بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنبياء — Surah Anbiya
آیت نمبر 92
کل آیات: 112
قرآن کریم الأنبياء آیت 92
آیت نمبر: 92 — سورۃ الأنبياء islamicurdubooks.com ↗
اِنَّ ہٰذِہٖۤ اُمَّتُکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ۫ۖ وَّ اَنَا رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡنِ ﴿۹۲﴾
یہ تمہاری امّت حقیقت میں ایک ہی امّت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس تم میری عبادت کرو
یہ تمہاری امت ہے جو حقیقت میں ایک ہی امت ہے، اور میں تم سب کا پروردگار ہوں پس تم میری ہی عبادت کرو
بیشک تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے اور میں تمہارا رب ہوں تو میری عبادت کرو،
(اے ایمان والو) یہ تمہاری (ملت) ہے جو درحقیقت ملت واحدہ ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں۔ بس تم میری ہی عبادت کرو۔
بے شک یہ ہے تمھاری امت جو ایک ہی امت ہے اور میں ہی تمھارا رب ہوں، سو میری عبادت کرو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تمام شریعتوں کی روح توحید ٭٭

فرمان ہے کہ ’ تم سب کا دین ایک ہی ہے۔ اوامر ونواہی کے احکام تم سب میں یکساں ہیں ‘۔ «ھٰذِہٖ» اسم ہے «اِنَّ» کا اور «اُمَّتُکُمۡ» خبر ہے اور «اُمَّةً وَّاحِدَةً» حال ہے۔ یعنی یہ شریعت جو بیان ہوئی تم سب کی متفق علیہ شریعت ہے۔ جس کا اصلی مقصود توحید الٰہی ہے جیسے آیت «يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ وَإِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَ‌بُّكُمْ فَاتَّقُونِ» ۱؎ [23-المؤمنون:52-51] ‏‏‏‏ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے اور لوگوں کی بہ نسبت زیادہ قریب ہوں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور انبیاء علیہم السلام علاتی بھائیوں (‏‏‏‏کی طرح)‏‏‏‏‏‏‏‏ ہیں۔ ان کے مسائل میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن دین سب کا ایک ہی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3443] ‏‏‏‏ جیسے فرمان قرآن ہے آیت «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا» ۱؎ [5-المائدة:48] ‏‏‏‏ ’ ہر ایک کی راہ اور طریقہ ہے ‘۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا بعض اپنوں نبیوں پر ایمان لائے اور بعض نہ لائے۔ قیامت کے دن سب کا لوٹنا ہماری طرف ہے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا نیکوں کو نیک بدلہ اور بروں کو بری سزا۔ جس کے دل میں ایمان ہو اور جس کے اعمال نیک ہوں اس کے اعمال اکارت نہ ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا» ۱؎ [18-الكهف:30] ‏‏‏‏ ’ نیک کام کرنے والوں کا اجر ہم ضائع نہیں کرتے۔ ایسے اعمال کی قدردانی کرتے ہیں ایک ذرے کے برابر ہم ظلم روا نہیں رکھتے تمام اعمال لکھ لیتے ہیں کوئی چیز چھوڑتے نہیں ‘۔

📖 احسن البیان

92۔ 1 امۃ سے مراد یہاں دین یا ملت یعنی تمہارا دین یا ملت ایک ہی ہے اور وہ دین ہے دین توحید، جس کی دعوت تمام انبیاء نے دی اور ملت، ملت اسلام ہے جو تمام انبیاء کی ملت رہی۔ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' ہم انبیاء کی جماعت اولاد علات ہیں، (جن کا باپ ایک اور مائیں مختلف ہوں) ہمارا دین ایک ہی ہے ' (ابن کثیر)

📖 القرآن الکریم

(آیت 92){ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً …:} بہت سے مفسرین نے یہاں امت سے مراد دین لیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کا قول نقل فرمایا: «{ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ }» [ الزخرف: ۲۲ ] ”بے شک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک امت (یعنی ایک دین) پر چلتے پایا۔“ یعنی تمھارا دین اور ملت ایک ہی ہے اور وہ ہے دین توحید، اور {” هٰذِهٖۤ “} سے مراد اس سے پہلے مذکور انبیاء، نوح، ابراہیم، اسحاق، یعقوب، لوط، داؤد، سلیمان، ایوب، اسماعیل، ادریس، ذوالکفل، یونس، زکریا، مسیح ابن مریم علیھم السلام ہیں کہ سب کا ایک ہی دین تھا اور سب توحید پر قائم تھے۔ کسی اور کو معبود، مشکل کُشا، شفا دینے والا، بگڑی بنانے والا یا اولاد عطا کرنے والا نہیں سمجھتے تھے، یہ سب لوگ ایک ہی دین پر تھے کہ میں تمھارا رب ہوں، سو میری ہی عبادت کرو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلاَّتٍ أُمَّهَاتُهُمْ شَتّٰی وَدِيْنُهُمْ وَاحِدٌ ] [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب «واذکر في الکتاب مریم…» : ۳۴۴۳۔ مسلم: 2365/145] ”انبیاء علاتی بھائی ہیں، جن کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے۔“ امت کا معنی جماعت بھی ہے، مگر ایسی جماعت جس کے لوگوں کے درمیان انھیں اکٹھا رکھنے والی کوئی چیز ہو، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ }» [ آل عمران: ۱۰۴ ] ”اور لازم ہے کہ تمھاری صورت میں ایک جماعت ہو جو نیکی کی طرف دعوت دیں۔“ یعنی یہ تمام انبیاء ایک ہی جماعت تھے جن کا رب ایک اور دین ایک تھا۔
← پچھلی آیت (91) پوری سورۃ اگلی آیت (93) →