بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنبياء — Surah Anbiya
آیت نمبر 70
کل آیات: 112
قرآن کریم الأنبياء آیت 70
آیت نمبر: 70 — سورۃ الأنبياء islamicurdubooks.com ↗
وَ اَرَادُوۡا بِہٖ کَیۡدًا فَجَعَلۡنٰہُمُ الۡاَخۡسَرِیۡنَ ﴿ۚ۷۰﴾
وہ چاہتے تھے کہ ابراہیمؑ کے ساتھ بُرائی کریں مگر ہم نے ان کو بُری طرح ناکام کر دیا
گو انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کا برا چاہا، لیکن ہم نے انہیں ناکام بنا دیا
اور انہوں نے اس کا برا چاہا تو ہم نے انہیں سب سے بڑھ کر زیاں کار کردیا
ان لوگوں نے ابراہیم کے ساتھ چالبازی کرنا چاہی تھی مگر ہم نے انہیں ناکام کر دیا۔
اور انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا ارادہ کیا توہم نے انھی کو انتہائی خسارے والے کر دیا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

آگ گلستان بن گئی ٭٭

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”ابراہیم علیہ السلام کے والد نے سب سے اچھا کلمہ جو کہا ہے وہ یہ ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام آگ سے زندہ صحیح سالم نکلے، اس وقت آپ علیہ السلام کو اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے دیکھ کر آپ علیہ السلام کے والد نے کہا، ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) ”تیرا رب بہت ہی بزرگ اور بڑا ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، اس دن جو جانور نکلا وہ آپ علیہ السلام کی آگ کو بجھانے کی کوشش کرتا رہا سوائے گرگٹ کے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:467/18:] ‏‏‏‏

زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے اور اسے فاسق کہا ہے۔‏‏‏‏“ { ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک نیزہ دیکھ کر ایک عورت نے سوال کیا کہ یہ کیوں رکھ چھوڑا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”گرگٹوں کو مار ڈالنے کے لیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { جس وقت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے اس وقت تمام جانور اس آگ کو بجھا رہے تھے سوائے گرگٹ کے، یہ اور پھونک رہا تھا }، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3231،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ان کا مکر ہم نے ان پر الٹ دیا ‘۔ کافروں نے اللہ کے نبی علیہ السلام کو نیچا کرنا چاہا اللہ نے انہیں نیچا دکھایا۔ . عطیہ عوفی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں جلائے جانے کا تماشا دیکھنے کے لیے ان کافروں کا بادشاہ بھی آیا تھا، ادھر خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا جاتا ہے ادھر آگ میں سے ایک چنگاری اڑتی ہے اور اس کافر بادشاہ کے انگوٹھے پر آ پڑتی ہے اور وہیں کھڑے کھڑے سب کے سامنے اس طرح اسے جلا دیتی ہے جیسے روئی جل جائے۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 70){ وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَيْدًا …: ” الْاَخْسَرِيْنَ “} اگرچہ اسم تفضیل ہے، مگر یہاں کسی سے زیادہ خسارا اٹھانے والے مراد نہیں، بلکہ یہ خاسرین میں مبالغہ ہے، اس لیے ترجمہ ”انتہائی خسارے والے“ کیا گیا ہے۔ اگر تفضیل کا معنی لیں تو {”أَخْسَرِيْنَ مِنْ كُلِّ خَاسِرٍ“} مراد ہو گا، یعنی ہر خسارے والے سے زیادہ خسارے والے۔ {” كَيْدًا “} خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ کفار نے ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کی سازش ان سے خفیہ رکھی تھی۔ شاید ان کا مقصد یہ ہو کہ ابراہیم علیہ السلام ہاتھ سے نہ نکل جائیں۔ (ابن عاشور) {” فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِيْنَ “} میں {”هُمْ“} اور {” الْاَخْسَرِيْنَ “} دونوں کے معرفہ ہونے سے قصر کا فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ بس وہی انتہائی خسارے والے ہوئے، ابراہیم علیہ السلام کو ذرہ بھر خسارا نہیں ہوا۔ انھیں خسارے والے (ناکام) اس لیے قرار دیا کہ وہ ابراہیم علیہ السلام کی کسی بھی دلیل کا جواب نہ دے سکے جس کے ساتھ انھوں نے سورج، چاند اور ستاروں کو بے بس ثابت کیا، یا جس کے ساتھ انھوں نے بادشاہ کا بے اختیار ہونا ثابت کیا، یا بتوں کا معبود نہ ہونا ثابت کیا۔ پھر نہ ان سے بت توڑنے کا انتقام لے سکے اور نہ انھیں آگ میں جلا سکے، بلکہ وہ سب کچھ جو انھوں نے انھیں سزا دینے کے لیے تیار کیا تھا ان کے لیے معجزہ اور ان کی عظمتِ شان کا باعث بن گیا اور انتہائی خسارا یہ کہ اس واقعہ کے بعد اس قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ گیا، جیسا کہ سورۂ حج میں ان قوموں کا ذکر فرمایا جن پر اللہ کا عذاب آیا، تو ان میں قوم ابراہیم کا بھی ذکر ہے، آخر میں فرمایا: «{ فَاَمْلَيْتُ لِلْكٰفِرِيْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ }» [ الحج: ۴۴ ] ”تو میں نے ان کافروں کو مہلت دی، پھر میں نے انھیں پکڑ لیا تو میرا عذاب کیسا تھا؟“
← پچھلی آیت (69) پوری سورۃ اگلی آیت (71) →