بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنبياء — Surah Anbiya
آیت نمبر 21
کل آیات: 112
قرآن کریم الأنبياء آیت 21
آیت نمبر: 21 — سورۃ الأنبياء islamicurdubooks.com ↗
اَمِ اتَّخَذُوۡۤا اٰلِہَۃً مِّنَ الۡاَرۡضِ ہُمۡ یُنۡشِرُوۡنَ ﴿۲۱﴾
کیا اِن لوگوں کے بنائے ہوئے ارضی خدا ایسے ہیں کہ (بے جان کو جان بخش کر) اُٹھا کھڑا کرتے ہوں؟
کیا ان لوگوں نے زمین (کی مخلوقات میں) سے جنہیں معبود بنا رکھا ہے وه زنده کردیتے ہیں
کیا انہوں نے زمین میں سے کچھ ایسے خدا بنالیے ہیں کہ وہ کچھ پیدا کرتے ہیں
کیا انہوں نے زمینی (مخلوق) سے ایسے معبود بنائے ہیں جو مردوں کو زندہ کر دیتے ہیں۔
یا انھوں نے زمین سے کوئی معبود بنا لیے ہیں، جو زندہ کریں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سب تہمتوں سے بلند اللہ جل شانہ ٭٭

شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ ’ جن جن کو تم اللہ کے سوا پوج رہے ہو، ان میں ایک بھی ایسا نہیں جو مردوں کو جلا سکے۔ کسی میں یا سب میں مل کر بھی یہ قدرت نہیں، پھر انہیں اس قدرت والے کے برابر ماننا یا ان کی بھی عبادت کرنا کس قدر ناانصافی ہے؟ ‘ پھر فرماتا ہے ’ سنو! اگر یہ مان لیا جائے کہ فی الواقع بہت سے الہٰ ہیں تو لازم آئے گا کہ زمین و آسمان تباہ و برباد ہو جائیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «مَا اتَّخَذَ اللَّـهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَـٰهٍ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَـٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:91] ‏‏‏‏، ’ اللہ کی اولاد نہیں، نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لیے پھرتا اور ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا، اللہ تعالیٰ ان کے بیان کردہ اوصاف سے مبرا اور منزہ ہے ‘۔

یہاں فرمایا، ’ اللہ تعالیٰ مالک عرش ان کے کہے ہوئے ردی اوصاف سے (‏‏‏‏یعنی لڑکے لڑکیوں سے) پاک ہے ‘۔ اسی طرح شریک اور ساجھی سے، مثل اور ساتھی سے بھی بلند و بالا ہے۔ ان کی یہ سب تہمتیں ہیں جن سے اللہ کی ذات برتر ہے۔ اس کی شان تو یہ ہے کہ وہ علی الاطلاق شہنشاہ حقیقی ہے، اس پر کوئی حاکم نہیں۔ سب اس کے غلبے اور قہر تلے ہیں۔ نہ تو اس کے حکم کا کوئی تعاقب کرسکے، نہ اس کے فرمان کو کوئی ٹال سکے۔ اس کی کبریائی اور عظمت و جلال اور حکومت، علم اور حکمت، لطف اور رحمت بے پایاں ہے۔ کسی کو اس کے آگے دم مارنے کی مجال نہیں۔ سب پست اور عاجز ہیں لاچار اور بے بس ہیں۔ کوئی نہیں جو چوں کرے، کوئی نہیں جو اس کے سامنے بول سکے، کوئی نہیں جسے چوں چرا کا اختیار ہو جو اس سے پوچھ سکے کہ یہ کام کیوں کیا؟ ایسا کیوں ہوا؟ وہ چونکہ تمام مخلوق کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، اسے اختیار ہے جس سے جو چاہے سوال کرے، ہر ایک کے اعمال کی وہ بازپرس کرے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [15-الحجر:92-93] ‏‏‏‏، ’ تیرے رب کی قسم ہم ان سب سے سوال کریں گے ہر اس فعل سے جو انہوں نے کیا ‘۔ «وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ» ۱؎ [23-المؤمنون:88] ‏‏‏‏ ’ وہی ہے کہ جو اس کی پناہ میں آگیا، سب شر سے بچ گیا اور کوئی نہیں جو اس کے مجرم کو پناہ دے سکے ‘۔

📖 احسن البیان

21۔ 1 استفہام انکاری ہے یعنی نہیں کرسکتے۔ پھر وہ ان کو جو کسی چیز کی قدرت نہیں رکھتے، اللہ کا شریک کیوں ٹھہراتے اور ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں؟

📖 القرآن الکریم

(آیت 21) ➊ { اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً …:” اَمْ “} کسی جملہ استفہامیہ کے بعد آتا ہے، جو ہر مقام پر سیاق و سباق سے سمجھ میں آ رہا ہوتا ہے۔ یہاں پہلی آیات کو مدنظر رکھتے ہوئے مفسر بقاعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیا یہ لوگ جان چکے ہیں کہ آسمانوں اور زمین کی ہر ہستی اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور اس میں اسی کا امر نافذ ہے اور یہ جان کر اپنی گمراہی سے باز آ چکے ہیں یا (جاننے کے باوجود اپنی ہٹ پر قائم ہیں اور) انھوں نے زمین سے کچھ معبود بنا لیے ہیں جو اکیلے زندگی کی روح پھونک سکتے ہیں؟ اگر ایسا نہیں اور یقینا نہیں تو پھر یہ ایسے بے چاروں کو معبود کیوں مان رہے ہیں؟“ ➋ {” اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ “} کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بنائے ہوئے معبود سب زمین سے تعلق رکھتے ہیں، بت ہوں یا قبریں، درخت ہوں یا دریا، جانور ہوں یا انسان یاجن، مردہ داتا و دستگیر ہوں یا زندہ، سب اسی مٹی سے ہیں جو قدموں تلے روندی جاتی ہے۔ ان کی کوڑھ مغزی دیکھو کہ انھوں نے کس قدر بے وقعت ہستیوں کو اس رب کے ہوتے ہوئے حاجت روا اور مشکل کُشا بنا لیا جو زمین ہی کا نہیں عرش کا بھی رب ہے۔ اگلی آیت میں اسی مناسبت سے فرمایا: «{ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُوْنَ }» ”سو پاک ہے اللہ جو عرش کا رب ہے، ان چیزوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔“ جو زمین و آسمان دونوں کا مالک ہے اور دونوں میں اسی کی عبادت ہوتی ہے۔ دیکھیے سورۂ زخرف (۸۴، ۸۵)۔ ➌ {هُمْ يُنْشِرُوْنَ:} ما وردی نے فرمایا: ”اس میں دو قول ہیں، ایک یہ کہ اس کا معنی {”يَخْلُقُوْنَ“} ہے، یعنی وہ پیدا کرتے ہیں، یہ قطرب کا قول ہے۔ دوسرا یہ کہ اس کا معنی {” يُحْيُوْنَ “} ہے، یعنی وہ دوبارہ زندہ کریں گے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لفظ دونوں معنوں میں آتا ہے۔ پہلے معنی کی تائید سورۂ روم کی آیت (۲۰) سے ہوتی ہے اور دوسرے معنی کی سورۂ عبس کی آیت (۱۹) سے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا انھوں نے کوئی ایسے معبود بنائے ہیں جو پہلی دفعہ پیدا کرتے ہیں یا دوبارہ زندہ کریں گے؟ یہ شان تو صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، فرمایا: «{ وَ هُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ }» [ الروم: ۲۷] ”اور وہی ہے جو خلق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور وہ اسے زیادہ آسان ہے۔“ اس کے سوا کوئی نہ پیدا کر سکتا ہے اور نہ دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔ دیکھیے سورۂ فرقان (۳)۔ ➍ {هُمْ يُنْشِرُوْنَ:} یعنی کیا ان کے کوئی ایسے معبود ہیں کہ وہی زندگی بخشتے ہیں اور دوبارہ بھی وہی زندہ کریں گے؟ یہ ان کے معبودوں سے مذاق ہے کہ ذرا ان کی اوقات تو دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اکیلے ہی یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ ➎ ابن جزی رحمہ اللہ نے {” مِنَ الْاَرْضِ “} کو {” يُنْشِرُوْنَ “} کے متعلق کیا ہے، اس صورت میں معنی یہ ہو گا کہ یا انھوں نے کوئی ایسے معبود بنا رکھے ہیں جو (لوگوں کو) زمین سے دوبارہ زندہ کریں گے۔
← پچھلی آیت (20) پوری سورۃ اگلی آیت (22) →