بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنبياء — Surah Anbiya
آیت نمبر 19
کل آیات: 112
قرآن کریم الأنبياء آیت 19
آیت نمبر: 19 — سورۃ الأنبياء islamicurdubooks.com ↗
وَ لَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ مَنۡ عِنۡدَہٗ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِہٖ وَ لَا یَسۡتَحۡسِرُوۡنَ ﴿ۚ۱۹﴾
زمین اور آسمان میں جو مخلوق بھی ہے اللہ کی ہے اور جو (فرشتے) اس کے پاس ہیں وہ نہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر اُس کی بندگی سے سرتابی کرتے ہیں اور نہ ملول ہوتے ہیں
آسمانوں اور زمین میں جو ہے اسی اللہ کا ہے اور جو اس کے پاس ہیں وه اس کی عبادت سے نہ سرکشی کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں
اور اسی کے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں اور اس کے پاس والے اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور نہ تھکیں،
جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین ہے سب اسی کیلئے ہے اور جو اس کی بارگاہ میں ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر و سرکشی نہیں کرتے اور نہ ہی تھکتے ہیں۔
اور اسی کا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو اس کے پاس ہیں وہ نہ اس کی عبادت سے تکبر کرتے ہیں اور نہ زرہ برابر تھکتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں ٭٭

«وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» ۱؎ [53-النجم:31] ‏‏‏‏ ’ آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے ‘۔ اس نے انہیں بے کار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ «وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ» ۱؎ [38-ص:27] ‏‏‏‏ ’ یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لیے جہنم کی آگ تیار ہے ‘۔ دوسری آیت ۱؎ [21-الأنبياء:17] ‏‏‏‏ کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ’ اگر ہم کھیل تماشا ہی چاہتے تو اسے بنا لیتے ‘۔ ایک معنی یہ ہیں کہ ’ اگر ہم عورت کرنا چاہتے ‘۔ «اللَّهْوُ» کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/18:] ‏‏‏‏ یعنی یہ دونوں معنی ہیں، ’ ہم اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے، کسی کو بنا لیتے ‘۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ’ اگر ہم اولاد چاہتے ‘۔ لیکن یہ دونوں معنی آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ بیوی کے ساتھ ہی اولاد ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» ۱؎ [39-الزمر:4] ‏‏‏‏، یعنی ’ اگر اللہ کو یہی منظور ہوتا کہ اس کی اولاد ہو تو اپنی مخلوق میں سے کسی اعلیٰ درجے کی مخلوق کو یہ منصب عطا فرماتا لیکن وہ اس بات سے پاک اور بہت دور ہے ‘۔ اس کی توحید اور غلبہ کے خلاف ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ پس وہ مطلق اولاد سے پاک ہے نہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے نہ عزیر علیہم السلام۔ نہ فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ «سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا» ۱؎ [17-الاسراء:43] ‏‏‏‏ ان عیسائیوں، یہودیوں اور کفار مکہ کی ان لغویات اور تہمت سے اللہ واحد قہار پاک ہے اور بلند ہے۔ آیت «إِن كُنَّا فَاعِلِينَ» میں «إِن» کو نافیہ کہا گیا ہے یعنی ’ ہم یہ کرنے والے ہی نہ تھے ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:421/18:] ‏‏‏‏ بلکہ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”قرآن مجید میں ہر جگہ ان نفی کے لیے ہی ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:620/5:] ‏‏‏‏

فرشتوں کا تذکرہ ٭٭

’ ہم حق کو واضح کرتے ہیں، اسے کھول کر بیان کرتے ہیں جس سے باطل دب جاتا ہے، ٹوٹ کر چورا ہو جاتا ہے اور فوراً ہٹ جاتا ہے۔ وہ ہے بھی اسی لائق، وہ ٹھہر نہیں سکتا نہ جم سکتا ہے نہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اللہ کے لیے جو لوگ اولادیں ٹھہرا رہے ہیں، ان کے اس واہی قول کی وجہ سے ان کے لیے ویل ہے انہیں پوری خرابی ہے ‘۔ پھر ارشاد فرماتا ہے کہ ’ جن فرشتوں کو تم اللہ کی لڑکیاں کہتے ہو، ان کا حال سنو اور اللہ کی الوہیت کی عظمت دیکھو۔ آسمان و زمین کی ہرچیز اسی کی ملکیت میں ہے۔ فرشتے اس کی عبادت میں مشغول ہیں۔ ناممکن ہے کہ کسی وقت سرکشی کریں ‘۔ «لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّـهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا» ۱؎ [4-النساء:172] ‏‏‏‏ ’ نہ مسیح کو بندہ رب ہونے سے شرم، نہ فرشتوں کو اللہ کی عبادت سے عار، نہ ان میں سے کوئی تکبر کرے یا عبادت سے جی چرائے اور جو کوئی ایسا کرے تو ایک وقت آ رہا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے میدان محشر میں سب کے ساتھ ہو گا اور اپنا کیا بھرے گا ‘۔ یہ بزرگ فرشتے اس کی عبادت سے تھکتے بھی نہیں، گھبراتے بھی نہیں، سستی اور کاہلی ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ دن رات اللہ کی فرماں برداری میں، اس کی عبادت میں، اس کی تسبیح و اطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ نیت اور عمل دونوں موجود ہیں۔ «لَّا يَعْصُونَ اللَّـهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ» ۱؎ [66-التحریم:6] ‏‏‏‏ ’ اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے نہ کسی فرمان کی تعمیل سے رکتے ہیں ‘۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں تھے کہ فرمایا: { لوگو! جو میں سنتا ہوں کیا تم بھی سنتے ہو؟ } سب نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو کچھ بھی نہیں سن رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں آسمانوں کی چرچراہٹ سن رہا ہوں اور حق تو یہ ہے کہ اسے چرچرانا ہی چاہیئے، اس لیے کہ اس میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کسی نہ کسی فرشتے کا سر سجدے میں نہ ہو } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060،] ‏‏‏‏ عبداللہ بن حارث بن نوفل فرماتے ہیں، میں کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا، میں نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا کہ بولنا چالنا، اللہ کا پیغام لے کر جانا، عمل کرنا یہ بھی انہیں تسبیح سے نہیں روکتا؟ میرے اس سوال پر چوکنے ہوکر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ بچہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا بنو عبدالمطلب میں سے ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے میری پیشانی چوم لی اور فرمایا، ”پیارے بچے تسبیح ان فرشتوں کے لیے ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لیے سانس لینا۔ دیکھو چلتے پھرتے، بولتے چالتے تمہارا سانس برابر آتا جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح فرشتوں کی تسبیح ہر وقت جاری رہتی ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/17:] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

19۔ 1 سب اسی کی ملک اور اسی کے غلام ہیں، پھر جب تم کسی غلام کو اپنا بیٹا اور کسی لونڈی کو بیوی بنانے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ تو اللہ تعالیٰ اپنے مملوکین اور غلاموں میں سے بعض کو بیٹا اور بعض کو بیوی کس طرح بنا سکتا ہے؟ 19۔ 2 اس سے مراد فرشتے ہیں، وہ بھی اس کے غلام اور بندے ہیں، ان الفاظ سے ان کا شرف و اکرام بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اس کی بارگاہ کے مقربین ہیں۔ اس کی بیٹیاں نہیں ہیں جیسا کہ مشرکین کا عقیدہ تھا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 19) ➊ { وَ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:مَنْ “} کا لفظ عموماً عقل والی مخلوقات کے لیے استعمال ہوتا ہے، اگرچہ یہاں زمین و آسمان کے عقلاء کو اللہ تعالیٰ کی ملکیت قرار دیا گیا ہے مگر اس میں آسمان و زمین، ان کے اندر پائے جانے والے تمام اَجرام فلکی اور دوسری تمام مخلوقات بھی شامل ہیں اور وہ سب اللہ کی ملکیت ہیں۔ کیونکہ یہ زمین آسمانوں کے اندر ہے اور ہر آسمان اپنے سے اوپر والے آسمان کے اندر ہے اور سب سے اوپر والا آسمان عرش کے اندر ہے اور اللہ سبحانہ عرش عظیم کا مالک ہے، جیسا کہ آگے آیت (۲۲) میں آ رہا ہے: «{فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُوْنَ}» تو اس سے عقلاً یہ بات ثابت ہوئی کہ وہ ہر چیز کا مالک ہے اور ملک یعنی بادشاہ بھی۔ (بقاعی) ➋ {وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ:} یعنی عرش اٹھانے والے (حاقہ: ۱۷) اور دوسرے فرشتے اور اللہ کی وہ مخلوق جسے وہی جانتا ہے۔ یعنی اتنی عظمت والے فرشتے جب ہمیشہ اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں اور اپنے آپ کو اس سے بڑا نہیں سمجھتے تو پھر انسان کی کیا بساط ہے کہ اپنے آپ کو اس کی عبادت سے بالا تر سمجھے؟ ➌ {وَ لَا يَسْتَحْسِرُوْنَ: ”حَسَرَ يَحْسِرُ حُسُوْرًا (ض)“} تھک کر رہ جانا۔ سورۂ ملک میں ہے: «{يَنْقَلِبْ اِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِيْرٌ}» [ الملک: ۴ ] ”نظر ناکام ہو کر تیری طرف پلٹ آئے گی اور وہ تھکی ہوئی ہو گی۔“ یہاں ایک سوال ہے کہ {”يَسْتَحْسِرُوْنَ “} باب استفعال سے ہے جس میں طلب کا معنی پایا جاتا ہے، یا حروف میں اضافے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ ہو جاتا ہے، یہاں باب استفعال لانے میں کیا نکتہ ہے؟ اہلِ علم نے اس کے مختلف جواب دیے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ {” وَ لَا يَسْتَحْسِرُوْنَ أَيْ لَا يَطْلُبُوْنَ أَنْ يَّنْقَطِعُوْا عَنْ ذٰلِكَ فَأَنْتَجَ ذٰلِكَ قَوْلُهُيُسَبِّحُوْنَ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ “} ”یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے تھکنا چاہتے ہی نہیں اور انھیں اس کی طلب ہی نہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ رات دن اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں، وقفہ نہیں کرتے۔“ (بقاعی) اس کا سب سے اچھا جواب وہ ہے جو ابوالسعود اور آلوسی رحمھما اللہ نے دیا ہے کہ جب حرفِ نفی مبالغہ کے لفظ پر آئے تو مراد مبالغہ کی نفی نہیں ہوتی بلکہ نفی میں مبالغہ ہوتا ہے، جیسا کہ {” وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ “} کا معنی یہ نہیں ہو گا کہ ”تیرا رب بندوں پر بہت زیادہ ظلم کرنے والا نہیں“ بلکہ یہ ہو گا کہ ”تیرا رب بندوں پر کچھ بھی ظلم کرنے والا نہیں۔“ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۸۲) اور انفال (۵۱) چنانچہ {” وَ لَا يَسْتَحْسِرُوْنَ“} کا معنی ہوگا ”اور وہ ذرا برابر نہیں تھکتے۔“ {” لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ“} کی بھی یہی توجیہیں ہیں۔ اس کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ نحل (۴۹، ۵۰) اور نساء (۱۷۲)۔
← پچھلی آیت (18) پوری سورۃ اگلی آیت (20) →