر ایک کا فیصلہ ان کا اجتہاد تھا، کیونکہ اگر وہ وحی سے ہوتا تو داؤد علیہ السلام کے فیصلے کے بعد اور فیصلے کی گنجائش نہ ہوتی۔ انبیاء بھی اجتہاد فرماتے ہیں مگر ان کے اجتہاد اور دوسرے لوگوں کے اجتہاد میں یہ فرق ہے کہ انبیاء کے اجتہاد میں اگر کوئی خطا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کر دیتا ہے، جیسا کہ یہاں سلیمان علیہ السلام کے فیصلے کے ساتھ اس کی اصلاح فرما دی اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا: «{ عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ }» [ التوبۃ: ۴۳ ] ”اللہ نے تجھے معاف کر دیا، تو نے انھیں کیوں اجازت دی۔“ اور فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ }» [ التحریم: ۱ ] ”اے نبی! تو کیوں حرام کرتا ہے جو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا ہے؟“ اگر کسی بات پر اللہ تعالیٰ خاموشی اختیار فرمائے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی موافقت کی وجہ سے حق ہوتی ہے اور وحی کا حکم رکھتی ہے، یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «{ وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى (3) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى }» [ النجم: ۳، ۴ ] کا۔ انبیاء علیھم السلام کے سوا کسی مجتہد کی خطا کی بذریعہ وحی اصلاح نہیں ہوتی، اس لیے ان کے اجتہادات شریعت میں حجت نہیں ہیں۔ ➍ مسئلہ: اگر کسی کے جانور دن کے وقت کسی دوسرے کے کھیت یا باغ کو چر جائیں تو جانور والے پر کوئی تاوان نہیں ہے اور اگر رات کے وقت چر جائیں تو جس قدر نقصان ہو اس قدر تاوان جانور والے کے ذمے ہو گا، جیسا کہ براء بن عازب رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ میری ایک اونٹنی تھی جو بہت نقصان کیا کرتی تھی، ایک دفعہ وہ ایک باغ میں داخل ہو گئی اور وہاں نقصان کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات کی گئی تو آپ نے فیصلہ فرمایا: ” دن کے وقت باغات کی نگرانی اور حفاظت ان کے مالکوں کے ذمے ہے اور رات کے وقت جانوروں کی نگرانی ان کے مالکوں کے ذمے ہے اور رات کے وقت جانور جو نقصان کر جائیں تو وہ ان کے مالکوں کے ذمے ہے (کہ اسے پورا کریں)۔“ [ أبو داوٗد، الإجارۃ، باب المواشی تفسد زرع قوم: ۳۵۷۰۔ ابن ماجہ: ۲۳۳۲۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 237/1، ح:۲۳۸ ] بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ جانور والے پر کسی صورت تاوان نہیں ہے اور دلیل میں {”اَلْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ“} (جانور کا کسی کو زخمی کر دینا رائگاں ہے) پیش کرتے ہیں، حالانکہ اس حدیث میں صرف زخم کے معاف ہونے کا ذکر ہے، کھیت کے نقصان کے معاف ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا براء بن عازب رضی اللہ عنھما والی حدیث میں اور اس میں کوئی تعارض نہیں ہے کہ براء رضی اللہ عنھما کی حدیث کو منسوخ کہا جائے۔ (قرطبی) ➎ اس آیت سے اس حدیث کی تائید ہوتی ہے جو عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهٗ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهٗ أَجْرٌ ] [ بخاري، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب أجر الحاکم إذا اجتھد…: ۷۳۵۲ ] ”جب حاکم فیصلہ کرے اور پوری کوشش کرے، پھر درست فیصلہ کرے تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور جب وہ فیصلہ کرے اور پوری کوشش کرے، پھر خطا کر جائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔“ یہاں اللہ تعالیٰ نے اگرچہ {” فَفَهَّمْنٰهَا سُلَيْمٰنَ “} (ہم نے وہ فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا) کہہ کر سلیمان علیہ السلام کے فیصلے کی تائید فرمائی، مگر داؤد اور سلیمان دونوں کے متعلق فرمایا: «وَ كُلًّا اٰتَيْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا» کہ ہم نے ہر ایک کو حکم اور علم عطا کیا۔ ➏ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلیمان علیہ السلام کے کمال فہم و ذکاوت کا ایک اور واقعہ روایت کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كَانَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ صَاحِبَتُهَا إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، وَقَالَتِ الْأُخْرَی إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، فَتَحاكَمَتَا إِلٰی دَاوٗدَ فَقَضَی بِهِ لِلْكُبْرٰی، فَخَرَجَتَا عَلٰی سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوٗدَ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ فَأَخْبَرَتَاهٗ فَقَالَ ائْتُوْنِيْ بِالسِّكِّيْنِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرٰی لاَ تَفْعَلْ يَرْحَمُكَ اللّٰهُ، هُوَ ابْنُهَا، فَقَضَی بِهِ لِلْصُّغْرٰی] [بخاري، الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «‏‏‏‏ووھبنا لداوٗد سلیمان …» ‏‏‏‏: ۳۴۲۷۔ مسلم: ۱۷۲۰۔ نسائی: ۵۴۰۵ ] ”دو عورتیں تھیں جن کے پاس ان کے بیٹے تھے۔ بھیڑیا آیا اور ان میں سے ایک کے بیٹے کو لے گیا۔ وہ اپنی ساتھی عورت سے کہنے لگی کہ وہ تو تمھارا بیٹا لے گیا ہے۔ دوسری کہنے لگی، وہ تمھارا بیٹا ہی لے گیا ہے۔ چنانچہ وہ دونوں فیصلے کے لیے داؤد علیہ السلام کے پاس گئیں۔ انھوں نے اس کا فیصلہ بڑی کے حق میں کر دیا۔ دونوں جاتے ہوئے سلیمان بن داؤد علیھما السلام کے پاس سے گزریں تو انھیں یہ بات بتائی، انھوں نے فرمایا: ”میرے پاس چاقو لاؤ، میں اسے دونوں کے درمیان چیر دوں۔“ تو چھوٹی نے کہا: ”ایسا نہ کریں، اللہ آپ پر رحم کرے، یہ اسی کا بیٹا ہے۔“ چنانچہ انھوں نے اس کا فیصلہ چھوٹی کے حق میں کر دیا۔“ امام نسائی نے اس حدیث پر باب باندھا ہے کہ حاکم کے لیے گنجائش ہے کہ جو کام اس نے نہیں کرنا، اس کے متعلق کہے کہ میں ایسا کرتا ہوں، تا کہ حق واضح ہو جائے۔ ➐ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض اوقات بیٹا باپ سے زیادہ بات سمجھ لیتا ہے، اس میں کفار عرب کے لیے بھی سبق ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کے باوجود آبا و اجداد کی رسوم چھوڑنے پر تیار نہ تھے اور ان مقلدین کے لیے بھی جنھوں نے چار اماموں کے بعد اجتہاد کا دروازہ قیامت تک کے لیے بند کر دیا ہے۔ بتائیے اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے فیض عام کی توہین اور کیا ہو گی؟ ➑ { وَ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَ الطَّيْرَ:} اس سے پہلے ابراہیم اور نوح علیھما السلام کی خاطر آگ اور پانی کو مسخر کرنے کا ذکر فرمایا تھا۔ اب داؤد اور سلیمان علیھما السلام دونوں پر مشترکہ نعمت حکم و علم کا ذکر کرنے کے بعد دونوں کو عطا کر دہ نعمتیں الگ الگ ذکر فرمائیں۔ چنانچہ داؤد علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر اور پابند کر دیا اور انھیں اتنی خوبصورت آواز عطا فرمائی کہ جب وہ اللہ کی کتاب زبور پڑھتے یا تسبیح کرتے تو پہاڑ اور پرندے بھی ان کے ساتھ تسبیح کرتے۔ سورۂ سبا میں فرمایا: «{ يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَ الطَّيْرَ }» [ سبا: ۱۰ ] ”اے پہاڑو! اس کے ساتھ تسبیح کو دہراؤ اور پرندوں کو بھی (یہی حکم دیا)۔“ سورۂ صٓ میں فرمایا: «{ اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَ الْاِشْرَاقِ (18) وَ الطَّيْرَ مَحْشُوْرَةً كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ }» [ صٓ: ۱۸، ۱۹ ] ”بے شک ہم نے پہاڑوں کو اس کے ہمراہ مسخر کر دیا، وہ دن کے پچھلے پہر اور سورج چڑھنے کے وقت تسبیح کرتے تھے اور پرندوں کو بھی، جب کہ وہ اکٹھے کیے ہوتے، سب اس کے لیے رجوع کرنے والے تھے۔“ سبحان اللہ! وہ کیسا حسین منظر ہو گا جب اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کے ساتھ پہاڑ اور پرندے بھی مصروف تسبیح ہوتے ہوں گے۔ بعض لوگوں نے پہاڑوں کی تسبیح کا مطلب داؤد علیہ السلام کی بلند اور سریلی آواز سے ان کا گونج اٹھنا اور پرندوں کی تسبیح سے مراد ان کا ٹھہر جانا قرار دیا ہے، مگر درحقیقت یہ پہاڑوں اور پرندوں کی ان کے ہمراہ تسبیح کو ناممکن سمجھ کر اس کا انکار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چیز داؤد علیہ السلام پر خاص نعمت کے طورپر ذکر فرمائی ہے، پہاڑوں کی گونج تو ہر بلند آواز سے پیدا ہوتی ہے، اچھی ہو یا بری، اس میں داؤد علیہ السلام کی خصوصیت کیا ہوئی؟ اس لیے صحیح معنی یہی ہے کہ پہاڑ اور پرندے فی الواقع ان کے ہمراہ تسبیح کرتے تھے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۴۴)۔ ➒ { وَ كُنَّا فٰعِلِيْنَ:} یعنی تعجب مت کرو کہ وہ پہاڑ اور پرندے کیسے بولتے اور تسبیح کرتے تھے، یہ سب کچھ ہمارے کرنے سے ہوتا تھا۔ (کبیر)
فَفَہَّمۡنٰہَا سُلَیۡمٰنَ ۚ وَ کُلًّا اٰتَیۡنَا حُکۡمًا وَّ عِلۡمًا ۫ وَّ سَخَّرۡنَا مَعَ دَاوٗدَ الۡجِبَالَ یُسَبِّحۡنَ وَ الطَّیۡرَ ؕ وَ کُنَّا فٰعِلِیۡنَ ﴿۷۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمانؑ کو سمجھا دیا، حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا داؤدؑ کے ساتھ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخّر کر دیا تھا جو تسبیح کرتے تھے، اِس فعل کے کرنے والے ہم ہی تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے اس کا صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا۔ ہاں ہر ایک کو ہم نے حکم وعلم دے رکھا تھا اور داؤد کے تابع ہم نے پہاڑ کر دیئے تھے جو تسبیح کرتے تھے اور پرند بھی۔ ہم کرنے والے ہی تھے
احمد رضا خان بریلوی
ہم نے وہ معاملہ سلیمان کو سمجھادیا اور دونوں کو حکومت اور علم عطا کیا اور داؤد کے ساتھ پہاڑ مسخر فرمادیے کہ تسبیح کرتے اور پرندے اور یہ ہمارے کام تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے اس کا فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا تھا اور ہم نے ہر ایک کو حکمت اور علم عطا کیا تھا اور ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کر دیا تھا جو ان کے ساتھ تسبیح کیا کرتے تھے اور (یہ کام) کرنے والے ہم ہی تھے۔
عبدالسلام بن محمد
تو ہم نے وہ (فیصلہ) سلیمان کو سمجھا دیا اور ہم نے ہر ایک کو حکم اور علم عطا کیا اور ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑوں کومسخر کر دیا، جو تسبیح کرتے تھے اور پرندوں کو بھی اور ہم ہی کرنے والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک ہی مقدمہ میں داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کے مختلف فیصلے ٭٭

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ کھیتی انگور کی تھی جس کے خوشے لٹک رہے تھے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:475/18:] ‏‏‏‏ «نَفَشَتْ» کے معنی ہیں رات کے وقت جانوروں کے چرنے کے، اور دن کے وقت چرنے کو عربی میں «ھَمَل» کہتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:477/18:] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس باغ کو بکریوں نے بگاڑ دیا۔ داؤد علیہ السلام نے یہ فیصلہ کیا کہ باغ کے نقصان کے بدلے یہ بکریاں باغ والے کو دے دی جائیں۔ سلیمان علیہ السلام نے یہ فیصلہ سن کر عرض کی کہ اے اللہ کے نبی علیہ السلام اس کے سوا بھی فیصلے کی کوئی صورت ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا وہ کیا؟ جواب دیا کہ بکریاں باغ والے کے حوالے کر دی جائیں، وہ ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور باغ بکری والے کو دے دیا جائے۔ یہ اس میں انگور کی بیلوں کی خدمت کرے یہاں تک کہ بیلیں ٹھیک ٹھاک ہو جائیں۔ انگور لگیں اور پھر اسی حالت پر آ جائیں جس پر تھے تو باغ والے کو اس کا باغ سونپ دے اور باغ والا اسے اس کی بکریاں سونپ دے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ ہم نے اس جھگڑے کا صحیح فیصلہ سلیمان علیہ السلام کو سمجھا دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:475/18:] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”داؤد علیہ السلام کا یہ فیصلہ سن کر بکریوں والے اپنا سا منہ لے کر صرف کتوں کو اپنے ساتھ لیے ہوئے واپس جا رہے تھے۔ سلیمان علیہ السلام نے انہیں دیکھ کر دریافت کیا کہ تمہارا فیصلہ کیا ہوا؟ انہوں نے خبر دی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا ”اگر میں اس جگہ ہوتا تو یہ فیصلہ نہ دیتا بلکہ کچھ اور فیصلہ کرتا۔‏‏‏‏“ داؤد علیہ السلام کو جب یہ بات پہنچی تو آپ علیہ السلام نے انہیں بلوایا اور پوچھا کہ بیٹے تم کیا فیصلہ کرتے؟ آپ نے وہی اوپر والا فیصلہ سنایا۔ مسروق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ان بکریوں نے خوشے اور پتے سب کھالئے تھے۔ تو داؤد علیہ السلام کے فیصلے کے خلاف سلیمان علیہ السلام نے فیصلہ دیا کہ ان لوگوں کی بکریاں باغ والوں کو دے دی جائیں اور یہ باغ انہیں سونپا جائے، جب تک باغ اپنی اصلی حالت پر آئے تب تک بکریوں کے بچے اور ان کا دودھ اور ان کا کل نفع باغ والوں کا۔ پھر ہر ایک کو ان کی چیز سونپ دی جائے۔‏‏‏‏“ قاضی شریح رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بھی ایک ایسا ہی جھگڑا آیا تھا تو آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر دن کو بکریوں نے نقصان پہنچایا ہے تب تو کوئی معاوضہ نہیں۔ اور اگر رات کو نقصان پہنچایا ہے تو بکریوں والے ضامن ہیں۔ پھر آپ رحمہ اللہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:479/18:] ‏‏‏‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کسی باغ میں چلی گئی اور وہاں باغ کا بڑا نقصان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ باغ والوں پر دن کے وقت باغ کی حفاظت ہے اور جو نقصان جانوروں سے رات کو ہو اس کا جرمانہ جانور والوں پر ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:238] ‏‏‏‏ اس حدیث میں علتیں نکالی گئی ہیں اور ہم نے کتاب الاحکام میں اللہ کے فضل سے اس کی پوری تفصیل بیان کر دی ہے۔ مروی ہے کہ ایاس بن معاویہ رحمتہ اللہ علیہ سے جب کہ قاضی بننے کی درخواست کی گئی تو وہ حسن رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آئے اور رو دئے۔ پوچھا گیا کہ اے ابوسعید آپ کیوں روتے ہیں؟ فرمایا مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ اگر قاضی نے اجتہاد کیا، پھر غلطی کی، وہ جہنمی ہے اور جو خواہش نفس کی طرف جھک گیا، وہ بھی جہنمی ہے۔ ہاں جس نے اجتہاد کیا اور صحت پر پہنچ گیا، وہ جنت میں پہنچا۔ حسن رحمہ اللہ یہ سن کر فرمانے لگے، ”سنو اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کی «قضاۃ» کا ذکر فرمایا ہے، ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام اعلیٰ منصب پر ہوتے ہیں، ان کے قول سے ان لوگوں کی باتیں رد ہو سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کی تعریف تو بیان فرمائی ہے لیکن داؤد علیہ السلام کی مذمت بیان نہیں فرمائی۔ پھر فرمانے لگے، سنو تین باتوں کا عہد اللہ تعالیٰ نے قاضیوں سے لیا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ منصفین شرع دنیوی نفع کی وجہ سے بدل نہ دیں، دوسرے یہ کہ اپنے دلی ارادوں اور خواہشوں کے پیچھے نہ پڑ جائیں، تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ» ۱؎ [38-ص:26] ‏‏‏‏ یعنی ’ اے داؤد! ہم نے تجھے زمین کا خلیفہ بنایا ہے تو لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلے کرتا رہ خواہش کے پیچے نہ پڑ کہ اللہ کی راہ سے بہک جائے ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ» ۱؎ [5-المائدہ:44] ‏‏‏‏ ’ لوگوں سے نہ ڈرو مجھی سے ڈرتے رہا کرو ‘۔ اور فرمان ہے آیت «وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا» ۱؎ [2-البقرة:41] ‏‏‏‏، ’ میری آیتوں کو معمولی نفع کی خاطر بیچ نہ دیا کرو ‘۔ میں کہتا ہوں انبیاء علیہم السلام کی معصومیت میں اور ان کی منجانب اللہ ہر وقت تائید ہوتے رہنے میں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ رہے اور لوگ تو صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب حاکم اجتہاد اور کوشش کرے پھر صحت تک پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور جب پوری کوشش کے بعد بھی غلطی کرجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7352] ‏‏‏‏ یہ حدیث صاف بتا رہی ہے کہ حضرت ایاس رحمہ اللہ کو جو وہم تھا کہ باوجود پوری جدوجہد کے بھی خطا کر جائے تو دوزخی ہے یہ غلط ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

سنن کی اور حدیث میں ہے، { قاضی تین قسم کے ہیں۔ ایک جنتی دو جہنمی اور جس نے حق کو معلوم کر لیا اور اسی سے فیصلہ کیا وہ جنتی۔ اور جس نے جہالت کے ساتھ فیصلہ کیا وہ جہنمی اور جس نے حق کو جانتے ہوئے اس کے خلاف فیصلہ دیا وہ بھی جہنمی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3573، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ قرآن کریم کے بیان کردہ اس واقعے کے قریب ہی وہ قصہ ہے جو مسند احمد میں ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، دو عورتیں تھیں جن کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے۔ بھیڑیا آ کر ایک بچے کو اٹھا لے گیا، اب ہر ایک دوسری سے کہنے لگی کہ تیرا بچہ گیا اور جو ہے وہ میرا بچہ ہے۔ آخر یہ قصہ داؤد علیہ السلام کے سامنے پیش ہوا۔ آپ علیہ السلام نے بڑی عورت کو ڈگری دے دی کہ یہ بچہ تیرا ہے۔ یہ یہاں سے نکلیں راستے میں سلیمان علیہ السلام تھے، آپ علیہ السلام نے دونوں کو بلایا اور فرمایا چھری لاؤ۔ میں اس لڑکے کے دو ٹکڑے کر کے آدھا آدھا ان دونوں کو دے دیتا ہوں۔ اس پر بڑی تو خاموش ہوگئی لیکن چھوٹی نے ہائے واویلا شروع کر دیا کہ اللہ آپ علیہ السلام پر رحم کرے آپ علیہ السلام ایسا نہ کیجئے، یہ لڑکا اسی بڑی کا ہے اسی کو دے دیجئیے۔ سلیمان علیہ السلام معاملے کو سمجھ گئے اور لڑکا چھوٹی عورت کو دلادیا }۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3427] ‏‏‏‏

امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ نے اس پر باب باندھا ہے کہ حاکم کو جائز ہے کہ اپنا فیصلہ اپنے دل میں رکھ کر حقیقت کو معلوم کرنے کے لیے اس کے خلاف کچھ کہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ابن عساکر میں ہے کہ ایک خوبصورت عورت سے ایک رئیس نے ملنا چاہا لیکن عورت نے نہ مانا، اسی طرح تین اور شخصوں نے بھی اس سے بدکاری کا ارادہ کیا لیکن وہ باز رہی۔ اس پر وہ رؤسا خار کھا گئے اور آپس میں اتفاق کر کے داؤد علیہ السلام کی عدالت میں جا کر سب نے گواہی دی کہ وہ عورت اپنے کتے سے ایسا کام کراتی ہے چاروں کے متفقہ بیان پر حکم ہوگیا کہ اسے رجم کر دیا جائے۔ اسی شام کو سلیمان علیہ السلام اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر خود حاکم بنے اور چار لڑکے ان لوگوں کی طرح آپ علیہ السلام کے پاس اس مقدمے کو لائے اور ایک عورت کی نسبت یہی کہا۔ سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا ان چاروں کو الگ الگ کر دو۔ پھر ایک کو اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا کہ اس کتے کا رنگ کیسا تھا؟ اس نے کہا سیاہ۔ پھر دوسرے کو تنہا بلایا اس سے بھی یہی سوال کیا اس نے کہا سرخ۔ تیسرے نے کہا خاکی۔ چوتھے نے کہا سفید۔ آپ علیہ السلام نے اسی وقت فیصلہ دیا کہ عورت پر یہ نری تہمت ہے اور ان چاروں کو قتل کر دیا جائے۔ داؤد علیہ السلام کے پاس بھی یہ واقعہ بیان کیا گیا۔ آپ علیہ السلام نے اسی وقت فی الفور ان چاروں امیروں کو بلایا اور اسی طرح الگ الگ ان سے اس کتے کے رنگ کی بابت سوال کیا۔ یہ گڑبڑا گئے۔ کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ۔ آپ کو ان کا جھوٹ معلوم ہو گیا اور حکم فرمایا کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔

پھر بیان ہو رہا ہے کہ ’ داؤد علیہ السلام کو وہ نورانی گلا عطا فرمایا گیا تھا اور آپ علیہ السلام ایسی خوش آوازی اور خلوص کے ساتھ زبور پڑھتے تھے کہ پرند بھی اپنی پرواز چھوڑ کر تھم جاتے تھے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے لگتے تھے۔ اسی طرح پہاڑ بھی ‘۔ آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ» ۱؎ [34-سبأ:10] ‏‏‏‏ ’ اور ہم نے داؤد پر اپنا فضل کیا، اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی (‏‏‏‏یہی حکم ہے) اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کر دیا ‘۔

ایک روایت میں ہے کہ { رات کے وقت سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تلاوت قرآن کریم کر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی میٹھی رسیلی اور خلوص بھری آواز سن کر ٹھہر گئے اور دیر تک سنتے رہے، پھر فرمانے لگے { یہ تو آل داؤد کی آوازوں کی شیرینی دیئے گئے ہیں }۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہا کو جب معلوم ہوا تو فرمانے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مجھے معلوم ہوتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری قرأت سن رہے ہیں تو میں اور بھی اچھی طرح پڑھتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5048] ‏‏‏‏
79۔ 1 مفسرین نے یہ قصہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ایک شخص کی بکریاں، دوسرے شخص کے کھیت میں رات کو جا گھسیں اور اس کی کھیتی چر چگئیں۔ حضرت داؤد ؑ نے جو پیغمبر کے ساتھ حکمران بھی تھے فیصلہ دیا کہ بکریاں، کھیت والا لے لے تاکہ اس کے نقصان کی تلافی ہوجائے۔ حضرت سلیمان ؑ نے اس فیصلے سے اختلاف کیا اور یہ فیصلہ دیا کہ بکریاں کچھ عرصے کے لئے کھیتی کے مالک کو دے دی جائیں، وہ ان سے فائدہ اٹھائے اور کھیتی بکری والے کے سپرد کردی جائے تاکہ وہ کھیتی کی آب پاشی اور دیکھ بھال کرکے، اسے صحیح کرے، جب وہ اس حالت میں آجائے جو بکریوں چرنے سے پہلے تھی تو کھیتی، کھیتی والے کو اور بکریاں، بکری والے کو واپس کردی جائیں۔ پہلے فیصلے کے مقابل میں دوسرا فیصلہ اس لحاظ سے بہتر تھا کہ اس میں کسی کو بھی اپنی چیز سے محروم ہونا نہیں پڑا۔ جب کہ پہلے فیصلے میں بکری والے اپنی بکریوں سے محروم کردیئے گئے تھے۔ تاہم اللہ نے حضرت داؤد ؑ کی بھی تعریف کی اور فرمایا کہ ہم نے ہر ایک کو (یعنی داؤد ؑ اور سلیمان ؑ دونوں کو) علم و حکمت سے نوازا تھا۔ بعض لوگ اس سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ یہ دعویٰ صحیح نہیں۔ کسی ایک معاملے میں دو الگ الگ (متضاد) فیصلہ کرنے والے دو منصف، بیک وقت دونوں مصنفین ہوسکتے، ان میں ضرور ایک مصیب (درست فیصلہ کرنے والا) ہوگا اور دوسرا غلطی کر کے غلط فیصلہ کرنے والا، البتہ یہ الگ بات ہے کہ غلطی سے غلط فیصلہ کرنے سے گناہ گار نہیں ہوگا، بلکہ اسے ایک اجر ملے گا۔ کما فی الحدیث (فتح القدیر)۔ 79۔ 2 اس سے مراد یہ نہیں کہ پہاڑ ان کی تسبیح کی آواز سے گونج اٹھتے تھے (کیونکہ اس میں تو کوئی اعجاز ہی باقی نہیں رہتا) 79۔ 3 یعنی پرندے بھی داؤد ؑ کی سوز آواز سن کر اللہ کی تسبیح کرنے لگتے، مطلب یہ ہے کہ پرندے بھی داؤد ؑ کے لئے مسخر کردیئے گئے تھے (فتح القدیر) 79۔ 3 یعنی یہ تفہیم، ابتائے حکم اور تسخی، ان سب کے کرنے والے ہم ہی تھے، اس لئے ان میں کسی کو تعجب کرنے کی یا انکار کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اس لئے کہ ہم جو چاہیں کرسکتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ عَلَّمۡنٰہُ صَنۡعَۃَ لَبُوۡسٍ لَّکُمۡ لِتُحۡصِنَکُمۡ مِّنۡۢ بَاۡسِکُمۡ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ شٰکِرُوۡنَ ﴿۸۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ہم نے اُس کو تمہارے فائدے کے لیے زرہ بنانے کی صنعت سکھا دی تھی، تاکہ تم کو ایک دُوسرے کی مار سے بچائے، پھر کیا تم شکر گزار ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے اسے تمہارے لئے لباس بنانے کی کاریگری سکھائی تاکہ لڑائی کے ضرر سے تمہارا بچاؤ ہو۔ کیا تم شکر گزار بنو گے؟
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے اسے تمہارا ایک پہناوا بنانا سکھایا کہ تمہیں تمہاری آنچ سے (زخمی ہونے سے) بچائے تو کیا تم شکر کروگے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے انہیں تمہارے فائدہ کیلئے زرہ بنانے کی صنعت سکھائی تھی تاکہ وہ تمہیں تمہاری لڑائی میں ایک دوسرے کی زد سے بچائے۔ کیا تم اس (احسان) کے شکرگزار ہو؟
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اسے تمھارے لیے زرہ بنانا سکھایا، تاکہ وہ تمھاری لڑائی سے تمھارا بچائو کرے۔ تو کیا تم شکر کرنے والے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک ہی مقدمہ میں داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کے مختلف فیصلے ٭٭

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ کھیتی انگور کی تھی جس کے خوشے لٹک رہے تھے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:475/18:] ‏‏‏‏ «نَفَشَتْ» کے معنی ہیں رات کے وقت جانوروں کے چرنے کے، اور دن کے وقت چرنے کو عربی میں «ھَمَل» کہتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:477/18:] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس باغ کو بکریوں نے بگاڑ دیا۔ داؤد علیہ السلام نے یہ فیصلہ کیا کہ باغ کے نقصان کے بدلے یہ بکریاں باغ والے کو دے دی جائیں۔ سلیمان علیہ السلام نے یہ فیصلہ سن کر عرض کی کہ اے اللہ کے نبی علیہ السلام اس کے سوا بھی فیصلے کی کوئی صورت ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا وہ کیا؟ جواب دیا کہ بکریاں باغ والے کے حوالے کر دی جائیں، وہ ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور باغ بکری والے کو دے دیا جائے۔ یہ اس میں انگور کی بیلوں کی خدمت کرے یہاں تک کہ بیلیں ٹھیک ٹھاک ہو جائیں۔ انگور لگیں اور پھر اسی حالت پر آ جائیں جس پر تھے تو باغ والے کو اس کا باغ سونپ دے اور باغ والا اسے اس کی بکریاں سونپ دے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ ہم نے اس جھگڑے کا صحیح فیصلہ سلیمان علیہ السلام کو سمجھا دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:475/18:] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”داؤد علیہ السلام کا یہ فیصلہ سن کر بکریوں والے اپنا سا منہ لے کر صرف کتوں کو اپنے ساتھ لیے ہوئے واپس جا رہے تھے۔ سلیمان علیہ السلام نے انہیں دیکھ کر دریافت کیا کہ تمہارا فیصلہ کیا ہوا؟ انہوں نے خبر دی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا ”اگر میں اس جگہ ہوتا تو یہ فیصلہ نہ دیتا بلکہ کچھ اور فیصلہ کرتا۔‏‏‏‏“ داؤد علیہ السلام کو جب یہ بات پہنچی تو آپ علیہ السلام نے انہیں بلوایا اور پوچھا کہ بیٹے تم کیا فیصلہ کرتے؟ آپ نے وہی اوپر والا فیصلہ سنایا۔ مسروق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ان بکریوں نے خوشے اور پتے سب کھالئے تھے۔ تو داؤد علیہ السلام کے فیصلے کے خلاف سلیمان علیہ السلام نے فیصلہ دیا کہ ان لوگوں کی بکریاں باغ والوں کو دے دی جائیں اور یہ باغ انہیں سونپا جائے، جب تک باغ اپنی اصلی حالت پر آئے تب تک بکریوں کے بچے اور ان کا دودھ اور ان کا کل نفع باغ والوں کا۔ پھر ہر ایک کو ان کی چیز سونپ دی جائے۔‏‏‏‏“ قاضی شریح رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بھی ایک ایسا ہی جھگڑا آیا تھا تو آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر دن کو بکریوں نے نقصان پہنچایا ہے تب تو کوئی معاوضہ نہیں۔ اور اگر رات کو نقصان پہنچایا ہے تو بکریوں والے ضامن ہیں۔ پھر آپ رحمہ اللہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:479/18:] ‏‏‏‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کسی باغ میں چلی گئی اور وہاں باغ کا بڑا نقصان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ باغ والوں پر دن کے وقت باغ کی حفاظت ہے اور جو نقصان جانوروں سے رات کو ہو اس کا جرمانہ جانور والوں پر ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:238] ‏‏‏‏ اس حدیث میں علتیں نکالی گئی ہیں اور ہم نے کتاب الاحکام میں اللہ کے فضل سے اس کی پوری تفصیل بیان کر دی ہے۔ مروی ہے کہ ایاس بن معاویہ رحمتہ اللہ علیہ سے جب کہ قاضی بننے کی درخواست کی گئی تو وہ حسن رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آئے اور رو دئے۔ پوچھا گیا کہ اے ابوسعید آپ کیوں روتے ہیں؟ فرمایا مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ اگر قاضی نے اجتہاد کیا، پھر غلطی کی، وہ جہنمی ہے اور جو خواہش نفس کی طرف جھک گیا، وہ بھی جہنمی ہے۔ ہاں جس نے اجتہاد کیا اور صحت پر پہنچ گیا، وہ جنت میں پہنچا۔ حسن رحمہ اللہ یہ سن کر فرمانے لگے، ”سنو اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کی «قضاۃ» کا ذکر فرمایا ہے، ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام اعلیٰ منصب پر ہوتے ہیں، ان کے قول سے ان لوگوں کی باتیں رد ہو سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کی تعریف تو بیان فرمائی ہے لیکن داؤد علیہ السلام کی مذمت بیان نہیں فرمائی۔ پھر فرمانے لگے، سنو تین باتوں کا عہد اللہ تعالیٰ نے قاضیوں سے لیا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ منصفین شرع دنیوی نفع کی وجہ سے بدل نہ دیں، دوسرے یہ کہ اپنے دلی ارادوں اور خواہشوں کے پیچھے نہ پڑ جائیں، تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ» ۱؎ [38-ص:26] ‏‏‏‏ یعنی ’ اے داؤد! ہم نے تجھے زمین کا خلیفہ بنایا ہے تو لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلے کرتا رہ خواہش کے پیچے نہ پڑ کہ اللہ کی راہ سے بہک جائے ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ» ۱؎ [5-المائدہ:44] ‏‏‏‏ ’ لوگوں سے نہ ڈرو مجھی سے ڈرتے رہا کرو ‘۔ اور فرمان ہے آیت «وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا» ۱؎ [2-البقرة:41] ‏‏‏‏، ’ میری آیتوں کو معمولی نفع کی خاطر بیچ نہ دیا کرو ‘۔ میں کہتا ہوں انبیاء علیہم السلام کی معصومیت میں اور ان کی منجانب اللہ ہر وقت تائید ہوتے رہنے میں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ رہے اور لوگ تو صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب حاکم اجتہاد اور کوشش کرے پھر صحت تک پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور جب پوری کوشش کے بعد بھی غلطی کرجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7352] ‏‏‏‏ یہ حدیث صاف بتا رہی ہے کہ حضرت ایاس رحمہ اللہ کو جو وہم تھا کہ باوجود پوری جدوجہد کے بھی خطا کر جائے تو دوزخی ہے یہ غلط ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

سنن کی اور حدیث میں ہے، { قاضی تین قسم کے ہیں۔ ایک جنتی دو جہنمی اور جس نے حق کو معلوم کر لیا اور اسی سے فیصلہ کیا وہ جنتی۔ اور جس نے جہالت کے ساتھ فیصلہ کیا وہ جہنمی اور جس نے حق کو جانتے ہوئے اس کے خلاف فیصلہ دیا وہ بھی جہنمی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3573، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ قرآن کریم کے بیان کردہ اس واقعے کے قریب ہی وہ قصہ ہے جو مسند احمد میں ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، دو عورتیں تھیں جن کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے۔ بھیڑیا آ کر ایک بچے کو اٹھا لے گیا، اب ہر ایک دوسری سے کہنے لگی کہ تیرا بچہ گیا اور جو ہے وہ میرا بچہ ہے۔ آخر یہ قصہ داؤد علیہ السلام کے سامنے پیش ہوا۔ آپ علیہ السلام نے بڑی عورت کو ڈگری دے دی کہ یہ بچہ تیرا ہے۔ یہ یہاں سے نکلیں راستے میں سلیمان علیہ السلام تھے، آپ علیہ السلام نے دونوں کو بلایا اور فرمایا چھری لاؤ۔ میں اس لڑکے کے دو ٹکڑے کر کے آدھا آدھا ان دونوں کو دے دیتا ہوں۔ اس پر بڑی تو خاموش ہوگئی لیکن چھوٹی نے ہائے واویلا شروع کر دیا کہ اللہ آپ علیہ السلام پر رحم کرے آپ علیہ السلام ایسا نہ کیجئے، یہ لڑکا اسی بڑی کا ہے اسی کو دے دیجئیے۔ سلیمان علیہ السلام معاملے کو سمجھ گئے اور لڑکا چھوٹی عورت کو دلادیا }۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3427] ‏‏‏‏

امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ نے اس پر باب باندھا ہے کہ حاکم کو جائز ہے کہ اپنا فیصلہ اپنے دل میں رکھ کر حقیقت کو معلوم کرنے کے لیے اس کے خلاف کچھ کہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ابن عساکر میں ہے کہ ایک خوبصورت عورت سے ایک رئیس نے ملنا چاہا لیکن عورت نے نہ مانا، اسی طرح تین اور شخصوں نے بھی اس سے بدکاری کا ارادہ کیا لیکن وہ باز رہی۔ اس پر وہ رؤسا خار کھا گئے اور آپس میں اتفاق کر کے داؤد علیہ السلام کی عدالت میں جا کر سب نے گواہی دی کہ وہ عورت اپنے کتے سے ایسا کام کراتی ہے چاروں کے متفقہ بیان پر حکم ہوگیا کہ اسے رجم کر دیا جائے۔ اسی شام کو سلیمان علیہ السلام اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر خود حاکم بنے اور چار لڑکے ان لوگوں کی طرح آپ علیہ السلام کے پاس اس مقدمے کو لائے اور ایک عورت کی نسبت یہی کہا۔ سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا ان چاروں کو الگ الگ کر دو۔ پھر ایک کو اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا کہ اس کتے کا رنگ کیسا تھا؟ اس نے کہا سیاہ۔ پھر دوسرے کو تنہا بلایا اس سے بھی یہی سوال کیا اس نے کہا سرخ۔ تیسرے نے کہا خاکی۔ چوتھے نے کہا سفید۔ آپ علیہ السلام نے اسی وقت فیصلہ دیا کہ عورت پر یہ نری تہمت ہے اور ان چاروں کو قتل کر دیا جائے۔ داؤد علیہ السلام کے پاس بھی یہ واقعہ بیان کیا گیا۔ آپ علیہ السلام نے اسی وقت فی الفور ان چاروں امیروں کو بلایا اور اسی طرح الگ الگ ان سے اس کتے کے رنگ کی بابت سوال کیا۔ یہ گڑبڑا گئے۔ کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ۔ آپ کو ان کا جھوٹ معلوم ہو گیا اور حکم فرمایا کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔

پھر بیان ہو رہا ہے کہ ’ داؤد علیہ السلام کو وہ نورانی گلا عطا فرمایا گیا تھا اور آپ علیہ السلام ایسی خوش آوازی اور خلوص کے ساتھ زبور پڑھتے تھے کہ پرند بھی اپنی پرواز چھوڑ کر تھم جاتے تھے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے لگتے تھے۔ اسی طرح پہاڑ بھی ‘۔ آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ» ۱؎ [34-سبأ:10] ‏‏‏‏ ’ اور ہم نے داؤد پر اپنا فضل کیا، اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی (‏‏‏‏یہی حکم ہے) اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کر دیا ‘۔

ایک روایت میں ہے کہ { رات کے وقت سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تلاوت قرآن کریم کر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی میٹھی رسیلی اور خلوص بھری آواز سن کر ٹھہر گئے اور دیر تک سنتے رہے، پھر فرمانے لگے { یہ تو آل داؤد کی آوازوں کی شیرینی دیئے گئے ہیں }۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہا کو جب معلوم ہوا تو فرمانے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مجھے معلوم ہوتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری قرأت سن رہے ہیں تو میں اور بھی اچھی طرح پڑھتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5048] ‏‏‏‏
80۔ 1 یعنی لوہے کو ہم نے داؤد ؑ کے لئے نرم کردیا تھا، وہ اس سے جنگی لباس، لوہے کی زریں تیار کرتے تھے، جو جنگ میں تمہاری حفاظت کا ذریعہ ہیں۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت داؤد ؑ سے پہلے بھی زریں بنتی تھیں۔ لیکن وہ سادہ بغیر کنڈوں اور بغیر حلقوں کے ہوتی تھیں، حضرت داؤد ؑ پہلے شخص ہیں جنہوں نے کنڈے دار حلقے والی زریں بنائیں (ابن کثیر)
(آیت 80){وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ …: ” لَبُوْسٍ “} اور {” لِبَاسٌ“} ایک ہی ہے جو موقع کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے، چنانچہ لڑائی کا لباس زرہ ہے۔ یہ داؤد علیہ السلام پر تیسرا انعام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہمراہ پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کرنے کے علاوہ ان کے لیے لوہے کو بھی نرم کر دیا اور انھیں اس کی تاروں اور حلقوں سے زرہیں بنانے کا ہنر سکھایا۔ چنانچہ اتنی ہلکی اور عمدہ زرہیں بنانے کے موجد وہی ہیں۔ انھی سے دوسروں نے یہ فن سیکھا۔ یہ نعمت صرف انھی پر نہیں تھی، بلکہ قیامت تک تمام لڑنے والوں کے لیے نعمت ہے، جس پر اللہ تعالیٰ کا شکر لازم ہے، تو کیا تم شکر کرنے والے ہو؟ یہ سوال دراصل شکر کے حکم کی تاکید ہے۔ داؤد علیہ السلام کے متعلق مزید دیکھیے سورۂ سبا (۱۰، ۱۱) اور سورۂ صٓ (۱۷ تا ۲۶)۔
وَ لِسُلَیۡمٰنَ الرِّیۡحَ عَاصِفَۃً تَجۡرِیۡ بِاَمۡرِہٖۤ اِلَی الۡاَرۡضِ الَّتِیۡ بٰرَکۡنَا فِیۡہَا ؕ وَ کُنَّا بِکُلِّ شَیۡءٍ عٰلِمِیۡنَ ﴿۸۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور سلیمانؑ کے لیے ہم نے تیز ہوا کو مسخّر کر دیا تھا جو اس کے حکم سے اُس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں، ہم ہر چیز کا علم رکھنے والے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے تند وتیز ہوا کو سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کر دیا جو اس کے فرمان کے مطابق اس زمین کی طرف چلتی تھی جہاں ہم نے برکت دے رکھی تھی، اور ہم ہر چیز سے باخبر اور دانا ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور سلیمان کے لیے تیز ہوا مسخر کردی کہ اس کے حکم سے چلتی اس زمین کی طرف جس میں ہم نے برکت رکھی اور ہم کو ہر چیز معلوم ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے تیز و تند ہوا کو سلیمان کیلئے مسخر کر دیا تھا جو ان کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت قرار دی ہے اور ہم ہر چیز کا علم رکھنے والے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور سلیمان کے لیے ہوا (مسخر کر دی) جو تندوتیز تھی، اس کے حکم سے اس زمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی اور ہم ہر چیز کو جاننے والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حضرت ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے تو کسی بہتر سے بہتر باجے کی آواز میں بھی وہ مزہ نہیں پایا جو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہا کی آواز میں تھا۔ پس اتنی خوش آوازی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے داؤد علیہ السلام کی خوش آوازی کا ایک حصہ قرار دیا۔ اب سمجھ لیجئے کہ خود داؤد علیہ السلام کی آواز کیسی ہو گی؟ پھر اپنا ایک اور احسان بتاتا ہے کہ ’ داؤد علیہ السلام کو زرہیں بنانی ہم نے سکھا دی تھیں ‘۔ آپ علیہ السلام کے زمانے سے پہلے بغیر کنڈلوں اور بغیر حلقوں کی زرہ بنتی تھیں۔ کنڈلوں دار اور حلقوں والی زرہیں آپ نے ہی بنائیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/18:] ‏‏‏‏ جیسے اور آیت میں ہے کہ «‏‏‏‏وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ‌ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ‌ فِي السَّرْ‌دِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ‌» [34-سبأ:11-10] ‏‏‏‏ ’ ہم نے داؤد علیہ السلام کے لیے لوہے کو نرم کر دیا تھا کہ وہ بہترین زرہ تیار کریں اور ٹھیک انداز سے ان میں حلقے بنائیں ‘۔ یہ زرہیں میدان جنگ میں کام آتی تھیں۔ پس یہ نعمت وہ تھی جس پر لوگوں کو اللہ کی شکر گزاری کرنی چاہے۔ «غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ» ۱؎ [34-سبأ:12] ‏‏‏‏ ’ ہم نے زور آور ہوا کو سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا تھا جو انہیں ان کے فرمان کے مطابق برکت والی زمین یعنی ملک شام میں پہنچا دیتی تھی، ہمیں ہرچیز کا علم ہے ‘۔ آپ علیہ السلام اپنے تخت پر مع اپنے لاؤ لشکر اور سامان اسباب کے بیٹھ جاتے تھے۔ پھر جہان جانا چاہتے ہوا آپ کو آپ کے فرمان کے مطابق گھڑی بھر میں وہاں پہنچا دیتی۔ تخت کے اوپر سے پرند پر کھولے آپ علیہ السلام پر سایہ ڈالتے۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ» ۱؎ [38-ص:36] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ ہم نے ہوا کو ان کا تابع کر دیا کہ جہان پہنچنا چاہتے ان کے حکم کے مطابق اسی طرف نرمی سے لے چلتی۔ صبح شام مہینہ مہینہ بھر کی راہ کو طے کر لیتی ‘۔

حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”چھ ہزار کرسی لگائی جاتی۔ آپ علیہ السلام کے قریب مومن انسان بیٹھتے ان کے پیچھے مومن جن ہوتے۔ پھر آپ علیہ السلام کے حکم سے سب پر پرند سایہ کرتے پھر حکم کرتے تو ہوا آپ علیہ السلام کو لے چلتی۔‏‏‏‏“ عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”سلیمان علیہ السلام کو حکم دیتے وہ مثل بڑے تودے کے جمع ہو جاتی گویا پہاڑ ہے پھر اس کے سب سے بلند مکان پر فرش افروز ہونے کا حکم دیتے پھر پہردار گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے فرش پر چڑھ جاتے پھر ہوا کو حکم دیتے وہ آپ علیہ السلام کو بلندی پر لے جاتی آپ علیہ السلام اس وقت سرنیچا کر لیتے دائیں بائیں بالکل نہ دیکھتے اس میں آپ علیہ السلام کی تواضع اور اللہ کی شکر گزاری مقصود ہوتی تھی۔ کیونکہ آپ علیہ السلام کو اپنی فروتنی کا علم تھا۔ پھر جہاں آپ علیہ السلام حکم دیتے وہیں ہوا آپ علیہ السلام کو اتار دیتی۔‏‏‏‏“ اسی طرح سرکش جنات بھی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے قبضے میں کر دیئے تھے جو سمندروں میں غوطے لگا کرموتی اور جواہر وغیرہ نکال لایا کرتے تھے اور بھی بہت سے کام کاج کرتے تھے جیسے فرمان ہے آیت «وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ» ۱؎ [38-ص:37-38] ‏‏‏‏، ’ ہم نے سرکش جنوں کو ان کا ماتحت کر دیا تھا جو معمار تھے اور غوطہٰ خور ‘۔ اور ان کے علاوہ اور شیاطین بھی ان کے ماتحت تھے جو زنجیروں میں بندھے رہتے تھے اور ہم ہی سلیمان کے حافظ و نگہبان تھے کوئی شیطان انہیں برائی نہ پہنچا سکتا تھا بلکہ سب کے سب ان کے ماتحت فرماں بردار اور تابع تھے کوئی ان کے قریب بھی نہ پھٹک سکتا تھا کی آپ کی حکمرانی ان پر چلتی تھی جسے چاہتے قید کر لیتے جسے چاہتے آزاد کر دیتے اسی کو فرمایا کہ ’ اور جنات تھے جو جکڑے رہا کرتے تھے ‘۔
81۔ 1 یعنی جس طرح پہاڑ اور پرندے حضرت داؤد ؑ کے لئے مسخر کردیئے تھے، اسی طرح ہوا حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردی گئی تھی۔ وہ اپنے وزرا سلطنت سمیت تخت پر بیٹھ جاتے تھے اور جہاں چاہتے، مہینوں کی مسافت، لمحوں اور ساعتوں میں طے کرکے وہاں پہنچ جاتے، ہوا آپ کے تخت کو اڑا کرلے جاتی۔ بابرکت زمین سے مراد شام کا علاقہ ہے۔
(آیت 81) ➊ { وَ لِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ عَاصِفَةً:} اللہ تعالیٰ نے پانی کو حکم دیا تو اس نے نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو چھوڑ کر ان کی ساری قوم کو غرق کر دیا۔ آگ کو حکم دیا تو وہ ابراہیم علیہ السلام پر برد و سلام بن گئی۔ داؤد علیہ السلام کے ساتھ تسبیح کے لیے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کر دیا، فرمایا: «{ وَ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَ الطَّيْرَ }» [ الأنبیاء: ۷۹ ] مگر پانی یا آگ کو نوح یا ابراہیم علیھما السلام کے تابع فرمان نہیں کیا، نہ پہاڑوں یا پرندوں کو داؤد علیہ السلام کے حکم کا پابند کیا، مگر سلیمان علیہ السلام کا خاصہ یہ ہے کہ ہوا ان کے حکم کے تابع کر دی گئی، فرمایا: «{ تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖۤ }» کہ وہ اس کے حکم سے چلتی تھی۔ ➋ {” عَاصِفَةً “} کا معنی ہے {”شَدِيْدَةُ الْهُبُوْبِ“} بہت سخت تیز چلنے والی ہوا۔ سورۂ ص میں فرمایا: «{ فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيْحَ تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَيْثُ اَصَابَ }» [ صٓ: ۳۶ ] ”تو ہم نے اس کے لیے ہوا کو تابع کر دیا، جو اس کے حکم سے بہت نرم چلتی تھی، جہاں کا وہ ارادہ کرتا تھا۔“ اور سورۂ سبا میں فرمایا: «{ وَ لِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ }» [ سبا: ۱۲ ] ”اور (ہم نے) ہوا کو سلیمان کے (تابع کر دیا) پہلے پہر اس کا چلنا ایک ماہ کا تھا اور پچھلے پہر اس کا چلنا بھی ایک ماہ کا۔“ یہاں ایک سوال ہے کہ ایک جگہ اس کو تند و تیز بتایا، دوسری جگہ نہایت نرم؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس ہوا میں دونوں خوبیاں موجود ہوتی تھیں، تند و تیز اتنی کہ صبح کے وقت چند گھنٹوں میں ایک ماہ کا سفر طے کر لیتی، اسی طرح پچھلے پہر بھی چند گھنٹوں میں اتنا ہی سفر طے کر لیتی اور نرم اور ہموار اتنی کہ سلیمان علیہ السلام اور ان کے ہمراہیوں کو کوئی تکلیف یا جھٹکا محسوس نہ ہوتا۔ ➌ { تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا:} قرآن مجید میں ارضِ مبارک شام کو کہا گیا ہے۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل۔ اس آیت میں سلیمان علیہ السلام کے اپنے کسی بھی سفر سے ان کے دار الحکومت شام کی طرف واپسی کا ذکر ہے، کیونکہ بعض اوقات آدمی سفر میں جاتے ہوئے بہت دور پہنچ جاتا ہے اور واپسی اس کے لیے مشکل ہوتی ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہوا سلیمان علیہ السلام کے حکم سے ارض مبارک کی طرف چلتی تھی۔ رہا سلیمان علیہ السلام کا دوسرے مقامات کی طرف جانا، تو اس کا ذکر سورۂ ص (۳۶) میں ہے کہ ہوا ان کے حکم سے اسی طرف چل پڑتی تھی جہاں ان کا ارادہ ہوتا، جیسا کہ پچھلے فائدے میں گزرا ہے۔ ➍ ہوا کو سلیمان علیہ السلام کے لیے مسخر کرنے سے کیا مراد ہے؟ بعض مفسرین نے اس سے ہوا کا ان کے بحری بیڑوں کے موافق چلنا مراد لیا ہے، کیونکہ اس زمانے میں بحری جہازوں کا چلنا موافق ہوا پر موقوف تھا۔ یہ حضرات بائبل کا حوالہ دیتے ہیں۔ بعض تابعین نے کہا کہ سلیمان علیہ السلام اور ان کی افواج لکڑی کے بہت لمبے چوڑے چبوترے پر بیٹھ جاتے تو سلیمان علیہ السلام کے حکم سے ہوا انھیں اٹھا کر ان کی منزل مقصود کی طرف چل پڑتی۔ بعض نے اس طرح کے ایک مربع میل قالین کا ذکر کیا ہے۔ ظاہر ہے ان میں سے کوئی صاحب بھی موقع پر موجود نہیں تھا اور نہ انھوں نے اپنی معلومات کا کوئی ذریعہ بیان کیا ہے۔ رہی بائبل، تو اس کی حیثیت مقدمے میں تفصیل سے بیان ہو چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ ص میں ذکر فرمایا ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے دعا کی تھی: «{ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ }» [ صٓ: ۳۵ ] ”اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔“ اس دعا کو قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ہوا ان کے تابع کر دی کہ ان کے حکم سے وہ جہاں کا ارادہ کرتے چل پڑتی تھی۔ آج کل انسان مہینوں کا سفر گھنٹوں میں ہوائی جہاز کے ذریعے سے طے کر رہا ہے، اگر سمندری سفر کی تیزی ہی مراد ہو تو یہ وہ سلطنت تو ہر گز نہیں جو سلیمان علیہ السلام کے بعد کسی کے لائق ہی نہیں۔ کیونکہ ہوائی جہاز سمندر ہی نہیں خشکی کو بھی عبور کرتے چلے جا رہے ہیں اور وہ تقریباً ہر ملک میں موجود ہیں۔ اس لیے ماننا پڑے گا کہ ان کے لیے ہوا کی وہ تسخیر ہوائی جہازوں اور اس قسم کے آلات کی محتاج نہ تھی، بلکہ وہ اس سے بہت اعلیٰ چیز تھی جس کی بدولت وہ ہوا کے ذریعے سے سمندروں اور خشکی پر مہینوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرتے ہوئے جہاں چاہتے چلے جاتے تھے۔ اس کی تفصیل اگر انسان کی سمجھ میں آ سکتی یا اس کی ضرورت ہوتی تو اللہ تعالیٰ بیان فرما دیتا، ہمیں اتنا ہی کافی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا۔ ➎ { وَ كُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عٰلِمِيْنَ:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تند و تیز ہوا نہایت نرمی سے چلتی ہوئی سلیمان علیہ السلام کو لے کر مہینوں کا سفر پہروں میں طے کر لے؟ فرمایا، ہم ہمیشہ سے ہر چیز کا علم رکھتے ہیں اور ہمارے لیے یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔
وَ مِنَ الشَّیٰطِیۡنِ مَنۡ یَّغُوۡصُوۡنَ لَہٗ وَ یَعۡمَلُوۡنَ عَمَلًا دُوۡنَ ذٰلِکَ ۚ وَ کُنَّا لَہُمۡ حٰفِظِیۡنَ ﴿ۙ۸۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور شیاطین میں سے ہم نے ایسے بہت سوں کو اس کا تابع بنا دیا تھا جو اس کے لیے غوطے لگاتے اور اس کے سوا دُوسرے کام کرتے تھے ان سب کے نگران ہم ہی تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی طرح سے بہت سے شیاطین بھی ہم نے اس کے تابع کیے تھے جو اس کے فرمان سے غوطے لگاتے تھے اور اس کے سوا بھی بہت سے کام کرتے تھے، ان کے نگہبان ہم ہی تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور شیطانوں میں سے جو اس کے لیے غوطہ لگاتے اور اس کے سوا اور کام کرتے اور ہم انہیں روکے ہوئے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے کچھ شیطانوں (جنات) کو ان کا تابع بنا دیا تھا جو ان کے لئے غوطہ زنی کرتے تھے۔ اور اس کے علاوہ اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ہی ان کے نگہبان تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کئی شیطان جو اس کے لیے غوطہ لگاتے تھے اور اس کے علاوہ کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حضرت ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے تو کسی بہتر سے بہتر باجے کی آواز میں بھی وہ مزہ نہیں پایا جو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہا کی آواز میں تھا۔ پس اتنی خوش آوازی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے داؤد علیہ السلام کی خوش آوازی کا ایک حصہ قرار دیا۔ اب سمجھ لیجئے کہ خود داؤد علیہ السلام کی آواز کیسی ہو گی؟ پھر اپنا ایک اور احسان بتاتا ہے کہ ’ داؤد علیہ السلام کو زرہیں بنانی ہم نے سکھا دی تھیں ‘۔ آپ علیہ السلام کے زمانے سے پہلے بغیر کنڈلوں اور بغیر حلقوں کی زرہ بنتی تھیں۔ کنڈلوں دار اور حلقوں والی زرہیں آپ نے ہی بنائیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/18:] ‏‏‏‏ جیسے اور آیت میں ہے کہ «‏‏‏‏وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ‌ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ‌ فِي السَّرْ‌دِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ‌» [34-سبأ:11-10] ‏‏‏‏ ’ ہم نے داؤد علیہ السلام کے لیے لوہے کو نرم کر دیا تھا کہ وہ بہترین زرہ تیار کریں اور ٹھیک انداز سے ان میں حلقے بنائیں ‘۔ یہ زرہیں میدان جنگ میں کام آتی تھیں۔ پس یہ نعمت وہ تھی جس پر لوگوں کو اللہ کی شکر گزاری کرنی چاہے۔ «غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ» ۱؎ [34-سبأ:12] ‏‏‏‏ ’ ہم نے زور آور ہوا کو سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا تھا جو انہیں ان کے فرمان کے مطابق برکت والی زمین یعنی ملک شام میں پہنچا دیتی تھی، ہمیں ہرچیز کا علم ہے ‘۔ آپ علیہ السلام اپنے تخت پر مع اپنے لاؤ لشکر اور سامان اسباب کے بیٹھ جاتے تھے۔ پھر جہان جانا چاہتے ہوا آپ کو آپ کے فرمان کے مطابق گھڑی بھر میں وہاں پہنچا دیتی۔ تخت کے اوپر سے پرند پر کھولے آپ علیہ السلام پر سایہ ڈالتے۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ» ۱؎ [38-ص:36] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ ہم نے ہوا کو ان کا تابع کر دیا کہ جہان پہنچنا چاہتے ان کے حکم کے مطابق اسی طرف نرمی سے لے چلتی۔ صبح شام مہینہ مہینہ بھر کی راہ کو طے کر لیتی ‘۔

حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”چھ ہزار کرسی لگائی جاتی۔ آپ علیہ السلام کے قریب مومن انسان بیٹھتے ان کے پیچھے مومن جن ہوتے۔ پھر آپ علیہ السلام کے حکم سے سب پر پرند سایہ کرتے پھر حکم کرتے تو ہوا آپ علیہ السلام کو لے چلتی۔‏‏‏‏“ عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”سلیمان علیہ السلام کو حکم دیتے وہ مثل بڑے تودے کے جمع ہو جاتی گویا پہاڑ ہے پھر اس کے سب سے بلند مکان پر فرش افروز ہونے کا حکم دیتے پھر پہردار گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے فرش پر چڑھ جاتے پھر ہوا کو حکم دیتے وہ آپ علیہ السلام کو بلندی پر لے جاتی آپ علیہ السلام اس وقت سرنیچا کر لیتے دائیں بائیں بالکل نہ دیکھتے اس میں آپ علیہ السلام کی تواضع اور اللہ کی شکر گزاری مقصود ہوتی تھی۔ کیونکہ آپ علیہ السلام کو اپنی فروتنی کا علم تھا۔ پھر جہاں آپ علیہ السلام حکم دیتے وہیں ہوا آپ علیہ السلام کو اتار دیتی۔‏‏‏‏“ اسی طرح سرکش جنات بھی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے قبضے میں کر دیئے تھے جو سمندروں میں غوطے لگا کرموتی اور جواہر وغیرہ نکال لایا کرتے تھے اور بھی بہت سے کام کاج کرتے تھے جیسے فرمان ہے آیت «وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ» ۱؎ [38-ص:37-38] ‏‏‏‏، ’ ہم نے سرکش جنوں کو ان کا ماتحت کر دیا تھا جو معمار تھے اور غوطہٰ خور ‘۔ اور ان کے علاوہ اور شیاطین بھی ان کے ماتحت تھے جو زنجیروں میں بندھے رہتے تھے اور ہم ہی سلیمان کے حافظ و نگہبان تھے کوئی شیطان انہیں برائی نہ پہنچا سکتا تھا بلکہ سب کے سب ان کے ماتحت فرماں بردار اور تابع تھے کوئی ان کے قریب بھی نہ پھٹک سکتا تھا کی آپ کی حکمرانی ان پر چلتی تھی جسے چاہتے قید کر لیتے جسے چاہتے آزاد کر دیتے اسی کو فرمایا کہ ’ اور جنات تھے جو جکڑے رہا کرتے تھے ‘۔
82۔ 1 جنات بھی حضرت سلیمان ؑ کے تابع تھے جو ان کے حکم سے سمندروں میں غوتے لگاتے اور موتی اور جواہر نکال لاتے، اسی طرح دیگر عمارتی کام، جو آپ چاہتے کرتے تھے۔ 82۔ 2 یعنی جنوں کے اندر جو سرکشی اور فساد کا مادہ ہے، اس سے ہم نے سلیمان ؑ کی حفاظت کی اور وہ ان کے آگے سرتابی کی مجال نہیں رکھتے تھے۔
(آیت 82) ➊ { وَ مِنَ الشَّيٰطِيْنِ مَنْ يَّغُوْصُوْنَ لَهٗ:} اللہ تعالیٰ نے ہوا کے علاوہ کئی شیطان جن بھی سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیے۔ گویا عناصر اربعہ میں سے ہوا کے علاوہ آگ سے بنی ہوئی کچھ مخلوق بھی ان کے تابع فرمان کر دی گئی، پھر اس مخلوق کے ذریعے سے غوطہ خوری کے ساتھ بہت سے سمندری منافع حاصل کرنے کی استطاعت بخشی اور انھی کے ذریعے سے مٹی اور اس سے نکلنے والے پتھر وغیرہ سے ہر وہ چیز بنانا ان کی دسترس میں کر دیا جو وہ بنانا چاہتے تھے۔ گویا تسخیر عناصر کی عجیب نعمت انھیں عطا فرمائی گئی۔ (بقاعی) بعض منحرف مفسرین کا کہنا ہے کہ شیاطین کا لفظ جن و انس دونوں پر آ جاتا ہے، جیسا کہ سورۂ انعام (۱۱۲) میں {” شَيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ “} کا ذکر ہے، اس لیے دراصل یہ سرکش اور قوی قسم کے دیہاتی لوگ تھے، جن سے سلیمان علیہ السلام غوطہ خوری اور عمارات کی تعمیر کا کام لیتے تھے۔ مگر سورۂ سبا میں صراحت ہے: «{ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ يَّعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ وَ مَنْ يَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيْرِ (12) يَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا يَشَآءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ وَ تَمَاثِيْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِيٰتٍ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا وَ قَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ }» [ سبا: ۱۲، ۱۳ ] ”اور جنوں میں سے کچھ وہ تھے جو اس کے سامنے اس کے رب کے اذن سے کام کرتے تھے اور ان میں سے جو ہمارے حکم سے کجی کرتا ہم اسے بھڑکتی آگ کا کچھ عذاب چکھاتے تھے۔ وہ اس کے لیے بناتے تھے جو وہ چاہتا تھا، بڑی بڑی عمارتیں، مجسّمے اور حوضوں جیسے لگن اور ایک جگہ جمی ہوئی دیگیں۔ اے داؤد کے گھر والو! شکر ادا کرنے کے لیے عمل کرو۔ اور بہت تھوڑے میرے بندوں میں سے پورے شکر گزار ہیں۔“ سورۂ سبا (۱۴) ہی میں ذکر ہے کہ ان جنوں کے متعلق بعض لوگوں کا عقیدہ تھا کہ وہ غیب دان ہیں مگر جنوں کو سلیمان علیہ السلام کی وفات کا علم اس وقت تک نہ ہوا جب تک دیمک نے ان کی لاٹھی کو کھا نہیں لیا، پھر جب سلیمان علیہ السلام گرے تو جنوں کی حقیقت کھل گئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلیل عذاب (عمارتیں وغیرہ بنانے کے کام) میں نہ رہتے۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام چیزیں اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے غوطہ خوری اور دوسرے دشوار کاموں کے لیے جنوں میں سے کچھ شیاطین کو سلیمان علیہ السلام کے تابع کیا تھا، ورنہ دیہاتی سرکش اور قوی انسان تو سلیمان علیہ السلام سے پہلے بھی عمارتیں بناتے تھے اور اب بھی بناتے ہیں، پھر سلیمان علیہ السلام کی وہ بے مثال سلطنت کیا ہوئی جس جیسی سلطنت ان کے بعد کسی کے لائق ہی نہیں ہے۔ ➋ { وَ يَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ:} اس کی تفصیل کچھ پچھلے فائدے میں گزری ہے، کچھ سورۂ سبا (۱۲ تا ۱۴) میں آئے گی۔ ➌ { وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِيْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی قدرت سے سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا اور خود ان کی حفاظت فرمائی کہ نہ وہ بھاگ سکتے تھے، نہ ان کی نافرمانی کر سکتے تھے، نہ کسی کو نقصان پہنچا سکتے تھے اور نہ کوئی چیز یا کوئی کام خراب کر سکتے تھے، کیونکہ جو ان کے حکم سے ذرا بھی سرتابی کرتا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے بھڑکتی ہوئی آگ سے سزا دی جاتی، فرمایا: «{ وَ مَنْ يَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيْرِ }» [ سبا: ۱۲ ] ”اور ان میں سے جو ہمارے حکم سے کجی کرتا ہم اسے بھڑکتی آگ کا کچھ عذاب چکھاتے تھے۔“ اور جو زیادہ ہی سرکشی دکھانے والے تھے انھیں بیڑیوں میں اکٹھے جکڑنے کا بندوبست موجود تھا، فرمایا: «{ وَ اٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ }» [ صٓ: ۳۸ ] ”اور کچھ اوروں کو بھی (تابع کر دیا) جو بیڑیوں میں اکٹھے جکڑے ہوئے تھے۔“ ظاہر ہے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا، ورنہ انسان کی کیا بساط کہ اتنی خوفناک قوتوں کو قابو میں رکھ سکے۔ ➍ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سلیمان علیہ السلام کے تابع جو جن کیے گئے تھے وہ کافر تھے، کیونکہ شیطان کا کفر معلوم ہے۔ اگر وہ مسلمان ہوتے تو خود ہی اللہ کے پیغمبر کے تابع ہو جاتے، پھر ان کی خاص حفاظت کی ضرورت نہ تھی۔ ➎ سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد اگر کوئی شخص کوئی جن پکڑ لے، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃِ فطر کی حفاظت کرتے ہوئے تین دفعہ شیطان کو پکڑا تھا، تو اللہ کی طرف سے اس کے لیے ان کے نقصان سے حفاظت کا کوئی ذمہ نہیں۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سرکش جن کو پکڑ کر چھوڑ دیا تھا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرماتے ہیں: [ إِنَّ عِفْرِيْتًا مِّنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ صَلاَتِيْ فَأَمْكَنَنِيَ اللّٰهُ مِنْهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبُطَهُ عَلٰی سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حتَّی تَنْظُرُوْا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِيْ سُلَيْمَانَ: «{ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ[صٓ: ۳۵] فَرَدَدْتُهُ خَاسِئًا ] ”ایک سرکش جن گزشتہ رات مجھ پر حملہ آور ہوا، تاکہ مجھ پر میری نماز قطع کر دے، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے اسے پکڑ لیا اور ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں، تاکہ تم سب اسے دیکھو، پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا یاد آ گئی: «{ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ }» ”اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔“ تو میں نے اسے دفع دور کرتے ہوئے پیچھے دھکیل دیا۔“ [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «‏‏‏‏ووھبنا لداوٗد سلیمان …» : ۳۴۲۳ ]
وَ اَیُّوۡبَ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿ۚۖ۸۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور یہی (ہوش مندی اور حکم و علم کی نعمت) ہم نے ایّوبؑ کو دی تھی یاد کرو، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ "مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
ایوب (علیہ السلام) کی اس حالت کو یاد کرو جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیاده رحم کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ایوب کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے تکلیف پہنچی اور تو سب مہر والوں سے بڑھ کر مہر والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ایوب (کا ذکر کیجئے) جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا مجھے (بیماری کی) تکلیف پہنچ رہی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے (میرے حال پر رحم فرما)۔
عبدالسلام بن محمد
اور ایوب کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بے شک میں، مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آزمائش اور مصائب ایوب علیہ السلام ٭٭

حضرت ابوب علیہ السلام کی تکلیفوں کا بیان ہو رہا ہے جو مالی جسمانی اور اولاد پر مشتمل تھیں ان کے پاس بہت سے قسم قسم کے جانور تھے کھیتیاں باغات وغیرہ تھے اولاد بیویاں لونڈیاں غلام جائیداد اور مال ومتاع سبھی کچھ اللہ کا دیا موجود تھا۔ اب جو رب کی طرف سے ان پر آزمائش آئی تو ایک سرے سے سب کچھ فنا ہوتا گیا یہاں تک کہ جسم میں جذام پھوٹ پڑا۔ دل و زبان کے سوا سارے جسم کا کوئی حصہ اس مرض سے محفوظ نہ رہا۔ یہاں تک کہ آس پاس والے کراہت کرنے لگے۔ شہر کے ایک ویران کونے میں آپ علیہ السلام کو سکونت اختیار کرنی پڑی۔ سوائے آپ علیہ السلام کی ایک بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا کے اور کوئی آپ علیہ السلام کے پاس نہ رہا، اس مصیبت کے وقت سب نے کنارہ کر لیا۔ یہی ایک تھیں جو ان کی خدمت کرتی تھیں ساتھ ہی محنت مزدوری کر کے پیٹ پالنے کو بھی لایا کرتی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا کہ { سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے، پھر صالح لوگوں کا پھر ان سے نیچے کے درجے والوں کا پھر ان سے کم درجے والوں کا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2398،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { ہر شخص کا امتحان اس کے دین کے انداز سے ہوتا ہے اگر وہ دین میں مضبوط ہے امتحان بھی سخت تر ہوتا ہے }۔ ؎ [سنن ترمذي:2398،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ایوب علیہ السلام بڑے ہی صابر تھے یہاں تک کہ صبر ایوب زبان زد عام ہے۔

یزید بن میسرہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”جب آپ علیہ السلام کی آزمائش شروع ہوئی اہل و عیال مرگئے مال فنا ہوگیا کوئی چیز ہاتھ تلے نہ رہی۔ آپ علیہ السلام اللہ کے ذکر میں اور بڑھ گئے کہنے لگے ”اے تمام پالنے والوں کے پالنے والے تو نے مجھ پر بڑے احسان کئے مال دیا اولاد دی اس وقت میرا دل بہت ہی مشغول تھا اب تو نے سب کچھ لے کر میرے دل کو ان فکروں سے پاک کر دیا اب میرے دل میں اور تجھ میں کوئی حائل نہ رہا اگر میرا دشمن ابلیس تیری اس مہربانی کو جان لیتا تو وہ مجھ پر بہت ہی حسد کرتا۔‏‏‏‏“ ابلیس لعین اس قول سے اور اس وقت کی اس حمد سے جل بھن کر رہ گیا۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:589/4:ضعیف] ‏‏‏‏ آپ علیہ السلام کی دعاؤں میں یہ بھی دعا تھی ”اے اللہ تو نے جب مجھے توانگر اور اولاد اور اہل و عیال والا بنا رکھا تھا تو خوب جانتا ہے کہ اس وقت میں نے نہ کبھی غرور و تکبر کیا نہ کبھی کسی پر ظلم ستم کیا۔ میرے پروردگار تجھ پر روشن ہے کہ میرا نرم و گرم بستر تیار ہوتا اور میں راتوں کو تیری عبادتوں میں گزارتا اور اپنے نفس کو اس طرح ڈانٹ دیتا کہ تو اس لیے پیدا نہیں کیا گیا تیری رضا مندی کی طلب میں میں اپنی راحت و آرام کو ترک کر دیا کرتا۔‏‏‏‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏ اس آیت کی تفسیر میں ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ایک بہت لمبا قصہ ہے جسے بہت سے پچھلے مفسیرین نے بھی ذکر کیا ہے۔ لیکن اس میں غرابت ہے اور اس کے طول کی وجہ سے ہم نے اسے چھوڑ دیا ہے۔ مدتوں تک آپ علیہ السلام ان بلاؤں میں مبتلا رہے۔

حضرت حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں ”سات سال اور کئی ماہ آپ علیہ السلام بیماری میں مبتلا رہے۔ بنو اسرائیل کے کوڑے پھینکنے کی جگہ آپ علیہ السلام کو ڈال رکھا تھا۔ بدن میں کیڑے پڑ گئے تھے، پھر اللہ نے آپ علیہ السلام پر رحم و کرم کیا تمام بلاؤں سے نجات دی اجر دیا اور تعریفیں کیں۔‏‏‏‏“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”پورے تین سال آپ علیہ السلام اس تکلیف میں رہے۔ سارا گوشت جھڑ گیا تھا۔ صرف ہڈیاں اور چمڑا رہ گیا۔ آپ علیہ السلام دکھ میں پڑے رہتے تھے صرف ایک بیوی صاحبہ تھیں جو آپ علیہ السلام کے پاس تھیں۔ جب زیادہ زمانہ گزر گیا تو ایک روز عرض کرنے لگیں کہ ”اے نبی اللہ علیہ السلام آپ علیہ السلام اللہ سے دعا کیوں نہیں کرتے کہ وہ اس مصیبت کو ہم پر سے ٹال دے۔‏‏‏‏“ آپ علیہ السلام فرمانے لگے ”سنو ستر برس تک اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت وعافیت میں رکھا تو اگر ستر سال تک میں اس حالت میں رہوں اور صبر کروں تو یہ بھی بہت کم ہے۔‏‏‏‏“ اس پر بیوی صاحبہ کانپ اٹھیں آپ شہر میں جاتیں، لوگوں کا کام کاج کرتیں اور جو ملتا وہ لے آتیں اور آپ علیہ السلام کو کھلاتیں پلاتیں۔

آپ علیہ السلام کے دو دوست اور دلی خیرخواہ دوست تھے انہیں فلسطین میں جاکر شیطان نے خبر دی کہ تمہارا دوست سخت مصیبت میں مبتلا ہے تم جاؤ ان کی خبرگیری کرو اور اپنے ہاں کی کچھ شراب اپنے ساتھ لے جاؤ وہ پلادینا اس سے انہیں شفاء ہو جائے گی۔ چنانچہ یہ دونوں آئے ایوب علیہ السلام کی حالت دیکھتے ہی ان کے آنسو نکل آئے بلبلا کر رونے لگے۔ آپ علیہ السلام نے پوچھا تم کون ہو؟ انہوں نے یاد دلایا تو آپ علیہ السلام خوش ہوئے انہیں مرحبا کہا وہ کہنے لگے ”اے جناب آپ شاید کچھ چھپاتے ہوں گے اور ظاہر اس کے خلاف کرتے ہوں گے؟“ آپ علیہ السلام نے نگاہیں آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا ”اللہ خوب جانتا ہے کہ میں کیا چھپاتا تھا اور کیا ظاہر کرتا تھا میرے رب نے مجھے اس میں مبتلا کیا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ میں صبر کرتا ہوں یا بے صبری؟“ وہ کہنے لگے اچھا ہم آپ کے واسطے دوا لائے ہیں آپ اسے پی لیجئے شفاء ہو جائے گی یہ شراب ہے۔ ہم اپنے ہاں سے لائے ہیں۔ یہ سنتے ہی آپ علیہ السلام سخت غضبناک ہوئے اور فرمانے لگے ”تمہیں شیطان خبیث لایا ہے تم سے کلام کرنا تمہارا کھانا پینا مجھ پر حرام ہے۔‏‏‏‏“ یہ دونوں آپ علیہ السلام کے پاس سے چلے گئے۔

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ نے ایک گھر والوں کی روٹیاں پکائیں ان کا ایک بچہ سویا ہوا تھا تو انہوں نے اس بچے کے حصے کی ٹکیا انہیں دے دی یہ لے کر ایوب علیہ السلام کے پاس آئیں۔ آپ علیہ السلام نے کہا ”یہ آج کہاں سے لائیں؟“ انہوں نے ساراواقعہ بیان کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”ابھی ابھی واپس جاؤ ممکن ہے بچہ جاگ گیا ہو اور اسی ٹکیا کی ضد کرتا ہو اور رو رو کر سارے گھر والوں کو پریشان کرتا ہو۔‏‏‏‏“ آپ روٹی واپس لے کرچلیں ان کی ڈیوڑھی میں بکری بندھی ہوئی تھی اس نے زور سے آپ کو ٹکر ماری آپ کی زبان سے نکل گیا دیکھو ایوب کیسے غلط خیال والے ہیں۔ پھر اوپر گئیں تو دیکھا واقعی بچہ جاگا ہوا ہے اور ٹکیا کے لیے مچل رہا ہے اور گھر بھر کا ناک میں دم کر رکھا ہے یہ دیکھ کر بے ساختہ زبان سے نکلا کہ اللہ ایوب پر رحم کرے، اچھے موقعہ پر پہنچی۔ ٹکیا دے دی اور واپس لوٹیں راستے میں شیطان بہ صورت طبیب ملا اور کہنے لگا کہ تیرے خاوند سخت تکلیف میں ہیں مرض پر مدتیں گزر گئیں تم انہیں سمجھاؤ فلاں قبیلے کے بت کے نام پر ایک مکھی مار دیں شفاء ہو جائے گی پھر توبہ کر لیں۔ جب آپ ایوب علیہ السلام کے پاس پہنچیں تو ان سے یہ کہا آپ علیہ السلام نے فرمایا ”شیطان خبیث کاجادو تجھ پر چل گیا۔ میں تندرست ہو گیا تو تجھے سو کوڑے لگاؤں گا۔‏‏‏‏“ ایک دن آپ حسب معمول تلاش معاش میں نکلیں گھر گھر پھر آئیں کہیں کام نہ لگا مایوس ہوگئیں شام کو پلٹنے وقت ایوب علیہ السلام کی بھوک کا خیال آیا تو آپ نے اپنے بالوں کی ایک لٹ کاٹ کر ایک امیر لڑکی کے ہاتھ فروخت کر دی اس نے آپ کو بہت کچھ کھانے پینے کا اسباب دیا۔ جسے لے کر آپ آئیں، ایوب علیہ السلام نے پوچھا ”یہ آج اتنا سارا اور اتنا اچھا کھانا کیسے مل گیا؟“ فرمایا میں نے ایک امیر گھر کا کام کر دیا تھا۔ آپ علیہ السلام نے کھا لیا دوسرے روز بھی اتفاق سے ایسا ہی ہوا اور آپ نے اپنے بالوں کی دوسری لٹ کاٹ کر فروخت کر دی اور کھانا لے آئیں آج بھی یہی کھانا دیکھ کر آپ علیہ السلام نے فرمایا ”واللہ میں ہرگز نہ کھاؤں گا جب تک تو مجھے یہ نہ بتا دے کہ کیسے لائی؟“ اب آپ نے اپنا دوپٹہ سر سے اتار دیا دیکھا کہ سرکے بال سب کٹ چکے ہیں اس وقت سخت گھبراہٹ اور بے چینی ہوئی اور اللہ سے دعا کی کہ ”مجھے ضرر پہنچا اور تو سب سے زیادہ رحیم ہے۔‏‏‏‏“

حضرت نوف بکالی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جو شیطان ایوب علیہ السلام کے پیچھے پڑا تھا اس کا نام مسبوط تھا۔ ایوب علیہ السلام کی بیوی صاحبہ عموماً آپ علیہ السلام سے عرض کیا کرتی تھیں کہ اللہ سے دعا کرو۔ لیکن آپ علیہ السلام نہ کرتے تھے یہاں تک کہ ایک دن بنو اسرائیل کے کچھ لوگ آپ علیہ السلام کے پاس سے نکلے اور آپ علیہ السلام کو دیکھ کر کہنے لگے اس شخص کو یہ تکلیف ضرور کسی نہ کسی گناہ کی وجہ سے ہے اس وقت بےساختہ آپ علیہ السلام کی زبان سے یہ دعا نکل گئی۔‏‏‏‏“ عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”ایوب علیہ السلام کہ دو بھائی تھے ایک دن وہ ملنے کے لیے آئے۔ لیکن جسم کی بدبو کی وجہ سے قریب نہ آسکے دور ہی سے کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ اگر اس شخص میں بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسے اس مصیبت میں نہ ڈالتا اس بات نے ایوب علیہ السلام کو وہ صدمہ پہنچایا جو آج تک آپ علیہ السلام کو کسی چیز سے نہ ہوا تھا اس وقت کہنے لگے ”اللہ کوئی رات مجھ پر ایسی نہیں گزری کہ کوئی بھوکا شخص میرے علم میں ہو اور میں نے پیٹ بھرلیا ہو پروردگار اگر میں اپنی اس بات میں تیرے نزدیک سچا ہوں تو میری تصدیق فرما۔‏‏‏‏“ اُسی وقت آسمان سے آپ علیہ السلام کی تصدیق کی گئی تھی اور وہ دونوں سن رہے تھے۔ پھر فرمایا کہ ”پروردگار کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میرے پاس ایک سے زائد کپڑے ہوں اور میں نے کسی ننگے کو نہ دیے ہوں اگر میں اس میں سچا ہوں تو میری تصدیق آسمان سے کر۔‏‏‏‏“ اس پر بھی آپ کی تصدیق ان کے سنتے ہوئے کی گئی۔ پھر یہ دعا کرتے ہوئے سجدے میں گر پڑے کہ ”اے اللہ میں تو اب سجدے سے سر نہ اٹھاؤں گا جب تک کہ تو مجھ سے ان تمام مصیبتوں کو دور نہ کر دے جو مجھ پر نازل ہوئی ہیں۔‏‏‏‏“ چنانچہ یہ دعاقبول ہوئی۔ اور اس سے پہلے کہ آپ علیہ السلام سر اٹھائیں تمام تکلیفیں اور بیماریاں دور ہو گئیں جو آپ علیہ السلام پر اتری تھیں۔

ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { ایوب علیہ السلام اٹھارہ برس تک بلاؤں میں گھرے رہے پھر ان کے دو دوستوں کے آنے اور بدگمانی کرنے کا ذکر ہے جس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میری تو یہ حالت تھی کہ راستہ چلتے دو شخصوں کو جھگڑتا دیکھتا اور ان میں سے کسی کو قسم کھاتے سن لیتا تو گھر آکر اس کی طرف سے کفارہ ادا کر دیتا کہ ایسا نہ ہو کہ اس نے نام ناحق لیا ہو۔ آپ علیہ السلام اپنی اس بیماری میں اس قدر نڈھال ہو گئے تھے کہ آپ کی بیوی صاحبہ ہاتھ تھام کر پاخانہ پیشاب کے لیے لے جاتی تھیں۔ ایک مرتبہ آپ علیہ السلام کو حاجت تھی آپ نے آواز دی لیکن انہیں آنے میں دیر لگی آپ کو سخت تکلیف ہوئی اسی وقت آسمان سے ندا آئی کہ ’ اے ایوب اپنی ایڑی زمین پر مارو اسی پانی کو پی بھی لو اور اسی سے نہا بھی لو ‘ } } اس حدیث کا مرفوع ہونا بالکل غریب ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:168/23:] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لیے جنت کا حلہ نازل فرما دیا جسے پہن کر آپ علیہ السلام یکسو ہو کر بیٹھ گئے۔ جب آپ کی بیوی آئیں اور آپ علیہ السلام کو نہ پہچان سکیں تو، آپ علیہ السلام سے پوچھنے لگیں اے اللہ کے بندے یہاں ایک بیمار بے کس، بے بس تھے تمہیں معلوم ہے کہ وہ کیا ہوئے؟ کہیں انہیں بھیڑئیے نہ کھا گئے ہوں یا کتے نہ لے گئے ہوں؟ تب آپ علیہ السلام نے فرمایا ”نہیں نہیں وہ بیمار ایوب (‏‏‏‏علیہ السلام) میں ہی ہوں۔‏‏‏‏“ بیوی صاحبہ کہنے لگی اے شخص تو مجھ دکھیا عورت سے ہنسی کر رہا ہے اور مجھے بنا رہا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”نہیں نہیں مجھے اللہ نے شفا دے دی اور یہ رنگ روپ بھی۔‏‏‏‏“ آپ علیہ السلام کا مال آپ کو واپس دیا گیا، آپ علیہ السلام کی اولاد وہی آپ علیہ السلام کو واپس ملی اور ان کے ساتھ ہی ویسی ہی اور بھی وحی میں یہ خوشخبری بھی سنا دی گئی تھی اور فرمایا گیا تھا کہ ’ قربانی کرو اور استغفار کرو، تیرے اپنوں نے تیرے بارے میں میری نافرمانی کرلی تھی ‘۔ اور روایت میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو عافیت عطا فرمائی آسمان سے سونے کی ٹڈیاں ان پر برسائیں جنہیں لے کر آپ علیہ السلام نے اپنے کپڑے میں جمع کرنی شروع کر دیں تو آواز دی گئی کہ اے ایوب کیا تو اب تک آسودہ نہیں ہوا؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”اے میرے پروردگار تیری رحمت سے آسودہ کون ہوسکتا ہے؟“ ۱؎ [مسند احمد:314/2:] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ ہم نے اسے اس کے اہل عطا فرمائے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ تو فرماتے ہیں ”وہی لوگ واپس کئے گئے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:506/18:] ‏‏‏‏ آپ علیہ السلام کی بیوی کا نام رحمت تھا۔ یہ قول اگر آیت سے سمجھا گیا ہے تو یہ بھی دور از کار امر ہے اور اگر اہل کتاب سے لیا گیا ہے تو وہ تصدیق تکذیب کے قابل ہے چیز نہیں۔ ابن عساکر نے ان کا نام اپنی تاریخ میں“ لیا“ بتایا ہے۔ یہ منشا بن یوسف بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام کی بیٹی ہیں۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ ”لیا“ یعقوب علیہ السلام کی بیٹی ایوب علیہ السلام کی بیوی ہیں جو شفیعہ کی زمین میں آپ علیہ السلام کے ساتھ تھیں۔ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام سے فرمایا گیا کہ ’ تیری اہل سب جنت میں ہیں تم کہو تو میں ان سب کو یہاں دنیا میں لادوں اور کہے تو وہیں رہنے دوں اور دنیا میں ان کا عوض دوں ‘ آپ علیہ السلام نے دوسری بات پسند فرمائی۔ پس آخرت کا اجر اور دنیا کا بدلہ دونوں آپ علیہ السلام کو ملا۔ ’ یہ سب کچھ ہماری رحمت کا ظہور تھا۔ اور ہمارے سچے عابدوں کے لیے نصیحت وعبرت تھی ‘، آپ علیہ السلام اہل بلا کے پیشوا تھے۔ یہ سب اس لیے ہوا کہ مصیبتوں میں پھنسے ہوئے لوگ اپنے لیے آپ کی ذات میں عبرت دیکھیں، بے صبری سے ناشکری نہ کرنے لگیں اور لوگ انہیں اللہ کے برے بندے نہ سمجھیں۔ ایوب علیہ السلام صبر کا پہاڑ ثابت قدمی کا نمونہ تھے اللہ کے لکھے پر، اس کے امتحان پر انسان کو صبر و برداشت کرنی چاہیئے نہ جانیں قدرت درپردہ اپنی کیا کیا حکمتیں دکھا رہی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 84،83) ➊ { وَ اَيُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ …:} یعنی ایوب کو یاد کرو۔ داؤد اور سلیمان علیھما السلام کی آزمائش ان نعمتوں کے ساتھ ہوئی جن پر شکر واجب تھا، جبکہ ایوب علیہ السلام کی آزمائش ایسی تکالیف کے ساتھ ہوئی جن پر صبر لازم تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ شکر اور صبر لازم و ملزوم ہیں۔ صبر وہی کر سکتا ہے جو شاکر ہو اور شکر وہی کرتا ہے جو صابر ہو۔ بے صبرا شاکر نہیں ہوتا اور ناشکرا صابر نہیں ہوتا۔ ان کا واقعہ قرآن مجید میں دو جگہ آیا ہے۔ ایک یہاں سورۂ انبیاء میں اور ایک سورۂ ص (۴۱ تا ۴۴) میں۔ ایک دفعہ زیر تفسیر آیات کا ترجمہ ملاحظہ کریں، ساتھ ہی سورۂ ص کی آیات کا ترجمہ دیکھیں، وہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کر جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بے شک شیطان نے مجھے بڑا دکھ اور تکلیف پہنچائی ہے۔ اپنا پاؤں مار، یہ نہانے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے اور ہم نے اسے اس کے گھر والے عطا کر دیے اور ان کے ساتھ اتنے اور بھی، ہماری طرف سے رحمت کے لیے اور عقلوں والوں کی نصیحت کے لیے۔“ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایوب علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ نبی تھے۔ اللہ کی طرف سے ان پر ایسی آزمائش آئی کہ وہ شدید اور لمبی بیماری میں مبتلا ہو گئے، ان کے اہل و عیال بھی جدائی یا فوت ہونے کی وجہ سے ان سے جدا ہو گئے۔ (ثنائی) جب کمانے والے ہی نہ رہے تو مال مویشی بھی ہلاک ہو گئے، مگر ایوب علیہ السلام نے ہر مصیبت پر صبر کیا، نہ کوئی واویلا کیا اور نہ کوئی حرف شکایت لب پر لائے۔ جب تکلیف حد سے بڑھ گئی تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ ایک یہ کہ اے میرے رب! مجھے شیطان نے بڑا دکھ اور تکلیف پہنچائی ہے۔ دوسری یہ کہ اے میرے رب! مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم والا ہے۔ اس دعا میں انھوں نے اپنی حالت زار بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے ارحم الراحمین ہونے کے بیان ہی کو کافی سمجھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حکم دیا کہ زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ انھوں نے پاؤں مارا تو ٹھنڈے پانی کا چشمہ نمودار ہو گیا۔ حکم ہوا کہ اسے پیو اور اس سے غسل کرو۔ وہ مبارک پانی پینے اور اس کے ساتھ غسل کرنے سے ان کی ساری بیماری دور ہو گئی اور وہ پوری طرح صحت مند ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کے گھر والے بھی عطا فرما دیے اور اتنے ہی اور عطا فرما دیے۔ بیماری کے دوران انھوں نے کسی پر ناراض ہو کر اسے کوڑے مارنے کی قسم کھائی تھی، اب وہ سزا زیادہ سمجھ کر پریشان تھے کہ اسے اتنے کوڑے ماروں تو زیادتی ہوتی ہے، نہ ماروں تو قسم ٹوٹتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ مشکل بھی حل فرما دی کہ اتنے تنکوں کا مٹھا لے کر ایک دفعہ مار دو، جتنے کوڑے مارنے کی تم نے قسم کھائی تھی، اس سے تمھاری قسم پوری ہو جائے گی، قسم توڑنے کا گناہ نہیں ہو گا۔ ➋ {”اَلضَّرُّ“ } اور {”اَلضُّرُّ“} میں فرق یہ ہے کہ ضاد کے فتحہ کے ساتھ {”ضَرٌّ“} نفع کی ضد ہے، اس سے مراد کوئی بھی نقصان ہے، مالی ہو یا جانی یا کوئی اور، جبکہ ضاد کے ضمہ کے ساتھ {”ضُرٌّ“} سے مراد آدمی کی جسمانی بدحالی ہے، مثلاً بیماری، لا غری یا بڑھاپا وغیرہ۔ (اعراب القرآن از درویش) ➌ ایوب علیہ السلام نے شدید تکلیف دہ بیماری اور اموال و اولاد کی ہلاکت جیسے مصائب کی آزمائش میں جس طرح صبر کیا، پھر جس طرح انھوں نے اللہ کی جناب میں اپنی حالت زار کا ذکر کرکے اس کے ارحم الراحمین ہونے کے واسطے سے دعا کی اور جسے شرف قبولیت عطا ہوا، اس سے چند اسباق حاصل ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ شدید بیماری اور مال و اہل کی تباہی کے ساتھ آزمائش اللہ تعالیٰ کی رحمت تھی، اسی طرح اس پر صبر کی توفیق دینا، پھر دعا قبول فرما کر صحت سے نوازنا اور دگنے اہل و عیال عطا فرمانا، سب کچھ اللہ کی عظیم رحمت تھی۔ دوسرا یہ کہ اس میں عبادت گزار بندوں کے لیے یاد دہانی ہے کہ اگر اللہ کے بندوں کا مصائب کے ذریعے سے امتحان ہو اور وہ اس پر صبر کریں اور اللہ تعالیٰ ہی کی جناب میں اپنی فریاد پیش کریں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام ملتا ہے اور آدمی کے گمان سے بھی بہت زیادہ ملتا ہے۔ یہاں {” وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِيْنَ “} فرمایا، جبکہ سورۂ صٓ (۴۳) میں {” وَ ذِكْرٰى لِاُولِي الْاَلْبَابِ “} فرمایا، معلوم ہوا عبادت کرنے والے ہی عقل والے ہیں، جو بندگی نہیں کرتے وہ کتنے ہی ہوشیار نظر آئیں، عقل سے خالی ہیں۔ تیسرا یہ کہ آزمائش میں صبر اور اللہ تعالیٰ ہی سے بار بار رجوع اور استغاثہ و فریاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کی تعریف میں تین جملے ارشاد فرمائے: (1) «{ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا }» ”ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا۔“ (2) «{ نِعْمَ الْعَبْدُ }» ”وہ بہت اچھا بندہ تھا۔“ (3) «{ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ }» ”یقینا وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔“ اس سے معلوم ہوا کہ آزمائش میں کامیابی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے شاباش بھی ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تحسین و آفرین ایوب علیہ السلام کے حق میں بہت ہی بڑی شہادت ہے۔ ➍ دکتور محمد بن محمد ابو شہبہ رحمہ اللہ اپنی کتاب {” اَلْاِسْرَائِيْلِيَاتُ وَالْمَوْضُوْعَاتُ فِيْ كُتُبِ التَّفْسِيْرِ “} میں لکھتے ہیں کہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت فرمایا: ”وہب بن منبہ سے ایوب علیہ السلام کے واقعہ میں ایک لمبا قصہ روایت کیا گیا ہے، جسے ابن جریر نے اور ابن ابی حاتم نے سند کے ساتھ اس (وہب بن منبہ) سے نقل کیا ہے۔ بعد میں آنے والے کئی ایک مفسرین نے بھی اسے ذکر کیا ہے۔ اس واقعہ میں غرابت ہے، ہم نے لمبا ہونے کی وجہ سے اسے ترک کر دیا ہے۔“ ابوشہبہ فرماتے ہیں: ”عجیب بات یہ ہے کہ روایات پر نقد کرنے والے حافظ ابن کثیر بھی ایوب علیہ السلام کے واقعہ میں انھی باتوں میں پڑ گئے ہیں جن میں دوسرے حضرات پڑے ہوئے تھے۔ انھوں نے یہاں بہت سی اسرائیلیات ذکر فرمائی ہیں، جن پر کوئی تعاقب نہیں فرمایا، حالانکہ ان کے متعلق ہمارا مشاہدہ ہے کہ وہ ایسی جو بات بھی ذکر فرماتے ہیں اس کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ کہاں سے آئی اور اسلامی روایات میں کیسے داخل ہوئی؟ میں نہیں سمجھتا کہ وہ ان روایات کو (بلانقد) بیان کرنا جائز سمجھتے ہوں۔ چنانچہ انھوں نے ذکر کیا ہے کہ کہا جاتا ہے کہ ”ان کے سارے بدن میں جذام (کوڑھ) ہو گیا اور ان کے دل اور زبان کے سوا کوئی چیز سلامت نہ رہی، جن کے ساتھ وہ اللہ عزو جل کا ذکر کرتے تھے۔ یہاں تک کہ پاس بیٹھنے والوں کو ان سے نفرت ہو گئی اور انھیں شہر کے ایک کونے میں الگ رہائش رکھنا پڑی۔ ان کی بیوی کے سوا ان پر شفقت کرنے والا کوئی نہ رہا، جس نے ان کی آزمائش کے دوران ناقابل بیان مصیبتیں اٹھائیں، حتیٰ کہ وہ محنت مزدوری کرنے لگیں، بلکہ انھوں نے اسی وجہ سے اپنے بال بھی فروخت کر دیے۔“ پھر ذکر فرماتے ہیں: ”بیان کیا جاتا ہے کہ وہ اس آزمائش میں بہت لمبی مدت تک مبتلا رہے۔ پھر اختلاف ہے کہ انھیں اس دعا کے لیے بے قرار کرنے کا باعث کیا تھا؟ چنانچہ حسن بصری اور قتادہ نے کہا، ایوب علیہ السلام سات سال اور کچھ مہینے آزمائش میں مبتلا رہے، اس عرصے میں انھیں کوڑا پھینکنے کی جگہ میں ڈال دیا گیا اور ان کے بدن میں کیڑے پڑ گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی تکلیف دور فرمائی اور انھیں اجر عظیم عطا فرمایا اور ان کی بہت اچھی تعریف فرمائی۔ اور وہب بن منبہ نے کہا کہ آپ تین سال تکلیف میں مبتلا رہے، نہ زیادہ نہ کم۔ سدی نے کہا، ایوب علیہ السلام کا گوشت جھڑ گیا، صرف ہڈیاں اور پٹھے باقی رہ گئے۔“ پھر ایک لمبا قصہ ذکر کیا، پھر ابن کثیرنے وہ واقعہ ذکر فرمایا جو ابن ابی حاتم نے اپنی سند سے عن الزہری عن انس بن مالک روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نبی ایوب علیہ السلام پر ان کی آزمائش اٹھارہ برس رہی۔ دور و نزدیک کے سب لوگوں نے انھیں چھوڑ دیا۔ ان کے دوستوں بھائیوں میں سے صرف دو آدمی صبح اور شام ان کے پاس آتے تھے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا، جانتے ہو! اللہ کی قسم! ایوب نے کوئی ایسا گناہ کیا ہے جو دنیا میں کسی نے نہیں کیا۔ ساتھی نے کہا، وہ کیا ہے؟ اس نے کہا، اٹھارہ سال ہوئے اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم نہیں کیا کہ اس کی تکلیف دور کر دیتا۔ جب شام کو دونوں ان کے پاس گئے تو اس آدمی نے اس بات کا ذکر کر دیا۔ ایوب علیہ السلام نے کہا، مجھے معلوم نہیں تم کیا کہہ رہے ہو؟ ہاں یہ بات اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں دو آدمیوں کے پاس سے گزرتا جو جھگڑ رہے ہوتے، جس میں وہ اللہ کا ذکر کرتے تو میں گھر آ کر ان کی طرف سے کفارہ دے دیتا کہ کہیں وہ ناحق اللہ کا ذکر نہ کر رہے ہوں۔ اور وہ حاجت کے لیے باہر جایا کرتے تھے، جب فارغ ہو جاتے تو ان کی بیوی ہاتھ پکڑ کر لے آتی۔ ایک دن اس نے آنے میں دیر کی تو اسی جگہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی: «{ اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ }» [ صٓ: ۴۲ ] ”اپنا پاؤں مار، یہ نہانے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے۔“ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایوب علیہ السلام کے قصے میں سب سے صحیح روایت وہ ہے جو ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے بیان کی ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے، پھر یہ روایت بیان کی۔ شیخ ناصر الدین البانی نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔ (سلسلہ صحیحہ: ۱۷) مگر صحیح بات یہی ہے کہ یہ روایت صحیح نہیں۔ حافظ ابن حجر کے قول سے اس کا صحیح ہونا ثابت نہیں ہوتا، صرف دوسری روایتوں سے اس کا بہتر ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اگر ان کی مراد اس حدیث کا صحیح ہونا ہو تب بھی ان کی بات محل نظر ہے۔ ابن کثیر نے {” اَلْبِدَايَةُ وَالنِّهَايَةُ “} میں ایوب علیہ السلام کے تذکرہ میں فرمایا: {”هٰذَا غَرِيْبٌ رَفْعُهُ جِدًّا وَالْأَشْبَهُ أَنْ يَّكُوْنَ مَوْقُوْفًا“} ”اس روایت کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہونا بہت ہی غریب ہے، زیادہ قریب یہی ہے کہ یہ صحابی کا قول ہے۔“ اس روایت کی تمام سندوں میں زہری کی روایت ”عن“ کے لفظ کے ساتھ آئی ہے اور زہری کا اپنی تمام تر عظمت وجلالت کے باوجود مدلس ہونا معروف و مشہور ہے۔ اس لیے صحیحین کے سوا ان کی تدلیس والی روایت کو صحیح نہیں کہا جا سکتا۔ ایوب علیہ السلام کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف ایک صحیح حدیث آئی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ بَيْنَمَا أَيُّوْبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَحْثِيْ فِيْ ثَوْبِهِ فَنَادَاهُ رَبُّهُ يَا أَيُّوْبُ! أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَی؟ قَالَ بَلٰی يَا رَبِّ! وَلَكِنْ لَا غِنَی لِيْ عَنْ بَرَكَتِكَ ] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «‏‏‏‏و أیوب إذ نادی ربہ…» : ۳۳۹۱ ] ”ایوب علیہ السلام کپڑے اتار کر غسل کر رہے تھے، غسل کے دوران ہی ان پر سونے کی ٹڈیوں کا ایک دَل (لشکر) آ گرا۔ ایوب علیہ السلام لپوں کے ساتھ اسے اپنے کپڑے میں بھرنے لگے تو انھیں ان کے رب نے آواز دی: ”اے ایوب! کیا میں نے تمھیں اس سے غنی نہیں کر دیا جو تم دیکھ رہے ہو؟“ انھوں نے عرض کی: ”کیوں نہیں، تیری عزت کی قسم! لیکن میرے لیے تیری برکت سے کسی طرح بے پروائی ممکن نہیں۔“ اس کے علاوہ ایوب علیہ السلام کے متعلق تمام اقوال تابعین یا صحابہ سے مروی ہیں اور سب وہب بن منبہ کے بیان ہی کا خلاصہ یا تفصیل ہیں، جو صاف ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل سے لیے گئے ہیں۔ حقیقت صرف وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے اور جس کا خلاصہ اس آیت کے فائدہ نمبر (۱) میں گزر چکا ہے۔ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان پر اپنے پاس سے یا ان اہلِ کتاب سے لے کر اضافہ کرے جنھوں نے انبیاء پر تہمتیں باندھیں، بلکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو بھی نہیں بخشا اور کہہ دیا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۸۱) اور یہ کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ غُلَّتْ اَيْدِيْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا }» [ المائدۃ: ۶۴ ] ”انھی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور ان کی باتوں کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی ہے۔“ ➎ ابوشہبہ فرماتے ہیں، ہمیں جو عقیدہ رکھنا واجب ہے وہ یہ ہے کہ ایوب علیہ السلام کی آزمائش یقینا ہوئی، ان پر جسم اور اہلِ مال کی شدید تکلیف آئی، جس پر انھوں نے ایسا صبر کیا کہ صبر میں ضرب المثل بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس پر ان کی تعریف فرمائی، مگر ان کی آزمائش اس حد تک نہیں پہنچی جو ان جھوٹی داستانوں میں بیان ہوئی ہے کہ انھیں جذام (کوڑھ) ہو گیا، ان کے سارے جسم پر پھوڑے بن گئے، انھیں کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا۔ ان کے جسم میں کیڑے رینگتے پھرتے تھے اور ہڈیوں اور پٹھوں کے سوا سارا گوشت جھڑ گیا تھا اور ان سے دور ہی سے بدبو آتی تھی وغیرہ۔ ایوب علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے ہاں اس سے کہیں معزز ومکرم تھے کہ انھیں کوڑے پر پھینک دیا جائے، یا وہ ایسے مرض میں مبتلا ہوں جس سے لوگ ان کی دعوت سے متنفر ہوں۔ اللہ کا پیغام پہنچانے والا ہی اس قدر معیوب حالت میں ہو تو ایسی دعوت کا کیا فائدہ اور اس سے حاصل کیا ہو گا؟ پھر انبیاء ہمیشہ اپنی قوم کے اونچے نسب میں سے مبعوث کیے جاتے رہے ہیں (جیسا کہ حدیثِ ہرقل میں ہے)۔ ایوب علیہ السلام کی ایسی حالت میں ان کا قبیلہ کہاں تھا کہ ان کی حفاظت کرتا، ان کے کھانے پینے کا بندوبست کرتا، بجائے اس کے کہ ان کی بیوی لوگوں کے گھروں میں کام کرے، بلکہ اپنے سر کے بال فروخت کرتی پھرے اور ان پر ایمان لانے والے کہاں گئے، کیا سب انھیں چھوڑ گئے، کیا ایمان کا تقاضا یہی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی ساری داستانیں بے بنیاد ہیں، نہ عقل سلیم انھیں تسلیم کرتی ہے اور نہ صحیح نقل۔ ایوب علیہ السلام پر آنے والی بیماری ایسی ہر گز نہ تھی جس سے نفرت پیدا ہو، کیونکہ یہ ان کے منصب ہی کے خلاف تھا، بلکہ وہ اس قسم کی کوئی بیماری تھی جس کا جسم پر کوئی نشان ظاہر نہیں ہوتا، مثلاً کوئی جسمانی درد، ریوماٹزم، جوڑوں یا ہڈیوں وغیرہ کی تکلیف۔ جب اللہ کا فضل ہوا تو زمین پر پاؤں مارنے کے نتیجے میں نمودار ہونے والے چشمے کا ٹھنڈا پانی پینے اور اس کے ساتھ غسل کرنے سے مکمل شفایاب ہو گئے۔ قاضی ابوبکر ابن العربی رحمہ اللہ کی بات دل کو بہت لگتی ہے، وہ فرماتے ہیں: ”ایوب علیہ السلام کے معاملے میں کوئی بات ثابت نہیں سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی کتاب میں دو مقامات پر بتائی ہے، ایک: «{ وَ اَيُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّيْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ }» [ الأنبیاء: ۸۳ ] اور دوسری: «{ رَبَّهٗۤ اَنِّيْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍ }» [ صٓ: ۴۱ ] رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! تو آپ سے اس حدیث کے سوا ایوب علیہ السلام کے متعلق ایک حرف بھی ثابت نہیں جس میں ان پر غسل کے دوران سونے کی ٹڈیاں گرنے کا ذکر ہے۔ پھر جب اس کے سوا قرآن اور حدیث میں کوئی بات ثابت ہی نہیں تو وہ کون صاحب ہیں جنھوں نے ایوب علیہ السلام کا حال آنکھوں سے دیکھا یا کانوں سے سنا؟ رہی اسرائیلی روایات! تو وہ علماء کے نزدیک قطعی طور پر متروک ہیں، اس لیے ان کے پڑھنے سے اپنی نگاہیں بچا کر رکھو اور ان کے سننے سے اپنے کان بند رکھو۔ کیونکہ وہ تمھاری سوچ میں محض خیال کا اور دل میں صرف خرابی کا اضافہ کریں گی۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِيْنَ! كَيْفَ تَسْأَلُوْنَ أَهْلَ الْكِتَابِ؟ وَكِتَابُكُمُ الَّذِيْ أُنْزِلَ عَلٰی نَبِيِّهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثُ الْأَخْبَارِ بِاللّٰهِ تَقْرَؤُوْنَهٗ لَمْ يُشَبْ، وَقَدْ حَدَّثَكُمُ اللّٰهُ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ بَدَّلُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ وَغَيَّرُوْا بِأَيْدِهِمُ الْكِتَابَ فَقَالُوْا: «{ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِيَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا }» [البقرة: ۷۹] أَفَلاَ يَنْهَاكُمْ مَا جَاءَكُمْ مِنَ الْعِلْمِ عَنْ مُسَاءَلَتِهِمْ؟ وَلَا وَاللّٰهِ! مَا رَأَيْنَا رَجُلًا مِنْهُمْ قَطُّ يَسْأَلُكُمْ عَنِ الَّذِيْ أُنْزِلَ عَلَيْكُمْ ] [ بخاري، الشھادات، باب لا یسأل أھل الشرک عن الشھادۃ وغیرھا: ۲۶۸۵ ] ”اے مسلمانو کی جماعت! تم اہل کتاب سے کس طرح سوال کرتے ہو، جب کہ تمھاری کتاب، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی خبروں میں سے سب سے تازہ ہے۔ تم اسے اس حال میں پڑھتے ہو کہ اس میں کوئی ملاوٹ نہیں کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں بتا دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو لکھا تھا اہلِ کتاب نے اسے بدل دیا اور انھوں نے اپنے ہاتھوں سے اللہ کی کتاب میں تبدیلی کر دی اور کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اس کے ساتھ بہت تھوڑی قیمت حاصل کریں۔ تو کیا تمھارے پاس جو علم آیا ہے وہ تمھیں ان سے سوال کرنے سے منع نہیں کرتا؟ نہیں! قسم ہے اللہ کی! ہم نے ان میں سے کسی آدمی کو کبھی تم سے اس کے متعلق سوال کرتے ہوئے نہیں دیکھا جو تم پر نازل کیا گیا ہے۔“ آخر میں ابوشہبہ نے آلوسی، طبری اور دوسرے علماء سے اس مفہوم کی عبارتیں نقل کی ہیں۔ ایوب علیہ السلام کے متعلق مزید دیکھیے سورۂ صٓ (۴۱ تا ۴۴)۔
فَاسۡتَجَبۡنَا لَہٗ فَکَشَفۡنَا مَا بِہٖ مِنۡ ضُرٍّ وَّ اٰتَیۡنٰہُ اَہۡلَہٗ وَ مِثۡلَہُمۡ مَّعَہُمۡ رَحۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَ ذِکۡرٰی لِلۡعٰبِدِیۡنَ ﴿۸۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے اس کی دُعا قبول کی اور جو تکلیف اُسے تھی اس کو دُور کر دیا، اور صرف اس کے اہل و عیال ہی اس کو نہیں دیے بلکہ ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیے، اپنی خاص رحمت کے طور پر، اور اس لیے کہ یہ ایک سبق ہو عبادت گزاروں کے لیے
مولانا محمد جوناگڑھی
تو ہم نے اس کی سن لی اور جو دکھ انہیں تھا اسے دور کر دیا اور اس کو اہل وعیال عطا فرمائے بلکہ ان کے ساتھ ویسے ہی اور اپنی خاص مہربانی سے تاکہ سچے بندوں کے لئے سبب نصیحت ہو
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے اس کی دعا سن لی تو ہم نے دور کردی جو تکلیف اسے تھی اور ہم نے اسے اس کے گھر والے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور عطا کیے اپنے پاس سے رحمت فرما کر اور بندی والوں کے لیے نصیحت
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو جو تکلیف تھی وہ دور کر دی اور اپنی خاص رحمت سے ہم نے ان کو ان کے اہل و عیال عطا کئے اور ان کے برابر اور بھی اور اس لئے کہ یہ عبادت گزاروں کیلئے یادگار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو ہم نے اس کی دعا قبول کرلی، پس اسے جو بھی تکلیف تھی دور کر دی اور اسے اس کے گھر والے اور ان کے ساتھ ان کی مثل (اور) عطا کر دیے، اپنے پاس سے رحمت کے لیے اور ان لوگوں کی یاددہانی کے لیے جو عبادت کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آزمائش اور مصائب ایوب علیہ السلام ٭٭

حضرت ابوب علیہ السلام کی تکلیفوں کا بیان ہو رہا ہے جو مالی جسمانی اور اولاد پر مشتمل تھیں ان کے پاس بہت سے قسم قسم کے جانور تھے کھیتیاں باغات وغیرہ تھے اولاد بیویاں لونڈیاں غلام جائیداد اور مال ومتاع سبھی کچھ اللہ کا دیا موجود تھا۔ اب جو رب کی طرف سے ان پر آزمائش آئی تو ایک سرے سے سب کچھ فنا ہوتا گیا یہاں تک کہ جسم میں جذام پھوٹ پڑا۔ دل و زبان کے سوا سارے جسم کا کوئی حصہ اس مرض سے محفوظ نہ رہا۔ یہاں تک کہ آس پاس والے کراہت کرنے لگے۔ شہر کے ایک ویران کونے میں آپ علیہ السلام کو سکونت اختیار کرنی پڑی۔ سوائے آپ علیہ السلام کی ایک بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا کے اور کوئی آپ علیہ السلام کے پاس نہ رہا، اس مصیبت کے وقت سب نے کنارہ کر لیا۔ یہی ایک تھیں جو ان کی خدمت کرتی تھیں ساتھ ہی محنت مزدوری کر کے پیٹ پالنے کو بھی لایا کرتی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا کہ { سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے، پھر صالح لوگوں کا پھر ان سے نیچے کے درجے والوں کا پھر ان سے کم درجے والوں کا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2398،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { ہر شخص کا امتحان اس کے دین کے انداز سے ہوتا ہے اگر وہ دین میں مضبوط ہے امتحان بھی سخت تر ہوتا ہے }۔ ؎ [سنن ترمذي:2398،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ایوب علیہ السلام بڑے ہی صابر تھے یہاں تک کہ صبر ایوب زبان زد عام ہے۔

یزید بن میسرہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”جب آپ علیہ السلام کی آزمائش شروع ہوئی اہل و عیال مرگئے مال فنا ہوگیا کوئی چیز ہاتھ تلے نہ رہی۔ آپ علیہ السلام اللہ کے ذکر میں اور بڑھ گئے کہنے لگے ”اے تمام پالنے والوں کے پالنے والے تو نے مجھ پر بڑے احسان کئے مال دیا اولاد دی اس وقت میرا دل بہت ہی مشغول تھا اب تو نے سب کچھ لے کر میرے دل کو ان فکروں سے پاک کر دیا اب میرے دل میں اور تجھ میں کوئی حائل نہ رہا اگر میرا دشمن ابلیس تیری اس مہربانی کو جان لیتا تو وہ مجھ پر بہت ہی حسد کرتا۔‏‏‏‏“ ابلیس لعین اس قول سے اور اس وقت کی اس حمد سے جل بھن کر رہ گیا۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:589/4:ضعیف] ‏‏‏‏ آپ علیہ السلام کی دعاؤں میں یہ بھی دعا تھی ”اے اللہ تو نے جب مجھے توانگر اور اولاد اور اہل و عیال والا بنا رکھا تھا تو خوب جانتا ہے کہ اس وقت میں نے نہ کبھی غرور و تکبر کیا نہ کبھی کسی پر ظلم ستم کیا۔ میرے پروردگار تجھ پر روشن ہے کہ میرا نرم و گرم بستر تیار ہوتا اور میں راتوں کو تیری عبادتوں میں گزارتا اور اپنے نفس کو اس طرح ڈانٹ دیتا کہ تو اس لیے پیدا نہیں کیا گیا تیری رضا مندی کی طلب میں میں اپنی راحت و آرام کو ترک کر دیا کرتا۔‏‏‏‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏ اس آیت کی تفسیر میں ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ایک بہت لمبا قصہ ہے جسے بہت سے پچھلے مفسیرین نے بھی ذکر کیا ہے۔ لیکن اس میں غرابت ہے اور اس کے طول کی وجہ سے ہم نے اسے چھوڑ دیا ہے۔ مدتوں تک آپ علیہ السلام ان بلاؤں میں مبتلا رہے۔

حضرت حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں ”سات سال اور کئی ماہ آپ علیہ السلام بیماری میں مبتلا رہے۔ بنو اسرائیل کے کوڑے پھینکنے کی جگہ آپ علیہ السلام کو ڈال رکھا تھا۔ بدن میں کیڑے پڑ گئے تھے، پھر اللہ نے آپ علیہ السلام پر رحم و کرم کیا تمام بلاؤں سے نجات دی اجر دیا اور تعریفیں کیں۔‏‏‏‏“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”پورے تین سال آپ علیہ السلام اس تکلیف میں رہے۔ سارا گوشت جھڑ گیا تھا۔ صرف ہڈیاں اور چمڑا رہ گیا۔ آپ علیہ السلام دکھ میں پڑے رہتے تھے صرف ایک بیوی صاحبہ تھیں جو آپ علیہ السلام کے پاس تھیں۔ جب زیادہ زمانہ گزر گیا تو ایک روز عرض کرنے لگیں کہ ”اے نبی اللہ علیہ السلام آپ علیہ السلام اللہ سے دعا کیوں نہیں کرتے کہ وہ اس مصیبت کو ہم پر سے ٹال دے۔‏‏‏‏“ آپ علیہ السلام فرمانے لگے ”سنو ستر برس تک اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت وعافیت میں رکھا تو اگر ستر سال تک میں اس حالت میں رہوں اور صبر کروں تو یہ بھی بہت کم ہے۔‏‏‏‏“ اس پر بیوی صاحبہ کانپ اٹھیں آپ شہر میں جاتیں، لوگوں کا کام کاج کرتیں اور جو ملتا وہ لے آتیں اور آپ علیہ السلام کو کھلاتیں پلاتیں۔

آپ علیہ السلام کے دو دوست اور دلی خیرخواہ دوست تھے انہیں فلسطین میں جاکر شیطان نے خبر دی کہ تمہارا دوست سخت مصیبت میں مبتلا ہے تم جاؤ ان کی خبرگیری کرو اور اپنے ہاں کی کچھ شراب اپنے ساتھ لے جاؤ وہ پلادینا اس سے انہیں شفاء ہو جائے گی۔ چنانچہ یہ دونوں آئے ایوب علیہ السلام کی حالت دیکھتے ہی ان کے آنسو نکل آئے بلبلا کر رونے لگے۔ آپ علیہ السلام نے پوچھا تم کون ہو؟ انہوں نے یاد دلایا تو آپ علیہ السلام خوش ہوئے انہیں مرحبا کہا وہ کہنے لگے ”اے جناب آپ شاید کچھ چھپاتے ہوں گے اور ظاہر اس کے خلاف کرتے ہوں گے؟“ آپ علیہ السلام نے نگاہیں آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا ”اللہ خوب جانتا ہے کہ میں کیا چھپاتا تھا اور کیا ظاہر کرتا تھا میرے رب نے مجھے اس میں مبتلا کیا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ میں صبر کرتا ہوں یا بے صبری؟“ وہ کہنے لگے اچھا ہم آپ کے واسطے دوا لائے ہیں آپ اسے پی لیجئے شفاء ہو جائے گی یہ شراب ہے۔ ہم اپنے ہاں سے لائے ہیں۔ یہ سنتے ہی آپ علیہ السلام سخت غضبناک ہوئے اور فرمانے لگے ”تمہیں شیطان خبیث لایا ہے تم سے کلام کرنا تمہارا کھانا پینا مجھ پر حرام ہے۔‏‏‏‏“ یہ دونوں آپ علیہ السلام کے پاس سے چلے گئے۔

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ نے ایک گھر والوں کی روٹیاں پکائیں ان کا ایک بچہ سویا ہوا تھا تو انہوں نے اس بچے کے حصے کی ٹکیا انہیں دے دی یہ لے کر ایوب علیہ السلام کے پاس آئیں۔ آپ علیہ السلام نے کہا ”یہ آج کہاں سے لائیں؟“ انہوں نے ساراواقعہ بیان کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”ابھی ابھی واپس جاؤ ممکن ہے بچہ جاگ گیا ہو اور اسی ٹکیا کی ضد کرتا ہو اور رو رو کر سارے گھر والوں کو پریشان کرتا ہو۔‏‏‏‏“ آپ روٹی واپس لے کرچلیں ان کی ڈیوڑھی میں بکری بندھی ہوئی تھی اس نے زور سے آپ کو ٹکر ماری آپ کی زبان سے نکل گیا دیکھو ایوب کیسے غلط خیال والے ہیں۔ پھر اوپر گئیں تو دیکھا واقعی بچہ جاگا ہوا ہے اور ٹکیا کے لیے مچل رہا ہے اور گھر بھر کا ناک میں دم کر رکھا ہے یہ دیکھ کر بے ساختہ زبان سے نکلا کہ اللہ ایوب پر رحم کرے، اچھے موقعہ پر پہنچی۔ ٹکیا دے دی اور واپس لوٹیں راستے میں شیطان بہ صورت طبیب ملا اور کہنے لگا کہ تیرے خاوند سخت تکلیف میں ہیں مرض پر مدتیں گزر گئیں تم انہیں سمجھاؤ فلاں قبیلے کے بت کے نام پر ایک مکھی مار دیں شفاء ہو جائے گی پھر توبہ کر لیں۔ جب آپ ایوب علیہ السلام کے پاس پہنچیں تو ان سے یہ کہا آپ علیہ السلام نے فرمایا ”شیطان خبیث کاجادو تجھ پر چل گیا۔ میں تندرست ہو گیا تو تجھے سو کوڑے لگاؤں گا۔‏‏‏‏“ ایک دن آپ حسب معمول تلاش معاش میں نکلیں گھر گھر پھر آئیں کہیں کام نہ لگا مایوس ہوگئیں شام کو پلٹنے وقت ایوب علیہ السلام کی بھوک کا خیال آیا تو آپ نے اپنے بالوں کی ایک لٹ کاٹ کر ایک امیر لڑکی کے ہاتھ فروخت کر دی اس نے آپ کو بہت کچھ کھانے پینے کا اسباب دیا۔ جسے لے کر آپ آئیں، ایوب علیہ السلام نے پوچھا ”یہ آج اتنا سارا اور اتنا اچھا کھانا کیسے مل گیا؟“ فرمایا میں نے ایک امیر گھر کا کام کر دیا تھا۔ آپ علیہ السلام نے کھا لیا دوسرے روز بھی اتفاق سے ایسا ہی ہوا اور آپ نے اپنے بالوں کی دوسری لٹ کاٹ کر فروخت کر دی اور کھانا لے آئیں آج بھی یہی کھانا دیکھ کر آپ علیہ السلام نے فرمایا ”واللہ میں ہرگز نہ کھاؤں گا جب تک تو مجھے یہ نہ بتا دے کہ کیسے لائی؟“ اب آپ نے اپنا دوپٹہ سر سے اتار دیا دیکھا کہ سرکے بال سب کٹ چکے ہیں اس وقت سخت گھبراہٹ اور بے چینی ہوئی اور اللہ سے دعا کی کہ ”مجھے ضرر پہنچا اور تو سب سے زیادہ رحیم ہے۔‏‏‏‏“

حضرت نوف بکالی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جو شیطان ایوب علیہ السلام کے پیچھے پڑا تھا اس کا نام مسبوط تھا۔ ایوب علیہ السلام کی بیوی صاحبہ عموماً آپ علیہ السلام سے عرض کیا کرتی تھیں کہ اللہ سے دعا کرو۔ لیکن آپ علیہ السلام نہ کرتے تھے یہاں تک کہ ایک دن بنو اسرائیل کے کچھ لوگ آپ علیہ السلام کے پاس سے نکلے اور آپ علیہ السلام کو دیکھ کر کہنے لگے اس شخص کو یہ تکلیف ضرور کسی نہ کسی گناہ کی وجہ سے ہے اس وقت بےساختہ آپ علیہ السلام کی زبان سے یہ دعا نکل گئی۔‏‏‏‏“ عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”ایوب علیہ السلام کہ دو بھائی تھے ایک دن وہ ملنے کے لیے آئے۔ لیکن جسم کی بدبو کی وجہ سے قریب نہ آسکے دور ہی سے کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ اگر اس شخص میں بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسے اس مصیبت میں نہ ڈالتا اس بات نے ایوب علیہ السلام کو وہ صدمہ پہنچایا جو آج تک آپ علیہ السلام کو کسی چیز سے نہ ہوا تھا اس وقت کہنے لگے ”اللہ کوئی رات مجھ پر ایسی نہیں گزری کہ کوئی بھوکا شخص میرے علم میں ہو اور میں نے پیٹ بھرلیا ہو پروردگار اگر میں اپنی اس بات میں تیرے نزدیک سچا ہوں تو میری تصدیق فرما۔‏‏‏‏“ اُسی وقت آسمان سے آپ علیہ السلام کی تصدیق کی گئی تھی اور وہ دونوں سن رہے تھے۔ پھر فرمایا کہ ”پروردگار کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میرے پاس ایک سے زائد کپڑے ہوں اور میں نے کسی ننگے کو نہ دیے ہوں اگر میں اس میں سچا ہوں تو میری تصدیق آسمان سے کر۔‏‏‏‏“ اس پر بھی آپ کی تصدیق ان کے سنتے ہوئے کی گئی۔ پھر یہ دعا کرتے ہوئے سجدے میں گر پڑے کہ ”اے اللہ میں تو اب سجدے سے سر نہ اٹھاؤں گا جب تک کہ تو مجھ سے ان تمام مصیبتوں کو دور نہ کر دے جو مجھ پر نازل ہوئی ہیں۔‏‏‏‏“ چنانچہ یہ دعاقبول ہوئی۔ اور اس سے پہلے کہ آپ علیہ السلام سر اٹھائیں تمام تکلیفیں اور بیماریاں دور ہو گئیں جو آپ علیہ السلام پر اتری تھیں۔

ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { ایوب علیہ السلام اٹھارہ برس تک بلاؤں میں گھرے رہے پھر ان کے دو دوستوں کے آنے اور بدگمانی کرنے کا ذکر ہے جس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میری تو یہ حالت تھی کہ راستہ چلتے دو شخصوں کو جھگڑتا دیکھتا اور ان میں سے کسی کو قسم کھاتے سن لیتا تو گھر آکر اس کی طرف سے کفارہ ادا کر دیتا کہ ایسا نہ ہو کہ اس نے نام ناحق لیا ہو۔ آپ علیہ السلام اپنی اس بیماری میں اس قدر نڈھال ہو گئے تھے کہ آپ کی بیوی صاحبہ ہاتھ تھام کر پاخانہ پیشاب کے لیے لے جاتی تھیں۔ ایک مرتبہ آپ علیہ السلام کو حاجت تھی آپ نے آواز دی لیکن انہیں آنے میں دیر لگی آپ کو سخت تکلیف ہوئی اسی وقت آسمان سے ندا آئی کہ ’ اے ایوب اپنی ایڑی زمین پر مارو اسی پانی کو پی بھی لو اور اسی سے نہا بھی لو ‘ } } اس حدیث کا مرفوع ہونا بالکل غریب ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:168/23:] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لیے جنت کا حلہ نازل فرما دیا جسے پہن کر آپ علیہ السلام یکسو ہو کر بیٹھ گئے۔ جب آپ کی بیوی آئیں اور آپ علیہ السلام کو نہ پہچان سکیں تو، آپ علیہ السلام سے پوچھنے لگیں اے اللہ کے بندے یہاں ایک بیمار بے کس، بے بس تھے تمہیں معلوم ہے کہ وہ کیا ہوئے؟ کہیں انہیں بھیڑئیے نہ کھا گئے ہوں یا کتے نہ لے گئے ہوں؟ تب آپ علیہ السلام نے فرمایا ”نہیں نہیں وہ بیمار ایوب (‏‏‏‏علیہ السلام) میں ہی ہوں۔‏‏‏‏“ بیوی صاحبہ کہنے لگی اے شخص تو مجھ دکھیا عورت سے ہنسی کر رہا ہے اور مجھے بنا رہا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”نہیں نہیں مجھے اللہ نے شفا دے دی اور یہ رنگ روپ بھی۔‏‏‏‏“ آپ علیہ السلام کا مال آپ کو واپس دیا گیا، آپ علیہ السلام کی اولاد وہی آپ علیہ السلام کو واپس ملی اور ان کے ساتھ ہی ویسی ہی اور بھی وحی میں یہ خوشخبری بھی سنا دی گئی تھی اور فرمایا گیا تھا کہ ’ قربانی کرو اور استغفار کرو، تیرے اپنوں نے تیرے بارے میں میری نافرمانی کرلی تھی ‘۔ اور روایت میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو عافیت عطا فرمائی آسمان سے سونے کی ٹڈیاں ان پر برسائیں جنہیں لے کر آپ علیہ السلام نے اپنے کپڑے میں جمع کرنی شروع کر دیں تو آواز دی گئی کہ اے ایوب کیا تو اب تک آسودہ نہیں ہوا؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”اے میرے پروردگار تیری رحمت سے آسودہ کون ہوسکتا ہے؟“ ۱؎ [مسند احمد:314/2:] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ ہم نے اسے اس کے اہل عطا فرمائے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ تو فرماتے ہیں ”وہی لوگ واپس کئے گئے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:506/18:] ‏‏‏‏ آپ علیہ السلام کی بیوی کا نام رحمت تھا۔ یہ قول اگر آیت سے سمجھا گیا ہے تو یہ بھی دور از کار امر ہے اور اگر اہل کتاب سے لیا گیا ہے تو وہ تصدیق تکذیب کے قابل ہے چیز نہیں۔ ابن عساکر نے ان کا نام اپنی تاریخ میں“ لیا“ بتایا ہے۔ یہ منشا بن یوسف بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام کی بیٹی ہیں۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ ”لیا“ یعقوب علیہ السلام کی بیٹی ایوب علیہ السلام کی بیوی ہیں جو شفیعہ کی زمین میں آپ علیہ السلام کے ساتھ تھیں۔ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام سے فرمایا گیا کہ ’ تیری اہل سب جنت میں ہیں تم کہو تو میں ان سب کو یہاں دنیا میں لادوں اور کہے تو وہیں رہنے دوں اور دنیا میں ان کا عوض دوں ‘ آپ علیہ السلام نے دوسری بات پسند فرمائی۔ پس آخرت کا اجر اور دنیا کا بدلہ دونوں آپ علیہ السلام کو ملا۔ ’ یہ سب کچھ ہماری رحمت کا ظہور تھا۔ اور ہمارے سچے عابدوں کے لیے نصیحت وعبرت تھی ‘، آپ علیہ السلام اہل بلا کے پیشوا تھے۔ یہ سب اس لیے ہوا کہ مصیبتوں میں پھنسے ہوئے لوگ اپنے لیے آپ کی ذات میں عبرت دیکھیں، بے صبری سے ناشکری نہ کرنے لگیں اور لوگ انہیں اللہ کے برے بندے نہ سمجھیں۔ ایوب علیہ السلام صبر کا پہاڑ ثابت قدمی کا نمونہ تھے اللہ کے لکھے پر، اس کے امتحان پر انسان کو صبر و برداشت کرنی چاہیئے نہ جانیں قدرت درپردہ اپنی کیا کیا حکمتیں دکھا رہی ہے۔
84۔ 1 قرآن مجید میں حضرت ایوب ؑ کو صابر کہا گیا ہے، (ۭاِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا ۭ نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ اِنَّهٗٓ اَوَّابٌ) 38۔ ص:44) اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں سخت آزمائشوں میں ڈالا گیا جن میں انہوں نے صبر شکر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ یہ آزمائش اور تکلیفیں کیا تھیں، اس کی مستند تفصیل تو نہیں ملتی، تاہم قرآن کے انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں مال و دولت دنیا اور اولاد وغیرہ سے نوازا ہوا تھا، بطور آزمائش اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ سب نعمتیں چھین لیں، حتٰی کہ جسمانی صحت سے بھی محروم اور بیماریوں میں گھر کر رہ گئے۔ بالآخر کہا جاتا ہے کہ 8 ا سال کی آزمائشوں کے بعد بارگاہ الٰہی میں دعا کی، اللہ نے دعا قبول فرمائی اور صحت کے ساتھ مال و اولاد، پہلے سے دوگنا عطا فرمائے۔ اس کی کچھ تفصیل صحیح ابن حبان ؓ کی ایک روایت میں ملتی ہے، جس کا اظہار حضرت ایوب ؑ نے کبھی نہیں کیا۔ البتہ دعا صبر کے منافی نہیں ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ' ہم نے قبول کرلی ' کے الفاظ استعمال فرمائے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ اِدۡرِیۡسَ وَ ذَاالۡکِفۡلِ ؕ کُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿ۚۖ۸۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور یہی نعمت اسماعیلؑ اور ادریسؑ اور ذوالکفلؑ کو دی کہ یہ سب صابر لوگ تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل، (علیہم السلام) یہ سب صابر لوگ تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو (یاد کرو)، وہ سب صبر والے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اسماعیل (ع)، ادریس (ع) اور ذوالکفل (کا تذکرہ کیجئے) یہ سب (راہ حق میں) صبر کرنے والوں میں سے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو۔ ہر ایک صبر کرنے والوں سے تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذوالکفل نبی نہیں بزرگ تھے ٭٭

حضرت اسماعیل علیہ السلام، ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے فرزند تھے۔ سورۃ مریم میں ان کا واقعہ بیان ہو چکا ہے۔ ادریس علیہ السلام کا بھی ذکر گزر چکا ہے۔ ذوالکفل بہ ظاہر تو نبی ہی معلوم ہوتے ہیں کیونکہ نبیوں کے ذکر میں ان کا نام آیا ہے اور لوگ کہتے ہیں یہ نبی نہ تھے بلکہ ایک صالح شخص تھے اپنے زمانہ کے بادشاہ تھے بڑے ہی عادل اور بامروت، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ اس میں توقف کرتے ہیں ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:507/18:] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”یہ ایک نیک بزرگ تھے جنہوں نے اپنے زمانے کے نبی سے عہد و پیمان کئے اور ان پر قائم رہے۔ قوم میں عدل وانصاف کیا کرتے تھے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:509/18:] ‏‏‏‏ مروی ہے کہ جب یسع علیہ السلام بہت بوڑھے ہو گئے تو ارادہ کیا کہ میں اپنی زندگی میں ہی ان کا خلیفہ مقرر کر دوں اور دیکھ لوں کہ وہ کیسے عمل کرتا ہے۔ لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ تین باتیں جو شخص منظور کرے میں اسے خلافت سونپتا ہوں۔ دن بھر روزے سے رہے رات بھر قیام کرے اور کبھی بھی غصے نہ ہو۔ کوئی اور تو کھڑا نہ ہوا ایک شخص جسے لوگ بہت ہلکے درجے کا سمجھتے تھے کھڑا ہوا اور کہنے لگا میں اس شرط کو پوری کر دوں گا۔ آپ نے پوچھا یعنی تو دنوں میں روزے سے رہے گا اور راتوں کو تہجد پڑھتا رہے گا اور غصہ نہ کرے گا؟ اس نے کہا ہاں۔ یسع علیہ السلام نے فرمایا اچھا اب کل سہی۔ دوسرے روز بھی آپ نے اسی طرح مجلس میں عام سوال کیا لیکن اس شخص کے سوا کوئی اور کھڑا نہ ہوا۔ چنانچہ انہی کو خلیفہ بنا دیا گیا۔ اب شیطان نے چھوٹے چھوٹے شیاطین کو اس بزرگ کے بہکانے کے لیے بھیجنا شروع کیا۔ مگر کسی کی کچھ نہ چلی۔

ابلیس خود چلا دوپہر کو قیلولے کے لیے آپ لیٹے ہی تھے جو خبیث نے کنڈیاں پیٹنی شروع کر دیں آپ نے دریافت فرمایا کہ تو کون ہے؟ اس نے کہنا شروع کیا کہ میں ایک مظلوم ہوں فریادی ہوں میری قوم مجھے ستارہی ہے۔ میرے ساتھ انہوں نے یہ کیا یہ کیا اب لمبا قصہ سنانا شروع کیا تو کسی طرح ختم ہی نہیں کرتا نیند کا سارا وقت اسی میں چلا گیا اور ذوالکفل دن رات بس صرف اسی وقت ذرا سی دیر کے لیے سوتے تھے۔ آپ نے فرمایا اچھا شام کو آنا میں تمہارا انصاف کر دوں گا اب شام کو آپ جب فیصلے کرنے لگے ہرطرف اسے دیکھتے ہیں لیکن اس کا کہیں پتہ نہیں یہاں تک کہ خود جا کر ادھر ادھر بھی تلاش کیا مگر اسے نہ پایا۔ دوسری صبح کو بھی وہ نہ آیا پھر جہاں آپ دوپہر کو دو گھڑی آرام کرنے کے ارادے سے لیٹے جو یہ خبیث آ گیا اور دروازہ ٹھونکنے لگا آپ نے کھول دیا اور فرمانے لگے میں نے تو تم سے شام کو آنے کو کہا تھا، منتظر رہا لیکن تم نہ آئے۔ وہ کہنے لگا کیا بتاؤں جب میں نے آپ کی طرف آنے کا ارادہ کیا تو وہ کہنے لگے تم نہ جاؤ ہم تمہارا حق ادا کر دیتے ہیں میں رک گیا پھر انہوں نے اب انکار کر دیا اور بھی کچھ لمبے چوڑے واقعات بیان کرنے شروع کر دئے اور آج کی نیند بھی کھوئی اب شام کو پھر انتظار کیا لیکن نہ اسے آنا تھا نہ آیا۔

تیسرے دن آپ نے آدمی مقرر کیا کہ دیکھو کوئی دروازے پر نہ آنے پائے مارے نیند کے میری حالت غیر ہو رہی ہے آپ ابھی لیٹے ہی تھے جو وہ مردود پھر آگیا چوکیدار نے اسے روکا یہ ایک طاق میں سے اندر گھس گیا اور اندر سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کیا۔ آپ نے اٹھ کر پہرے دار سے کہا کہ دیکھو میں نے تمہیں ہدایت کر دی تھی پھر بھی آپنے دروازے کے اندر کسی کو آنے دیا اس نے کہا نہیں میری طرف سے کوئی نہیں آیا۔ اب جو غور سے آپ نے دیکھا تو دروازے کو بند پایا۔ اور اس شخص کو اندر موجود پایا۔ آپ پہچان گئے کہ یہ شیطان ہے اس وقت شیطان نے کہا اے ولی اللہ میں تجھ سے ہارا نہ تو نے رات کا قیام ترک کیا نہ تو اس نوکر پر ایسے موقعہ پر غصے ہوا پس اللہ نے ان کا نام ذوالکفل رکھا۔ اس لیے کہ جن باتوں کی انہوں نے کفالت لی تھیں انہیں پورا کر دکھایا۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی کچھ تفسیر کے ساتھ یہ قصہ مروی ہے اس میں ہے کہ بنواسرائیل کے ایک قاضی نے بوقت مرگ کہا تھا کہ میرے بعد میرا عہدہ کون سنبھالتا ہے؟ اس نے کہا میں چنانچہ ان کا نام ذوالکفل ہوا اس میں ہے کہ شیطان جب ان کے آرام کے وقت آیا پہرے والوں نے روکا اس نے اس قدر غل مچایا کہ آپ جاگ گئے دوسرے دن بھی یہی کیا تیسرے دن بھی یہی کیا اب آپ اس کے ساتھ چلنے کے لیے آمادہ ہوئے کہ میں تیرے ساتھ چل کر تیرا حق دلواتا ہوں لیکن راستے میں سے وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ کھڑا ہوا۔

حضرت اشعری رحمہ اللہ نے منبر پر فرمایا کہ ذوالکفل نبی نہ تھا بنواسرائیل کا ایک صالح شخص تھا جو ہر روز سو نمازیں پڑھتا تھا اس کے بعد انہوں نے اس قسم کی عبادتوں کا ذمہ اٹھایا۔ اس لیے انہیں ذوالکفل کہا گیا۔ ایک منقطع روایت میں ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہا سے یہ منقول ہے۔ ایک غریب حدیث مسند امام احمد بن حنبل میں ہے اس میں کفل کا ایک واقعہ بیان ہے ذوالکفل نہیں کہا گیا۔ بہت ممکن ہے یہ کوئی اور صاحب ہوں۔ واقعہ اس حدیث میں یہ ہے کہ { کفل نامی ایک شخص تھا جو کسی گناہ سے بچتا نہ تھا۔ ایک مرتبہ اس نے ایک عورت کو ساٹھ دینار دے کر بدکاری کے لیے آمادہ کیا جب اپنا ارادہ پورا کرنے کے لیے تیار ہوا تو وہ عورت رونے اور کانپنے لگی۔ اس نے کہا میں نے تجھ سے کوئی زبردستی تو کی نہیں پھر رونے اور کانپنے کی وجہ کیا ہے؟ اس نے کہا میں نے ایسی کوئی نافرمانی آج تک اللہ تعالیٰ کی نہیں کی۔ اس وقت میری محتاجی نے مجھے یہ برا دن دکھایا ہے۔ کفل نے کہا تو ایک گناہ پر اس قدر پریشان ہے؟ حالانکہ اس سے پہلے تو نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ اسی وقت اسے چھوڑ کر اس سے الگ ہو گیا اور کہنے لگا جا یہ دینار میں نے تجھے بخشے۔ قسم اللہ کی آج سے میں کسی قسم کی اللہ کی نافرمانی نہ کروں گا۔ اللہ کی شان اسی رات اس کا انتقال ہوتا ہے۔ صبح لوگ دیکھتے ہیں کہ اس کے دروازے پر قدرتی حروف سے لکھا ہوا تھا کہ اللہ نے کفل کو بخش دیا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2496،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏
85۔ 1 ذوالکفل کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ نبی تھے یا نہیں؟ بعض نے ان کی نبوت کے اور بعض ولایت کے قائل ہیں۔ امام ابن جریر نے ان کی بابت توقف اختیار کیا ہے، امام ابن کثیر فرماتے ہیں، قرآن میں نبیوں کے ساتھ ان کا ذکر ان کے نبی ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ واللہ اعلم۔
(آیت 85) ➊ { وَ اِسْمٰعِيْلَ وَ اِدْرِيْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ:} یعنی ان تینوں کو یاد کرو۔ ایوب علیہ السلام کے صبر اور ان کے حسن انجام کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے تین پیغمبروں کا ذکر فرمایا جو خاص طور پر صبر کی صفت سے آراستہ تھے۔ اسماعیل علیہ السلام نے ذبح کے متعلق اپنے والد ماجد کے پوچھنے پر کہا: «{ سَتَجِدُنِيْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ }» [ الصافات: ۱۰۲ ] ”اگر اللہ نے چاہا تو تو مجھے ضرور صبر کرنے والوں میں سے پائے گا۔“ اور اس نے واقعی صبر کرکے دکھایا۔ اسی طرح وادی غیر ذی زرع میں مستقل رہائش پر اور شکار اور زمزم کے ساتھ زندگی گزارنے پر صبر کیا، پھر بیت اللہ کی تعمیر میں ہر طرح کی مشقت برداشت کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد میں سید ولد آدم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا فرمایا۔ اسماعیل اور ادریس علیھما السلام کا ذکر سورۂ مریم (۵۴ تا ۵۷) میں گزر چکا ہے۔ ذوالکفل کے متعلق قرآن و حدیث میں تفصیل نہیں آئی۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ انبیاء کے ساتھ ذکر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے نبی تھے۔ (واللہ اعلم) اس کے علاوہ تفاسیر میں ان کے متعلق بیان کردہ تمام باتیں اسرائیلیات پر مبنی اور بے اصل ہیں۔ ➋ { كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِيْنَ:} صبر کا لفظی معنی باندھنا ہے، یہ تین طرح کا ہوتا ہے: (1) اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر، یعنی اپنے آپ کو اس کی فرماں برداری کا پابند رکھنا۔ (2) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے صبر، یعنی اپنے آپ کو اس سے روک کر رکھنا۔ (3) اللہ تعالیٰ کی طرف سے تقدیر میں لکھے ہوئے آلام و مصائب آنے پر اپنے آپ کو جزع فزع اور اللہ تعالیٰ یا مخلوق کے شکوہ و شکایت سے روک کر رکھنا۔ کوئی بھی شخص صابر نہیں کہلا سکتا جب تک وہ صبر کی ان تینوں قسموں سے پوری طرح آراستہ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام پیغمبروں کے متعلق شہادت دی کہ انھوں نے صبر کا پورا حق ادا کیا۔
وَ اَدۡخَلۡنٰہُمۡ فِیۡ رَحۡمَتِنَا ؕ اِنَّہُمۡ مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۸۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ان کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا کہ وہ صالحوں میں سے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کر لیا۔ یہ سب لوگ نیک تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور انہیں ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا، بیشک وہ ہمارے قربِ خاص کے سزاواروں میں ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان سب کو اپنی (خاص) رحمت میں داخل کر لیا تھا۔ یقیناً وہ نیکوکار بندوں میں سے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے انھیں اپنی رحمت میں داخل کر لیا۔ یقینا وہ نیک لوگوں سے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذوالکفل نبی نہیں بزرگ تھے ٭٭

حضرت اسماعیل علیہ السلام، ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے فرزند تھے۔ سورۃ مریم میں ان کا واقعہ بیان ہو چکا ہے۔ ادریس علیہ السلام کا بھی ذکر گزر چکا ہے۔ ذوالکفل بہ ظاہر تو نبی ہی معلوم ہوتے ہیں کیونکہ نبیوں کے ذکر میں ان کا نام آیا ہے اور لوگ کہتے ہیں یہ نبی نہ تھے بلکہ ایک صالح شخص تھے اپنے زمانہ کے بادشاہ تھے بڑے ہی عادل اور بامروت، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ اس میں توقف کرتے ہیں ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:507/18:] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”یہ ایک نیک بزرگ تھے جنہوں نے اپنے زمانے کے نبی سے عہد و پیمان کئے اور ان پر قائم رہے۔ قوم میں عدل وانصاف کیا کرتے تھے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:509/18:] ‏‏‏‏ مروی ہے کہ جب یسع علیہ السلام بہت بوڑھے ہو گئے تو ارادہ کیا کہ میں اپنی زندگی میں ہی ان کا خلیفہ مقرر کر دوں اور دیکھ لوں کہ وہ کیسے عمل کرتا ہے۔ لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ تین باتیں جو شخص منظور کرے میں اسے خلافت سونپتا ہوں۔ دن بھر روزے سے رہے رات بھر قیام کرے اور کبھی بھی غصے نہ ہو۔ کوئی اور تو کھڑا نہ ہوا ایک شخص جسے لوگ بہت ہلکے درجے کا سمجھتے تھے کھڑا ہوا اور کہنے لگا میں اس شرط کو پوری کر دوں گا۔ آپ نے پوچھا یعنی تو دنوں میں روزے سے رہے گا اور راتوں کو تہجد پڑھتا رہے گا اور غصہ نہ کرے گا؟ اس نے کہا ہاں۔ یسع علیہ السلام نے فرمایا اچھا اب کل سہی۔ دوسرے روز بھی آپ نے اسی طرح مجلس میں عام سوال کیا لیکن اس شخص کے سوا کوئی اور کھڑا نہ ہوا۔ چنانچہ انہی کو خلیفہ بنا دیا گیا۔ اب شیطان نے چھوٹے چھوٹے شیاطین کو اس بزرگ کے بہکانے کے لیے بھیجنا شروع کیا۔ مگر کسی کی کچھ نہ چلی۔

ابلیس خود چلا دوپہر کو قیلولے کے لیے آپ لیٹے ہی تھے جو خبیث نے کنڈیاں پیٹنی شروع کر دیں آپ نے دریافت فرمایا کہ تو کون ہے؟ اس نے کہنا شروع کیا کہ میں ایک مظلوم ہوں فریادی ہوں میری قوم مجھے ستارہی ہے۔ میرے ساتھ انہوں نے یہ کیا یہ کیا اب لمبا قصہ سنانا شروع کیا تو کسی طرح ختم ہی نہیں کرتا نیند کا سارا وقت اسی میں چلا گیا اور ذوالکفل دن رات بس صرف اسی وقت ذرا سی دیر کے لیے سوتے تھے۔ آپ نے فرمایا اچھا شام کو آنا میں تمہارا انصاف کر دوں گا اب شام کو آپ جب فیصلے کرنے لگے ہرطرف اسے دیکھتے ہیں لیکن اس کا کہیں پتہ نہیں یہاں تک کہ خود جا کر ادھر ادھر بھی تلاش کیا مگر اسے نہ پایا۔ دوسری صبح کو بھی وہ نہ آیا پھر جہاں آپ دوپہر کو دو گھڑی آرام کرنے کے ارادے سے لیٹے جو یہ خبیث آ گیا اور دروازہ ٹھونکنے لگا آپ نے کھول دیا اور فرمانے لگے میں نے تو تم سے شام کو آنے کو کہا تھا، منتظر رہا لیکن تم نہ آئے۔ وہ کہنے لگا کیا بتاؤں جب میں نے آپ کی طرف آنے کا ارادہ کیا تو وہ کہنے لگے تم نہ جاؤ ہم تمہارا حق ادا کر دیتے ہیں میں رک گیا پھر انہوں نے اب انکار کر دیا اور بھی کچھ لمبے چوڑے واقعات بیان کرنے شروع کر دئے اور آج کی نیند بھی کھوئی اب شام کو پھر انتظار کیا لیکن نہ اسے آنا تھا نہ آیا۔

تیسرے دن آپ نے آدمی مقرر کیا کہ دیکھو کوئی دروازے پر نہ آنے پائے مارے نیند کے میری حالت غیر ہو رہی ہے آپ ابھی لیٹے ہی تھے جو وہ مردود پھر آگیا چوکیدار نے اسے روکا یہ ایک طاق میں سے اندر گھس گیا اور اندر سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کیا۔ آپ نے اٹھ کر پہرے دار سے کہا کہ دیکھو میں نے تمہیں ہدایت کر دی تھی پھر بھی آپنے دروازے کے اندر کسی کو آنے دیا اس نے کہا نہیں میری طرف سے کوئی نہیں آیا۔ اب جو غور سے آپ نے دیکھا تو دروازے کو بند پایا۔ اور اس شخص کو اندر موجود پایا۔ آپ پہچان گئے کہ یہ شیطان ہے اس وقت شیطان نے کہا اے ولی اللہ میں تجھ سے ہارا نہ تو نے رات کا قیام ترک کیا نہ تو اس نوکر پر ایسے موقعہ پر غصے ہوا پس اللہ نے ان کا نام ذوالکفل رکھا۔ اس لیے کہ جن باتوں کی انہوں نے کفالت لی تھیں انہیں پورا کر دکھایا۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی کچھ تفسیر کے ساتھ یہ قصہ مروی ہے اس میں ہے کہ بنواسرائیل کے ایک قاضی نے بوقت مرگ کہا تھا کہ میرے بعد میرا عہدہ کون سنبھالتا ہے؟ اس نے کہا میں چنانچہ ان کا نام ذوالکفل ہوا اس میں ہے کہ شیطان جب ان کے آرام کے وقت آیا پہرے والوں نے روکا اس نے اس قدر غل مچایا کہ آپ جاگ گئے دوسرے دن بھی یہی کیا تیسرے دن بھی یہی کیا اب آپ اس کے ساتھ چلنے کے لیے آمادہ ہوئے کہ میں تیرے ساتھ چل کر تیرا حق دلواتا ہوں لیکن راستے میں سے وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ کھڑا ہوا۔

حضرت اشعری رحمہ اللہ نے منبر پر فرمایا کہ ذوالکفل نبی نہ تھا بنواسرائیل کا ایک صالح شخص تھا جو ہر روز سو نمازیں پڑھتا تھا اس کے بعد انہوں نے اس قسم کی عبادتوں کا ذمہ اٹھایا۔ اس لیے انہیں ذوالکفل کہا گیا۔ ایک منقطع روایت میں ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہا سے یہ منقول ہے۔ ایک غریب حدیث مسند امام احمد بن حنبل میں ہے اس میں کفل کا ایک واقعہ بیان ہے ذوالکفل نہیں کہا گیا۔ بہت ممکن ہے یہ کوئی اور صاحب ہوں۔ واقعہ اس حدیث میں یہ ہے کہ { کفل نامی ایک شخص تھا جو کسی گناہ سے بچتا نہ تھا۔ ایک مرتبہ اس نے ایک عورت کو ساٹھ دینار دے کر بدکاری کے لیے آمادہ کیا جب اپنا ارادہ پورا کرنے کے لیے تیار ہوا تو وہ عورت رونے اور کانپنے لگی۔ اس نے کہا میں نے تجھ سے کوئی زبردستی تو کی نہیں پھر رونے اور کانپنے کی وجہ کیا ہے؟ اس نے کہا میں نے ایسی کوئی نافرمانی آج تک اللہ تعالیٰ کی نہیں کی۔ اس وقت میری محتاجی نے مجھے یہ برا دن دکھایا ہے۔ کفل نے کہا تو ایک گناہ پر اس قدر پریشان ہے؟ حالانکہ اس سے پہلے تو نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ اسی وقت اسے چھوڑ کر اس سے الگ ہو گیا اور کہنے لگا جا یہ دینار میں نے تجھے بخشے۔ قسم اللہ کی آج سے میں کسی قسم کی اللہ کی نافرمانی نہ کروں گا۔ اللہ کی شان اسی رات اس کا انتقال ہوتا ہے۔ صبح لوگ دیکھتے ہیں کہ اس کے دروازے پر قدرتی حروف سے لکھا ہوا تھا کہ اللہ نے کفل کو بخش دیا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2496،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 86){ وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِيْ رَحْمَتِنَا اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ: ”صَلَحَ يَصْلَحُ صَلَاحًا“} (ف، ن، ک) درست ہونا۔ یہ فساد کی ضد ہے۔ (قاموس) اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء کی تعریف فرمائی کہ وہ پوری طرح صالح تھے، ان کا دل اللہ تعالیٰ پر ایمان، اس کی محبت اور ہر وقت اس کے ذکر سے درست تھا۔ ان کی زبان اس کے ذکر، اس کے دین کی دعوت اور ہر وقت سچ کہنے سے درست تھی اور دوسرے تمام اعضاء اس کے احکام کی اطاعت اور منع کردہ چیزوں سے اجتناب کی وجہ سے درست تھے، کیونکہ ان تینوں کے درست ہوئے بغیر کوئی شخص صالح نہیں کہلا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ صبر و صالحیت کی وجہ سے ہم نے انھیں اپنی رحمت میں داخل کر لیا اور انھیں نبوت عطا کی۔ دنیا و آخرت کی نعمتیں عطا فرمائیں، یہی کیا کم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان کی تعریف فرمائی اور قیامت تک کے لیے انھیں حقیقی ناموری عطا فرمائی۔ (سعدی)
وَ ذَاالنُّوۡنِ اِذۡ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنۡ لَّنۡ نَّقۡدِرَ عَلَیۡہِ فَنَادٰی فِی الظُّلُمٰتِ اَنۡ لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۚۖ۸۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور مچھلی والے کو بھی ہم نے نوازا یاد کرو جبکہ وہ بگڑ کر چلا گیا تھا اور سمجھا تھا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے آخر کو اُس نے تاریکیوں میں پکارا "نہیں ہے کوئی خدا مگر تُو، پاک ہے تیری ذات، بے شک میں نے قصور کیا"
مولانا محمد جوناگڑھی
مچھلی والے (حضرت یونس علیہ السلام) کو یاد کرو! جبکہ وه غصہ سے چل دیا اور خیال کیا کہ ہم اسے نہ پکڑ سکیں گے۔ بالﺂخر وه اندھیروں کے اندر سے پکار اٹھا کہ الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بیشک میں ﻇالموں میں ہو گیا
احمد رضا خان بریلوی
اور ذوالنون، کو (یاد کرو) جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو، بیشک مجھ سے بے جا ہوا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ذوالنون (مچھلی والے) کا (ذکر کیجئے) جب وہ خشمناک ہوکر چلے گئے اور وہ سمجھے کہ ہم ان پر تنگی نہیں کریں گے۔ پھر انہوں نے اندھیروں میں سے پکارا۔ تیرے سوا کوئی الہ نہیں ہے۔ پاک ہے تیری ذات بےشک میں زیاں کاروں میں سے ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور مچھلی والے کو، جب وہ غصے سے بھرا ہوا چلا گیا، پس اس نے سمجھا کہ ہم اس پر گرفت تنگ نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، یقینا میں ظلم کرنے والوں سے ہو گیا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یونس علیہ السلام اور ان کی امت ٭٭

یہ واقعہ یہاں بھی مذکور ہے اور سورۃ الصافات میں بھی ہے اور سورۃ نون میں بھی ہے۔ ۱؎ [37-الصافات:139-148] ‏‏‏‏ ۱؎ [68-القلم:48-50] ‏‏‏‏ یہ پیغمبر یونس بن متی علیہ السلام تھے۔ انہیں موصل کے علاقے کی بستی نینوا کی طرف نبی بنا کر اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ کی راہ کی دعوت دی لیکن قوم ایمان نہ لائی۔ آپ علیہ السلام وہاں سے ناراض ہو کرچل دئے اور ان لوگوں سے کہنے لگے کہ ”تین دن میں تم پر عذاب الٰہی آ جائے گا۔‏‏‏‏“ جب انہیں اس بات کی تحقیق ہوگئی اور انہوں نے جان لیا کہ انبیاء علیہم السلام جھوٹے نہیں ہوتے تو یہ سب کے سب چھوٹے بڑے مع اپنے جانوروں اور مویشوں کے جنگل میں نکل کھڑے ہوئے بچوں کو ماؤں سے جدا کردیا اور بلک بلک کر نہایت گریہ وزاری سے جناب باری تعالیٰ میں فریاد شروع کر دی۔ ادھر ان کی آہ وبکاء ادھر جانوروں کی بھیانک صدا غرض اللہ کی رحمت متوجہ ہوگئی عذاب اٹھا لیا گیا۔ جیسے فرمان ہے آیت «‏‏‏‏فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَآ اِيْمَانُهَآ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ» ۱؎ [10-یونس:98] ‏‏‏‏ یعنی ’ عذابوں کی تحقیق کے بعد کے ایمان نے کسی کو نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے کہ ان کے ایمان کی وجہ سے ہم نے ان پر سے عذاب ہٹالیے اور دنیا کی رسوائی سے انہیں بچا لیا اور موت تک کی مہلت دے دی ‘۔

حضرت یونس علیہ السلام یہاں سے چل کر ایک کشتی میں سوار ہوئے آگے جاکر طوفان کے آثار نمودار ہوئے۔ قریب تھا کہ کشتی ڈوب جائے مشورہ یہ ہوا کہ کسی آدمی کو دریا میں ڈال دینا چاہے کہ وزن کم ہو جائے۔ قرعہ یونس علیہ السلام کا نکلا لیکن کسی نے آپ علیہ السلام کو دریا میں ڈالنا پسند نہ کیا۔ دوبارہ قرعہ اندازی ہوئی آپ علیہ السلام ہی کا نام نکلا تیسری مرتبہ پھر قرعہ ڈالا اب کی مرتبہ بھی آپ علیہ السلام ہی کا نام نکلا۔ چنانچہ خود قرآن میں ہے آیت «فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَ» ۱؎ [37-الصافات:141] ‏‏‏‏ اب کہ یونس علیہ السلام خود کھڑے ہو گئے کپڑے اتار کر دریا میں کود پڑے۔ بحر اخضر سے بحکم الٰہی ایک مچھلی پانی کاٹتی ہوئی آئی اور آپ علیہ السلام کو لقمہ کرگئی۔ لیکن بحکم اللہ نے آپ علیہ السلام کی ہڈی توڑی نہ جسم کو کچھ نقصان پہچایا۔ آپ علیہ السلام اس کے لیے غذا نہ تھے بلکہ اس کا پیٹ آپ علیہ السلام کے لیے قید خانہ تھا۔ اسی وجہ سے آپ علیہ السلام کی نسبت مچھلی کی طرف کی گئی عربی میں مچھلی کو نون کہتے ہیں۔ آپ علیہ السلام کا غضب وغصہ آپ کی قوم پر تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:511/18:] ‏‏‏‏ خیال یہ تھا کہ اللہ آپ کو تنگ نہ پکڑے گا پس یہاں «نَقُدِرَ» کے یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ، مجاہدرحمہ اللہ، ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ نے کئے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:514/18:] ‏‏‏‏ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں اور اس کی تائید آیت «وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّـهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا سَيَجْعَلُ اللَّـهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا» ۱؎ [65-الطلاق:7] ‏‏‏‏ سے بھی ہوتی ہے۔

حضرت عطیہ عوفی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ معنی کئے ہیں کہ ”ہم اس پر مقدر نہ کریں گے۔‏‏‏‏“ «قَدَرَ» اور «قَدَّرَ» دونوں لفظ ایک معنی میں بولے جاتے ہیں اس کی سند میں عربی کے شعر کے علاوہ آیت «فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلٰٓي اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ» ۱؎ [54-القمر:12] ‏‏‏‏ بھی پیش کی جا سکتی ہے۔ ان اندھیریوں میں پھنس کر اب یونس علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا۔ سمندر کے نیچے کا اندھیرا پھر مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا پھر رات کا اندھیرا یہ اندھیرے سب جمع تھے۔ ۱؎ [تفسیر قرطبی:333/11:] ‏‏‏‏ آپ علیہ السلام نے سمندر کی تہہ کی کنکریوں کی تسبیح سنی اور خود بھی تسبیح کرنی شروع کی۔ آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں جا کر پہلے تو سمجھے کہ میں مرگیا پھر پیر کو ہلایا تو یقین ہوا کہ میں زندہ ہوں۔ وہیں سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے ”بارالٰہی میں نے تیرے لیے اس جگہ کو مسجد بنایا جسے اس سے پہلے کسی نے جائے سجود نہ بنایا ہوگا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:518/18:] ‏‏‏‏ حسن بصری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں ”چالیس دن آپ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔‏‏‏‏“

ابن جریر میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب اللہ تعالیٰ نے یونس علیہ السلام کے قید کا ارادہ کیا تو مچھلی کو حکم دیا کہ آپ علیہ السلام کو نگل لے لیکن اس طرح کے نہ ہڈی ٹوٹے نہ جسم پر خراش آئے۔ جب آپ علیہ السلام سمندر کی تہہ میں پہنچے تو وہاں تسبیح سن کر حیران رہ گئے وحی آئی کہ ’ یہ سمندر کے جانوروں کی تسبیح ہے ‘۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے بھی اللہ کی تسبیح شروع کر دی اسے سن کر فرشتوں نے کہا بار الٰہا! یہ آواز تو بہت دور کی اور بہت کمزورہے کس کی ہے؟ ہم تو نہیں پہچان سکے۔ جواب ملا کہ ’ یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے اس نے میری نافرمانی کی میں نے اسے مچھلی کے پیٹ کے قید خانے میں ڈال دیا ہے ‘۔ انہوں نے کہا پروردگار ان کے نیک اعمال تو دن رات کے ہر وقت چڑھتے ہی رہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی سفارش قبول فرمائی اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ علیہ السلام کو کنارے پر اگل دے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24778:ضعیف] ‏‏‏‏ تفسیر ابن کثیر کے ایک نسخے میں یہ روایت بھی ہے کہ { حضور علیہ السلام نے فرمایا { کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے تیئں یونس بن متع سے افضل کہے۔ اللہ کے اس بندے نے اندھیریوں میں اپنے رب کی تسبیح بیان کی ہے } }۔ ۱؎ [ابن ابی شیبة:156/12] ‏‏‏‏ اوپر جو روایت گزری اس کی وہی ایک سند ہے۔

ابن ابی حاتم میں ہے { حضور اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب یونس علیہ السلام نے یہ دعا کی تو یہ کلمات عرش کے اردگرد گھومنے لگے، فرشتے کہنے لگے بہت دور دراز کی یہ آواز ہے لیکن کان اس سے پہلے آشنا ضرور ہیں آواز بہت ضعیف ہے۔ جناب باری نے فرمایا کیا ’ تم نے پہچانا نہیں؟ ‘ انہوں نے کہا نہیں۔ فرمایا ’ یہ میرے بندے یونس کی آوازہے ‘۔ فرشتوں نے کہا وہی یونس (‏‏‏‏علیہ السلام) جس کے پاک عمل قبول شدہ ہر روز تیری طرف چڑھتے تھے اور جن کی دعائیں تیرے پاس مقبول تھیں، اے اللہ جیسے وہ آرام کے وقت نیکیاں کرتا تھا تو اس مصیبت کے وقت اس پر رحم کر۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ علیہ السلام کو بغیر کسی تکلیف کے کنارے پر اگل دے }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:599/4:ضعیف] ‏‏‏‏

استغفار موجب نجات ہے ٭٭

پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور غم سے نجات دے دی ان اندھیروں سے نکال دیا۔ اسی طرح ہم ایمان داروں کو نجات دیا کرتے ہیں، وہ مصیبتوں میں گھر کر ہمیں پکارتے ہیں اور ہم ان کی دستگیری فرما کرتمام مشکلیں آسان کر دیتے ہیں ‘۔ خصوصاً جو لوگ اس دعائے یونس ہی کو پڑھیں جسکی تاکید سید الانبیاء رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ مسند احمد ترمذی وغیرہ میں ہے { سیدنا سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں مسجد میں گیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وہاں تھے۔ میں نے سلام کیا آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے بغور دیکھا اور میرے سلام کا جواب نہ دیا میں نے امیر المؤمنین عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے آکر شکایت کی آپ رضی اللہ عنہ نے عثمان رضی اللہ عنہ کو بلوایا ان سے کہا کہ ”آپ رضی اللہ عنہ نے ایک مسلمان بھائی کے سلام کا جواب کیوں نہ دیا؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”نہ یہ آئے، نہ انہوں نے سلام کیا، نہ یہ کہ میں نے انہیں جواب نہ دیا ہو۔‏‏‏‏“ اس پر میں قسم کھائی تو، آپ رضی اللہ عنہ نے بھی میرے مقابلے میں قسم کھالی۔ پھر کچھ خیال کر کے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے توبہ استغفار کیا اور فرمایا ”ٹھیک ہے۔ آپ نکلے تھے لیکن میں اس وقت اپنے دل سے وہ بات کہہ رہا تھا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سے سنی تھی۔ واللہ مجھے جب وہ یاد آتی ہے میری آنکھوں پر ہی نہیں بلکہ میرے دل پر بھی پردہ پڑ جاتا ہے“ }۔

{ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں آپ رضی اللہ عنہ کو اس کی خبردیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اول دعا کا ذکر کیا ہی تھا جو ایک اعرابی آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی باتوں میں مشغول کرلیا۔ بہ وقت گزرتا گیا اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھے اور مکان کی طرف تشریف لے چلے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہولیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے قریب پہنچ گئے مجھے ڈر لگا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر نہ چلے جائیں اور میں رہ جاؤں تو میں نے زور زور سے پاؤں مارمار کر چلنا شروع کیا میری جوتیوں کی آہٹ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: { کون ابواسحاق؟} میں نے کہا جی ہاں یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں ہاں وہ دعا ذوالنون علیہ السلام کی تھی جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی تھی یعنی «لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:87] ‏‏‏‏ { سنو جو بھی مسلمان جس کسی معاملے میں جب کبھی اپنے رب سے یہ دعا کرے اللہ تعالیٰ اسے ضرور قبول فرماتا ہے } } }۔ ابن ابی حاتم میں ہے { جو بھی یونس علیہ السلام اس دعا کے ساتھ دعا کرے اس کی دعا ضرور قبول کی جائے گی }۔ ابوسعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اسی آیت میں اس کے بعد ہی فرمان ہے ہم اسی طرح مؤمنوں کو نجات دیتے ہیں۔‏‏‏‏“ ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ کا وہ نام جس سے وہ پکارا جائے تو قبول فرمالے اور جو مانگا جائے وہ عطا فرمائے وہ یونس بن متع علیہ السلام کی دعا میں ہے }۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ یونس علیہ السلام کے لیے ہی خاص تھی یا تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے؟ فرمایا: { ان کے لیے خاص اور تمام مسلمانوں کے لیے عام جو بھی یہ دعا کرے، کیا تو نے قرآن میں نہیں پڑھا کہ ’ ہم نے اس کی دعا قبول فرمائی اسے غم سے چھڑایا اور اسی طرح ہم مومنوں کو چھڑاتے ہیں ‘۔ پس جو بھی اس دعا کو کرے اس سے اللہ کا قبولیت کا وعدہ ہو چکا ہے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24779:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کثیر بن سعید فرماتے ہیں ”میں نے امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ ابوسعید! اللہ کا وہ اسم اعظم کہ جب اس کے ساتھ اس سے دعا کی جائے اللہ تعالیٰ قبول فرمالے اور جب اس کے ساتھ اس سے سوال کیا جائے تو وہ عطا فرمائے کیا ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ برادر زادے ”کیا تم نے قرآن کریم میں اللہ کا یہ فرمان نہیں پڑھا؟“ پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی دو آیتیں «وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ» تلاوت فرمائیں اور فرمایا ”بھتیجے یہی اللہ کا وہ اسم اعظم ہے کہ جب اس کے ساتھ دعا کی جائے وہ قبول فرماتا ہے اور جب اس کے ساتھ اس سے مانگا جائے وہ عطا فرماتا ہے۔‏‏‏‏“
87۔ 1 مچھلی والے سے مراد حضرت یونس ؑ ہیں جو اپنی قوم سے ناراض ہو کر اور انھیں عذاب الٰہی کی دھمکی دے کر، اللہ کے حکم کے بغیر وہاں سے چل دیئے تھے، جس پر اللہ نے ان کی گرفت اور انھیں مچھلی کا لقمہ بنادیا، اس کی کچھ تفصیل سورة یونس میں گزر چکی ہے اور کچھ سورة صافات میں آئے گی۔ 87۔ 2 ظلمات، ظلمۃ کی جمع ہے بمعنی اندھیرا۔ حضرت یونس ؑ متعدد اندھیروں میں گھر گئے۔ رات کا اندھیرا، سمندر کا اندھیرا اور مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا۔
(آیت 87) ➊ { وَ ذَا النُّوْنِ:} یعنی مچھلی والے کو یاد کرو۔ {” النُّوْنِ “} کی جمع {”نِيْنَانٌ“} ہے، جیسے {”حُوْتٌ“} کی جمع {”حِيْتَانٌ“} ہے۔ اس سے مراد یونس بن متی (بروزن {شَتّٰي}) ہیں جو نینویٰ (پہلے نون کے کسرہ اور دوسرے کے فتحہ کے ساتھ) کے رہنے والے تھے، جو موصل (عراق) کے قریب تھا۔ ➋ { اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا:مُغَاضِبًا “} باب مفاعلہ سے اسم فاعل ہے جس میں مشارکت ہوتی ہے، یا معنی میں مبالغہ مراد ہوتا ہے۔ یونس علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو دعوت دی اور وہ مسلسل کفر کرتے رہے تو آخر اکتا کرسخت غصے کی حالت میں ان کے حق میں بددعا کی اور عذاب کی دھمکی دے کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر انھیں چھوڑ کر نکل پڑے۔ جب کہ منصبِ رسالت کا تقاضا تھا کہ ان کے تمام تر غیظ و غضب اور کفر و طغیان کے باوجود انھی میں رہتے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر ہر گز انھیں چھوڑ کر نہ جاتے، جیسا کہ نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال دعوت میں گزار دیے، نہ اکتائے اور نہ ان کے حق میں بددعا کی، جب تک اللہ تعالیٰ نے انھیں یہ نہیں بتایا کہ آئندہ ان کی قوم میں سے کوئی شخص ایمان نہیں لائے گا۔ دیکھیے سورۂ ہود (۳۶) اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا: «{ فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ }» [ القلم: ۴۸ ] ”پس اپنے رب کے فیصلے تک صبر کر اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو۔“ اور فرمایا: «{ فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ }» [ الأحقاف: ۳۵ ] ”پس اولو العزم رسولوں کی طرح صبر کر اور ان کے لیے جلدی (عذاب کا) مطالبہ نہ کر۔“ اللہ تعالیٰ نے یونس علیہ السلام کے بلااجازت نکلنے کو غلام کا بھاگ جانا قرار دیا ہے، فرمایا: «{ اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ }» [ الصافات: ۱۴۰ ] ”جب وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف بھاگ کر گیا۔“ یونس علیہ السلام کے واقعہ کے لیے مزید دیکھیے سورۂ یونس (۹۸) اور سورۂ صافات (۱۳۹ تا ۱۴۸)۔ ➌ { فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَيْهِ:اَنْ “} اصل میں {”أَنَّا“} سے مخفف ہے، {” نَا “} کو حذف کر کے {” أَنَّ “} کے نون کو ساکن کر دیا گیا ہے، یا {” أَنْ “} حرف تفسیر ہے جو {”أَيْ“} کے معنی میں ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ {”قَدَرَ يَقْدِرُ“} کا معنی قادر ہونا، قابو پانا ہے، تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ کا جلیل القدر پیغمبر یہ سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر قابو نہیں پا سکے گا؟ اس کے دو جواب ہیں، ایک یہ کہ انھوں نے یہ ہر گز نہیں سمجھا کہ اللہ تعالیٰ ان پر قابو نہیں پا سکے گا، بلکہ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کی معمولی کوتاہی پر بھی سخت خفگی کا اظہار فرماتے ہیں۔ اس آیت میں ان کی حالت کا بیان ہے کہ بلااجازت ان کے چلے جانے سے ظاہر ہو رہا تھا جیسے وہ سمجھ رہے ہوں کہ مجھے کوئی پکڑ نہیں سکے گا۔ دوسرا جواب اس سے بہتر ہے کہ یہاں {” لَنْ نَّقْدِرَ “} قادر ہونے کے معنی میں نہیں، بلکہ تنگی کرنے اور گرفت کرنے کے معنی میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اَللّٰہُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يَقْدِرُ }» [ الرعد: ۲۶ ] ”اللہ رزق فراخ کر دیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے۔“ اور فرمایا: «{وَ مَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهٗ فَلْيُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ }» [ الطلاق: ۷ ] ”اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا ہو تو وہ اس میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔“ آیت کا معنی یہ ہو گا کہ یونس علیہ السلام نے سمجھا کہ ان کے بلااجازت قوم سے نکل جانے پر ہم ان پر کوئی گرفت نہیں کریں گے۔ بعض اہل علم نے پہلے معنی کو سرے سے غلط قرار دیا ہے۔ ➍ {فَنَادٰى فِي الظُّلُمٰتِ:} یہاں ایک لمبی بات حذف کر دی گئی ہے، جو سورۂ صافات (۱۳۹ تا ۱۴۸) میں مذکور ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ وہ قوم سے نکلے تو سمندری سفر کے لیے ایک کشتی میں سوار ہوئے جو ضرورت سے زیادہ بھری ہوئی تھی۔ طوفان آیا اور سب کے ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہوا تو کشتی ہلکی کرنے کے لیے سامان پھینکنے کے بعد کچھ آدمیوں کو سمندر میں پھینکنے کا فیصلہ ہوا۔ قرعہ ڈالا گیا تو کئی اور آدمیوں کے ساتھ یونس علیہ السلام کے نام کا قرعہ نکلا، چنانچہ دوسروں کے ساتھ انھیں بھی سمندر میں پھینک دیا گیا، جہاں اللہ کے حکم سے ایک بہت بڑی مچھلی نے انھیں سالم ہی نگل لیا۔ اب وہ ایسی جگہ تھے جہاں اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ یہ ایسا قید خانہ تھا جہاں نہ کوئی ملاقاتی، نہ مقدمہ لڑنے والا، نہ پیروی کرنے والا، نہ قید کی کوئی میعاد، بلکہ تا قیامت قید کا فیصلہ (اگر وہ تسبیح نہ کریں) اور نہ اللہ کے سوا امید کی کوئی روشنی۔ ان کئی اندھیروں میں انھوں نے اپنے رب کو اس حال میں آواز دی کہ وہ غم سے بھرے ہوئے تھے، فرمایا: «{ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌ }» [ القلم:۴۸ ] ”جب اس نے پکارا، اس حال میں کہ وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔“ ➎ قرآن مجید میں {” الظُّلُمٰتِ “} کا لفظ ہر جگہ جمع ہی آیا ہے، واحد کہیں بھی استعمال نہیں ہوا۔ (ابن عاشور) پھر سمندر کی تاریکیوں کا کوئی حساب ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ }» [ النور: ۴۰ ] ”یا (کفار کے اعمال کی مثال) ان اندھیروں کی طرح ہے جو نہایت گہرے سمندر میں ہوں، جسے ایک موج ڈھانپ رہی ہو، جس کے اوپر ایک اور موج ہو، جس کے اوپر ایک بادل ہو، کئی اندھیرے ہوں، جن میں سے بعض بعض کے اوپر ہوں۔“ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق سمندر کے اندھیرے جب صرف {” الظُّلُمٰتِ “} ہی نہیں بلکہ{ ” ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ “} ہیں تو{ ” الظُّلُمٰتِ “} کی جمع کا صیغہ مکمل کرنے کے لیے رات کا اندھیرا شامل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یونس علیہ السلام کی دعا دن کے وقت ہو تب بھی {” فِي الظُّلُمٰتِ “} ہی ہے۔ [ التفسیر القرآنی للشیخ عبد الکریم الخطیب ] ➏ { اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ:} یہ{” اَنْ “} بھی اصل میں {”أَنَّهُ“} سے مخفف ہے، یا حرف تفسیر بمعنی {” أَيْ “} ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے اگلی آیت میں فرمایا ہے: «{ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ }» ”تو ہم نے اس کی دعا قبول کی۔“ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یونس علیہ السلام نے کچھ مانگا ہی نہیں، نہ رہائی اور نہ اس مصیبت سے چھٹکارا، تو اللہ تعالیٰ نے کون سی دعا قبول فرمائی؟ جواب اس کا یہ ہے (واللہ اعلم) کہ انھوں نے اپنی حالت کے مطابق بہترین دعا کی ہے۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی تعریف کی کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو میرا مالک و معبود ہے، میں تیرا بندہ اور تیرا غلام ہوں، میں اور میرا سب کچھ تیرے سپرد اور تیرے تابع ہے۔ پھر اس کی تسبیح کی کہ تو ہر عیب اور کمی سے پاک ہے، میری اس آزمائش اور مصیبت میں تیرا کوئی ظلم ہے نہ زیادتی، تیری ذات ظلم سے یکسر پاک ہے۔ تو نے جو کیا مالک اور معبود ہونے کی وجہ سے تیرا حق ہے اور اس میں تیری بے شمار حکمتیں ہیں۔ آخر میں اپنے ظلم کا اعتراف کیا کہ یقینا مجھ پر جو کچھ گزرا یہ میرے اپنی جان پر ظلم کی وجہ سے ہے۔ یہ دعا بہترین اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے اعتراف میں درخواست ہو رہی ہے کہ تیرے سوا کوئی مجھے اس مصیبت سے نجات نہیں دے سکتا، تسبیح کے ضمن میں اظہار ہو رہا ہے کہ تو مجھے اس مصیبت سے نکالنے سے عاجز نہیں کہ جس سے نکلنے کی بظاہر کوئی صورت نہیں اور ہمیشہ سے اپنے ظالموں میں سے ہونے کا اعتراف معافی اور بخشش مانگنے کی لطیف ترین صورت ہے۔ ایوب علیہ السلام نے بھی دعا کے لیے عرض حال اور اللہ کی رحمت کا واسطہ دینے پر اکتفا کیا ہے۔ مزید سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں {” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “} کے بہترین دعا ہونے کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔ یونس علیہ السلام کے واقعہ کی مزید تفصیل سورۂ صافات اور سورۂ قلم میں دیکھیں۔
فَاسۡتَجَبۡنَا لَہٗ ۙ وَ نَجَّیۡنٰہُ مِنَ الۡغَمِّ ؕ وَ کَذٰلِکَ نُــۨۡجِی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تب ہم نے اس کی دُعا قبول کی اور غم سے اس کو نجات بخشی، اور اِسی طرح ہم مومنوں کو بچا لیا کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچا لیا کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں غم سے نجات دی اور ہم اسی طرح ایمان والوں کو نجات دیا کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم ایمان والوں کو نجات دیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یونس علیہ السلام اور ان کی امت ٭٭

یہ واقعہ یہاں بھی مذکور ہے اور سورۃ الصافات میں بھی ہے اور سورۃ نون میں بھی ہے۔ ۱؎ [37-الصافات:139-148] ‏‏‏‏ ۱؎ [68-القلم:48-50] ‏‏‏‏ یہ پیغمبر یونس بن متی علیہ السلام تھے۔ انہیں موصل کے علاقے کی بستی نینوا کی طرف نبی بنا کر اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ کی راہ کی دعوت دی لیکن قوم ایمان نہ لائی۔ آپ علیہ السلام وہاں سے ناراض ہو کرچل دئے اور ان لوگوں سے کہنے لگے کہ ”تین دن میں تم پر عذاب الٰہی آ جائے گا۔‏‏‏‏“ جب انہیں اس بات کی تحقیق ہوگئی اور انہوں نے جان لیا کہ انبیاء علیہم السلام جھوٹے نہیں ہوتے تو یہ سب کے سب چھوٹے بڑے مع اپنے جانوروں اور مویشوں کے جنگل میں نکل کھڑے ہوئے بچوں کو ماؤں سے جدا کردیا اور بلک بلک کر نہایت گریہ وزاری سے جناب باری تعالیٰ میں فریاد شروع کر دی۔ ادھر ان کی آہ وبکاء ادھر جانوروں کی بھیانک صدا غرض اللہ کی رحمت متوجہ ہوگئی عذاب اٹھا لیا گیا۔ جیسے فرمان ہے آیت «‏‏‏‏فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَآ اِيْمَانُهَآ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ» ۱؎ [10-یونس:98] ‏‏‏‏ یعنی ’ عذابوں کی تحقیق کے بعد کے ایمان نے کسی کو نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے کہ ان کے ایمان کی وجہ سے ہم نے ان پر سے عذاب ہٹالیے اور دنیا کی رسوائی سے انہیں بچا لیا اور موت تک کی مہلت دے دی ‘۔

حضرت یونس علیہ السلام یہاں سے چل کر ایک کشتی میں سوار ہوئے آگے جاکر طوفان کے آثار نمودار ہوئے۔ قریب تھا کہ کشتی ڈوب جائے مشورہ یہ ہوا کہ کسی آدمی کو دریا میں ڈال دینا چاہے کہ وزن کم ہو جائے۔ قرعہ یونس علیہ السلام کا نکلا لیکن کسی نے آپ علیہ السلام کو دریا میں ڈالنا پسند نہ کیا۔ دوبارہ قرعہ اندازی ہوئی آپ علیہ السلام ہی کا نام نکلا تیسری مرتبہ پھر قرعہ ڈالا اب کی مرتبہ بھی آپ علیہ السلام ہی کا نام نکلا۔ چنانچہ خود قرآن میں ہے آیت «فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَ» ۱؎ [37-الصافات:141] ‏‏‏‏ اب کہ یونس علیہ السلام خود کھڑے ہو گئے کپڑے اتار کر دریا میں کود پڑے۔ بحر اخضر سے بحکم الٰہی ایک مچھلی پانی کاٹتی ہوئی آئی اور آپ علیہ السلام کو لقمہ کرگئی۔ لیکن بحکم اللہ نے آپ علیہ السلام کی ہڈی توڑی نہ جسم کو کچھ نقصان پہچایا۔ آپ علیہ السلام اس کے لیے غذا نہ تھے بلکہ اس کا پیٹ آپ علیہ السلام کے لیے قید خانہ تھا۔ اسی وجہ سے آپ علیہ السلام کی نسبت مچھلی کی طرف کی گئی عربی میں مچھلی کو نون کہتے ہیں۔ آپ علیہ السلام کا غضب وغصہ آپ کی قوم پر تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:511/18:] ‏‏‏‏ خیال یہ تھا کہ اللہ آپ کو تنگ نہ پکڑے گا پس یہاں «نَقُدِرَ» کے یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ، مجاہدرحمہ اللہ، ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ نے کئے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:514/18:] ‏‏‏‏ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں اور اس کی تائید آیت «وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّـهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا سَيَجْعَلُ اللَّـهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا» ۱؎ [65-الطلاق:7] ‏‏‏‏ سے بھی ہوتی ہے۔

حضرت عطیہ عوفی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ معنی کئے ہیں کہ ”ہم اس پر مقدر نہ کریں گے۔‏‏‏‏“ «قَدَرَ» اور «قَدَّرَ» دونوں لفظ ایک معنی میں بولے جاتے ہیں اس کی سند میں عربی کے شعر کے علاوہ آیت «فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلٰٓي اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ» ۱؎ [54-القمر:12] ‏‏‏‏ بھی پیش کی جا سکتی ہے۔ ان اندھیریوں میں پھنس کر اب یونس علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا۔ سمندر کے نیچے کا اندھیرا پھر مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا پھر رات کا اندھیرا یہ اندھیرے سب جمع تھے۔ ۱؎ [تفسیر قرطبی:333/11:] ‏‏‏‏ آپ علیہ السلام نے سمندر کی تہہ کی کنکریوں کی تسبیح سنی اور خود بھی تسبیح کرنی شروع کی۔ آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں جا کر پہلے تو سمجھے کہ میں مرگیا پھر پیر کو ہلایا تو یقین ہوا کہ میں زندہ ہوں۔ وہیں سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے ”بارالٰہی میں نے تیرے لیے اس جگہ کو مسجد بنایا جسے اس سے پہلے کسی نے جائے سجود نہ بنایا ہوگا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:518/18:] ‏‏‏‏ حسن بصری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں ”چالیس دن آپ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔‏‏‏‏“

ابن جریر میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب اللہ تعالیٰ نے یونس علیہ السلام کے قید کا ارادہ کیا تو مچھلی کو حکم دیا کہ آپ علیہ السلام کو نگل لے لیکن اس طرح کے نہ ہڈی ٹوٹے نہ جسم پر خراش آئے۔ جب آپ علیہ السلام سمندر کی تہہ میں پہنچے تو وہاں تسبیح سن کر حیران رہ گئے وحی آئی کہ ’ یہ سمندر کے جانوروں کی تسبیح ہے ‘۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے بھی اللہ کی تسبیح شروع کر دی اسے سن کر فرشتوں نے کہا بار الٰہا! یہ آواز تو بہت دور کی اور بہت کمزورہے کس کی ہے؟ ہم تو نہیں پہچان سکے۔ جواب ملا کہ ’ یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے اس نے میری نافرمانی کی میں نے اسے مچھلی کے پیٹ کے قید خانے میں ڈال دیا ہے ‘۔ انہوں نے کہا پروردگار ان کے نیک اعمال تو دن رات کے ہر وقت چڑھتے ہی رہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی سفارش قبول فرمائی اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ علیہ السلام کو کنارے پر اگل دے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24778:ضعیف] ‏‏‏‏ تفسیر ابن کثیر کے ایک نسخے میں یہ روایت بھی ہے کہ { حضور علیہ السلام نے فرمایا { کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے تیئں یونس بن متع سے افضل کہے۔ اللہ کے اس بندے نے اندھیریوں میں اپنے رب کی تسبیح بیان کی ہے } }۔ ۱؎ [ابن ابی شیبة:156/12] ‏‏‏‏ اوپر جو روایت گزری اس کی وہی ایک سند ہے۔

ابن ابی حاتم میں ہے { حضور اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب یونس علیہ السلام نے یہ دعا کی تو یہ کلمات عرش کے اردگرد گھومنے لگے، فرشتے کہنے لگے بہت دور دراز کی یہ آواز ہے لیکن کان اس سے پہلے آشنا ضرور ہیں آواز بہت ضعیف ہے۔ جناب باری نے فرمایا کیا ’ تم نے پہچانا نہیں؟ ‘ انہوں نے کہا نہیں۔ فرمایا ’ یہ میرے بندے یونس کی آوازہے ‘۔ فرشتوں نے کہا وہی یونس (‏‏‏‏علیہ السلام) جس کے پاک عمل قبول شدہ ہر روز تیری طرف چڑھتے تھے اور جن کی دعائیں تیرے پاس مقبول تھیں، اے اللہ جیسے وہ آرام کے وقت نیکیاں کرتا تھا تو اس مصیبت کے وقت اس پر رحم کر۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ علیہ السلام کو بغیر کسی تکلیف کے کنارے پر اگل دے }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:599/4:ضعیف] ‏‏‏‏

استغفار موجب نجات ہے ٭٭

پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور غم سے نجات دے دی ان اندھیروں سے نکال دیا۔ اسی طرح ہم ایمان داروں کو نجات دیا کرتے ہیں، وہ مصیبتوں میں گھر کر ہمیں پکارتے ہیں اور ہم ان کی دستگیری فرما کرتمام مشکلیں آسان کر دیتے ہیں ‘۔ خصوصاً جو لوگ اس دعائے یونس ہی کو پڑھیں جسکی تاکید سید الانبیاء رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ مسند احمد ترمذی وغیرہ میں ہے { سیدنا سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں مسجد میں گیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وہاں تھے۔ میں نے سلام کیا آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے بغور دیکھا اور میرے سلام کا جواب نہ دیا میں نے امیر المؤمنین عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے آکر شکایت کی آپ رضی اللہ عنہ نے عثمان رضی اللہ عنہ کو بلوایا ان سے کہا کہ ”آپ رضی اللہ عنہ نے ایک مسلمان بھائی کے سلام کا جواب کیوں نہ دیا؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”نہ یہ آئے، نہ انہوں نے سلام کیا، نہ یہ کہ میں نے انہیں جواب نہ دیا ہو۔‏‏‏‏“ اس پر میں قسم کھائی تو، آپ رضی اللہ عنہ نے بھی میرے مقابلے میں قسم کھالی۔ پھر کچھ خیال کر کے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے توبہ استغفار کیا اور فرمایا ”ٹھیک ہے۔ آپ نکلے تھے لیکن میں اس وقت اپنے دل سے وہ بات کہہ رہا تھا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سے سنی تھی۔ واللہ مجھے جب وہ یاد آتی ہے میری آنکھوں پر ہی نہیں بلکہ میرے دل پر بھی پردہ پڑ جاتا ہے“ }۔

{ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں آپ رضی اللہ عنہ کو اس کی خبردیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اول دعا کا ذکر کیا ہی تھا جو ایک اعرابی آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی باتوں میں مشغول کرلیا۔ بہ وقت گزرتا گیا اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھے اور مکان کی طرف تشریف لے چلے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہولیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے قریب پہنچ گئے مجھے ڈر لگا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر نہ چلے جائیں اور میں رہ جاؤں تو میں نے زور زور سے پاؤں مارمار کر چلنا شروع کیا میری جوتیوں کی آہٹ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: { کون ابواسحاق؟} میں نے کہا جی ہاں یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں ہاں وہ دعا ذوالنون علیہ السلام کی تھی جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی تھی یعنی «لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:87] ‏‏‏‏ { سنو جو بھی مسلمان جس کسی معاملے میں جب کبھی اپنے رب سے یہ دعا کرے اللہ تعالیٰ اسے ضرور قبول فرماتا ہے } } }۔ ابن ابی حاتم میں ہے { جو بھی یونس علیہ السلام اس دعا کے ساتھ دعا کرے اس کی دعا ضرور قبول کی جائے گی }۔ ابوسعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اسی آیت میں اس کے بعد ہی فرمان ہے ہم اسی طرح مؤمنوں کو نجات دیتے ہیں۔‏‏‏‏“ ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ کا وہ نام جس سے وہ پکارا جائے تو قبول فرمالے اور جو مانگا جائے وہ عطا فرمائے وہ یونس بن متع علیہ السلام کی دعا میں ہے }۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ یونس علیہ السلام کے لیے ہی خاص تھی یا تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے؟ فرمایا: { ان کے لیے خاص اور تمام مسلمانوں کے لیے عام جو بھی یہ دعا کرے، کیا تو نے قرآن میں نہیں پڑھا کہ ’ ہم نے اس کی دعا قبول فرمائی اسے غم سے چھڑایا اور اسی طرح ہم مومنوں کو چھڑاتے ہیں ‘۔ پس جو بھی اس دعا کو کرے اس سے اللہ کا قبولیت کا وعدہ ہو چکا ہے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24779:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کثیر بن سعید فرماتے ہیں ”میں نے امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ ابوسعید! اللہ کا وہ اسم اعظم کہ جب اس کے ساتھ اس سے دعا کی جائے اللہ تعالیٰ قبول فرمالے اور جب اس کے ساتھ اس سے سوال کیا جائے تو وہ عطا فرمائے کیا ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ برادر زادے ”کیا تم نے قرآن کریم میں اللہ کا یہ فرمان نہیں پڑھا؟“ پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی دو آیتیں «وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ» تلاوت فرمائیں اور فرمایا ”بھتیجے یہی اللہ کا وہ اسم اعظم ہے کہ جب اس کے ساتھ دعا کی جائے وہ قبول فرماتا ہے اور جب اس کے ساتھ اس سے مانگا جائے وہ عطا فرماتا ہے۔‏‏‏‏“
88۔ 1 ہم نے یونس ؑ کی دعا قبول کی اور اسے اندھیروں سے اور مچھلی کے پیٹ سے نجات دی اور جو بھی مومن ہمیں اس طرح شدائد اور مصیبتوں میں پکارے گا، ہم اسے نجات دیں گے۔ حدیث میں آتا ہے۔ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' جس مسلمان نے بھی اس دعا کے ساتھ کسی معاملے کے لئے دعا مانگی تو اللہ نے اسے قبول فرمایا (جامع ترندی نمبر 355 وصححہ الالبانی)
(آیت 88){ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِي الْمُؤْمِنِيْنَ:} اس کے دو معنی ہیں اور دونوں ہی مراد ہیں، ایک یہ کہ جس طرح ہم نے یونس علیہ السلام کی دعا قبول کرکے انھیں غم سے نجات دی اسی طرح ہم ایمان والوں کو ان کی دعائیں قبول کرکے غم سے نجات دیتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ جس طرح اس دعا کے ساتھ ہم نے یونس علیہ السلام کو غم سے نجات دی اسی طرح ایمان والوں کو ہم اس دعا کے ساتھ غم سے نجات دیتے ہیں۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ دَعْوَةُ ذِي النُّوْنِ إِذْ دَعَا وَهُوَ فِيْ بَطْنِ الْحُوْتِ «‏‏‏‏لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّيْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» فَإِنَّهٗ لَمْ يَدْعُ بِهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِيْ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ اللّٰهُ لَهٗ ] [ ترمذي، الدعوات، باب في دعوۃ ذي النون: ۳۵۰۵۔ مسند أحمد: 170/1، ح: ۱۶۴۴، و صححہ الألباني ] ”ذو النون (یونس علیہ السلام) کی دعا، جو اس نے مچھلی کے پیٹ میں کی «‏‏‏‏لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّيْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» کوئی مسلم آدمی اس کے ساتھ کسی چیز کے بارے میں دعا نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا ہے۔“
وَ زَکَرِیَّاۤ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗ رَبِّ لَا تَذَرۡنِیۡ فَرۡدًا وَّ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡوٰرِثِیۡنَ ﴿ۚۖ۸۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور زکریّاؑ کو، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ "اے پروردگار، مجھے اکیلا نہ چھوڑ، اور بہترین وارث تو تُو ہی ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور زکریا (علیہ السلام) کو یاد کرو جب اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! مجھے تنہا نہ چھوڑ، تو سب سے بہتر وارث ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور زکریا کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا، اے میرے رب مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر اور وارث
علامہ محمد حسین نجفی
اور زکریا (ع) کا (ذکر کیجئے) جب انہوں نے پکارا اے میرے پروردگار! مجھے (وارث کے بغیر) اکیلا نہ چھوڑ۔ جبکہ تو خود بہترین وارث ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور زکریا کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا اے میرے رب! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو ہی سب وارثوں سے بہتر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دعا اور بڑھاپے میں اولاد ٭٭

اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے دعا کی کہ مجھے اولاد ہو جو میرے بعد نبی بنے ‘۔ سورۃ مریم میں اور سورۃ آل عمران میں یہ واقعہ تفصیل سے ہے۔ آپ علیہ السلام نے یہ دعا چھپا کر کی تھی، ”مجھے تنہا نہ چھوڑ“ یعنی بے اولاد۔ دعا کے بعد اللہ تعالیٰ کی ثناء کی جیسے کہ اس دعا کے لائق تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی۔ اور آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ کو جنہیں بڑھاپے تک کوئی اولاد نہ ہوئی تھی اولاد کے قابل بنا دیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں ان کی طول زبانیں بند کردی۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کے اخلاق کی کمی پوری کردی۔ لیکن الفاظ قرآن کے قریب پہلا معنی ہی ہے۔ یہ سب بزرگ نیکیوں کی طرف اللہ کی فرمانبرداری کی طرف بھاگ دوڑ کرنے والے تھے۔ اور لالچ اور ڈر سے اللہ سے دعائیں کرنے والے تھے اور سچے مومن رب کی باتیں ماننے والے اللہ کا خوف رکھنے والے تواضع انکساری اور عاجزی کرنے والے اللہ کے سامنے اپنی فروتنی ظاہر کرنے والے تھے۔ مروی ہے کہ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا ”میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی اور اس کی پوری ثناء و صفت بیان کرتے رہنے کی اور لالچ اور خوف سے دعائیں مانگنے کی اور دعاؤں میں خشوع وخضوع کرنے کی وصیت کرتا ہوں دیکھو اللہ عزوجل نے زکریا علیہ السلام کے گھرانے کی یہی فضیلت بیان فرمائی ہے“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 89) ➊ {وَ زَكَرِيَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ …:} یہ اس سورت میں مذکور نواں قصہ ہے، اس کی تفصیل سورۂ آل عمران (۳۹ تا ۴۱) اور سورۂ مریم (۱ تا ۱۵) میں ملاحظہ فرمائیں۔ ➋ { وَ اَنْتَ خَيْرُ الْوٰرِثِيْنَ:} وارث وہ ہے جو کسی مالک کے فوت ہونے کے بعد اس کی ملکیت کا مالک بنے۔ اصل وارث سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَيْهَا }» [ مریم: ۴۰ ] ”بے شک ہم، ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے اور ان کے بھی جو اس پر ہیں۔“ زکریا علیہ السلام نے اپنے علم و نبوت کا وارث عطا کرنے کی درخواست کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی صفت {” خَيْرُ الْوٰرِثِيْنَ “} کا وسیلہ پکڑا۔ قرآن و سنت میں مذکور دعاؤں میں ہر دعا کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ کی صفت کا ذکر ہے، جیسا کہ ایوب علیہ السلام نے {” وَ اَنْتَ خَيْرُ الْوٰرِثِيْنَ “} کہا اور یونس علیہ السلام نے {” لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ “} کہا۔ بعض مفسرین نے اس جملہ کی یہ توجیہ فرمائی ہے کہ میں تجھ سے وارث عطا کرنے کی دعا کر رہا ہوں، مگر حقیقی وارث تو ہی ہے، اگر تو مجھے اولاد نہ بھی دے گا تب بھی میرے بعد اپنے دین کا انتظام ضرور کرے گا۔ (قرطبی)
فَاسۡتَجَبۡنَا لَہٗ ۫ وَ وَہَبۡنَا لَہٗ یَحۡیٰی وَ اَصۡلَحۡنَا لَہٗ زَوۡجَہٗ ؕاِنَّہُمۡ کَانُوۡا یُسٰرِعُوۡنَ فِی الۡخَیۡرٰتِ وَ یَدۡعُوۡنَنَا رَغَبًا وَّ رَہَبًا ؕوَ کَانُوۡا لَنَا خٰشِعِیۡنَ ﴿۹۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس ہم نے اس کی دُعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا کیا اور اس کی بیوی کو اس کے لیے درست کر دیا یہ لوگ نیکی کے کاموں میں دَوڑ دھوپ کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے، اور ہمارے آگے جھکے ہوئے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے اس کی دعا کو قبول فرما کر اسے یحيٰ (علیہ السلام) عطا فرمایا اور ان کی بیوی کو ان کے لئے درست کر دیا۔ یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں ﻻلچ طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے۔ اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا فرمایا اور اس کے لیے اس کی بی بی سنواری بیشک وہ بھلے کاموں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے، اور ہمارے حضور گڑگڑاتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں یحییٰ (جیسا بیٹا) عطا کیا اور ان کی بیوی کو ان کیلئے تندرست کر دیا۔ یہ لوگ نیک کاموں میں جلدی کرتے تھے اور ہم کو شوق و خوف (اور امید و بیم) کے ساتھ پکارتے تھے اور وہ ہمارے لئے (عجز و نیاز سے) جھکے ہوئے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا کیا اور اس کی بیوی کو اس کے لیے درست کر دیا، بے شک وہ نیکیوں میں بہت جلدی کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف سے پکارتے تھے اور وہ ہمارے ہی لیے عاجزی کرنے والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دعا اور بڑھاپے میں اولاد ٭٭

اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے دعا کی کہ مجھے اولاد ہو جو میرے بعد نبی بنے ‘۔ سورۃ مریم میں اور سورۃ آل عمران میں یہ واقعہ تفصیل سے ہے۔ آپ علیہ السلام نے یہ دعا چھپا کر کی تھی، ”مجھے تنہا نہ چھوڑ“ یعنی بے اولاد۔ دعا کے بعد اللہ تعالیٰ کی ثناء کی جیسے کہ اس دعا کے لائق تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی۔ اور آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ کو جنہیں بڑھاپے تک کوئی اولاد نہ ہوئی تھی اولاد کے قابل بنا دیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں ان کی طول زبانیں بند کردی۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کے اخلاق کی کمی پوری کردی۔ لیکن الفاظ قرآن کے قریب پہلا معنی ہی ہے۔ یہ سب بزرگ نیکیوں کی طرف اللہ کی فرمانبرداری کی طرف بھاگ دوڑ کرنے والے تھے۔ اور لالچ اور ڈر سے اللہ سے دعائیں کرنے والے تھے اور سچے مومن رب کی باتیں ماننے والے اللہ کا خوف رکھنے والے تواضع انکساری اور عاجزی کرنے والے اللہ کے سامنے اپنی فروتنی ظاہر کرنے والے تھے۔ مروی ہے کہ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا ”میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی اور اس کی پوری ثناء و صفت بیان کرتے رہنے کی اور لالچ اور خوف سے دعائیں مانگنے کی اور دعاؤں میں خشوع وخضوع کرنے کی وصیت کرتا ہوں دیکھو اللہ عزوجل نے زکریا علیہ السلام کے گھرانے کی یہی فضیلت بیان فرمائی ہے“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
90۔ 1 حضرت زکریا ؑ کا بڑھاپے میں اولاد کے لئے دعا کرنا اور اللہ کی طرف سے اس کا عطا کیا جانا، اس کی ضروری تفصیل سورة آل عمران اور سورة طٰہٰ میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی اس کی طرف اشارہ ان الفاظ میں کیا ہے۔ 90۔ 2 یعنی وہ بانجھ اور ناقابل اولاد تھی، ہم نے اس کے اس نقص کا ازالہ فرما کر اسے نیک بچہ عطا فرمایا۔ 90۔ 3 گویا قبولیت دعا کے لئے ضروری ہے کہ ان باتوں کا اہتمام کیا جائے جن کا بطور خاص یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ مثلاً الحاح وزاری کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں دعا و مناجات، نیکی کے کاموں میں سبقت، خوف و طمع کے ملے جلے جذبات کے ساتھ رب کو پکارنا اور اس کے سامنے عاجزی اور خشوع خضوع کا اظہار۔
(آیت 90) ➊ { فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ وَ وَهَبْنَا لَهٗ يَحْيٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ:} بیوی کو درست کرنے سے مراد ان کا بانجھ پن دور کر کے انھیں اولاد کے قابل بنانا ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ بظاہر ترتیب تو یہ ہونی چاہیے کہ ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اس کے لیے اس کی بیوی کو درست کر دیا اور اسے یحییٰ عطا کیا، کیونکہ بیوی درست ہونے کے بعد بچے کا مرحلہ آتا ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ واؤ ہمیشہ ترتیب کے لیے نہیں ہوتی۔ یہاں یحییٰ علیہ السلام عطا کرنے کا ذکر پہلے اس لیے ہے کہ دعا بیٹا عطا کرنے کی تھی، اس کی قبولیت کے بیان کے لیے پہلے یحییٰ عطا کرنے کا ذکر ہوا، پھر اس سوال کا جواب دے دیا گیا کہ اتنی بوڑھی اور بانجھ بیوی سے بیٹا کیسے پیدا ہو گیا؟ ➋ { اِنَّهُمْ كَانُوْا يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَيْرٰتِ:} یعنی زکریا علیہ السلام، ان کی بیوی اور یحییٰ علیہ السلام نیکیوں میں جلدی کرتے اور رغبت اور خوف کے ساتھ ہمیں پکارتے تھے اور صرف ہمارے لیے عاجزی کرنے والے تھے۔ یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ ان تمام انبیاء میں، جن کا ذکر اس سے پہلے گزرا، یہ تینوں صفات پائی جاتی تھیں۔ معلوم ہوا دعا کی قبولیت کے لیے یہ تینوں باتیں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ان بڑے لوگوں میں یہ بات نہ تھی کہ شفا بخش سکیں یا مشکل کشائی کر سکیں یا اولاد عطا کر دیں، بلکہ وہ نیکیوں میں جلدی کرتے تھے اور خوف اور طمع کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہی سے دعا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ بندگی میں ان کے عظیم مرتبے کے پیش نظر معجزانہ طریقے سے ان کی دعا قبول فرماتا تھا۔ ➌ {وَ يَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا:} یعنی وہ ہمیں اس طرح پکارتے تھے کہ ایک طرف انھیں ہمارے اجر کی توقع رہتی تھی اور دوسری طرف ہمارے عذاب کا ڈر اور یہی بندگی کا اعلیٰ ترین مقام ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا }» [ السجدۃ: ۱۶ ] ”وہ اپنے رب کو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے پکارتے ہیں۔“ بعض صوفی حضرات کہا کرتے ہیں کہ جنت کے لالچ یا جہنم کے خوف سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا تو سودے بازی ہے، عبادت تو بس اللہ کی رضا کے لیے کرنی چاہیے، اس آیت میں ان کا رد ہے، انبیائے کرام اللہ کے قرب کے سب سے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوتے ہیں، ان کے متعلق فرمایا: «{ يَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا }» یعنی وہ ہمیں اس طرح پکارتے تھے کہ ایک طرف انھیں ہمارے اجر کی توقع رہتی تھی اور دوسری طرف ہمارے عذاب کا ڈر اور یہی بندگی کا اعلیٰ ترین مقام ہے۔ جاہل صوفیوں کو علم نہیں کہ جنت اللہ کی رضا سے ملے گی اور جہنم اللہ کے غضب کا نتیجہ ہے۔ رہی سودے بازی، تو وہ خود اللہ تعالیٰ نے بندوں سے کی ہے، فرمایا: «{ اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ }» [ التوبۃ: ۱۱۱ ] ”بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں، اس کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے۔“
وَ الَّتِیۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَہَا فَنَفَخۡنَا فِیۡہَا مِنۡ رُّوۡحِنَا وَ جَعَلۡنٰہَا وَ ابۡنَہَاۤ اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۹۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہ خاتون جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی ہم نے اُس کے اندر اپنی روح سے پھونکا اور اُسے اور اُس کے بیٹے کو دنیا بھر کے لیے نشانی بنا دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه پاک دامن بی بی جس نے اپنی عصمت کی حفاﻇت کی ہم نے اس کے اندر روح سے پھونک دی اور خود انہیں اور ان کے لڑکے کو تمام جہان کے لئے نشانی بنا دیا
احمد رضا خان بریلوی
اور اس عورت کو اس نے اپنی پارسائی نگاہ رکھی تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی اور اسے اور اس کے بیٹے کو سارے جہاں کے لیے نشانی بنایا
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس خاتون (کا ذکر کیجئے) جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی (خاص) روح پھونک دی۔ اور انہیں اور ان کے بیٹے (عیسیٰ) کو دنیا جہان والوں کیلئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنا دیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس عورت کو جس نے اپنی شرم گاہ کو محفوظ رکھا، تو ہم نے اس میں اپنی روح سے پھونکا اور اسے اور اس کے بیٹے کو جہانوں کے لیے عظیم نشانی بنا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بلا شوہر اولاد ٭٭

حضرت مریم اور عیسیٰ علیہم السلام کا قصہ بیان ہو رہا ہے۔ قرآن میں کریم میں عموماً زکریا علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام کے قصے کے ساتھ ہی ان کا قصہ بیان ہوتا رہا ہے۔ اس لیے کہ ان لوگوں میں پورا رابط ہے۔ زکریا علیہ السلام پورے بڑھاپے کے عالم میں آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ جوانی سے گزری ہوئی اور پوری عمر کی بے اولاد ان کے ہاں اولاد عطا فرمائی۔ اس قدرت کو دکھا کر پھر محض عورت بغیر شوہر کے اولاد کا عطا فرمانا یہ اور قدرت کا کمال ظاہر کرتا ہے۔ سورۃ آل عمران اور سورۃ مریم میں بھی یہی ترتیب ہے۔ مراد عصمت والی عورت سے مریم ہیں جیسے فرمان ہے، آیت «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِيْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهٖ وَكَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِيْنَ» ۱؎ [66-التحريم:12] ‏‏‏‏ یعنی ’ عمران کی لڑکی مریم جو پاک دامن تھیں انہیں اور ان کے لڑکے اور عیسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) کو اپنی بے نظیر قدرت کانشان بنایا کہ مخلوق کو اللہ کی ہر طرح کی قدرت اور اس کے پیدائش وسیع اختیارات اور صرف اپنا ارادے سے چیزوں کا بنانا معلوم ہو جائے ‘۔ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کی قدرت کی ایک علامت تھے جنات کے لیے بھی اور انسانوں کے لیے بھی۔
91۔ 1 یہ حضرت مریم اور عیسیٰ (علیہما السلام) کا تذکرہ ہے جو پہلے گزر چکا ہے۔
(آیت 91) ➊ {وَ الَّتِيْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا:} یعنی اس خاتون کا بھی ذکر کر جس پر ناپاک لوگ (یہودی) تہمتیں لگاتے ہیں، حالانکہ اس نے اپنی شرم گاہ کو حرام سے محفوظ رکھا، بلکہ عبادت میں ایسی مشغول رہی کہ حلال سے بھی محفوظ رکھا، جیسا کہ فرمایا: «{ لَمْ يَمْسَسْنِيْ بَشَرٌ }» [ آل عمران: ۴۷ ] ”حالانکہ کسی بشر نے مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔“ اللہ تعالیٰ نے اس کی نیک شہرت کے اظہار کے لیے اس کا نام نہیں لیا، کیونکہ سب جانتے ہیں اس سے مراد مریم بنت عمران علیھا السلام ہیں۔ ➋ {فَنَفَخْنَا فِيْهَا مِنْ رُّوْحِنَا:} مراد عیسیٰ علیہ السلام کی روح ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور اس کے حکم سے جبریل علیہ السلام نے پھونکی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو عزت و شرف بخشنے کے لیے اسے اپنی روح قرار دیا اور جبریل علیہ السلام کے پھونکنے کو اپنا پھونکنا قرار دیا، جیسے {”بيت الله“} اور {”ناقة الله“} میں کعبہ کو اپنا گھر اور صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو اپنی اونٹنی قرار دیا۔ شیخ ثناء اللہ امر تسری رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: ”عیسائی لوگ اس آیت اور اس قسم کی اور آیات سے عموماً دلیل لایا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح (معاذ اللہ) خدا تھا، کیونکہ اس کو ”روح اللہ“ کہا گیا ہے، مگر وہ قرآن شریف کے محاورے کو غور سے نہیں دیکھتے کہ اس قسم کی اضافات سے مطلب کیا ہوتا ہے؟ سورۂ سجدہ میں عام انسانوں کے لیے بھی یہی اضافت روح کی اللہ کی طرف آئی ہے، چنانچہ ارشاد ہے: «{ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ (7) ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِيْنٍ (8) ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ }» [ السجدۃ: ۷ تا ۹ ] ”(یعنی اللہ نے) انسان کی پیدائش تھوڑی سی مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ایک حقیر پانی کے خلاصے سے بنائی، پھر اسے درست کیا اور اس میں اپنی ایک روح پھونکی۔“ اس جگہ عام انسانی پیدائش کی ابتدا اور سلسلے کا ذکر ہے۔ پس اگر آیت زیر تفسیر سے مسیح علیہ السلام کی الوہیت (خدا ہونا) ثابت ہوتی ہو تو اس قسم کی آیات سے تمام انسانوں کی الوہیت ثابت ہو گی، پھر اگر مسیح بھی ایسے ہی خدا اور الٰہ تھے جیسے کہ سب انسان ہیں تو خیر اس کے ماننے میں کسی کو کلام نہیں۔ پس آیت موصوفہ کے معنی وہی ہیں جو ہم نے لکھے ہیں (کہ وہ روح مخلوق تھی) ({فَافْهَمْ})۔“ ➌ {وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰيَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ:} مریم اور مسیح علیھما السلام کا جہانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانی ہونا سورۂ آل عمران (۳۶ تا ۶۳)، نساء (۱۵۶ تا ۱۵۹، ۱۷۱) اور مائدہ (۴۶، ۱۱۰ تا ۱۲۰) میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔
اِنَّ ہٰذِہٖۤ اُمَّتُکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ۫ۖ وَّ اَنَا رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡنِ ﴿۹۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ تمہاری امّت حقیقت میں ایک ہی امّت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس تم میری عبادت کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ تمہاری امت ہے جو حقیقت میں ایک ہی امت ہے، اور میں تم سب کا پروردگار ہوں پس تم میری ہی عبادت کرو
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے اور میں تمہارا رب ہوں تو میری عبادت کرو،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے ایمان والو) یہ تمہاری (ملت) ہے جو درحقیقت ملت واحدہ ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں۔ بس تم میری ہی عبادت کرو۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک یہ ہے تمھاری امت جو ایک ہی امت ہے اور میں ہی تمھارا رب ہوں، سو میری عبادت کرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تمام شریعتوں کی روح توحید ٭٭

فرمان ہے کہ ’ تم سب کا دین ایک ہی ہے۔ اوامر ونواہی کے احکام تم سب میں یکساں ہیں ‘۔ «ھٰذِہٖ» اسم ہے «اِنَّ» کا اور «اُمَّتُکُمۡ» خبر ہے اور «اُمَّةً وَّاحِدَةً» حال ہے۔ یعنی یہ شریعت جو بیان ہوئی تم سب کی متفق علیہ شریعت ہے۔ جس کا اصلی مقصود توحید الٰہی ہے جیسے آیت «يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ وَإِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَ‌بُّكُمْ فَاتَّقُونِ» ۱؎ [23-المؤمنون:52-51] ‏‏‏‏ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے اور لوگوں کی بہ نسبت زیادہ قریب ہوں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور انبیاء علیہم السلام علاتی بھائیوں (‏‏‏‏کی طرح)‏‏‏‏‏‏‏‏ ہیں۔ ان کے مسائل میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن دین سب کا ایک ہی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3443] ‏‏‏‏ جیسے فرمان قرآن ہے آیت «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا» ۱؎ [5-المائدة:48] ‏‏‏‏ ’ ہر ایک کی راہ اور طریقہ ہے ‘۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا بعض اپنوں نبیوں پر ایمان لائے اور بعض نہ لائے۔ قیامت کے دن سب کا لوٹنا ہماری طرف ہے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا نیکوں کو نیک بدلہ اور بروں کو بری سزا۔ جس کے دل میں ایمان ہو اور جس کے اعمال نیک ہوں اس کے اعمال اکارت نہ ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا» ۱؎ [18-الكهف:30] ‏‏‏‏ ’ نیک کام کرنے والوں کا اجر ہم ضائع نہیں کرتے۔ ایسے اعمال کی قدردانی کرتے ہیں ایک ذرے کے برابر ہم ظلم روا نہیں رکھتے تمام اعمال لکھ لیتے ہیں کوئی چیز چھوڑتے نہیں ‘۔
92۔ 1 امۃ سے مراد یہاں دین یا ملت یعنی تمہارا دین یا ملت ایک ہی ہے اور وہ دین ہے دین توحید، جس کی دعوت تمام انبیاء نے دی اور ملت، ملت اسلام ہے جو تمام انبیاء کی ملت رہی۔ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' ہم انبیاء کی جماعت اولاد علات ہیں، (جن کا باپ ایک اور مائیں مختلف ہوں) ہمارا دین ایک ہی ہے ' (ابن کثیر)
(آیت 92){ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً …:} بہت سے مفسرین نے یہاں امت سے مراد دین لیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کا قول نقل فرمایا: «{ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ }» [ الزخرف: ۲۲ ] ”بے شک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک امت (یعنی ایک دین) پر چلتے پایا۔“ یعنی تمھارا دین اور ملت ایک ہی ہے اور وہ ہے دین توحید، اور {” هٰذِهٖۤ “} سے مراد اس سے پہلے مذکور انبیاء، نوح، ابراہیم، اسحاق، یعقوب، لوط، داؤد، سلیمان، ایوب، اسماعیل، ادریس، ذوالکفل، یونس، زکریا، مسیح ابن مریم علیھم السلام ہیں کہ سب کا ایک ہی دین تھا اور سب توحید پر قائم تھے۔ کسی اور کو معبود، مشکل کُشا، شفا دینے والا، بگڑی بنانے والا یا اولاد عطا کرنے والا نہیں سمجھتے تھے، یہ سب لوگ ایک ہی دین پر تھے کہ میں تمھارا رب ہوں، سو میری ہی عبادت کرو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلاَّتٍ أُمَّهَاتُهُمْ شَتّٰی وَدِيْنُهُمْ وَاحِدٌ ] [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب «واذکر في الکتاب مریم…» : ۳۴۴۳۔ مسلم: 2365/145] ”انبیاء علاتی بھائی ہیں، جن کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے۔“ امت کا معنی جماعت بھی ہے، مگر ایسی جماعت جس کے لوگوں کے درمیان انھیں اکٹھا رکھنے والی کوئی چیز ہو، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ }» [ آل عمران: ۱۰۴ ] ”اور لازم ہے کہ تمھاری صورت میں ایک جماعت ہو جو نیکی کی طرف دعوت دیں۔“ یعنی یہ تمام انبیاء ایک ہی جماعت تھے جن کا رب ایک اور دین ایک تھا۔
وَ تَقَطَّعُوۡۤا اَمۡرَہُمۡ بَیۡنَہُمۡ ؕ کُلٌّ اِلَیۡنَا رٰجِعُوۡنَ ﴿٪۹۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر (یہ لوگوں کی کارستانی ہے کہ) انہوں نے آپس میں دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا سب کو ہماری طرف پلٹنا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
مگر لوگوں نےآپس میں اپنے دین میں فرقہ بندیاں کر لیں، سب کے سب ہماری ہی طرف لوٹنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اَوروں نے اپنے کام آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیے سب کو ہماری طرف پھرنا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
لیکن لوگوں نے اپنے (دینی) معاملہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا (انجام کار) سب ہماری ہی طرف لوٹ کر آنے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ اپنے معاملے میں آپس میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ سب ہماری ہی طرف لوٹنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تمام شریعتوں کی روح توحید ٭٭

فرمان ہے کہ ’ تم سب کا دین ایک ہی ہے۔ اوامر ونواہی کے احکام تم سب میں یکساں ہیں ‘۔ «ھٰذِہٖ» اسم ہے «اِنَّ» کا اور «اُمَّتُکُمۡ» خبر ہے اور «اُمَّةً وَّاحِدَةً» حال ہے۔ یعنی یہ شریعت جو بیان ہوئی تم سب کی متفق علیہ شریعت ہے۔ جس کا اصلی مقصود توحید الٰہی ہے جیسے آیت «يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ وَإِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَ‌بُّكُمْ فَاتَّقُونِ» ۱؎ [23-المؤمنون:52-51] ‏‏‏‏ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے اور لوگوں کی بہ نسبت زیادہ قریب ہوں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور انبیاء علیہم السلام علاتی بھائیوں (‏‏‏‏کی طرح)‏‏‏‏‏‏‏‏ ہیں۔ ان کے مسائل میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن دین سب کا ایک ہی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3443] ‏‏‏‏ جیسے فرمان قرآن ہے آیت «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا» ۱؎ [5-المائدة:48] ‏‏‏‏ ’ ہر ایک کی راہ اور طریقہ ہے ‘۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا بعض اپنوں نبیوں پر ایمان لائے اور بعض نہ لائے۔ قیامت کے دن سب کا لوٹنا ہماری طرف ہے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا نیکوں کو نیک بدلہ اور بروں کو بری سزا۔ جس کے دل میں ایمان ہو اور جس کے اعمال نیک ہوں اس کے اعمال اکارت نہ ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا» ۱؎ [18-الكهف:30] ‏‏‏‏ ’ نیک کام کرنے والوں کا اجر ہم ضائع نہیں کرتے۔ ایسے اعمال کی قدردانی کرتے ہیں ایک ذرے کے برابر ہم ظلم روا نہیں رکھتے تمام اعمال لکھ لیتے ہیں کوئی چیز چھوڑتے نہیں ‘۔
93۔ 1 یعنی دین توحید اور عبادت رب کو چھوڑ کر مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے ایک گروہ تو مشرکین اور کفار کا ہوگیا اور انبیاء و رسل کے ماننے والے بھی گروہ بن گئے، کوئی یہودی ہوگیا، کوئی عیسائی، کوئی کچھ اور اور بدقسمتی سے یہ فرقہ بندیاں خود مسلمانوں میں بھی پیدا ہوگئیں اور یہ بھی بیسیوں فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ ان سب کا فیصلہ، جب یہ بارگاہ الٰہی میں لوٹ کر جائیں گیں۔ تو وہیں ہوگا۔
(آیت 93) ➊ {وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ:” تَقَطَّعُوْۤا “} باب تفعل سے ہے جو لازم ہے۔ اصل میں {” تَقَطَّعُوْا فِي أَمْرِهِمْ“} تھا، یعنی وہ اپنے دین کے معاملے میں آپس میں ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ {”فِيْ“ } کو حذف کرنے کی وجہ سے {” اَمْرَهُمْ “} پر نصب آ گیا۔ بعض نے فرمایا کہ یہاں {” تَقَطَّعُوْۤا “} باب تفعیل ({قَطَّعُوْا}) کے معنی میں ہے جو متعدی ہے، یعنی انھوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ اس معنی کی بھی گنجائش ہے، مگر پہلا معنی راجح ہے۔ یعنی سب کا دین ایک اور رب ایک ہے، اس لیے لازم تھا کہ سب ایک جماعت رہتے اور اپنے نبی کی کتاب اور سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھتے، مگر وہ سب کچھ جانتے ہوئے محض باہمی ضد اور عناد کی وجہ سے دین کے بارے میں کئی فرقوں میں بٹ گئے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۳) اور سورۂ شوریٰ (۱۳، ۱۴) ہماری امت کا بھی یہی حال ہوا کہ وہ کتاب و سنت پر متحد ہونے کے بجائے فقہ و تصوف کے الگ الگ پیشوا بنا کر بہت سے فرقوں میں بٹ گئے، جن میں سے ہر فرقہ اپنے آپ ہی کو حق پر قرار دیتا ہے۔ سیاسی طور پر خلافت اسلامیہ کو ختم کر کے چھپن (۵۶) خود مختار ملکوں میں تقسیم ہو گئے، جن میں سے ایک بھی حقیقت میں خود مختار نہیں ہے، نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ➋ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو مخاطب کرکے فرمایا تھا: «{ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ }» یعنی یہ تمھاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمھارا رب ہوں، سو میری ہی عبادت کرو۔ اب اس آیت میں انھیں مخاطب کرنے کے بجائے ان کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ کیا اور {” تَقَطَّعْتُمْ أَمْرَكُمْ بَيْنَكُمْ “} (تم اپنے دین کے معاملے میں آپس میں ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے) کے بجائے فرمایا: {” وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ “} کہ وہ اپنے معاملے میں آپس میں ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ یہ مخاطب سے غائب کی طرف التفات ہے، گویا اللہ تعالیٰ نے انھیں مخاطب کرنے کے بعد ان کی گروہ بندی کی وجہ سے انھیں اس قابل نہیں سمجھا کہ ان سے خطاب کیا جائے، اس لیے ان کا ذکر غائب کے صیغے سے فرمایا۔ ➌ { كُلٌّ اِلَيْنَا رٰجِعُوْنَ:} یعنی یہ لوگ جتنے گروہ چاہیں بنا لیں، آخر سب نے ہمارے پاس آنا ہے، پھر ہم سب کا فیصلہ کریں گے، فرمایا: «{ قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيْ مَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ }» [الزمر: ۴۶ ] ”تو کہہ اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! ہر چھپی اور کھلی کو جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔“
فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَا کُفۡرَانَ لِسَعۡیِہٖ ۚ وَ اِنَّا لَہٗ کٰتِبُوۡنَ ﴿۹۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر جو نیک عمل کرے گا، اِس حال میں کہ وہ مومن ہو، تو اس کے کام کی نا قدری نہ ہو گی، اور اُسے ہم لکھ رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر جو بھی نیک عمل کرے اور وه مومن (بھی) ہو تو اس کی کوشش کی بے قدری نہیں کی جائے گی۔ ہم تو اس کے لکھنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو جو کچھ بھلے کام کرے اور ہو ایمان والا تو اس کی کوشش کی بے قدری نہیں، اور ہم اسے لکھ رہے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
پس جو کوئی نیک کام کرے درآنحالیکہ وہ مؤمن ہو تو اس کی کوشش کی ناقدری نہ ہوگی اور ہم اسے لکھ رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پس جو شخص کچھ نیک اعمال کرے اور وہ مومن ہو تو اس کی کوشش کی کوئی نا قدری نہیں اور یقینا ہم اس کے لیے لکھنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تمام شریعتوں کی روح توحید ٭٭

فرمان ہے کہ ’ تم سب کا دین ایک ہی ہے۔ اوامر ونواہی کے احکام تم سب میں یکساں ہیں ‘۔ «ھٰذِہٖ» اسم ہے «اِنَّ» کا اور «اُمَّتُکُمۡ» خبر ہے اور «اُمَّةً وَّاحِدَةً» حال ہے۔ یعنی یہ شریعت جو بیان ہوئی تم سب کی متفق علیہ شریعت ہے۔ جس کا اصلی مقصود توحید الٰہی ہے جیسے آیت «يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ وَإِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَ‌بُّكُمْ فَاتَّقُونِ» ۱؎ [23-المؤمنون:52-51] ‏‏‏‏ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے اور لوگوں کی بہ نسبت زیادہ قریب ہوں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور انبیاء علیہم السلام علاتی بھائیوں (‏‏‏‏کی طرح)‏‏‏‏‏‏‏‏ ہیں۔ ان کے مسائل میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن دین سب کا ایک ہی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3443] ‏‏‏‏ جیسے فرمان قرآن ہے آیت «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا» ۱؎ [5-المائدة:48] ‏‏‏‏ ’ ہر ایک کی راہ اور طریقہ ہے ‘۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا بعض اپنوں نبیوں پر ایمان لائے اور بعض نہ لائے۔ قیامت کے دن سب کا لوٹنا ہماری طرف ہے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا نیکوں کو نیک بدلہ اور بروں کو بری سزا۔ جس کے دل میں ایمان ہو اور جس کے اعمال نیک ہوں اس کے اعمال اکارت نہ ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا» ۱؎ [18-الكهف:30] ‏‏‏‏ ’ نیک کام کرنے والوں کا اجر ہم ضائع نہیں کرتے۔ ایسے اعمال کی قدردانی کرتے ہیں ایک ذرے کے برابر ہم ظلم روا نہیں رکھتے تمام اعمال لکھ لیتے ہیں کوئی چیز چھوڑتے نہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 94) ➊ { فَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ …:} یعنی ان مختلف گروہوں میں سے جو بھی اس کے مطابق کچھ عمل کرے گا جو اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے، جب کہ وہ اللہ تعالیٰ پر، اس کی توحید پر، اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں پر، اس کی کتابوں پر، خیر و شر تقدیر پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ہو، تو اس کی کوشش کی کوئی ناقدری نہ ہو گی اور اللہ تعالیٰ اس کے اعمال کو اس کے نامۂ اعمال میں درج فرمائے گا۔ ➋ {” مِنَ الصّٰلِحٰتِ “} میں {” مِنْ “} بعض کے معنی میں ہے۔ (ابوالسعود) یعنی جو شخص صالح اعمال میں سے کچھ اعمال کرے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”پس جو شخص کچھ نیک اعمال کرے۔“ اللہ تعالیٰ کی کریمی دیکھیے کہ ایمان کے بعد بعض اعمال صالحہ کی بھی قدر دانی ہو رہی ہے۔
وَ حَرٰمٌ عَلٰی قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَاۤ اَنَّہُمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۹۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ممکن نہیں ہے کہ جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا ہو وہ پھر پلٹ سکے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا اس پر ﻻزم ہے کہ وہاں کے لوگ پلٹ کر نہیں آئیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور حرام ہے اس بستی پر جسے ہم نے ہلاک کردیا کہ پھر لوٹ کر آئیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا اس کیلئے حرام ہے۔ یعنی وہ (دنیا میں) دوبارہ لوٹ کر نہیں آئیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور لازم ہے اس بستی پر جسے ہم ہلاک کر دیں کہ وہ واپس نہیں لوٹیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یافت کی اولاد ٭٭

’ ہلاک شدہ لوگوں کا دنیا کی طرف پھر پلٹنا محال ہے ‘۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ’ ان کی توبہ مقبول نہیں ‘۔ لیکن پہلا قول اولیٰ ہے۔ یاجوج ماجوج نسل آدم سے ہیں۔ بلکہ وہ نوح علیہ السلام کے لڑکے یافت کی اولاد میں سے ہیں جن کی نسل ترک ہیں یہ بھی انہی کا ایک گروہ ہے یہ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی دیوار سے باہر ہی چھوڑ دیے گئے تھے۔ آپ نے دیوار بنا کر فرمایا تھا کہ یہ میرے رب کی رحمت ہے۔ اللہ کے وعدے کے وقت اس کا چورا چورا ہو جائے گا میرے رب کا وعدہ حق ہے الخ۔ یاجوج ماجوج قرب قیامت کے وقت وہاں سے نکل آئیں گے اور زمین میں فساد مچا دیں گے۔ ہر اونچی جگہ کو عربی میں «حدب» کہتے ہیں۔ ان کے نکلنے کے وقت ان کی یہی حالت ہوگی تو اس خبر کو اس طرح بیان کیا جیسے سننے والا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور واقع میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچی خبر کس کی ہوگی؟ جو غیب اور حاضر کا جاننے والا ہے۔ ہوچکی ہوئی اور ہونے والی باتوں سے آگاہ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لڑکوں کو اچھلتے کودتے کھیلتے دوڑتے ایک دوسروں کی چٹکیاں بھرتے ہوئے دیکھ کر فرمایا ”اسی طرح یاجوج ماجوج آئیں گے۔‏‏‏‏“ بہت سی احادیث میں ان کے نکلنے کا ذکر ہے۔

(‏‏‏‏١)‏‏‏‏‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { یاجوج ماجوج کھولے جائیں گے اور وہ لوگوں کے پاس پہنچیں گے جیسے اللہ عزوجل کا فرمان ہے آیت «وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:96] ‏‏‏‏ وہ چھاجائیں گے اور مسلمان اپنے شہروں اور قلعوں میں سمٹ آئیں گے اپنے جانورں کو بھی وہی لے لیں گے اور اپنا پانی انہیں پلاتے رہیں گے۔ یاجوج ماجوج جس نہر سے گزریں گے اس کا پانی صفا چٹ کر جائیں گے یہاں تک کہ اس میں خاک اڑنے لگے گی ان کی دوسری جماعت جب وہاں پہنچے گی تو وہ کہے گی شاید اس میں کسی زمانے میں پانی ہوگا۔ جب یہ دیکھیں گے کہ اب زمین پر کوئی نہ رہا اور واقع میں سوائے ان مسلمانوں کے جو اپنے شہروں اور قلعوں میں پناہ گزیں ہوں گے کوئی اور وہاں ہوگا بھی نہیں تو یہ کہیں گے کہ اب زمین والوں سے تم ہم فارغ ہو گئے آؤ آسمان والوں کی خبرلیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک شریر اپنا نیزہ گھما کر آسمان کی طرف پھینکے گا قدرت الٰہی سے وہ خون آلود ہو کر ان کے پاس گرے گا یہ بھی ایک قدرتی آزمائش ہو گی اب ان کی گردنوں میں گٹھلی ہو جائے گی اور اسی وبا میں یہ سارے کے سارے ایک ساتھ ایک دم مرجائیں گے ایک بھی باقی نہ رہے گا سارا شور و غل ختم ہو جائے گا مسلمان کہیں گے کوئی ہے جو اپنی جان ہم مسلمانوں کے لیے ہتھیلی پر رکھ کر شہرکے باہر جائے اور ان دشمنوں کو دیکھے کہ کس حال میں ہیں؟ چنانچہ ایک صاحب اس کے لیے تیار ہو جائیں گے اور اپنے آپ کو قتل شدہ سمجھ کر اللہ کی راہ میں مسلمانوں کی خدمت کے لیے نکل کھڑے ہوں گے دیکھیں گے کہ سب کا ڈھیرلگ رہا ہے سارے ہلاک شدہ پڑے ہوئے ہیں یہ اسی وقت ندا کرے گا کہ مسلمانو! خوش ہو جاؤ اللہ نے خود تمہارے دشمنوں کو غارت کر دیا یہ ڈھیر پڑا ہوا ہے اب مسلمان باہر آئیں گے اور اپنے مویشیوں کو بھی لائیں گے ان کے لیے چارہ بجز ان کے گوشت کے اور کچھ نہ ہو گا یہ ان کا گوشت کھا کھا کر خوب موٹے تازے ہو جائیں گے }۔۱؎ [سنن ابن ماجه:4079،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏‏‏‏

(‏‏‏‏٢)‏‏‏‏‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صبح ہی صبح دجال کا ذکر کیا اس طرح کہ ہم سمجھے شاید وہ ان درختوں کی آڑ میں ہے اور اب نکلا ہی چاہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے { مجھے دجال سے زیادہ خوف تم پر اور چیز کا ہے۔ اگر دجال میری موجودگی میں نکلا تو میں خود نمٹ لونگا تم میں سے ہر شخص اس سے بچے۔ میں تمہیں اللہ کی امان میں دے رہا ہوں۔ وہ جواں عمر الجھے ہوئے بالوں والا کانا اور ابھری ہوئی آنکھ والا ہے۔ وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور دائیں بائیں گھومے گا۔ ایک بندگاں الٰہی تم ثابت قدم رہنا }۔ ہم نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کتنا ٹھہرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { چالیس دن۔ ایک دن مثل ایک برس کے ایک دن مثل ایک مہینہ کے ایک دن مثل ایک جمعہ کے اور باقی دن معمولی دنوں جیسے }۔ ہم نے پوچھا یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو دن سال بھر کے برابر ہو گا اس میں ہمیں یہی پانچ نمازیں کافی ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں! تم اپنے اندازے سے وقت پر نماز پڑھتے رہا کرنا }۔ ہم نے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی رفتار کیسی ہوگی؟ فرمایا: { جیسے بادل کہ ہوا انہیں ادھر سے ادھر بھگائے لیے جاتی ہو۔ ایک قبیلے کے پاس جائے گا انہیں اپنی طرف بلائے گا وہ اس کی مان لیں گے۔ آسمان کو حکم دے گا کہ ان پر بارش برسائے زمین سے کہے گا کہ ان کے لیے پیداوار اگائے ان کے جانور ان کے پاس موٹے تازے بھرے پیٹ لوٹیں گے۔ ایک قبیلے کے پاس اپنے تئیں منوانا چاہے گا وہ انکار کر دیں گے یہ وہاں سے نکلے گا تو ان کے تمام مال اس کے پیچھے لگ جائیں گے وہ بالکل خالی ہاتھ رہ جائیں گے وہ غیر آباد جنگلوں میں جائے گا اور زمین سے کہے گا اپنے خزانے اگل دے وہ اگل دے گی اور سارے خزانے اس کے پیچھے ایسے چلیں گے جیسے شہد کی مکھیاں اپنے سردار کے پیچھے۔ یہ بھی دکھائے گا کہ ایک شخص کو تلوار سے ٹھیک دو ٹکرے کرا دے گا اور ادھرادھر دور دراز پھنکوا دے گا پھر اس کا نام لے کر آواز دے گا تو وہ زندہ چلتا پھرتا اس کے پاس آ جائے گا }۔

{ یہ اسی حال میں ہوگا جو اللہ عزوجل مسیح ابن مریم علیہ السلام کو اتارے گا۔ آپ علیہ السلام دمشق کی مشرقی طرف سفید منارے کے پاس اتریں گے اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے ہوں گے۔ آپ علیہ السلام اس کا پیچھا کریں گے اور مشرقی باب کے لد کے پاس اسے پا کر قتل کر دیں گے۔ پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی طرف اللہ کی وحی آئے گی میں اپنے ایسے بندوں کو بھیجتا ہوں جن سے لڑنے کی تم میں تاب وطاقت نہیں میرے بندوں کو طور کی طرف سمیٹ لے جا۔ پھر جناب باری یاجوج ماجوج کو بھیجے گا جیسے فرمایا آیت «وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ» ان سے تنگ آکر عیسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھی جناب باری میں دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر گٹھلی کی بیماری بھیجے گا جو ان کی گردن میں نکلے گی سارے کے سارے اوپر تلے ایک ساتھ ہی مرجائیں گے۔ تب عیسیٰ علیہ السلام مع مؤمنوں کے آئیں گے، دیکھیں گے کہ تمام زمین ان کی لاشوں سے پٹی پڑی ہے اور ان کی بدبوسے کھڑا نہیں ہوا جاتا۔ آپ علیہ السلام پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند بھیجے گا جو انہیں اللہ جانے کہاں پھینک آئیں گے؟ کعب رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہی «مہیل» میں یعنی سورج کے طلوع ہونے کی جگہ میں انہیں پھینک آئیں گے۔ پھر چالیس دن تک تمام زمین میں مسلسل بارش برسے گی، زمین دھل دھلا کر ہتھیلی کی طرح صاف ہو جائے گی پھر بحکم الٰہی اپنی برکتیں اگادے گی۔ اس دن ایک جماعت کی جماعت ایک انار سے سیر ہو جائے گی اور اس کے چھلکے تلے سایہ حاصل کرلے گی ایک اونٹنی کا دودھ لوگوں کی ایک جماعت کو اور ایک گائے کا دودھ ایک قبیلے کو اور ایک بکری کا دودھ ایک گھرانے کو کافی ہو گا۔ پھر ایک پاکیزہ ہوا چلے گی جو مسلمانوں کی بغلوں تلے سے نکل جائے گی اور ان کی روح قبض ہو جائے گی پھر روئے زمین پر بدترین شریر لوگ باقی رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح کودتے ہوں گے انہی پر قیامت قائم ہوگی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2937] ‏‏‏‏ امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن کہتے ہیں۔

(‏‏‏‏٣)‏‏‏‏‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بچھو نے کاٹ کھایا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی پر پٹی باندھے ہوئے خطبے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: { تم کہتے ہو اب دشمن نہیں ہیں لیکن تم تو دشمنوں سے جہاد کرتے ہی رہو گے یہاں تک کہ یاجوج ماجوج آئیں وہ چوڑے چہرے والے چھوٹی آنکھوں والے ان کے چہرے تہہ بہ تہہ ڈھالوں جیسے ہوں گے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:271/5:ضعیف] ‏‏‏‏

(‏‏‏‏٤)‏‏‏‏‏‏‏‏ یہ روایت سورۃ الٱعراف کی تفسیر کے آخر میں بیان کر دی گی ہے۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { معراج والی رات میں ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے روز قیامت کا مذکراہ شروع ہوا سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اس کے علم سے انکار کر دیا۔ اسی طرح موسیٰ علیہ السلام نے بھی ہاں عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ”اس کے واقع ہونے کے وقت تو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا ہاں مجھ سے میرے اللہ نے یہ تو فرمایا ہے کہ دجال نکلنے والا ہے۔ اس کے ساتھ دو ٹہنیاں ہوں گی۔ وہ مجھے دیکھتے ہی سیسے کی طرح پگلنے لگے گا یہاں تک کہ اللہ اسے ہلاک کر دے جب کہ وہ مجھے دیکھے یہاں تک کہ پتھر اور درخت بھی پکار اٹھیں گے کہ ”اے مسلم! یہ ہے میرے سایہ تلے کافر، آ اور اسے قتل کر۔‏‏‏‏“ پس اللہ انہیں ہلاک کرے گا اور لوگ اپنے شہروں اور وطنوں کی طرف لوٹ جائیں گے۔ اس وقت یاجوج ماجوج نکلیں گے جو ہر اونچائی سے پھدکتے آئیں گے جو پائیں گے تباہ کر دیں گے پانی جتنا پائیں گے پی جائیں گے لوگ پھر تنگ آ کر اپنوں وطنوں میں محصور ہو کر بیٹھ جائیں گے شکایت کریں گے تو میں پھر اللہ سے دعا کرونگا اللہ انہیں غارت کر دے ساری زمین پر ان کی بدبو پھیل جائے گی پھر بارش برسے گی اور پانی کا بہاؤ ان کے سڑے ہوئے جسموں کو گھسیٹ کر دریا برد کر دے گا۔ میرے رب نے مجھ سے فرما دیا ہے کہ ’ جب یہ سب کچھ ظہور میں آ جائے گا پھر تو قیامت کا ہونا ایسا ہی ہے جیسے پورے دنوں میں حمل والی عورت کا وضع ہونا ‘ کہ گھر والوں کو فکر ہوتی ہے کہ صبح بچہ ہوا یا شام ہوا دن کو ہوا یا رات کو ہوا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4081،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

اس کی تصدیق کلام اللہ شریف کی آیت میں موجود ہے اس بارے میں حدیثیں بکثرت ہیں اور آثار سلف بھی بہت ہیں۔ کعب رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”یاجوج ماجوج کے نکلنے کے وقت وہ دیوار کو کھودیں گے یہاں تک کہ ان کی کدالوں کی آواز پاس والے بھی سنیں گے رات ہو جائے گی ان میں سے ایک کہے گا کہ اب صبح آتے ہی اسے توڑ ڈالیں گے اور نکل کھڑے ہوں گے صبح یہ آئیں گے توجیسی کل تھی ویسی ہی آج بھی پائیں گے الغرض یونہی ہوتا رہے گا یہاں تک کہ ان کا نکالنا جب منظور ہو گا تو ایک شخص کی زبان سے نکلے گا کہ ہم کل ان شاءاللہ ایسے توڑ دیں گے اب جو آئیں گے تو جیسی چھوڑ گئے تھے ویسی ہی پائیں گے تو کھود کر توڑیں گے اور باہر نکل آئیں گے ان کا پہلا گروہ بحیرہ کے پاس سے نکلے گا سارا پانی پی جائے گا دوسرا آئے گا کیچڑ بھی چاٹ جائے گا تیسرا آئے گا تو کہے گا شاید یہاں کبھی پانی ہوگا؟ لوگ ان سے بھاگ بھاگ کر ادھر ادھر چھپ جائیں گے جب انہیں کوئی بھی نظر نہ پڑے گا تو یہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے وہاں سے وہ خون آلود واپس آئیں گے تو یہ فخر کریں گے کہ ہم زمین والوں پر اور آسمان والوں پر غالب آ گئے۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ان کے لیے بدعا کریں گے کہ اللہ ہم میں ان کے مقابلے کی طاقت نہیں اور زمین پر ہمارا چلنا پھرنا بھی ضروری ہے تو ہمیں جس طریقے سے چاہے ان سے نجات دے تو اللہ ان کو طاعون میں مبتلا کرے گا گلٹیاں نکل آئیں گی اور سارے کہ سارے مرجائیں گے۔ پھر ایک قسم کے پرند آئیں گے جو اپنی چونچ میں انہیں لے کر سمندر میں پھینک آئیں گے پھر اللہ تعالیٰ نہر حیات جاری کر دے گا جو زمین کو دھوکر پاک صاف کر دے گی اور زمین اپنی برکتیں نکال دے گی ایک انار ایک گھرانے کو کافی ہو گا اچانک ایک شخص آئے گا اور ندا کرے گا کہ ذوالسویقتین نکل آیا ہے۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سات آٹھ سولشکریوں کا طلایہ بھیجیں گے یہ ابھی راستے میں ہی ہوں گے کہ یمنی پاک ہوا نہایت لطافت سے چلے گی جو تمام مؤمنوں کی روح قبض کر جائے گی پھر تو روئے زمین پر ردی کھدی لوگ رہ جائے گے جو چوپایوں جیسے ہوں گے ان پر قیامت قائم ہوگی۔ اس وقت قیامت اس قدر قریب ہو گی جیسے پوری دنوں کی گھوڑی جو جننے کے قریب ہو اور گھوڑی والا اس کے آس پاس گھوم رہا ہو کہ کب بچہ ہو۔‏‏‏‏“ کعب رحمتہ اللہ یہ بیان فرما کر فرمانے لگے ”اب جو شخص میرے اس قول اور اس علم کے بعد بھی کچھ کہے اس نے تکلف کیا۔‏‏‏‏“ کعب رحمتہ اللہ کا یہ واقعہ بیان کرنا بہترین واقعہ ہے کیونکہ اس کی شہادت صحیح حدیث میں بھی پائی جاتی ہے۔ احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس زمانے میں بیت اللہ شریف کا حج بھی کریں گے۔ چنانچہ مسند امام احمد میں یہ حدیث مرفوعاً مروی ہے کہ { آپ علیہ السلام یاجوج ماجوج کے خروج کے بعد یقیناً بیت اللہ کا حج کریں گے }۔ یہ حدیث بخاری میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1513] ‏‏‏‏ جب یہ ہولناکیاں، جب یہ زلزلے، جب یہ بلائیں اور آفات آ جائیں گی تو اس وقت قیامت بالکل قریب آ جائے گی اسے دیکھ کر کافر کہنے لگیں گے یہ نہایت سخت دن ہے ان کی آنکھیں پھٹ جائیں گی اور کہنے لگیں گے ہائے ہم تو غفلت میں ہی رہے۔ ہائے ہم نے اپنا آپ بگاڑا۔ گناہوں کا اقرار اور اس پر شرمسار ہوں گا لیکن اب بے سود ہے۔
95۔ 1 جیسا کہ ترجمے میں واضح ہے۔ یا پھر لَا یَرْجِعُوْنَ میں لَا زائد ہے، یعنی جس بستی کو ہم نے ہلاک کردیا، اس کا دنیا میں پلٹ کر آنا حرام ہے۔
(آیت 95){وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ …: } اس آیت کے تین معنی ہو سکتے ہیں اور تینوں درست ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا اعجاز ہے کہ ایک آیت کئی معانی کی گنجائش رکھتی ہے۔ پہلے معنی کی صورت میں {” حَرٰمٌ “} کا معنی ”ممنوع“ اور ”ناممکن“ ہے اور {” لَا يَرْجِعُوْنَ “} میں {” لَا “} کا حرف زائد ہے، نفی کا معنی نہیں دے رہا، مگر بے فائدہ نہیں بلکہ{ ” حَرٰمٌ “ } کے معنی میں جو نفی پائی جاتی ہے اس میں زور پیدا کرنے کے لیے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر فرمایا: «‏‏‏‏مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ» ‏‏‏‏ [ صٓ: ۷۵ ] ”تجھے کس چیز نے روکا کہ تو سجدہ کرے؟“ دوسری جگہ فرمایا: «{ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ }» [ الأعراف: ۱۲ ] ”تجھے کس چیز نے روکا کہ تو سجدہ نہیں کرتا؟“ اس سے ظاہر ہے کہ {” اَلَّا تَسْجُدَ “} میں {” لاَ “} زائد ہے اور {” مَنَعَكَ “} کے معنی میں زور پیدا کرنے کے لیے ہے۔ اس معنی کے اعتبار سے آیت کا ترجمہ یہ ہو گا کہ جس بستی کو ہم ہلاک کر دیں ناممکن ہے کہ وہ (دنیا میں) واپس لوٹیں، جیسا کہ فرمایا: «{ اَلَمْ يَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَيْهِمْ لَا يَرْجِعُوْنَ }» [ یٰسٓ: ۳۱ ] ”کیا انھوں نے نہیں دیکھا، ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانوں کے لوگ ہلاک کر دیے کہ وہ ان کی طرف پلٹ کر نہیں آتے۔“ دوسرے معنی کی صورت میں {” حَرٰمٌ “ } کا معنی ”ممنوع“ اور ”ناممکن“ ہی ہو گا، مگر {” لَا يَرْجِعُوْنَ “} میں {” لَا “} نفی کے معنی میں ہو گا جو اس کا اصل ہے۔ اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہو گا کہ جس بستی کو ہم ہلاک کر دیں، ناممکن ہے کہ وہ (قیامت کے دن ہماری طرف) واپس نہ آئیں، بلکہ وہ ضرور ہماری طرف واپس لوٹیں گے۔ تیسرا معنی یہ ہے کہ یہاں {” حَرٰمٌ “} کا لفظ لازم اور واجب کے معنی میں ہے، جیسا کہ ابن کثیر نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل فرمایا ہے۔ مزید دیکھیے فتح الباری (۱۱؍۵۰۳) اس صورت میں معنی یہ ہے کہ جس بستی کو ہم ہلاک کر دیں لازم ہے کہ وہ (دنیا میں) واپس نہیں لوٹیں گے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس معنی کو ترجیح دی ہے۔ شاہ رفیع الدین اور شاہ عبد القادر رحمہما اللہ نے بھی اسی مفہوم کو اختیار فرمایا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو تینوں معنوں کا نتیجہ ایک ہی ہے، البتہ اس میں سے وہ لوگ مستثنیٰ ہوں گے جنھیں اللہ تعالیٰ نے مرنے کے بعد زندہ کرنے کا ذکر فرمایا ہے، مثلاً بنی اسرائیل کا مقتول جو گائے کا کوئی حصہ مارنے سے زندہ ہوا وغیرہ۔
حَتّٰۤی اِذَا فُتِحَتۡ یَاۡجُوۡجُ وَ مَاۡجُوۡجُ وَ ہُمۡ مِّنۡ کُلِّ حَدَبٍ یَّنۡسِلُوۡنَ ﴿۹۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہاں تک کہ جب یاجُوج و ماجُوج کھول دیے جائیں گے اور ہر بلندی سے وہ نکل پڑیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وه ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے
احمد رضا خان بریلوی
یہاں تک کہ جب کھولے جائیں گے یاجوج و ماجوج اور وہ ہر بلندی سے ڈھلکتے ہوں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہاں تک کہ جب یاجوج و ماجوج کھول دیئے جائیں گے تو وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے نکل پڑیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
یہاں تک کہ جب یاجوج اورماجوج کھول دیے جائیں گے اور وہ ہر اونچی جگہ سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یافت کی اولاد ٭٭

’ ہلاک شدہ لوگوں کا دنیا کی طرف پھر پلٹنا محال ہے ‘۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ’ ان کی توبہ مقبول نہیں ‘۔ لیکن پہلا قول اولیٰ ہے۔ یاجوج ماجوج نسل آدم سے ہیں۔ بلکہ وہ نوح علیہ السلام کے لڑکے یافت کی اولاد میں سے ہیں جن کی نسل ترک ہیں یہ بھی انہی کا ایک گروہ ہے یہ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی دیوار سے باہر ہی چھوڑ دیے گئے تھے۔ آپ نے دیوار بنا کر فرمایا تھا کہ یہ میرے رب کی رحمت ہے۔ اللہ کے وعدے کے وقت اس کا چورا چورا ہو جائے گا میرے رب کا وعدہ حق ہے الخ۔ یاجوج ماجوج قرب قیامت کے وقت وہاں سے نکل آئیں گے اور زمین میں فساد مچا دیں گے۔ ہر اونچی جگہ کو عربی میں «حدب» کہتے ہیں۔ ان کے نکلنے کے وقت ان کی یہی حالت ہوگی تو اس خبر کو اس طرح بیان کیا جیسے سننے والا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور واقع میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچی خبر کس کی ہوگی؟ جو غیب اور حاضر کا جاننے والا ہے۔ ہوچکی ہوئی اور ہونے والی باتوں سے آگاہ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لڑکوں کو اچھلتے کودتے کھیلتے دوڑتے ایک دوسروں کی چٹکیاں بھرتے ہوئے دیکھ کر فرمایا ”اسی طرح یاجوج ماجوج آئیں گے۔‏‏‏‏“ بہت سی احادیث میں ان کے نکلنے کا ذکر ہے۔

(‏‏‏‏١)‏‏‏‏‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { یاجوج ماجوج کھولے جائیں گے اور وہ لوگوں کے پاس پہنچیں گے جیسے اللہ عزوجل کا فرمان ہے آیت «وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:96] ‏‏‏‏ وہ چھاجائیں گے اور مسلمان اپنے شہروں اور قلعوں میں سمٹ آئیں گے اپنے جانورں کو بھی وہی لے لیں گے اور اپنا پانی انہیں پلاتے رہیں گے۔ یاجوج ماجوج جس نہر سے گزریں گے اس کا پانی صفا چٹ کر جائیں گے یہاں تک کہ اس میں خاک اڑنے لگے گی ان کی دوسری جماعت جب وہاں پہنچے گی تو وہ کہے گی شاید اس میں کسی زمانے میں پانی ہوگا۔ جب یہ دیکھیں گے کہ اب زمین پر کوئی نہ رہا اور واقع میں سوائے ان مسلمانوں کے جو اپنے شہروں اور قلعوں میں پناہ گزیں ہوں گے کوئی اور وہاں ہوگا بھی نہیں تو یہ کہیں گے کہ اب زمین والوں سے تم ہم فارغ ہو گئے آؤ آسمان والوں کی خبرلیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک شریر اپنا نیزہ گھما کر آسمان کی طرف پھینکے گا قدرت الٰہی سے وہ خون آلود ہو کر ان کے پاس گرے گا یہ بھی ایک قدرتی آزمائش ہو گی اب ان کی گردنوں میں گٹھلی ہو جائے گی اور اسی وبا میں یہ سارے کے سارے ایک ساتھ ایک دم مرجائیں گے ایک بھی باقی نہ رہے گا سارا شور و غل ختم ہو جائے گا مسلمان کہیں گے کوئی ہے جو اپنی جان ہم مسلمانوں کے لیے ہتھیلی پر رکھ کر شہرکے باہر جائے اور ان دشمنوں کو دیکھے کہ کس حال میں ہیں؟ چنانچہ ایک صاحب اس کے لیے تیار ہو جائیں گے اور اپنے آپ کو قتل شدہ سمجھ کر اللہ کی راہ میں مسلمانوں کی خدمت کے لیے نکل کھڑے ہوں گے دیکھیں گے کہ سب کا ڈھیرلگ رہا ہے سارے ہلاک شدہ پڑے ہوئے ہیں یہ اسی وقت ندا کرے گا کہ مسلمانو! خوش ہو جاؤ اللہ نے خود تمہارے دشمنوں کو غارت کر دیا یہ ڈھیر پڑا ہوا ہے اب مسلمان باہر آئیں گے اور اپنے مویشیوں کو بھی لائیں گے ان کے لیے چارہ بجز ان کے گوشت کے اور کچھ نہ ہو گا یہ ان کا گوشت کھا کھا کر خوب موٹے تازے ہو جائیں گے }۔۱؎ [سنن ابن ماجه:4079،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏‏‏‏

(‏‏‏‏٢)‏‏‏‏‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صبح ہی صبح دجال کا ذکر کیا اس طرح کہ ہم سمجھے شاید وہ ان درختوں کی آڑ میں ہے اور اب نکلا ہی چاہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے { مجھے دجال سے زیادہ خوف تم پر اور چیز کا ہے۔ اگر دجال میری موجودگی میں نکلا تو میں خود نمٹ لونگا تم میں سے ہر شخص اس سے بچے۔ میں تمہیں اللہ کی امان میں دے رہا ہوں۔ وہ جواں عمر الجھے ہوئے بالوں والا کانا اور ابھری ہوئی آنکھ والا ہے۔ وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور دائیں بائیں گھومے گا۔ ایک بندگاں الٰہی تم ثابت قدم رہنا }۔ ہم نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کتنا ٹھہرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { چالیس دن۔ ایک دن مثل ایک برس کے ایک دن مثل ایک مہینہ کے ایک دن مثل ایک جمعہ کے اور باقی دن معمولی دنوں جیسے }۔ ہم نے پوچھا یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو دن سال بھر کے برابر ہو گا اس میں ہمیں یہی پانچ نمازیں کافی ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں! تم اپنے اندازے سے وقت پر نماز پڑھتے رہا کرنا }۔ ہم نے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی رفتار کیسی ہوگی؟ فرمایا: { جیسے بادل کہ ہوا انہیں ادھر سے ادھر بھگائے لیے جاتی ہو۔ ایک قبیلے کے پاس جائے گا انہیں اپنی طرف بلائے گا وہ اس کی مان لیں گے۔ آسمان کو حکم دے گا کہ ان پر بارش برسائے زمین سے کہے گا کہ ان کے لیے پیداوار اگائے ان کے جانور ان کے پاس موٹے تازے بھرے پیٹ لوٹیں گے۔ ایک قبیلے کے پاس اپنے تئیں منوانا چاہے گا وہ انکار کر دیں گے یہ وہاں سے نکلے گا تو ان کے تمام مال اس کے پیچھے لگ جائیں گے وہ بالکل خالی ہاتھ رہ جائیں گے وہ غیر آباد جنگلوں میں جائے گا اور زمین سے کہے گا اپنے خزانے اگل دے وہ اگل دے گی اور سارے خزانے اس کے پیچھے ایسے چلیں گے جیسے شہد کی مکھیاں اپنے سردار کے پیچھے۔ یہ بھی دکھائے گا کہ ایک شخص کو تلوار سے ٹھیک دو ٹکرے کرا دے گا اور ادھرادھر دور دراز پھنکوا دے گا پھر اس کا نام لے کر آواز دے گا تو وہ زندہ چلتا پھرتا اس کے پاس آ جائے گا }۔

{ یہ اسی حال میں ہوگا جو اللہ عزوجل مسیح ابن مریم علیہ السلام کو اتارے گا۔ آپ علیہ السلام دمشق کی مشرقی طرف سفید منارے کے پاس اتریں گے اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے ہوں گے۔ آپ علیہ السلام اس کا پیچھا کریں گے اور مشرقی باب کے لد کے پاس اسے پا کر قتل کر دیں گے۔ پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی طرف اللہ کی وحی آئے گی میں اپنے ایسے بندوں کو بھیجتا ہوں جن سے لڑنے کی تم میں تاب وطاقت نہیں میرے بندوں کو طور کی طرف سمیٹ لے جا۔ پھر جناب باری یاجوج ماجوج کو بھیجے گا جیسے فرمایا آیت «وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ» ان سے تنگ آکر عیسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھی جناب باری میں دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر گٹھلی کی بیماری بھیجے گا جو ان کی گردن میں نکلے گی سارے کے سارے اوپر تلے ایک ساتھ ہی مرجائیں گے۔ تب عیسیٰ علیہ السلام مع مؤمنوں کے آئیں گے، دیکھیں گے کہ تمام زمین ان کی لاشوں سے پٹی پڑی ہے اور ان کی بدبوسے کھڑا نہیں ہوا جاتا۔ آپ علیہ السلام پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند بھیجے گا جو انہیں اللہ جانے کہاں پھینک آئیں گے؟ کعب رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہی «مہیل» میں یعنی سورج کے طلوع ہونے کی جگہ میں انہیں پھینک آئیں گے۔ پھر چالیس دن تک تمام زمین میں مسلسل بارش برسے گی، زمین دھل دھلا کر ہتھیلی کی طرح صاف ہو جائے گی پھر بحکم الٰہی اپنی برکتیں اگادے گی۔ اس دن ایک جماعت کی جماعت ایک انار سے سیر ہو جائے گی اور اس کے چھلکے تلے سایہ حاصل کرلے گی ایک اونٹنی کا دودھ لوگوں کی ایک جماعت کو اور ایک گائے کا دودھ ایک قبیلے کو اور ایک بکری کا دودھ ایک گھرانے کو کافی ہو گا۔ پھر ایک پاکیزہ ہوا چلے گی جو مسلمانوں کی بغلوں تلے سے نکل جائے گی اور ان کی روح قبض ہو جائے گی پھر روئے زمین پر بدترین شریر لوگ باقی رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح کودتے ہوں گے انہی پر قیامت قائم ہوگی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2937] ‏‏‏‏ امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن کہتے ہیں۔

(‏‏‏‏٣)‏‏‏‏‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بچھو نے کاٹ کھایا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی پر پٹی باندھے ہوئے خطبے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: { تم کہتے ہو اب دشمن نہیں ہیں لیکن تم تو دشمنوں سے جہاد کرتے ہی رہو گے یہاں تک کہ یاجوج ماجوج آئیں وہ چوڑے چہرے والے چھوٹی آنکھوں والے ان کے چہرے تہہ بہ تہہ ڈھالوں جیسے ہوں گے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:271/5:ضعیف] ‏‏‏‏

(‏‏‏‏٤)‏‏‏‏‏‏‏‏ یہ روایت سورۃ الٱعراف کی تفسیر کے آخر میں بیان کر دی گی ہے۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { معراج والی رات میں ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے روز قیامت کا مذکراہ شروع ہوا سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اس کے علم سے انکار کر دیا۔ اسی طرح موسیٰ علیہ السلام نے بھی ہاں عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ”اس کے واقع ہونے کے وقت تو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا ہاں مجھ سے میرے اللہ نے یہ تو فرمایا ہے کہ دجال نکلنے والا ہے۔ اس کے ساتھ دو ٹہنیاں ہوں گی۔ وہ مجھے دیکھتے ہی سیسے کی طرح پگلنے لگے گا یہاں تک کہ اللہ اسے ہلاک کر دے جب کہ وہ مجھے دیکھے یہاں تک کہ پتھر اور درخت بھی پکار اٹھیں گے کہ ”اے مسلم! یہ ہے میرے سایہ تلے کافر، آ اور اسے قتل کر۔‏‏‏‏“ پس اللہ انہیں ہلاک کرے گا اور لوگ اپنے شہروں اور وطنوں کی طرف لوٹ جائیں گے۔ اس وقت یاجوج ماجوج نکلیں گے جو ہر اونچائی سے پھدکتے آئیں گے جو پائیں گے تباہ کر دیں گے پانی جتنا پائیں گے پی جائیں گے لوگ پھر تنگ آ کر اپنوں وطنوں میں محصور ہو کر بیٹھ جائیں گے شکایت کریں گے تو میں پھر اللہ سے دعا کرونگا اللہ انہیں غارت کر دے ساری زمین پر ان کی بدبو پھیل جائے گی پھر بارش برسے گی اور پانی کا بہاؤ ان کے سڑے ہوئے جسموں کو گھسیٹ کر دریا برد کر دے گا۔ میرے رب نے مجھ سے فرما دیا ہے کہ ’ جب یہ سب کچھ ظہور میں آ جائے گا پھر تو قیامت کا ہونا ایسا ہی ہے جیسے پورے دنوں میں حمل والی عورت کا وضع ہونا ‘ کہ گھر والوں کو فکر ہوتی ہے کہ صبح بچہ ہوا یا شام ہوا دن کو ہوا یا رات کو ہوا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4081،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

اس کی تصدیق کلام اللہ شریف کی آیت میں موجود ہے اس بارے میں حدیثیں بکثرت ہیں اور آثار سلف بھی بہت ہیں۔ کعب رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”یاجوج ماجوج کے نکلنے کے وقت وہ دیوار کو کھودیں گے یہاں تک کہ ان کی کدالوں کی آواز پاس والے بھی سنیں گے رات ہو جائے گی ان میں سے ایک کہے گا کہ اب صبح آتے ہی اسے توڑ ڈالیں گے اور نکل کھڑے ہوں گے صبح یہ آئیں گے توجیسی کل تھی ویسی ہی آج بھی پائیں گے الغرض یونہی ہوتا رہے گا یہاں تک کہ ان کا نکالنا جب منظور ہو گا تو ایک شخص کی زبان سے نکلے گا کہ ہم کل ان شاءاللہ ایسے توڑ دیں گے اب جو آئیں گے تو جیسی چھوڑ گئے تھے ویسی ہی پائیں گے تو کھود کر توڑیں گے اور باہر نکل آئیں گے ان کا پہلا گروہ بحیرہ کے پاس سے نکلے گا سارا پانی پی جائے گا دوسرا آئے گا کیچڑ بھی چاٹ جائے گا تیسرا آئے گا تو کہے گا شاید یہاں کبھی پانی ہوگا؟ لوگ ان سے بھاگ بھاگ کر ادھر ادھر چھپ جائیں گے جب انہیں کوئی بھی نظر نہ پڑے گا تو یہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے وہاں سے وہ خون آلود واپس آئیں گے تو یہ فخر کریں گے کہ ہم زمین والوں پر اور آسمان والوں پر غالب آ گئے۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ان کے لیے بدعا کریں گے کہ اللہ ہم میں ان کے مقابلے کی طاقت نہیں اور زمین پر ہمارا چلنا پھرنا بھی ضروری ہے تو ہمیں جس طریقے سے چاہے ان سے نجات دے تو اللہ ان کو طاعون میں مبتلا کرے گا گلٹیاں نکل آئیں گی اور سارے کہ سارے مرجائیں گے۔ پھر ایک قسم کے پرند آئیں گے جو اپنی چونچ میں انہیں لے کر سمندر میں پھینک آئیں گے پھر اللہ تعالیٰ نہر حیات جاری کر دے گا جو زمین کو دھوکر پاک صاف کر دے گی اور زمین اپنی برکتیں نکال دے گی ایک انار ایک گھرانے کو کافی ہو گا اچانک ایک شخص آئے گا اور ندا کرے گا کہ ذوالسویقتین نکل آیا ہے۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سات آٹھ سولشکریوں کا طلایہ بھیجیں گے یہ ابھی راستے میں ہی ہوں گے کہ یمنی پاک ہوا نہایت لطافت سے چلے گی جو تمام مؤمنوں کی روح قبض کر جائے گی پھر تو روئے زمین پر ردی کھدی لوگ رہ جائے گے جو چوپایوں جیسے ہوں گے ان پر قیامت قائم ہوگی۔ اس وقت قیامت اس قدر قریب ہو گی جیسے پوری دنوں کی گھوڑی جو جننے کے قریب ہو اور گھوڑی والا اس کے آس پاس گھوم رہا ہو کہ کب بچہ ہو۔‏‏‏‏“ کعب رحمتہ اللہ یہ بیان فرما کر فرمانے لگے ”اب جو شخص میرے اس قول اور اس علم کے بعد بھی کچھ کہے اس نے تکلف کیا۔‏‏‏‏“ کعب رحمتہ اللہ کا یہ واقعہ بیان کرنا بہترین واقعہ ہے کیونکہ اس کی شہادت صحیح حدیث میں بھی پائی جاتی ہے۔ احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس زمانے میں بیت اللہ شریف کا حج بھی کریں گے۔ چنانچہ مسند امام احمد میں یہ حدیث مرفوعاً مروی ہے کہ { آپ علیہ السلام یاجوج ماجوج کے خروج کے بعد یقیناً بیت اللہ کا حج کریں گے }۔ یہ حدیث بخاری میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1513] ‏‏‏‏ جب یہ ہولناکیاں، جب یہ زلزلے، جب یہ بلائیں اور آفات آ جائیں گی تو اس وقت قیامت بالکل قریب آ جائے گی اسے دیکھ کر کافر کہنے لگیں گے یہ نہایت سخت دن ہے ان کی آنکھیں پھٹ جائیں گی اور کہنے لگیں گے ہائے ہم تو غفلت میں ہی رہے۔ ہائے ہم نے اپنا آپ بگاڑا۔ گناہوں کا اقرار اور اس پر شرمسار ہوں گا لیکن اب بے سود ہے۔
96۔ 1 یاجوج ماجوج کی ضروری تفصیل سورة کہف کے آخر میں گزر چکی ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی موجودگی میں قیامت کے قریب ان کا ظہور ہوگا اور اتنی تیزی اور کثرت سے یہ ہر طرف پھیل جائیں گے کہ ہر اونچی جگہ یہ دوڑتے ہوئے محسوس ہونگے۔ ان کی فساد انگیزیوں اور شرارتوں سے اہل ایمان تنگ آجائیں گے حتٰی کی حضرت عیسیٰ ؑ اہل ایمان کو ساتھ کوہ طور پر پناہ گزیں ہوجائیں گے، پھر حضرت عیسیٰ ؑ کی بد دعا سے یہ ہلاک ہوجائیں گے اور ان کی لاشوں کی سڑاند اور بدبو ہر طرف پھیلی ہوگی، حتٰی کہ اللہ تعالیٰ پرندے بھیجے گا جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیں گے پھر ایک زور دار بارش نازل فرمائے گا، جس سے ساری زمین صاف ہو جائیگی۔ (یہ ساری تفصیلات صحیح حدیث میں بیان کی گئی ہیں تفصیل کے لئے تفسیر ابن کثیر ملاحطہ ہو)
(آیت 96){حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ يَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ …: ” حَدَبٍ “} زمین کا ابھرا ہوا حصہ، اونچی جگہ، جیسے کسی کی پیٹھ ابھری ہوئی ہو تو اسے {”حَدَبَةُ الظَّهْرِ“} کہتے ہیں۔ {”نَسَلَ“} (ض، ن) قریب قریب قدم رکھ کر نیچے کی طرف تیز دوڑنا، یعنی ہلاک ہونے والی بستیوں کے لوگوں کا دوبارہ زندہ ہونا اس وقت تک ناممکن رہے گا جب تک قیامت قائم نہ ہو، جس کی بالکل قریب نشانیوں میں سے ایک یاجوج ماجوج کا نکلنا بھی ہے۔ ان کے نکلنے کے بعد بہت جلد قیامت قائم ہو جائے گی۔ حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”ایک دفعہ ہم آپس میں قیامت کے بارے میں باتیں کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تم آپس میں کیا ذکر کر رہے ہو۔“ انھوں نے کہا: ”ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّهَا لَنْ تَقُوْمَ حَتّٰی تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ، فَذَكَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ، وَالدَّابَّةَ، وَطُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَّغْرِبِهَا، وَنُزُوْلَ عِيْسَی ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَأْجُوْجَ وَمَأْجُوْجَ، وَثَلاَثَةَ خُسُوْفٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيْرَةِ الْعَرَبِ، وَآخِرُ ذٰلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلٰی مَحْشَرِهِمْ ] [ مسلم، الفتن، باب في الآیات التی تکون قبل الساعۃ: ۲۹۰۱ ] ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔“ پھر آپ نے دخان (دھوئیں)، دجال، دابۃ الارض، سورج کے مغرب سے طلوع ہونے، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول، یاجوج ماجوج اور تین خسوف (زمین میں دھنس جا نے) کا ذکر فرمایا۔ ایک خسف مشرق میں، ایک خسف مغرب میں اور ایک خسف جزیرۂ عرب میں ہو گا اور ان کے آخر میں ایک آگ یمن سے نکلے گی جو لوگوں کو ان کے حشر کی جگہ کی طرف ہانکے گی۔“ یاجوج ماجوج کے کھولے جانے سے مراد قیامت کے قریب اس دیوار کا ٹوٹنا ہے جو ذوالقرنین نے لوگوں کو یاجوج ماجوج کی غارت گری سے بچانے کے لیے بنائی تھی۔ اس وقت ان کے نکلنے کا نقشہ بیان ہوا ہے کہ وہ اتنی کثرت اور تیزی سے نکلیں گے کہ ہر بلندی و پستی پر چھا جائیں گے، کسی میں ان کے مقابلے کی طاقت نہ ہو گی۔ [ مسلم، الفتن، باب ذکر الدجال: ۲۹۳۷ ] یاجوج ماجوج کی تفصیل سورۂ کہف (۹۳ تا ۹۹) کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
وَ اقۡتَرَبَ الۡوَعۡدُ الۡحَقُّ فَاِذَا ہِیَ شَاخِصَۃٌ اَبۡصَارُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ یٰوَیۡلَنَا قَدۡ کُنَّا فِیۡ غَفۡلَۃٍ مِّنۡ ہٰذَا بَلۡ کُنَّا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۹۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وعدہ برحق کے پورا ہونے کا وقت قریب آ لگے گا تو یکا یک اُن لوگوں کے دیدے پھٹے کے پھٹے رہ جائیں گے جنہوں نے کفر کیا تھا کہیں گے "ہائے ہماری کم بختی، ہم اِس چیز کی طرف سے غفلت میں پڑے ہوئے تھے، بلکہ ہم خطا کار تھے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور سچا وعده قریب آلگے گا اس وقت کافروں کی نگاہیں پھٹی کی پھٹی ره جائیں گی، کہ ہائے افسوس! ہم اس حال سے غافل تھے بلکہ فی الواقع ہم قصور وار تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور قریب آیا سچا وعدہ تو جبھی آنکھیں پھٹ کر رہ جائیں گی کافروں کی کہ ہائے ہماری خرابی بیشک ہم اس سے غفلت میں تھے بلکہ ہم ظالم تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور (جب) اللہ کا سچا وعدہ (قیامت کا) قریب آجائے گا تو ایک دم کافروں کی آنکھیں پھٹی رہ جائیں گی (اور کہیں گے) ہائے افسوس! ہم اس سے غفلت میں رہے بلکہ ہم ظالم تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور سچا وعدہ بالکل قریب آجائے گا تو اچانک یہ ہو گا کہ ان لوگوں کی آنکھیں کھلی رہ جائیں گی جنھوں نے کفر کیا۔ ہائے ہماری بربادی! بے شک ہم اس سے غفلت میں تھے، بلکہ ہم ظلم کرنے والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یافت کی اولاد ٭٭

’ ہلاک شدہ لوگوں کا دنیا کی طرف پھر پلٹنا محال ہے ‘۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ’ ان کی توبہ مقبول نہیں ‘۔ لیکن پہلا قول اولیٰ ہے۔ یاجوج ماجوج نسل آدم سے ہیں۔ بلکہ وہ نوح علیہ السلام کے لڑکے یافت کی اولاد میں سے ہیں جن کی نسل ترک ہیں یہ بھی انہی کا ایک گروہ ہے یہ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی دیوار سے باہر ہی چھوڑ دیے گئے تھے۔ آپ نے دیوار بنا کر فرمایا تھا کہ یہ میرے رب کی رحمت ہے۔ اللہ کے وعدے کے وقت اس کا چورا چورا ہو جائے گا میرے رب کا وعدہ حق ہے الخ۔ یاجوج ماجوج قرب قیامت کے وقت وہاں سے نکل آئیں گے اور زمین میں فساد مچا دیں گے۔ ہر اونچی جگہ کو عربی میں «حدب» کہتے ہیں۔ ان کے نکلنے کے وقت ان کی یہی حالت ہوگی تو اس خبر کو اس طرح بیان کیا جیسے سننے والا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور واقع میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچی خبر کس کی ہوگی؟ جو غیب اور حاضر کا جاننے والا ہے۔ ہوچکی ہوئی اور ہونے والی باتوں سے آگاہ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لڑکوں کو اچھلتے کودتے کھیلتے دوڑتے ایک دوسروں کی چٹکیاں بھرتے ہوئے دیکھ کر فرمایا ”اسی طرح یاجوج ماجوج آئیں گے۔‏‏‏‏“ بہت سی احادیث میں ان کے نکلنے کا ذکر ہے۔

(‏‏‏‏١)‏‏‏‏‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { یاجوج ماجوج کھولے جائیں گے اور وہ لوگوں کے پاس پہنچیں گے جیسے اللہ عزوجل کا فرمان ہے آیت «وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:96] ‏‏‏‏ وہ چھاجائیں گے اور مسلمان اپنے شہروں اور قلعوں میں سمٹ آئیں گے اپنے جانورں کو بھی وہی لے لیں گے اور اپنا پانی انہیں پلاتے رہیں گے۔ یاجوج ماجوج جس نہر سے گزریں گے اس کا پانی صفا چٹ کر جائیں گے یہاں تک کہ اس میں خاک اڑنے لگے گی ان کی دوسری جماعت جب وہاں پہنچے گی تو وہ کہے گی شاید اس میں کسی زمانے میں پانی ہوگا۔ جب یہ دیکھیں گے کہ اب زمین پر کوئی نہ رہا اور واقع میں سوائے ان مسلمانوں کے جو اپنے شہروں اور قلعوں میں پناہ گزیں ہوں گے کوئی اور وہاں ہوگا بھی نہیں تو یہ کہیں گے کہ اب زمین والوں سے تم ہم فارغ ہو گئے آؤ آسمان والوں کی خبرلیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک شریر اپنا نیزہ گھما کر آسمان کی طرف پھینکے گا قدرت الٰہی سے وہ خون آلود ہو کر ان کے پاس گرے گا یہ بھی ایک قدرتی آزمائش ہو گی اب ان کی گردنوں میں گٹھلی ہو جائے گی اور اسی وبا میں یہ سارے کے سارے ایک ساتھ ایک دم مرجائیں گے ایک بھی باقی نہ رہے گا سارا شور و غل ختم ہو جائے گا مسلمان کہیں گے کوئی ہے جو اپنی جان ہم مسلمانوں کے لیے ہتھیلی پر رکھ کر شہرکے باہر جائے اور ان دشمنوں کو دیکھے کہ کس حال میں ہیں؟ چنانچہ ایک صاحب اس کے لیے تیار ہو جائیں گے اور اپنے آپ کو قتل شدہ سمجھ کر اللہ کی راہ میں مسلمانوں کی خدمت کے لیے نکل کھڑے ہوں گے دیکھیں گے کہ سب کا ڈھیرلگ رہا ہے سارے ہلاک شدہ پڑے ہوئے ہیں یہ اسی وقت ندا کرے گا کہ مسلمانو! خوش ہو جاؤ اللہ نے خود تمہارے دشمنوں کو غارت کر دیا یہ ڈھیر پڑا ہوا ہے اب مسلمان باہر آئیں گے اور اپنے مویشیوں کو بھی لائیں گے ان کے لیے چارہ بجز ان کے گوشت کے اور کچھ نہ ہو گا یہ ان کا گوشت کھا کھا کر خوب موٹے تازے ہو جائیں گے }۔۱؎ [سنن ابن ماجه:4079،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏‏‏‏

(‏‏‏‏٢)‏‏‏‏‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صبح ہی صبح دجال کا ذکر کیا اس طرح کہ ہم سمجھے شاید وہ ان درختوں کی آڑ میں ہے اور اب نکلا ہی چاہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے { مجھے دجال سے زیادہ خوف تم پر اور چیز کا ہے۔ اگر دجال میری موجودگی میں نکلا تو میں خود نمٹ لونگا تم میں سے ہر شخص اس سے بچے۔ میں تمہیں اللہ کی امان میں دے رہا ہوں۔ وہ جواں عمر الجھے ہوئے بالوں والا کانا اور ابھری ہوئی آنکھ والا ہے۔ وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور دائیں بائیں گھومے گا۔ ایک بندگاں الٰہی تم ثابت قدم رہنا }۔ ہم نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کتنا ٹھہرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { چالیس دن۔ ایک دن مثل ایک برس کے ایک دن مثل ایک مہینہ کے ایک دن مثل ایک جمعہ کے اور باقی دن معمولی دنوں جیسے }۔ ہم نے پوچھا یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو دن سال بھر کے برابر ہو گا اس میں ہمیں یہی پانچ نمازیں کافی ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں! تم اپنے اندازے سے وقت پر نماز پڑھتے رہا کرنا }۔ ہم نے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی رفتار کیسی ہوگی؟ فرمایا: { جیسے بادل کہ ہوا انہیں ادھر سے ادھر بھگائے لیے جاتی ہو۔ ایک قبیلے کے پاس جائے گا انہیں اپنی طرف بلائے گا وہ اس کی مان لیں گے۔ آسمان کو حکم دے گا کہ ان پر بارش برسائے زمین سے کہے گا کہ ان کے لیے پیداوار اگائے ان کے جانور ان کے پاس موٹے تازے بھرے پیٹ لوٹیں گے۔ ایک قبیلے کے پاس اپنے تئیں منوانا چاہے گا وہ انکار کر دیں گے یہ وہاں سے نکلے گا تو ان کے تمام مال اس کے پیچھے لگ جائیں گے وہ بالکل خالی ہاتھ رہ جائیں گے وہ غیر آباد جنگلوں میں جائے گا اور زمین سے کہے گا اپنے خزانے اگل دے وہ اگل دے گی اور سارے خزانے اس کے پیچھے ایسے چلیں گے جیسے شہد کی مکھیاں اپنے سردار کے پیچھے۔ یہ بھی دکھائے گا کہ ایک شخص کو تلوار سے ٹھیک دو ٹکرے کرا دے گا اور ادھرادھر دور دراز پھنکوا دے گا پھر اس کا نام لے کر آواز دے گا تو وہ زندہ چلتا پھرتا اس کے پاس آ جائے گا }۔

{ یہ اسی حال میں ہوگا جو اللہ عزوجل مسیح ابن مریم علیہ السلام کو اتارے گا۔ آپ علیہ السلام دمشق کی مشرقی طرف سفید منارے کے پاس اتریں گے اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے ہوں گے۔ آپ علیہ السلام اس کا پیچھا کریں گے اور مشرقی باب کے لد کے پاس اسے پا کر قتل کر دیں گے۔ پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی طرف اللہ کی وحی آئے گی میں اپنے ایسے بندوں کو بھیجتا ہوں جن سے لڑنے کی تم میں تاب وطاقت نہیں میرے بندوں کو طور کی طرف سمیٹ لے جا۔ پھر جناب باری یاجوج ماجوج کو بھیجے گا جیسے فرمایا آیت «وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ» ان سے تنگ آکر عیسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھی جناب باری میں دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر گٹھلی کی بیماری بھیجے گا جو ان کی گردن میں نکلے گی سارے کے سارے اوپر تلے ایک ساتھ ہی مرجائیں گے۔ تب عیسیٰ علیہ السلام مع مؤمنوں کے آئیں گے، دیکھیں گے کہ تمام زمین ان کی لاشوں سے پٹی پڑی ہے اور ان کی بدبوسے کھڑا نہیں ہوا جاتا۔ آپ علیہ السلام پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند بھیجے گا جو انہیں اللہ جانے کہاں پھینک آئیں گے؟ کعب رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہی «مہیل» میں یعنی سورج کے طلوع ہونے کی جگہ میں انہیں پھینک آئیں گے۔ پھر چالیس دن تک تمام زمین میں مسلسل بارش برسے گی، زمین دھل دھلا کر ہتھیلی کی طرح صاف ہو جائے گی پھر بحکم الٰہی اپنی برکتیں اگادے گی۔ اس دن ایک جماعت کی جماعت ایک انار سے سیر ہو جائے گی اور اس کے چھلکے تلے سایہ حاصل کرلے گی ایک اونٹنی کا دودھ لوگوں کی ایک جماعت کو اور ایک گائے کا دودھ ایک قبیلے کو اور ایک بکری کا دودھ ایک گھرانے کو کافی ہو گا۔ پھر ایک پاکیزہ ہوا چلے گی جو مسلمانوں کی بغلوں تلے سے نکل جائے گی اور ان کی روح قبض ہو جائے گی پھر روئے زمین پر بدترین شریر لوگ باقی رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح کودتے ہوں گے انہی پر قیامت قائم ہوگی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2937] ‏‏‏‏ امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن کہتے ہیں۔

(‏‏‏‏٣)‏‏‏‏‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بچھو نے کاٹ کھایا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی پر پٹی باندھے ہوئے خطبے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: { تم کہتے ہو اب دشمن نہیں ہیں لیکن تم تو دشمنوں سے جہاد کرتے ہی رہو گے یہاں تک کہ یاجوج ماجوج آئیں وہ چوڑے چہرے والے چھوٹی آنکھوں والے ان کے چہرے تہہ بہ تہہ ڈھالوں جیسے ہوں گے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:271/5:ضعیف] ‏‏‏‏

(‏‏‏‏٤)‏‏‏‏‏‏‏‏ یہ روایت سورۃ الٱعراف کی تفسیر کے آخر میں بیان کر دی گی ہے۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { معراج والی رات میں ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے روز قیامت کا مذکراہ شروع ہوا سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اس کے علم سے انکار کر دیا۔ اسی طرح موسیٰ علیہ السلام نے بھی ہاں عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ”اس کے واقع ہونے کے وقت تو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا ہاں مجھ سے میرے اللہ نے یہ تو فرمایا ہے کہ دجال نکلنے والا ہے۔ اس کے ساتھ دو ٹہنیاں ہوں گی۔ وہ مجھے دیکھتے ہی سیسے کی طرح پگلنے لگے گا یہاں تک کہ اللہ اسے ہلاک کر دے جب کہ وہ مجھے دیکھے یہاں تک کہ پتھر اور درخت بھی پکار اٹھیں گے کہ ”اے مسلم! یہ ہے میرے سایہ تلے کافر، آ اور اسے قتل کر۔‏‏‏‏“ پس اللہ انہیں ہلاک کرے گا اور لوگ اپنے شہروں اور وطنوں کی طرف لوٹ جائیں گے۔ اس وقت یاجوج ماجوج نکلیں گے جو ہر اونچائی سے پھدکتے آئیں گے جو پائیں گے تباہ کر دیں گے پانی جتنا پائیں گے پی جائیں گے لوگ پھر تنگ آ کر اپنوں وطنوں میں محصور ہو کر بیٹھ جائیں گے شکایت کریں گے تو میں پھر اللہ سے دعا کرونگا اللہ انہیں غارت کر دے ساری زمین پر ان کی بدبو پھیل جائے گی پھر بارش برسے گی اور پانی کا بہاؤ ان کے سڑے ہوئے جسموں کو گھسیٹ کر دریا برد کر دے گا۔ میرے رب نے مجھ سے فرما دیا ہے کہ ’ جب یہ سب کچھ ظہور میں آ جائے گا پھر تو قیامت کا ہونا ایسا ہی ہے جیسے پورے دنوں میں حمل والی عورت کا وضع ہونا ‘ کہ گھر والوں کو فکر ہوتی ہے کہ صبح بچہ ہوا یا شام ہوا دن کو ہوا یا رات کو ہوا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4081،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

اس کی تصدیق کلام اللہ شریف کی آیت میں موجود ہے اس بارے میں حدیثیں بکثرت ہیں اور آثار سلف بھی بہت ہیں۔ کعب رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”یاجوج ماجوج کے نکلنے کے وقت وہ دیوار کو کھودیں گے یہاں تک کہ ان کی کدالوں کی آواز پاس والے بھی سنیں گے رات ہو جائے گی ان میں سے ایک کہے گا کہ اب صبح آتے ہی اسے توڑ ڈالیں گے اور نکل کھڑے ہوں گے صبح یہ آئیں گے توجیسی کل تھی ویسی ہی آج بھی پائیں گے الغرض یونہی ہوتا رہے گا یہاں تک کہ ان کا نکالنا جب منظور ہو گا تو ایک شخص کی زبان سے نکلے گا کہ ہم کل ان شاءاللہ ایسے توڑ دیں گے اب جو آئیں گے تو جیسی چھوڑ گئے تھے ویسی ہی پائیں گے تو کھود کر توڑیں گے اور باہر نکل آئیں گے ان کا پہلا گروہ بحیرہ کے پاس سے نکلے گا سارا پانی پی جائے گا دوسرا آئے گا کیچڑ بھی چاٹ جائے گا تیسرا آئے گا تو کہے گا شاید یہاں کبھی پانی ہوگا؟ لوگ ان سے بھاگ بھاگ کر ادھر ادھر چھپ جائیں گے جب انہیں کوئی بھی نظر نہ پڑے گا تو یہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے وہاں سے وہ خون آلود واپس آئیں گے تو یہ فخر کریں گے کہ ہم زمین والوں پر اور آسمان والوں پر غالب آ گئے۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ان کے لیے بدعا کریں گے کہ اللہ ہم میں ان کے مقابلے کی طاقت نہیں اور زمین پر ہمارا چلنا پھرنا بھی ضروری ہے تو ہمیں جس طریقے سے چاہے ان سے نجات دے تو اللہ ان کو طاعون میں مبتلا کرے گا گلٹیاں نکل آئیں گی اور سارے کہ سارے مرجائیں گے۔ پھر ایک قسم کے پرند آئیں گے جو اپنی چونچ میں انہیں لے کر سمندر میں پھینک آئیں گے پھر اللہ تعالیٰ نہر حیات جاری کر دے گا جو زمین کو دھوکر پاک صاف کر دے گی اور زمین اپنی برکتیں نکال دے گی ایک انار ایک گھرانے کو کافی ہو گا اچانک ایک شخص آئے گا اور ندا کرے گا کہ ذوالسویقتین نکل آیا ہے۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سات آٹھ سولشکریوں کا طلایہ بھیجیں گے یہ ابھی راستے میں ہی ہوں گے کہ یمنی پاک ہوا نہایت لطافت سے چلے گی جو تمام مؤمنوں کی روح قبض کر جائے گی پھر تو روئے زمین پر ردی کھدی لوگ رہ جائے گے جو چوپایوں جیسے ہوں گے ان پر قیامت قائم ہوگی۔ اس وقت قیامت اس قدر قریب ہو گی جیسے پوری دنوں کی گھوڑی جو جننے کے قریب ہو اور گھوڑی والا اس کے آس پاس گھوم رہا ہو کہ کب بچہ ہو۔‏‏‏‏“ کعب رحمتہ اللہ یہ بیان فرما کر فرمانے لگے ”اب جو شخص میرے اس قول اور اس علم کے بعد بھی کچھ کہے اس نے تکلف کیا۔‏‏‏‏“ کعب رحمتہ اللہ کا یہ واقعہ بیان کرنا بہترین واقعہ ہے کیونکہ اس کی شہادت صحیح حدیث میں بھی پائی جاتی ہے۔ احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس زمانے میں بیت اللہ شریف کا حج بھی کریں گے۔ چنانچہ مسند امام احمد میں یہ حدیث مرفوعاً مروی ہے کہ { آپ علیہ السلام یاجوج ماجوج کے خروج کے بعد یقیناً بیت اللہ کا حج کریں گے }۔ یہ حدیث بخاری میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1513] ‏‏‏‏ جب یہ ہولناکیاں، جب یہ زلزلے، جب یہ بلائیں اور آفات آ جائیں گی تو اس وقت قیامت بالکل قریب آ جائے گی اسے دیکھ کر کافر کہنے لگیں گے یہ نہایت سخت دن ہے ان کی آنکھیں پھٹ جائیں گی اور کہنے لگیں گے ہائے ہم تو غفلت میں ہی رہے۔ ہائے ہم نے اپنا آپ بگاڑا۔ گناہوں کا اقرار اور اس پر شرمسار ہوں گا لیکن اب بے سود ہے۔
97۔ 1 یعنی یاجوج ماجوج کے خروج کے بعد قیامت کا وعدہ، جو برحق ہے، بالکل قریب آجائے گا اور جب یہ قیامت برپا ہوجائے گی شدت ہولناکی کی وجہ سے کافروں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔
(آیت 97) ➊ {وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ:اقْتَرَبَ”قَرِبَ“ } میں ہمزہ اور تاء کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہو گیا، یعنی بہت یا بالکل قریب ہو گیا۔ ”سچے وعدے“ سے مراد قیامت ہے۔ یاجوج ماجوج کی ہلاکت کے بعد مسیح علیہ السلام مسلمانوں کو لے کر پہاڑ سے اتریں گے، پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو زمین کی بے شمار برکتیں عطا فرمائے گا۔ صحیح مسلم (۲۹۳۷) میں ہے کہ وہ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک طیب ہوا ان کی بغلوں کے نیچے بھیجے گا، جو ہر مومن کی روح قبض کر لے گی اور بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے، جو شہوت رانی کے لیے گدھوں کی طرح ایک دوسرے پر چڑھیں گے، انھی پر قیامت قائم ہو گی۔ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں: [ لاَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلٰی شِرَارِ الْخَلْقِ هُمْ شَرٌّ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ لاَ يَدْعُوْنَ اللّٰهَ بِشَيْءٍ إِلَّا رَدَّهُ عَلَيْهِمْ ] [ مسلم، الإمارۃ، باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم : لا تزال طائفۃ من أمتی…: ۱۹۲۴ ] ”قیامت ان لوگوں پر قائم ہو گی جو اللہ کی مخلوق میں سے بدترین لوگ ہوں گے، وہ جاہلیت والوں سے بھی بدتر ہوں گے اور اللہ تعالیٰ سے جو بھی مانگیں گے اللہ تعالیٰ انھیں وہ چیز دے دے گا۔“ ➋ { فَاِذَا هِيَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا: ”شُخُوْصٌ“} کا معنی حیرت یا خوف سے کھلا رہ جانا ہے، یعنی قیامت کا منظر دیکھ کر اس وقت تمام موجود لوگوں کی، جو بدترین کافر ہوں گے، آنکھیں کھلی رہ جائیں گی۔ اس کی ہم معنی آیت: «{ وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيْهِ الْاَبْصَارُ (32) مُهْطِعِيْنَ مُقْنِعِيْ رُءُوْسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَ اَفْـِٕدَتُهُمْ هَوَآءٌ}» [ إبراھیم: ۴۲، ۴۳ ] ”اور تو اللہ کو ہرگز اس سے غافل گمان نہ کر جو ظالم لوگ کر رہے ہیں، وہ تو انھیں صرف اس دن کے لیے مہلت دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی رہ جائیں گی۔ اس حال میں کہ تیز دوڑنے والے، اپنے سروں کو اوپر اٹھانے والے ہوں گے، ان کی نگاہ ان کی طرف نہیں لوٹے گی اور ان کے دل خالی ہوں گے۔“ ➌ {يٰوَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِيْنَ:} اس وقت وہ اپنی بربادی اور ہلاکت کو آواز دیں گے اور پہلے غفلت کا عذر کریں گے، پھر خود ہی صاف اعتراف کریں گے کہ انبیاء نے ہمیں اس دن سے خبردار کیا تھا، اس لیے ہم غافل نہیں بلکہ اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔ دیکھیے سورۂ ملک (۵ تا ۱۱)۔
اِنَّکُمۡ وَ مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ ؕ اَنۡتُمۡ لَہَا وٰرِدُوۡنَ ﴿۹۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بے شک تم اور تمہارے وہ معبُود جنہیں تم پوجتے ہو، جہنّم کا ایندھن ہیں، وہیں تم کو جانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم اور اللہ کے سوا جن جن کی تم عبادت کرتے ہو، سب دوزخ کا ایندھن بنو گے، تم سب دوزخ میں جانے والے ہو
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تم اور جو کچھ اللہ کے سوا تم پوجتے ہو سب جہنم کے ایندھن ہو، تمہیں اس میں جانا،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک تم اور وہ چیزیں جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے جہنم کا ایندھن ہیں اس میں تم سب کو داخل ہونا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک تم اور جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، جہنم کا ایندھن ہیں، تم اسی میں داخل ہونے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم کی ہولناکیاں ٭٭

بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» ۱؎ [66-التحريم:6] ‏‏‏‏ [2-البقرة:24] ‏‏‏‏ ’ اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر ‘۔ حبشی زبان میں حطب کو «حَصَبُ» کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے «حَصَبُ» کے «حَطَبْ» ہے۔ ’ تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے ‘۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پردوزخی ہو گئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «‏‏‏‏فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ» ۱؎ [11-ھود:106] ‏‏‏‏، ’ وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے اور چیخوں کے سوا ان کے کان میں اور کوئی آواز نہ پڑے گی ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب صرف مشرک جہنم میں رہ جائیں گے انہیں آگ کے صندوقوں میں قید کر دیا جائے گا جن میں آگ کے سریے ہوں گے ان میں سے ہر ایک کو یہی گمان ہو گا کہ جہنم میں اس کے سوا اور کوئی نہیں“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ [ابن جریر] ‏‏‏‏

«حُسْنَىٰ» سے مراد رحمت وسعادت ہیں۔ دوزخیوں کا اور ان کے عذابوں کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں اور ان کی جزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے یہ لوگ باایمان تھے ان کے نیک اعمال کی وجہ سے سعادت ان کے استقبال کو تیار تھی۔ جیسے فرمان ہے آیت «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:26] ‏‏‏‏ ’ نیکوں کے لیے نیک اجر ہے اور زیادتی اجر بھی ‘۔ فرمان ہے آیت «هَلْ جَزَاءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ» ۱؎ [55-الرحمن:60] ‏‏‏‏ ’ نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے ‘۔ ان کے دنیا کے اعمال نیک تھے تو آخرت میں ثواب اور نیک بدلہ ملا، عذاب سے بچے اور رحمت رب سے سرفراز ہوئے۔ یہ جہنم سے دور کر دئیے گئے کہ اس کی آہٹ تک نہیں سنتے نہ دوزخیوں کا جلنا وہ سنتے ہیں۔ پل صراط پردوزخیوں کو زہریلے ناگ ڈستے ہیں اور یہ وہاں ہائے ہائے کرتے ہیں جنتی لوگوں کے کان بھی اس درد ناک آواز سے ناآشنا رہیں گے۔ اتنا ہی نہیں کہ خوف ڈر سے یہ الگ ہو گئے بلکہ ساتھ ہی راحت و آرام بھی حاصل کر لیا۔ من مانی چیزیں موجود۔ دوامی کی راحت بھی حاضر۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک رات اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ”میں اور عمر عثمان اور زبیر اور طلحہ اور عبدالرحمٰن انہی لوگوں میں سے ہیں“ یا سعد کا نام لیا رضی اللہ عنہم۔ اتنے میں نماز کی تکبیر ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ چادر گھیسٹتے آیت «لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا» ، پڑھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہو گئے۔ اور روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ایسے ہی ہیں۔‏‏‏‏“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہی لوگ اولیاء اللہ ہیں بجلی سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پل صراط سے پار ہو جائیں گے اور کافر وہیں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے۔‏‏‏‏“ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ بزرگان دین ہیں جو اللہ والے تھے شرکت سے بیزار تھے لیکن ان کے بعد لوگوں نے ان کی مرضی کے خلاف ان کی پوجا پاٹ شروع کر دی تھی، عزیر، مسیح، فرشتے، سورج، چاند، مریم، وغیرہ۔

عبداللہ بن زبعری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا تیرا خیال ہے کہ اللہ نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:98] ‏‏‏‏ اتاری ہے؟ اگر یہ سچ ہے تو کیا سورج چاند، فرشتے عزیر، عیسیٰ، سب کہ سب ہمارے بتوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے؟ اس کے جواب میں آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:57] ‏‏‏‏ اور آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى اُولٰىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:101] ‏‏‏‏ نازل ہوئی۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ولید بن مغیرہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نضر بن حارث آیا اس وقت مسجد میں اور قریشی بھی بہت سارے تھے نضر بن حارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کر رہا تھا لیکن وہ لاجوب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ لَوْ كَانَ هَـٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:100-98] ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مجلس سے چلے گئے تو عبداللہ بن زبعری آیا لوگوں نے اس سے کہا آج نضر بن حارث نے باتیں کیں لیکن بری طرح چت ہوئے اور یہ فرماتے ہوئے چلے گے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو انہیں جواب دیتا کہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر کو نصرانی مسیح کو تو کیا یہ سب بھی جہنم میں جلیں گے؟ سب کو یہ جواب بہت پسند آیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جس نے اپنی عبادت کرائی وہ عابدوں کے ساتھ جہنم میں ہے یہ بزرگ اپنی عبادتیں نہیں کراتے تھے بلکہ یہ لوگ تو انہیں نہیں شیطان کو پوج رہے ہیں اسی نے انہیں ان کی عبادت کی راہ بتائی ہے } }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کے ساتھ ہی قرآنی جواب اس کے بعد ہی آیت «إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:101] ‏‏‏‏ میں اترا تو جن نیک لوگوں کی جاہلوں نے پرستش کی تھی وہ اس سے مستثنیٰ ہو گئے۔ چنانچہ قرآن میں ہے آیت «مَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» ۱؎ [21-الأنبياء:29] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان میں سے جو اپنی معبودیت اوروں سے منوانی چاہے اس کا بدلہ جہنم ہے ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں ‘۔ اور آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:57-60] ‏‏‏‏ اتری کہ ’ اس بات کہ سنتے ہی وہ لوگ متعجب ہوگئے اور کہنے لگے ہمارے معبود اچھے یا وہ یہ تو صرف دھینگا مشتی ہے اور یہ لوگ جھگڑالو ہی ہیں وہ ہمارا انعام یافتہ بندہ تھا اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے نمونہ بنایا تھا۔ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین فرشتوں کو کر دیتے ‘۔ «وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ» ۱؎ [43-الزخرف:61] ‏‏‏‏ ’ عیسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) نشانِ قیامت ہیں ان کے ہاتھ سے جو معجزات صادر ہوئے وہ شبہ والی چیزیں نہیں وہ قیامت کی دلیل ہیں تجھے اس میں کچھ شک نہ کرنا چاہے۔ میری مانتا چلا جا یہی صراط مستقیم ہے ‘۔ ابن زبعری کی جرات دیکھئیے خطاب اہل مکہ سے ہے اور ان کی ان تصویروں اور پتھروں کے لیے کہا گیا ہے جنہیں وہ سوائے اللہ کے پوجا کرتے تھے نہ کہ عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ پاک نفس کے لیے جو غیر اللہ کی عبادت سے روکتے تھے۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں لفظ «ما» جو یہاں ہے وہ عرب میں ان کے لیے آتا ہے جو بے جان اور بے عقل ہوں۔

یہ ابن زبعری اس کے بعد مسلمان ہوگئے تھے رضی اللہ عنہ۔ یہ بڑے مشہور شاعر تھے۔ پہلے انہوں نے مسلمانوں کی دل کھول کر دھول اڑائی تھی لیکن مسلمان ہونے کے بعد معذرت کی۔ موت کی گھبراہٹ، اس گھڑی کی گھبراہٹ جبکہ جہنم پر ڈھکن ڈھک دیا جائے گا جب کہ موت کو دوزخ جنت کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا۔ غرض کسی اندیشے کا نزول ان پر نہ ہوگا وہ ہر غم و ہراس سے دور ہوں گے، پورے مسرور ہوں گے، خوش ہوں گے اور ناخوشی سے کوسوں الگ ہوں گے۔ فرشتوں کے پرے کے پرے ان سے ملاقاتیں کر رہے ہوں گے اور انہیں ڈھارس دیتے ہوئے کہتے ہوں گے کہ اسی دن کا وعدہ تم سے کیا گیا تھا، اس وقت تم قبروں سے اٹھنے کے دن کے منتظر رہو۔
98۔ 1 یہ آیت مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو لات منات اور عزٰی و ہبل کی پوجا کرتے تھے یہ سب پتھر کی مورتیاں تھیں۔ جو جمادات یعنی غیر عاقل تھیں، اس لئے آیت میں مَا تَعْبُدُوْنَ کے الفاظ ہیں اور عربی میں (مَا) غیر عاقل کے لئے آتا ہے۔ یعنی کہا جارہا ہے کہ تم بھی اور تمہارے معبود بھی جن کی مورتیاں بنا کر تم نے عبادت کے لئے رکھی ہوئی ہیں سب جہنم کا ایندھن ہیں۔
(آیت 98) ➊ { اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ:} یعنی اس وقت ان کے اعتراف جرم اور توبہ کا انھیں کچھ فائدہ نہ ہو گا (سورۂ مومن: ۸۵) بلکہ کہا جائے گا کہ تم اور جن چیزوں کی تم عبادت کرتے تھے، سب جہنم کا ایندھن ہو۔ اس میں ان کے بت بھی شامل ہیں اور وہ تمام انسان یا جن بھی جو اپنی عبادت کروا کر خوش ہوتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان سب کو جہنم کا ایندھن قرار دیا۔ بتوں کو آگ میں پھینکنے کا مقصد ان مشرکین کو ذلیل کرنا ہے کہ اپنے خداؤں کا حال دیکھ لو، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ }» [ البقرۃ: ۲۴ ] کہ جہنم کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ {” مَا “} کا لفظ عموماً غیر ذوی العقول کے لیے استعمال ہوتا ہے، گویا اپنی عبادت پر خوش ہونے والے انسانوں اور جنوں کو غیر ذوی العقول قرار دیا گیا۔ اگر {” مَا “} کو عاقل و غیر عاقل سب کے لیے عام مانا جائے، جیسا کہ بعض اوقات استعمال ہوتا ہے، تب بھی اللہ کے پیغمبر اور مقبول بندے اس میں شامل نہیں ہوں گے، کیونکہ آیت (۱۰۱) میں تمام مومنوں کے لیے جہنم سے دور رکھے جانے کی بشارت آ رہی ہے۔ ➋ { اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ:لَهَا “} کا لفظ {” وٰرِدُوْنَ “} سے پہلے آنے سے حصر پید اہو گیا، اس لیے ترجمہ ”اس میں“ کے بجائے ”اسی میں“ داخل ہونے والے ہو گا۔ اس جملے کا فائدہ یہ ہے کہ جہنم کا ایندھن بننے کے بعد یہ مت سمجھو کہ موحدین کی طرح اس سے نکل کر جنت میں چلے جاؤ گے، نہیں! بلکہ تم اسی میں داخل رہو گے۔ اس کے علاوہ {” وٰرِدُوْنَ “} کو بعد میں لانے سے دوسری آیات کے فواصل (آخری حروف) کے ساتھ موافقت بھی ہو گئی۔
لَوۡ کَانَ ہٰۤؤُلَآءِ اٰلِہَۃً مَّا وَرَدُوۡہَا ؕ وَ کُلٌّ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۹۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر یہ واقعی خدا ہوتے تو وہاں نہ جاتے اب سب کو ہمیشہ اسی میں رہنا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر یہ (سچے) معبود ہوتے تو جہنم میں داخل نہ ہوتے، اور سب کے سب اسی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اگر یہ خدا ہوتے جہنم میں نہ جاتے، اور ان سب کو ہمیشہ اس میں رہنا
علامہ محمد حسین نجفی
اگر یہ چیزیں برحق خدا ہوتیں تو جہنم میں نہ جاتیں اب تم سب کو اس میں ہمیشہ رہنا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اگر یہ معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے اور یہ سب اسی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم کی ہولناکیاں ٭٭

بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» ۱؎ [66-التحريم:6] ‏‏‏‏ [2-البقرة:24] ‏‏‏‏ ’ اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر ‘۔ حبشی زبان میں حطب کو «حَصَبُ» کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے «حَصَبُ» کے «حَطَبْ» ہے۔ ’ تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے ‘۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پردوزخی ہو گئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «‏‏‏‏فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ» ۱؎ [11-ھود:106] ‏‏‏‏، ’ وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے اور چیخوں کے سوا ان کے کان میں اور کوئی آواز نہ پڑے گی ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب صرف مشرک جہنم میں رہ جائیں گے انہیں آگ کے صندوقوں میں قید کر دیا جائے گا جن میں آگ کے سریے ہوں گے ان میں سے ہر ایک کو یہی گمان ہو گا کہ جہنم میں اس کے سوا اور کوئی نہیں“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ [ابن جریر] ‏‏‏‏

«حُسْنَىٰ» سے مراد رحمت وسعادت ہیں۔ دوزخیوں کا اور ان کے عذابوں کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں اور ان کی جزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے یہ لوگ باایمان تھے ان کے نیک اعمال کی وجہ سے سعادت ان کے استقبال کو تیار تھی۔ جیسے فرمان ہے آیت «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:26] ‏‏‏‏ ’ نیکوں کے لیے نیک اجر ہے اور زیادتی اجر بھی ‘۔ فرمان ہے آیت «هَلْ جَزَاءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ» ۱؎ [55-الرحمن:60] ‏‏‏‏ ’ نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے ‘۔ ان کے دنیا کے اعمال نیک تھے تو آخرت میں ثواب اور نیک بدلہ ملا، عذاب سے بچے اور رحمت رب سے سرفراز ہوئے۔ یہ جہنم سے دور کر دئیے گئے کہ اس کی آہٹ تک نہیں سنتے نہ دوزخیوں کا جلنا وہ سنتے ہیں۔ پل صراط پردوزخیوں کو زہریلے ناگ ڈستے ہیں اور یہ وہاں ہائے ہائے کرتے ہیں جنتی لوگوں کے کان بھی اس درد ناک آواز سے ناآشنا رہیں گے۔ اتنا ہی نہیں کہ خوف ڈر سے یہ الگ ہو گئے بلکہ ساتھ ہی راحت و آرام بھی حاصل کر لیا۔ من مانی چیزیں موجود۔ دوامی کی راحت بھی حاضر۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک رات اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ”میں اور عمر عثمان اور زبیر اور طلحہ اور عبدالرحمٰن انہی لوگوں میں سے ہیں“ یا سعد کا نام لیا رضی اللہ عنہم۔ اتنے میں نماز کی تکبیر ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ چادر گھیسٹتے آیت «لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا» ، پڑھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہو گئے۔ اور روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ایسے ہی ہیں۔‏‏‏‏“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہی لوگ اولیاء اللہ ہیں بجلی سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پل صراط سے پار ہو جائیں گے اور کافر وہیں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے۔‏‏‏‏“ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ بزرگان دین ہیں جو اللہ والے تھے شرکت سے بیزار تھے لیکن ان کے بعد لوگوں نے ان کی مرضی کے خلاف ان کی پوجا پاٹ شروع کر دی تھی، عزیر، مسیح، فرشتے، سورج، چاند، مریم، وغیرہ۔

عبداللہ بن زبعری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا تیرا خیال ہے کہ اللہ نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:98] ‏‏‏‏ اتاری ہے؟ اگر یہ سچ ہے تو کیا سورج چاند، فرشتے عزیر، عیسیٰ، سب کہ سب ہمارے بتوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے؟ اس کے جواب میں آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:57] ‏‏‏‏ اور آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى اُولٰىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:101] ‏‏‏‏ نازل ہوئی۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ولید بن مغیرہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نضر بن حارث آیا اس وقت مسجد میں اور قریشی بھی بہت سارے تھے نضر بن حارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کر رہا تھا لیکن وہ لاجوب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ لَوْ كَانَ هَـٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:100-98] ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مجلس سے چلے گئے تو عبداللہ بن زبعری آیا لوگوں نے اس سے کہا آج نضر بن حارث نے باتیں کیں لیکن بری طرح چت ہوئے اور یہ فرماتے ہوئے چلے گے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو انہیں جواب دیتا کہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر کو نصرانی مسیح کو تو کیا یہ سب بھی جہنم میں جلیں گے؟ سب کو یہ جواب بہت پسند آیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جس نے اپنی عبادت کرائی وہ عابدوں کے ساتھ جہنم میں ہے یہ بزرگ اپنی عبادتیں نہیں کراتے تھے بلکہ یہ لوگ تو انہیں نہیں شیطان کو پوج رہے ہیں اسی نے انہیں ان کی عبادت کی راہ بتائی ہے } }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کے ساتھ ہی قرآنی جواب اس کے بعد ہی آیت «إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:101] ‏‏‏‏ میں اترا تو جن نیک لوگوں کی جاہلوں نے پرستش کی تھی وہ اس سے مستثنیٰ ہو گئے۔ چنانچہ قرآن میں ہے آیت «مَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» ۱؎ [21-الأنبياء:29] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان میں سے جو اپنی معبودیت اوروں سے منوانی چاہے اس کا بدلہ جہنم ہے ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں ‘۔ اور آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:57-60] ‏‏‏‏ اتری کہ ’ اس بات کہ سنتے ہی وہ لوگ متعجب ہوگئے اور کہنے لگے ہمارے معبود اچھے یا وہ یہ تو صرف دھینگا مشتی ہے اور یہ لوگ جھگڑالو ہی ہیں وہ ہمارا انعام یافتہ بندہ تھا اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے نمونہ بنایا تھا۔ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین فرشتوں کو کر دیتے ‘۔ «وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ» ۱؎ [43-الزخرف:61] ‏‏‏‏ ’ عیسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) نشانِ قیامت ہیں ان کے ہاتھ سے جو معجزات صادر ہوئے وہ شبہ والی چیزیں نہیں وہ قیامت کی دلیل ہیں تجھے اس میں کچھ شک نہ کرنا چاہے۔ میری مانتا چلا جا یہی صراط مستقیم ہے ‘۔ ابن زبعری کی جرات دیکھئیے خطاب اہل مکہ سے ہے اور ان کی ان تصویروں اور پتھروں کے لیے کہا گیا ہے جنہیں وہ سوائے اللہ کے پوجا کرتے تھے نہ کہ عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ پاک نفس کے لیے جو غیر اللہ کی عبادت سے روکتے تھے۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں لفظ «ما» جو یہاں ہے وہ عرب میں ان کے لیے آتا ہے جو بے جان اور بے عقل ہوں۔

یہ ابن زبعری اس کے بعد مسلمان ہوگئے تھے رضی اللہ عنہ۔ یہ بڑے مشہور شاعر تھے۔ پہلے انہوں نے مسلمانوں کی دل کھول کر دھول اڑائی تھی لیکن مسلمان ہونے کے بعد معذرت کی۔ موت کی گھبراہٹ، اس گھڑی کی گھبراہٹ جبکہ جہنم پر ڈھکن ڈھک دیا جائے گا جب کہ موت کو دوزخ جنت کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا۔ غرض کسی اندیشے کا نزول ان پر نہ ہوگا وہ ہر غم و ہراس سے دور ہوں گے، پورے مسرور ہوں گے، خوش ہوں گے اور ناخوشی سے کوسوں الگ ہوں گے۔ فرشتوں کے پرے کے پرے ان سے ملاقاتیں کر رہے ہوں گے اور انہیں ڈھارس دیتے ہوئے کہتے ہوں گے کہ اسی دن کا وعدہ تم سے کیا گیا تھا، اس وقت تم قبروں سے اٹھنے کے دن کے منتظر رہو۔
99۔ 1 یعنی اگر یہ واقع معبود ہوتے تو با اختیار ہوتے اور تمہیں جہنم جانے سے روک لیتے۔ لیکن وہ تو خود جہنم میں بطور عبرت کے جا رہے ہیں۔ تمہیں جانے سے کس طرح روک سکتے ہیں۔ لہذا عابد و معبود دونوں ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
(آیت 99){لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا …: ”وَرَدُوْا“} کی ضمیر پوجنے والوں اور ان کے بنائے ہوئے معبودوں سب کی طرف جاتی ہے، اس لیے اس آیت سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں، ایک یہ کہ اگر لات، منات، عزیٰ یا شیاطین وغیرہ معبود ہوتے تو ان کو پوجنے والے جہنم میں داخل نہ ہوتے، بلکہ ان کے معبود ان کو بچا لیتے۔ دوسری یہ کہ اگر یہ معبود ہوتے تو کم از کم خود ہی جہنم میں داخل نہ ہوتے، مگر جب {” كُلٌّ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ “} یعنی پوجنے والے اور جنھیں پوجا گیا سب جہنم کا ایندھن ہیں تو ان کے بنائے ہوئے خدا معبود کیسے ہو گئے؟ اس آیت پر مشرکین کے اعتراض کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ زخرف (۵۷ تا ۵۹)۔
لَہُمۡ فِیۡہَا زَفِیۡرٌ وَّ ہُمۡ فِیۡہَا لَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہاں وہ پھنکارے ماریں گے اور حال یہ ہو گا کہ اس میں کان پڑی آواز نہ سنائی دے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
وه وہاں چلا رہے ہوں گے اور وہاں کچھ بھی نہ سن سکیں گے
احمد رضا خان بریلوی
وہ اس میں رینکیں گے اور وہ اس میں کچھ نہ سنیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
ان کی اس میں چیخ و پکار ہوگی اور وہ اس میں کچھ نہیں سنیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ان کے لیے ا س میں گدھے جیسی آواز ہوگی اور وہ اس میں نہیں سنیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم کی ہولناکیاں ٭٭

بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» ۱؎ [66-التحريم:6] ‏‏‏‏ [2-البقرة:24] ‏‏‏‏ ’ اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر ‘۔ حبشی زبان میں حطب کو «حَصَبُ» کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے «حَصَبُ» کے «حَطَبْ» ہے۔ ’ تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے ‘۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پردوزخی ہو گئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «‏‏‏‏فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ» ۱؎ [11-ھود:106] ‏‏‏‏، ’ وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے اور چیخوں کے سوا ان کے کان میں اور کوئی آواز نہ پڑے گی ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب صرف مشرک جہنم میں رہ جائیں گے انہیں آگ کے صندوقوں میں قید کر دیا جائے گا جن میں آگ کے سریے ہوں گے ان میں سے ہر ایک کو یہی گمان ہو گا کہ جہنم میں اس کے سوا اور کوئی نہیں“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ [ابن جریر] ‏‏‏‏

«حُسْنَىٰ» سے مراد رحمت وسعادت ہیں۔ دوزخیوں کا اور ان کے عذابوں کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں اور ان کی جزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے یہ لوگ باایمان تھے ان کے نیک اعمال کی وجہ سے سعادت ان کے استقبال کو تیار تھی۔ جیسے فرمان ہے آیت «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:26] ‏‏‏‏ ’ نیکوں کے لیے نیک اجر ہے اور زیادتی اجر بھی ‘۔ فرمان ہے آیت «هَلْ جَزَاءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ» ۱؎ [55-الرحمن:60] ‏‏‏‏ ’ نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے ‘۔ ان کے دنیا کے اعمال نیک تھے تو آخرت میں ثواب اور نیک بدلہ ملا، عذاب سے بچے اور رحمت رب سے سرفراز ہوئے۔ یہ جہنم سے دور کر دئیے گئے کہ اس کی آہٹ تک نہیں سنتے نہ دوزخیوں کا جلنا وہ سنتے ہیں۔ پل صراط پردوزخیوں کو زہریلے ناگ ڈستے ہیں اور یہ وہاں ہائے ہائے کرتے ہیں جنتی لوگوں کے کان بھی اس درد ناک آواز سے ناآشنا رہیں گے۔ اتنا ہی نہیں کہ خوف ڈر سے یہ الگ ہو گئے بلکہ ساتھ ہی راحت و آرام بھی حاصل کر لیا۔ من مانی چیزیں موجود۔ دوامی کی راحت بھی حاضر۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک رات اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ”میں اور عمر عثمان اور زبیر اور طلحہ اور عبدالرحمٰن انہی لوگوں میں سے ہیں“ یا سعد کا نام لیا رضی اللہ عنہم۔ اتنے میں نماز کی تکبیر ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ چادر گھیسٹتے آیت «لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا» ، پڑھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہو گئے۔ اور روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ایسے ہی ہیں۔‏‏‏‏“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہی لوگ اولیاء اللہ ہیں بجلی سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پل صراط سے پار ہو جائیں گے اور کافر وہیں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے۔‏‏‏‏“ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ بزرگان دین ہیں جو اللہ والے تھے شرکت سے بیزار تھے لیکن ان کے بعد لوگوں نے ان کی مرضی کے خلاف ان کی پوجا پاٹ شروع کر دی تھی، عزیر، مسیح، فرشتے، سورج، چاند، مریم، وغیرہ۔

عبداللہ بن زبعری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا تیرا خیال ہے کہ اللہ نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:98] ‏‏‏‏ اتاری ہے؟ اگر یہ سچ ہے تو کیا سورج چاند، فرشتے عزیر، عیسیٰ، سب کہ سب ہمارے بتوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے؟ اس کے جواب میں آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:57] ‏‏‏‏ اور آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى اُولٰىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:101] ‏‏‏‏ نازل ہوئی۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ولید بن مغیرہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نضر بن حارث آیا اس وقت مسجد میں اور قریشی بھی بہت سارے تھے نضر بن حارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کر رہا تھا لیکن وہ لاجوب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ لَوْ كَانَ هَـٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:100-98] ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مجلس سے چلے گئے تو عبداللہ بن زبعری آیا لوگوں نے اس سے کہا آج نضر بن حارث نے باتیں کیں لیکن بری طرح چت ہوئے اور یہ فرماتے ہوئے چلے گے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو انہیں جواب دیتا کہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر کو نصرانی مسیح کو تو کیا یہ سب بھی جہنم میں جلیں گے؟ سب کو یہ جواب بہت پسند آیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جس نے اپنی عبادت کرائی وہ عابدوں کے ساتھ جہنم میں ہے یہ بزرگ اپنی عبادتیں نہیں کراتے تھے بلکہ یہ لوگ تو انہیں نہیں شیطان کو پوج رہے ہیں اسی نے انہیں ان کی عبادت کی راہ بتائی ہے } }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کے ساتھ ہی قرآنی جواب اس کے بعد ہی آیت «إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:101] ‏‏‏‏ میں اترا تو جن نیک لوگوں کی جاہلوں نے پرستش کی تھی وہ اس سے مستثنیٰ ہو گئے۔ چنانچہ قرآن میں ہے آیت «مَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» ۱؎ [21-الأنبياء:29] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان میں سے جو اپنی معبودیت اوروں سے منوانی چاہے اس کا بدلہ جہنم ہے ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں ‘۔ اور آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:57-60] ‏‏‏‏ اتری کہ ’ اس بات کہ سنتے ہی وہ لوگ متعجب ہوگئے اور کہنے لگے ہمارے معبود اچھے یا وہ یہ تو صرف دھینگا مشتی ہے اور یہ لوگ جھگڑالو ہی ہیں وہ ہمارا انعام یافتہ بندہ تھا اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے نمونہ بنایا تھا۔ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین فرشتوں کو کر دیتے ‘۔ «وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ» ۱؎ [43-الزخرف:61] ‏‏‏‏ ’ عیسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) نشانِ قیامت ہیں ان کے ہاتھ سے جو معجزات صادر ہوئے وہ شبہ والی چیزیں نہیں وہ قیامت کی دلیل ہیں تجھے اس میں کچھ شک نہ کرنا چاہے۔ میری مانتا چلا جا یہی صراط مستقیم ہے ‘۔ ابن زبعری کی جرات دیکھئیے خطاب اہل مکہ سے ہے اور ان کی ان تصویروں اور پتھروں کے لیے کہا گیا ہے جنہیں وہ سوائے اللہ کے پوجا کرتے تھے نہ کہ عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ پاک نفس کے لیے جو غیر اللہ کی عبادت سے روکتے تھے۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں لفظ «ما» جو یہاں ہے وہ عرب میں ان کے لیے آتا ہے جو بے جان اور بے عقل ہوں۔

یہ ابن زبعری اس کے بعد مسلمان ہوگئے تھے رضی اللہ عنہ۔ یہ بڑے مشہور شاعر تھے۔ پہلے انہوں نے مسلمانوں کی دل کھول کر دھول اڑائی تھی لیکن مسلمان ہونے کے بعد معذرت کی۔ موت کی گھبراہٹ، اس گھڑی کی گھبراہٹ جبکہ جہنم پر ڈھکن ڈھک دیا جائے گا جب کہ موت کو دوزخ جنت کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا۔ غرض کسی اندیشے کا نزول ان پر نہ ہوگا وہ ہر غم و ہراس سے دور ہوں گے، پورے مسرور ہوں گے، خوش ہوں گے اور ناخوشی سے کوسوں الگ ہوں گے۔ فرشتوں کے پرے کے پرے ان سے ملاقاتیں کر رہے ہوں گے اور انہیں ڈھارس دیتے ہوئے کہتے ہوں گے کہ اسی دن کا وعدہ تم سے کیا گیا تھا، اس وقت تم قبروں سے اٹھنے کے دن کے منتظر رہو۔
10۔ 1 یعنی سارے کے سارے شدت غم و الم سے چیخ اور چلا رہے ہونگے، جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کی آواز بھی نہیں سن سکیں گے۔
(آیت 100) ➊ {لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ:زَفِيْرٌ “} کے معنی کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۱۰۶)۔ ➋ { وَ هُمْ فِيْهَا لَا يَسْمَعُوْنَ:} اس کی ایک تفسیر یہ ہے کہ وہ اتنی اونچی آواز سے گدھے کی طرح رینکیں گے کہ اپنے چیخ پکار کے شور میں کوئی بات نہیں سنیں گے۔ دوسری تفسیر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمائی کہ جب وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جنھیں ہمیشہ آگ میں رکھا جائے گا، تو انھیں آگ کے تابوتوں میں ڈال دیا جائے گا، جن میں آگ کی میخیں ہوں گی، تو ان میں سے کسی کو نظر نہیں آئے گا کہ اس کے سوا کسی کو عذاب ہو رہا ہے۔ پھر عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: «{ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّ هُمْ فِيْهَا لَا يَسْمَعُوْنَ }» ابن کثیر بحوالہ ابن ابی حاتم، دکتور حکمت بن بشیر نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔گویا آگ کے عذاب کے ساتھ تنہائی کا شدید عذاب مزید ہوگا کہ نہ کسی کو دیکھیں گے اور نہ کوئی آواز سنیں گے۔