بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنبياء — Surah Anbiya
آیت نمبر 13
کل آیات: 112
قرآن کریم الأنبياء آیت 13
آیت نمبر: 13 — سورۃ الأنبياء islamicurdubooks.com ↗
لَا تَرۡکُضُوۡا وَ ارۡجِعُوۡۤا اِلٰی مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِیۡہِ وَ مَسٰکِنِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴿۱۳﴾
(کہا گیا) "بھاگو نہیں، جاؤ اپنے انہی گھروں میں اور عیش کے سامانوں میں جن کے اندر تم چین کر رہے تھے، شاید کہ تم سے پوچھا جائے"
بھاگ دوڑ نہ کرو اور جہاں تمہیں آسودگی دی گئی تھی وہیں واپس لوٹو اور اپنے مکانات کی طرف جاؤ تاکہ تم سے سوال تو کر لیا جائے
نہ بھاگو اور لوٹ کے جاؤ ان آسائشوں کی طرف جو تم کو دی گئیں تھیں اور اپنے مکانوں کی طرف شاید تم سے پوچھنا ہو
(ان سے کہا گیا) بھاگو نہیں (بلکہ) اپنی آسائش کی طرف لوٹو جو تمہیں دی گئی تھی۔ اور اپنے گھروں کی طرف لوٹو۔ تاکہ تم سے پوچھ گچھ کی جائے۔
بھاگو نہیں اور ان (جگہوں) کی طرف واپس آئو جن میں تمھیں خوش حالی دی گئی تھی اور اپنے گھروں کی طرف، تاکہ تم سے پوچھا جائے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قدر ناشناس لوگ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر و منزلت پر رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے کہ ’ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ ‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:611/21:] ‏‏‏‏ جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:44] ‏‏‏‏ ’ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے، «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» ۱؎ [17-الإسراء:17] ‏‏‏‏ ’ ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کر دیں ‘۔ اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» ۱؎ [22-الحج:45] ‏‏‏‏ ’ کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی ‘۔ ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ ’ اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ ‘ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔

📖 احسن البیان

13۔ 1 یہ فرشتوں نے ندا دی یا مومنوں نے استہزاء کے طور پر کہا۔ 13۔ 2 یعنی جو نعمتیں اور آسائشیں تمہیں حاصل تھیں جو تمہارے کفر اور سرکشی کا باعث تھیں اور وہ مکانات جن میں تم رہتے تھے اور جن کی خوبصورتی اور پائیداری پر فخر کرتے تھے ان کی طرف پلٹو۔ 13۔ 3 اور عذاب کے بعد تمہارا حال احوال تو پوچھ لیا جائے کہ تم پر یہ کیا بیتی، کس طرح بیتی اور کیوں بیتی؟ یہ سوال بطور خیال اور مذاق کے ہے، ورنہ ہلاکت کے شکنجے میں کسے جانے کے بعد وہ جواب دینے کی پوزیشن میں ہی کب رہتے تھے؟

📖 القرآن الکریم

(آیت 13){ لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِيْهِ …:} یعنی ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ انھیں کہا جائے یا فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ بھاگو نہیں، بلکہ ان جگہوں کی طرف جن میں تمھیں خوشحالی دی گئی تھی اور اپنے گھروں کی طرف واپس آؤ، تاکہ تم سے پوچھا جائے کہ ان تمام نعمتوں کی تم نے کیا قدر کی؟ ایک معنی یہ ہے کہ اپنی انھی مجلسوں میں دوبارہ واپس آؤ، تاکہ پہلے کی طرح تمھارے نوکر چاکر ہاتھ باندھ کر تم سے سوال کریں کہ سرکار کیا حکم ہے؟ تیسرا معنی یہ ہے کہ بھاگو نہیں، بلکہ اپنی وہی پنچایتیں اور کونسلیں جما کر بیٹھو، تاکہ لوگ اپنے مسائل کا حل تم سے پوچھنے کے لیے آئیں اور مانگنے والے تم سے مانگنے کے لیے آئیں، جنھیں تم فخر و ریا کے لیے دیا کرتے تھے۔ بہرحال یہ سب کچھ انھیں ڈانٹنے اور ان کا مذاق اڑانے کے لیے کہا جا رہا ہے۔
← پچھلی آیت (12) پوری سورۃ اگلی آیت (14) →