بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنبياء — Surah Anbiya
آیت نمبر 63
کل آیات: 112
قرآن کریم الأنبياء آیت 63
آیت نمبر: 63 — سورۃ الأنبياء islamicurdubooks.com ↗
قَالَ بَلۡ فَعَلَہٗ ٭ۖ کَبِیۡرُہُمۡ ہٰذَا فَسۡـَٔلُوۡہُمۡ اِنۡ کَانُوۡا یَنۡطِقُوۡنَ ﴿۶۳﴾
اُس نے جواب دیا "بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس سردار نے کیا ہے، اِن ہی سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہوں"
آپ نے جواب دیا بلکہ اس کام کو ان کے بڑے نے کیا ہے تم اپنے خداؤں سے ہی پوچھ لو اگر یہ بولتے چالتے ہوں
فرمایا بلکہ ان کے اس بڑے نے کیا ہوگا تو ان سے پوچھو اگر بولتے ہوں
ابراہیم (ع)نے کہا: بلکہ ان کے بڑے بت نے یہ سب کاروائی کی ہے ان بتوں سے ہی پوچھ لو اگر وہ بول سکتے ہیں؟
اس نے کہا بلکہ ان کے اس بڑے نے یہ کیا ہے، سو ان سے پوچھ لو، اگر وہ بولتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قوم کے یہ لوگ مشورہ کرتے ہیں کہ آؤ سب کو جمع کرو اور اسے بلاؤ اور پھر اس کو سزا دو۔ خلیل اللہ علیہ السلام یہی چاہتے تھے کہ کوئی ایسا مجمع ہو اور میں اس میں ان کی غلطیاں ان پر واضح کروں اور ان میں توحید کی تبلیغ کروں، اور انہیں بتلاؤں کہ یہ کیسے ظالم و جاہل ہیں کہ ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو نفع نقصان کے مالک نہیں بلکہ اپنی جان کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ چنانچہ مجمع ہوا، سب چھوٹے بڑے آگئے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام بھی ملزم کی حیثیت سے موجود ہوئے اور آپ علیہ السلام سے سوال ہوا کہ ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ لغو حرکت تم نے کی ہے؟ اس پر آپ علیہ السلام نے انہیں قائل معقول کرنے کے لیے فرمایا کہ ”یہ کام تو ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے“ اور اس کی طرف اشارہ کیا جسے آپ علیہ السلام نے توڑا نہ تھا۔ پھر فرمایا کہ ”مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟ اپنے ان معبودوں سے ہی کیوں دریافت نہیں کرتے کہ تمہارے ٹکڑے اڑانے والا کون ہے؟“ اس سے مقصود خلیل اللہ علیہ السلام کا یہ تھا کہ یہ لوگ خودبخود ہی سمجھ لیں کہ یہ پتھر کیا بولیں گے؟ اور جب وہ اتنے عاجز ہیں تو یہ لائق عبادت کیسے ٹھہر سکتے ہیں؟ چنانچہ یہ مقصد بھی آپ کا بفضل الٰہی پورا ہوا اور یہ دوسری ضرب بھی کاری لگی۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { خلیل اللہ نے تین جھوٹ بولے ہیں۔ دو تو راہ اللہ میں: ایک تو انکا یہ فرمانا کہ ”ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے۔‏‏‏‏“ دوسرا یہ فرمانا کہ ”میں بیمار ہوں“، اور ایک مرتبہ سارہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفر میں تھے۔ اتفاق سے ایک ظالم بادشاہ کی حدود سے آپ علیہ السلام گزر رہے تھے، آپ علیہ السلام نے وہاں منزل کی تھی۔ کسی نے بادشاہ کو خبر کر دی کہ ایک مسافر کے ساتھ بہترین عورت ہے اور وہ اس وقت ہماری سلطنت میں ہے۔ بادشاہ نے جھٹ سپاہی بھیجا کہ وہ سارہ رضی اللہ عنہا کو لے آئے۔ اس نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا ”میری بہن ہے“ اس نے کہا اسے بادشاہ کے دربار میں بھیجو۔ آپ علیہ السلام سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا ”سنو، اس ظالم نے تمہیں طلب کیا ہے اور میں تمہیں اپنی بہن بتا چکا ہوں۔ اگر تم سے بھی پوچھا جائے تو یہی کہنا، اس لیے کہ دین کے اعتبار سے تم میری بہن ہو، روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مسلمان نہیں“، یہ کہہ کر آپ علیہ السلام چلے آئے۔ سارہ رضی اللہ عنہا وہاں سے چلیں اور آپ علیہ السلام نماز میں کھڑے ہوگئے۔ جب سارہ رضی اللہ عنہا کو اس ظالم نے دیکھا اور ان کی طرف لپکا، اسی وقت اللہ کے عذاب نے اسے پکڑ لیا، ہاتھ پاؤں اینٹھ گئے۔ گھبرا کر عاجزی سے کہنے لگا اے نیک عورت اللہ سے دعا کر کہ وہ مجھے چھوڑ دے میں وعدہ کرتا ہوں کہ تجھے ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے دعا کی اسی وقت وہ اچھا ہو گیا لیکن اچھا ہوتے ہی اس نے پھر قصد کیا اور آپ رضی اللہ عنہا کو پکڑنا چاہا۔ وہی پھر عذاب الٰہی آ پہنچا اور یہ پہلی دفعہ سے زیادہ سخت پکڑ لیا گیا پھر عاجزی کرنے لگا۔ غرض تین دفعہ پے در پے یہی ہوا۔ تیسری دفعہ چھوٹتے ہی اس نے اپنے قریب کے ملازم کو آواز دی اور کہا تو میرے پاس کسی انسان عورت کو نہیں لایا بلکہ شیطانہ کو لایا ہے۔ جا اسے نکال اور ہاجرہ کو اس کے ساتھ کر دے۔ اسی وقت آپ وہاں سے نکال دی گئیں اور ہاجرہ آپ کے حوالے کی گئیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان کی آہٹ پاتے ہی نماز سے فراغت حاصل کی اور دریافت فرمایا کہ ”کہو کیا گزری؟“ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اللہ نے اس کافر کے مکر کو اسی پر لوٹا دیا اور حاجرہ میری خدمت کے لیے آگئیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہا اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ ”یہ ہیں تمہاری اماں اے آسمانی پانی کے لڑکو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3358] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

63۔ 1 چناچہ حضرت ابراہیم ؑ کو مجمع عام میں لایا گیا اور ان سے پوچھا گیا، حضرت ابراہیم ؑ نے جواب دیا کہ یہ کام تو اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ (ٹوٹے ہوئے بت) بول کر بتلا سکتے ہیں تو ذرا ان سے پوچھو تو سہی۔ یہ بطور اپنے مطلب کے بات کی یا انہوں نے کہا تاکہ وہ یہ بات جان لیں کہ جو نہ بول سکتا ہو نہ کسی چیز سے آگاہی کی صلاحیت رکھتا ہو، وہ معبود نہیں ہوسکتا۔ نہ اس پر الہ کا اطلاق ہی صحیح ہے ایک حدیث صحیح میں حضرت ابراہیم ؑ کے اس قول بل فعلہ کبیرھم کو لفظ کذب سے تعبیر کیا گیا ہے کہ ابراہیم ؑ نے تین جھوٹ بولے دو اللہ کے لیے ایک (انی سقیم) اور دوسرا یہی اور تیسرا حضرت سارہ اپنی بیوی کو بہن کہنا (صحیح بخاری کتاب الانبیاء باب واتخذاللہ ابراہیم خلیلا) زمانہ حال کے بعض مفسرین نے اس حدیث صحیح کو قرآن کے خلاف باور کر کے اس کا انکار کردیا ہے اور اس کی صحت پر اصرار غلو اور روایت پرستی قرار دیا ہے لیکن ان کی یہ رائے صحیح نہیں یقینا حقیقت کے اعتبار سے انھیں جھوٹ نہیں کہا جاسکتا لیکن ظاہری شکل کے لحاظ سے ان کو کذب سے خارج بھی نہیں کیا جاسکتا ہے گو یہ کذب اللہ کے ہاں قابل مواخذہ نہیں ہے کیونکہ وہ اللہ ہی کے لیے بولے گئے ہیں درآنحالیکہ کوئی گناہ کا کام اللہ کے لیے نہیں ہوسکتا اور یہ تب ہی ہوسکتا ہے کہ ظاہری طور پر کذب ہونے کے باوجود وہ حقیقتا کذب نہ ہو جیسے حضرت آدم ؑ کے لیے عصی اور غوی کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں حالانکہ خود قرآن میں ہی ان کے فعل اکل شجر کو نسیان اور ارادے کی کمزوری کا نتیجہ بھی بتلایا گیا ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ کسی کام کے دو پہلو بھی ہوسکتے ہیں من وجہ اس میں استحسان اور من وجہ ظاہری قباحت کا پہلو۔ حضرت ابراہیم ؑ کا یہ قول اس پہلو سے ظاہری طور پر کذب ہی ہے کہ واقعے کے خلاف تھا بتوں کو انہوں نے خود توڑا تھا لیکن اس کا انتساب بڑے بت کی طرف کیا لیکن چونکہ مقصد ان کا تعریض اور اثبات توحید تھا اس لیے حقیقت کے اعتبار ہم اسے جھوٹ کے بجائے اتمام حجت کا ایک طریق اور مشرکین کی بےعقلی کے اثبات واظہار کا ایک انداز کہیں گے علاوہ ازیں حدیث میں ان کذبات کا ذکر جس ضمن میں آیا ہے وہ بھی قابل غور ہے اور وہ ہے میدان محشر میں اللہ کے روبرو جاکر سفارش کرنے سے اس لیے گریز کرنا کہ ان سے دنیا میں تین موقعوں پر لغزش کا صدور ہوا ہے درآنحالیکہ وہ لغزشیں نہیں یعنی حقیقت اور مقصد کے اعتبار وہ جھوٹ نہیں ہیں مگر وہ اللہ کی عظمت وجلا کیوجہ سے اتنے خوف زدہ ہوں گے کہ یہ باتیں جھوٹ کے ساتھ مماثلت کی وجہ سے قابل گرفت نظر آئیں گی گویا حدیث کا مقصد حضرت ابراہیم ؑ کو جھوٹا ثابت کرنا ہرگز نہیں ہے بلکہ اس کیفیت کا اظہار ہے جو قیامت والے دن خشیت الہی کی وجہ سے ان پر طاری ہوگی۔

📖 القرآن الکریم

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
← پچھلی آیت (62) پوری سورۃ اگلی آیت (64) →