بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنبياء — Surah Anbiya
آیت نمبر 94
کل آیات: 112
قرآن کریم الأنبياء آیت 94
آیت نمبر: 94 — سورۃ الأنبياء islamicurdubooks.com ↗
فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَا کُفۡرَانَ لِسَعۡیِہٖ ۚ وَ اِنَّا لَہٗ کٰتِبُوۡنَ ﴿۹۴﴾
پھر جو نیک عمل کرے گا، اِس حال میں کہ وہ مومن ہو، تو اس کے کام کی نا قدری نہ ہو گی، اور اُسے ہم لکھ رہے ہیں
پھر جو بھی نیک عمل کرے اور وه مومن (بھی) ہو تو اس کی کوشش کی بے قدری نہیں کی جائے گی۔ ہم تو اس کے لکھنے والے ہیں
تو جو کچھ بھلے کام کرے اور ہو ایمان والا تو اس کی کوشش کی بے قدری نہیں، اور ہم اسے لکھ رہے ہیں،
پس جو کوئی نیک کام کرے درآنحالیکہ وہ مؤمن ہو تو اس کی کوشش کی ناقدری نہ ہوگی اور ہم اسے لکھ رہے ہیں۔
پس جو شخص کچھ نیک اعمال کرے اور وہ مومن ہو تو اس کی کوشش کی کوئی نا قدری نہیں اور یقینا ہم اس کے لیے لکھنے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تمام شریعتوں کی روح توحید ٭٭

فرمان ہے کہ ’ تم سب کا دین ایک ہی ہے۔ اوامر ونواہی کے احکام تم سب میں یکساں ہیں ‘۔ «ھٰذِہٖ» اسم ہے «اِنَّ» کا اور «اُمَّتُکُمۡ» خبر ہے اور «اُمَّةً وَّاحِدَةً» حال ہے۔ یعنی یہ شریعت جو بیان ہوئی تم سب کی متفق علیہ شریعت ہے۔ جس کا اصلی مقصود توحید الٰہی ہے جیسے آیت «يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ وَإِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَ‌بُّكُمْ فَاتَّقُونِ» ۱؎ [23-المؤمنون:52-51] ‏‏‏‏ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے اور لوگوں کی بہ نسبت زیادہ قریب ہوں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور انبیاء علیہم السلام علاتی بھائیوں (‏‏‏‏کی طرح)‏‏‏‏‏‏‏‏ ہیں۔ ان کے مسائل میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن دین سب کا ایک ہی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3443] ‏‏‏‏ جیسے فرمان قرآن ہے آیت «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا» ۱؎ [5-المائدة:48] ‏‏‏‏ ’ ہر ایک کی راہ اور طریقہ ہے ‘۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا بعض اپنوں نبیوں پر ایمان لائے اور بعض نہ لائے۔ قیامت کے دن سب کا لوٹنا ہماری طرف ہے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا نیکوں کو نیک بدلہ اور بروں کو بری سزا۔ جس کے دل میں ایمان ہو اور جس کے اعمال نیک ہوں اس کے اعمال اکارت نہ ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا» ۱؎ [18-الكهف:30] ‏‏‏‏ ’ نیک کام کرنے والوں کا اجر ہم ضائع نہیں کرتے۔ ایسے اعمال کی قدردانی کرتے ہیں ایک ذرے کے برابر ہم ظلم روا نہیں رکھتے تمام اعمال لکھ لیتے ہیں کوئی چیز چھوڑتے نہیں ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 94) ➊ { فَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ …:} یعنی ان مختلف گروہوں میں سے جو بھی اس کے مطابق کچھ عمل کرے گا جو اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے، جب کہ وہ اللہ تعالیٰ پر، اس کی توحید پر، اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں پر، اس کی کتابوں پر، خیر و شر تقدیر پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ہو، تو اس کی کوشش کی کوئی ناقدری نہ ہو گی اور اللہ تعالیٰ اس کے اعمال کو اس کے نامۂ اعمال میں درج فرمائے گا۔ ➋ {” مِنَ الصّٰلِحٰتِ “} میں {” مِنْ “} بعض کے معنی میں ہے۔ (ابوالسعود) یعنی جو شخص صالح اعمال میں سے کچھ اعمال کرے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”پس جو شخص کچھ نیک اعمال کرے۔“ اللہ تعالیٰ کی کریمی دیکھیے کہ ایمان کے بعد بعض اعمال صالحہ کی بھی قدر دانی ہو رہی ہے۔
← پچھلی آیت (93) پوری سورۃ اگلی آیت (95) →